Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279 (Agosh E Sitamgar) Episode 27
No Download Link
Rate this Novel
(Agosh E Sitamgar) Episode 27
تم نے خود ہی کہا تھا کہ تم چلی جاؤ گی ” مجھے لگتا ہے اب وقت آ چکا ہے کہ تم چلی جاؤ ۔۔” زیبا نے خود سری سے کہا۔۔
ٹھیک ہے مگر باران ” بشرا نے بولنا چاہا ۔۔
تم باران کی فکر مت کرو وہ بھی یہی چاہتا ہے ” کونسا تم سے اس نے پسند کی شادی کی تھی چھوڑ دے گا وہ تمہیں اور ویسے بھی کانٹریکٹ میرج تھی تمہاری اس کے ساتھ تمہارا کام صرف بچہ پیدا کرنا تھا۔ محبت نہیں ہو تم اسکی وہ تو بس تم سے اپنا دل بہلا رہا ہے ” بچہ کا تو صرف اس نے بہانا ہی بنایا ہوا ہے۔۔
تمہاری ٹکٹس کروا دوں گی میں ایک دو دن میں اور ہاں باران سے میرا نام مت لے نا کہہ دینا اپنی مرضی سے جا رہی ہو ” کہتے وہ چلی گئی تھی۔۔
بشرا کو بھی لگا اب اسکے جانے کا وقت آن پہنچا ہے جانا تو ہے ہی آخر آج یا کل تو پھر آج ہی سہی سوچتے وہ تیاری کرنے لگی تھی جانے کی۔۔
@@@
زیبا نے بشرا کی پاکستان جانے کی ٹکٹ کنفرم کروادی اور دو دن بعد کی ٹکٹ اسکے ہاتھ میں تھما دی ۔۔
اپنے ہاتھوں میں پکڑی ٹکٹس کو دیکھ آنکھ سے موتی نکل کر ٹکٹ کے کاغذ پہ جذب ہوا تھا۔۔
پہلے یہاں آنا مشکل لگ رہا تھا کسی امتحان سے کم نہیں تھا اور واپس جانا اتنا ہی مشکل لگ رہا ہے اور جیسے کوئی اور امتحان شروع ہونے والا ہے۔۔
اپنے آنسو صاف کرتی اٹھ گئی اور خاموشی سے اپنے کپڑے الماری سے نکالتی بیگ میں ڈالنے لگی تھی ۔۔ آج نہیں کل یہ دن بھی آنا ہی تھا ۔۔
مگر اپنے بچہ کو چھوڑ کر جانا بے حد مشکل لگ رہا تھا وہ کیسے رہے گی زیان کے بغیر بھلے ہی وہ یہاں اسکے پاس نہیں ہوتا تھا سارا دن مگر وہ اسے دیکھ تو سکتی تھی۔۔
باران بے خبر تھا بشرا کے جانے سے۔۔ اور نا ہی بشرا نے اسے آگاہ کیا ۔۔
بشرا کو بھی یہی لگ رہا تھا کہ وہ باران کے لیے صرف ایک کھلونا بن گئی ہے جب چاہتا ہے اس سے اپنا دل بہلالیتا ہے ۔۔
بس اسے دکھ تھا تو صرف اپنے بچے سے دور رہنے کا ۔۔
اور یہ دو دن بھی خاموشی سے گزر گئے تھے ۔۔
بشرا نے زیان کو ڈھیر سارا پیار کیا ۔۔ جینی سے ملی اور چلی گئی زیبا اس سے نہیں ملی تھی جاتے ہوئے ڈرائیور کے ساتھ ہی ائیرپورٹ کے لیے نکل گئی اکیلے اور باران اس بات سے بلکل بے خبر تھا۔۔
جینی سے برداشت نہیں ہوا تھا بشرا کو یوں جانا وہ رونے لگی تھی پھر اسے خیال آیا کہ باران کو تو پتا ہی نہیں اس نے جلدی سے باران کو کال کر کے آگاہ کیا تھا بشرا کے بارے میں ۔۔
باران ریش ڈرائیونگ کرتا ہوا ائیرپورٹ پہنچا تھا اس کے تو گمان میں بھی نہیں تھا کہ بشرا اسے بتائے بغیر جانے کا کیسے سوچ سکتی ہے ۔۔
وہ ائیرپورٹ پہ اس وقت بیٹھی ہوئی تھی آنکھیں نم تھیں یہاں گزرے ہوئے پلوں کے بارے میں سوچ رہی تھی جب باران اسکے سامنے کھڑا ہوا۔۔
بشرا “
وہ کھوئی سی بیٹھی تھی
ایک بار پھر آواز دینے پہ چونک کر سامنے دیکھا تھا ۔۔
بشرا ” تم یہاں کیا کررہی ہو اور کس سے پوچھ کر جا رہی ہو ” ایک بار بھی بتانا ضروری نہیں سمجھا تم نے ۔۔
جی ” نہیں ضروری سمجھا میں نے آپکو بتانا ۔۔
مجھے لگتا ہے کہ اب میرا کام ہوگیا ہے جو میں کرنا تھا ۔۔
اب میری آپکی زندگی میں کوئی جگہ نہیں بچتی آپکو جو چاہیے تھا وہ مل تو گیا ہے آپکو ” کوئی کھلونا نہیں ہوں میں جسے آپ اپنی من مرضیاں کرتے رہیں پلیز چھوڑ دیں مجھے میرے حال پہ” اپنا رویہ قدرے سخت کرتی بولی ۔۔
تم میری بات کیوں نہیں سن رہی بس اپنی ہی چلائی جا رہی ہو۔۔
نہیں سننی میں نے آپکی کوئی بات اب تک آپ نے اپنی ہی چلائی ہے میری تو کوئی نہیں سنی ” اب میری ہی سننی ہو گی مجھے نہیں رہنا آپکے ساتھ اور ویسے بھی ہمارے درمیان یہ پہلے سے ہی طے تھا تو پھر اب میرے جانے کا وقت آ چکا ہے اور اس لیے میں نے جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔۔ وہ سنانے پہ آئی تو سناتے چلی گئی۔۔
اچھا تو پھر ہمارا بچہ تم اتنی سیلفش ہوگئی ہو کہ اپنے بچے کو چھوڑ کر جا رہی ہو تمہیں زیان کی زرا بھی پرواہ نہیں ہے ۔۔ ٹھیک ہے میرے لیے نا سہی اپنے بچے کے لیے ہی رک جاتی۔۔ زیان ابھی بس چھہ ماہ کا ہے اسے ضرورت ہے تمہاری۔۔
اسی لیے ہی تو جا رہی ہوں کہ اگر اسے میری عادت پڑ گئی تو کیسے رہے گا وہ میرے بغیر اور میں اسکے بغیر جانا تو ہے نا مجھے اسے چھوڑ کر۔۔ اپنے آنسوؤں کو صاف کرتی بولی تھی جو بے اختیار زیان کے نام پہ بہنے لگے۔۔
” اور میں ” میں کیسے رہوں گا تمہارے بغیر۔۔
” مجھے عادت پڑ چکی ہے تمہاری۔۔ ڈیڑھ سال کا عرصہ گزارا ہے تمہارے ساتھ ۔۔
” بشرا میں تم سے محبت کرنے لگا ہوں ” ۔۔وہ لہجہ میں پیار سموئے بولا تھا
ہمیشہ کے لیے اپنانا چاہتا ہوں تمہیں ۔۔ پلیز مت جاؤ۔۔
۔۔آخر میں منت بھرے انداز میں بولا ۔۔
آپکو میری عادت پڑی ہے ۔۔ محبت نہیں ہوئی ۔۔
محبت تو آپکو زیبا سے بھی ہوئی تھی ۔۔ پہلی محبت تو فراموش کردی آپ نے بلکہ اصل قربانی تو محبت میں انہوں نے دی ہے آپ کے لیے۔۔ ورنہ اپنے شوہر کو کون عورت برداشت کرسکتی ہے دوسری عورت کے لیے۔۔
اتنے میں فلائٹ کی اناؤسمنٹ ہونے لگ گئی اور بشرا اپنا بیگ لیے چل دی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ اسکی آنکھوں سے اوجھل ہوگئی۔۔
دونوں ہی ایک دوسرے سے بدگمان ہو چکے تھے۔۔ باران کو وہ سیلفش لگنے لگی تھی اس وقت ۔۔
باران کو اس پہ شدید غصہ آیا تھا ۔۔وہ اسکی محبت کا اظہار کرنے کے باوجود بھی اسکی محبت کو پیروں تلے روندتے ہوئے چلی گئی۔۔
وہ ائیرپورٹ کی حدود سے باہر آچکا تھا اپنی گاڑی کے پاس آکر کھڑا ہوا تھا اسکے ذہن میں بس بشرا ہی تھی ۔۔”تم میرے ساتھ ایسا کیسے کرسکتی ہو “
‘Why you can do that?
Why?
Why?
زور دار آواز میں کہتے دو تین بار گاڑی کے ٹائر کو پیروں سے ہٹ بھی کیا ۔۔
Hey man what happened?
راہ چلتے کئی لوگوں نے پوچھا تو چپ چاپ غصہ پیتا گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔اس وقت تو وہ کوئی جنونی ہی لگ رہاتھا۔۔ اپنا ماتھا مسلتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی تھی سر درد سے پھٹا جا رہا تھا۔۔
@@@
بشرا جب پلین میں آکر بیٹھی تو منہ پہ دونوں ہاتھ رکھ کر رو پڑی تھی ۔۔اسے باران خود سر ہی لگا تھا اسکی محبت کا کیا گیا دعوہ بھی جھوٹا لگا تھا۔۔
اگر یہ وقت کوئی اور ہوتا تو خود کو دنیا کی خوش قسمت ترین عورت ہی سمجھتی جسے باران اعوان پرپوز کررہا ہے شہزادوں سی آن بان رکھنے والا باران اعوان۔۔
رگڑ کر آنکھوں سے آنسوں صاف کرتی خود کو نارمل کرتے سہی ہوکر بیٹھی تھی تھی۔۔ جہاز اڑان بھر چکا تھا اس بار وہ نہیں گھبرائی تھی پچھلی بار جب پہلی مرتبہ باران کے ساتھ پلین پہ بیٹھی تھی اور جب جہاز نے اڑان بھری تو بہت خوفزدہ ہوئی تھی مگر اب تو جیسے کوئی پرواہ ہی نہیں تھی ۔۔
@@@
باران ائیرپورٹ سے سیدھا گھر آیا تھا چہرہ نیچے کئے کاندھے پہ کورٹ لٹکائے آہستہ آہستہ قدم بڑھائے وہ گھر میں داخل ہوا تھا کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح لگ رہا تھا مایوس سا ۔۔
جینی اسی کے انتظار میں کھڑی تھی اسے اکیلے ہی آتا ہوا دیکھ وہ اسکی طرف لپکی۔۔
بشرا نہیں آیا آپ کے ساتھ یا لینے ہی نہیں گیا اسے “
نہیں آئی وہ ” اس سے اچھا تھا میں جاتا ہی نا اسے لینے ۔۔ اس نے انکار کردیا جھٹلا دیا سب مجھے میرے بچے کو کتنی سیلفش نکلی وہ ۔۔ کتنی بدگمانی تھی اسکے لہجہ میں ۔۔
نہیں ایسا نہیں ہے ” کیسے آتا وہ کتنا مینٹلی ٹارچر کیا زیبا میم نے انہیں اور گھر سے نکالنے والا بھی بشرا کو زیبا ہے ورنہ وہ تو اپنے بچہ سے دور نہیں جانا چاہتا تھا ۔۔ جینی کے انکشاف پہ باران شاک ہوگیا۔۔
واٹ” یہ کیا کہہ رہی ہو تم “
آپ نے کبھی اسکا خیال ہی نہیں کیا ” وہ اتنا اداس اور پریشان کیوں رہتا ہے .. آپ اسکی کئیر کرتا تو آپکو پتا ہوتا ” آپکو اب بھی وہی سیلفش لگتا ہے کمال ہے ۔۔” جینی نے اسکا تمسخر اڑایا تھا
باران کو اب اسکی سمجھ آئی کہ کیوں وہ اس سے کھیچی کھیچی سی رہتی تھی۔۔ اس نے کبھی کوشش ہی نہیں کی اسے جاننے کی اسکے جانے کے بعد ہی یہ خیال کیوں آ رہا تھا اب اسے ۔۔ سوچتے ہوئے وہ سیڑھیاں چڑھنے لگا ۔۔
زیبا بہت خوش بیٹھی تھی بلآخر وہ بشرا کو باران کی زندگی سے نکالنے میں کامیاب ہو ہی گئی ایسے جیسے کوئی بلا ٹل گئی ہو۔۔
مگر کہیں نا کہیں بشرا کے لیے دکھ بھی تھا مگر یہ بھی سوچ تھی کہ وہ جوان ہے خوبصورت ہے اسے تو کوئی دوسرا ساتھی بھی مل جائے گا مگر اسکے پاس تو صرف باران ہی ہے۔۔
زیان سو رہا تھا اور وہ صوفہ پہ بیٹھی ہوئی تھی کہ اچانک باران کو اس وقت کمرے داخل ہوتا ہوا دیکھ حیران ہوئی جبکہ اسکے آنے کا یہ ٹائم نہیں تھا۔۔
آپ اس وقت “
” کیوں ” اتنی حیران کیوں ہورہی ہیں ۔۔ میں جب مرضی آؤں۔۔ وہ اسے دیکھتا بولا جبکہ اس پہ شدید غصہ بھی آ رہا تھا ۔۔
بہت خوش لگ رہی ہیں جیسے کوئی کامیابی حاصل کرلی ہو” طنز کیا تھا ۔۔
نہیں تو ویسے ہی ” وہ تھوڑا گھبرائی باران کے سخت تیور دیکھ۔۔
نہیں ویسے نہیں ” مبارکباد تو بنتی ہے .. بشرا جو چلی گئی۔۔ ایک ماں کو اسکے بچے سے دور کر کے آپ خوش ہیں۔۔” وہ آہستگی سے مگر سخت لہجہ میں بولا ۔۔
یہ بات پہلے سے ہی طے تھی کہ اسے جانا ہے پھر آپکو کیوں اتنی تکلیف ہو رہی ہے اور وہ اپنی مرضی سے گئی ہے ” وہ منہ پھیرتے بولی ۔۔
ہاں ” ہو رہی ہے تکلیف مجھے مگر آپ نے بھی اچھا نہیں کیا زیبا ” ۔۔ میرا مان توڑ دیا آپ نے ۔۔ ” وہ اسکے قریب آتے بولا ۔۔
اور جو مان آپ نے میرا توڑا۔۔” وہ اسکے سامنے منہ کرتے اسکی لال ہوتی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے بولی۔۔
تو وہ منہ پھیر گیا “
اب منہ کیوں پھیر لیا ہے آپ نے سامنا کریں میرا جواب دیں مجھے “
میں نے بھی وہی کیا ہے جو آپ نے میرے ساتھ کیا ہے ۔۔ میں ہم دونوں کے درمیان کسی تیسرے کو نہیں آنے دوں گی۔۔”درشتگی سے جواب دیا تھا زیبا نے دو ٹوک ۔۔
مگر میں نے اپنا شرعی حق استعمال کیا تھا ” آپ کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی ” آپ کو اف تک نہیں کہا ۔۔ بتائیں جب آپ کے ساتھ نا انصافی کی ہو”
مگر بشرا کے ساتھ تو ناانصافی ہو گئی ہے نا ‘
میری محبت میں کسی اور شریک ٹھہرا کر آپ پوچھ رہے ہیں کے کوئی زیادتی نہیں کی ” یاتو پہلے جھوٹ نا بولتے ” وہ دانت پیستے ہوئے بولی
ہم پاکستان جا رہے ہیں زیان کے میں پیپرز بنوا رہا تھا کچھ دنوں تک ریڈی ہوکر آجائیں گے دادجی کو اپنا بیٹا بھی دکھانا ہے “
وہ سختی سے الفاظ ادا کرتے چلا گیا تھا ۔۔
پاکستان” وہ زیر لب بڑبڑائی
” اب واپس چلے گئے تو کہیں باران اسے واپس نا لے آئے “
بلا ابھی ٹلی نہیں تھی “
@@@
بشرا ایک طویل سفر کرکے پاکستان پہنچی تھی۔۔
انوشہ کے نئے بتائے ہوئے پتہ پر ٹیکسی لے کر پہنچی تھی وہاں۔۔
وہ ایک درمیانہ سا ایریا تھا پہلے کی نسبت زیادہ اچھا اور صاف ستھرا علاقہ تھا ۔۔ اب گلی میں تو پہنچ گئی مگر گھر کا نہیں معلوم تھا کہ اتنی گھروں میں اسکا گھر کونسا ہے۔۔
انوشہ نے اسے بتایا تھا کہ پرانا والا گھر بیچ کر انہوں نے نیا گھر لیا ہے۔۔ سب اسی کی ہی مہربانی سے لیا تھا۔۔
پھر ایک چار منزلہ عمارت سے اپنے بھانجے سات سالہ التمش کو نکلتے ہوئے دیکھا تھا سامنے بشرا کو کھڑا پایا تو بھاگ کر اسکے گلے جا لگا ” بشرا خالہ آپ کب آئی۔۔
ابھی ہی آئی ہوں ” پیار سے اسے گلے لگاتے کہا تھا بشرا نے۔۔
آئیں نا دیکھیں ہمارا نیا گھر کیسا ہے ” التمش اسے گھر لے آیا سیڑھیاں چڑھتے وہ دوسرے فلور پہ لے کے آیا ۔۔
” بشرا “
تم کب آئی بتایا ہی نہیں تم نے کے تم آ رہی ہو” انوشہ اسے دیکھتے بھاگ کر اسکے پاس آئی ۔۔
اب آگئی ہوں نا بتانے کا کیا فائدہ تھا” عجیب سا روکھا سا جواب دیا ۔۔
آؤ تم بیٹھو ۔۔ تھک گئی ہوگی ۔۔
التمش تم بشرا کا سامان اندر رکھو۔۔ ” انوشہ نے اسے صوفہ پہ بٹھایا جو نیو ڈیزائن کا نیا تھا ۔۔بشرا کو یاد تھا کہ انکے پاس تو ایک ہی صوفہ تھا اور وہ بھی لکڑی کا۔۔
ماشاللہ آپی گھر تو بہت ہی شاندار لیا سامان بھی سارا نیا ہے ” تمسخر سے کہا۔۔
ہاں ” بس جو پہلے گھر تھا اسے بیچ کر اور جو پیسے تم اپنی سیلری کے بھیجتی رہی ہو اسے ملا کر لیا ہے ” انوشہ نے مسکراتے کہا تھا ۔۔
تم اتنی جلدی آ گئی ابھی تو ڈیڑھ سال ہوا ہے تم نے تو دو سال کا کہا تھا ۔۔اماں سامنے آتی بولی نا سلام نا دعا وہ سیدھا بات پہ آئی ۔۔
جی میرا دل نہیں لگتا تھا وہاں اس لیے بیچ میں ہی سب چھوڑ کر آ گئی ہوں ” بشرا نے اداس لہجہ میں کہا ۔
اماں کچھ بولتی انوشہ بول پڑی۔۔ “بشرا تم تھک گئی ہوگی فریش ہوجاؤ میں تمہارے کھانے کا بندوست کرتی ہوں” ۔۔
” نہیں آپی مجھے بس آرام کرنا ہے آپ میرے لیے بس چائے بنا دیں۔۔” اور واش روم کہاں ہے “
بشرا بولی۔۔
وہ سامنے کمرہ ہے وہاں چلی جاؤ اور اسی کمرے میں تمہارا سامان بھی رکھ وا دیا ہے ” اور میں تمہارے لیے ابھی چائے بناتی ہوں۔۔” انوشہ نے ہاتھ کے اشارے سے کمرہ دکھایا ۔۔
تو بشرا اسی کمرے کی طرف چل دی ۔۔
انوشہ کیا یہ پکا نوکری چھوڑ کر آ گئی ہے ۔۔ اس مکان کی ابھی آدھی پیمنٹ باقی ہے اگر یہ نوکری نہیں کرے گی تو کہاں سے دو گی باقی کے پیسے ” اماں اسکے جاتے ہی شروع ہوگئی۔۔
اماں پلیز ابھی بس کردیں ” کرلیں گے کچھ نا کچھ ۔۔ انوشہ نے اماں کو چپ کروانا چاہا کہیں بشرا کے کانوں میں آواز نا پڑجائے۔۔
بشرا ابھی دروازے تک پہنچی تھی کہ اس کے کانوں میں آواز پڑ چکی تھی ۔۔ وہ انکی سن چکی تھی۔۔
اپنے ہی رشتہ کرنے خود غرض اور لالچی ہو چکے ہیں ۔۔اسکا اندازہ اسے آج ہوا تھا ۔۔
فریش ہوکر چینج کر کے وہ باہر آئی ان کے پاس کہ اماں نے پھر سوال جواب شروع کردیے تھے۔۔
تم نے پکا نوکری چھوڑ دی ہے “
جی نہیں” اس نے جھوٹ بولا۔۔
اچھا پھر واپس کیوں آئی ہو؟ ایک اور سوال داغا اماں نے۔۔
وہ میرا دل نہیں لگ رہا تھا وہاں اس لیے یہی پہ اس لیے کمپنی والوں سے بات کی اور انہوں نے واپس پرانی والی کمپنی میں بھیج دیا کچھ دنوں میں پرانی کمپنی جوائن کرلوں گی۔۔ اماں کے مزید سوالوں سے بچنے کے اس نے ایک اور جھوٹ بولا ۔۔
سلیم بھائی کیسے ہیں” نظر نہیں آ رہے ” بشرا نے دھر ادھر دیکھتے کہا ۔۔
وہ ہوسپٹل گئے ہیں اپنا روٹین چیک اپ کروانے کے لیے ۔۔ اب تو ماشاءاللہ بہت بہتری آگئی ہے صحت میں ” یہ سب تمہاری بدولت ہوا ہے بشرا ۔۔” انوشہ نے اسکا ہاتھ پکڑتے کہا ۔۔
تو وہ اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکال گئی اور کھڑی ہوگئی ” مجھے نیند آ رہی ہے میں سونے جا رہی ہوں۔۔”
اسکے جاتے ہی اماں پھر سے بولی ۔۔
شکر ہے نوکری نہیں چھوڑی ورنہ میں تو ڈر گئی تھی کے گزارا کیسے ہوگا ” اور سلیم کی ابھی تک نوکری نہیں لگی اور نا ہی وہ ابھی نوکری کے قابل ہے ۔۔
بشرا کمرے میں نیند کا بہانا بناتی آ گئی۔۔
نیند کہاں آنی تھی اسے تو زیان کی یاد آ رہی تھی۔۔ موبائل سے اسکی تصویریں نکال کر دیکھ رہی تھی اور آنسوں جاری ہوگئے تھے ۔۔اسکی تصویر پہ ہاتھ پھیرتے اسے چوما تھا ناجانے وہ کیسا ہوگا وہ بھی یاد کرتا ہوگا اسے ۔۔
@@@
باران آفس سے گھر آیا تو زیان بہت رو رہا تھا ۔۔
زیبا سے وہ چپ ہی نہیں ہو رہا تھا ۔۔ پھر باران نے اسے اٹھایا تو وہ تب کہیں جا چپ ہوا تھا ۔۔
کل سے بہت رو رہا ہے یہ باران اور آج تو سارا دن ہی روتا رہا ہے ۔۔زیبا نے تھکن سے کہا آج تو ہلکان ہوگئی تھی زیان کے پیچھے۔۔
ہاں تو اپنی ماں کو یاد کررہا ہے ” بچہ ہے مگر اپنی ماں کی پہچان تو کرتا ہی ہے ” باران نے نروکھے پن سے کہا ۔۔
تو میں اسکی ماں نہیں ہوں ” میرا کوئی حق نہیں ۔۔ زچ ہوتے کہا۔۔
پلیز مجھ سے مت الجھو تو بہتر ہے ” وہ درشتگی سے کہتا چلا گیا۔۔
@@@
یہ کیا ہے ” زیبا حیرت سے بولی اپنے ہاتھوں میں ٹکٹس دیکھ کر
ٹکٹس ہیں پاکستان کی کل ہی جا رہے ہیں تیاری کرلو “
باران نے اسے تھمائی تھیں ۔۔
مگر ” وہ ابھی اتنی جلدی واپس نہیں جانا چاہتی تھی ۔۔
اگر مگر کو چھوڑو ۔۔ دادجی اکیلے ہیں کب سے اب ہمیں جانا چاہیے انکے پاس زیان کو لیکر ۔۔
آپکا کاروبار تو یہاں شفٹ ہوگیا ہے نا تو پھر واپس” زیبا شاک سے ہی بول رہی تھی۔۔
ہاں مگر اب میں یہاں سب کچھ ختم کر کے پاک ہی شفٹ ہو رہا ہوں پرانی کمپنی میں ۔۔”
کہتے وہ چلا گیا کمرے سے ۔۔
زیبا نے سر پکڑ لیا تھا ۔۔ اب باران واپس بشرا کے ہی پیچھے جا رہا ہے “
@@@
بشرا سلیم کے پاس بیٹھی انکا حال چال پوچھ رہی تھی۔۔
اللہ کا بڑا کرم ہے بشرا میری یہ زندگی تمہاری ہی بدولت ہے ورنہ تو میں کب کا دنیا کو خیر باد کرچکا ہوتا۔۔”سلیم نے مشکور بھرے انداز میں کہا۔۔
زندگی دینے والی ذات خدا کی ہے میں تو بس ذریعہ ہوں”
تمہارا سارا قرض اتارنا ہے میں نے بس اللہ مجھے اتنی مہلت دے دے۔۔”
ایسا تو نا کہے ” بشرا نے کہا۔۔
کونسا قرضہ ” اور تم نے جو اسکے لیے کیا ہے وہ کیا کم تھا اسے اپنے گھر رکھا پڑھایا لکھایا ورنہ اپنے چچا کے گھر دھکے کھا رہی تھی ہوتی انکی نوکرانی بنی ہوتی۔۔” اماں انکی باتیں سنتی انکے سر پہ آن پہنچی۔۔
اماں ” بشرا نے میری زندگی بچائی ہے ” اس احسان کا بدلہ تو میں دے ہی نہیں سکتا کبھی۔۔ اب تم نوکری نہیں کرو گی میں ڈھونڈ رہا ہوں نوکری انشاللہ جلد ہی مل جائے گی” اسکا مرجھایا سا چہرہ دیکھ سلیم نے مسکراتے کہا۔۔
کونسی نوکری ابھی تم پوری طرح سے ٹھیک نہیں ہوئے”اماں نے ٹوکا اسے۔۔
بشرا تم جاؤ اپنے کمرے ” سلیم کو اماں کی کڑوی باتیں بشرا کے لیے اچھی نہیں لگ رہی تھیں اس لیے بشرا کو بھیج دیا۔۔
وہ اٹھ کر چلی گئی۔۔
@@@
باران اور زیبا بھی پاکستان پہنچ چکے تھے ۔۔ جیسے ہی وہ گھر داخل ہوئے سامنے دادجی بیٹھے تھے
زیبا نے زیان کو اٹھایا ہوا تھا۔۔
یہ بچہ کون ہے ” دادجی نے حیرت اور تجسس سے بوچھا باران سے۔۔۔۔
