Hala By Umme Hania Readelle50346 Hala (Episode 34)
No Download Link
Rate this Novel
Hala (Episode 34)
Hala By Umme Hania
صبح نور کی آنکھ فجر کی اذانوں کی آواز سن کر کھلی۔۔۔ اسنے کسمساتے ہوئے آنکھیں کھولی۔۔۔ کروٹ لیتی وہ دائیں جانب کو ہوئی جب نظر اپنے ساتھ نیم دراز دریاب سے ٹکرائی۔۔۔ وہ کہنی سرہانے پر ٹکائے ہاتھ پر سر رکھے نور کی جانب ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ اسے اپنے اتنے قریب دیکھ کر نور کا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔ نیم مندھی آنکھوں سے وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی چہرا مورتے اسنے حیرت سے دریاب کی جانب دیکھا کھلی آبشار بھی جھٹکے سے اٹھنے پر آگے آ گری تھی۔۔۔۔
آ۔۔۔۔آپ۔۔۔ رات۔۔۔ سے۔۔۔ یہ۔۔۔یہیں۔۔۔۔۔ تعجب سے الفاظ بھی ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہوئے تھے۔۔۔۔
اس میں اتنا حیران ہونے والی کیا بات ہے نور۔۔۔ ظاہر سی بات ہے میں تمہیں اس حالت میں اکیلا تو چھوڑ کر نہیں جا سکتا تھا نا۔۔۔ وہ اب بھی پرسکون تھا۔۔۔ پرسکون اور گہری جھیل کی مانند۔۔۔ اسکا یہ ہی سکون نور کو طیش دلا رہا تھا۔۔۔
کیوں کر رہے ہیں آپ ایسا۔۔۔ ہاں چاہتے کیا ہیں آخر آپ۔۔۔ وہ چٹخ ہی تو اٹھی تھی۔۔۔ با آواز بلند وہ مرے مارنے پر اتر آئی تھی۔۔۔ دریاب اسکا یہ روپ دیکھتا معتجب ہو اٹھا۔۔۔ کیا مطلب۔۔۔
مطلب یہ کہ کیا آنٹی کو پتہ ہے آپ رات بھر سے یہاں ہیں۔۔۔۔ وہ ہانپتی ہوئی بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ تنفس تیز ہونے لگا تھا مگر آنکھوں میں گویا چنگاریاں جل اٹھی تھیں۔۔۔۔ اسکی اس بات پر دریاب لب بھینچتا اسے سنجیدگی سے دیکھے گیا۔۔۔
جب انہیں یہ بات پتہ چلے گی تو اندازہ ہے آپکو یہاں کیا طوفان اٹھے گا۔۔۔ خود تو آپ سکون سے آفس جا چکے ہوں گے پیچھے سہنا تو سب مجھے پڑے گا نا۔۔۔۔ چیخ چیخ کر بولتے اسے بے طرح کھانسی کا دورا پڑا تھا۔۔۔ وہ زور زور سے کھانستی دہری ہو اٹھی تھی۔۔۔۔ دریاب نے اٹھ کر جگ سے پانی گلاس میں انڈیل کر گلاس اسکی جانب بڑھایا۔۔۔ نور نے نم آنکھیں اٹھا کر بے بسی سے اسے دیکھا۔ اسے دریاب کا اطمیئناں طیش دلا رہا تھا ۔۔۔ اسکا گلاس تھاما ہاتھ نظر انداز کرتی وہ جھٹکے سے پلٹ کر واش روم میں گھس گئ۔۔۔ واش روم کا دروازہ زور سے بند کرتی وہ دروازہ سے ٹیک لگاتی شدت سے رو دی۔۔۔ وہ اپنے ہی احساسات سمجھنے میں ناکام ہو رہی تھی۔۔۔ وہ دریاب کی موجودگی میں اپنے باغی دل کی بغاوت سے ڈر چکی تھی جو ہمہ وقت دریاب کا ساتھ چاہتا تھا۔۔۔ وہ تنگ آ چکی تھی روز روز کی اس چک چک سے۔۔۔ وہ سکون کی متمنی تھی۔۔۔ بات بڑھتی زہرا بیگم کو پتہ چلتی پھر وہ یہاں آتی اور اٹیک اسکی مری ماں پر آتا۔۔۔۔ آخر کب تک وہ اپنی مری ماں کے لئے بھی غلط الفاظ سنتی رہتی۔۔۔۔ برداشت اب جواب دے چکی تھی۔۔۔ محبت سے اونچے درجے پر اسکی عزت نفس تھی لیکن وہ محسوس کر رہی تھی کہ اگر مزید دریاب اسکے آس پاس رہتا تو وہ اپنے ہاتھوں سے اپنی عزت نفس کا گلہ گھونٹ دیتی۔۔۔۔
کافی دیر رو چکنےکے بعد دل کو کچھ سکون ملا تو عقل نے کچھ کام کیا وہ اپنی فریشٹریشن میں دریاب کو بلاوجہ اتنا کچھ سنا چکی تھی۔۔۔ اسے نئے سرےء سے خود پر غصہ آنے لگا۔۔۔
بے چینی کچھ مزید بڑھئ دل نے مزید دہائیاں دیں۔۔۔ ایک تو وہ رات بھر سے بے آرام اسکی خاطر ہر چیز سے بے نیاز وہاں اسکے پاس موجود تھا اوپر سے وہ اپنی ساری فریسٹریشن اسی پر نکال چکی تھی۔۔۔ اسے شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔۔۔
******
محض آدھے گھنٹے بعد ہی یوسف آئتل کے بتائے پتے پر موجود تھا۔۔۔ آئتل کے پاس آتے ہی آئتل کو دیکھ کر یوسف کو اپنے قدموں تلے سے زمین سرکتی محسوس ہوئی۔۔۔۔ یہ وہی آئتل تھی پھولوں سی نازک کوئل کی مانند آواز کی حامل ہستی مسکراتی۔۔۔ نہی یہ تو کوئی اور ہی آئتل تھی حالات کی ستائی صدیوں سی بیمار۔۔۔
آئتل یہ سب۔۔۔ یوسف کی گویا گویائی ہی صلب ہو گئ ہو۔۔۔ اسنے آئتل کے سر پر ہاتھ رکھا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ اتنے سالوں بعد کسی اپنے کا ساتھ ملا تِھا سبھی بندھ خود ہی ٹوٹ گئے۔۔۔ اسکی طبیعت پھر سے بگڑنے لگی تھی۔۔۔ یوسف نے بامشکل خود کو سمبھالتے ڈاکٹر سے بات کر کے اسے پڑائیویٹ ہسپتال میں شفٹ کروایا تھا۔۔۔ تب اس پر انکشاف ہوا کہ برسوں پہلے جو بیماری اسکی ماں کو تھی اسی میں آج آئتل مبتلا تھی۔۔۔ اسے بلڈ کینسر تھا آخری سٹیج جسکا علاج ممکن تھا ہی نہیں۔۔۔ اس دن یوسف صحیح معنوں میں ٹوٹا تھا۔۔۔ اسے جی بھر کر اپنی غفلت کا احساس ہوا۔۔۔ اسنے کیوں آئتل کی پہلے خبر گیری نا کی۔۔۔ کر لیتا تو شاید کچھ ممکن ہو جاتا۔۔۔ اسنے ہر طرح سے پاتھ پاوں مار کر دیکھ لیا حتی کہ امریکہ ڈاکٹروں کے پینل سے بھی بات کی لیکن آئتل کا مرض لا علاج ہو چکا تھا۔۔۔
یوسف میری بیٹی۔۔۔ میری بیٹی کا خیال رکھنا۔۔۔ اس روز آئتل ہوش میں تھی اب وہ کم کم ہی ہوش میں ہوتی۔۔۔ تکلیف کی بڑھتی ہوئی شدت کے باعث ڈاکٹر عموماً اسے ٹرینکولائز پر رکھتے تھے۔۔۔ اس روز بھی وہ یوسف کے سامنے نور کے لئے سسک اٹھی تھی۔۔۔
یہ تمہیں کہنے کی ضرورت نہیں آئتل نور میری بیٹی ہے۔۔۔ یوسف نے نور کے سر پر ہاتھ رکھتے اسے بازو کے ہلکے میں لیا۔۔۔ نور سے خود پر ضبط کرنا محال ہو گیا۔۔۔۔ تب ماں کی خواہش پر وہ ساکت رہ گئ تھی۔۔ یوسف نور کا نکاح دریاب سے کروا دیں۔۔۔ میری بیٹی کو ایک مضبوط سائباں عطا کر دیں مجھے سکون سکون۔۔ وہ سسکتی ہوئی یوسف کے سامنے ہاتھ جوڑ گئ تھی۔۔۔ جب یوسف نے تڑپ کر اسکے ہاتھ تھام کر کھولے۔۔۔ ایسے مت کرو آئتل۔۔۔ نور میری بیٹی ہے۔۔۔ تمہیں اسکا باپ بن کر دکھاوں گا۔۔ تمہاری یہ خواہش ہے تو آج ہی تمہاری خواہش پر عمل ہوگا۔۔۔ یوسف نے ان الفاظ کے ذرہعے آئتل کا مان بڑھا دیا تھا۔۔۔ کوئی شخص اتنا اچھا بھی ہو سکتا تھا ۔۔۔ نور محخ سوچ کر رہ گئ۔۔۔ اور پھر وقت نے ثابت کیا تھا کہ یوسف کمال قول کا پکا نکلا تھا اسنے صرف کہا نہیں تھا بلکہ اپنے ایک ایک عمل سے اسکا باپ بن کر ثابت کیا تھا۔۔۔۔ اسی روز ہسپتال میں شام کے وقت نور کا دریاب سے نکاح پڑھوایا گیا تھا اور اس روز نور نے پہلی بار کسی کی اتنی شاندار پرسنیلٹی دیکھی تھی کسی کو باپ کا اتنا فرمابرادر پایا تھا کہ وہ باپ کی ایک خواہش پر بنا اسے دیکھے اس سے نکاح کرنے پر راضی ہو گیا تھا اسی دن پہلی نظر میں ہی وہ دریاب پر بری طرح اپنا دل ہار گئ تھی۔۔۔ اور دریاب نے بھی ثابت کیا تھا کہ وہ شاندار شخص کا بیٹا تھا جسکی تربیت اونچے پیمانوں پر کی گئ تھی۔۔۔ اور فہد جیسے گھٹیا شخص کو جاننے کے بعد دریاب کی اسی خوبی نے آئتل کو اسکا گرویدہ بنایا تھا۔۔۔
*****
نور فریش ہو کر شرمندہ سی واش روم سے باہر نکلی تو کمرا خالی تھا۔۔۔۔ اسنے صد شکر ادا کیا وہ اس وقت دریاب کا سامنا کرنا بھی نہیں چاہتی تھی۔۔۔ چہرا تولیے سے صاف کر کے اسنے حجاب کیا اور جائے نماز بچھا کر نماز کی نیت باندھی ۔۔۔ طبیعت رات سے کچھ بہتر تھی مگر ہلکا ہلکا بخار اب بھی تھا جس کے باعث کھڑے ہونے پر نقاہت محسوس ہوتی تھی۔۔۔
آجاو پہلے کچھ کھا لو۔۔۔ نماز پڑھ کر وہ جائے نماز تہہ کر رہی تھی جب دریاب کی آواز اسکے کانوں میں پڑئ۔۔۔ دریاب کی جانب اسکی پشت تھی ۔۔۔ اسنے ٹھھٹھک کر جائے نماز کو دونوں ہاتھوں میں بھینچا۔۔۔ مطلب وہ ابھی بھی وہیں موجود تھا وہ تو سمجھی تھی کہ اسکے اتنے سخت ردعمل پر وہ اب تک وہاں سے جا چکا ہوگا۔۔۔ کیا تھا وہ شخص۔۔۔ اسنے مرے مرے قدم اٹھاتے جائے نماز اسکی جگہ پر رکھا اور جھکی
نظروں سمیت اسکے پاس صوفے پر جا کر بیٹھی۔۔۔۔ سامنے میز پر ڈش میں ابلا انڈا دودھ کا گلاس اور دو ٹوسٹ پڑے تھے۔۔۔ گویا وہ تب سے اسکے لئے ناشتہ تیار کر رہا تھا۔۔۔ دریاب کے ردعمل پر اسکی پشیمانی دو چند ہوئی۔۔۔ اتنی صبح ناشتہ کون کرتا ہے بھلا وہ آہستگی سے منمنائی۔۔۔
بیمار لوگ۔۔۔ انہیں وقت پر ہی کھانا کھانا چاہیے دریاب نے ہلکے پھلکے انداز میں کہتے دودھ کا گلاس اٹھا کر اسے تھمایا۔۔۔ جیسے کچھ دیر پہلے کچھ ہوا ہی نا ہو۔۔۔ نور نے آہستگی سے دودھ کا گلاس تھاما۔۔۔ وہ ناشتہ کر چکی تو دریاب نے اسکی دوائیاں نکال کر اسکے سامنے کیں جسے وہ خاموشی سے بچے ہوئے دودھ کے ساتھ نگل گئ۔۔۔
ایم سوری۔۔۔۔ میں نادانستگی میں اپنی سبھی فریسٹریشن آپ پر نکال گئ۔۔۔ اسکے لئے میں آپ سے شرمندہ ہوں۔۔۔ دوائی کھانے کے بعد وہ ہاتھ مسلتی پشیمانی سے گویا ہوئی آواز میں نمی کی آمیزیش تھی۔۔۔
Its not a big deal…
تم نے اپنی فریسٹریشن بھی مجھ ہی پر نکالی ہے اپنی خوشیاں بھی مجھ ہی سے شیئر کرنی ہیں۔۔۔ دریاب نے اسے بازو کے حصار میں لیتے اپنے ساتھ لگایا اور محبت سے کہتے اسکا مان بڑھایا۔۔۔
آپ اتنے اچھے کیوں ہیں دریاب وہ اسی کے کندھے پر سر ٹکائے گویا ہوئی خاموش آنسو ایک بار پھر سے نکل آئے تھے اسکی بات پر دریاب آہستگی سے مسکرا دیا۔۔۔۔
بس اب زیادہ ادھر ادھر پھرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ خبردار جو اس کمرے سے باہر نکلی تو۔۔۔ اب خاموشی سے آرام کرو ۔۔ دوپہر کو گڈی آ جائے گی لنچ لے کر۔۔۔ دریاب نے اسے نرمی سے اٹھایا اور واپس بیڈ پر لٹاتے سختی سے تنبیہہ کرتے انیکسی سے چلا گیا ۔۔۔ جبکہ پیچھے نور کی سوچ اسی سے شروع ہو کر اسی تک محدود ہوگئ
*****
حدید تیزی سے گاڑی ڈرائیو کرتا آفس جا رہا تھا جب اسکا فون بجا۔۔۔ اسنے فون ہولڈ پر لگے ہی اسکی سکرین پر چمکتا نمبر دیکھا سکرین ہر دریاب کالنک کے چمکتے الفاظ دیکھ کر اسکے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ دوڑی۔۔۔
اسنے بلو ٹوتھ سے فون کنیکٹ کرتے کال اٹھائی۔۔۔
کیا بات ہے حدید زرش سے بات نہیں کروائی پھر۔۔ اپنے کمرے میں موجود گیلے بالوں کو ہاتھ سے سیٹ کرتے دریاب نے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہوتے برش اٹھایا۔۔۔ فون سپیکر پر لگا سامنے ڈریسنگ پر ہی پڑا تھا۔۔۔۔
صبح نور کے پاس سے آنے کے بعد وہ فجر کی نماز پڑھ کر کچھ دیر کے لئے لیٹ گیا تھا کیونکہ رات نور کے پاس وہ اسکی طبیعت کے پیش نظر سوئی جاگی کیفیت میں رہا تھا اب زرا دیر کو لیٹا تو فوراً آنکھ لگ گئ۔۔۔ اسکی آنکھ حدید کی آنے والی کال سے کھلی تھی لیکن جلد ہی کال کٹ گئ۔۔۔ وہ کچھ دیر تک کال بیک کرنے کا ارادہ کرتا اٹھ کھڑا ہوا اور اب فریش ہوتے ہی سب سے پہلے اسنے حدید کو ہی کال بیک کی تھی۔۔۔ تمہاری موڈی بہن کا موڈ بدل گیا تھا تم سے بات کرنے کا اس لئے اسنے تم سے نات نہیں کی۔۔۔۔ ایسا ہو نہیں سکتا کہ مجھ سے بات کرتے کرتے اسکا موڈ بدل جائے۔۔۔۔ ضرور بات کوئی اور ہے۔۔۔ بال بنا کر دریاب نے فون کا سپیکر بند کیا اور موبائل کان سے لگاتا صوفے پر بیٹھ کر جوتے پہننے لگا۔۔۔۔
کوئی اور بات نہیں ہے۔۔۔ اسنے خود مجھے بولا تھا کہ اپنے دریاب بھائی سے وہ میری شکایت لگائے گی کیونکہ اسکا شوہر بہت ظالم اور جابر ہے جس نے اس پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیئے ہیں تو اسی لئے میں نے اسے تمہارا نمبر ملا دیا لیکن پھر شاید اسکا موڈ بدل گیا اس لئے اسنے تم سے بات نہیں کی۔۔۔ سیریسلی اسیں میری تو کوئی غلطی نہیں اب یہ تو تم اسی سے پوچھ لینا کہ اسنے تم سے بات کیوں نہیں کی۔۔۔
حدید گاڑی ڈرائیو کرتا مسکراہٹ لبوں میں دباتا گویا ہوا۔۔۔
حدید کی بات سن کر جوتا پہنتے دریاب کے ہاتھ ٹھٹھکے۔۔۔۔ حدید تم اسکی باتوں کو مائنڈ مت کرنا پلیز۔۔۔ وہ گھر بھر کی لاڈلی ہے اس لئے اس میں ابھی کچھ بچپنا ہے۔۔۔ آہستہ آہستہ سمجھ جائے گی۔۔۔ دریاب پریشانی سے گویا ہوا۔۔۔ کچھ نہیں ضرورت سے زیادہ ہی بچپنا ہے اس میں۔۔۔
تم ایسا کرو حدید رات میں اسے لے کر یہاں ڈنر پر آ جاو میں اسے خود سمجھاوں گا۔۔ اور ویسے بھی کافی دن ہوگئے ہمیں ملے ہوئے۔۔۔ دریاب نے ماتھا مسلتے اس مسلے کا کوئی حل نکالنا چاہا۔۔۔ آج تو نہیں پھر کسی دن سہی۔۔۔ دراصل آج ہمیں گاوں جانا ہے دادی کے پاس لیکن تمہاری لاڈلی بہن وہاں جانے کے لئے بھی ڈھرلے سے انکار کر چکی ہے بقول اسکے وہاں میرے ساتھ جائے گی اسکی جوتی۔۔۔ حدید نے ہلکہ سا قہقہ لگاتے اسکی صبح کی کہی بات دہرائی۔۔۔۔ تم ابھی کہاں ہو۔۔۔ ایئر پیس سے دریاب کی سنجیدہ آواز ابھری۔۔۔ آفس جا رہا ہوں۔۔۔
ہمم۔۔۔ میں کرتا ہوں اس سے بات۔۔۔ اپنی بات کہتے ہی دریاب نے فون بند کر دیا اب وہ وہیں کھڑا کھڑا زرش کا نمبر ملا رہا تھا۔۔۔
*****
زرش نے کمرے میں آنے کے بعد اپنا غصہ کمرے کی ایک ایک چیز پر اتارا تھا ۔۔۔ کمرے کی خستہ حالت اور بکھرا ساماں اپنے اوپر ہوئی ستم ظریفی کی داستان سنا رہا تھا اور وہ خود بیڈ پر اونڈھے منہ لیٹی تکیے میں منہ گھسائے آنسو بہا رہی تھی جب اسکے موبائل کی بیل بجی۔۔۔ اسنے آنسو صاف کرتے ہوئے اٹھ کر سائڈ ٹیبل پر پڑا موبائل اٹھایا۔۔ دریاب کا نمبر دیکھ کر اسکا دل مزید بھر آیا۔۔۔۔
بھائی۔۔۔ بھائی مجھے وہاں آنا ہے۔۔۔۔ حدید بالکل بھی اچھے نہیں ہیں۔۔۔ بالکل بھی۔۔۔ آپکو پتہ ہے مجھے انہوں نے یونیورسٹی جانے سے بھی منع کر دیا۔۔۔ فون اٹھاتے ہی وہ بنا بریک کے ہچکیوں سے روتے شروع ہو چکی تھی۔۔۔۔ لمحوں میں دریاب کے ہاتھوں کے طوطے اڑے۔۔۔ زری گڑیا حوصلہ کرو۔۔۔ چپ کر کے مجھے پوری بات تو بتاو۔۔۔ وہ صحیح معنوں میں چکرا گیا تھا زرش کو یوں روتا ہوتا سن کر۔۔۔ بھیا وہ مجھے پر بے جا پابندیاں لگا رہے ہیں۔۔۔۔ میں نہیں رہ سکتی ایسے۔۔۔ آج تک آپ نے یا بابا نے کبھی مجھ پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔۔۔ کہتے ہیں عبایا پہن کر یونیورسٹی جاو۔۔۔ مجھے گھبراہٹ ہوتی ہے اس میں ۔۔۔ میں نے کبھی نہیں پہنا۔۔۔ میرا دم گھٹتا ہے۔۔۔ کہتے ہیں اگر جانا ہے تو عبایہ پہن کر جاو گی نہیں تو یونیورسٹی چھوڑ دو۔۔۔ وہ ہچکیوں سے روتی بات سنا کر پھر سے شدت سے رو دی۔۔۔۔ دریاب نے اپنے لب بھینچ لئے۔۔۔ زری حدید کا مطالبا اتنا بھی بے جا نہیں وہ اگر نہیں چاہتا کہ تم بنا عبایہ کے یونیورسٹی جاو تو زری گڑیا تم عبایہ پہننے کی کوشیش تو کرو شروع میں شاید تمہیں کچھ عجیب لگے لیکن ایک دو دن میں روٹین سیٹ ہو جائیگی دریاب نے اسے پیار سے سمجھانا چاہا اسے جہاں اپنی بہن بہت عزیز تھی وہیں اپنا دوست بھی جان سے پیارا تھا وہ ان دونوں کا معاملہ مزید خراب ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔ بھیا اب آپکو بھی بہن سے زیادہ عزیر اپنا دوست ہو گیا ہے۔۔۔ وہ دریاب کے خیالات سنتی صدمے سے چور آواز میں گویا ہوئی۔۔۔ اسکے خیال میں تو دریاب کو اسکی شکایتیں سن کر حدید سے باز پرس کرنی چاہیے تھی مگر وہ تو الٹا اسے سمجھا رہا تھا۔۔۔ زری اب وہ اور تم الگ تھوڑی نا ہو۔۔۔ ایک ہی ہو۔۔۔ میں تو تم دونوں کو ایک ساتھ خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔
****
