Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279 (Agosh E Sitamgar) Episode 29
No Download Link
Rate this Novel
(Agosh E Sitamgar) Episode 29
بشرا آفس سے شام کو جلدی نکل آئی تھی کام کچھ زیادہ خاص نہیں تھا ۔۔ مگر اسے رکشہ نہیں مل رہا تھا ۔۔
سڑک کراس کرکے دوسری طرف جانا چاہتی تھی کہ شاید وہاں سے رکشہ مل جائے ۔۔ ابھی آدھی سڑک کراس کی تھی کہ کسی کے گاڑی سے جا ٹکرائی تھی ۔۔
مقابل نے سامنے کسی کو آتا ہوا دیکھ بروقت بریک لگائی تھی۔۔
بشرا گاڑی سے ٹکراتی نیچے زمین پہ جا گری تھی اسکے ہاتھ میں پکڑی فائلز بکھر چکی تھیں ۔۔ مگر اسے زیادہ چوٹ نہیں لگی تھی ۔۔ زمیں پہ گرنے کی وجہ سے بازو اور گھٹنے پہ رگڑیں لگی تھی ۔۔
افف” سسکتے اپنی فائلز اٹھا کر کھڑی ہوئی۔۔ مقابل بھی فٹ سے گاڑی سے باہر آیا ۔۔
آئی ایم سو سوری ” آپ اچانک سے سامنے آئیں مجھے پتہ نہیں لگا۔۔چوٹ تو نہیں لگی آپکو ” مقابل شخص پریشانی سے بولا۔۔
سوری” وہ دانت پیستے بولی
ابھی اپنی لینڈ کروزر سے مجھے ٹکر مار دی ۔۔ امیر ہو تو کیا کسی پہ بھی اپنی گاڑی چڑھا دو گے۔۔” وہ آپے سے باہر ہوگئی تھی۔۔
وہ تو بس اسکی آنکھوں میں کھو سا گیا تھا ۔۔اسکا غصیلہ چہرہ ۔۔ ایک پل کے لیے ساکت رہ گیا تھا ۔۔
سفید چادر پہ کالے دھاگہ کا ہلکا سا شیشوں والا کام تھا اوڑھے ہوئے تھی جس میں اسکی سفید رنگت دمک رہی غصہ میں اسکا چہرہ لال اناری ہو رہا تھا۔۔
وہ جانے لگی تو آبان اسکے آگے آگیا ۔۔
آپکو چوٹ لگی ہے آپ ہوسپٹل چلیں میرے ساتھ ۔۔”
کچھ نہیں ہوا مجھے مری نہیں ہوں میں آگے سے ہٹیں میرے ” وہ غصہ سے ادھر ادھر دیکھتی بولی تھی اسے۔۔
بیچ سڑک چلتی گاڑیوں کے درمیان کھڑے تھے وہ دونوں ۔۔
اس کے گھٹنے پہ لگی تھی چلنے میں لڑکھڑاہٹ تھی ایک قدم بھی بامشکل چل پائی تھی۔۔
دیکھیں مس ” جو بھی ہیں آپ اس وقت آپکا ہوسپٹل جانا ضروری ہے ” اس لیے آپکو میرے ساتھ چلنا ہوگا ورنہ میں آپکو ہلنے نہیں دوں گا یہاں سے ” آبان بھی اپنی ضد کا پکا تھا وہ اسکا راستہ روکے کھڑا ہوگیا ۔۔
بشرا کو اس پہ غصہ تو بے حد آیا تھا مگر چار و ناچار اسکی گاڑی کی طرف چل دی ۔۔
آبان نے بیک سیٹ کا دروازہ کھول دیا اسکے لیے” وہ اسے گھورتے ہوئے بیٹھ گئی ۔۔ اسکی گھوری پہ آبان مسکرایا تھا ۔۔اور دروازہ بند کرتے ڈرائیونگ سیٹ پہ آیا ۔۔
ہسپتال پہنچتے ڈاکٹر نے اسکی بینڈج کی تھی۔۔ بازو پہ کھروچ ہی آئی تھی گرنے سے گھٹنے پہ چوٹ لگی تھی ۔۔ پین کلر کا انجیکشن دیا تھا اسے ۔۔ اور ساتھ میں کچھ ادویات بھی دیں ۔۔
چلیں ” باہر کا راستہ دکھاتے آبان نے کہا۔۔
وہ اسکی طرف دیکھنا بھی نہیں چاہتی ۔۔
سرخ سفید رنگت ہلکی سی چہرے داڑھی براؤن سلکی بال
جو اسکے ماتھے پہ بکھرے تھے ۔۔ اوف وائٹ ٹی شرٹ سے نظر آتے کسرتی بازو ۔۔ براؤن ٹراؤزر کے نیچے مہنگے برینڈڈ اوف وائٹ جوگرز۔۔ وہ ہر آتی جاتی لڑکی کی توجہ اپنی جانب کھینچ رہا تھا سوائے اسکے ۔۔
میں چلی جاؤں گی ” باہر نکلتے دوسری طرف رخ موڑتے کہا تھا بشرا نے۔۔
آبان پھر سے اسکے سامنے آیا تھا ۔۔
اب کیا ہے ” غصہ سے چلاتے بولی تھی۔۔
آہستہ میڈم ” قدرے اونچی آواز سے وہ بولا۔۔
دیکھیں آپ کیسے گھر جا سکتی اکیلے آپکو چوٹ لگی ہے میں چھوڑ دیتا ہوں”
یہ میرے جڑے ہاتھ ” زور اسکے آگے ہاتھ جوڑے بولی ۔۔
پیچھا چھوڑ دیں میرا کچھ نہیں ہوا مجھے پاؤں سلامت ہیں میرے ٹوٹے نہیں ہے میں چل کر بھی گھر جا سکتی ہوں ” غصہ سے لال پیلی ہوگئی تھی ۔۔
میں صرف آپکے بھلے کے لیے کہہ رہا ہوں ” بس ۔۔
امیر ہیں تو کیا لڑکی کا بھلا کر نے چلیں گے یہاں سڑک پہ بیس سوں لڑکیاں گھوم رہی ہیں کسی کو بھی جا کر گھر چھوڑ آئیں خوشی خوشی جائیں گی آپکے ساتھ۔۔”
غصہ سے کہتی آگے بڑھی۔۔
ایک تو یہ کہ آپ امیر کا راگ الاپنا چھوڑ دیں ” سمجھ کیوں نہیں آ رہی ہیلپ کررہا ہوں آپکی ۔۔
میری کار سے آپکا ایکسیڈنٹ ہوا ہے ” اس لیے کہہ رہا ہوں آپکو گھر چھوڑ دیتا ہوں”
ورنہ مجھے ساری زندگی یہی گلٹ رہے گا کہ ایک نہتی لڑکی کو کار سے ٹکر مار کر بیچ چوراہے پہ ہی تن تنہا چھوڑ دیا پتہ نہی بیچاری کے ساتھ کیا بنا ہوگا گھر پہنچی بھی ہوگی کہ نہیں یا کسی اور گاڑی کے نیچے آ گئی ہوگی۔۔”
بس بس ” وہ بس خیالی پلاؤ پکاتا بولے ہی جا رہا تھا بشرا نے اسکی بولتی بند کرائی۔۔
جی ” چلیں پھر ۔۔ آبان جلدی سے گاڑی کا بیک سیٹ دروازہ کھولتے بولا ۔۔
بشرا کو بیٹھنا ہی پڑا تھا وہ بھی اسی کی طرح کا ضدی اور اڑیل ہی لگا ۔۔
جی تو راستہ بتانا پسند کریں گی ” وہ چپ چاپ بیٹھی تھی آبان نے گاڑی اسٹارٹ کرلی تھی۔۔
تو پھر اس نے اپنا پتہ بتایا اسے اور اس نے گاڑی اسکے گھر طرف ہی ڈال دی ۔۔وہ خاموشی سے سامنے دیکھ کر گاڑی چلا رہا تھا دوبارا کوئی بات نہیں کی تھی بشرا نے بھی اسکی طرف دیکھنے سے گریز کیا تھا ۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ اسکے گھر سامنے تھا ۔۔
شکریہ آپکا بہت بہت” ۔۔
بشرا نے گاڑی سے اترتے اسکی طرف آتے سنجیدہ انداز سے کہا ۔۔
شکریہ وہ بھی اتنا پھیکا سا ” صحیح سلامت آپکو آپکے گھر تک پہنچایا ہے بندہ کوئی چائے پانی کا ہی پوچھ لیتا ہے “
آبان نے شریر سے لہجہ میں کہا تو وہ سوچ میں پڑ گئی۔۔
کیا کرے اب “
چلیں میری بہن چائے بہت اچھی بناتی ہے ” تکلفانہ کہنا پڑا اسے ۔۔
ہاہاہا رہنے دیں مذاق کر رہا تھا ” مذاق اڑانے والے انداز میں کہا تھا آبان نے ۔۔
میں مذاق نہیں کر رہی ہیں آجائیں ” سنجیدہ مزاج میں کہا تھا بشرا نے ۔۔
تو وہ گاڑی سے اتر آیا ۔۔
” اچھا پھر اتنا انسسٹ کر رہی ہیں تو پی لیتے ہیں چائے۔۔”
بشرا گھر کے اندر داخل ہوئی اور وہ بھی اسکے پیچھے ہی گھر کے اندر داخل ہوا۔۔
بشرا کے ساتھ ایک انجان خوبرو مرد کو داخل ہوتا دیکھ سامنے بیٹھی انوشہ اور اماں حیرت میں مبتلا ہوئیں ۔۔
اور بشرا کے ماتھے پہ بینڈج لگی ہوئی تھی اور کلائی پہ پٹی بندھی دیکھ انوشہ اسکے پاس آئی ۔۔
یہ کیا ہوا ہے بشرا “
جی انکا میری کار سے ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا ” شی از فائن ناؤ “
آپکی بہن کی مرہم پٹی کروا کر صحیح سلامت گھر لے آیا ہوں”
ساتھ کھڑے آبان نے کیا۔۔
آپی انکا شکریہ ادا کرنے کے لیے گھر لے آئی آپ اچھی سی چائے بنائیں انکے لیے میں چینج کر کے آئی۔۔
بشرا کہتی اپنی کمرے کی جانب بڑھی۔۔
آپ بیٹھیں نا پلیز ” پاس پڑے صوفہ کی جانب اشارہ کرتے کہا انوشہ نے ۔۔
آپکا بہت شکریہ ‘”
اس میں شکریہ کی کیا بات ہے ” کافی انوسینٹ ہے آپکی سسٹر ” آبان نے مسکراتے کہا ۔۔
اس لیے تو شکریہ ادا کررہی ہوں کے آپ اسے گھر تک لے آئے ۔۔ میری بہن تو واقعی بہت معصوم ہے ” انوشہ نے مسکراتے اسکا جواب دیا ۔۔
اچھا میں ابھی آپکے لیے اچھی سی چائے لائی ” کہتے وہ کچن کی جانب بڑھی ۔۔
اماں کی نظریں تو بس آبان کی طرف اٹکی ہوئیں تھیں وہ اسکی خوبرو شخصیت کا مکمل جائزہ لے رہی تھی۔۔ آبان نے انکی طرف مسکرا کر دیکھا تھا ۔۔
مگر اماں کی وہی کھوجتی نظریں ۔۔
تھوڑی ہی دیر میں انوشہ چائے کے ساتھ بہت سارے لوازمات کے کر آئی نمکو بسکٹ چپس وغیرہ ۔۔ ٹرے سامنے ٹیبل پہ رکھی ۔۔
ارے یہ کیا صرف چائے ہی لے آتی آپ اتنے تکلف کی کیا ضرورت تھی۔۔ آبان نے اتنا کچھ دیکھتے کہا۔۔
آپ ہمارے مہمان ہیں اتنا تو بنتا ہے ” آپ لیں نا کچھ اسے صرف چائے اٹھاتا ہوا دیکھ بولی۔۔
اماں تو چلی گئی وہاں سے ورنہ وہ کچھ بولے بنا رہ نا پائیں گی۔۔
یہ ” آبان نے ان کی طرف جاتے اشارہ کرتے پوچھا ۔۔
یہ میری ساس ہیں ” انوشہ نے مسکراتے جواب دیا ۔۔
آپ کا نام پوچھ سکتا ہوں ” چائے کا سیپ لیتے پوچھا ۔۔
میرا نام انوشہ ہے اور میرے دو بچے ہیں ” انوشہ نے اپنا پورا تعارف کروایا
اور وہ جو مس اندر گئی ہیں وہ ” انکا کیا نام ہے ” اشارہ بشرا کی جانب تھا ۔۔
انوشہ کی تو ہنسی چھوٹ گئی تھی ۔۔اسکی اس بات پہ۔۔
کیا ہوا ” میں نے کوئی جوک تو نہیں سنایا ” آبان خجل سا ہوا۔۔
کمال ہے اسے ہوسپٹل لے کر گئے گھر بھی چھوڑنے آ گئے اور اب تک نام نہیں پوچھا۔۔” اپنی ہنسی کنٹرول کرتی بولی ۔۔
وہ تو میرے بات بات پہ گلے پڑ رہی تھی کیسے پوچھتا نام “
اسکا نام بشرا ہے ” پھر انوشہ نے بتایا
نائس نیم ‘ آبان نے کہا۔۔
ہہم مگر اسے اپنا نام بہت ہی عام اور سادہ سا لگتا ہے” انوشہ نے کہا
سادگی ہی اصل خوبصورتی ہوتی ہے چاہے نام ہو یا انسان”
مگر یہ مس بشرا ہمیشہ ہی سیریس رہتی ہیں ۔۔”
نہیں ” ایسی تو نہیں تھی بلکہ بہت ہی زندہ دل اور خوش رہنے والی لڑکی تھی مگر حالات نے اسے ایسا بنا دیا ذمہ داریاں بڑھ گئی ۔۔ پورے گھر کا بوجھ اکیلی نے اٹھایا ہوا ہے ۔۔
ورنہ یہ تو سنڈریلا بنی اپنے شہزادے کے خوابوں میں گم رہتی تھی۔۔ کوئی امیر سا خوبصورت سا شہزادہ اسکی زندگی میں آئے گا بہت بڑے بڑے خواب تھے اسکے جو مجبوریوں تلے دب گئے ۔۔
سارے گھر کے اخراجات اور میرے شوہر کے کینسر کا علاج کا ذمہ اکیلی نے ہی اٹھایا ہوا ہے ۔۔
ہمارے لیے تو ایک مضبوط سہارا بن گئی مگر خود شائد اندر سے ٹوٹ گئی ہے “
انوشہ نے رنجیدہ ہوتے اسکی داستان سنائی ۔۔
سامنے بشرا فریش ہوکر کمرے سے باہر آئی ۔۔
لائٹ پنک سادہ سا سوٹ پہنے سلیقہ سے سر پہ دوپٹہ اوڑھتی ہوئے باہر آئی ۔۔
آبان اسے دیکھتے کھڑا ہوا۔۔
تھینکس اب میں چلتا ہوں ” کہتے وہ باہر کی جانب بڑھا ۔۔
بشرا جاؤ اسے دروازے تک چھوڑ کر آؤ ۔۔انوشہ نے اسکے پاس آتے کہا ۔۔
تو بشرا اسکے پیچھے چل دی۔۔
شکریہ آپ کا”
آبان نے پیچھے مڑ کر دیکھا بشرا کی آواز سنتے ۔۔
جی”
شکریہ آپکا بینڈج کروانے اور گھر چھوڑنے کا” بشرا نے اپنی بات دوبارا دہرائی۔۔
اس میں شکریہ کی کوئی بات نہیں یہ تو میرا فرض تھا۔۔
اب نیکسٹ کب آئیں گی میری گاڑی کے نیچے ۔۔
آبان نے شرارتی انداز میں کہا ۔۔
جی ” بشرا کے منہ سے اچانک نکلا اسکی بے تکی بات سن کر ۔۔
تو وہ ہنس پڑا اور گاڑی میں بیٹھ گیا ۔۔
وہ دروازہ بند کرتی اندر آگئی۔۔
لڑکا تو بہت ہی ہنڈسم خوبصورت ڈیشنگ ایک دم ہیرو ہے ” انوشہ نے اسے دیکھتے ایکسائیٹڈ والے موڈ میں کہا ۔۔
ہوگا ” تمہیں کیوں شوق چڑھ گیا ہے اسے دیکھ کر ۔۔اسنے پھیکے سے انداز میں کہا۔۔
تمہارے لیے کہا ہے ” پرفیکٹ لگے گا تمہارے ساتھ ۔۔ اسے چھیڑتے بولی تو بشرا کا پارا چڑھ گیا۔۔
پلیز آپی ہوش کے ناخن لیں ” کہاں وہ اور کہاں ہم ۔۔کچھ تو سوچ لیا کریں بولنے سے پہلے ۔۔ ضروری نہیں کہ جو دکھنے میں خوبصورت ہو وہ اندر سے بھی اتنا ہی خوبصورت ہو” اسے باران کا خیال آیا تھا ۔۔
اچھا میں تو بس ویسے ہی تمہیں چھیڑ رہی تھی اس میں اتنا غصہ ہونے والی کیا بات ہے ۔۔انوشہ نے اسکے ایک دم اتنے غصہ میں آنے کی وجہ سے بات بدل دی تھی۔۔
تو بشرا اپنے غصہ کو کنٹرول کرتی کمرے میں چلی گئی تھی ۔۔
پتہ نہیں اتنا غصہ کیوں کرنے لگی ہے ” اسکے جاتے انوشہ نے سوچتے کہا ۔۔
کمرے میں آتے ادھر سے ادھر ٹہلنے لگی تھی پہلے ایسی خوبرو شخصیت نے اسکی لائف تباہ کی ہے وہ تو اب کسی اور کے قابل بھی نہیں رہی “
سوچتے اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔۔
پچھلا گزرا ہوا باران کے ساتھ وقت یاد آنے لگا تھا ۔۔
اپنے آنسو رگڑ کر صاف کیے تھے وہ نہیں یاد کرنا چاہتی تھی اسے ۔۔
@@@
آبان گاڑی چلا رہا تھا مگر اسکا دھیان بشرا کی جانب ہی تھا ۔۔
اسکی اداس آنکھیں ‘
اسکے اندر کا دکھ بھی بشرا کے مجبوریوں کے آگے کم لگ رہا تھا ۔۔
پانچ سال جس محبت کے کھو جانے کا غم وہ آج تک منا رہا تھا ۔۔
کیا مجبوریاں اور ذمہ داریاں بھی چہرے کی مسکراہٹ چھین لیتی ہے” مگر اسکے اندر کوئی اور دکھ بھی ہے جو اس نے سب سے چھپا رکھا ہے۔۔
@@@
اگلے دن آفس کے بعد بشرا اسی ہوسپٹل میں پہنچی جہاں وہ کل آبان کے ساتھ آئی تھی۔۔
آج رپورٹس لینی تھی کل آبان کو پتہ چلے بغیر اس نے اپنے کچھ ٹیسٹ کروائے تھے ۔۔ اور اسکی رپورٹس آج آنی تھی ۔۔
رپورٹس لیتے وہ سیدھا گھر گئی تھی ۔۔
آگئی تم ” اچھا تم چینج کرلو پھر میں کھانا لگاتی ہوں آج اکٹھے کھانا کھائیں گے سب۔۔’ انوشہ اسے گھر میں داخل ہوتا دیکھ بولی تھی
نہیں آپی مجھے بھوک نہیں ہے ” بعد میں کھا لو گی۔۔” جلدی سے کہتے وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھنے لگی۔۔
کیا ہوگیا ہے تمہاری بھوک کو ” کتنے دن ہوگئے ٹھیک سے کھا پی نہیں رہی ہو چہرہ دیکھو اتنا سا بن گیا ہے “
آج میں نے بریانی بنائی ہے ” جلدی آجاؤ چینج کر کے ” انوشہ نے اسے زرا سختی سے ٹوکا ۔۔
اچھا میں چینج کرلوں” اسکے رنگ اڑے سے لگ رہے تھے ۔۔
انوشہ نے نوٹس کیا مگر کھانے کے بعد پوچھنے کا ارادہ کیا ورنہ ایسے ہی بگڑ جاتی ہے اور پھر کھانا نہیں کھائے گی آجکل تو کچھ زیادہ ہی غصہ ہونے لگی تھی۔۔
کمرے آتے اچھے سے دروازہ بند کیا اور بیگ سے رپورٹ نکال کر پڑھنے لگی ” جیسے جیسے پڑھتی گئی اسکے اوسان خطا ہوگئے تھے وہی ہوا آخر جسکا اسے ڈر تھا ۔۔
آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ بہنے لگے تھے ۔۔ ایک اور نیا امتحان اسکے لیے شروع ہوچکا تھا ۔۔ ابھی پہلے مسئلہ حل نہیں ہو رہے تھے اور اب یہ ایک اور نیا معاملہ بن چکا تھا کیا کرے گی اب وہ کیسے سامنا کرے گی وہ انوشہ کا اگر سب پتا چل گیا تو ۔۔
ادھر سے ادھر ٹہل رہی تھی اور باران اگر اسے پتہ چل گیا اس سب کے بارے میں تو ” کیا ہوگا اور زیبا وہ تو پہلے ہی اسکی دشمن بنی بیٹھی ہے ۔۔
مگر کیا کرے اب یہ سب اسکے بھی اختیار میں نہیں تھا۔۔
اسکے کمرے کا دروازہ بجا تو ایک دم سے چونک گئی جلدی رپورٹ کو الماری میں چھپایا۔۔
بشرا خالہ ماما بلا رہی ہے آپکو ” کھانا کھا لیں ۔۔باہر کھڑے التمش نے اسے آواز لگائی ۔۔
ہاں میں آ رہی ہوں ” اپنی گھبراہٹ پہ قابو پاتے بولی اور جلدی سے واش روم میں گھسی ۔۔
خود کو نارمل رکھتے وہ کمرے سے باہر آئی تھی۔۔
انوشہ نے اسکی پلیٹ میں چاول ڈال کر اسکے آگے رکھے تھے۔۔
بریانی سے اٹھتی اشتہا انگیز خوشبو آج اسے اپنی طرف متوجہ نا کرپائیں اسکا زرا بھی دل نہیں چاہ رہا تھا کچھ کھانے کو ۔۔
وہ بس بے دھیانی میں بیٹھی تھی بامشکل ایک دو چمچ ہی کھا پائی تھی ۔۔
بشرا کیا ہوگیا ہے ٹھیک سے کھا کیوں نہیں رہی تمہیں تو بہت پسند ہے نا بریانی” انوشہ بولی تو وہ ہوش میں آئی تھی۔۔
وہ میں نے شام میں کچھ کھا لیا تھا اس لیے بھوک نہیں ہے ” پلیٹ پرے کرتے وہ اٹھ گئی تھی۔۔
تو کچھ اور کھا لو ” انوشہ نے بغور اسکا چہرہ دیکھتے کہا جو زرد پڑ رہا تھا ۔۔
نہیں آپی دل نہیں چاہ رہا ” وہ کہتے چلی گئی۔۔
انوشہ تو بس اسے دیکھتے رہ گئی ۔۔
سلیم دونوں بہنوں کو بس چپ چاپ دیکھ رہا تھا وہ اپنا پرہیزی کھانا کھا رہا تھا۔۔
جب زمہ داریوں کا بوجھ بڑھ جائے تو بھوک مر ہی جاتی ہے ” انوشہ کو دیکھتے طنزیہ بولے تھے۔۔
@@@
باران آج پاکستان واپس آیا تھا ۔۔
رات کو آبان اور باران لان میں بیٹھے تھے ۔۔
اور آبان کو اس سے بات کرنے کا موقع بھی مل گیا۔۔
تمہاری دوسری بیوی کب مرگئی تم نے بتایا نہیں “
زندہ ہے سہی سلامت اور اسی شہر میں ہے ” باران نے اسے دیکھتے کہا۔۔
تو پھر دادجی کو جھوٹ کیوں بولا ان سے کیوں چھپایا ” آبان کو سمجھ نہیں آئی اسکی ۔۔
میں نے نہیں زیبا نے جھوٹ بولا ہے اور میں سب بول نہیں پایا۔۔” اس نے بے بس ہوتے کہا۔۔
کیوں سچ نہیں بولا تم نے؟ آبان نے پوچھا
کیونکہ اسے زیبا نے گھر سے نکال دیا تھا اور وہ بہت زیادہ ناراض ہے مجھ سے ” اس لیے میں آیا ہوں یہاں اسے منانے ” جب مان جائے گی تب ہی اسے یہاں لاؤ گا ۔۔ باران نے تفصیلی جواب دیا ۔۔
یہ اچھا نہیں کیا زیبا بھابھی نے ایک ماں اسے اسکا بچہ الگ کردیا ۔۔ باران اور تم نے اتنی دیر کردی اسے منانے میں ۔۔
میں اسے کچھ ٹائم دینا چاھتا تھا تاکہ وہ اپنے اور میرے رشتہ کے بارے میں سوچ لے ” بشرا کو سوچتے ہوئے کہا تھا ۔۔
کیوں ؟ پسند کی شادی تھی نا تمہاری اسکے ساتھ تو اتنا ٹائم کیوں سوچنے کے لیے ۔۔آبان اسکی کانٹریکٹ میرج کے بارے میں نہیں جانتا تھا ۔۔
باران یہاں پہ سٹپٹا گیا کیونکہ اس نے اسے پورا سچ نہیں بتایا ۔۔
میں نے اس سے شادی کرنے میں زرا جلدی کردی اس لیے ایک دوسرے کے بارے میں سوچنے کا موقع کم ہی ملا تھا ۔۔
ٹھیک ہے جلدی سلجھاؤ اپنے معاملات کہیں دیر نا ہو جائے ” اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھتے کہا اور اندر چلا گیا ۔۔
پیچھے باران سوچتا رہ گیا یہ ٹیڑھی کھیر ہے ” جلدی معاملات نہیں سنبھلنے والے کیونکہ زیبا نے بہت دوریاں پیدا کردی دونوں کے درمیان میں۔۔
@@@
بشرا تم کچھ چھپا رہی ہو مجھ سے ” انوشہ اسکے پاس بیٹھتی بولی۔۔
نن” نہیں تو ۔۔ وہ تو ایک پل کے لیے گھبرا گئی ۔
تم کچھ زیادہ ہی پریشان سی رہنے لگی ہو آفس سے آکر کمرے میں بند ہوجاتی ہو” انوشہ اسکا اترا ہوا چہرہ دیکھ بولی ۔۔
خالہ تو اب پہلے جیسے رہی نہیں” ہمارے ساتھ کھیلتی بھی نہیں ” پاس بیٹھے التمش نے بشرا کو دیکھتے شکوہ کیا ۔۔
دیکھو بچے بھی تمہارے بدلے ہوئے تیور نوٹ کررہے ہیں۔۔ اگر تم جاب نہیں کرنا چاہتی تو چھوڑ دو۔ مگر اپنا سکون مت برباد کرو “..
انوشہ نے اسے پیار سے کہا۔۔
نہیں ایسی بات نہیں ہے آفس میں سارا دن کام بہت ہوتا ہے تھک جاتی ہوں” بشرا نے بات کو ٹالنا چاہا۔۔
تم میرے ساتھ ہوسپٹل چلنا کل کا ٹائم لیا ہے میں نے ڈاکٹر سے چیک اپ کروانا ہے ۔۔ انوشہ نے کہا تو وہ گڑبڑا کر بولی
میں کیوں ؟
میں اکیلی کیسے جاؤں گی کوئی تو چلے میرے ساتھ اماں نے تو منع کردیا ساتھ چلنے سے۔۔
مجھے آفس سے چھٹی نہیں ملے گی مشکل ہے آپ سلیم بھائی کو ساتھ لے جاؤ ” اپنی گھبراہٹ پہ قابو پاتی بولی اور وہاں سے اٹھ کر کمرے میں آگئی ۔۔ انوشہ پیچھے سر ہلاتی رہ گئی پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے اسے۔۔
@@@
بشرا نے فائلز تیار کیں اور اسے دکھانے احمد کے آفس گئی ۔۔
سر یہ فائلز ریڈی ہیں ایک بار چیک کرلیں ۔۔ “
سامنے دیکھا تو ساکت رہ گئی باران کرسی پہ براجمان ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھا ہوا تھا ۔۔
یہ باران کا ہی آفس تھا باران کی غیر موجودگی میں یہ سیٹ احمد سنبھالتا تھا مگر اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ باران واپس آ چکا ہے ۔۔
