Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hala (Episode 9)

Hala By Umme Hania

اسلام علیکم۔۔۔ ہاتھ مسلتے بات کرنے میں پہل نور نے کی تھی۔۔۔ جبکہ اسے خاموشی سے تکتا دریاب اسے یوں کنفوز ہوتا دیکھ ایک گہرا سانس خارج کرتا سلام کا جواب دے کر صوفے پر بیٹھا۔۔۔ کیسی ہو۔۔۔ اب کی بار بات آگے دریاب نے بڑھائی تھی۔۔۔۔

ٹھیک۔۔۔ یک لفظی مختصر سا جواب۔۔آپ چائے پیئیں گے ۔۔۔ میں اپنے لئے بنا رہی تھی آپ کے لئے بھی بناوں کچھ دیر کی خاموشی کے بعد نور کی آواز نے لاوئنج کی خاموش فضا میں ارتعاش بھرپا کیا تھا۔۔۔ دریاب کو مسلسل خود کو تکتا پا کر نور نے وہاں سے کھسکنا ہی بہتر سمجھا کیونکہ وہ جب سے یہاں آیا تھا صوفے کی ہتھی پر کہنی ٹکائے ہاتھ کی گول مٹھی بنائے ہونٹوں پر رکھے مسلسل اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ دریاب کے ہممم کہنے پر وہ چھپاک سے کچن میں گم ہوئی۔۔۔

وہ نہایت خوبصورت لڑکی تھی۔۔۔ جسکی معصومیت اپنی جانب کھینچتی تھی مگر اسکا معیار کبھی بھی خوبصورتی نہیں رہا تھا۔۔۔ ہالہ کی جانب متوجہ بھی وہ اسکی خوبصورتی نہیں بلکہ اسکی خوب سیرتی کے باعث ہوا تھا۔۔۔ مگر نور کو دیکھتے وہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہو اٹھا تھا۔ یہ لڑکی اسکے نکاح میں تھی اسکی منکوحہ۔۔۔ اسکا ضمیر گوارہ نہیں کر رہا تھا کہ وہ اسے دھوکہ دے۔۔ چاہیے نکاح جن بھی حالات میں ہوا تھا مگر وہ اس سے منسوب ہو چکی تھی۔۔۔ نور کے چائے کی ٹرے میز پر لا کر رکھنے سے وہ سوچوں کے بھنور سے باہر نکلا ۔۔ دریاب نے چائے کا کپ اٹھایا تو نور بعجلت میز پر بکھرا اپنی کتابوں کا بکھیرا سمیٹنے لگی اور خود اسی صوفے پر بیٹھنے کی بجائے سنگل صوفے ہر بیٹھتی چھوٹی چھوٹی چائے کی چسکیاں لینے لگی۔۔۔

یہاں اکیلی ہوتی ہو تم۔۔۔ دریاب نے پھر سے باتوں کا تسلسل قائم کیا

نہیں شبو ساتھ ہوتی ہے کمال انکل بھی آتے جاتے رہتے ہیں۔۔۔ وہ کپ کے کنارے پر انگلی پھیرتی دھیمی آواز میں گویا ہوئی۔۔۔ مجھے تم سے چند ضروری باتیں کرنی ہیں نور امید ہے کہ تم مجھے سمجھو گئ۔۔۔ دریاب نے گلہ کھنگارتے بات کا آغاز کیا۔۔۔ نور چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی ۔۔۔ ہمارا نکاح جن حالات میں ہوا تم جانتی ہو۔۔۔۔ ایسے میں میں ذہنی طور پر اس نکاح کے لئے تیار نا تھا اور یقیناً یہ تمہارے لئے بھی اتنا ہی غیر متوقع ہو گا جتنا کہ میرے لئے۔۔۔۔ لیکن اب میں تمہیں بالکل بھی اندھیرے میں نہیں رکھنا چاہتا۔۔۔۔دریاب کے طرز تخاطب پر نور کا دل زور سے ڈھرکا کہ ناجانے اب وہ کونسا انکشاف کرنے والا تھا۔۔۔

میں اپنی کولیگ میں انٹرسٹڈ ہوں۔۔۔ میرے کبھی وہم و گمان میں بھی ایسی ہنگامی صورتحال میں نکاح کرنا نا تھا۔۔۔ چھن سے نور کے اندر کچھ ٹوٹا تھا جس کی چھبن دل میں پوری شدت سے ہوئی تھی۔۔۔ تم میرے بابا کی پسند ہو۔۔۔ انہیں کے کہنے پر میں نے تم سے نکاح کیا۔۔۔ نور سانس تک روکے اسے سن رہی تھی۔۔۔یہ سب غیر متوقع نا تھا مگر پھر بھی اسکی حیرت تھی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔ اندر کہیں دل سے ٹھیسیں اٹھ رہی تھیں۔۔۔ اس نے سن رکھا تھا کہ شادی ایک جوا ہوتا ہے قسمت قسمت کی بات ہے کہ چاہے تو وہ جوا جیت جائے چاہے تو ہار جائے۔۔۔ تو مطلب وہ شادی نامی یہ جوا مکمل طور پر کھیلے بنا ہی ہار چکی تھی۔۔۔۔

میں بہت فیئر قسم کا بندہ ہوں۔۔۔ہمم یہ تو میں دیکھ اور جان بھی چکی ہوں نور محض سوچ کر رہ گئ۔۔۔ ایسا نہیں کہ فیئر کسی سے اور نکاح کسی سے۔۔۔۔ قسمت کی اس ہیر پھیر نے مجھے بھی بونچکا کر دیا ہے۔۔۔ لیکن اگر اللہ نے ہمارا یہ رشتہ جوڑا ہے تو یقیناً اس میں کوئی مصلحت ہوگئ۔۔۔ میں ہر حال میں اس رشتے کو نبھاوں گا۔۔۔ یہ کیا عندیہ سنا رہا تھا وہ۔۔۔ زخمی دل کو آس کا ایک دیا تھما رہا تھا لیکن کیوں۔۔۔ نور نے نم آنکھوں سمیت اسے دیکھا۔۔۔

لیکن یہاں بھی ایک مسلہ ہے۔۔۔ ہمارا نکاح ابھی تک صیغہ راز ہے ۔۔۔ میری ماں ابھی تک اس بات سے نابلد ہے۔۔۔ لیکن انہوں نے میرے شادی کے حوالے سے بہت سے خواب سجا رکھے ہیں یقیناً جب یہ بات ان پر کھلے گی تو ان کے لئے ایک دھچکا ثابت ہوگی ہو سکتا ہے تب وہ اپنا شدید ردعمل ظاہر کریں۔۔۔ تمہیں بہت ہمت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔۔۔ میری ماں دل کی بری نہیِں لیکن وہ میرے بارے میں بہت حساس ہیں اور میں بھی انہیں دکھ دینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔۔۔۔ لیکن جانے انجانے میں میں انہیں تکلیف دینے کا باعث بنا ہوں۔۔۔ جب انہیں یہ بات پتہ چلے گی یقیناً وہ مجھ سے بھی بہت شدید ناراض ہونگی ۔۔۔ تمہیں یہ سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ تم ہر چیز کے لئے ذہنی طور پر تیار رہو کیونکہ بابا جلد از جلد ہماری رخصتی چاہتے ہیں ایسے میں تمہاری لا علمی کے باعث کوئی بھی بات تمہارے لئے دھچکا ثابت نہ ہو۔۔۔

امید ہے کہ تم میرے ساتھ تعاون کرو گی۔۔۔۔

چائے اچھی تھی ۔۔۔اپنی بات مکمل کر کے وہ چائے ختم کر کے کپ وہیں میز پر رکھتا جیسے آیا تھا ویسے ہی واپس چلا گیا۔۔۔۔

جبکہ اسکے جاتے ہی نور چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔ اسکی لاتعلقی تو وہ نکاح کے روز ہسپتال کے کمرے میں ہی دیکھ چکی تھی مزید اسکے منہ سے کسی اور کے لئے محبت کا سن کر دل پر گویا نشتر چل گئے تھے۔۔۔ وہ اس دل نادان کا کیا کرتی جو اسے پہلی بار دیکھتے ہی اس پر اپنا آپ بری طرح ہار بیٹھا تھا۔۔۔ اسکی لاتعلقی کے باوجود اسکی وجیہ شبیہ دن رات اسکی آنکھوں کے سامنے آ موجود رہتی تھی۔۔۔ کتنے مہذب انداز میں وہ اسے مستقبل میں درپیش سبھی مسائل سے آگاہ کر گیا تھا۔۔۔ وہ وجیہ شخص محص صورت کا ہی نہیں بلکہ اخلاق کا بھی وجیہ تھا۔۔۔ کتنے سبھاو سے وہ بنا اسکا دل توڑے اسے ہر بات سے آگاہ کر گیا تھا۔۔۔ وہ اس دل کا کیا کرتی جو مزید اسکا دیوانہ بن بیٹھا تھا۔ ۔ مگر اس دل کو جب سے یہ معلوم ہوا تھا کہ اسکے دل کے سنگہاسن پر کوئی اور پورے استحقاق سے براجمان ہے تب سے ناجانے کیوں وہ کرلا رہا تھا۔۔۔ محبت کی ننھی سی کونپل جو دل کی سر زمین پر بہت تیزی سے اپنی جڑیں گاڑ رہی تھی خودبخود مرجھانے لگی تھی۔۔۔۔دل کا درد حد سے سوا ہونے لگا تو وہ کمرے میں جاتی اوندھے منہ بستر پر لیٹتی اپنی سسکیاں روکنے لگی تھی۔۔۔ آج پھر سے اسے اپنی ماں شدت سے یاد آئی تھی۔۔

******

جب سے زوئی آئی تھی گھر میں ہر دم ہسی کی جھنکار گھونجنے لگی تھی۔۔۔ آئتل نہایت خاموش طبیعت اور اپنے کام سے کام رکھنے والی لڑکی تھی اس لئے اسکی موجودگی کے باعث بھی کبھی اس گھر میں ہنگامہ بھرپا نا ہوا تھا جبکہ زوئی ہر کام میں اسکا الٹ تھی۔۔۔صبح صبح نانا کو اخبار سے خبریں پڑھ کر سنانا اور پھر اس پر خوب خوب تبصرے کرنا۔۔۔ ممانی کو موبائل سے کپڑوں کے مختلف ڈیزائنز نکال کر دکھانا۔۔۔ ہر وقت یوسف کے ساتھ ہلہ گلہ کرنا ۔۔۔ بات بات پر قہقے لگانا وہ زندگی سے بھرپور لڑکی تھی۔۔۔ وہ بہت آہستہ آہستہ ان سب کی زندگیوں کا حصہ بنتی جا رہی تھی۔۔۔ آئتل سے بھی اسکی اچھی خاصی دوستی ہوگئ تھی۔۔۔

آج بھی وہ برآمدے میں ممانی کے پاس بیٹھی انکے جوانی کے قصے سن رہی تھی گولڈن اور بلیک پیروں کو چھوتی فراک میں اسکی اجلی رنگت مزید نکھری نکھری سی لگ رہی تھی۔۔۔ سٹائل میں تراشیدہ بال اسکی شخصیت کو مزید چار چاند لگا رہے تھے اسے دیکھنے کے بعد غیر ارادی طور پر آئتل کی نگاہ برآمدے میں لگے شیشے میں نظر آتے اپنے عکس پر پڑی۔۔۔ لان کے پرنٹڈ شلوار قمیض میں ملبوس جو کہ بار بار دھلنے کے باعث اپنی رنگت کھوتا جا رہا تھا بالوں کوآرے ترچھے انداز میں فولڈ کئے دھلے دھلائے چہرے کیساتھ اسے اپنا آپ زوئی کے سامنے بہت ہلکا لگا ۔۔۔ ناجانے کیوں جب سے زوئی آئی تھی وہ یونہی اسکے ساتھ اپنا موازنہ کرتی احساس کمتری کا شکار ہوتی جا رہی تھی۔۔۔

آج چھٹی کے باعث یوسف بھی گھر ہی تھا اور خوب نیند پوری کر کے دیر سے اٹھا تھا۔۔۔

ارے یوسف تم بھی ہمیں جوائن کرو نا۔۔۔ یوسف ابھی ناشتہ کر کے فارغ ہوا ہی تھا جب زوئی نے اسے آواز دیتے اپنی جانب متوجہ کیا۔۔۔

میں یہیں سے بھی تم لوگوں کو جوائن کر سکتا ہوں۔۔۔ برتن کچن میں رکھ کر واپس برآمدے میں آتا وہ مسکرا کر گویا ہوا۔۔۔ آئتل روزمرہ کی صفائی کر رہی تھی بنا کچھ کہے ہی یوسف نے اسکی مدد کروانے کی خاطر جھار پونجھ شروع کر دی تھی۔۔۔ آئتل نے مسکرا کر اسے دیکھا۔۔۔ بے ساختہ ہی اسے اپنی قسمت پر رشک آیا تھا۔۔۔

******

یہ آج کل تمہیں ہوتا کیا جا رہا ہے۔۔۔ اتنی چپ چپ کیوں رہنے لگی ہو۔۔۔۔ آئتل یوسف کو شام کی چائے دینے اسکے کمرے میں آئی تو یوسف نے بنا کسی لحاظ کے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔۔۔ وہ کافی دنوں سے اسکا یہ بجھا بجھا سا انداز نوٹ کر رہا تھا۔۔۔

نہیں تو۔۔۔ ایسی تو کوئی بات نہیں۔۔۔ آئتل نے یکدم بوکھلاتے اپنی صفائی پیش کرنی چاہی۔۔۔۔

تمہیں تم سے زیادہ جانتا ہوں آئتل۔۔۔۔ اینڈ ٹرسٹ می دنیا کی کوئی لڑکی خواہ وہ کچھ بھی کر لے میری آئتل سے زیادہ پیاری ہو ہی نہیں سکتی یوسف کی نگاہوں کو محض آئتل ہی اچھی لگتی ہے۔۔۔ یوسف نے اسکے قریب جاتے اسکا چہرا تھوڑی سے تھام کر اونچا کرتے اسکے کان کے قریب سرگوشی کی تو حیرت و تعجب سے یوسف کو دیکھتے آئتل اپنا سانس تک روک گئ۔۔۔ وہ کیسے اسکے راز تک کو پا گیا تھا۔۔۔ آخر کیسے۔۔۔ حیرت در حیرت تھی۔۔۔۔

کہا نا تمہیں تم سے زیادہ جانتا ہوں۔۔۔ بے ساختہ آئتل کی آنکھوں سے بہتے شفاف جھرنے کو یوسف نے اپنی انگلیوں کی پوروں پر چنا تھا۔۔۔ جانتی ہو نا کہ میں تمہاری آنکھوں میں نمی نہیں دیکھ سکتا۔۔۔ محبت بھری یاددہانی پر آئتل نے مسکراتے ہوئے اپنی آنکھیں رگڑ کر صاف کئیں۔۔۔

ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے نا۔۔۔ بدل تو نہیں جائیں گے۔۔۔کھنکھناتے لہجے میں انگشت اٹھاتے ہمشہ والا سوال دہرایا گیا تھا جواب میں وہ جذبے لٹاتی نگاہوں سے اسے دیکھتا مسکرا دیا تھا ۔۔۔ وہ بھی اسکے جذبے لٹاتی نگاہوں کی تاب نہ لاتے ہوئے کھلکھلاتی ہوئی کمرے سے بھاگ گئ

*******