54.4K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Agosh E Sitamgar) Episode 8

باران کافی کے سیپ لیتا ساتھ اپنا موبائل پہ رات کی پارٹی کی پکس بھی ہم دیکھ رہا تھا جو بہت ہی شاندار رہی تھی۔۔
باران “
زیبا اسکے قریب بیٹھتی بولی۔۔
ہہم ‘ بولیں..سیپ لیتا بولا ۔۔
تمہاری پی اے کا کیا نام ہے ” زیبا نے پوچھا ۔۔
بشرا ” سارا دھیان اسکا موبائل میں تھا ۔۔
بہت خوبصورت لگ رہی تھی رات” اسکے ذہن میں ابھی بشرا ہی گھوم رہی تھی ۔۔
ہہم” وہ بس ہنکارا وہ پوری طرح تصویریں دیکھنے میں مگن تھا۔۔
تم نے کبھی ذکر نہیں کیا اسکا ” اسکی یہ بات باران کو بے تکی ہی لگی
کیا مطلب ہے اس بات کا وہ بس آفس کی حد تک ہی ہے اتنی اہم نہیں جو اسکا ذکر کرتے پھروں ” موبائل پاکٹ میں رکھتے کمرے سے باہر نکلا۔۔
زیب بھی اسکے پیچھے باہر آئی
باہر آیا تو داد جی نے آبان کی کلاس لگائی ہوئی تھی۔۔
آبان پتر اب چھوڑ دے اپنی ضد اور مان لو میری بات آجاؤ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یہاں ہم اکٹھے رہیں گے جیسے پہلے رہتے تھے اپنا گھر بساؤ اب “
دادجی پلیز میں نے آپ سے کہا ہے نا فلحال یہ گھر بسانے والی بات تو نا مجھ سے کیا کریں ابھی مجھے ایسا کچھ نہیں سوچنا کوفت ہونے لگتی ہے ” وہ چڑ کر بولا تھا ۔۔
باران بیٹے سمجھاؤ اسے نا ستائے اپنے بوڑھے دادا کو سکون سے مرنا چاہتا ہوں ” وہ ایموشنل ہوتے کھڑے ہوئے تھے اور لاٹھی کے سہارے چل دیے۔۔
شکر ہے آبان تم آگئے دادجی کی توپو کا رخ تمہاری طرف ہوگیا ورنہ تو میرے پیچھے ہی پڑے رہتے ہیں “
ہاں تو تم ہی انکی توپوں کا رخ اپنی طرف ہی رکھو میں آج ہی واپس جا رہا ہوں” آبان نے سنجیدگی سے کہا تھا ہنسنا تو وہ بھول ہی چکا تھا ۔۔
واٹ یار پلیز ایسا نا کرو کچھ دن اور رہ لو ” اتنے عرصے بعد آئے ہو اور بس ایک دن میں ہی واپس جا رہے ہو ” ناٹ فیئر ۔۔
وہ بیچارہ سا منہ بنا کر بولا تھا
میں جا رہا ہوں وہ اٹھ کر چل دیا اور باران بس ہاتھ ملتا رہ گیا۔۔
کیا ہوا زیبا اسکے پاس آتے بولی۔
واپس جا رہے ہیں جناب عالی ” وہ مسکین سی سورت بناتے بولا ۔۔
مگر کیوں ” وہ اتنی جلدی کیوں جا رہے ہیں ۔۔ دادجی کی بات نہیں سنی انہوں نے “
زیبا نے کہا
نہیں سن رہا وہ کسی کی بھی تو کیا کر سکتے ہیں آخر اسے ایک دن اپنا ماضی بھولنا ہی پڑے گا “
وہ کہہ کر چلا گیا۔۔
@@@
آبان وہاں سے اٹھ کر کمرے میں آگیا ۔۔
وہ اپنی محبت کبھی بھی نہیں بھول سکتا تھا ۔۔
آبان آئی لو یو”
لو یو ” سو مچ
میرال لو یو سو مچ “
میرال پہاڑیوں کی بلند و بالا چوٹی پہ کھڑی زور زور سے چلا رہی تھی اسکی آواز پلٹ کر ہی اسکی طرف واپس آتی تھی پہاڑیوں میں گونج سن کر تو وہ خوشی سے جھوم اٹھتی تھی۔۔
میرال پلیز زرا پیچھے کھڑی ہوکر کھڑی ہو اتنا آگے مت بڑھو ” آبان نے اسے مزید آگے بڑھنے پہ کہا جو وہ آواز لگاتی دو قدم آگے ہوجاتی تھی۔۔
آبان کو بلند و بالا چوٹی سے ڈر لگتا تھا مگر میرال اتنی ہی نڈر تھی اسے بہت پسند تھی یہ پہاڑیاں ۔۔
او ہو آبان تم ایویں ہی ڈر رہے ہو ” یہ دیکھو یہ پہاڑیاں ہماری محبت کی گواہی دے رہی ہیں “..
آبان آئی لو یو “
میرال نے اپنا رخ آبان کی جانب کرلیا اور ہاتھ پھیلا کر زور سے کہا۔۔
اور دو قدم پیچھے کی جانب لے لیے ۔۔
آبان آئی لو یو”
وہ دوسری بار پھر پرجوش انداز میں بولی مگر آبان کی جانب ہونے اور پیچھے کھائی کی جانب دیکھ نا سکی اور ایک پتھر پہ اسکا پاؤں آگیا اور پاؤں پھسل گیا۔۔
آااابان ۔۔۔
ایک زور دار چیخ میرال کی نکلی مگر اس سے ہی زیادہ چیخ آبان کی تھی جو اسے بچانے اسکی جانب لپکا تھا ۔۔
میرااااال۔۔۔
وہ بھی اسکے پیچھے کھائی میں جا گرتا اگر وہاں کھڑے مقامی لوگ اسے پکڑ نا لیتے۔۔
اتنی اونچائی سے گرنے کے بعد میرال کا بچنا نا ممکن تھا اسکی لاش ہی ملی تھی ۔۔
اور یہ غم آبان سہہ نا پایا انکی شادی کی تیاریاں چل رہی تھیں ” اور وہ یوں اس طرح ہمیشہ کے بچھڑ جائیں گے ۔۔
کافی مہینہ آبان اس صدمہ سے باہر نا نکل سکا سوتے ہوئے چیخ اٹھتا تھا میرال کا نام لیتے ہوئے ۔۔
دو سال گزر گئے تھے میرال کو بچھڑے ہوئے مگر اسکے بچھڑ جانے کا زخم اب بھی تازہ تھا۔۔
معلوم تھا دادجی کی ضد کا مگر وہ فلحال اس بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا کہ کسی اور کو اسکی جگہ دے سکے ۔۔
رہنا تو وہ چاہتا تھا دادجی کے ساتھ باران کے ساتھ مگر داد جی کی ضد وہ پوری نہیں کرسکتا تھا اسکی لائف میں کوئی سپیس نہیں ہے کسی کے لیے لہٰذا کسی کی لائف اسکی وجہ سے بلا وجہ برباد نا ہوجائے۔۔
اس لیے ایسا اسٹینڈ لینا ہی نہیں چاہتا تھا ۔۔
میرال کی آوازیں ابھی بھی اسکا پیچھے کرتی ہیں ابھی بھی وہ سوتے ہوئے اسے پکارنے لگ جاتا ہے ۔۔”
وہ ٹراما سے نکل نہیں پا رہا تھا اس لیے اکیلا رہ کر خود کو ہی اذیت پہنچا رہا تھا ۔۔
اس لیے آبان نے جلد ہی جانے کا ارادہ کرلیا وہ دادجی کو مزید دکھی نہیں کرنا چاہتا تھا اپنی وجہ سے مگر وہ بھی مجبور اور بے بس تھا خود کے ہی ہاتھوں۔۔
داد جی اداس بیٹھے تھے آبان جا چکا تھا ۔
باران انکے پاس آکر بیٹھا ۔۔
دادجی پلیز اداس نا ہوں آپ بس اسے تھوڑا ٹائم دیں وہ خود آپکی بات مانے گا ابھی وہ ذہنی طور پر تیار نہیں ہے کسی کا بھی ساتھ قبول کرنے کے لیے ۔۔”
داد جی نے جھکا سر اٹھا کر باران کی جانب دیکھا ۔۔
” میں اسکا دادا ہوں جانتا ہوں اپنے پوتے کی حالت کو جانتا ہوں وہ اذیت میں ہے اسے میں اس اذیت سے نکالنا چاہتا ہوں اکیلے رہ رہ کر وہ خود کو اندر سے کھوکھلا کررہا ہے “
چاہتا ہوں وہ زندگی میں آگے بڑھے”
وہ دکھی ہوتے بولے تھے۔۔
باران کو دونوں ہی اپنی جگہ درست لگ رہے تھے ۔۔
@@@
باران کمرے میں آگیا داد جی کو انکے کمرے میں پہنچا کر انہیں نیند کی دوائی دے کر تاکہ وہ پرسکون کی نیند سو سکے ۔۔
باران آپ کیوں پریشان ہیں ” اسے اداس دیکھ زیبا نے کہا۔۔
باران اور دادجی کو لیکر پریشان ہوں “
ایک طرف بوڑھے دادجی ہیں جو آبان کے مستقبل کو لیکر پریشان ہیں اور دوسری طرف آبان ہے جو اپنے ماضی کے خول سے باہر نہیں نکل رہا ۔۔
آپ فکر نا کریں سب ٹھیک ہو جائے گا” زیبا نے اسے تسلی دیتے اسکے کاندھے پہ سر رکھ لیا ۔۔
@@@
بشرا آج کافی سیریس موڈ میں تھی ۔ آفس میں بس لیا دیا ہی سب سے بات چیت کررہی تھی۔
حمیرا اسکے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔
بشرا ” وہ اپنے کام میں بزی تھی جب حمیرا نے اسے پکارا ۔۔
ہہم بولو”
باران سر کی وائف کیسی لگی تمہیں میں نے بس انکے بارے میں سنا تھا ۔۔ حمیرا نے کہا
مجھے تو کل ہی پتا لگا کہ وہ میرڈ ہے ” بشرا حمیرا کی طرف متوجہ ہوئی۔۔
اچھا ” یہ بات تو پورے آفس کو معلوم ہے۔۔” اچھا تو تم نے زرا دیر سے جوائن کیا ہے اس لیے نہیں پتا ہم تو پرانے ہیں ۔۔ باران سر کے کمپنی خریدنے سے بھی پہلے سے۔۔
ایک بار آئی تھیں انکی مسز آفس میں نے نہیں دیکھا تھا ‘ سنا تھا وہ ایج میں بڑی ہیں باران سر سے اور انکی لو میرج ہے”
حمیرا نے ساری تفصیل اسے سنائی ۔۔
وہ بس خاموش رہی ” اسکے دل پہ کیا گزر رہی تھی یہ سب وہی جانتی تھی ۔۔
باران سر نے آپکو بلایا ہے آفس مس بشرا ” ۔۔
ہہم اچھا” وہ فائل اٹھائے باران کے آفس کی طرف چل دی۔۔
مے آئی کم ان سر ” وہ آفس میں انٹر ہوئی ۔۔ آف وائٹ کا سادہ سا سوٹ پہنے سنہری بالوں کو کھلا چھوڑے ۔۔ سیریس سا انداز میں بھی پرکشش لگ رہی تھی
ییس “
کہاں ہے آپ آج “
یہیں ہوں ” آپ کے سامنے ۔۔ کہاں جانا ہے میں نے ۔۔
روکھا پھیکا سا لہجہ جیسے کوئی ناراضگی ہو۔۔
ہہم پارٹی میں بہت پیاری لگ رہی تھی ” مسکراتے کہا۔۔
تھینکس آپکی وائف زیادہ پیاری ہے بائے دا وے”
وہی نروکھے پن سے کہا جیسے کوئی ٹونٹ مارا ہو۔۔
ہہم وہ تو ہے ” تمہارا موڈ کس بات کو لیکر خراب ہے “
باران نے اسے بغور دیکھتے کہا جو آج سے پہلے کبھی اتنی سیریس نہیں لگی تھی۔۔
آپ میرڈ ہیں ” اور آپ نے کبھی اس بات کا ذکر ہی نہیں کیا” وہ سیدھا بولی لہجہ میں سنجیدگی تھی ۔۔
میں یہاں بس سب سے کام کی حد تک ہوں بس ” اور جہاں تک نا بتانے کا سوال ہے ۔۔ تو میں نے چھپایا بھی نہیں ہے ۔۔
کہ میں کوئی فائدہ حاصل کر سکوں کسی سے ۔۔
اور تمہیں بتانا کیا بہت ضروری تھا اگر نہیں بھی بتایا تو اس میں حرج ہو گیا۔۔”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا جس کے تاثرات کافی سنجیدہ تھے ۔۔
حرج ہی تو ہوگیا” وہ دونوں باندھے بولی اور نظریں دوسری طرف جما لی۔۔
کیوں کیا تمہیں مجھ پیار ہوگیا تھا ” باران شرارتی انداز میں مسکراتے کہا۔۔
بشرا نے نظریں گھماتے اسکی جانب دیکھا ۔۔
ہم مڈل کلاس لڑکیاں خواب بہت دیکھتی ہیں۔۔
اپنے خوابوں میں خود کو سنڈریلا تصور کرتی ہیں ۔ اپنے شہزادے کا انتظار کرتی ہیں جو انہیں ڈھونڈتے ہوئے انکے پاس آئے گا اور انہیں اپنی شہزادی بنا کر اپنے ساتھ لے جائے گا۔۔
میں بھی خود کو سنڈریلا ہی تصور کرتی رہی ” آپکا عکس میرے خوابوں کے شہزادے جیسا تھا ۔۔
اور کیا کیا خواب سجا لیے ” شادی کا ۔۔ ” بچوں کا “۔۔
وہ تو جیسے خیالوں میں گم بے لگام ہوتی بولتی چلی گئی۔۔
باران اسکی باتیں بہت دلچسپی سے سن رہا تھا۔۔
اسکے آخری کہے گئے جملے پہ اسکا زور دار قہقہہ گونجا تھا جس پہ ہوش میں آئی۔۔
ہاہا ہا” بشرا واؤ۔۔
تو تم نے میرے بچے بھی پیدا کرلیے خیالی پلاؤ میں “
پھر ہنسا اور پھر بولا
ایم سوری ! میری وجہ سے تمہارا دل ٹوٹ گیا ہوگا “
انداز صاف مذاق اڑانے والا تھا۔۔
وہ کافی سنجیدگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔ور پھر بولی ۔
میں نے کہا تھا میرے شہزادے کا عکس آپکے جیسا تھا آپ نہیں “
اور مجھے آپ سے پیار ہی نہیں ہوا تو دل کیسے ٹوٹا “
اور آپکے بچے نہیں کہا میں نے ” جو اتنے خوش ہورہے ہی۔
” میرے بچے ہیں ” شکر ہے ۔۔
انکا باپ آپ سے زیادہ پیارا ہینڈسم اور امیر ہوگا۔۔
بشرا کو بہت زیادہ غصہ آیا تھا باران پہ جو اسکا مذاق اڑا رہا تھا۔۔ آنکھیں ضبط سے لال سرخ ہورہی تھی۔۔
لو جی باپ ہی بدل گیا ” باران کو پھر ہنسی آئی تھی۔۔
آپ میرے ایموشن کا مذاق اڑا رہے ہیں سر”
کیونکہ آپ نے اپنی محبت کو پالیا ہے” آپکے خوابوں کی تکمیل ہوچکی ہے”
بلکہ آپکو تو زیادہ قدر ہونی چاہیے تھی ” آپ نے تو مذاق ہی بنا دیا میرا۔۔
وہ کہتی رکی نہیں تھی فوراً نکلی تھی وہاں سے۔۔
باران کو واقعی احساس ہو رہا تھا کہ اس نے کچھ زیادہ ہی مذاق اڑا دیا اسکا ۔۔ جو اسے نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔
ہاں اسے واقعی قدر ہونی چاہیے ایسے لوگوں کی جن کے خواب اور خواہشات لاحاصل رہتی ہیں۔۔
کیا بشرا واقعی اسکو چاہتی تھی ۔۔ ناجانے کیوں یہ بات اسکے ذہن میں امڈ آئی اسکا کہا گیا جملہ اسکے کانوں میں نے ٹکرایا
“میں بھی خود کو سنڈریلا ہی تصور کرتی رہی ” آپکا عکس میرے خوابوں کے شہزادے جیسا تھا ۔۔
اور کیا کیا خواب سجا لیے ” شادی کا ۔۔ ” بچوں کا “۔۔
پھر سر جھٹک دیا اور فائلز کھول کر اسے چیک کرنے لگا۔۔
@@@
بشرا غصہ سے اپنی سیٹ پہ آگے بیٹھی تھی اور اپنا سر پکڑ لیا جو اس شخص نے مزید دکھا دیا۔۔
” کتنا گھمنڈی شخص ہے “
مجھے ایسے شخص سے کبھی محبت نہیں ہو سکتی جو اس قدر گھمنڈی ہو ” جسے کسی کے جذبات کی قدر نا ہو”
مگر میں نے بھی تو اپنا مذاق خود بنوا لیا اسکے سامنے “
کیا ضرورت تھی اسکے سامنے یوں سب کچھ اگلنے کی “
آر یو اوکے’ حمیرا نے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھتے کہا۔۔
نہیں سر دکھ رہا ہے ” لال سرخ آنکھیں نمکیں پانیوں سے بھری ہوئی تھی ۔۔
اچھا میں تمہارے چائے کے ساتھ ٹیبلیٹ منگوا دیتی ہوں” حمیرا نے کہا۔۔
نہیں میں گھر جا رہی ہوں ” وہ اپنا بیگ اٹھاتی بولی ۔۔
اچھا تم نے پرمیشن لی سر سے”
نہیں لی پرمیشن میں جا رہی ہوں کیا کرلیں گے سر مجھے کام سے نکال دیں گے تو نکال دے ” وہ نکل گئی آفس سے ۔۔اور حمیرا حیران پریشان سی ہوگئی۔۔
باس واقعی غصہ کریں گے۔۔
مشی یہ آج بشرا کو کیا ہوگیا ہے ” بشرا کو آفس سے نکلتا ہوا دیکھ ایک لڑکی نے کہا۔۔
پتا نہیں تم اپنا کام کرو مشی نے لاپرواہی سے کہا ۔
حمیرا یہ بشرا کہاں چلی گئی۔۔’ احمد نے بشرا کی خالی سیٹ دیکھتے کہا۔۔
سر وہ گھر چلی گئی ہے ” اسکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی سر میں درد ہو رہا تھا اسکے۔۔
اچھا ” کہتے احمد چلا گیا باران کے آفس میں۔۔
باران اس سے کچھ ضروری فائلز کے متعلق ڈیٹیلز دے رہا تھا ۔۔
باقی بشرا سے پوچھ لینا۔۔” باران نے کہا۔۔
مگر باران سر وہ تو گھر چلی گئی ہے ” احمد نے کہا
گھر مگر کیوں کس سے پوچھ کر” باران کو حیرت ہوئی اور غصہ بھی آیا۔۔
پتا نہیں مجھے لگا آپ سے پوچھ کر گئی ہو گی ” احمد نے کہا ۔۔
مجھ سے کب پوچھا ہے اس نے ۔۔
اس لڑکی کا دماغ کچھ زیادہ ہی خراب ہوگیا ہے ” وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا جو احمد سن نا پایا۔۔
جی سر “
کچھ نہیں ابھی تم جاؤ میں بعد میں بات کرتا ہوں”
اوکے سر ۔۔ کہتا احمد چلا گیا۔۔
باران کو غصہ آ رہا تھا بشرا پہ وہ خوامخواہ میں اوور ری ایکٹ کررہی تھی۔۔
باران نے بشرا کو کال لگائی۔۔
بشرا رکشہ میں بیٹھی ہوئی تھی آنسوں تھے جو مسلسل بہہ جا رہے تھے۔۔
ہیلو۔۔ ” بنا نمبر دیکھے کال اٹھا لی بشرا نے۔۔
کہاں ہو تم ” اور بنا بتائے کیسے چلی گئی تم آفس سے ۔۔ باران نے دانت پیستے کہا۔۔
میری مرضی میں کسی سے بھی پوچھ کر نہیں گئی ۔۔ آپ کو نکالنا ہے نا مجھے نکال دیں کام سے ” رونے سے آواز بھاری ہو رہی تھی اسکی ۔
تم رو رہی” اسکی بھاری ہوتی آواز سے اندازہ لگایا۔۔
آپ کو کیا ” اس سے ۔۔
اب ایسا بھی کیا کہہ میں نے جو تم اتنا بگڑ رہی ہو”
آپ نے مذاق اڑایا ہے میرا میرے جذبات کا میرے احساسات کا ۔۔ ” بشرا کو غصہ آیا تھا باران پہ جیسے اسکے لیے کوئی بات ہی نا ہو ۔
بشرا میں نے کوئی مذاق نہیں اڑایا تھا تم خوامخواہ میں جذباتی بن رہی ہو ” ہمارے ایسے کوئی تکلفات نہیں تھے ۔۔
آج تم ریسٹ کرو اور کل سے ریلیکس ہو کر آنا آفس ۔۔” اپنی غلطی تسلیم کرو پہلے۔۔ کسی اگلے بندے کی رائے جانے بغیر اپنے جذبات قابو میں رکھنے چاہیے۔۔
اس اذیت سے میں آٹھ سال گزرا ہوں ۔۔ اگر کوئی آپ کی محبت کو لات مار کر ٹھکرا دے تو کیسا محسوس ہوتا ہے “
اور بقول تمہارے تمہیں مجھ سے محبت نہیں تھی”
کہتے ہی باران نے کال کٹ کردی۔۔
بشرا کے بھی اسکی بات پلے پڑ ہی گئی تھی ۔۔ شاید وہ ٹھیک ہے ” یہ اسکی یک طرفہ جذبات تھے جس کا اظہار کبھی باران نے اپنے کسی عمل سے بھی نہیں دیا تھا۔۔
@@
باران گھر تھکا ہارا سا لوٹا تھا بشرا کے نا ہونے سے کام کا بوجھ تو جیسے بڑھ گیا تھا۔۔
فریش ہوکر کھانا کھانے کے لیے وہ ڈائننگ ٹیبل پہ آیا تھا ۔۔
کچھ دیر بعد داد جی نے بھی اپنی سربراہی کرسی سنبھالی تھی۔۔
اسلام علیکم دادجی۔۔ باران نے خوش ہوتے کہا ۔
مگر شاید دادجی اسے تندرست نا لگے تھے ہلکی سی آواز میں جواب دیا تھا ۔۔
زیبا نے کھانا لگوایا اور باران کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔
دادجی آپکی طبیعت ٹھیک ہے ” چاول اپنی پلیٹ میں ڈالتے کہا باران نے۔۔
دادجی تھوڑا سا کھانسے ۔۔ شکور انکے ملازم جو انکے پاس کھڑا تھا اس نے فٹا فٹ پانی ڈالا گلاس میں عین اسی وقت باران نے بھی پانی کا گلاس آگے بڑھایا ۔۔
مگر داد جی نے شکور کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لیا باران کا ہاتھ ہوا میں رہ گیا اس نے گلاس رکھ دیا۔۔
ہاں اللہ کا شکر ہے ٹھیک ہے ” تم دونوں نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی خیر زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے ” طنزیہ انداز تھا دادجی کا۔۔
زیبا کو اچھا نہیں لگتا تھا دادجی کا یوں اسے بار بار طعنہ مارنا۔۔
دادجی ایسا تو نا کہیں ماما پاپا کے بعد آپ ہی ہمارا سہارا ہیں ” آپ کے لیے تو جان بھی حاضر ہے حکم کریں بس آپ ” باران جذباتی ہوا تھا دادجی کی باتوں سے۔۔
رہنے دو میاں بس تم یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ۔۔ میرا حکم تو تم کبھی بھی نہیں مان سکتے ۔۔ ابھی تو تم جوان ہو ” اور تمہیں نہیں خیال اپنے مستقبل کا ۔۔
پر مجھے ہے میں بھی چاہتا ہوں آج جس کرسی پہ میں بیٹھا ہوں کل کو میری عمر میں تم بھی یہاں بیٹھے ہو دادا بنے ہوئے اور جہاں تم بیٹھے ہو وہاں تمہارا پوتا بیٹھا ہو۔۔
جوانی تو عیش میں گزر جائے گی مگر بڑھاپا نہیں گزرتا ۔۔
دادجی اپنی جذباتی تقریر کرتے چل دیے ۔۔
باران کسی سوچ میں پڑ چکا تھا۔۔ اسکے ذہن میں ایک جھمکا سا ہوا تھا ۔۔
اسکے ذہن میں آج بشرا کے ساتھ ہوئی تکرار آئی تھی۔۔
زیبا نے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھا ۔۔
باران ” آپ کھانا کھائیں داد جی کا تو بس اب یہ روز کا معمول بن گیا ہے” زیبا نے اپنے جذبات چھپاتے باران کے سامنے نارمل ہوئی۔۔
ہہم باران بھی کھانے میں مصروف ہوگیا تھا مگر اسکا دھیان بھٹک کر داد جی کی باتوں پہ جا رہا تھا۔۔
کھانا کھانے کے بعد وہ کمرے میں آگیا تھا زیبا اسکے لیے کافی بنا کر لائی تھی۔۔
وہ لیپ ٹاپ کی سکرین پہ نظریں جمائے ہوئے بیٹھا تھا۔۔
باران کافی”
تھینکس’ کافی کا مگ تھام لیا ۔۔ زیبا اسکے برابر میں بیٹھی تھی۔۔
باران کیوں نا ہم بچہ اڈوپٹ کرلیں تو “
مگر کیوں” باران کو یہ بات پسند نا آئی اسے دیکھتے کہا۔۔
وہ اس سے ہماری لائف میں جو کمی ہے وہ پوری ہوجائے گی۔۔
زیبا میں دوبارہ یہ بات نا سنوں مجھے اڈوپٹ بچہ نہیں چاہیے مجھے اپنی ہی اولاد چاہیے ورنہ میں ساری زندگی ایسے ہی رہ سکتا ہوں مگر کسی دوسرے خون کو نہیں پال سکتا اور نا ہی پیار کرسکتا ہوں جو اپنے خون سے ہوتا ہے”
تو کیا آپ دادجی کی بات مان لیں گے ” وہ اسے دیکھتے پریشانی سے بولی ۔۔
ہوسکتا ہے ” مگر آپ کی بات نہیں مان سکتا” لیپ ٹاپ سکرین پہ نظریں جمائے بولا ۔۔
عین اسی وقت باران کا فون بجنے لگا ” موبائل سکرین پہ بشرا کا نام کی جگمگا رہا تھا۔۔
جسے سننے کے لیے باہر کا رخ کیا۔۔
زیبا کی آنکھیں نمکیں پانیوں سے بھر آئیں تھیں۔۔ وہ بہت ہرٹ ہوئی تھی باران کی باتوں سے