Hala By Umme Hania Readelle50346 Hala (Episode 30)
No Download Link
Rate this Novel
Hala (Episode 30)
Hala By Umme Hania
کون ہو سکتا ہے باہر وہ یہی سوچتی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی دروازے کی جانب بڑھی کہیں زہرہ بیگم تو نہیں۔۔۔ یہ خیال آتے ہی دل میں ایک ٹھیس سی اٹھی وہ اس وقت زہرہ بیگم کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھیں ۔۔۔۔ماضی کی خاردار جھاڑیوں پر چلنا آسان نہیں تھا اور وہ اس وقت اس کے گرداب میں جھکڑی لہولہان ہو چکی تھی ۔۔۔۔ اس کے دروازے تک پہنچنے تک دو دفعہ دستک مزید ہو چکی تھی ۔۔۔اس نے کسلمندی سے دروازہ کھولا دروازہ وا ہوتے ہی سامنے مضحمل سی زرش کھڑی دکھائی دی۔۔۔ ستا ہوا چہرہ اور متورم آنکھیں ۔۔۔ نور نے اسے حیرت سے دیکھا لیکن اس کی حیرت حد سے سوا تب ہوئی جب زرش نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگایا۔۔۔ آئی ایم سوری بھابھی۔۔۔۔ امی کے رویے کی بدصورتی کے لئے میں آپ سے معذرت خواہ ہوں ۔۔۔۔ پلیز مجھے معاف کر دیں میں چاہ کر بھی آپ کے لیے کچھ نہیں کر پائی ۔۔۔ شاید میرے الفاظ میں وہ تاثیر ہی نہیں تھی جو امی کا دل آپ کے لیے بدل دیتے۔۔۔ اس کے کان میں سرگوشی کی مانند بولتی وہ سسک اٹھی تھی۔۔۔ نور نے دونوں ہاتھ اٹھا کر اسے خود میں بھیجا ۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے زرش۔ ۔۔۔ تم مجھے میری چھوٹی بہنوں کی طرح عزیز ہو۔۔۔ پلیز ان سب چیزوں کو دل سے نکال دو نور نے اس کی کمر سہلاتے محبت سے جواب دیا تو وہچط مزید شدت سے رو دی۔۔۔
آپ بہت اچھی ہیں بھابھی ۔۔۔ کاش امی بھی آپ کی ان اچھائیوں کو دیکھ سکتیں وہ نور سے پیچھے ہٹتی اپنے آنسو صاف کرتی گویا ہوئی ۔۔۔
چلو اندر تو آو کیا یہیں کھڑی کھڑی ساری باتیں کرنے کا ارادہ ہے ۔۔۔ نور نے مسکراتے ہوئے گویا بات پلٹی۔۔۔ یہ وہ موضوع تھا جس پر آکر وہ ہمیشہ لاجواب ہو جاتا کرتی تھی۔۔۔
نہیں بھابھی دراصل حدید مجھے لینے آئے ہیں میں اپنے گھر جا رہی تھی صبح سے ہمت جٹا رہی تھی آپ کے پاس آنے کی لیکن ہر بار امی کے ناروا رویے کی شرمندگی کے باعث ہمت ہار جاتی ۔۔۔
مجھے لگا شاید میں آپ کا کبھی سامنا نہیں کر پاؤں گی اب بھی جانے سے پہلے دل پر بوجھ بڑھا تو ڈھیٹوں کی طرح آپ کے پاس آ گئی پشیمانی سے نظریں جھکائے خاموش بہتے آنسووں کے درمیان ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں رک رک کر بات کرتی نور کو وہ بہت اپنی اپنی سی لگی۔۔۔
پاگل۔۔۔ بولا تو ہے ایسی کوئی بات نہیں ۔۔۔ یہ تمہارا اپنا گھر ہے جب دل چاہے تم یہاں آؤ ۔۔۔ بلکہ تمہارے آنے سے مجھے خوشی ہوگی کیونکہ مجھے تم میں کمال انکل کی پرچھائی دکھائی دیتی ہے ۔۔۔ نور نے مسکراتے ہوئے بات کو ہلکا پھلکا روپ دینے کی خاطر اس کے سر پر چیت رسید کی کمال انکل کے ذکر پر اس کا اپنا دل بھر آیا تھا مگر وہ مگر وہ کمال مہارت سے خود پر قابو پا گی ۔۔۔۔
زریش نے پھیکا سا مسکرا کر اپنے آنسو صاف کیے ۔۔۔۔۔ چلتی ہوں بھابھی دیر ہو رہی ہے حدید گاڑی میں میرا انتظار کر رہے ہیں۔۔۔ وہ ایک مرتبہ پھر سے اس کے گلے لگی اور نم آنکھوں سے اسے دیکھتی واپس پلٹ گئی۔۔۔۔
نور کی نگاہوں نے تب تک اس کا پیچھا کیا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو گی اس گھر کے سبھی مقین بہت اچھے تھے سوائے زہرہ بیگم کے ۔۔۔
نور ایک گہری سانس خارج کرتی واپس اندر گی کیونکہ اندر بہت سارے کام اس کی نظر کرم کے منتظر تھے جنہیں ماضی کے گرداب میں پھنس کر وہ نظر انداز کر چکی تھی ۔۔۔۔
*******
نور عمران کیا آپکو فہد امداد سے بعوض حق مہر پچاس ہزار یہ نکاح قبول ہے۔۔۔
نور کے کمرے میں چند گواہاں اور مولوی صاحب کے ساتھ فرحین اور امداد بھی کروفر سے بیٹھے تھے۔۔۔ جبکہ فہد ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ سجائے تنی ہوئی گردن کیساتھ صوفے پر اکڑ کر بیٹھا تھا۔۔۔
غصے سے کھولتی نور بیڈ پر سر جھکائے بیٹھی ضبط کے کڑے مراحل سے گزر رہی تھی۔۔۔۔
اس کے پاس ہی نڈھال سی بیٹھی آئتل مسلسل کسی نہ کسی آیت کا ورد کر رہی تھی۔۔۔ اس میں تو اس وقت اتنی ہمت بھی نہ تھی کہ بیٹی کے لیے احتجاج ہی کر سکتی ۔۔۔
نہیں مجھے یہ نکاح ہرگز قبول نہیں ہے دوسری اور پھر تیسری مرتبہ مولوی صاحب کے مندرجات دہرانے پر وہ بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوتی غصے سے پھٹ پڑی ۔۔۔ ایک پل کے لئے کمرے میں ہر کسی کو سانپ سونگھ گیا ۔۔۔ ارے ارے بیٹا کیسی باتیں کر رہی ہو۔۔۔۔ اچھی لڑکیاں ایسا نہیں کرتیں ۔۔۔ بولو مولوی صاحب کو کہ تمہیں یہ نکاح قبول ہے۔۔۔ مولوی صاحب اور گواہان کی موجودگی میں فرحین محبت سے اسے پچکارتے ہوئے گویا ہوئی۔۔۔
نور انہیں کینہ توز نگاہوں سے دیکھتی ہوئی ماں کا ہاتھ تھام کر انہیں اٹھاتی کمرے سے نکل گی۔۔۔۔
بیٹا لڑکی کی مرضی کے بنا میں یہ نکاح نہیں پڑھوا سکتا۔۔۔ نکاح میں لڑکی کی مرضی کا شامل ہونا نہایت ضروری ہے مولوی صاحب انہیں کہتے اپنا رجسٹر اٹھا کر کمرے سے باہر نکلے تو ان کے پیچھے ہی ایک ایک کر کے باقی گواہان بھی نکل گئے ۔۔۔۔
فہد نے بڑی مشکل سے مولوی صاحب اور گواہان کے جانے کا انتظار کیا اور ان کے جاتے ہی وہ سرخ آنکھوں سے ایک ہی جھٹکے میں صوفے سے اٹھا اسکی تو ۔۔۔ وہ گالی بکتا ہاتھ سے میز پر پڑے کرسٹل کے گلدان کو زور سے زمین پر پٹختا باہر کی جانب بڑھا۔۔۔۔
ارے حد ہی ہوگئ آج تو بے حیائی کی۔۔۔ سب کے سامنے ہماری عزت دو کوڑی کی کر کے رکھ دی ان ماں بیٹیوں نے۔۔۔ فرحین باہر نکلتے ہی ان پر چڑھ دوڑی تھی۔۔۔
تو کس نے کہا تھا یہاں یہ تماشہ لگانے کو ۔۔۔ جب منع کر چکی ہوں کہ مجھے اس گھٹیا انسان سے شادی نہیں کرنی تو۔۔۔ نور بھی کہاں مرغوب ہونے والی تھی بھلا اسکے غصے سے۔۔۔
تماشہ کیا ہوتا یہ تمہیں ابھی بتاتا۔ہوں۔۔۔ فہد نے اسکے پاس آتے غصے سے اسکی بازو جھکڑتے اسے کھینچا۔۔۔ چھوڑو مجھے گھٹیا انسان تم ہر بار میرے ساتھ یوں زور زبردستی نہیں کر سکتے میں تمہارے خلاف ایکشن لوں گی ۔۔۔ نور بھرپور مزاحمت کرتی اسکا مقابلہ کر رہی تھی۔۔۔ ایکشن لینے لائق چھوڑوں گا تو ایکشن لو گئ نا۔۔۔ آج کے بعد تم کسی کو تو کیا آئنے میں اپنا چہرا دیکھنا تک بھول جاو گئ گڑنٹی ہے یہ میری فہد نے کمینگی کی انتہا کرتے ہوئے اسے دونوں بازوں میں جھکڑے کمرے میں کھینچا مگر اس بار اسنے نور کو اندر دھکا دے کر باہر سے دروازہ بند نہیں کیا تھا بلکہ خود بھی اندر جاتے درواہ اندر سے لاک کیا تھا پہلی مرتبہ نور کا دل شدت سے ڈھرکا۔۔۔۔ چہرے پر خوف کے سائے لہرائے وہ اس قدر کمینگی پر اتر سکتا تھا وہ نہیں جانتی تھی۔۔۔
فر۔۔۔ فرحین۔۔۔ میری بچی۔۔۔ بھائی صاحب۔۔۔ نور۔۔۔ اسے روکیں۔۔۔ نوررر۔۔۔ آئتل فہد کی اس حرکت پر بوکھلائی گھبرائی سی اپنے کپکپاتے بدن کو گھسیٹتے کبھی فرحین اور کبھی امداد کے پاس التجائیں کرتی جا رہی ہے مگر وہ دونوں بے حس بنے کروفر سے بیٹھے تھے جیسے انکی نظر میں کچھ ہو ہی نا رہا ہو۔۔۔ ہم نے تو عزت دینے کی کوشیش کی تھی مگر تمہیں اور تمہاری بیٹی کو عزت راس ہی نا آئی۔۔۔ فرحین نخوت سے کہتی پہلو بدل گئ۔۔۔
امی ی ی ی ی ی ی ۔۔۔ اندر سے نور کی دل خراش چیخ برآمد ہوئی جو آئتل کا دل چیر گئ جسم سے روح کا پرواز ہونا کیسا ہوتا ہے آئتل اس وقت محسوس کر سکتی تھی جیسے کوئی اس وقت اسے داغ رہا ہو اور نور کی چیخوں کی ساتھ وہ داغ اسکے دل پر رکھ رہا ہو اسے سانس لینے میں دشواری ہونے لگی تھی۔۔۔ میری بچییییی۔۔۔۔
فہد نے ایک ہی جھٹکے سے اسکا آنچل کھینچتے پیچھے پھینکا ۔۔۔۔ وہ ایک ہی جست میں نور دبوچتا اسے بیڈ پر پھینک چکا تھا آنکھوں میں واضح وحشت اور درندگی تھی نور کی روح تک کانپ اٹھی۔۔۔ اسکے دست درازی پر اترنے پر وہ بن جل مچھلی کی مانند تڑپ اٹھی تھی وہ لڑکی ہوکر اس مرد کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی اتنی سی دیر میں وہ اچھے سے جان گئ تھی۔۔۔
فرحین۔۔۔فرحین۔۔۔ میں خود اسکا نکاح فہد سے کرواوں گی۔۔۔ میں میں اسے راضی کروں گی اس نکاح کے لئے تم خدارا فہد کو بولو دروازہ کھول دے وہ۔۔ اسے داغدار نا کرے وہ مر جائے گی۔۔۔وہ مر جائے گی۔۔۔ نور کی دلخراش چینخیں اس گھر کے درودیوار ہلا رہی تھیں جیسے کوئی اسے ذبح کر رہا ہو۔۔۔ جیسے کوئی اسکی سانسیں چھین رہا ہو۔۔۔ جیسے کوئی اسے زندہ درگو کررہا ہو۔۔۔۔ جیسے کوئی اسے اذیت ناک موت دے رہا اور تبھی آئتل بیگم کی ہمت جواب دے گی تھی وہ کپکپاتے ہاتھوں سے فرحین کے پاوں پکرتی زارو قطار روتے ہوئے سسک اٹھی تھیں۔۔۔فرحین اسے بولو کے دروازہ کھول دے اس سے پہلے کے بہت دیر ہو جائے۔۔۔۔ ایک آسودہ مسکراہٹ نے فرحین کے چہرے کا احاطہ کیا۔۔۔
نہیں۔۔۔۔ نہیں فہد۔۔۔ نہیں مجھے چھوڑ دو۔۔۔ میں تم سے نکاح کے لئے تیار ہوں۔۔۔ تمہیں خدا کا واسطہ فہد مجھے چھوڑ دو۔۔۔۔فہد کے ساتھ مزاحمت کرنے میں بے طرح ناکام ہو کر نور ندھال سی سسکتی ہوئی اب فریادوں پر اتر آئی تھی وہ مکمل طور پر اس پر ہاوی ہو چکا تھا۔۔۔ نور اچھے سے جان چکی تھی کہ اب فہد کے ہاتھوں زیر ہونا بہت دیر کی بات نہیں تھی۔۔۔ وہ کسی ناقابل تلافی نقصان کی آہل نہیں ہو سکتی تھی۔۔۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اسکی سسکتی فریادوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔۔۔نور کی فریادوں کو سن کر فہد نے اسے ایک جھٹکے سے پیچھے کیا اور کروفر سے ایک حقارت زدہ نظر اسکے ادھموے وجود پر ڈال کر بیڈ سے اترا اور اپنے بال سیٹ کرتا دروازے کے پاس جاتے اسنے دروازہ وا کیا۔۔۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر آئتل چیل کی سی تیزی سے کمرے کی جانب لپکی جبکہ نور بھی اپنے نیم مردہ وجود کو گھسیٹتی سرعت سے بیڈ سے اترتی ماں کی جانب بھاگی ۔۔۔بکھرے بال پھٹا لباس ننگے پاوں کچھ دیر پہلے اس پر گزری تباہ کاریوں کی چیخ چیخ کر نشاندہی کر رہا تھا۔۔۔ کمرے کے دروازے کے پاس ہی وہ آئتل کی آغوش میں سماتی ہچکیاں بھرنے لگی اسے ابھی تک اپنا جسم جلتا محسوس ہو رہا تھا جہاں وہ گھٹیا شخص اپنا لمس چھوڑ چکا تھا۔۔۔ آئتل اپنے بے جان ہوتے وجود میں اسے چھپاتی وہیں اسے لئے زمین پر ڈھے گئ۔۔ آئتل کے بین ہر ذی روح کو کپکپانے پر مجبور کر رہے تھے وہ نور کے نیم مردہ کپکپاتے وجود کو خود میں شدت سے بھینچے اسے تحفظ فراہم کرنے کی ناکام سی کوشیش کر رہی تھی۔۔۔۔ چیخ چیخ کر نور کا گلہ بیٹھ چکا تھا۔۔۔ نور ابھی تک صدمے کے زیر اثر تھی۔۔۔ لمحوں میں اسکے ساتھ کیا سے کیا ہونے جا رہا تھا اسے فہد سے جی بھر کر خوف آیا اگر وہ گھٹیا شخص اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا تو وہ کیا کرتی۔۔۔ وہ واقعی سچ کہہ رہا تھا نور کسی اور سے تو کیا اپنے آپ تک سے نظریں نا ملا پاتی۔۔۔ ہاں وہ عزت کے معاملے میں اتنی ہی خودار تھی ۔۔۔ مگر اب۔۔ ابھی تو اسے خود اپنے وجود سے بھی گھن آ رہی تھی جو کچھ دیر پہلے اس درندے کی گرفت میں تھا۔۔۔ باہر ان دونوں ماں بیٹی کیساتھ آسمان بھی کھل کر رو رہا تھا۔۔۔
******
نور بیٹا تم یہاں سے بھاگ جاو۔۔۔ آج کی رات بہت بھیانک ہے۔۔۔ کل صبح کا دن تمہارے زندگی میں روشنیاں نہیں بلکہ اندھیر لے کر آئے گا۔۔۔ بچے تم چلی جاو یہاں سے ۔۔ میں اپنی آنکھوں کے سامنے تمہیں برباد ہوتا نہیں دیکھ سکتی۔۔۔ ایک درندہ صفت انسان سے تمہاری شادی نہیں ہونے دے سکتی۔۔۔ آئتل نور کے دونوں ہاتھ تھامے خوف سے کپکپاتے لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔ آئتل کی طبیعت بگڑنے لگی تھی جسکے باعث نور کو اپنے حواس قائم کرتے خود کو سمِبھالنا پڑا وہ ہمت کر کے وہاں سے اٹھتی ماں کو کمرے میں لے کر آئی اور انہیں بیڈ پر لیٹا کر ان پر لحاف اوڑھ کر خود کچن میں انکے لئے پرہیزی کھانا بنانے گئ۔۔۔ ہر طرف پرسکون فضا تھی کیونکہ صبح نور کا فہد سے نکاح تھا اس لئے وہ زرا بے فکری سے کھڑی ماں کے لئے دلیہ بنا رہی تھی۔۔۔ جبکہ اس دوران فہد کئ بار وہاں آکر کئ گستاخیاں کر گیا تھا کبھی وہ کام کرتے نور کے ہاتھ تھام لیتا کبھی اسکے کندھے سے کندھا ٹکراتا۔۔۔ کبھی واحیات فقرے کستا۔۔۔۔ تمہیں پتہ ہے نور تم میں ایک بیئر کی بوتل سے زیادہ نشہ ہے جو حواس صلب کر لیتا ہے ظلم کیا ہے تم نے مجھ پر جو صبح تک کا وقت لیا ہے اپنی حشرسامانیوں سے لطف اندوز بھی نہیں ہونے دیا ظالم۔۔۔ درز سا تو خراج پیش کر لینے دیتی اپنے اس نوخیز حسن کو ۔ وہ اسکا ہاتھ سہلاتا مسلسل فضول گوئی کر رہا تھا۔۔۔ لیکن نور بنا کوئی ردعمل ظاہر کئے یا اسے ٹوکے بے حس بنی ضبط سے کھڑی آنسو اندر ہی اندر گرا رہی تھی وہ بے بسی کی انتہا تھی۔۔ اسے اپنا ہاتھ جلتا محسوس ہوا۔۔۔ دل چاہا اا ہاتھ کو یہیں کاٹ کر پھینک جائے۔۔۔ وہ بہت جذباتی تھی کسی بھی چیز کا فوری ردعمل دینے والی۔۔۔ لیکن برداشت کی اس سیڑھی پر اسے حالات بیٹھا چکے تھے جہاں مصلحت سے کام لیا جاتا تھا۔۔۔ دل خون کے آنسو رو رہا تھا سلگ رہا تھا کٹ رہا تھا مگر وہ ہاتھ اسکی گرفت سے کھینچ نہیں سکتی تھی اس گھٹیا لفاظی پر اسکا منہ ٹور نہیں سکتی تھی کیونکہ جانتی تھی کہ وہ جان بوجھ کر اسکا ضبط آزما رہا ہے کیونکہ اس وقت وہاں مزاحمت کرنا اسکی تردید کرنا مطلب اسکے اندر کے درندے کو جگانا تھا اور وہ ابھی کچھ دیر پہلے کا واقعہ بھولی نہیں تھی۔۔۔ دل کیساتھ ساتھ ابھی تک اسکی ٹانگیں بھی کپکپا رہی تھیں۔۔۔
بعجلت دلیہ بنا کر اور دودھ کا گلاس گرم کرکے ڈش میں رکھ کر سرعت سے کچن سے نکلی ۔۔۔ اب وہ ماں کو دلیہ کھلانے کے بعد ماں کو دوائی کھلا کر فارغ ہوئی تھی جبکہ دل ابھی تک خوف ہراس کے زیر اثر تھا۔۔۔ اسے یہ ماننے میں کوئی آڑ نا تھی کہ اسکے دل پر فہد کا خوف اور دہشت بے طرح کنڈلی مارے بیٹھ گیا تھا وہ انہی خیالوں میں کھوئی تھی جب اسکی ماں اسکے ہاتھ تھامے گویا ہوئی ۔۔۔۔ اسکا دماغ مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔۔۔ اپنے طور وہ آج کے واقعہ کے بعد اپنی شکست قبول کر چکی تھی پر اب اسکی ماں اسے یہ کونسا راستہ دکھا رہی تھی۔۔۔۔
امی۔۔۔ ٹھیک کہہ رہی ہوں میں نور اپنا ضروری سامان پیک کرو اور اسے پاس رکھو آئتل نے اسے ہدایت دینے کے ساتھ ہی کانوں میں موجود بالیاں اور گلے میں موجود واحد چین اتار کر اسکی ہتھیلی پر رکھی۔۔۔ اسے بیچ کر تمہیں کچھ رقم مل جائے گی۔۔۔ اس شہر سے دور کسی بھی دوسرے شہر میں کسی ہاسٹل میں رہائش کا بندوبست کر لینا۔۔۔ کوئی چھوٹی موٹی نوکری کر لینا۔۔ مگر ابھی یہاں سے نکلو تم۔۔۔ آئتل تو گویا سب کچھ پلان کر چکی تھی۔۔۔ نور پھٹی پھٹی نگاہوں سے ماں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ اور امی آپ۔۔۔ وہ کپکپاتے لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔ یہ لوگ میرا کچھ نہیں بیگاڑ سکتے میں۔۔۔ وہ کچھ نہیں بیگاڑ سکتے مگر میں آپکو اکیلا چھوڑ کر نہیں جاوں گی۔۔۔ یہاں تو ہر دوسرے گھنٹے آپکی طبیعت خراب ہوجاتی ہے۔۔۔ مم۔۔۔ میں ایسا نہیں کروں گی۔۔۔ نور بیٹا۔۔۔ امی میں ایساااااا ہرگزززززز نہیں کروں ن ن گئیییی۔۔۔ آپکے بناااااا نہیںنننن۔۔۔ امیییییی۔۔۔ نہیںنننن۔۔۔ وہ ٹرپ ہی تو اٹھی تھی ماں کے اس مطالبے پر۔۔۔ یکدم ہی دل پر ہاتھ پڑا تھا گویا کسی نے ایک ہی جھٹکے میں جسم سے روح کھینچ لی ہو۔۔۔۔ آنسو پھسل پھسل کر مومی چہرے پر بہتے بے مول ہو رہے تھے۔۔۔ میں تمہیں برباد ہوتا نہیں دیکھ سکتی نور۔۔۔ میری ممتا کو یہ گوارا نہیں۔۔۔ بے بسی ہی بے بسی تھی انکے لہجے میں۔۔۔ زندگی کبھی یہ رخ بھی اختیار کرے گی آئتل نے سوچا تک نا تھا۔۔۔
ٹھیک ہے امی۔۔۔ میں اکیلی نہیں ہم دونوں جائیں گے یہاں سے چلیں جلدی کریں۔۔ نور اپنے آنسو صاف کرتی ایک عزم سے اٹھی گویا اسکے اندر بجلیاں سی بھر گئ ہوں۔۔۔ تیر کی سی تیزی سے وہ الماری کی جانب گئ جھٹکے سے اسکے پٹ وا کئے اچک کر اوپر سے بیگ کھنچا۔۔۔ جو جو کپڑا سامنے دکھائی دیا کھینچ کھینچ کر الماری سے نکالا اور ایسے ہی بیگ میں ٹھونس کر ماں کے پکڑائے بالیاں اور چین اسی بیگ کی چھوٹی زپ میں رکھی۔۔۔ دراز میں سائڈ پر بچا کر رکھے کچھ پیسے نکال کر ہاتھ میں تھامے اور اسکی زپ بند کر کے بیگ ہاتھ میں تھاما پھر ایک چادر اٹھا کر گھوم کر ماں کے پاس آئی۔۔۔ چادر ماں کے گرد لپیٹی اور نیچے سے ماں کا جوتا اٹھا کر سامنے رکھ کر سیدھی ہوئی اور اپنی چادر خود پر اچھے سے پھیلائی جبکہ آئتل حق دق بیٹی کی یہ تیزیاں دیکھ رہی تھی۔۔۔ نور بچے۔۔۔۔
بس امی۔۔۔ بحث نہیں۔۔ نا ہی یہ بحث کا وقت ہے۔۔۔۔ گھر سے جائیں گے تو دونوں ورنہ میں کہیں نہیں جاوں گی۔۔۔ اسکے لہجے کی پختگی نے آئتل کے الفاظ سلب کر لئے اسی لئے خاموشی سے اٹھ کر جوتا پہننے لگی۔۔۔ کمرے کا دروازہ وا کر کے نور نے تھوڑا سا چہرا باہر نکال کر ادھر ادھر جھانکا۔۔۔ چار سو ہو کا عالم تھا گویا سب مطمعین ہو کر محو استراحت ہوں۔۔۔ وہ جلدی سے ماں کا ہاتھ تھام کر باہر نکلی اور اسی تیزی سے سیڑھیاں پھیلانگ کر نیچے آئی ۔۔۔ دل ایک سو اسی کی رفتار سے ڈھرک رہا تھا۔۔ اگر پکڑی گئیں تو۔۔۔ کچھ دیر پہلے کا منظر آنکھوں کے سامنے لہرایا تو جسم پر کپکپی طاری ہوگئ۔۔۔ اسنے حواس باختہ سی نے داخلی دروازہ کھولا تو یکدم ہی بہت آواز پیدا ہوئی۔۔۔ کون ہے وہاں۔۔۔۔ فرحین بیگم کی آواز پر دونوں کے جسموں میں گردش کرتا خون یکلخت ہی منجمند ہوا تھا جو اچانک ہی وہاں نمودار ہوئی تھی۔۔۔ کہاں جا رہی ہو دونوں انہوں نے ایک ہی جست میں بڑھ کر آئتل کی بازو تھامی۔۔۔ نور تم بھاگ جاو۔۔۔ بھاگو نور۔۔۔ آئتل نے کھلے دروازے سے نور کو باہر دھکا دیا۔۔۔ فہد ددد۔۔۔ امدادددد دیکھو یہ دونوں ماں بیٹی بھاگ رہی ہیں۔۔۔ نور بھاگو۔۔۔ آئتل کے کپکپاتے لہجے میں فریاد تھی گویا نور نا بھاگی تو کچھ دیر پہلے جو انہونی ٹلی تھی وہ وقوع پذیر ہو جائے گی۔۔۔ نور جھٹکے سے واپس مڑی اور پوری قوت سے فرحین بیگم کے پیٹ میں ٹانگ رسید کی۔۔۔ آہ ہ ہ ۔۔ وہ کراہ کر آئتل کا بازو چھوڑتی پیچھے جا کر گری۔۔ بھاگو ماں۔۔۔ اسنے ماں کا بازو کھینچا۔۔۔ رک جاو گھٹیا لڑکی۔۔۔ میں کہہ رہا ہوں رک جاو ورنہ مجھ سے بڑا کوئی نہی۔۔۔ فہد کمرے سے نکلتا ڈھارٹا ہوا انکی جانب لپکا۔۔۔ خوف و ہراس سے نور کے ہاتھ سے بیگ چھوٹا۔۔۔کپکپاتے ہاتھوں سے نور نے ماں کو کھینچا۔۔۔۔ دونوں ماں بیٹی ڈھرکتے دل کیساتھ سرپٹ باہر کو بھاگیں۔۔۔
واچ مین ۔۔۔ واچ مین گیٹ بند کرو یہ دونوں باہر نہیں نکلنی چاہیے۔۔ فہد خطرناک غزائم لئے انکے پیچھے بھاگتا واچ مین کو اونچی آوازیں دے رہا تھا خود اسے چھت ہر ہونے کے باعث ان تک پہنچنے میں کچھ دیر لگی وہ سرعت سے سیڑھیاں پھیلانگ رہا تھا۔۔۔ نور کو اپنا جسم بے جان ہوتا محسوس ہوا۔۔۔ اسے اپنی موت سامنے دکھائی دے رہی تھی
_______
