Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hala (Episode 51) 2nd Last Episode

Hala By Umme Hania

گاڑی کا دروازہ بند ہوتے ہی نور کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ اسے وہ تمام لمحات جزئیات سے یاد آئے جب فہد اس پر بری طرح حاوی ہوا تھا۔۔۔ اسے اپنے جسم پر چیونٹیاں سی رینگتی محسوس ہوئیں۔۔ وہ اس سے لڑ نہیں سکتی تھی مقابلہ نہیں کر سکتی تھی یہ تو طے تھا۔۔۔ آنسو پلکوں کی بار پھیلانگ پھیلانگ کر بہتے چلے جا رہے تھے۔۔ اسے اپنا سانس سینے میں ہی اٹکتا محسوس ہوا۔۔۔

ہیلو۔۔۔ ہاں بلندنگ میں سارے انتظامات پورے کرو ۔۔۔ ہاں بس کچھ دیر تک پہنچ رہا ہوں میں۔۔ارے اسکی تو فکر ہی مت کرو۔۔۔ فہد ناجانے کس کس سے کیا کیا باتیں کرتے مکرو قہقے لگا رہا تھا۔۔۔ نور کو تو اپنے حواس ساتھ چھوڑتے محسوس ہوئے۔۔۔ اسکے ساتھ لمحوں میں کیا سے کیا ہو گیا تھا۔۔ آگے اسکے ساتھ کیا ہونے والا تھا۔۔۔ وہ اب کیا کرے۔۔۔ سب گڈ مڈ ہونے لگا تھا۔۔۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحتیں مفلوج ہونے لگی تھیں۔۔۔ شام تک جب وہ گھر نا پہنچی تو سب اسکے بارے میں کیا سوچیں گے۔۔۔ اور دریاب ۔۔۔۔ دریاب سے کیا کبھی اسکا دوبارہ سامنا ہوپائے گا۔۔۔ اور اگر ہو بھی گیا تو کیا وہ اسکا اعتبار کرے گا۔۔۔ دماغ مختلف سوچوں کے تانے بانے بننے لگا تھا ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹوٹ کر پھسلا۔۔۔ اسکا دل سوکھے پتے کی مانند کانپ رہا تھا۔۔۔ رفتہ رفتہ حواس بحال ہونا شروع ہوئے تو اسنے اپنے بچاو کی خاطر ہاتھ پاوں مارنے شروع کئے جیسے سمندر میں ڈوبتا انسان ڈوبنے سے پہلے اپنے بچاو کی خاطر ہاتھ پاوں مارتا ہے۔۔۔ اسنے بھی جھنجھناتے اعصاب سمیت اپنی پوری قوت صرف کر کے گاڑی کے دروازے کھولنے چاہیے۔۔۔ پچھلی سیٹ پر بیٹھنے کی بدولت کبھی وہ دائیاں گیٹ کھولنے کی کوشیش کرتی تو کبھی بائیاں گیٹ۔۔۔ چادر بار بار سر سے کھسک رہی تھی جسے وہ بارہا ساتھ کے ساتھ لرزتے ہاتھوں سے سر پر درست کر رہی تھی۔۔۔ اسکی کاوشیں دیکھ کر گاڑی میں فہد کا حلق پھاڑ قہقہ گھونجا تھا۔۔۔۔ سبھی کوشیشیں بے کار ہیں نور جان۔۔۔ اب تو تمہارا مرا ہوا باپ بھی قبر سے نکل کر آجائے تو تمہیں میری قید سے آزاد نہیں کروا سکتا۔۔۔۔ تم نے بھی کوئی تھوڑا ذلیل نہیں کیا مجھے۔۔۔ غلطی ہو گئ تھی مجھ سے اس روز تمہاری بات مان کر۔۔۔ اسی روز تم پر اپنے نام کی چھاپ چھوڑ کر تمہارے پر کاٹے ہوتے تو آج تم یوں منہ کو نا آ رہی ہوتی۔۔۔ خباست سے کہتا آخر میں وہ خطرناک حد تک سنجیدہ ہو چکا تھا۔۔۔ نور کی ریڑھ کی ہڈی تک سنسا اٹھی۔۔۔ فہد مم۔۔۔ مجھے جانے دو تمہیں خدا کا واسطہ ہے۔۔۔ تمہیں کیا ملے گا یہ سب کر کے۔۔۔ سسکیاں بھر کر روتے گاڑی کا دروازہ کھول کھول کر ہلکان ہوتی وہ دروازہ سے ہی سر ٹکاتے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ وہ اتنی کمزور اعصاب کی حامل نہیں تھی پر پے درپے. صدمات نے اس پر گہرا اثر ڈالا تھا۔۔۔ نیز ایک بار پہلے بھی وہ اس وحشی کی وحشت دیکھ چکی تھی۔۔۔ تب کئ کئ دنوں تک اسے اپنے جسم پر چیونٹیاں رینگتی محسوس ہوتی تھیں جہاں جہاں اس وحشی نے اپنا لمس چھوڑا تھا۔۔۔

رو نور اور رو۔۔۔ تمہارے یہ آنسو مجھے تقویت پہنچا رہے ہیں ہیں اور یقین مانو میں پوری کوشیش کروں گا کہ تمہاری اگلی زندگی کانٹوں سے بھرپور ہو جس پر چل کر تم لہولہان ہو جاو۔۔۔ کیونکہ میں نے تو تمہیں عزت ہی دینی چاہی تھی مگر تمہیں راس نہیں آئی ۔۔۔ اب تمہیں وہی ملے گا جسکی تم حقدار ہو۔۔ مقدر کی سیاہی۔۔۔ بدکرادری کا قلق

آج تم سے تمہاری ذات کا مان نا چھین لیا نا تو کہنا پچھلی دفعہ جو غلطی مجھ سے سرزد ہوئی اس بار اسے سدھاروں گا۔۔۔ شادی تو میں تم سے کروں گا آخر سسر صاحب کی پڑاپڑتی کا لیگلی مالک بھی تو بننا ہے نا۔۔۔لیکن تم پر اپنی چھاپ چھوڑنے کے بعد ۔۔۔ فہد کی ہر بات اسے گہرے پاتال میں دھکیلتی جا رہی تھی۔۔۔ ہر گزرتے لمحے کیساتھ اسے اپنی سانس رکتی محسوس ہوئی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا تھا۔۔۔ اسکی زبان پر محض وردِ الہی تھا اور اپنے اسی حقیقی مالک کو یاد کرتے ہوئے وہیں ہوش و خرد سے بیگانہ ہوتی جھول گئ تھی۔۔۔

لو بھئ ہو گیا کام اور آسان اسنے خباست سے مسکراتے اسے سیٹ پر جھولتے دیکھا

******

بھائی زرش اسے دیکھتے ہی دیوانہ وار اسکی جانب لپکتی اس سے لپٹی اور زاروقطار رو دی دریاب نے بھی محبت سے اسکا سر تھپتھپاتے اسے تحفظ کا احساس دلانا چاہا۔۔۔ رات اسے حدید سے زرش کی حویلی میں موجودگی کا پتہ چلا تو وہ صبح ہوتے ہی سب سے پہلے حویلی کے لئے نکلا۔۔۔ اب وہ بس اڑ کر اپنی گڑیا کے پاس پہنچ جانا چاہتا تھا۔۔۔

بس زری میری جان میری گڑیا اب میں آگیا ہوں نا تو بالکل ریلیکس ہو جاو اب تمہارے ساتھ کچھ غلط نہیں ہونے دوں گا۔۔ وہ مسلسل اسکے ساتھ لگی آنسو بہا رہی تھی جب دریاب نے لب بھنچتے اسے باور کروایا اور اسکی حالت کے پیش نظر اسے لئے صوفے پر بیٹھا۔۔ بھائی حدید نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا مجھے تھپڑ مارے۔۔۔ دریاب کو اپنا دکھ سناتی وہ پھر سے سسک اٹھی۔۔۔ دریاب نے اسے بازو کے حلقے میں لئے سختی سے جبرے بھینچے۔

جانتا ہوں زری گڑیا اسنے میری گڑیا پر ہاتھ اٹھایا ہے جسے کبھی ہم نے پھولوں کی چھری سے چھوا تک نا تھا۔۔۔ میں نے اسکے جواب میں اسکا منہ توڑا تھا لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔۔۔ حتمی فیصلہ میری گڑیا کا ہو گا۔۔۔ا ور اطمیئنان رکھنا زری میں تمہارے ہر فیصلے میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔ دریاب کی باتیں سن کر زرش کے آنسو ٹھٹھرنے لگے تھے۔۔۔ دادی ان دونوں بہن بھائیوں کو دکھ سکھ بانٹے دیکھ اٹھ کر ہادیہ کے پاس کچن میں چلی گئیں تھیں۔۔۔

چلو زری گڑیا میرے ساتھ گھر چلو۔۔۔ کافی دیر تک رو چکنے کے بعد جب زرش نے آنسو صاف کئے اور کچھ ہلکی پھلکی ہوئی تو دریاب نے کہا۔۔۔

نہیں بھیا مجھے گھر نہیں جانا اور نا ہی حدید کے پاس رہنا ہے مجھے یہیں دادی کے پاس ہی رہنا ہے۔۔۔ وہ گلوگیر لہجے میں گویا ہوئی تو دریاب نے اسے چونک کر دیکھا۔۔۔

پر زری۔۔۔ بھیا امی کی طبیعت ٹھیک نہیں انکی حالت ایسی نہیں کہ وہ کوئی صدمہ یا دکھ برداشت کریں اور ویسے بھی میں کچھ وقت یہاں قدرت کے قریب رہ کر گزارنا چاہتی ہوں۔۔ زرش نے حتمی انداز میں کہا تو دریاب خاموش ہو گیا۔۔۔

تبھی دادی کچن سے ملازمہ کیساتھ لوازمات کی ٹرالی لے کر انکے پاس آئیں تو وہ ان سے ہلکی پھلکی باتیں کرنے لگا

*****

گاڑی ایک زیر تعمیر عمارت میں جا کر جھٹکے سے رکی تھی۔۔۔۔ وہ کوئی غیر آباد جگہ تھی۔۔۔ گاڑی رکتے ہی فہد گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلا ۔۔۔ اسکی گاڑی رکتے ہی دو افراد اس زیر تعمیر عمارت سے نکل کر اسکی طرف تقریباً بھاگتے ہوئے آئے۔۔۔

نور جو مسلسل اپنے بچاو کی تدبیریں سوچتی فہد کا دھیان بٹانے کو بے ہوش ہونے کا ڈرامہ کر رہی تھی فہد کے گاڑی روک کر باہر نکلنے پر اسنے آہستگی سے آنکھیں کھولی۔۔۔ خوف کے زیر اثر دل سوکھے پتے کی مانند کپکپا رہا تھا۔۔۔ فہد کے ساتھ مزید دو لوگوں کو دیکھ کر اسکے چہرے پر ایک تاریک سایہ لہرایا دل خوف سے بند ہونے کے قریب تھا۔۔۔ جو وہ واقعی اپنا کہا پورا کر دیتا تو۔۔۔ تو وہ کیا کرتی۔۔۔ کیا وہ کسی اور سے تو کیا خود سے بھی نگاہیں ملا پاتی۔۔۔ آنسو تواتر سے آنکھوں سے بہنے لگے تھے۔۔۔ اللہ۔۔۔آللہ میری مدد کر میرے مالک۔۔۔ جسم پر کپکپی طاری ہو گئ تھی۔۔۔ فہد ان دونوں سے بات کرتا ایک ہاتھ کمر پر رکھے اور دوسرے ہاتھ سے بلدنگ کے اندرونی جانب اشارہ کرتا ان آدمیوں سے کچھ پوچھتا چند قدم مزید بلدنگ کے اندرونی جانب بڑھا۔۔۔ گاڑی کے شیشے بند ہونے کی بدولت نور کو انکی باتیں تو سنائی نہیں دے رہی تھی لیکن اندازہ ہو رہا تھا کہ موضوع گفتگو وہی ہے۔۔۔ دھوپ براہ راست اس پر پڑ رہی تھی۔۔۔ بھری دوپہر میں کیا آندھی چلی تھی حو اسکا آشیانہ اڑا لے چلی تھی اور کسی کو کانوں کان خبر تک نا تھی۔۔۔

نور نے فہد کو گاڑی سے چند قدم دور جاتے دیکھا تو ڈھرکتے دل کیساتھ آہستگی سے گاڑی کا دروازہ کھولنا چاہا۔۔۔ جب موت لکھی ہی تھی قسمت میں تو بچاو کو ایک کوشیش تو کرتی کیا پتہ پچھلی بار کی طرح اس بار بھی وہ اسے ڈاج دینے میں کامیاب ہو جاتی۔۔۔

صد شکر کہ فہد نے اسے بے ہوش سمجھ کر گاڑی لاک نہیں کی تھی۔۔۔ نور آہستگی سے گیٹ کھول کر رینگتی ہوئی گاڑی سے نکلی۔۔۔

عین اسی وقت فواد نے گاڑی کی جانب اشارہ کرتے اس طرف قدم بڑھانا شروع کئے۔۔ وہ دونوں شخص بھی اسکے پیچھے ہی تھے غالباً وہ انہیں نور کے بارے میں ہی بتا رہا تھا۔۔۔

انہیں گاڑی کی جانب آتا دیکھ نور کا دل اچھل کر حلق میں آیا۔۔۔ وہ گھٹنوں اور ہاتھوں کے بل رینگتی ہوئی گاڑی کی پچھلی جانب آئی اور ویسے ہی رینگتی ہوئی پاس پڑے اینٹوں اور ریت بجری کے ملبوں کےپیچھے چھپی۔۔۔

سر اندر لڑکی نہیں ہے۔۔۔ اس آدمی کے گاڑی کے پاس پہنچنے پر فہد نے بھی چونک کر گاڑی میں دیکھا۔۔۔ لمحوں میں اسکا رنگ فق ہوا تھا۔۔۔ آنکھوں میں خون اتر آیا تھا ہاتھ آیا شکار وہ ہاتھ سے نکلنے نہیں دے سکتا تھا۔۔

سر یہ دروازہ کھلا ہے ۔۔۔ لگتا ہے لڑکی بھاگ گئ۔۔۔ دوسرے شخص نے فہد کو پہلے سے کھلا دروازہ پھر سے کھول کر دکھایا۔۔۔ یہ تم نے اچھا نہیں کیا نور۔۔۔ دوسری بار پھر سے نہیں۔۔۔ ڈھونڈو اسے یہاں سے نکل کر جا نا پائے۔۔۔ ابھی وہ یہیں کہیں چھپی ہے بلدنگ سے باہر نہیں گئ۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ وہ بلدنگ کے اندر ہی کہیں چھپی یے کیونکہ بلدنگ کے خارجی راستے پر تو وہ کھڑا تھا تو یہ تو ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ وہ اسکے پاس سے گزر کر باہر جاتی۔۔۔

نور ڈئیر ایک دفعہ ہاتھ لگ جاو تمہارا تو وہ حشر کروں گا کہ اپنا انجام دیکھ کر تمہاری روح تک کانپ اٹھے گی۔۔

اسکے لہجے میں ازدھوں سی پھنکار تھی۔۔۔

****

نور عمارت کے ایک کمرے میں موجود پتھر اور ٹائلوں کے ملبے کے پیچھے دبک کر بیٹھی تھی۔۔۔ دونوں ہاتھ منہ پر شدت سے جمائے وہ اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹ رہی تھی۔۔۔ سانس بھی اتنے محتاط انداز سے لے رہی تھئ کہ کہیں وہ اسکی سانس لینے کی آواز سن کر ہی اس تک نا پہنچ جائیں۔۔۔

وہ تیزی سے اپنا دماغ چلا رہی تھی کیسے یہاں سے باہر نکلتی۔۔۔ تین تین مردوں کا اکیلی نہتہ کیسے مقابلہ کرتی۔۔ اسنے تو انکے ایک ہی وار سے زیر ہو جانا تھا۔۔۔ پھر وہ کیا کرے۔۔۔ ایسے ہی چھپ کر بیٹھی رہتی تو وہ لوگ بہت جلد بلدنگ کا چپہ چپہ چھان مارتے اس تک آ پہنچتے۔۔۔

تبھی اسکے دماغ میں جھماکہ سا ہوا۔۔۔ اسکا کلچ تو ناجانے کہاں تھا پر موبائل اسنے جیکٹ کی جیب میں رکھا تھا۔۔۔ بے ساختہ اسنے جیکٹ کی جیب ٹٹولی۔۔۔ پر یہ کیا ۔۔۔ ہاتِھ کو موبائل محسوس ہوتے ہی وہ کھل اٹھی۔۔۔ اسے فورا کسی کو اپنی یہاں موجودگی کی اطلاع دینی ہوگئ۔۔۔ پر کسے۔۔۔ دماغ پھر سے الجھا۔۔۔ دریاب کو۔۔۔ نہیں ۔۔۔ نہیں دریاب کو نہیں۔۔۔ اگر انہیں یہاں پہنچنے میں دیر ہوگئ تو۔۔۔ کیا کبھی میں انکے سامنے سر اٹھا پاوں گی۔۔۔ دل ڈوب کر ابھرا تھا۔۔۔ آنسو پھر سے بہہ نکلے تھے۔۔۔ اے میرے مالک میرا مولا۔۔۔ میرا دریاب کے سامنے پردہ رکھ لینا۔۔۔ وہ ایک مرتبہ پھر سے سسک اٹھی۔۔۔یکدم ہی دماغ میں ایک کوندا لپکا۔۔۔ دریاب نہیں تو پھر ڈی کے سر۔۔۔ ہاں وہ ڈی کے سر سے مدد مانگ سکتی تھی۔۔۔ نینو سیکنڈ کے لحاظ سے اسنے ڈی کے سر کا نمبر ملا کر کان سے لگایا۔۔۔ دوسری جانب بیل جا رہی تھی اور ہر گزرتی بیل کیساتھ نور کی دل کی ڈھرکن کم ہوتی جا رہی تھی۔۔۔ اگر انہوں نے بھی فون نا اٹھایا تو۔۔۔۔

****””

دریاب ابھی ابھی زرش سے مل کر واپس شہر آیا تھا ۔۔۔ ابھی وہ شہر میں داخل ہی پوا تھا جب اسکے موبائل کی رنگ ٹیون بجی۔۔۔ اسنے حیرت سے موبائل کی سکرین پر بلنک کرتا نمبر دیکھا جہاں ہالہ کالنگ لکھا آ رہا تھا۔۔۔۔ اسے حد درجہ تعجب ہوا۔۔۔ پچھلے دو سال میں کام کرنے کے دوران اسے آج تک کبھی ہالہ نے کال نہیں کی تھی۔۔۔ کال ہمیشہ ڈی کے سر نے ہی اسے کی تھی وہ تو محض میل یا واٹس ایپ پر اپنا پیغام دے دیتی۔۔۔ ایسے میں آجکی اسکی کال دریاب کے لئے کسی شاک سے کم نا تھی۔۔۔

الجھتے ہوئے اسنے کال اٹھا کر موبائل کان سے لگایا لیکن ہالہ کے اگلے الفاظ نے گویا اسکے قدموں تلے سے زمین کھینچ لی ہو۔۔۔

ہیلو ڈی کے سر۔۔۔ سر پلیز ہیلپ می۔۔۔ مجھے بچا لیں ڈی کے سر ۔۔۔ مجھے بچا لیں پلیز۔۔۔ فہمیوں ع کے درمیان سسک سسک کر ٹوٹے پھوٹے الفاظ دریاب کا دماغ بھک سے اڑا لے گئے۔۔۔

ہالہ کیا ہوا ۔۔ تم ہو کہاں۔۔۔ پریشانی میں اسنے بعجلت گاڑی کا موڑ کاٹتے گاڑی کو ٹرالر کے تصادم سے بچایا تھا ۔۔۔

پپ۔۔۔ پتہ نہیں ڈی کے سر۔۔۔ پر میری عزت کو خطرہ ہے۔۔ پلیز مجھے بچا لیں ورنہ میں مر جاوں گی۔۔۔ بری طرح روتے وہ دریاب کی روح تک جھنجھور گئ۔۔۔ ہالہ تم ۔۔۔۔

تو یہاں چھپی ہو تم نور جانو۔۔۔۔ آہ۔۔۔ آہ۔۔۔۔ فون سے کسی کی گھٹیا مردانہ آواز سنائی دی تھی اور ساتھ ہی نور کی چیخیں ۔۔۔ ہیلو ہیلو۔۔۔ نوررررررر۔۔۔ دریاب ڈھرکتے دل کیساتھ ہیلو ہیلو کرتا ہی رہ گیا لیکن رابطہ منقطع ہو چکا تھا۔۔۔ کسی نے دریاب کا دل مٹھی میں لے کر مسلہ تھا۔۔۔ اسکی نور۔۔۔ اسکی ہالہ کہاں تھی اس وقت ۔۔۔ اور کون تھا وہ شخص۔۔۔ ہواس باختگی میں سب گڈ مڈ ہونے لگا تھا۔

******