Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hala (Episode 18)

Hala By Umme Hania

لاوئنج میں صوفے کے سامنے موجود میز پر جابجا شاپنگ بیگز پڑے تھے جبکہ کچھ شاپر اطراف میں نیچے زمین پر بھی رکھے ہوئے تھے۔۔۔ تھری سیٹر صوفے کے وسط میں بیٹھی نور باری باری سبھی شاپر کھول کر شاپنگ دیکھ رہی تھی۔۔۔ زرق برق ملبوسات جیولری جوتے ہینڈبیگز پرفیوم مختلف چیزوں کا ایک انبار تھا۔۔۔ نور سبھی چیزیں دیکھتی اداسی سے مسکرا دی۔۔۔ اج وہ کمال انکل کی مزید مشکور ہوگئ تھی اسکے دل میں کمال انکل کی عزت مزید بڑھ گئ تھی جو اس کی ایک حقیقی باپ سی پرواہ کرتے تھے۔۔۔

کمال انکل اسے کل سے زرش کے ساتھ جا کر شادی کی شاپنگ کرنے کو بول رہے تھے مگر وہ مسلسل انکار کر رہی تھی۔۔۔ لاشعوری طور پر وہ زہرا بیگم کا سامنا کرنے سے کترا رہی تھی اس لئے وہ جب سے آئی تھی کمال انکل کے بارہا کہنے پر بھی انیکسی سے باہر نہیں گئ تھی۔۔ انیکسی میں اسکی ضرورت کی ہر چیز موجود تھی کچن اور فرج بھرا پڑا تھا طرح طرح کی اشیاء و خوردنوش سے مزید کمال انکل خود بھی ان سب چیزوں کا خاص خیال رکھ رہے تھے۔۔۔ اسے کمال انکل کے وجود سے ایک دھارس ملتی تھی جیسے وہ تپتے ریگستان میں اسکے لئے ایک گھناسایہ دار شجر ہوں جو لوگوں کی بلخصوص زہرا بیگم کی تلخیوں اور طنز کو اس تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیتا ہو۔۔۔

اب بھی اسکے بارہا منع کرنے کے باوجود انہوں نے زرش اور اسکی شادی کی تیاریوں میں کوئی فرق نا رکھا تھا

شادی کے حوالے سے ہر لڑکی کی طرح اسکی بھی بہت سی خواہشیں تھی لیکن ناموافق حالات سے سمجھوتا کرتے اسنے اپنا دل مار لیا تھا مگر اب۔۔۔۔ اسنے ایک شاپر سے سرخ جھلمل کرتا نفیس سا ڈوپتہ نکالا اور بے خودی میں اس پر ہاتھ پھیرتی سامنے لگے دیوار گیر آئینے کے سامنے گئ اور اسے سر پر اوڑھتی جھلمل کرتی نگاہوں سے آئینے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس آئینے میں اسکے عکس کے ساتھ ایک اور عکس ابھرا یکدم ہی نور کے مسکراتے لب سمٹے وہ سنجیدہ نگاہوں سے اس عکس کو دیکھتی واپس پلٹی۔۔۔

اوہ۔۔۔ تو خوب شاپنگ چل رہی ہے ہاں۔۔۔ ویسے ماں نے تربیت میں اپنے کرتوت کوٹ کوٹ کر بھرے ہیں۔۔۔ زہرا بیگم طنزیہ نگاہوں سے اسے اور وہاں جابجا بکھرے شاپنگ بیگز کو دیکھتیں قدم با قدم آگے بڑھتی ٹانگ پر ٹانگ جماتی کروفر سے صوفے پر براجماں ہوئیں۔۔۔

آنچل نور کے سر سے سرکتا زمین بوس ہوا مگر وہ ہنوز ویسے ہی کھڑی تھی۔۔۔ تمہاری ماں کا بھی یہ ہی وطیرہ تھا وہ بھی اونچے اور بڑے گھرانوں میں ہاتھ ڈالتی تھی۔۔۔ صحیح اسکے نقش قدم پر چل رہی ہو بھرپور تضحیک آمیزانہ انداز تھا۔۔۔۔

دریاب کے حوالے سے میں آپکی بہت عزت کرتی ہوں آنٹی۔۔۔ اس لئے آپ مجھے جو چاہیں کہہ لیں لیکن میری مری ماں کے لئے کوئی غلط لفظ اپنی زبان سے مت نکالیں ۔۔۔ ضبط کے کڑے مراحل سے گزرتی وہ چبا چبا کر مگر لہیمی سے گویا ہوئی۔۔

اچھاااا۔۔۔ تو سنو ماماز ڈول۔۔۔۔ دریاب میرا بیٹا ہے۔۔۔ کروفر سے اٹھتیں اسکے قریب گئیں اور اپنی جانب انگلی کر کے آنکھیں نکالتیں غرائیں اور اسے پانے کی تمہاری حسرت حسرت ہی رہ جائے گئ۔۔۔ کبھی اسے تمہارا ہونے نہیں دوں گی لڑکی۔۔۔ وہ میرا فرمابرادر بیٹا ہے میری حکم عدولی کر ہی نہیں سکتا۔۔۔آواز میں خودبخود تفاخر سمٹ آیا تھا۔۔۔ میری اجازت پر وہ اس رخصتی پر تیار ہوا ہے مگر کسی خوش فہمی میں مت رہنا بدذات لڑکی اگر آج مکری اجازت پر رخصتی کروا رہا ہے تو کل میرے حکم پر طلاق کے تین کاغذ تمہارے منہ پر بھی دے مارے گا۔۔۔ اس لئے خوابوں کی دنیا سے نکل آو لڑکی زیادہ اونچی اڑان بھرنے کی ضرورت نہیں ہے ورنہ پر کترنے میں اچھے سے جانتی ہوں۔۔۔ وہ شعلہ بار نگاہوں سے نور کو تکتی اس پر آگ نما الفاظ اگلتیں سامنے موجود شاپروں کو ٹھوکروں کی زد پر رکھتیں انیکسی سے باہر نکل گئیں۔۔۔ شاپروں میں موجود چیزیں جابجا ادھر ادھر لڑھکتیں اپنی بے قدری پر ماتم کناں تھیں۔۔۔ دو آنسو نور کی آنکھوں سے ٹوٹ کر بے مول ہوئے۔۔۔ دل میں درد کی ایک شدید لہر اٹھی تھی۔۔۔ آج اسے اپنی ماں شدت سے یاد آئی تھی۔۔۔۔ دل چاہا کہ سب کچھ بہار میں جھونک کر یہاں سے چلی جائے اور اگر وہ چند ماہ پہلے کی نور ہوتی تو کب کی اپنی سوچ پر عمل پیرا بھی ہو چکی ہوتی بھلا عزت نفس سے بڑھ کر بھی کوئی چیز تھی۔۔۔۔۔

مگر حالات و واقعات نے اسکی شخصیت پر گہرے اثرات مرتبہ کئے تھے اب وہ کسی بھی حالت میں فوری طور پر جذباتی پن کر مظاہرہ کرنے کی بجائے گہرائی سے ان حالات کا موازنہ کرتی ۔۔۔ زہرا بیگم کا رویہ اگر اسکے ساتھ تضحیک آمیز تھا تو کمال انکل اس پر جان چھڑکتے تھے وہ اسے ہر برے سے برے فیز سے نکالنے کو آ موجود ہوتے۔۔۔ مزید دریاب بھی اسے اس رشتہ کو نبھانے کا عندیہ اپنی پہلی ہی ملاقات میں دے چکا تھا پھر ایسے میں زہرا بیگم کی تلخ باتوں سے دلبرداشتہ ہو کر حالات سے فرار اختیار کرنا کوئی عقلمندانہ فیصلہ تو نا ہوتا۔۔۔

بیٹا زندگی کے سبھی دن خوشگوار نہیں ہو سکتے۔۔۔ کبھی حالات موافق تو کبھی ناموافق ہوتے ہیں۔۔۔ موافق حالات میں کبھی مغرور مت ہونا اور ناموافق حالات میں کبھی امید کا دامن مت چھوڑنا اللہ بہتریاں کرنے والا ہے۔۔۔ ہوا کے دوش پر ماں کی آواز کانوں سے ٹکرائی تو وہ ایک عزم سے اپنے آنسو صاف کرتی نیچے جھک کر بکھری چیزیں سمیٹنے لگی۔۔۔ بیٹا اللہ ہر وقت انسان کے ساتھ ہوتا ہے۔۔۔ اسے ہر مشکل سے نکلنے کی راہ دکھاتا ہے مگر یاد رکھنا کبھی بھی اللہ خود زمین پر اتر کر مدد کو نہیں آتا۔۔۔۔ اللہ نے صرف راہیں استوار کرنی ہے کرنا انسان نے خود ہے ۔۔۔ آج کے دور میں مدد کو ابابیل نہیں آتے ہر انسان کو اپنے مسائل خود ہی سلجھانے ہوتے ہیں کسی دوسرے پر انحصار کرنے والے لوگ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔۔۔ خودمختار بنو۔۔۔ ایسی کہ کوئی تمہیں مار بھی گرائے تو تمہارے چہرے سے تمہاری تکلیف عیاں نا ہو سکے اتنا چھپا لو خود کو۔۔۔ تمہارے دکھ تمہارے درد صرف تمہارے رب کے سامنے ظاہر ہونے چاہیے۔۔۔ تم میں وہ طاقت ہے کہ تم ستاروں پر کمنڈ ڈال سکتی ہو۔۔۔ اپنی طاقت کو پہچانو میری جان۔۔۔ کبھی ہمت مت ہارنا۔۔۔ برے سے برے وقت میں بھی امید کا دامن مت چھوڑنا۔۔۔ اچھائی کے لئے بہتری کے لئے کوشیش کرتی رہنا میں رہوں نا رہوں میرا رب تمہارے ساتھ ہے میری جان وہ تمہیں کسی مقام پر ہارنے نہیں دے گا بس صبر اور ہمت کا دامن نا چھوڑنا۔۔۔ سبھی چیزیں سمیٹ کر اسنے دیوار گیر الماری میں رکھی اور خود جا کر آئینے کے سامنے کھڑی ہوگئ ایک پر اسرار مسکراہت نے اسکے ہونٹوں کا احاطہ کیا۔

ماما اتنا کام ملا ہے کاش میرے پاس کوئی جادو کی جھری ہوتی میں اسے گھماتی اور میرے سبھی کام ہو جاتے۔۔۔ کتابوں میں سر کھپاتی اس دس سالہ نور کی آواز اسکی مسکراہٹ مزید گہری کر گئ۔۔۔

بیٹا اس دنیا میں جادو کہیں نہیں ہے۔۔۔ جادو تمہارے اندر ہے۔۔۔ اپنے اندر کے جادو کو باہر نکالو اور دیکھنا کہ تمہارے سبھی کام چٹکیوں میں ہوجاتے۔۔۔

نور کا دماغ بہت تیزی سے چل رہا تھا۔۔۔ جب رہنا یہیں پر تھا قسمت اسی گھر سے جڑی تھی تو آخر وہ کب تک زہرا بیگم کی کٹیلی اور غصیلی باتیں سنتی اسے بنا زبان اور ہاتِ کا استعمال کرتے انہیں اس کام اے روکنا تھا مگر کیسے یہ وہ سوچ چکی تھی۔۔۔ زہرا بیگم کی باتوں سے اسنے ڈپریشن میں نہیں جانا تھا بلکہ انکی باتیں انہیں پر پلٹانی تھی۔۔ وہ اپنے اندر کے جادو کو باہر لانے کو تیار تھی۔

********

رات بدگمانیوں کے سبھی بادل چھٹ گئے تھے۔۔۔ صبح آئتل اور عمران نے بہت خوشگوار موڈ میں ناشتہ کیا ۔۔ عمران کے آفس جانے کے بعد آئتل نے کچن سمیٹنا شروع کیا ہونٹوں پر ایک دھیمی سی مسکان سجی تھی۔کیونکہ عمران اسے شام میں تیار رہنے کا کہہ کر گیا تھا اسکا ارادہ پہلے شاپنگ اور پھر ڈنر کا تھا۔۔ وہ تیزی سے شلف صاف کر رہی تھی جب موبائل فون کی گھںٹی کی آواز آنے پر اسکی جانب متوجہ ہوئی اور سکرین پر یوسف کالنگ کے جگمگاتے الفاظ دیکھ کر وہ ایک ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئ عمران ابھی ابھی آفس گیا تھا اسنے اب شام میں ہی لوٹنا تھا مطلب وہ تسلی سے یوسف سے بات کر کے اسے آئندہ فون نا کرنے کے لئے منع کر سکتی تھی۔۔۔

اسلام علیکم سنک سے ہاتھ دھو کر وہ آنچل سے خشک کرتی کچن سے باہر نکلی۔۔۔

واعلیکم اسلام۔۔۔ کیسی ہو آئتل۔۔۔۔ یوسف نے اسکی آواز سن کر اپنے اندر سکون کی لہریں سرایت کرتی محسوس کیں۔۔۔

ٹھیک۔۔۔ اسکی فکرمندانہ آواز سن کر آئتل کی آنکھوں سے جھرنہ بہنا شروع ہوا تھا۔۔۔ تم خوش ہو آئتل۔۔۔ آواز میں کیسی بےقراری تھی آئتل کا دل چاہا پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔۔۔

میں خوش ہوں لیکن آپ نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا یوسف۔۔۔ بالکل اچھا نہیں کیا۔۔۔ آپ نے مجھے کبھی خودمختار نہیں بنے دیا یوسف۔۔۔ کیوں کیا آپنے میرے ساتھ ایسا۔۔۔ کیوں میرا ہر کام بنا کہے کردیتے تھے آپ۔۔۔ کیوں کبھی مجھے زندگی کی حالات کی تلخیوں کو فیس نہیں کرنے دیا آپنے۔۔۔ کیوں ہر دم ہاتھ کا چھالہ بنائے رکھا مجھے آپ نے۔۔۔

کیوں مجھے خود پر اتنا منحصر ہونے دیا کہ میرے ہر کام میں آپ خودبخود شامل ہوتے گئے یوسف۔۔۔ کیوں مجھے اپنا اتنا عادی بنا ڈالا۔۔۔۔ کیسے آپکی عادت ختم کروں اب ۔۔۔ آپکی اتنی عادی ہو گئ ہوں کے بے خودی میں بھی آپکا نام پکار دیتی ہوں۔۔۔ صوفے پر بیٹھتی سوں سوں کرتی وہ ہمیشہ کی طرح پھر سے اپنا مسلہ اسکے سامنے کھول کر رکھ رہی تھی۔۔۔ میں اس فیز سے نکلنا چاہتی ہوں یوسف۔۔۔ آپکو بھولنا چاہتی ہوں۔۔۔ کیا کروں۔۔۔یوسف لب بھینچے سرخ پڑتی آنکھوں کیساتھ اسے سن رہا تھا۔۔۔ میں عمران کے ساتھ مخلص ہو کر یہ رشتہ نبھانا چاہتی ہوں میں آپکو یاد نہیں کرنا چاہتی یوسف۔۔۔

میں عمران سے بات کرتی کرتی انہیں یوسف کہہ جاتی ہوں۔۔۔ آپ میری اس وقت کی شرمندگی محسوس کر سکتے ہیں یوسف۔۔۔ اس رشتے میں شراکت کوئی مرد برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔۔ عمران کا مجھ سے واحد اختلاف یہ ہی ہے۔۔۔ وہ نہیں چاہتے میں آپ سے بات کروں۔۔۔

عمران کا رویہ کیسا ہے تمہارے ساتھ۔۔ ناجانے وہ کس ضبط سے بول رہا تھا وہ سچ ہی تو کہہ رہی تھی کیوں اسنے آئتل کو خود پر منحصر رکھا تھا ۔۔۔ وہ کہاں جانتا تھا کہ اس متاع حیات سے دستبرداری بھی قسمت میں لکھی تھی۔۔۔۔

وہ بہت اچھے ہیں یوسف۔۔۔ میرا بہت خیال رکھتے ہیں۔۔۔ میں خوش ہوں آپنی زندگی میں۔۔۔ بس آپ دوبارہ مجھ سے رابطہ مت کرنا یہ میری التجا ہے آپ سے۔۔۔۔ اسنے کپکپاتے ہاتھوں سے اپنی آنکھوں سے بہتے جھرنے کو صاف کرتے کہا۔۔۔

میں دل سے دعاگو ہوں آئتل کے تم اپنی زندگی میں جلد از جلد سیٹل ہو جاو۔۔۔ میں تمہاری زندگی میں خلل نہیں ڈالوں گا خدا کرے کہ تم سدا خوش رہو۔۔۔ میں ان سب نزاکتوں کو سمجھتا ہوں اسی لئے تو ابھی تک تم سے رابطہ نہیں کیا تھا کہ تم اپنی زندگی میں سیٹل ہو جاو ۔ اب بھی ایک مقصد کے تحت کال کی تھی۔۔۔ میری شادی کی تاریخ طے ہوگئ ہے۔۔۔

شادی پر آو گئ آئتل۔۔۔ آئتل خاموشی سے اسے سن رہی تھی۔۔۔ وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا ۔۔ کب کیا تھا اسنے اسکی شادی کے بعد اسے رابطہ۔۔۔ جھرنا ایک مرتبہ پھر سے بہنا شروع ہوا تھا۔۔۔

کچھ کہہ نہیں سکتی یوسف ۔۔ اگر عمران نے اجازت دی تو ضرور آوں گی ورنہ میری نیک تمنائیں آپکے ساتھ ہی ہیں۔۔۔ اللہ آپکی زندگی کو خوشیوں سے بھر دے۔۔۔ ایک سسکاری بھرتے اسنے سرعت سے فون کاَٹا اور چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔

کچھ دیر تک دل کا درد ہلکا کرنے کے بعد چہرا صاف کرتی اٹھ کھڑی ہوئی وہ آج عمران کے لئے لنچ پر اچھے سے اہتمام کرنا چاہتی تھی۔۔۔ چہرے کو تھپتھپا کر وہ ابھی واپس پلٹی ہی تھی کہ دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ سامنے ہی عمران چہرے پر دنیا بھر کی سنجیدگی سمائے اسے ہی دیکھ رہا تھا اسے یوں دیکھ آئتل کی جان ہوا ہونے لگی۔

***”””