Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hala (Episode 15)

Hala By Umme Hania

آئتل پھولوں سے مہکتے دلہن کی مانند سجے کمرے میں سر جھکائے بیٹھی تھی ۔ خرابی طبیعت کی وجہ سے جسم کے ساتھ ساتھ آنکھیں بھی جل رہی تھیں۔۔۔ دل مضتر کو کسی پل سکون نا تھا وہ اڑ کر واپس اپنے گھر چلے جانا چاہتی تھی۔۔۔ اسے آنے والے وقت سے خوف آ رہا تھا۔۔۔ گو کہ وہ یوسف اور اس سے وابسطہ ہر یاد کو نکاح کے وقت سے ہی کبھی دوبارہ یاد نا کرنے کا عہد کر چکی تھی وہ اپنے ماضی کو بھول جانا چاہتی تھی اور اسی کوشیش میں ہلکان اسکا دل بری طرح ڈھرک رہا تھا۔۔۔

دروازے کے قریب قدموں کی چاپ ابھرنے پر وہ مزید سر جھکاتی خود میں سمٹ گئ۔۔۔

دروازہ کھلنے اور پھر بند ہونے کی آواز کے بعد قدموں کی چاپ قریب سے قریب تر ہوتی بلآخر بند ہوگئ۔۔۔ آئتل کا دل اسکے کانوں میں ڈھرکنے لگا تھا۔۔۔

جب کافی دیر تک اسکے قریب ہی بیڈ پر بیٹھا عمران کچھ نا بولا تو آئتل نے آہستہ سے پلکوں کی چلمن اٹھاتے اسے دیکھنا چاہا جو آنکھوں میں شوق کا ایک جہان آباد کئے یک ٹک اسے دیکھتے دید کی پیاس بجھا رہا تھا۔۔۔ اسکے جذبے لٹاتی نگاہوں کی تاب نا لاتے آئتل نے فوراً ہی پلکوں کی چلمن گرا لی۔۔۔

تمہیں پانے کے لئے میں نے اپنے رب سے بہت دعائیں کی تھی آئتل اور یہ میرے رب کا مجھ پر احسان ہے کہ آج میری دعائیں زندہ تعبیر کا روپ اختیار کئے میرے سامنے موجود ہیں۔۔۔ميں تمہیں بتا نہیں سکتا آئتل کہ تمہیں اس جگہ اس روپ میں دیکھنے کی میں نے کتنی تمنا کی ہے ۔۔۔ وہ آہستگی سے اسکے نازک ہاتھ تھام کر ان میں جڑاو کنگن ڈالتا اسکے ملیح چہرے کو نظروں کے حصار میں رکھے شدت سے گویا ہوا۔۔۔۔

میرا سب کچھ مجھ سمیت آج سے تمہارا ہے آئتل۔۔۔ تم اس گھر کی اور میرے دل کی ملکہ ہو ۔۔۔ تم جو چاہو جیسے چاہو اپنی زندگی گزار سکتی ہو میں ہر قدم پر تمہارے ساتھ ہوں تمہاری خوشی میں میری خوشی ہے تم مجھے جوڑو کا غلام کہہ سکتی ہو۔۔۔ بات کرتا وہ ہلقہ سا قہقہ لگاتا گویا ہوا۔۔۔ آئتل کا ہاتھ ابھی تک اسکے ہاتھ میں تھا۔۔۔

لیکن بدلے میں مجھے تم سے صرف ایک وعدہ چاہیے۔۔۔ کبھی مجھے دھوکا مت دینا۔۔ میں بے وفائی برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔ تب سے زرا پرسکون ہوتا آئتل کا دل یکدم ہی پوری شدت سے ڈھرکا تھا۔۔۔ میں اس معاملے میں پیور مشرقی مرد ہوں۔۔ مجھے میری بیوی کی سوچوں میں بھی کسی دوسرے کا تصور نہیں چاہیے تمہاری سوچوں تک بھی محض میری رسائی ہونی چاہیے۔۔۔ آواز کے ساتھ ساتھ عمران کا لہجہ بھی بدل رہا تھا جو آئتل کو کپکپانے پر مجبور کر رہا تھا۔۔۔ وہ صاف دل کی لڑکی تھی جس کا اندر باہر شیشے کی مانند شفاف تھا وہ عمران سے تو کیا کسی سے بھی اپنی بات چھپا نہیں سکتی تھی کیونکہ جھوٹ تو اس سے بولا ہی نا جاتا تھا۔۔۔

عمران کی باتیں سن کر وہ حنائی ہاتھوں میں چہرا چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ ایسا کرنے سے بازو میں موجود چوریاں جلترنگ کی مانند بج اٹھی تھیں۔۔۔ طبیعت تو پہلے ہی ٹھیک نا تھی مزید شدت سے رونے پر جسم جھٹکے کھانے لگا تھا۔۔۔ لمحوں میں عمران کے ہاتھوں کے طوٹے اڑے تھے۔۔۔

ارے آئتل کیا ہوا۔۔۔ تم یوں رو کیوں رہی ہو۔۔۔ میں نے ایسا تو کچھ نہیں کہا۔۔۔۔ اسنے حواس باختہ ہوتے اسکے حنائی ہاتھ چہرے سے ہٹاتے اسکے آنسو صاف کرنے چاہیے جب آئتل نے ڈھرکتے دل اور نم آنکھوں سے بے بسی سے اسے دیکھتے اسکے دونوں ہاتھ شدت سے تھامے۔۔۔

آپ مجھے کبھی بے وفائی کی مرتکب نہیں پائیں گے عمران۔۔۔ پچھلی زندگی پر میرا کوئی اختیار نہیں رہا لیکن اب اس وقت اس لمحے سے میری سوچوں کا محور بھی محض آپ ہی ہونگے بس مجھ سے کبھی بدگمان مت ہوئیے گا۔۔۔ اگر کبھی مجھ سے کوئی خطا سرزرد ہو جائے تو مجھے معاف کر دیجیئے گا ورنہ میں جی نہیں پاوں گئ۔۔۔ ٹوٹی بکھری سی وہ اسکے ہاتھوں پر ہی سر ٹکاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔

کب منظور تھی عمران کو بھی آئتل کی ایسی حالت فوراً سے اسنے آئتل کو کسی متاع حیات کی مانند خود میں سمو لیا اور آئتل وہ اب خود کو مکمل طور پر حالات کے ڈھارے پر چھوڑ چکی تھی۔

*********

تم اب کیا چاہتے ہو دریاب۔۔۔۔ حدید نے دریاب کے سامنے کافی کا مگ رکھتے استفسار کیا اور خود بھی اسکے ساتھ ہی کاوئچ پر بیٹھ گیا۔۔۔ دریاب اپنے گھر سے سیدھا اسکے پاس ہی آیا تھا دونوں بچپن کے دوست تھے اور اس وقت دریاب جس ذہنی دباو کا شکار تھا ایسے میں حدید ہی اسے بہتریں کندھا میسر کر سکتا تھا اس لئے اسنے بھی آتے ہی بنا پس و پیش کے اسے الف تا یے ہر بات کہہ سنائی جسے سننے کے بعد ایک پل کو تو حدید بھی پریشان ہو اٹھا تھا۔۔۔

میں کیا چاہ سکتا ہوں حدید شادی کے کارڈز بٹ چکے ہیں پرسوں مہندی کی تاریخ ہے اور حالات اتنے الجھ چکے ہیں کہ سمجھ نہیں آ رہا۔۔۔ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ وہاں ان بے قدرے لوگوں میں تو میں اپنی بہن کی شادی کسی صورت نہیں ہونے دونگا۔۔۔ دریاب نے کاوئچ کی پشت سے ٹیک لگاتے اپنے ماتھے کو بے طرح مسلہ۔۔۔۔

اچھا تم کافی پیو پھر مل کر اس مسلے کا حل ڈھونڈتے ہیں۔۔۔ حدید نے اسے کچھ پل کو ریلیکس کرنے کی خاطر ہلکے پھلکے انداز میں کہتے کافی کا مگ اسکی جانب بڑھایا۔۔۔

بلاشبہ میرے اس مسلے کا حل صرف تم ہی نکال سکتے ہو۔۔۔ دریاب نے اسے سنجیدگی سے دیکھتے مگ تھاما تو حدید نے الجھ کر اسے دیکھا۔۔۔

مطلب۔۔۔۔

مطلب یہ کہ یہ ہمارے بچپن کے یارانے کا بخشا مان ہی ہے جو میں اس وقت تمہارے سامنے دست سوال دراز کئے بیٹھا ہوں۔۔۔۔ یہ کام کسی صورت ایک بھائی کو زیب نہیں دیتا مگر اس وقت حالات کا تقاضا یہ ہی ہے۔۔۔ وہ سنجیدہ سا نظریں نیچے جکائے مگ کے کنارے پر انگلی پھیرتا کہہ رہا تھا۔۔۔

کیا مطلب میں کچھ سمجھا نہیں۔۔ تم کھل کر کچھ بتاو گئے۔۔۔ حدید کی الجھن حد سے سوا تھی۔۔۔

زرش سے شادی کر لو حدید۔۔۔۔ الفاظ تھے یا کیا جو لمحوں میں حدید کو ساکت و جامد کر گئے تھے وہ ساکت سا دریاب کو دیکھ رہا تھا یہ اس نے کیا کہہ دیا تھا بھلا۔۔۔۔ کیا تم کسی اور میں انٹرسٹڈ ہو حدید۔۔۔ دونوں کے درمیان خاموشی کے طویل ہوتے وقفے سے گھبرا کر دریاب نے حفظ ماتقدم کے طور پر پوچھا۔۔۔

ایسی بات نہیں ہے دریاب۔۔۔ پر تم جانتے ہو کہ میں نے زرش کے بارے میں کبھی ایسا نہیں سوچا ۔۔۔ میں نے اسے ہمیشہ چھوٹی بہن کی طرح ٹریٹ کیا ہے۔۔۔ رشتوں کا یہ بدلاو اسکا معصوم ذہن بھی قبول نہیں کر پائے گا۔۔۔ وہ کسی غیر مری نقطے کو دیکھتا سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔

شاید اسے کچھ وقت لگے یہ سب قبول کرنے میں مگر وقت سب سے بڑا مرہم ہوتا ہے آہستہ آہستہ وہ بھی اس تبدیلی کو قبول کر ہی لے گی کیونکہ یہ ہی وقت کا تقاضہ ہے۔۔۔ جواب میں ایک مرتبہ پھر سے طویل ہوتی خاموشی کے نتیجے میں دریاب بنا کچھ مزید بولے مایوسی سے اٹھ کھڑا ہوا مانا کے دونوں بچپن کے دوست تھے لیکن شادی بھی زندگی بھر کا معاملہ تھی وہ اس کے لئے حدید کو فورس نہیں کرسکتا تھا۔۔۔

بنا الوداعی کلمات کہے وہ خارجی دروازے کی جانب بڑھا جب اسکے قدم حدید کے روح پھونکتے الفاظ نے روکے۔۔۔

شام میں دادو باقاعدہ رسم کرنے آ جائیں گی۔۔۔ یکدم ایک مسکراہٹ دریاب کے لبوں کو چھوئی تھی ۔۔۔ وہ ایڑیوں کے بل گھوما اور اپنے روبرو کھڑے حدید کو شدت سے خود میں بھینچ لیا۔۔۔

میرا مان بنائے رکھنے کے لئے تمہارا بہت شکریہ حدید۔۔۔ بس بس زیادہ اوور ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ ابھی دادو کو اتنے شارٹ نوٹس پر تیار کرنے پر ان سے بھی اچھی خاصی سننے کو ملیں گئ وہ بھی مسکراتا ہوا اسکی کمر تھپتھپاتا گویا ہوا۔۔۔

******

یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں امی۔۔۔ شادی اور حدید بھائی سے۔۔۔ نو نیور۔۔۔ ہرگز نہیں۔۔۔

جب سے زرش کو اتنے شارٹ نوٹس پر حدید سے شادی کا پتہ چلا تھا تب سے وہ ہتھے سے ہی اکھڑ گئ تھی اسی لئے شدت سے انکار کئے دے رہی تھی۔۔۔

کیوں چندا کیا کمی ہے حدید میں۔۔۔ اچھا خاصا پڑھا لکھا اچھی شکل و صورت کا ویل سیٹلڈ لڑکا ہے مجھے تو روز اول سے ہی وہ بہت پسند ہے۔۔۔

میں نے کب کہا امی کہ جدید بھائی میں کوئی کمی ہے بلاشبہ وہ کسی بھی لڑکی کا آئڈیل ہو سکتے ہیں۔۔۔لیکن۔۔۔

اگر وہ کسی بھی لڑکی کا آئڈیل ہو سکتا ہے تو پھر وہ تمہارا آئڈیل کیوں نہیں ہو سکتا ۔۔۔ زہرا بیگم اسکی بات درمیاں سے ہی اچکتیں گویا ہوئیں۔۔۔

کیونکہ وہ میرے بھائی ہیں امی ۔۔۔ اپنی بات ماں کو سمجھاتے سمجھاتے وہ عاجز آ چکی تھی۔۔۔

وہ تمہارا بھائی نہیں ہے چندا تمہارا صرف ایک ہی بھائی ہے دریاب۔۔۔

لیکن میں تو انہیں بھائی ہی سمجھتی ہوں نا۔۔۔ وہ وضاحت دیتے دیتے روہانسی ہونے لگی تھی۔۔۔ بیٹا مشرقی لڑکی کے لئے ہر شخص شادی سے پہلے بھائی ہی ہوتا ہے۔۔۔ماں کی بات پر بے ساختہ زرش نے اپنا سر تھام لیا۔۔۔ امی وہ میرے بھائی ہیں اس حوالے سے میں انہیں سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔ وہ چٹخ کر گویا ہوئی۔۔۔ ابھی تو عین موقع پر شادی ٹوٹنے کا صدمہ کم نہیں ہوا تھا کہ اتنی جلدی دوسرا صدمہ مل گیا تھا وہ کرتی تو کیا۔۔۔

بیٹا رشتہ بدلنے سے جذبات خودبخود بدل جاتے ہیں اور نکاح کے۔۔۔۔ چپ کر جائیں امی بالکل چپ کر جائیں مجھ سے حدید بھائی کے حوالے سے ایسی باتیں مت کریں۔۔ بے بسی کے شدید احساس تلے وہ شدت سے رو دی تھی۔۔۔

بھائی۔۔۔ بھائی یہ دیکھیں امی کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔ دریاب کے اندر آنے پر وہ بیڈ سے اترتی بھاگ کر اس سے لپٹتی مزید شدت سے رو دی۔۔۔ زری پرنسیس امی بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں۔۔۔ دریاب کے محبت سے اسکا سر تھپتھپانے پر وہ جھٹکے سے اس سے الگ ہوتی حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔

آپکو ذہنی طور پر خود کو اس رشتے کے لئے تیار کرنا ہوگا۔۔۔ یہ ہی وقت کا تقاضا ہے زری۔۔۔ سارے حالات آپکے سامنے ہیں پرنسیس دریاب نے محبت سے اسکی ساکت آنکھوں سے بہتے جھرنے کو صاف کیا۔۔۔ آپکے بھیا اور بابا کی عزت اب آپکے ہاتھ میں ہے اور مجھے امید ہے کہ ہماری گڑیا ہمیں بالکل مایوس نہیں کرے گی۔۔۔ شام میں حدید کی دادو آ رہی ہیں آپ سے ملنے مجھے امید ہے کہ آپ ان سے اچھے سے ملیں گئ ۔۔۔ انشااللہ حدید آپکے حق میں بہت اچھا ہمسفر ثابت ہوگا۔۔۔ اتنا بھروسہ تو ہے نا آپکو اپنے بھیا پر کہ میں آپکے حق میں کوئی غلط فیصلہ نہیں لوں گا۔۔۔ زرش کو اپنے ساتھ لگائے اسکا سر تھپتھپاتے وہ ناجانے اسے کون کونسی تسلیاں دے رہا تھا جبکہ زرش نے کرب سے آنکھیں بند کیں کیسے بتاتی کہ وہ ہر دم سنجیدہ رہنے والے اور زرا سی خلاف عادت بات ہو جانے پر لمحوں میں غصہ ہو جانے والے حدید بھائی کے ساتھ کیسے زندگی گزارے گی۔۔۔ آنسو ایک مرتبہ پھر سے پلکوں کی دہلیزپار کرنے کو بے تاب تھے۔

******