Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hala (Episode 14)

Hala By Umme Hania

لاکھ کا تو ہو گا آئتل کا جوڑا۔۔۔ لاکھ کا ارے ڈیرھ لاکھ کا ہے۔۔۔ اسے ہی تو قسمت کہتے ہیں۔۔۔ بن ماں باپ کی بچی تھی اللہ نے نصیب کھول دیئے۔۔۔ ڈیپ ریڈ کلر کے دیدہ زیب برائڈل جورے میں پور پور سجی آئتل پر دلہناپے کا ٹوٹ کر روپ آیا تھا۔۔۔ جسے دیکھتیں محلے کی عورتیں آپس میں محو گفتگو تھیں۔۔۔۔ دور کھڑا یوسف کرب سے انکی باتیں سن رہا تھا۔۔۔ آئتل کو اس روپ میں دیکھنے کا خواب اسنے بارہا دیکھا تھا آج وہ خواب زندہ تعبیر بنا سامنے تھا بھی تو کس روپ میں کہ اسے اپنا آپ تک جلتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔

اسے کسی اور کے نام پر پور پور سجے دیکھ اسکے دل پر نشتر چل رہے تھے لیکن ستم یہ تھا کہ وہ یہاں سے جا تک نہیں سکتا تھا۔۔۔ آخر اس پھولوں سی نازک لڑکی کا دادا اور اسکے سوا اور تھا ہی کون اور جب وہ جو چھوٹے سے چھوٹے کام کے لئے اس پر انحصار کرنے والی معصوم لڑکی اتنا سب اپنی جان پر جھیل رہی تھی اس جان گسل وقت سے گزر رہی تھی تو وہ کیسے راہ فرار تلاش کر سکتا تھا۔۔۔ جب کرنا ہی سمجھوتا تھا تو حوصلے سے کرنا تھا نا۔۔۔

لکنگ ڈیشنگ ہاں۔۔۔۔ زوئی تتلی بنی چہکتی ہوئی یہاں سے وہاں اڑ رہی تھی اب بھی یوسف کو ایک تنہا گوشے میں کھڑے دیکھ وہ آ ٹپکی تھی۔۔۔

آئتل کتنی پیاری لگ رہی ہے نا۔۔۔ میں بھی اپنا برائڈل دریس آپکے ساتھ جا کر خریدوں گی۔۔۔ وہ یوسف کے دل کی حالت سے بے خبر اپنی ہی کہے جا رہی تھی۔۔۔

میں کبھی بھی گھر داماد نہیں بنوں گا زوئی تمہیں یہیں اسی گھر میں آنا ہو گا میں کسی صورت اپنی ماں اور بوڑھے دادا کو چھوڑ کر نہیں آوں گا۔۔۔ اڑتی اڑتی بہت سی باتیں یوسف کے کانوں میں پڑیں تھی اسی لئے وہ پہلے ہی سب کلیئر کر لینا چاہتا تھا۔۔

افکورس ایسے ہی ہوگا وہ کندھے اچکاتی لاپرواہی سے گویا ہوئی۔۔۔ نگہت بیگم بھی آئتل کی شادی کے لئے ہسپتال سے لیو پر گھر آئیں تھیں۔۔۔

وقت نکاح یوسف باوجود کوشیش کے بھی وہاں کھڑا نہیں رہ سکا تھا۔۔۔ عمران آج فاتح بنا وہاں آیا تھا اور پورے استحقاق سے اسکی متاع حیات کے جملہ حقوق اپنے نام لکھوا رہا تھا۔۔۔ وہ لڑکی جو اپنی اپنی سی تھی جو اس پر جان وارتی تھی قسمت کی ستم ظریفی تھی کہ آج اپنی مرضی سے اپنے اوپر تمام اختیارات کسی اور کے سپرد کر رہی تھی۔۔۔ گھٹن کا احساس بڑھنے لگا تو یوسف دھندلاتی نگاہوں سے بعجلت باہر نکلا کچھ ہی دیر میں وہاں مبارک سلامت کا شور اٹھا تو یوسف نے کرب سے آنکھیں میچیں۔۔۔ مطلب آج وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اسکی زندگی سے نکل گئ تھی۔۔۔

******

رات دریاب نے ہر فکر سے آزاد ایک پرسکون نیند لی تھی۔۔۔ صبح آنکھ کھلتے ہی اسنے مسکراتے ہوئے ہالہ کو تھینکس کا میسج کیا اور خود سنجیدگی سے آگے کے بارے میں سوچنے لگا۔۔۔ محض چند گھنٹوں میں ہی اس گھر کا شیرازہ بکھر کر رہ گیا تھا وہ جوتا پہن کر کمرے سے باہر نکلا ارادہ ماں کے کمرے میں جانے کا تھا۔۔۔ کچن سے کھٹر پٹر کی آوازیں آ رہی تھیں مطلب ملازم کام پر آ چکے تھے اور گھر میں روزمرہ کی سرگرمیاں شروع ہو چکی تھیں۔۔۔

ماں کے کمرے کی طرف جاتے وہ ٹھٹھک کر رکا تھا۔۔۔ وہ اس کہانی کے ایک اہم کردار کو مس کر رہا تھا۔۔۔ سب کچھ جیسے فلیش بیک ہونے لگا تھا۔۔۔ اپنی ہی زندگی کے اتار چڑھاو میں الجھا وہ کل سے اب تک اپنی پرنسس سے ہی بے خبر تھا۔۔۔ رشتہ تو اسکا ٹوٹا تھا نا۔۔۔ پھر وہ تھی کہاں۔۔۔

کل سے اب تک اسنے کہیں زری کو نہیں دیکھا تھا۔۔۔ ماں کے پاس جانے کا ارادہ ملتوی کرتا وہ ڈھرکتے دل کیساتھ بعجلت بھاگتا ہوا زری کے کمرے میں گیا۔۔۔ جھٹکے سے دروازہ وا کرتے وہ اندر داخل ہوا لیکن سامنے کا منظر دیکھتے ہی جیسے اسکے دل کو کسی نے مٹھی میں پکڑ کر مسل ڈالا تھا۔۔۔

اسکی شہزادیوں سی آن بان رکھنے والی بہن کملائی سی بیڈ ہر آڑی ترچھی پڑی تھی۔۔۔ چہرے پر خشک ہوتے آنسوں کے جابجا نشان تھے ناجانے وہ تنہائی میں کتنی دیر تک سسکتی رہی تھی۔۔۔ چہرے کی سرخی کسی غیر معمولی پن کا سندیسہ دے رہی تھی۔۔۔۔

وہ تیر کی سی تیزی سے اسکی جانب لپکا۔۔۔

رزی۔۔۔زری جان اٹھو۔۔۔ زرش۔۔۔۔ اسنے گھٹنوں کے بل کارپٹ پر بیٹھتے زرش کا ہوش و حواس سے بیگانہ چہرا تھپتھپایا۔۔۔۔

Ohhh Goddd…

اسنے سرعت سے ہاتھ پیچھے ہٹایا۔۔۔ اسکا چہرا گویا جلتا تنور تھا۔۔۔ حواس باختہ سے دریاب نے فورا اٹھتے جیب سے موبائل نکالا بار بار ہونٹوں پر زبان پھیرنا اور بالوں میں ہاتھ چلانا اسکے اندرونی خلفشار کو ظاہر کر رہا تھا۔۔۔ فون اٹھائے جانے پر ڈاکٹر کو مختصراً سب بتا کر گھر آنے کا کہنے کے بعد وہ ایک بار پھر سے باہر نکلا۔۔۔

بابا کہاں ہے۔۔۔ماں کے پاس جاتا لاوئنج میں ڈسٹنگ کرتی ملازمہ کے پاس زرا کی زرا رکتا گویا ہوا۔۔

بڑے صاحب تو اپنے سٹدی روم میں ہیں۔۔۔۔ تو یعنی اسکا شک ٹھیک تھا اسکا باپ رات سے ہی سٹدی روم میں تھا۔۔۔

امی۔۔۔

وہیں رک جاو۔۔۔ ماں کے کمرے کا دروازہ کھول کر ابھی وہ اندر داخل ہوا ہی تھا جب زہرا بیگم نے اسے سختی سے آگے بڑھنے سے ٹوکا۔۔۔ وہ بے بسی سے ماں کو دیکھ کر رہ گیا۔۔۔

کیا ہو گیا ہے آپکو امی مجھ سے کیوں خفا ہو رہی ہیں۔۔۔ بھلا آپکو خفا کر کے بھی میں جی سکتا ہوں۔۔۔ وہ شکستہ دل سا چلتا ہوا ماں کے قدموں میں بیٹھ کر انکے ہاتھ اپنی آنکھوں سے لگاتا گلوگیر لہجے میں گویا ہوا۔۔۔

لمحوں میں زہرا بیگم کا دل پسیجا تھا۔۔۔ تم نے دیکھا اپنے باپ کو دریاب۔۔۔ وہ اس کل کی آئی لڑکی کے لئے مجھے طلاق دینے کو تیار ہے۔۔۔ وہ کڑیل جوان بیٹے کا سہارا پاتی اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتی رو دی تھی۔۔۔۔

ایسی کوئی بات نہیں ہے امی۔۔۔ بابا اس وقت غصے میں تھے بس۔۔۔ ورنہ آپ بھی جانتی ہیں کہ وہ آپ سے کتنی محبت کرتے ہیں۔۔۔

دریاب اب تم۔۔۔ امی پلیز۔۔۔ کچھ دیر کے لئے سب بھول جائیں۔۔۔ دیکھیں کل سے اپنے اپنے مسائل میں الجھے ہم زری گڑیا کو بالکل فراموش کر گئے ہیں۔۔

وہ بخار میں پھنک رہی ہے اور ہمیں احساس تک نہیں ۔۔۔ کیا۔۔۔ کیا ہوا زری کو۔۔۔ دریاب کے بتانے پر وہ ترپ کر اپنی جگہ سے اٹھتی دروازے کی جانب بڑھیں۔۔

وہ تو تھیں ہی صدا سے اپنے بچوں پر جان وارنے والی ماں ۔۔۔ اب کیسے نا لاڈلی بیٹی کی اس حالت پر ترپ اٹھتیں۔۔۔

آپ اسکے کمرے میں جائیں میں بابا کو بلا کر لاتا ہوں پھر اس مسلے پر بات کرتے ہیں۔۔۔

*****

اسے ہوا کیا ہے ڈاکٹر صاحب۔۔۔ کمال صاحب نے نم آنکھوں سے اپنے آنگن کے پھول کے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ڈاکٹر سے استفسار کیا۔۔۔ کمال صاحب اور زہرا بیگم زرش کے دائیں بائیں بیٹھے تھے جبکہ دریاب زرش کا چیک آپ کرتے ڈاکٹر کے پاس ہی کھڑا فکر مندی سے بہن کو دیکھ رہا تھا۔۔۔

فکر کی کوئی بات نہیں کمال صاحب کچھ دیر تک یہ بالکل ٹھیک ہو جائیں گی بس کسی بات کو زیادہ حواسوں پر سوار کر لیا ہے انہوں نے۔۔۔

یہ کچھ دوائیاں لکھ دی ہیں میں نے انہیں باقاعدگی سے کھلاتے رہیں۔۔۔ ڈاکٹر نے نسخہ دریاب کی جانب بڑھایا تو دریاب نسخہ تھامے ڈاکٹر کو باہر تک چھوڑنے گیا۔۔۔

اب سب اپنی اپنی ذات کے خول سے باہر نکلے تو ذہن اصل مسلے کی جانب گیا تھا۔۔۔ پرسوں زرش کی مہندی تھی اور دو دن پہلے لڑکے والے رشتہ ختم کر چکے تھے۔۔۔ شادی کے کارڈ بٹ چکے تھے اب وہ سب کو رشتہ ختم ہونے کا بتاتے تو کیسے۔۔۔

آخر بیٹی کا معاملہ تھا۔۔۔ انگلیاں تو انکی بیٹی پر ہی اٹھتی ۔۔۔ مسلہ ایسا تھا جس نے سب کے آپسی اختلافات بھلا کر سب کو آپس مین جوڑ دیا تھا یہ معاملہ سب کی عقل و فہم مفلوج کر رہا تھا۔۔۔

زرش کا ڈپریشن بے جا نا تھا۔۔۔ وہ لڑکی ہو کر سب کی طنزیہ اور نشتروں کی مانند چبھتی باتوں کو کیسے برداشت کرتی۔۔۔

دریاب کیا ہمیں لڑکے والوں سے ایک ملاقات کرنی چاہیے۔۔۔ کمال صاحب نے دھلکے کندھوں سمیٹ بے بسی سے بیٹے کی رائے جاننی چاہی۔۔۔ حالات انہیں بےبس اور لاچار کر گئے تھے۔۔۔

ہرگز نہیں بابا۔۔۔ میری بہن اتنی گری پڑی نہیں کہ بے حسوں کے سر منڈ دی جائے۔۔۔ وہ درشتی سے باپ کی بات کاٹتا گویا ہوا۔۔

بیٹا پھر آگے۔۔۔۔ آپ فکر مت کریں بابا۔۔۔ ابھی زرش کا بھائی زندہ ہے۔۔۔ اللہ بہتریاں کرنے والا ہے۔۔۔ جو ہوگا انشااللہ اچھا ہی ہوگا۔۔۔ مجھے کچھ وقت دیں کچھ کرتا ہوں میں۔۔۔۔ وہ باپ کی بات کاٹتا پرسوچ انداز میں گویا ہوا۔۔۔

******

آئتل کو پہلے ہی پچھلے کچھ دنوں سے بخار تھا۔۔۔ وہ خود کو حد درجہ تنہا محسوس کر رہی تھی کل رات نگہت بیگم ہسپتال سے گھر آئیں تو انہوں نے حقیقی ماں کی طرح اسے خود میں سمو لیا تھا۔۔۔ آئتل بھی انکی گود میں چہرا چھپائے سسک اٹھی تھی۔۔۔

بیٹا یہ سب قسمت کے کھیل ہیں آئتل۔۔۔ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں میری جان ۔۔ تمہارا نصیب اللہ نے روز اول سے ہی عمران کیساتھ جوڑ رکھا تھا بس ہم انسان ہی ان چیزوں سے نابلد ہوتے ہیں۔۔۔

میں تمہاری ماں ہوں بیٹا آج تمہیں چند باتیں سمجھا رہی ہوں چندا۔۔۔ ان باتوں کو اچھے سے ذہن نشین کر لینا اس سے زندگی خاصی سہل ہو جائے گی انکی آواز میں نمی گھلنے لگی تھی۔۔۔

کبھی شوہر کے سامنے اپنے ماضی کا ذکر مت کرنا بچے۔۔۔ مرد خود چاہے کیسی بھی خصلت کا ہو مگر وہ برداشت کر ہی نہیں سکتا کہ اس سے وابسطہ عورت کا نام ماضی میں بھی کسی کے ساتھ جڑا ہو۔۔۔ وہ پہلے کسی اور سے وابسطہ رہ چکی ہو۔۔۔ اپنی اور یوسف کی کہانی کو یہیں ختم کر دینا کبھی اپنے ماضی کی پرچھائی کو اپنے حال یا مستقبل پر نا پڑنے دینا۔۔ کبھی بھی اچھے سے اچھے موڈ میں بھی اپنا ماضی اپنے شوہر پر آشکار مت کرنا۔۔۔ شوہر بہت اچھا ہوتا ہے لیکن وہ اس معاملے میں کبھی شراکت برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔اسے بیوی کی زندگی محض اپنی ذات کے گرد محصور چاہیے ہوتی ہے وہ بیوی کی سوچوں میں بھی کسی کی شراکت قبول نہیں کر سکتا۔۔۔۔اور بھی ناجانے ممانی اسے کیا کیا سمجھا رہی تھی مگر اسکا دل چاہا کہ پھوٹ پھوٹ کے رو دے۔۔۔ یعنی کہ زندگی کے امتحان یہیں تک نہیں تھے۔۔۔ آگے بھی ابھی اسے ایک پل صراط پار کرنا تھا۔۔ اسکا دل چاہا کہ ممانی سے پوچھے یہ ساری پابندیاں عورتوں کے لئے ہی کیوں تھی۔۔ مردوں کو ہر طرح کی چھوٹ کیوں تھی۔۔۔ وہ شادی کے بعد بھی بیوی سے اپنی عاشقی معشوقی کی باتیں فخریہ سنائے اور لڑکی کبھی غلطی سے بھی اپنا ماضی زبان پر نا لائے۔۔۔ زندگی اتنی مشکل کیوں تھی۔۔۔

رات ممانی نے اسے زبردستی کھانا کھلا کر دوائی دی تھی اور صبح بھی یاد سے دوائی کھلائی تھی لیکن اسکے باوجود اس وقت اسکی طبیعت خاصی قابل رحم تھی اسے جسم سے جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔

وقت رخصت وہ ممانی اور نانا سے ملتے یوں ٹوٹ کر روئی تھی کہ سب سے سمبھالنا مشکل ہو گیا تھا۔۔۔ یوسف تو انکی رخصتی کے وقت سے پہلے ہی وہاں سے نکل گیا تھا وہ یہ منظر نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔ ڈھیروں دعاوں اور بڑوں کے پیار کے سائے تلے وہ رخصت ہو گئ تھی۔۔۔

آگے سسرال میں اسکا پرزور استقبال ہوا تھا۔۔۔ من پسند ساتھی کا ساتھ پا کر عمران کے تو پاوں ہی زمین پر نا ٹک رہے تھے۔۔۔ آئتل کو پھولوں سے سجے کمرے میں لا کر بیٹھایا گیا تو آنے والے وقت کا سوچتے آئتل پر کپکپی طاری ہونے لگی تھی۔۔۔

*****