54.4K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Agosh E Sitamgar) Episode 24

شام کو باران گھر پہ آیا تو بشرا کو باہر حال میں ہی پایا زیبا بھی سیڑھیاں اترتی نیچے آ رہی تھی مگر اسکی نظر زیبا پہ نہیں گئی۔۔ سامنے پہلے نظر آئی تو بشرا ۔۔
واؤ لکنگ ہوٹ سویٹ ہارٹ ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا بولا ۔۔
سامنے ہی زیبا آ گئی۔۔
جس نے گھور کر دیکھا تھا باران کو اور پھر بشرا کو۔۔
باران کھسیانا سا مسکرایا تھا زیبا کو دیکھ کر جو کڑے تیوروں سے اسے گھور رہی تھی۔۔
کیسی ہیں آپ ” اسکے پاس آتے مسکرا کر کہا ۔۔
ٹھیک ہی ہوں مگر تمہاری خوبصورت بیگم سے کم ہی ہوں” جلن کا احساس واضح تھا لہجہ میں ۔۔
آپ ہیں میری بیگم ” بہت خوبصورت ۔۔اسکے گال کے نیچے ہاتھ رکھتے کہا۔۔
اسکا ہاتھ جھٹک دیا تھا ۔۔
اسے گھور کر دیکھتے ہوئے کمرے میں چلی گئی۔۔
یہ اب ایسا کیوں کررہی ہیں ” سیریس لی آج تو کوئی ایسی ویسی بات نہیں ہوئی ہے “
بشرا ان دونوں کو دیکھ رہی تھی جب زیبا اسکا ہاتھ جھٹکتے چلی گئی تو بشرا بولی۔۔
مجھے لگتا ہے صبح والی بات سے ناراض ہیں میں دیکھتا ہوں ” وہ زیادہ دیر مجھ سے ناراض نہیں رہ سکتی ۔۔
کہتے باران بھی زیبا کے پیچھے گیا۔۔
بشرا وہیں صوفہ پہ بیٹھ گئی۔۔ جب جینی اسکے پاس آئی ۔۔
جل رہا ہے زیبا آپ سے ” وہ ہنس کر بولی ۔۔
کیوں” بشرا نے اسے دیکھتے کہا
کیوں کہ آپ اسکے مقابلے میں بہت زیادہ ینگ اور خوبصورت ہے ” اسنے مسکراتے کہا۔۔
یہ تو اپنا اپنا نصیب ہوتا ہے پھر بھی اسے باران جیسا اتنا پیار کرنے والا شوہر مل گیا جو اسکے معاملہ میں کوئی رعایت نہیں کرتا ۔۔ وہ کھوئی سی بولی اسے واقعی رشک آتا تھا اس بات پہ۔۔
جوان اور خوبصورت ہوتے ہوئے بھی بد نصیب ہوں” ایک زخمی سی مسکراہٹ آئی تھی لب پہ۔۔
آپکا نصیب بھی بہت اچھا ہے ” بس آپ اپنی جگہ بنا کے رکھو۔۔ وہ اسے تاکید کرتی چلی گئی۔۔
@@@
کیا ہوا ہے کیوں ناراض ہو رہی ہیں اب “
وہ اسکے پیچھے آتا ہوا بولا۔۔
نہیں میں کیوں ہونے لگی ناراض ” وہ سر جھکائے اپنے آنسو ضبط کرتی بولی ۔۔
ادھر دیکھیں پھر اسکا جھکا چہرہ اٹھاتے بولا آنکھیں بھیگنے لگی تھی۔۔
زیبا آپ اگر یہاں نہیں رہ سکتی تو بتا دیں یوں خود کو اذیت نا دیں “
باران نے اسکے دل کی ہی بات کہی جیسے۔۔
نہیں رہ سکتی میں یہاں نہیں برداشت ہوتی وہ مجھ سے اسکا وجود آپکی زندگی میں ۔۔
اسکی رجھانے والی ادائیں ” حلیہ دیکھا ہے اسکا ۔۔ کیسے کپڑے پہن کر میرے سامنے گھومتی رہی ہے وہ زہر لگ رہی تھی مجھے اور آپ اوپر سے اسکی تعریفیں کررہے تھے ۔۔
وہ تو کھل کر بولی تھی اور پھر باران کی شامت ۔۔
تو کیا ہوگیا یہاں تو لڑکیاں ایسے ہی کپڑے پہنتی ہے اس نے پہن لیے تو کیا ہوگیا وہ زیادہ تر اسی حلیہ میں ہوتی ہے “
میں نے ہی “”.. آگے وہ کہتا چپ ہوگیا سچ جو آنے لگا تھا زباں پہ۔۔
ہاں آپ کی فرمائش جو ہوتی ہے ” تاکہ آپ اس سے اپنا دل بہلاتے رہیں ” بچہ تو بس بہانہ ہے کرنا تو یہی سب چاہتے تھے۔۔ میں جو آپکے یہ شوق پورے کر نے کی اہل نہیں ہوں “
بس جذبات میں آکر مجھ سے شادی کرلی تھی ورنہ میں اس قابل کہاں تھی۔۔” منہ موڑتے ہوئے غصہ سے بولی۔۔
آپ مجھے اس حلیہ میں ہی زیادہ اچھی لگتی ہیں” ویلویٹ کا ہلکی کڑھائی والا میرون سوٹ پہنا ہوا تھا گلے میں ہم رنگ دوپٹہ ڈالا ہوا تھا۔۔
اور وہ بھی میری بیوی ہے بس “
مگر محبت تو آپ ہیں میری” اسے پیچھے سے گلے لگاتا ہوا بولا ۔۔
بس زیادہ بنیں مت ” اب اسکے حصار سے نکلتی اسکی طرف منہ موڑ کر کر بولی ۔۔
میں فریش ہوجاؤں بھوک لگی ہے کھانا کھاتے ہیں ” مسکرا کر کہتا واش روم میں بند ہوا تھا ۔۔
فریش ہوکر باہر آیا تو زیبا ابھی کمرے میں ہی موجود تھی۔۔
آئیں چلیں نیچے ” ۔۔ بال بناتا اسے بلایا اپنے ساتھ۔۔
نہیں مجھے نہیں جانا بھوک نہیں ہے ” وہ منہ بناتے بولی ۔۔
آئیں نا پلیز موڈ ٹھیک کریں اپنا ” اسکا ہاتھ پکڑتے زبردستی اٹھایا اور سیڑھیاں اترتے ہوئے نیچے آ رہا تھا ۔۔
بشرا سامنے ہی بیٹھی تھی جب اسکی نظر پڑی ان دونوں پہ کیسے باران اسکے نخرے اٹھا رہا تھا ۔۔
جینی کھانا لگا رہی تھی ۔۔
پہلے کرسی کھینچ کر اسے بٹھایا اور پھر خود بیٹھ گیا بشرا پہلے سے ہی ڈائننگ ٹیبل پہ موجود تھی ۔۔ اس نے توجہ نہیں دی ان دونوں پہ۔۔
کیا ہوا تم کھا نہیں رہی ۔۔ بشرا بس پلیٹ میں چمچ ہی چلا رہی تھی ٹھیک سے کھا نہیں رہی تھی۔۔
بس مجھ سے نہیں کھایا جا رہا ” پلیٹ پرے کرتی وہ اٹھ گئی۔۔
تمہاری طبیعت ٹھیک ہے “
ٹھیک ہوں میں بس میرا دل نہیں چاہ رہا ” میں کمرے میں جا رہی ہوں “
سارے بہانے ہیں باران کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ” زیبا نے بس دل میں سوچا وہ آرام سے اپنا کھانا کھا رہی تھی ۔۔
بشرا چلی گئی کمرے میں ” باران اٹھ کر اسکے پیچھے جانے لگا تو زیبا نے اسکا بازو پکڑتے اسے روک لیا۔۔
آپ کہاں جا رہے ہیں کھانا کھائیں پہلے ۔۔ ابھی تک تو ٹھیک تھی سارے بہانے ہیں میرے سامنے ہی ایسے بن رہی ہے ۔۔”
اسے زبردستی بٹھاتے ایسا کہا۔۔
میں پہلے ” باران نے بولنا چاہا تو زیبا نے ٹوک دیا ۔۔
کچھ نہیں ہوا اسے جینی تم جا کر دیکھو اسے باران کو کھانا کھانے دیں”
آپ کھانا کھائیں پہلے پھر جائیے گا “
زیبا نے اسکی پلیٹ آگے کرتے غصہ والے انداز میں کہا۔۔
آپ خوامخواہ میں ضد کررہی ہیں ” باران اپنی پلیٹ پہ جھکتا بولا۔۔
جو سمجھنا ہے سمجھ لیں ۔۔
وہ بھی ضدی انداز میں بولی۔۔
بشرا کیا ہوا آپکو” بشرا کمرے میں ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہی تھی اسکا دل بوجھل ہو رہا تھا ۔۔
پتا نہیں جینی عجیب سی کیفیت ہو رہی ہے گھبراہٹ بہت ہو رہی ہے “
آپ ریسٹ کرو ادھر لیٹو ” بیڈ پہ تکیہ سیدھا کرتے اسے لیٹنے میں مدد کی ۔۔
آپ کیوں ٹینشن لیتا ہے ان دونوں کی بس اپنے آپ پہ دھیان دیں ” جینی نے سمجھایا۔۔
مجھے کوئی ٹینشن نہیں ہے انکی “
بس مجھے ریسٹ کرنے دیں ۔۔ “
میں آپکے پاس ہی ہوں جب تک باران سر نہیں آجاتا ۔۔”
وہ اسکے پاس بیٹھتے بولی۔۔
آپ بھی کھانا کھا لیں ” بشرا نے کہا۔۔
مجھے نہیں کھانا ابھی “
بشرا ایک دم سے اٹھ کر بیٹھ گئی ۔۔
” کیا ہوا جینی نے پریشانی سے پوچھا ۔۔
بشرا کے چہرے کی ہوائیاں اڑنے لگی چہرے پہ تکلیف کے آثار نمایا تھے۔۔
بشرا کیا ہوا آپکو “
جینی مجھے بہت پین ہو رہا ہے ” درد سے کراہتے بولی ۔۔
ہم ابھی آتا ہے باران سر کو بلاتا وہ جلدی سے کمرے سے باہر نکلی۔۔
باران سر باران سر ” وہ ہانپتی کانپتی ہوئی باران تک پہنچی ۔۔
کیا ہوا جینی تم اتنا گھبرائی ہوئی کیوں ہو ۔۔” باران ایک دم سے کرسی سے کھڑا ہوتا بولا ۔
وہ بشرا میم کا طبیعت بہت خراب ہو رہا ہے ہوسپٹل جانا پڑے گا ۔۔” جینی نے فٹ سے کہا۔۔
باران تیزی سے کمرے کی طرف بھاگتے ہوئے بڑھا بشرا بیڈ پہ بیٹھی ہوئی درد سے کراہ رہی ۔۔
زیبا ایک پل کے لیے ساکت ہی ہوگئی پھر کچھ سوچتی ہوئی اوپر سیڑھیاں چڑھتی اپنے کمرے کی طرف بڑھی۔۔
بشرا میں ہوں کچھ نہیں ہوتا “
باران نے جلدی سے بشرا کو اٹھایا تھا اور باہر کی طرف بڑھا اسکے پیچھے پیچھے جینی بھی تھی گاڑی تک پہنچتے باران رکا گاڑی لاک تھی۔۔
جینی میرے اوپر والے کمرے سے گاڑی کی چابی لے کر
آؤ ۔۔
یہ رہی چابی ” پیچھے سے زیبا آتی بولی پاس آتے ہی گاڑی ان لاک کرتے بیک سیٹ کا دروازہ کھول دیا ۔۔اسکے ہاتھ میں بےبی بیگ بھی تھا جو اس نے بنایا تھا بےبی کے لیے۔۔
تھینکس ” باران نے کہتے بشرا کو پچھلی سیٹ پہ لٹایا۔۔
ہم بھی چلے ساتھ ” جینی نے پریشان ہوتے کہا۔۔
میں ہوں نا ” تم گھر رہو اور بشرا کی فکر مت کرنا بس دعا کرنا سب خیریت سے ہو۔۔زیبا نے کہتے گاڑی میں بیٹھ گئی بشرا کے ساتھ
باران فرنٹ سیٹ پہ بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا۔۔
زیبا کے بیٹھتے ہی گاڑی باہر نکال لی۔۔
زیبا نے بشرا کا سر اپنی جھولی میں رکھ لیا تھا اور اسے دلاسہ دینے لگی۔۔
جو شدید درد سے کراہ رہی تھی۔۔
“بشرا پلیز تھوڑا سا صبر کرلو ہوسپٹل ابھی آ جائے گا “باران جلدی کریں”.. زیبا بھی پریشان ہوگئی تھی اسکی حالت دیکھ کر ۔۔
باران خود پریشان سا گاڑی چلا رہا تھا۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ ہوسپٹل پہنچ گئے تھے بشرا جو اسٹریچر پہ لٹا کر لیبر روم کی طرف لے جایا جا رہا تھا ۔۔
زیبا اور باران باہر رک گئے اور ڈاکٹر بشرا کو اندر لے گئے تھے۔۔
تھوڑی دیر بعد ایک ڈاکٹر باہر آتی ہے اور انہیں بتاتی ہے کہ” بلیڈنگ بہت زیادہ ہو رہی ہے پیشنٹ کو ایسے میں ماں اور بچہ دونوں کی جان کو خطرہ ہے فوری آپریشن کرنا ہوگا مگر ہم دونوں میں سے ایک کو بچا سکتے ہیں آپ جلدی سے بتائیں کہ ہم کسے بچائیں ” ڈاکٹر نے اپنے روایتی انداز میں کہا۔۔
باران اور زیبا دونوں نے پریشانی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور زیبا جھٹ سے بولی ۔۔
بشرا کو بچائیں “
ماں کو بچائیں آپ پہلے ” باران نے جلدی سے ڈاکٹر سے کہا۔۔
جی آپ فارم پہ سائن کردیں پہلے ” ڈاکٹر کہتے دوبارہ اندر چلی گئی۔۔
دونوں ہی پریشان تھے بشرا کے لیے باران ادھر ادھر ٹہل رہا تھا ۔۔
زیبا نے نماز کی طرح دوپٹہ سر پہ باندھا ہوا تھا اور باوضو ہوکر جو قرآنی آیات حفظ تھی وہ پڑھ رہی تھی وہ بھی بشرا کی زندگی کے لیے دعا گو تھی۔۔
سوتن کا رشتہ اپنی جگہ مگر اس سے بڑی انسانیت تھی جس کے ناطے وہ خدا سے اسکی زندگی کے لیے دعا گو تھی آج وہ زندگی اور موت کے درمیان تھی ۔۔
کافی دیر ہوگئی تھی ڈاکٹرز کو آپریشن تھیٹر میں اب تو دونوں کو گھبراہٹ ہونے لگی تھی۔۔
یہ ڈاکٹرز باہر کیوں نہیں آ رہے باران آپ پتا کریں نا ” زیبا نے پریشانی سے کہا ۔۔
اتنے میں ڈاکٹر باہر آئی ۔۔
دونوں اسکی طرف لپکے آس امید لیے شاید کوئی مثبت خبر مل جائے۔۔
مبارک ہو ماں اور بچہ دونوں خطرہ سے باہر ہے بیٹا ہوا ہے ” ڈاکٹر نے خوش ہوتے کہا
دونوں نے خوش ہوتے مسکرا کر ایک دوسرے کی جانب دیکھا ۔۔
ڈاکٹر بشرا کیسی ہے ” باران نے پوچھا ۔۔
اب وہ ٹھیک ہیں ابھی تک ہوش میں نہیں آئی کچھ دیر میں انہیں دوسرے روم میں شفٹ کردیا جائے گا پھر آپ مل سکتے ہیں اس سے۔۔
اور آپکا بےبی ابھی نرسنگ ہوم میں ہے ایک دو گھنٹے میں وہ آپکے حوالے کردیا جائے ” ڈاکٹر کہتے چلی گئی تھی وہاں سے ۔۔
مبارک ہو باران آپکو بہت زیادہ ” زیبا کی آنکھیں بھیگ گئی تھی اندر ایک خالی پن کا احساس ہوا تھا۔۔
زیبا آپ کو بھی مبارک باد پیش کرتا ہوں کیونکہ میرے بچہ پہ پہلا حق آپکا ہے وعدے کے مطابق اسے سب سے پہلے گود میں آپ اٹھائیں گی۔۔
باران نے اسکے دونوں کاندھوں پہ ہاتھ رکھتے کہا۔۔
وہ دونوں اس وقت بشرا کے روم میں تھے بشرا کو ابھی ہوش نہیں آیا تھا وہ ادویات کے زیر اثر تھی ۔۔
کچھ دیر بعد نرس بچہ لے کر آئی۔۔
باران نے زیبا کے اشارہ کیا کہ نرس سے بچہ پکڑ لے زیبا نے باران کو دیکھتے بچہ کو اپنی گود میں لیا تھا ۔۔
بلو کمبل میں لپٹا ہوا ننھا سا گول مول صحت مند بچہ جو بلکل باران پہ ہی تھا ۔۔ زیبا نے اسے سینے سے لگا لیا تھا ۔۔آنکھیں بھیگنے لگی تھی۔۔
باران زیبا کے پاس آیا تھا ۔۔
زیبا نے بچہ کو باران کے سامنے کیا۔۔
بشرا نے بھی آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولیں تھیں سامنے ہی باران اور زیبا بچہ جو لیے کھڑے تھے۔۔
ماشاءاللہ بہت پیارا ہے بلکل آپ پہ گیا ہے ” زیبا نے باران کو دیکھتے کہا چہرے پہ مسکراہٹ بھی اور آنکھیں بھی نم تھیں۔۔
باران نے اسے مسکرا کر دیکھا اور کہا۔۔
اب خوش ہیں نا “
ہاں” بہت زیادہ ایسا لگ رہا ہے زندگی میں جو کمی تھی آج وہ بھی پوری ہوگئی ہے “
شکریہ باران آپکا ۔۔” مسکراتے ہوئے کہا زیبا نے۔۔
دیکھا میں نے کہا تھا نا کہ یہ سب میں نے آپ کے لیے کیا ہے ۔۔
اسکے چہرے کو دیکھتے کہا تھا باران نے
میرا بچہ ” بشرا کو ہوش آ چکا تھا مگر انکا دھیان نہیں گیا تھا بشرا پہ جو انکی باتیں سن رہی تھی ایک دم سے بولی ۔۔
بشرا تم ٹھیک ہو ” باران جلدی سے اسکے پاس آیا ۔۔
میرا بچہ ” زیبا کے ہاتھ میں اپنا بچہ دیکھ کر اس کے دل کو کچھ ہوا تھا ۔۔
ہمارا بچہ ماشاءاللہ سے بلکل ٹھیک ہے یہ دیکھو” زیبا اسکے پاس آئی اور مسکرا کر اسکا بچہ اسے دکھایا
بشرا نے دونوں ہاتھ بڑھا کر اپنا بچہ پکڑنا چاہا ۔۔
بشرا تم ابھی بےبی کو نہیں اٹھا سکتی تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔ تم ابھی لیٹی رہو ۔۔
باران نے اسے تسلی سے سمجھانا چاہا۔۔
زیبا کو اسکا رویہ عجیب سا لگا اسے محسوس ہوا کہ بشرا کو اسکا بچہ اٹھانا اچھا نہیں لگا تھا ۔۔۔
زیبا نے بچہ کو بےبی کوٹ میں ڈالا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔۔
بشرا کیا ہو گیا تمہیں ” تمہارے بھلے کے لیے کہہ رہا تھا ۔۔ابھی تم بےبی اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہو ” باران اس پہ غصہ کرنا نہیں چاہتا تھا اس لیے بڑے تحمل سے سمجھایا ۔۔باران نے نوٹس کیا تھا کہ زیبا کو بشرا کا رویہ اچھا نہیں لگا۔۔
میں اپنا بچہ اٹھانا چاہتی ہوں” اس لیے کہا تھا ۔۔ ” وہ دھیمی سی آواز میں بولی۔۔
ہاں تو تمہارا ہی بچہ ہے تم ہی اٹھاؤ گی اسے مگر اس بچہ پہ زیبا کا بھی پورا حق ہے ” موت کے منہ سے نکل واپس آئی ہو تم کتنی دعائیں کی ہیں تمہاری زندگی کے لیے ہم دونوں نے ساری رات ہسپتال کے کوریڈور میں ٹہلتے گزاری ہے ۔۔
باران نا چاہتے ہوئے بھی سخت ہوگیا ۔۔
بشرا کے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔
بشرا پلیز اب تم اپنی طبیعت خراب مت کرلینا ریسٹ کرو ” کہتے باران کمرے سے نکل گیا ۔۔
زیبا کمرے سے باہر کھڑی تھی ۔۔ اسکے آنسو بہہ رہے تھے باران کو دیکھتے ہی فٹا فٹ دوپٹہ کے پلو سے اپنے آنسو صاف کیے ۔۔
زیبا آپ گھر چلی جائیں ساری رات کی جاگ رہیں ہیں تھک گئی ہوگی گھر جا کر ریسٹ کرلیں ۔۔ باران نے اسکے پاس آتے کہا۔۔
اور پلیز بشرا کے لیے ایم سوری اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا “
آپ پلیز پریشان نا ہونا اور اپنے بچہ کا اچھا سا نام سوچ لیں” آپ ہی نام رکھیں گی۔۔
دیکھ لیں پھر آپکی بیوی کو اعتراض ہوگا “
ہوتا ہے تو ہو نام تو آپ نے ہی رکھنا ہے ” باران نے مسکراتے کہا۔۔
دیکھ لیں پھر ” زیبا بھی مسکرائی تھی۔۔
چلیں میں آپ کو گھر چھوڑ آؤں۔۔
بشرا کمرے میں اکیلے لیٹی تھی “وہ یہ خوشی بھی نا منا پائی آج وہ ماں کے عہدے پہ فائز ہوئی تھی اسکی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو شاید آج اسکی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نا ہوتا ۔۔
اسکی تو کوئی بھی خوشی یا خواہش مکمل نا ہوسکی تھی یہ شادی بھی ایک مجبوری تھی ۔۔
ورنہ ہر لڑکی کی طرح اسکے بھی شادی کے ارمان تھے نا دلہن بنی نا سیج سجی اور آج ماں بھی بن گئی اور اس سے بھی اسکے گھر والے بے خبر بیٹھے ہیں ۔۔
آج اسکے ہر سکھ دکھ میں شریک بہن یاد آئی تھی۔۔ آنسوں مسلسل اسکا چہرہ بھگوئے جا رہے تھے ۔۔
تھوڑی دیر بعد نرس آئی کمرے میں جو بچہ کو دیکھ رہی تھی ۔۔
اس نے نرس سے کہا کہ اسے اپنا بچہ اٹھانا ہے نرس نے اسکا بیڈ سرہانے کی سائیڈ سے اونچا کیا اور پھر بچہ لاکر اسکی گود میں ڈال دیا ۔۔
بچہ کو اٹھاتے وہ رونے لگی تھی ڈھیروں پیار آنے لگا اس پہ بار بار اسکا منہ چوم رہی تھی ۔۔
پھر تھوڑی دیر بعد نرس نے اس سے بچہ لے لیا تھا وہ اب رونے لگا تھا ۔۔ نرس اسے فیڈ کروانے دوبارہ نرسنگ ہوم میں لے گئی تھی۔۔
بشرا نے اپنے آنسو صاف کیے تھے ناجانے کیوں اسے اپنا بچہ زیبا کے ہاتھ میں دیکھ کر برا لگا تھا ایسا لگ رہا تھا وہ اس سے اسکا بچہ چھین لے گی۔۔
باران کافی دیر سے غائب تھا وہ زیبا کو گھر چھوڑنے گیا ہوا تھا۔۔
وہ کیسے چھوڑے گی اپنا بچہ انکے پاس اب واپس گھر بھی تو جانا ہے اسکی بہن جو اسکے کارناموں سے بے خبر ہے اب ایک سال کا کانٹریکٹ باقی رہ گیا ہے وہ واپس چلی جائے گی وہ اپنی بات پہ قائم تھی اب مشکل لگ رہا تھا اپنے بچہ کو چھوڑنا وہ باران کی زندگی سے بھی نکل جانا چاہتی تھی ۔۔ وہ دو لوگوں کے بیچ میں نہیں آنا چاہتی تھی جس کا طعنہ اسے مل چکا تھا زیبا سے ۔۔