Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hala (Episode 36)

Hala By Umme Hania

آپکے ساتھ جاتی ہے میری جوتی۔۔۔۔۔حدید اپنے آفس میں ریوالوینگ چیئر پر بیٹھا کھٹاکھٹ لیپ ٹاپ کی کیز دباتا کوئی کام کر رہا تھا جب زرش کی صبح کی بات یاد آنے پرجی جان سے مسکرا دیا ۔۔ پاگل۔۔۔ اسنے مسکراتے ہوئے لیپ ٹاپ بند کیا اور سیٹ کی پشت سے کمر ٹکاتے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔۔۔ اسکی سوچوں کا محور وہی پھلجھڑی تھی جو صبح سے ہی بن بلائے مہمان کی طرح اسکے خیالوں میں آتی اسے اچھا خاصا ڈسٹرب کر چکی تھی۔۔۔ ٹھیک تھا کہ وہ زرش کے حوالے سے بہت سارے تحفظات کا شکار تھا اسے بہت سے واہمے لاحق تھے مگر صبح اسکا بچکانہ ضدی انداز دیکھ کر اس پر انکشاف ہوا کہ کہیں نا کہیں اسکے اندر ایک بہت معصوم سی لڑکی بھی موجود ہے۔۔۔۔ آج صبح اسکی آنکھوں میں موجود نمی اور اسکا حدید کو بے بسی سے دیکھ کر دھکا دے کر جانا گویا سیدھا حدید کے دل پر وار کر گیا تھا۔۔۔ حدید نے بازو پر بندھی رسٹ واچ پر وقت دیکھا شام کے پانچ بج رہے تھے۔۔۔ رات میں انہیں گاوں جانے کے لئے نکلنا تھا۔۔۔ اسے ہی سوچتے حدید نے اپنا کام وائنڈ آپ کیا اور وقت سے پہلے ہی آفس سے نکل آیا۔۔۔ اب اسکا رخ مارکیٹ کی جانب تھا۔۔۔ ناجانے کیوں آج دل ایک الگ ہی لے پر ڈھرکنے لگا تھا۔۔۔ سب کچھ بھلائے بس وہ اس لڑکی کو خوش دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔ کیا احساس تھا ان نم آنکھوں میں کہ وہ ان آنکھوں کے حصار سے نکل ہی نہیں پا رہا تھا۔۔ صبح وہ اس سے شدید ناراض تھی۔۔۔ انکا رشتہ اچانک جڑا تھا لیکن اتنے دنوں سے ساتھ رہتے اور زرش کو بھرپور نظرانداز کرتے بھی کبھی وہ اسے اس انداز میں نہیں سوچ سکا تھا جیسا آج سوچ رہا تھا۔۔۔ وہ اسے اب نرمی اور محبت سے ٹریٹ کرنا چاہتا تھا۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ وہ تھوڑی سی توجہ اور محبت سے ہی اسکے رنگ میں رنگ جائے گی وہ اب خود کو بھی اسکی خوشی کے لئے بدلنا چاہتا تھا۔۔۔ اپنے بہت جلد ٹمپر لوز کر جانے کی عادت پر قابو پانا چاہتا تھا۔۔۔ ایک جیولرز کی دکان کے سامنے گاڑی روکتے وہ گاڑی سے اترا نگاہوں میں اسکا ناراض سا سراپا لہرایا ۔۔۔ تقریباً پندرہ منٹ کی خواری کے بعد وہ زرش کے لئے ایک خوبصورت سا گولڈ بریسلٹ خرید چکا تھا جس پر چھوٹے چھوٹے نفیس سے ڈائمنڈ جڑے تھے۔۔۔ وہ بریسلٹ دیکھنے میں ہی بہت نازک اور نفیس سا لگتا تھا۔۔۔ حدید کو وہ زرش کے لئے ایک دم پرفیکٹ لگا۔۔۔ اب اسکا رخ گھر کی جانب تھا جہاں اسکی ناراض محبوبہ نجانے گاوں جانے کے لئے تیار ہوئی بھی تھی کہ نہیں۔۔۔

اسے ہی سوچتے ایک دفعہ پھر سے مسکراہٹ نے اسکا احاطہ کیا۔۔۔ اسکی گاڑی گیٹ کے قریب پہنچتے ہی وہاں پہلے سے موجود کسی سے بات کرتے چوکیدار نے سرعت سے گیٹ وا کیا۔۔۔ لیکن وہ گاڑی اندر بڑھانے کی بجائے گاڑی وہیں روک کر باہر نکلا۔۔۔ ماتھے پر جابجا شکنوں کا جال اسکے لمحوں میں شدید غصے میں آنے کی علامت تھا۔۔۔ وجہ پاس کھڑا وہ کوریر والا تھا جو ہاتھ میں ایک پارسل تھامے چوکیدار سے مخاطب تھا۔۔۔

دیکھیں یہ کسی زرش کمال کا پارسل ہے آپ انہیں کہیں آ کر وہ اسے ریسیو کر لیں۔۔۔ صاب آپ یہ ام کو دے دیں ام بی بی جی کو دے دے گا۔۔۔ چوکیدار عاجزی سے اس کوریر والے کے سامنے منمنا رہا تھا جب حدید نے اسے کندھے سے تھامتے پیچھے کیا اور خود اس کوریر والے کے روبرو گیا۔۔۔ دیکھیں آپ زرش کمال کو بلا دیں یا پھر میں ان سے فون پر پوچھ لوں پھر یہ پارسل آپکو دے دوں گا۔۔۔ وہ شخص شاید حدید کی پرسنیلٹی دیکھ کر مرغوب ہوا تھا اس لئے اسے دیکھ کر منمنا کر کہتا جیب سے اپنا موبائل نکالتا پارسل سے دیکھ کر زرش کا نمبر ملانے لگا۔۔۔ حدید نے جبرے بھینچتے زور سے اپنی مٹھیاں بھینچی۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ زرش کا نمبر ڈائل کر کے فون کان سے لگاتا حدید نے جھپٹ کر اسکے ہاتھ سے پارسل کھینچا۔۔۔ کوریر والے نے حیرت و تعجب سے حدید کو دیکھا۔۔۔

نمبر ڈیلیٹ کرو۔۔۔ حدید اسے خونخوار نگاہوں سے دیکھتا آنکھ سے اشارہ کرتا سختی سے گویا ہوا۔۔۔ آواز میں ایسی پھنکار ضرور موجود تھی کہ اس کوریر والے کی زبان تالو سے چپک گئ۔۔۔ اسنے سرعت سے نمبر ڈیلیٹ کرتے موبائل کی سکریں حدید کی جانب کر کے دکھائی۔۔۔

حدید نے پارسل پر ایک اچیٹتی نگاہ ڈالی جہاں زرش کمال لکھنے کے بعد اسکا فون نمبر اور گھر کا مکمل ایڈریس لکھا تھا۔۔۔ حدید کا فشار خون مزید بلند ہوا۔۔۔

سر۔۔۔ سر یہاں سائن کر دیں کوریر والے نے حدید سے مزید بحث کئے بنا ایک پیپر اسکی جانب بڑھایا۔۔۔ حدید نے غصے سے اسکے ہاتھ سے کاغذ پین جھپٹ کر اس پر سائن کئے اور گاڑی کی چابی پاس کھڑے چوکیدار پر پھینکی۔۔۔ گاڑی اندر پارک کر دو۔۔۔ کاغذ واپس کوریر والے کو پکڑا کر واچ مین کو سختی سے کہتا وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اندر ونی حصے کی جانب بڑھا۔

*******

آپ جھوٹے ہیں جھوٹے ہیں جھوٹے ہیں دریاب۔۔۔ کیوں اتنے ہمدم اتنے ہمدرد بن کر میرے پاس آتے ہیں۔۔۔ آخر آپکا اصل چہرا ہے کونسا۔۔۔۔ آپ چاہتے کیا ہیں مجھ سے۔۔۔ مجھے توڑ کر آخر آپکی کس انا کی تسکین ہو گئ۔۔۔۔ نور کافی دیر سے وہیں صوفے پر بیٹھی سسک سسک کر رو رہی تھی۔۔۔اسے ہر مرتبہ لگتا کہ اب قسمت اس کے ساتھ مزید کچھ برا نہیں کرے گی مگر قسمت ہر بار اسے غلط ثابت کر دیتی تھی۔۔۔ آج کا صدمہ سب سے بڑا تھا۔۔۔ دریاب کی دوسری شادی کا سوچ کر ہی اسکا دل پھٹ رہا تھا۔۔۔ دل کا غم آنسوں کی صورت آنکھوں سے بہہ رہا تھا۔۔۔ یہ تکلیف برداشت سے باہر تھی اس تکلیف کہ شدت سب سے قاری تھی۔۔۔ وہ اپنی محبت پا لیتا۔۔۔ اپنی کولیگ سے شادی کر لیتا۔۔۔ پھر۔۔۔ وہ اسکے ساتھ خوش رہتا نور کے سامنے اسکے نازو اندام اٹھاتا۔۔۔ اسکے آگے پیچھے پھرتا۔۔۔ کیا وہ یہ سب برداشت کر سکتی تھی۔۔۔ نہیں نہیں نہیں۔۔ اندر سے کوئی چیخا تھا۔ اسے یہ شراکت قطعاً قطعاً قطعاً گوارا نہ تھی۔۔۔ سر چکرانے لگا تھا۔۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا تھا۔۔۔ کیا وہ دریاب کو روکنے کا حق رکھتی تھی کیا اسے دریاب سے بات کرنی چاہیے۔۔۔۔ صوفے پر بیٹھی گھٹنے پیٹ سے لگائے پاوں قینچی کی صورت بنائے دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو شدت سے بھینچے ہونٹ چباتی وہ ہر ہر پہلو سے اس مسلے پر سوچ رہی تھی۔اسکے ایک ایک انداز سے بےچینی چھلک رہی تھی۔۔۔۔ اسکی تمام ممکنا صورتحال۔۔۔۔ اس سے اسکی زندگی میں کیا کیا منفی اور کیا کیا مثبت ہو سکتا تھا سب کچھ اس وقت اسکے دماغ میں چل رہا تھا۔۔۔ اگر وہ دریاب کے منت ترلے کر کے اسے دوسری شادی نہ کرنے پر تیار کر بھی لیتی تو آگے پھر کیا ہونا تھا۔۔۔۔ زہرا بیگم کبھی نا مانتیں۔۔۔ وہ انکے سامنے بچھ بھی جاتی تو بھی وہ اسے دھتکار دیتیں۔۔۔ پھر اسے کیا کرنا چاہیے تھا۔۔۔ بلآخر کئ گھنٹوں کی خود سے جنگ کے بعد وہ اسی نتیجے پر پہنچی تِھی کہ اسے اپنے اوپر دوبارہ سے سختی اور بےحسی کا خول چڑھانا ہی چڑھانا تھا۔۔۔ وہ دریاب سے محبت نہیں عشق کرنے لگی تھی لیکن اسکے ساتھ یہ بھی حقیقت تھی کہ دریاب اس کے لئے ناقابل تسخیر تھا ۔ ۔ وہ چاہ کر بھی اس مکمل شخص کو پا نہیں سکتی تھی۔۔۔ اس سوچ کے دماغ میں آتے ہی دل کرلا اٹھا تھا۔۔۔ جیسے وہ سینے کی حدود سے سر پٹختا بغاوت پر اترا آیا ہو ۔۔

وہ ایک عزم سے رگڑ کر آنسو صاف کرتی اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔۔۔ وہ دوبارہ کبھی دریاب کو اجازت نہیں دے گی کہ وہ اسکے اتنے قریب آئے۔۔۔ وہ بے مقصد اپنی زندگی کو ضائع نہیں ہونے دے گی۔۔۔ مختلف سوچوں کے دماغ میں آنے سے وہ کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔ کمرے میں آ کر وارڈروب کھولی وہاں سے گرم کپڑے نکالے اور واش روم میں جا کر یخ ٹھنڈے پانی کے نیچے کھڑی ہوگئ۔۔۔ اس ٹھنڈے پانی نے ہڈہوں میں گھس کر خون کی گردش کو منجمند کر دیا تھا۔۔۔ ابتدائی کچھ سیکنڈز میں ہی اس پر بے طرح کپکپی طاری ہو گئ تھی مگر وہ بہت جنونی ہو رہی تھی۔۔۔ شاید یہ دریاب سے دل لگانے کی سزا تھی جو وہ خود کو دے رہی تھی یا اسکی یادوں سے فرار کی ایک لاحاصل سی کوشیش۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ شاور لے کر باہر نکلی تو اسکا سر مسلسل چکرا رہا تھا۔۔۔ آتے ہی گرم پانی سے اپنی دوائیاں نگلتے اسنے لانگ شوز پہنے۔۔۔ دماغ کو کچھ سکون ملا تھا۔۔۔ اسے اپنی زندگی ضائع نہی کرنی تِھی دریاب کے گرداب سے نکل کر اسے بہت کچھ کرنا تھا۔۔۔ مکمل تیار ہو کر اسنے سر پر گرم شال اوڑھی اور اپنے کلچ میں پیسے گن کر رکھتے انیکسی سے باہر نکل گئ۔۔۔ چال میں واضح مضبوطی اور عزم تھا۔۔۔گیٹ کراس کرتے اسے گڈی باہر سے اندر آتی دیکھائی دی۔۔۔ نور باجی آپ کہاں جا رہی ہیں۔۔ گڈی کے حیرت سے استفسار کرنے پر وہ سنجیدگی سے اسے بے طرح نظرانداز کرتی آگے بڑھ کر روڈ سے ٹیکسی روکنے لگی۔۔۔ اس وقت کسی سے بات کرنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔۔۔

نور باجی اندر گاڑی کھڑی ہے آپ ۔۔۔ ہکا بقا سی گڈی نے اسکے پیچھے ہی باہر نکل کر کہنا چاہا مگر تب تک ٹیکسی چل پڑی تھی۔۔۔ آنکھوں کے سامنے بہت کچھ چل رہا تھا مگر فلحال وہ سب کچھ جھٹک کر اپنی شاپنگ کرنا چاہتی تھی۔۔۔ کافی دیر ہو گئ تھی اسے شاپنگ کئے ہوئے خریدنے والی چیزوں کی کافی لمبی لسٹ تیار ہو گئ تھی اسکے پاس اور اب تو کمال انکل بھی نہیں رہے تھے جو بنا کہے اسکی ہر چیز کا خیال رکھتے تھے اب اسے کسی پر انحصار نہیں کرنا تھا۔۔۔

*******

زرش اپنے کمرے میں موجود صوفے پر بیٹھی اپنے ناخن رگڑتی انہیں شیپ دے رہی تھی صبح سے وہ بارہا دریاب کی کہی باتیں سوچ چکی تھی۔۔۔ وہ ابھی تک گاوں جانے کے لئے تیار نہیں ہوئی تھی مگر اسکی تیاری مکمل تھی اپنی پیکنگ وہ کر چکی تھی۔۔۔ آج پہننے والے کپڑے بھی سلیکٹ کر لئے تھے۔۔۔ چہرے کو فریش لک دینے کے لئے فیشل کیساتھ ساتھ وہ مینی کیور اور پیڈی کیور بھی کر چکی تھی وہ اتنی ہی فیشن کی دلدادہ تھی۔۔۔ اپنی لکس پر اسے کوئی کمپرومائز نہ تھا اور اگر کہیں جانا ہوتا تو اسکی تیاری سب سے الگ ہوتی۔۔۔ سب کچھ تیار تھا بس وہ حدید کو تھوڑا سا تنگ کرنے کے بعد تیار ہونا چاہتی تھی۔۔۔۔ تبھی قدموں کی چاپ پر وہ سیدھی ہو کر بیٹھی۔۔۔ یقیناً یہ حدید ہی تھا کیونکہ اسکی گاڑی کار پورچ میں رکنے کی آواز وہ پہلے ہی سن چکی تھی۔۔۔

کیا ہے یہ۔۔۔ وہ لمبے لمبے دگ بھرتا کمرے میں آیا اور اسکے روبرو جاتے ہی اسنے پارسل زرش کی جانب پھینکا۔۔۔ زرش تعجب سے حدید کے بگڑے بگڑے موڈ کی جانب دیکھتی پارسل پکڑتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ پارسل ہے یہ۔۔۔ اسکی خون چھلکاتی آنکھوں کی طرف دیکھتی زرش منمنائی۔۔۔ اسے حدید کے اس روپ سے خوف محسوس ہو رہا تھا۔۔ آنکھوں سے ٹپکتی وحشت اور چہرے پر چھائی کرختگی۔۔۔ زرش کو لگا وہ اس حدید سے شاید پہلی مرتبہ آشنا ہوئی ہے۔۔۔ یہ تم نے آرڈر کیا ہے۔۔۔ وہ بامشکل اپنے اندر اٹھتے طوفان کو قابو کئے بولا۔۔۔ جج۔۔۔ جی۔۔۔ میں پہلے بھی آنلائن آرڈرز۔۔۔۔۔

زرشششششش۔۔۔ تم پاگل کر دو گی مجھے۔۔۔ اس سے پہلے کہ زرش منمنا کر کچھ کہتی حدید بے بسی سے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھامتا زرش کو لمبا کھینچتا بیڈ پر جا کر بیٹھا۔۔۔ اسنے گہرے گہرے سانس لیتے آنکھیں زور سے میچ کر خود کو کمپوز کرنا چاہا ۔۔

اسنے زرش سے کچھ کہا نہیں تھا مگر پھر بھی حدید کی حالت دیکھتی زرش پر خوف سے کپکپی طاری ہونے لگئ تھی۔۔۔ وہ سارے معاملے میں محض اپنا قصور تلاش کر رہی تھی۔۔۔

زرش وہ سب پہلے کی باتیں تھیں نا۔۔۔ جب تم شادی شدہ نہیں تھی۔۔۔ اب تم شادی شدہ ہو۔۔۔ مانتی ہو اس بات کو۔۔۔ وہ تحمل سے اپنی سرخ نگاہیں زرش پر ٹکاتا گویا ہوا۔۔۔ زرش نے خوف سے زرد پڑتے چہرے کو ہاں میں ہلایا خاموش آنسو پے در پے آنکھوں سے بہنے لگے تھے۔۔۔۔ رونا بند کرو زرش پلیز۔۔۔ وہ بے بسی سے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتا عاجزانہ گویا ہوا۔۔۔ زرش نے فورا سے پہلے اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے رگڑ کر اپنے آنسو صاف کئے۔۔۔۔

دیکھو زرش میری بات سمجھنے کی کوشیش کرو۔۔۔ اسنے ایک جھٹکے سے زرش کو کھینچ کر اپنے پاس بیڈ پر بیٹھایا۔۔۔ اس غیر متوقع حرکت پر ایک چیخ زرش کے حلق سے برآمد ہوئی۔۔۔ میں یہ برداشت کر ہی نہیں سکتا زرش کہ میری بیوی کا نام کسی غیر مرد کی زبان پر ہو۔۔ اسکا فون نمبر کسی کے پاس ہو۔۔۔ اس سے آگے کی بات تو بہت بعد کی ہے۔۔۔ تم مجھے اس معاملے میں قدامت پسند کہو۔۔ بیک ورڈ یا ٹپیکل مشرقی مرد۔۔۔۔ مگر میری غیرت کو یہ گوارا ہے ہی نہیں۔۔۔ میری عزت میری بیوی صرف مجھ سے منسوب ہونی چاہیے۔۔ تم سمجھ رہی ہو میری بات۔۔۔ اسکا چہرا دونوں ہاتھوں میں تھامے وہ اسکے نہایت قریب چہرا کیے بہت ضبط سے چبا چبا کر گویا ہوا۔۔۔ زرش پھٹی پھٹی آنکھوں سے ساکت سی اسکا یہ روپ دیکھ رہی تھی۔۔۔ اسے محسوس ہوا کہ اسکا چہرا تھامے حدید کے ہاتھ کپکپا رہے ہیں۔۔۔ میں تمہیں کسی چیز سے روک نہیں رہا زرش۔۔۔ تم نے آنلائن شاپنگ کرنی ہے کرو۔۔۔ لیکن دوبارہ تم کسی کو بھی اپنا نمبر نہیں دو گئ کسی بھی ایری غیری جگہ پر اپنا نام نہیں لکھواو گی تمہیں جہاں ضرورت ہو تم میرا نمبر دے سکتی ہو۔۔۔ اپنی بات مکمل کرتے حدید نے اسے شدت سے خود میں بھینچا ۔۔۔ زرش بہت ضبط سے اپنی ہچکیاں روک رہی تھی۔۔۔ حدید کے اس رویے سے وہ بہت خوفزدہ ہو چکئ تھی۔۔۔ تیار ہو جاو تم میں کچھ دیر تک آتا ہوں۔۔۔ کچھ دیر تک اسے خود میں بھینچے رکھنے کے بعد وہ آہستگی سے اسے خود سے الگ کرتا گویا ہوا۔۔۔ حدید کے کمرے سے جانے کے بعد وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اپنے چہرے کو چھوتی سسک اٹھی۔۔۔ حدید کے اس رویے کے بعد وہ اپنے احساسات کو کوئی نام دینے سے قاصر تھی۔۔۔ لیکن اس کے بعد وہ بنا کسی تردد کے تیار ہوئی اور بنا حدید کے کہے ہی عبایہ پہن کر حدید کا انتظار کرنے لگی۔۔۔۔

******