Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279 (Agosh E Sitamgar) Episode 35
No Download Link
Rate this Novel
(Agosh E Sitamgar) Episode 35
دادجی مجھے اپنے گھر جانا ہے انوشہ آپی سے ملنے چلی جاؤں انکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔
بشرا دادجی کے پاس آئی ۔۔
ہاں ٹھیک ہے چلی جاؤ ‘ ڈرائیور کے ساتھ
باران سے پوچھا تم نے ۔۔ دادجی نے کہا
تو بشرا نے نفی میں سر ہلایا۔۔
اچھا جاؤ میں باران سے بات کرلوں گا۔۔
تھینک یو دادا جی” بشرا نے خوش ہوتے کہا۔۔
دادجی بھی مسکرائے تھے۔۔
کیا میں زیان کو لے جا سکتی ہوں اپنے ساتھ” بشرا نے پھر سے پوچھا۔۔
یہ اجازت تو زیبا سے لینی ہوگی تمہیں ” دادجی بولے ۔۔
وہ میرا بیٹا ہے ‘ زیبا سے کیوں اجازت ؟ بشرا کو ناجانے کیوں اچھا نا لگا ۔۔
کیونکہ تم اسکی پیدا کرنے والی ماں ہو اور زیبا پالنے والی ماں ہے ؟ مگر اسکے بدلہ اپنا شوہر تمہارے حوالے کیا ہے ۔۔ دادجی نے زیبا کی سائیڈ لیتے کہا۔۔
زیبا نے بھی دادجی کے الفاظ سنے تھے زیبا تھوڑے فاصلے پہ زیان کو لیے بیٹھی تھی۔۔
زیان تمہیں باہر ڈسٹرب کرے گا اور تم خود بھی ڈسٹرب ہوگی آرام سے جاؤ شام تک رہنا ۔۔ زیبا نے کہا اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ کبھی دادجی بھی اسکی سائیڈ لیں گے۔۔
بشرا بنا کچھ بولے خاموشی سے باہر نکل آ ئی۔۔
کہاں جا رہی ہو ” آبان اسے باہر لان میں ہی مل گیا۔۔
وہ میں گھر جا رہی تھی انوشہ آپی سے ملنے انکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔بشرا نے سر جھکائے جواب دیا۔۔
کس کے ساتھ جاؤ گی۔۔
ڈرائیور کے ساتھ ” بشرا نے آہستہ آواز میں کہا ۔۔
ڈرائیور تو نہیں آیا آج ” آبان نے کہا۔۔
ٹھیک ہے میں کل چلی جاؤ گی ” کاندھے پہ ڈالے بیگ پہ گرفت مضبوط کی تھی پہلے ہی اسے اندر زیان کو ساتھ نا لے جانے کا دکھ تھا اور اب باہر ڈرائیور کے نا آنے کا دکھ ۔۔
چلو میں لے جاتا ہوں ” انوشہ کو ہوسپٹل لے جاتے ہیں اگر زیادہ طبیعت خراب ہے تو ” آبان نے آفر کی ۔۔
بشرا نے ایک منٹ کی سوچ کے بعد ہاں میں جواب دیا ۔۔
اور پھر وہ آبان کے ساتھ چل دی ۔۔
زیبا نے اسے آبان کے ساتھ جاتے دیکھا ۔۔
باہر کھڑے گارڈ سے معلومات لی تو پتہ چلا ڈرائیور آج چھٹی پہ ہے ۔۔
” اس لیے آبان لے گیا ہوگا “
سوچتے اندر چلی گئی پھر۔۔
@@@
میں ٹھیک ہوں فکر کرنے کوئی ضرورت نہیں ہے ” انوشہ نے اسے تسلی دیتے کہا۔۔
کیسے نا کروں فکر آپکی” بس ہر وقت آپ پہ ہی دھیان رہتا ہے میرا ۔۔ بشرا نے اسے گلے لگاتے کہا۔۔
کس کے ساتھ آئی ہو ” انوشہ نے پوچھا۔۔
وہ آبان آئے تھے ساتھ باہر سے ہی چلے گئے” کچھ کام تھا واپسی پہ مجھے پک کر لیں گے ۔۔
اچھا پھر اسے جلدی بلا لینا کھانا کھا کر ہی جانا دونوں “
آپی یہ کس کے کپڑے ہیں ” سامنے سلائی مشین کے پاس سلائی والے کپڑے پڑے تھے ۔۔
یہ ” انوشہ کہتے رک گئی ۔۔
یہ کسی کے کپڑے ہیں سلائی کے لیے آئے ہیں ” اتنے میں اماں باہر آئی کمرے سے اور بولیں۔۔
کس کے کپڑے ہیں ” انوشہ آپی کیا آپ نے کپڑے سلائی کا کام تو نہیں شروع کر لیا ۔۔ بشرا انوشہ کو دیکھتے ہوئے بولی ۔۔
انوشہ کچھ نا بولی۔۔
آپی اپنی حالت دیکھی ہے آٹھواں مہینہ اسٹارٹ ہوگیا ہے آپکا اس لیے طبیعت خراب ہوگئی تھی نا ۔۔
بیٹھا تو جاتا نہیں اور کپڑے سی لیں گی جس کے بھی ہیں واپس کردیں بس ۔۔ ” بشرا غصہ ہوتے بولیں ۔۔
میں نے بھی کہا ہے نا کرے اتنی محنت” گزارا کرلیں جیسے تیسے بس اپنے دن پورے کرلے بچہ ہونے کے بعد کرلے شوق پورے اپنے ” اماں بولی تھی ۔۔
میں ہوں نا کرتی ہوں کچھ بس آپ یہ کام نا کریں اب بس ” بشرا نے انوشہ کے ہاتھ پکڑتے کہا ۔۔
تم نے پہلے ہی بہت کچھ کیا ہے ہمارے لیے اب بس کردو ۔۔ انوشہ کی آنکھیں بھر آئیں ۔۔
میرا تعلق آپ لوگوں سے ابھی بھی برقرار ہے پلیز اب مت سوچنا ایسا ” بشرا نے اسکے آنسو صاف کرتے حوصلہ دیا
@@@
زیب میری پیکنگ کردیں “
باران شام کو جلدی آگیا آفس سے ۔۔
کیوں کہاں جا رہے ہیں آپ” زیبا نے پوچھا
ترکی کچھ دنوں کے لیے بہت ضروری کام ہے “
ایک ویک میں واپس آ جاؤ گا ۔۔” نارمل سے انداز میں کہا۔۔
زیان بشرا کے پاس ہے” باران نے پوچھا۔۔
نہیں ” بشرا تو گھر پہ نہیں ہے زیان دادجی کے پاس ہے ۔۔
وہ کہاں گئی ہے ” اسے حیرت ہوئی۔۔
آپ کو نہیں بتایا اس نے ” ایک گھنٹہ ہوگیا ہے اسے گھر سے نکلے ہوئے “
دادجی سے کہہ رہی تھی کہ اپنی بہن کے گھر جا رہی ہے۔۔ ‘ زیبا نے اسے دیکھتے کہا جو بڑا متفکر ہوگیا تھا بشرا کے لیے۔۔
@@@
آپ اندر آجائیں انوشہ آپی کہہ رہی تھی کہ کھانا کھا کر جائیں گے۔۔
بشرا پلیز دیر ہو جائے گی آپ آجائیں ” آبان جب بشرا کو واپسی لینے آیا تو بشرا نے کہا ۔۔
آجاؤ بیٹے اندر اب کیا منتیں کرواؤ گے مانا کے یہ گھر تمہارے گھر سے بہت چھوٹا ہے” اماں بول پڑی تھی۔۔
اماں جی ایسی بات نہیں ہے “
آبان کو گھر میں آنا ہی پڑا ۔۔
کھانا کھانے کے بعد آبان رکا نہیں تھا بشرا کو لیے وہ فوراً چلتا بنا ۔۔
@@@
ڈنر کرنے کے بعد باران لان میں ہی بیٹھ گیا تھا ۔۔ وہ بشرا کا انتظار کرنے لگا تھا ۔۔
درازوہ پہ گاڑی کا ہارن ہوا گارڈ نے فوراً دروازہ کھولا
گھر میں آبان کی گاڑی انٹر ہوئی تھی ۔۔
فرنٹ سیٹ سے بشرا اتری تھی اسکے ساتھ ۔۔
باران لان کی رکھی ہوئی کرسی پہ بیٹھا تھا ۔۔اسکی ساری توجہ انکی طرف تھی۔۔ ایک پل کے بشرا کو آبان کے ساتھ دیکھ کر اسکے دماغ میں ہلچل سی ہوئی تھی ۔۔ اسے اچھا نہیں لگا تھا بشرا کو آبان کی گاڑی سے اترتا ہوا دیکھ کر ۔۔
بشرا باران کو دیکھتی اسکے پاس آئی تھی ۔۔
اتنی دیر لگا دی گھر آنے میں ” باران نے سنجیدگی سے کہا جبکہ اسے بشرا پہ غصہ آ رہا تھا ۔۔
وہ انوشہ آپی نے زبردستی روک لیا تھا کھانے پہ اس لیے دیر ہوگئی تھی۔۔ آبان بھائی تو رک نہیں رہے تھے ۔۔بشرا نے جواب دیا ۔۔
آبان بھی انکی جانب آیا تھا ۔۔
بشرا اندر چلی گئی ۔۔
اتنی تفتیش کرنے کی ضرورت نہیں ڈرائیور نہیں تھا آج اس لیے میں لے گیا انوشہ آپی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔۔” آبان اسکے سامنے رکھی کرسی پہ بیٹھ گیا۔۔
تھوڑے وقت میں کافی زیادہ جان گئے ہو ” انوشہ آپی تم سے تو چھوٹی ہی ہوگی ۔۔ باران نے جیلسی سے جواب دیا ۔۔
بات چھوٹے بڑے کی نہیں عزت کی ہے جو تم نے میری کبھی نہیں کی” بھائی کے بجائے میرے نام سے پکارتے ہو جیسے میں تم سے چھوٹا ہوں ” آبان نے بڑے آرام سے جواب دیا۔۔ وہ اسکی بات کی گہرائی کو نا سمجھ پایا ۔۔
عزت تو دل میں ہونی چاہیے زبان سے بھائی کہہ دینے سے کوئی بھائی یا بہن نہیں بن جایا کرتے۔۔ باران ذو معنی بولا تھا اور چلا گیا تھا وہاں سے ۔۔ بشرا کا اسے بھائی کہنا اور اسکا انوشہ کو آپی کہنے پہ ٹونٹ مارا تھا ۔۔
جو وہ سمجھ گیا تھا ۔۔
@@@
آج اگر ڈرائیور نہیں تھا تو تمہارا جانا بہت ضروری تھا ” بشرا کے کمرے میں آکر وہ سخت انداز میں بولا۔۔
کہا تو تھا آپی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ” وہ ایسی کنڈیشن میں ہیں ” مجھے فکر ہورہی تھی انکی ۔۔
بشرا نے دوپٹہ اتار کر سائیڈ پہ رکھا تھا اور اپنے ائیر رنگز اتار رہی تھی جب باران کمرے میں آیا ۔۔
وہ اسے دیکھ کر دوپٹہ اٹھاتے ہوئے گلے میں ڈال لیا۔۔
میرے سامنے خود کو اتنا چھپانے کی ضرورت نہیں ہے” بیوی ہو میری اور میرے دوسرے بچہ کی ماں بننے والی ہو ” بہت قریب سے جانتا ہوں تمہیں اتنا چھپنے کی ضرورت نہیں ۔۔ معنی خیزی سے کہتا اسکا دوپٹہ گلے سے نکال چکا تھا ۔۔
بشرا دو قدم پیچھے ہٹی تھی اسکا انداز اچھا نہیں لگا تھا ۔۔
باران نے بھی دو قدم کا فاصلہ سمیٹتے اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے اپنے ساتھ لگایا تھا ۔۔ بشرا نے اسکے سینے پہ ہاتھ رکھے اپنے اور اسکے بیچ کا فاصلہ قائم رکھا تھا ۔۔
مانا کے آپکا پورا حق ہے مگر مجھ سے دور رہیں۔۔ آپکے ساتھ رہنا میری صرف مجبوری ہے بس ۔۔
آپ صرف اپنی من مرضیاں کرنا جانتے ہیں اگلے بندے کا حال دل جاننے کی کوشش بھی نہیں کرتے ۔۔ آپ نے خود دور کیا مجھے اپنے آپ سے اپنی اس خود سری کی وجہ سے ۔۔ آپ بس محبت کے دعوے کرنا جانتے ہیں محبت نبھا نہیں سکتے “صرف اپنے بچہ کی خاطر برداشت کررہی ہوں آپکو ۔۔
دانت پیستے اسے جواب دیا تھا باران نے ایک دم سے اسے چھوڑ دیا تھا وہ تو اسکے حقیر لہجہ پہ دنگ رہ گیا تھا ۔۔
اپنی زبان کو سنبھال کر بات کرو مجھ سے شوہر ہوں تمہارا ” تمہیں عزت سے لایا ہوں سب کے سامنے ۔۔
غصہ سے کہتے وہ چلا گیا تھا ۔۔
بشرا سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی کیسا شخص ہے یہ اسے صرف اپنی پڑی ہے ۔۔
باران باہر آ گیا تھا ۔۔
اسکا سر پھٹ رہا تھا بشرا کی باتوں کو سوچتے ہوئے” اتنا نفرت بھرا لہجہ ۔۔
اسکا جرم اتنا بھی بڑا نہیں تھا کہ اسکی کوئی معافی نا مل سکے جتنے اسکے نخرے اٹھا رہا ہوں اتنا ہی سر پہ چڑھ رہی ہے ” ایک مہینہ ہوگیا تھا مگر اسکا رویہ جوں کا توں ہی تھا برداشت کی بھی لمٹ ہوتی ہے ۔۔
@@@
ایک ہفتہ اور گزر گیا تھا باران نے بشرا سے کوئی بات نہیں کی تھی نا ہی اس کے کمرے میں گیا ۔۔
زیبا بھی حیران تھی کہ باران کا جھکاؤ بشرا کی طرف زیادہ تھا مگر ایسا بھی کیا ہوا کہ وہ اس سے بات ہی نہیں کر رہا اور ایک ہفتہ سے وہ اسکے کمرے میں ہی سو رہا ہے “
بشرا کو احساس ہونے لگا تھا کہ وہ کچھ زیادہ ہی بول گئی تھی جذبات میں آکر وہ اسے بلانا چاہتی تھی مگر انا آڑے آ رہی تھی۔۔
وہ اسے بلائے بھی تو کیسے کیا کہے کہ اس سے غلطی ہوئی ہے ۔۔
آپ کب جا رہے ہیں ٹرکی ” بشرا نے ایک دن اسے بلا ہی لیا۔۔
باران زیان کیساتھ کھیل رہا تھا جب وہاں بشرا بھی آئی ہمت بندھاتے اس نے بات شروع کر ہی لی۔۔
باران نے اسکی جانب غور سے دیکھا تھا اسکے دیکھنے پہ نظریں جھکا گئی تھی۔۔
کل جا رہا ہوں ” مگر تمہیں اس سے کیا ” بشرا کا یوں اس سے مخاطب ہونا اچھا بھی لگا مگر اکڑ بھی دکھانی تھی۔۔
کچھ نہیں ویسے ہی ” بشرا مڑنے لگی تھی باران نے اسکا ہاتھ تھام لیا ۔۔
کدھر ” آئیبرو اچکائی ۔۔
کہیں نہیں آپ مصروف ہیں ” ہاتھ نہیں چھڑایا تھا ۔۔
میں اتنا بھی مصروف نہیں کہ تمہیں نظر انداز کردوں مجھے اچھا لگا تم نے مجھ سے بات کرنے کے قابل تو سمجھا ۔۔
ہلکی سی سمائل پاس کی تھی بشرا نے اسے دیکھ کر ۔۔
ماشاءاللہ “
آج تو سورج کہیں اور سے نکلا ہے ” کیا خوب نظارہ ہے۔۔ اسکے مسکرانے پہ باران نے شوخ لہجہ سے کہا ۔۔
زیان کو اٹھائے ہوئے کہا تھا دوسرے ہاتھ سے بشرا ہاتھ تھاما تھا ۔۔
آج وہ دونوں مکمل نظر آرہے تھے۔۔
@@@
باران جا چکا تھا ترکی بشرا اپنے کمرے میں ہی تھی زیادہ تر وقت وہ زیان کے ساتھ ہی گزارتی ۔۔زیبا نے گھر کی ذمہ داریاں سنبھالیں ہوئی تھی سارا گھر اسی کے آسرے پہ تھا ۔۔ آبان نے باران کی غیر موجودگی میں اسکا آفس سنبھال لیا تھا ۔۔
@@@
زیبا ہمت ہے ویسے تمہاری “
کیسے تم نے اپنی سوتن کو برداشت کرلیا ۔۔
تمہاری جگہ میں ہوتی تو کب کا نکال باہر کرتی اسے۔۔
زیبا کی بہت ہی پرانی دوست تھی جو اس سے ملنے آئی تھی جسے باران کی دوسری شادی کا پتہ چلا تو ملنے چلی آئی تھی۔۔
باران تو پورا اسکے بس میں آچکا ہے کیسے نکالوں اب اسے ایک بار زور آزمائی کر کے میں اسے نکال چکی تھی مگر اب میں نے سب اب خدا کے سپرد کردیا ہے وہی بہترین انصاف کرنے والا ہے ۔۔
زیبا نے جواب دیا ۔۔
تو اسکا مطلب تم نے ہار مان لی اپنی سوتن سے ۔۔ وہ تمہیں سائیڈ پہ لگا دے گی جوان جہاں شوہر ہے تمہارا ہوش کے ناخن لو ۔۔وہ زیبا کو سمجھاتے بولی۔۔
یہ گھر میرا ہے بہت انسیت ہوگئی ہے مجھے اس گھر سے اس لیے مجھ سے یہ گھر چھوڑا نہیں جاتا ورنہ میں تو کب کی جاچکی ہوتی یہاں سے زیان سے مجھے بہت محبت ہوگئی ہے اس لیے میں نے حالات سے سمجھوتہ کرنا سیکھ لیا ہے ۔۔
کوئی مجھے سائیڈ پہ نہیں لگا سکتا ۔۔ کیونکہ سب جانتے ہیں کے قربانی میں نے دی ہے ۔۔کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا بھی پڑتا ہے اور اپنی سوتن سے مجھے کوئی ڈر نہیں کیونکہ وہ مجھ سے ڈرتی ہے بہت اچھی طرح جان گئی ہے مجھے کہ میں اسے کیسے سائیڈ پہ لگا سکتی ہوں ۔۔ زیبا نے بڑے کونفیڈنس سے کہا تھا۔۔
دیکھتے ہیں ” اسکی دوست نے کہا ۔۔
@@@
باران کو ترکی آئے ہوئے ایک ویک ہوگیا تھا ۔۔
وہ آبان کے گھر میں ہی رہ رہا تھا ۔۔
کام ختم ہونے کے بعد اس نے زیبا اور بشرا کے لیے شاپنگ کی تھی ۔۔
اگلی صبح کی فلائٹ تھی تو اسکے پاس ایک دن پورا فری تھا شاپنگ کے بعد وہ گھر پہ ہی تھا اس گھر میں وہ اور آبان کئی سال اکٹھے رہ کر بزنس کررہے تھے۔۔
پھر زیبا سے شادی کے بعد اس نے اپنا بزنس الگ کرلیا تھا آبان سے ۔۔
وہ ایسے ہی پورے گھر کا جائزہ لے رہا تھا پورے گھر میں آبان کی طرح طرح کی پینٹنگز لگی ہوئیں تھیں۔۔پھر اسے آبان کا کمرہ دیکھنے کی سوجھی کیونکہ اسکے کمرے میں ہی اسکے راز دفن تھے وہ تھا ہی چھپا رستم اپنے گہرے راز کسی پہ بھی عیاں نہیں ہونے دیتا تھا ۔۔
وہ اسکے کمرے میں داخل ہوا تو بظاہر تو وہ کمرہ خالی تھا ۔۔ اسکی کبرڈ کھولی تو بس کپڑوں اور جوتوں کے سوا کچھ نا ملا ۔۔ پھر اسکے کمرے کے ساتھ ایک اور بھی کمرہ تھا جہاں وہ پینٹنگ کیا کرتا تھا اسے پینٹنگ کا بہت شوق تھا بچپن سے اسکا کمرہ مختلف قسم کی پینٹنگ کے شاہکار تھے ۔۔ گھر میں بھی اسکی بنی ہوئی پینٹنگ ہر دیوار پہ تھی۔۔
وہ دروازہ کھول کر اس کمرہ میں انٹر ہوا۔۔
جہاں سامنے دیوار پہ میرال کی بڑی سی پینٹنگ بنی ہوئی تھی اور ساتھ چھوٹی بڑی میرال کی بنی ہوئی تصویریں تھیں۔۔
ایک پیٹنگ بورڈ پہ بنی ہوئی تھی وہ ڈھانپ رکھی تھی کپڑے سے ۔۔
وہ کپڑا ہٹایا تھا باران نے مگر جیسے اس چہرہ کی بنی ہوئی پینٹنگ باران نے دیکھی تو اسکا خون ہی کھول اٹھا تھا ۔۔ اسکی دماغ کی نسیں ابھر گئیں تھیں غصہ سے زور دار ہاتھ مارا تھا اسٹینڈ پہ جہاں بشرا کے چہرہ کی خوبصورتی رنگوں سے مصوری کی ہوئی تھی۔۔
پل میں وہ پینٹنگ زمیں بوس ہوتی خراب ہو چکی تھی۔۔
بشرا کی پینٹنگ آبان نے کیوں بنائی تھی یہ سوچتے ہی اس کی دماغ میں غلط فہمیاں پیدا ہونے لگی دماغ سن ہورہا تھا جیسے اسے کچھ سمجھائی نہیں دے رہا تھا۔۔ اسے تو بس یاد آ رہا تھا جب آبان انوشہ کے گھر سے نکل رہا تھا ۔۔جسکا ذکر نا بشرا نے کیا اور نا ہی آبان نے کو وہ اسکے گھر کیوں گیا تھا جبکہ بشرا وہاں پہلے سے موجود تھی۔۔
پھر بشرا کا اسے بتائے بغیر آبان کے ساتھ جانا اور رات دیر سے گھر آنا ۔۔ وہ خود سے سب مطلب اخذ کرنے لگا تھا
“میرے ہی بھائی نے میری پیٹھ پیچھے وار کیا ہے اسے اس ساری دنیا کو چھوڑ کر میری ہی بیوی ملی تھی اپنی تنہائی دور کرنے کے لیے ” اب سمجھ آ رہا ہے وہ کیوں دادجی کو شادی کے لیے انکار کررہا تھا ” اسے تو انٹرٹینمنٹ گھر میں ہی مل رہی ہے ۔۔ بشرا سے یہ امید میں ہر گز نہیں کر سکتا تھا ۔۔
میں چھوڑوں گا نہیں تم دونوں کو ۔۔
طیش میں آتے وہ کمرے سے نکلا تھا ۔۔ اب تو بس صبح کا انتظار تھا کہ وہ جلد از جلد گھر پہنچ سکے اور دادجی کو اسکے لاڈلے پوتے کے کرتوت بتا سکے اور بشرا کی عقل ٹھکانے لگا سکے۔۔
غصہ میں وہ پاگل ہو رہا تھا اور ناجانے کیا کچھ سمجھ رہا تھا۔۔
@@@
سارا راستہ باران نے سوچتے سوچتے گزارا تھا اسے بے حد غصہ آ رہا تھا بشرا پہ اور باران پہ وہ بدگمانی کی لپیٹ میں آ چکا تھا ۔۔
اسکا پلین پاکستان لینڈ ہو چکا تھا اب بس انتظار تھا تو گھر پہنچنے کا ۔۔
آبان سیڑھیاں اترتا آرہا تھا آج سنڈے تھا تو آفس نہیں گیا تھا ۔۔
دادجی اپنے کمرے سے باہر آ رہے تھے ۔۔ زیبا بھی کچن میں باران کے کھانے کی تیاریاں کررہی تھی۔۔
بشرا حال میں رکھے صوفوں کے پاس کھڑی تھی آج عجیب سی طبیعت ہو رہی تھی گھٹن گھٹن محسوس ہو رہی تھی۔۔ دو قدم چلی تھی کہ سر بری طرح چکرایا تھا اپنا بیلنس برقرار نا رکھ سی تھی کہ اس سے پہلے کے زمین بوس ہوتی آبان نے فوراً سے اسکی طرف بڑھتے ہوئے اسے تھام لیا تھا ۔۔
آر یو اوکے ” فکر مندی سے کہا تھا ۔۔
جی” فوراً سے بشرا پیچھے ہوئی تھی ۔۔
واہ” واہ ۔۔ باران نے صرف آبان کو بشرا کو کمر سے تھامے ہوئے دیکھا تھا ۔۔اسی وقت وہ اوپر پہنچا ایک تو پہلے دماغ میں کھچڑی پکی ہوئی تھی اور اوپر سے یہ سب اسکا تو میٹر ہی گھوم گیا۔۔
دادجی اور زیبا بھی سب دیکھ رہے تھے مگر وہ جانتے تھے کہ بشرا کو چکر آیا تھا اس لیے آبان نے اسے تھاما تھا ۔۔
میں کچھ دنوں کے لیے چلا کیا گیا تم دونوں کو عیاشیوں کا موقع مل گیا ۔۔
یہاں تو کھلا ماحول ہے سر عام ہی سب کچھ چل رہا ہے
باران تم ہوش میں تو ہو زبان سنبھال کر بات کرو اپنی۔۔ آبان کو غصہ آیا اس پہ
اور تم کتنا معصوم چہرہ ہے تمہارا اور اتنی بھیانک کردار ہے تمہارا ۔۔بشرا کی طرف دیکھتے کہا جو صدمہ سے کھڑی اسکی باتیں سن رہی تھی
باران تم ہوش میں نہیں ہو اس وقت کہہ کیا رہے ہو تم” آبان شوکڈ تھا اس کے رویہ پہ۔۔
تم اچھے سے جانتے ہو میں کیا کہہ رہا ہوں جو تم اسکی پینٹنگ بناتے رہے ہو ” باران طیش میں بولا ۔۔
آبان کو اب سمجھ آگئی تھی کہ وہ بشرا کی بنائی ہوئی پینٹنگ دیکھ چکا ہے اور بدگمانی کا شکار ہوگیا ہے اس سے پہلے کہ وہ اسے سمجھا پاتا مگر پانی سر سے گزر چکا تھا اور وہ ہوا جو کوئی سوچ بھی نا سکا تھا
میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تم اس حد تک گزر جاؤ گی مجھے نیچا دکھانے کے لیے تم یہ سب کر گزر جاؤ گی
تم اتنی گھٹیا گھٹیا عورت اور گری ہوئی ہو گی میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا
کچھ نہیں کیا میں نے تمہارے لیے
میری عزت کا ذرا خیال نہ ایا
میری پیٹھ پیچھے تم دونوں نے چاکو گھونپا ہے
ایک منٹ بھی اب میں تمہیں اپنی زندگی میں برداشت نہیں کر سکتا اج سے تم میری طرف سے ازاد ہو
میں پورے اپنے ہوش و حواس میں تمہیں ابھی اور اسی وقت طلاق دیتا ہوں طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں
پورے طیش میں آتے وہ بشرا پہ پہاڑ گرا چکا تھا بنا تحقیق کیے ۔۔
باران ” یہ کیا کردیا تم نے وہ بیچاری معصوم ہے ‘ آبان نے سر پکڑ لیا تھا ۔۔
بشرا کا دل بیٹھ سا گیا تھا اسکے سر پہ تو قیامت ٹوٹ پڑی تھی ایک پل میں ۔۔
دادجی تو خود صدمہ سے وہیں بیٹھ گئے تھے پاس پڑے صوفہ پہ ۔۔”
باران یہ کیا کردیا تم نے ۔۔ وہ افسوس سے بولے تھے۔۔
زیبا خود شاک تھی ۔۔ وہ بشرا کی طرف بڑھی تھی جو زمین پہ سر پکڑتی بیٹھ چکی تھی اپنی بد قسمتی پہ آنسو بہاتی ہوئی ۔۔
سارے فیصلہ ہمارے نہیں ہوتے
کچھ فیصلہ وقت کے بھی ہوتے ہیں۔۔
