54.4K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Agosh E Sitamgar) Episode 1

وہ تیزی سے بھاگ کر لفٹ میں پہنچی اس سے پہلے کے لفٹ بند ہوتی..
لفٹ میں پہلے سے ہی ایک بہت ہی خوبرو ہینڈسم سوٹڈ بوٹ ٹائی شائی لگائی ہاتھ میں مہنگی ترین برینڈڈ رسٹ واچ پہنے سفید رنگت تیکھے نین نقوش کلین شیو.. اپنی تمام تر مردانہ وجاہت لئے.. اٹیٹیوڈ میں کھڑا تھا اس پہ محض سرسری سی نظر ڈال کر سامنے منہ کردیا بلا کی سنجیدگی تھی چہرے پہ..
خود کو سنڈریلا کہنے والی بشری کو لگا جیسے وہ اس کے سپنوں کا راجکمار ہی ہے.. اپنی مسکراہٹ کو دباتے وہ اس شہزادوں جیسی آن بان شان رکھنے والے سے مخاطب ہوئی.. جس نے ایک غلط نگاہ تک بھی اس پہ نہیں ڈالی تھی ابھی تک..
تم میرا پیچھے کرتے یہاں بھی آگئے. ” بریک سی کھنکتی آواز تھی
ایکس کیوز می.. ” یہ کیا بکواس کی آپ نے ” وہ حیران ہوتے اس سے مخاطب ہوا..
وہ بھی کم حسین نہیں تھی.. چھوٹی سی ناک گول فیس گال پہ پڑتا ڈمپل باریک ہونٹ سلکی کھلے بال.. ییلو ٹاپ جسکی ہالف آستین سے چھلکتے دودھیا رنگت بازو.. بلیک ٹائٹ جینس.. مقابل کے بھی شانے چت کر دینے والی..
جی بالکل تم.. ابھی اپنی لینڈ کروزر سے مجھے ٹکر مارنے والے تھے امیر ہو تو کسی کی بھی جان لے لو گے.. ” ایک ہاتھ میں فائلز پکڑے اور دوسری ہاتھ کی انگلی نچا نچا کر اس سے بہت ہی اٹیٹوڈ میں بات کررہی تھی..
تمہارا دماغ خراب تو نہیں ہوگیا میری گاڑی کے آگے آج تو کوئی نہیں آیا.. “
اتنے میں لفٹ کا دروازہ کھل گیا..
نکلتے سمے بشری کی ہیل نکل گئی تھی اسکے پاؤں سے ” مگر اسے جلدی تھی ٹائم نکلا جا رہا تھا انٹرویو کا۔۔
باران تو سر تھام کے رہ گیا تھا کیا بلا تھی ایوی گلے پڑ رہی تھی.. بلا تھی تو خوبصورت.. مگر اچانک سے لفٹ کے فلور پہ اسے ہیل نظر آئی.. میڈم کو اتنی جلدی تھی کہ جوتا بھول گئی.. “آفت کہیں کی ایک تو پہلے لیٹ ہوں اوپر سے اس لڑکی نے دماغ خراب کردیا.. “
کچھ دن پہلے ہی باران اعوان نے یہ کمپنی خریدی تھی.. کچھ امپلواۓ نیو رکھنے تھے.. آج وہ آفس ٹریفک جام کی وجہ سے لیٹ ہوا. ایک تو موڈ پہلے خراب تھا دوسرا اس لڑکی نے کردیا..
تو مس.. “
سنڈریلا.. ” آئی مین بشری ریاض.. ” مسکرا کر جلدی سے درستگی کرتی بولی..
جی تو مس بشری ریاض ” آپکی جاب پکی ہوئی.. آپ اس کمپنی کے باس.. باران اعوان کی پرسنل اسسٹنٹ کے طور پر ہے.. اس کمپنی کے سی ای او نے باران کے کہنے پہ خود انٹرویو لیا تھا اور آج ہی فائنل کرنا تھا پی.اے ارجنٹ نیڈ تھی.. اسکی سر احمد نے اسکے تیزی اور ہوشیاری دیکھتے فائنل کردیا..
بشری تو انتہا کی بلندیوں پہ خوش تھی.. پہلے ہی انٹرویو میں پاس ہوگئی.. وہ بہت ہی پرجوش ہوتی نکلی تھی وہاں سے..
@@@
احمد انٹرویوز ہوگئے مجھے آج ہی فائنل رزلٹ چاہیے.. اسسٹنٹ کی ارجنٹ نیڈ ہے.. کتنے کام ہے جو پینڈنگ پڑے ہے سمجھ نہیں آ رہا کیا کروں کیا نا کروں..
آپ بے فکر رہیں سر آپکی پی اے فائنل ہوگئی.. وہ کل سے ہی آپکو جوائن کرے گی..
باران نے اسے گھورا..
” مجھے نہیں کمپنی کو.. “اور آپ نے لڑکی ہی کیوں رکھی.. میل میں بھی رکھ سکتے تھے.. “
“آج تو بس گرلز ہی تھیں انٹر ویو کیلئے سو میں نے ایک بہت ہی تیز لڑکی لگی تھی.. اور آپکے لئے بھی پرفیکٹ.. آئی مین کمپنی کیلئے.. اسکی گھوری پہ اپنی بات درست کرتا بولا..
اوکے کل دیکھیں گے.. ” کہتا وہ لیپ ٹاپ پہ متوجہ ہوا تھا..
🥀🥀🥀
آپی.. آپی..
گھر آتے ہی بشری نے پورا گھر سر پہ اٹھا لیا تھا
کیا ہوگیا ہے تمہیں کیوں شور ڈالا ہوا تم نے” اسکی بڑی بہن انوشہ بولی۔۔
آپی۔۔۔ بشرا اپنی بہن کو کاندھے سے پکڑے گول گول گھمانے لگی۔۔
ارے چھوڑو مجھے ” وہ خود کو اسکی گرفت آزاد کروایا اپنے چکراتے سر کو تھاما۔۔ ” کون سی خوشی میں یہ پاگل پن سوار ہے سر پہ”
آپی میری جاب لگ گئی ہے کل سے ہی اسٹارٹ ہے” وہ خوشی سے چیخ کر بولی اور زور سے گلے لگا لیا انوشہ کو۔۔
کیا ” پہلے ہی انٹرویو میں اسکی جاب لگ گئی یہ سن کر انوشہ بھی سچ میں حیران ہی ہوئی ۔۔
تم سچ کہہ رہی ہو” یہ تو بہت ہی زیادہ خوشی کی بات ہے ” انوشہ نے اسکا کاندھا تھامتے ہوئے بھیگے لہجہ میں کہا۔۔
آپی بہت بڑی کمپنی ہے ” اور میری پرسنل اسسٹنٹ کی جاب لگی ہے ابھی تک تو میں نے باس نہیں دیکھا مگر میں خواہش کررہی ہوں کہ باس بہت ہی زیادہ ہینڈسم اور ان میریڈ ہو” وہ پرجوش انداز میں بولی ۔
پاگل واگل تو نہیں ہو ایسے باس نا فلموں ڈراموں یا ناول میں ہوتے ہیں ” جو بہت ہینڈسم ہوتے ہیں اور انہیں اپنی پی اے سے پیار ہو جاتا ہے” انوشہ اسکا مذاق اڑاتے بولی۔۔
ہاں بس تم بس میرا مذاق ہی اڑاتی رہنا دیکھنا کوئی شہزادہ ہی آئے گا” شہزادے کے نام سے اسکی آنکھوں کے سامنے باران عکس لہرایا جس سے آج اسکا لفٹ میں ٹکراؤ ہوا تھا۔۔ وہ تو جیسے اسکے خیالوں میں ہی کھو سی گئی اسکی پرکشش پرسنیلٹی سحر میں جکڑ گئی۔۔
ہیلو” کہاں چلی گئی ہو” اسے اچانک سے کھویا ہوا پاکر انوشہ نے اسکا کاندھا جھنجھوڑا۔۔
کہیں نہیں بھوک لگی ہے کھانا گرم کردیں ” کہتی وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔
زندگی میں اتنی محرومیاں دیکھنے کے باوجود بھی وہ ایک زندہ دل لڑکی تھی۔۔ اس نے کبھی بھی حالات کے سامنے ہار نہیں مانی تھی ۔۔
انوشہ اور بشرا دو بہنیں تھی دونوں ابھی چھوٹی سی ہی تھی جب انکے والدین اس دنیا سے رخصت ہوگئے وہ اپنے چاچا کے رحم و کرم پہ ہی پلی بڑی تھیں چاچا کا رویہ تو انکے ساتھ بہت شائستہ اور پرخلوص تھا مگر اسکی چاچی کو ہمیشہ ہی ان سے دقت رہتی تھی۔۔ انوشہ نے بڑی بہن کا نہیں بلکہ ماں کا فرض نبھایا بشرا کا وہ بہت بڑا سہارا رہی تھی ہر تکلیف وہ خود پہ جھیل لیتی تھی مگر بشرا کو کبھی گرم ہوا نہیں لگنے دیتی تھی ۔۔ انوشہ نہیں پڑھ لکھ پائی مگر بشرا کی تعلیم کے لیے اس نے خود کی تعلیم قربان کردی تھی ۔۔ بشرا میٹرک میں تھی جب انوشہ کا رشتہ آیا ۔۔ انوشہ بشرا کی وجہ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی کہ اکیلی رہ جائے گی اور ساتھ ہی اسکی تعلیم بھی ادھوری رہ جائے گی۔۔
سلیم ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا رشتہ دار میں صرف اسکی ماں ہی تھی جو کہ کافی بوڑھی تھی ۔۔ اسکی چاچی کو تو بس اسے گھر سے نکالنے کی جلدی تھی اس لیے اس نے اسکے چاچا کی ایک نا چلنے دی اور اسے سلیم کے ہمراہ رخصت کردیا ۔۔
انوشہ لاکھ نا چاہنے کے باوجود بھی سلیم کے سنگ رخصت ہو گئی۔۔
شروع شروع میں انوشہ کا رویہ سلیم کے ساتھ بہت کھچا کھچا سا تھا ۔۔اسے لگتا تھا وہ بشرا سے اسکی وجہ سے دور ہوگئی ہے۔۔
مگر سلیم کے پیار اور خلوص نے اسکا دل موم کردیا تھا ۔ وہ بشرا کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتی تھی جس پہ سلیم نے آمادگی ظاہر کردی اور جلد ہی وہ بشرا کو بھی اپنے گھر لے آئی اگرچہ انکے چاچا کو اعتراض تھا مگر انہوں نے پھر بھی بشرا کو اپنے ساتھ رکھ لیا اور اسکی چاچی ان سے جان ہی چھڑانا چاہتی تھی سو اس لیے بشرا کو وہ با آسانی سے اپنے گھر لے آئے۔۔
سلیم نے بشرا کو چھوٹی بہن کا ہی درجہ دیا اور اسکے تمام تعلیمی تر اخراجات بھی اٹھائے بنا کسی عذر کے۔۔
وقت گزرتا رہا انکے حالات بھی سازگار ہوتے رہے پہلے سے بہت بہتر ہوگئے انوشہ کو اللہ نے دو بچوں سے بھی نوازا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ۔۔ اور بشرا نے بھی اپنی ایم اے کی ڈگری مکمل کرلی اب اسکا ارادہ کسی بڑی سی کمپنی میں جاب کرنے کا تھا جس کے لیے اس نے اخبارات میں ایڈ دیکھنا شروع کردیے اور فائنلی اسے ایک بڑی کمپنی کی جاب نظر آگئی اور آج ہی اس نے اپنا پہلا انٹرویو دیا اور فوراً ہی سلیکٹ بھی ہوگئی ۔۔
@@@
رات کے کھانے کے بعد بشرا اپنے کمرے میں تھی جاب کی خوشی اسے سونے نہیں دے رہی تھی کل کے لیے اچھے کپڑے نکال کر پریس کیے ساری تیاریاں کرنے کے بعد بستر پہ گری سونے کے لیے ۔۔پھر اسے اسکے سپنوں کا راجکمار اسکی آنکھوں کے سامنے آگیا ۔۔
اسکے خوابوں کا شہزادہ گھوڑا دوڑاتا دگڑ دگڑ اسکی طرف آرہا تھا اور وہ سنڈریلا بنی خوبصورت سی فراک پہنے کھڑی تھی ۔۔ اسکا شہزادہ گھوڑے سے اتر کر اسکے پاس آتا ہے اور اسکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتا ہے ایک سینڈل اسکے سامنے رکھتا ہے بشرا خود کو سنڈریلا تصور کیے ایک پیر میں سینڈل پہنے اور دوسرا پیر خالی لیے کھڑی تھی جیسے ہی وہ دوسری سینڈل پہنتی ہے دونوں سینڈل میچ ہوجاتی ہے وہ خوشی سے اس شہزادہ کی طرف دیکھتی شہزادہ سر اٹھا کر اسے دیکھتا وہ ہو بہو باران کی شکل جیسا تھا وہ اٹھ اسے گلے سے لگا لیتا ہے ۔۔
وہ خیالی پلاؤ بنا رہی تھی جب اسکے سر پہ انوشہ چت مار کر اسے حقیقی دنیا میں واپس کھینچ لاتی ہے ۔۔
اور اسکا سارا خیالی پلاؤ دھرا کا دھرا رہ جاتا ہے ۔۔
بشرا نکل آؤ خوابوں کی دنیا سے حقیقت میں رہنا سیکھو ” تمہاری نوکری کرنا سلیم کو زرا پسند نہیں ہے ۔ وہ چاہتے ہیں اب تمہارے ہاتھ پیلے کردیں ۔۔ تمہیں اب اپنے گھر کی ہوجانا چاہیے ۔۔ یہ نوکریاں کر کے کچھ نہیں حاصل ہونے والا۔۔
آپی پلیز ” یہ میری خواہش تھی پلیز پلیز سلیم بھائی سے کہیں نا ” مجھے جاب کرنے دیں ۔۔ وہ رونی سورت بناتی بولی۔۔
میں نے بات کی ہے ان سے مگر وہ تمہاری شادی کے حوالے سے سوچ رہے ہیں جو بھی تمہارے خواب ہیں اپنے شہزادے کے گھر جا کر پورے کرنا ” انوشہ نے اسکے پاس بیٹھتے اسے سمجھاتے کہا۔۔
میرے لیے نا میرے خوابوں کا ہی شہزادہ ڈھونڈنا ہے” خبر دار جو کوئی مڈل کلاس فیملی سے نہیں ہونا چاہیے” بشرا انگلی دکھاتی بولی ۔
اچھا تو پھر اب تم چاہتی ہو تمہارے لیے محلوں کا شہزادہ کا تلاش کریں ” انوشہ نے آنکھیں بڑی کرتے کیا۔۔
ہاں! اس نے بھرپور مسکراتے اور شرماتے کہا۔۔
پھر سے اسکی آنکھوں کے سامنے باران کا عکس لہرایا ۔۔
آپی ! ویسے آج میں ایک شہزادہ دیکھا تھا کمپنی میں ” اتنا ہینڈسم اور ڈیشنگ تھا ” اتنے مہنگے کپڑے پہنے ہوئے تھے اس نے اور ہاتھ میں اتنی قیمتی گھڑی پہنی اور اس کے جوتے” بشرا بہت ہی جوشیلے انداز میں بیان کررہی تھی اور انوشہ تو بس پاگل پن دیکھ رہی اسکا حیرت سے۔۔
وہ لفٹ میں میرے پاس کھڑا تھا”
بس بس ” بشرا یہ لوگ ہماری پہنچ سے بہت دور ہے اور تم بھی دور رہنا ان سے ” یہ لوگ ہمیں اپنے گھر کی زینت نہیں بنا سکتے۔۔ہاں البتہ ہمارا فائدہ ضرور اٹھا سکتے ہیں ۔۔ میری یہ بات یاد رکھنا تم دھوکہ نا کھا بیٹھنا ان امیر زادوں سے ۔۔ یہ خوبصورت اور مڈل کلاس لڑکی کو صرف اپنے فائدے کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔۔” انوشہ نے دور اندیشی سے اسے سمجھانا چاہا مگر اسکے کہاں پلے پڑنا تھا کچھ۔۔
اچھا نا بس اب بھاشن بند کریں میں یہ جاب کروں گی اگر سہی نا لگی تو چھوڑ دوں گی۔۔ ” مگر ابھی پلیز مجھے نا روکیں ” بشرا نے معصومانہ انداز میں کہا۔۔ تو انوشہ سر ہلاتی اٹھ گئی وہاں سے ۔۔
بشرا اسکے جاتے ہی بیڈ پہ آڑی ترچھی ڈھیر ہوگئی ۔۔
اور اپنے راجکمار کو سوچتے سوچتے نیند کی وادیوں میں چلی گئی۔۔
@@@
اگلے دن بڑے ہی نک سک تیار ہوئی آفس جانے کے لیے۔۔
اوف وائٹ کا ڈھیلا سا کرتا پہنے بالوں کی ان کی اونچی پونی ٹیل بنائے ہلکا سا سافٹ سا میک اپ کیے اور گلے میں اوف وائٹ ہی دوپٹہ ڈالے ہوئے۔۔
کچن میں جا کر بس ہلکا پھلکا سا ناشتہ کیا۔۔ اچھا میں چلتی ہوں ۔۔ انوشہ کو کہتی وہ باہر نکل گئی۔۔
یہ کہاں گئی ” انوشہ کی ساس نے اسے باہر جاتے ہوئے اور اس طرح سے یوں تیار دیکھ پوچھا۔۔
وہ اماں آج اسکا آفس کا پہلا دن ہے ” انوشہ نے کہا۔۔
سلیم نے تو منع کردیا تھا پھر بھی گئی ہے ” اماں نے زرا برا مناتے کہا ۔۔
اماں چار دن میں ہی اسکی عقل ٹھکانے آجائے گی ” آپ اسے اسکے حال پہ ہی چھوڑ دیں نہیں سن رہی ہے میری بات ۔۔ انوشہ نے بے بس ہوتے کہا۔۔
ٹھیک ہی بھئی جیسے تم لوگوں کی مرضی ” وہ برا سا منہ بناتی بولی۔۔
@@@
مس”بشرا آپکا کیبن ہے اور سامنے باران اعوان سر کا آفس ہے ” یہ انکی ساری فائلز ہیں باقی کا کام وہ تمہیں خود ہی سمجھا دیں گے اگر پھر بھی کوئی پروبلم ہو تو مس حمیرا ہیں وہ سمجھا دیں گی ۔۔ آپکا کام باران سر کے ساتھ رہنا ہے انہیں کبھی بھی کسی فائلز کی ضرورت پڑھ سکتی ہے جو انہیں فوراً فراہم کرنی ہے ” احمد نے اسے اسکا کام سمجھاتے کہا ۔۔
ییس سر آپ فکر ہی نا کریں باران سر کی اب سب میری ذمہ داری ہے ۔۔ بشرا نے بڑے کونفیڈنٹ سے کہا۔۔
ویری گڈ” اب آپ جائیں باران سر کے آفس انہوں بلوایا ہے آپکو احمد نے کہا۔۔
اوکے سر ” وہ مسکرا کر چل دی باران کے آفس وہ ابھی تک انجان تھی باران سے اور باران اس سے کے وہ کل ہی مل چکے ہیں لفٹ میں ۔۔
وہ ناک کرکے آفس میں آئی۔۔ باران چئیر کو دوسری طرف گھوما کر کسی سے فون پہ بات کررہا تھا اسکی آواز دھیمی تھی اس لیے اسکی باتوں کی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔۔
ہیلو سر میں” بشرا نے بولنا شروع کیا تو باران نے ہاتھ کے اشارہ سے اسے بات کرنے سے روک دیا تو وہ چپ کرگئی۔۔
کچھ دیر فون پہ باتیں کرنے کے بعد اس فون بند کیا اور اسکی طرف گھوم کر سیدھا ہوا۔۔
تم”
تم ” بیک وقت دونوں کے منہ نکلا