54.4K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Agosh E Sitamgar) Episode 32

مجھے نہیں رہنا باران کے ساتھ آپی پلیز آپ اماں کو سمجھائیں “
وہ منت بھرے لہجہ میں بولی تھی۔۔
بشرا تم ضد مت کرو تمہارے لیے یہی بہتر ہے ” انوشہ نے اسے سمجھاتے کہا۔۔
نہیں بہتر ہے میرے لیے وہ بہت ہی خود غرض شخص ہے اسے نہیں پرواہ میری وہ جو بھی سوچتا ہے بس اپنے لیے سوچتا ہے تم پلیز اماں کو منع کردو میں نہیں جاؤں گی اسکے ساتھ میں پہلے ہی طلاق کا مطالبہ کر چکی ہوں اس سے”
ایسا کرنا پڑتا ہے اپنے لیے نا سہی اپنے ہونے والے بچہ کے لیے سوچو کیا جواب دو گی لوگوں کو “
کہ کس کا وجود لیے پھر رہی ہو اپنے ساتھ کون یقین کرے گا تمہارا مت تنگ کرو خود کو اور ہمیں بھی”
خدا کا واسطہ ہے مت دو مزید اذیت ہمیں پہلے جو تم کرچکی ہو یہ اسی کا خمیازہ ہے ” سلیم تو پھر بھی نہیں رہے تمہاری اس عظیم قربانی کے بعد اب مزید بوجھ مت بڑھاؤ ہم پہ اپنے احسانوں کا ہم پہ ” انوشہ نے اسکے آگے بےبس ہوتے کہا ۔۔
بشرا خاموشی سے آنسو بہانے لگی تھی۔۔
بشرا پلیز اپنا گھر بسا لو نا کرو خود پہ ظلم تمہارا شوہر خود لینے آیا ہے تمہیں ” کتنا خوش ہوا ہے تمہاری دوبارا پریگننسی کا سن کر اب تو دیکھنا وہ اپنے دادا کو تمہارے پاس لے ہی آئے گا “
اسکی آنکھوں میں شرمندگی تھی دیکھنا تمہارے سارے خدشات دور ہو جائیں گے ۔۔ وہ بیڈ پہ اسکے قریب بیٹھتے اسے سمجھاتے بولی۔۔
بشرا نے سرخ ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔
میں آپکو چھوڑ کر نہیں جاؤ گی کیا بنے گا آپ لوگوں کا ” کیسے چلاؤ گی گھر کا خرچہ اس حالت میں”
بشرا فکر مند ہوئی اسکے لیے۔۔
تم اسکی فکر نہیں کرو سب ہو جائے گا “
تم بس اب اپنا گھر بساؤ” انوشہ کہتے چلی گئی۔۔
بشرا کا کوئی بہانا کام نہیں آ رہا تھا اسکا فیصلہ اٹل ہو گیا تھا ۔۔
وہ اپنی بے بسی پہ آنسو بہانے لگی۔
@@@
باران نے گھر جاتے ہی دادجی کو ساری حقیقت بتا دی ۔۔
اپنے اور بشرا کی کانٹریکٹ میرج کے بارے میں سب بتا دیا اور یہ بھی کہ اسکی دوسری بیوی زندہ صحیح سلامت ہے “
اور اپنی سچائی بھی کھل کر بیان کردی کہ کس طرح بشرا مجبور ہوکر اس کے پاس آئی اور اس نے اسکا کتنا غلط فائدہ اٹھایا ۔۔
‘ باران مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی کہاں کسر رہ گئی تھی کہمیری تربیت میں جو تم نے اتنا سنگین قدم اٹھایا۔۔”
دادجی غصہ میں بولے تھے وہ سر جھکائے کھڑا تھا ۔
میں نہیں اجازت دوں گا کہ تم اس بچی کی مزید زندگی تباہ کرو “
” داد جی میں نہیں چھوڑ سکتا اسے اپنے ساتھ رکھذنا چاہتا ہوں اپنی غلطی کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں جوزا خوشیاں میں نے اس سے چھینی ہے وہ اسے واپس دینا چاہتا ہوں ‘ باران نے شرمندگی سے کہا ۔۔
نہیں باران” اتنا احساس ہوتا تم میں تو ایسا کرتے ہی نہیں ” اب میں تمہارا ساتھ نہیں دے سکتا۔۔” داد جی اٹل لہجہ میں بولے ۔۔
دادجی پلیز مان جائیں آپ نہیں جائیں گے تو وہ کبھی نہیں آ سکے گی ” آپ پھر سے پردادا بننے والے ہیں ” وہ انہیں ایموشنلی منانے لگا تھا ۔
داد جی تو پہلے ہی پگھل گئے تھے مگر اسے ستانا چاہ رہے تھے۔۔
ہاں تو پھر جیسے پہلی شادی اپنی مرضی سے کی تھی اب بھی اپنی مرضی چلاؤ اب کیوں میری منتیں کررہے ہو ۔۔”
سیدھے طریقہ سے پہلے کہتے میں خود تمہاری شادی کرواتا مگر یہ جو طریقہ کار اپنایا ہے تم نے یہ نہایت ہی غلط ہے اس پہ میں تمہارا ساتھ ہر گز نہیں دوں گا۔۔” وہ دو ٹوک جواب دیتے بولے ۔۔
“بس مجھ سے غلطی ہوگئی ” تو باران مایوس ہوگیا اسے لگا کہ وہ منا لے گا انہیں”.۔
اور وہ کمرے سے باہر جانے لگا تھا سر جھکائے ۔۔
دادجی مسکرائے پھر روب دار آواز میں بولے ۔۔
کب چلنا ہے پھر بہو کو لینے “
باران فٹ سے مڑا انکی طرف اور وہ مسکرا رہے تھے۔۔
دادجی آپ مجھے تنگ کررہے تھے ناٹ فیئر” وہ بھاگ کر انکے گلے جا لگا تھا ۔۔
کیوں جب تم لوگ مجھے تنگ کر سکتے ہو تو میں نہیں کر سکتا ۔۔ دادجی مسکرائے
ہاں جی بلکل کرسکتے ہیں ” وہ انہیں کس کرتے بولا ۔
” میں تمہارا دادا ہوں بیوی نہیں ” وہ اسکے کس کرنے پہ اپنا منہ ہاتھ سے صاف کرتے بولے۔۔
” آپ میرے دادا ہیں آپ کا حق سب سے زیادہ ہے ” وہ ڈھٹائی سے مسکراتے ہوئے بولا۔۔
چلو سب ٹھیک ہو رہا ہے بڑا بھی مان ہی گیا آخر۔۔
دادجی ہنستے بولے ۔۔
کیا مطلب مان گیا باران نا سمجھی سے بولا ۔۔
شادی کے لیے مان گیا ہے ” کوئی لڑکی پسند آ گئی ہے اسے ۔۔” دادا جی نے جسے راز کی بات بتائی ہو
کیا سچ میں گھنا میسنا کہیں کا مجھے تو نہیں بتایا اس نے ” پوچھتا ہوں میں اس سے “خوش ہوتے کہتے باران چلا گیا۔۔
باران کمرے میں آیا تھا اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ
کیسے زیبا سے بات کرے گا دادجی کو تو منا لیا مگر زیبا وہ تو ناراض ہو جائے گی۔۔
زیان سو گیا ” وہ زیان کو سلا رہی تھی جب باران اس کے پاس آکر بیٹھا ۔۔
جی سو رہا ہے “
زیبا مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے “
وہ جھجھکتے ہوئے بولا ۔۔
جی بولیں ” وہ سیدھی ہوکر بیٹھی وہ دونوں اس وقت بیڈ پہ بیٹھے ہوئے تھے ۔۔
وہ ” میں نے داد جی کو منا لیا ہے ۔۔ باران نے کہا
کس بات کے لیے” زیبا بولی
بشرا کے لیے انہیں میں نے ساری سچائی بتا دی ہے “
اور میں بشرا کے گھر والوں سے بھی مل آیا ہوں ۔۔ وہ چاہتے ہیں میرے ساتھ کوئی بڑا آئے ۔۔
جیسے جیسے باران بولتا جا رہا تھا زیبا کے اوسان خطا ہو گئے تھے۔۔
وہ تو کیسے سن سی ہوگئی۔۔
میں کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرنا چاہتا نا آپ کے ساتھ نا بشرا کے ساتھ “
باران بول رہا تھا اور زیبا کے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے تھے۔۔
باران آپ جانتے ہیں میں آپکو کسی کے ساتھ شیئر نہیں کر سکتی ۔۔”وہ بھرائی سی آواز میں بولی
زیبا پلیز رونے کے بجائے بات کو سمجھنے کی کوشش کریں “
یہ بشرا کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہے ” میں جانے انجانے میں اسکے ساتھ بہت بڑی زیادتی کر بیٹھا ہوں ” پلیز زیبا اگر آپ نے میرا ساتھ نہیں دیا تو میں کبھی اس گلٹ سے نہیں نکل پاؤں گا کہ میں نے کسی کے ساتھ زیادتی کی ہے ” وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر بڑے ہی نرم لہجہ میں بولا ۔۔
اور جو میرے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے ” وہ سرخ ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھتے بولی ۔۔
آپ بات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کررہی “
” اگر آپ نے میری بات کا مان رکھ لیا تو آپکا رتبہ مزید بڑھ جائے گا میری نظروں میں آپکا ۔۔
میں نے ایک بے بس اور مجبور لڑکی کا فائدہ اٹھایا ہے یہ گلٹ مجھے اندر ہی اندر ختم کردے گا زیبا میں بہت شرمندہ ہوں اپنے آپ سے۔۔ آپ سے ۔۔ بشرا سے ۔۔
وہ بہت ناراض ہے مجھ سے ۔۔ بات بھی نہیں کرتی یہ رائٹ ہے اسکا ۔۔
بشرا نے اپنی بہن کے لیے مجھ سے شادی کی تاکہ وہ اسکے شوہر کو بچا سکے اسکا علاج کروا سکے ۔۔ مگر وہ نہیں رہا اب اس دنیا میں ۔۔ کوئ لڑکی اتنی بڑی قربانی کیسے دے سکتی ہے کسی کی جان بچانے کی خاطر ۔۔
اور جب سے مجھے یہ حقیقت معلوم ہوئی ہے میں نظریں ملانے کے قابل نہیں رہا اس سے ۔۔
میں اسے اپنانا چاہتا ہوں ہمیشہ کے لیے پلیز زیبا میرا ساتھ دیں۔۔ وہ بہت ہی آس سے بولا تھا اسکے دونوں ہاتھوں کو تھام کر ۔۔
زیبا کے چہرہ آنسوؤں سے بھیگ چکا تھا ۔۔
میرے لیے یہ بہت مشکل ہے باران ۔۔
آپ سوچیں تو سہی میرے لیے ” اپنی ہتھیلی سے اسکے آنسو صاف کرتے کہا ۔۔
پلیز زیبا میں نے نہیں سوچا تھا کہ آپکے علاوہ بھی میری زندگی میں کوئی آ سکتا ہے مگر مجبوری انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے “
پلیز میں مجبور ہوں ” وہ پریگننٹ ہے ۔۔
وہ منہ پھیر کھڑا ہوگیا تھا اپنی بات پوری کرتے وہ چلا گیا۔۔
بشرا پھر سے انکے درمیان آگئی تھی ۔۔
اسکی کمی ہی اسکے آڑے آ گئی تھی کاش کہ وہ بھی ماں بن سکتی تو آج باران صرف اسی کا ہوتا۔۔
اپنے آنسو صاف کرتی سوچنے لگی تھی ۔۔
@@@
دیکھیں بہن بچوں سے غلطی ہوئی ہے ۔۔
باران نے جو کیا وہ غلط ہے ۔۔
میں خود اس سے خفا ہوا تھا کہ یہ اس نے بہت غلط کیا ہے اسے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ کسی کی مجبوری کے ساتھ کھیلے اب جب اسے احساس ہوگیا ہے کہ وہ غلط ہے اور وہ اپنی غلطی سدھارنا چاہتا ہے تو اسے موقع ملنا چاہیے ۔۔
دادجی نے انتہائی نرم مزاج سے بات شروع کی ۔۔
مجھے اس وقت سب سے زیادہ باران کی خوشی عزیز ہے اور باران کی خوشی بشرا میں ہے جس نے مجھے مجبور کردیا یہاں آنے پہ “اب کے زیبا بولی تھی وہ بھی اپنا دل بڑا کرتی دادجی کے ساتھ آئی تھی ۔۔
انوشہ اور اماں نے پہلے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر زیبا کی جانب دیکھا۔۔
میں زیبا ہوں”
زیبا مسکرانے کی کوشش کرتے کہا۔۔
اماں اور انوشہ نے بے یقینی سے دیکھا تھا اسے ۔۔
آپ بے فکر رہیں بشرا کو مجھ سے کوئی خدشہ نہیں ہوگا ۔۔ میں آپکو اس بات کی ضمانت دیتی ہوں کہ بشرا کو میری جانب سے کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔۔
ان دونوں کے ساتھ ساتھ زیبا تو دادجی کو بھی حیران کر رہی تھی ۔۔
آج جب دادجی تیار تھے بشرا کے گھر جانے کے لیے تو زیبا نے بھی انکا ساتھ چلنے کا کہا۔۔پہلے اس بات پہ حیران تھے اور اب اسکی باتوں سے۔۔
آپکا دل بہت بڑا ہے جو کھلے دل کے ساتھ اپنی سوتن کو تسلیم بھی کررہی ہیں اور اسے ساتھ لے جانے کے لیے بھی بضد ہیں “
اماں نے اسکی فراخ دلی سے کہا۔۔
جب سب راستہ بند ہو جائیں تو پھر دل بڑا کرنا پڑتا ہے “
میں کوئی انوکھی تو نہیں جو سوتن کو تسلیم کرکے کوئی مہان کام کررہی ہوں ۔۔
اولاد کی خاطر تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ماشاءاللہ سے بشرا نے پہلے ہی ہمارے گھر کو رونق بخشی ہے اب اگر وہ ہمارے ساتھ نہیں ہوگی تو یہ پھر اسکے ساتھ زیادتی ہوگی۔۔زیبا نے مسکرا کر بہت ہی دلچسپ جواب دیا تو سب ہی اسکی بات پہ عش کر اٹھے تھے۔۔
بس اب ہمیں پھر کوئی شک نہیں رہا “
بشرا آپ لوگوں کی ہی امانت ہے ” مگر ہم چار لوگوں میں ہی اپنی بچی کو رخصت کریں گے آپ مقررہ تاریخ بتا دیں تاکہ ہم اپنے چند عزیز رشتہ داروں بلا کر انکی سرپرستی میں اپنی بچی کو رخصت کردیں تاکہ ہمارا بھی معاشرے میں بھرم رہ جائے ۔۔اماں نے بھی انکی تائید میں جواب دیا ۔۔
اگر آپکی اجازت ہو تو میں بشرا سے مل سکتی ہوں ” زیبا نے اماں اور انوشہ کی جانب دیکھتے کہا ۔۔
انوشہ نے اماں کی طرف دیکھا تو اماں سر ہلا کر ہاں کو جواب دیا ۔۔
آئیں ” انوشہ کھڑی ہوتی بولی ۔۔
زیبا بھی اسکے پیچھے چل دی بشرا اپنے کمرے میں موجود تھی جب زیبا انوشہ کے ساتھ کمرے میں آئی ۔۔
وہ زیبا کو دیکھتی اپنی جگہ سے کھڑی ہوگئی ۔۔
ہم سوچتے کچھ ہیں اور ہو کچھ جاتا ہے ‘
میں نے بہت کوشش کی تھی کہ تمہیں باران کی زندگی سے ہمیشہ کے لیے نکال دوں “
مگر تم تو باران کے دل میں ہی بس چکی تھی تو دل سے کیسے نکالتی اگر نکالنے کی کوشش بھی کروں تو کہیں میں ہی نا اسکے دل سے نکل جاؤں اس لیے اپنا بھرم قائم رکھنے کے لئے تمہیں لینے آئی ہوں اس سے پہلے کے باران مجھ سے بھی دور چلے جائیں ” زیبا کا بولتے ہوئے لہجہ بھیگ گیا تھا ۔۔ کہتے ہی وہ کمرے سے چلی گئی تھی۔۔
دادجی ایک ہفتہ بعد کی تاریخ دے دی تھی تیاری کے لیے ۔۔اور وہ چلے گئے ۔۔
@@@
یقین نہیں ہو رہا کہ زیبا کا دل اتنا بڑا ہے کیسے کتنی ہمت کے ساتھ آگئی وہ بشرا کو لینے ۔۔
دیکھ لو تم بس ایوی ہی گھبرا رہی تھی کہ بہت تیز ہے وہ مجھے تو وہ بہت ڈیسنٹ عورت لگی تھی ۔۔ انوشہ بشرا کے سر پہ کھڑی بول رہی تھی ۔۔
میں نے اسکے ساتھ چھہ مہینے گزارے ہیں میں اسے اچھی طرح جانتی ہوں اور تم بس ایک گھنٹے میں ہی اس سے امپریس ہوگئی ۔۔بشرا نے غصہ سے سرخ ہوتی آنکھوں سے اسے گھور کر دیکھا تھا ۔۔
انوشہ ٹھیک کہہ رہی ہے ‘ تم ایسے ہی وہم پالی بیٹھی ہو”اماں نے بھی اسے ٹوکا۔۔
ایک تو وہ پہلے ہی غصہ سے بھری بیٹھی تھی کہ وہ دونوں اسکی ایک بھی نہیں چلنے دے رہی تھی ۔۔
@@@
آج تو تم مجھے پہ در پہ حیران ہی کر رہی ہو “
دادجی اور زیبا بشرا کے گھر سے ہوکر گھر واپس جا رہے تھے ۔۔
وہ دونوں گاڑی کی بیک سیٹ پہ بیٹھے ہوئے تھے
دادجی نے اسے کہا۔۔
زیبا نے نم ہوتی آنکھوں سے انہیں دیکھا تھا ۔۔
میرے پاس آپکے پوتے نے کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑا دادجی ” اس لیے میں نے بند کھڑکیاں کھول دیں تاکہ سانس لینے میں آسانی ہو سکے ۔۔
سامنے دیکھتے ہوئے کھوئے سے لہجہ میں کہا تھا زیبا۔۔
تم نے دل بڑا کیا اس لیے ہمیں خوشی ہوئی ” اسکے سر پہ ہاتھ رکھتے شفقت بھرے لہجہ میں کہا تھا دادجی نے۔۔
@@@
باران گھر میں بے صبری سے انتظار کررہا تھا ان دونوں کا ۔۔
وہ حال میں ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا جب زیبا اور دادجی گھر میں داخل ہوئے
مبارک ہو باران “
زیبا نے گھر میں داخل ہوتے باران سے کہا اور اپنے کمرے کی طرف چل دی تاکہ کمرے میں جا کر اپنے دل کی بھڑاس نکال سکے کہ اسکا ضبط ٹوٹ رہا تھا ۔۔
باران اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا جانتا تھا کہ وہ بہت ہرٹ ہو رہی ہے ۔۔
ایک ہفتہ میں تمہاری بیوی رخصت ہو کر آ جائے گی ۔۔
دادجی نے صوفہ پہ بیٹھتے کہا۔۔
ایک ہفتہ کیوں آج ہی لے آتے اسے ساتھ ۔۔
بہت ہی جلد باز ہو تم ” ان لوگوں نے لڑکی عزت سے چار لوگوں میں رخصت کرنی ہے ایسے کیسے منہ اٹھا کر ساتھ چلتا کرتے ۔۔
اور ہم بھی خاندان کے کچھ لوگ ساتھ کے کر جائیں گے تاکہ لوگوں کو پتا چلے کے عزت سے کوئی لڑکی گھر لائیں ہیں ۔۔
دادجی اسکی جلدی پہ اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔۔
ہاں تو ایسا کہیں نا ” مجھے اتنی جلدی نہیں ہے بس زیان یاد کررہا تھا اپنی ماں کو
باران نے بنتے کہا ۔۔
بس رہنے دو مجھے پتا ہے کون یاد کررہا ہے ۔۔دادجی نے اسے گھورتے کہا ۔۔
تو اب اسکا رخ اپنے کمرے کی طرف تھا ۔۔
کمرے میں آیا تو اسے زیبا کہیں دکھائی نا دی ۔۔
زیبا نے واش روم میں رو کر اپنے دل بھڑاس نکالی تھی اور اچھے سے منہ ہاتھ دھو کر کمرے سے باہر نکلی سامنے ہی باران کو پایا ۔۔
اسے اگنور کرتی آگے بڑھی تھی ۔۔
باران نے اسکا ہاتھ تھام لیا تھا اور اسے اپنے سامنے کیا۔۔
ایم سوری ” بہت دکھ پہنچا ہے آپکو میری وجہ سے مگر میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے”
راستہ تو میرے پاس بھی نہیں ” طنزیہ کہتے اپنا ہاتھ چھڑا گئی اور کمرے سے نکل گئی۔۔
@@@
مبارک ہو ” کامیاب ہو ہی گئے اپنی بیوی کو منانے میں “
آبان کو دادجی سے پتہ لگا تو باران کو کال کی۔۔
ہاں “
مگر میری چھوڑ اپنی سنا۔۔”
کون ہے وہ خوش نصیب جس پہ میرے بھائی کا دل آ گیا ۔۔
باران نے اسے چھیڑتے کہا۔۔
دادجی نے ہی بتایا ہو گا تمہیں “
ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔۔ دادجی بھی خوامخواہ وہم میں پڑ جاتے ہیں۔۔ کب کے پیچھے پڑے ہوئے تھے میری شادی کے اب جب ہاں بول دی ہے تو اور ہی بات بنا کر بیٹھ گئے۔۔
وہ بات بناتے بولا۔۔
مجھے بھی کچھ دال میں کالا لگ رہا ہے “کچھ تو گڑ بڑ ہے ضرور” باران نے پھر اسے چھیڑا ۔۔
شٹ اپ ” آبان نے اسے چپ کروایا ۔۔
اچھا سب چھوڑ جلدی جلدی واپس آ جا ” میں چاہتا ہوں تم میرے ساتھ جاؤ اپنی بھابھی لینے ۔۔
مشکل ہے مگر کوشش کروں گا ٹائم پہ پہنچ جاؤں اپنی چھوٹی بھابھی کو لینے۔۔آبان نے کہا۔۔
کوشش کرو کہ جلدی آجاؤ ۔۔
چھوٹی بھابھی کو تو میں اس وقت دیکھ بھی نہیں پایا تھا ڈر ہی اتنا گئی تھی مجھ سے بیچاری نام تک جاننے کا موقع نہیں ملا ” آبان نے ہنستے کہا۔۔
پہلے تم آجاؤ پھر اچھے سے خود ہی تعارف کروا لینا اور کر بھی لینا ” باران نے کہا۔۔
@@@
اور آج وہ دن بھی آ ہی گیا جب بشرا نے رخصت ہونا تھا ۔۔
گھر میں چھوٹی سی تقریب سادگی سے رکھی گئی تھی بس نزدیک کے چند رشتہ داروں کو ہی مدعو کیا گیا تھا۔۔
لال سادہ سی فراک پہنے جس پہ بس ہلکا سا کام تھا ۔۔ مانگ میں ٹیکہ لگائے گردن میں ہلکا سا نیکلس پہنے ہلکا سا ہی میک اپ کیے ہوئے وہ سادہ سی مگر بہت ہی پیاری لگ رہی تھی ۔۔ چہرہ پہ کوئی تاثرات نہیں تھے ۔۔ سنجیدگی سے اپنے کمرے میں بیڈ پہ بیٹھی ہوئی تھی۔۔
انوشہ نے اسے ٹوکا بھی تھا کہ اپنا موڈ درست کرلے مگر وہ اپنی ضد پہ ہی اڑی بیٹھی تھی ۔۔
کچھ دیر میں باران بھی دادجی اور زیبا کے ساتھ اور ساتھ میں چند رشتہ داروں کے ہمراہ بشرا کے گھر پہنچا تھا ۔۔
دونوں خاندانوں نے ہی سب کو یہی بتایا کہ انہوں نے پسند کی شادی کرلی تھی اب وہ لوگ صلاح صفائی سے رخصتی کررہے ہیں ۔۔
مگر بشرا کی جانب سے خاندان والوں نے اعتراض اٹھایا گیا تھا ۔۔
باران اس وقت سفید کاٹن کی شلوار قمیض زیب تن ہوئے تھا اور بہت ہی خوش نظر آ رہا تھا ۔۔
زیبا نے لال ساڑھی پہنی ہوئی تھی ۔۔ گلے میں گولڈ کا ہلکا سا نیکلس پہنا ہوا تھا ہاتھوں میں ہمیشہ کی طرح گولڈ کے ہی کڑے پہنے ہوئے تھے سلکی ڈائی بالوں کو کھلا چھوڑا ہوا تھا ۔۔
ہونٹوں پہ سرخ لپ اسٹک سجائے وہ خوش نظر آنے کی کوشش کررہی تھی ۔۔
بشرا کے خاندان والوں میں کچھ عورتیں تھیں جو زیبا کے بارے میں جان گئی تھی کہ وہ لڑکے کی پہلی بیوی ہے انکی آپس چہ مگوئیاں بڑھ گئیں تھیں ۔۔
جسے اماں اور انوشہ نے اگنور ہی کیا تھا ۔۔
@@@
آبان گھر پہنچا تو گھر میں مکمل خاموشی چھائی تھی اسکا مطلب وہ لیٹ ہوگیا ہے ۔۔
اور وہ سب لوگ چلے گئے تھے۔۔
اس لیے اب آبان نے سوچا کہ اب فریش ہو کر یہیں بیٹھ کر انکا انتظار کرنا چاہیے انکے استقبال کے لیے ۔۔