Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hala (Episode 44)

Hala By Umme Hania

دریاب لب بھینچے سرخ آنکھیں جھپکتے ضبط کے مراحل طے کرتا زرش کا سر تھپتھپا رہا تھا ایک سنجیدہ نگاہ اسنے کاوچ پر سر جھکائے بیٹھی نور پر ڈالی۔۔

اب کیسی طبیعت ہے امی کی۔۔۔ زرش کو بازو کے حلقے میں لئے ہی وہ نور کے پاس آیا زرش کو کاوچ پر بیٹھا کر خود ماں کے پاس جاکر جھک کر انکے ماتھے کا بوسہ لیا اور وہاں موجود سنگل کرسی کو کھینچ کر کاوچ کے قریب کرتا اس پر بیٹھ کر نور سے گویا ہوا ۔۔۔ بہتر ہیں۔۔۔ اینڈوسکوپی ہو گئ ہے باقی آہستہ آہستہ ہی رکور کریں گی وہ زرا کی زرا اسکی جانب دیکھ کر سنجیدگی سے گویا ہوئی۔۔۔ میں یہیں ہوں تم دونوں گھر جا کر کچھ دیر آرام کر لو۔۔۔ وہ انکے ستے چہرے اور تھکان زدہ آنکھیں دیکھ کر رات سے اب تک کی انکی تگ و دود کا اندازا لگا سکتا تھا۔۔۔ نہیں میں ٹھیک ہوں آپ زرش کو گھر لے جائیں۔۔۔ میں آنٹی کے پاس ہی ٹھہروں گی۔۔۔ نور دو ٹوک انداز میں گویا ہوئی دریاب نے اسے اچھنبے سے دیکھا۔۔۔ گھر جا کر کچھ دیر ریسٹ کر لو شام میں پھر سے آ جانا دریاب نے اسے رسان سے سمجھانا چاہا۔۔۔ نہیں میں ٹھیک ہوں۔۔ انداز دو ٹوک اور قطعی تھا۔۔۔ دریاب کچھ دیر لب بھینچے اسے دیکھتا رہا پھر ایک گہری سانس خارخ کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

اٹھو زرش تم تو چلو۔۔۔ اسکے دروازے کی جانب بڑھتے ہی زرش بھی اسکے پیچھے ہولی۔۔۔ بھائی آپ کہاں تھے رات سے میں نے آپکو اتنی دفعہ فون کیا ہر دفعہ آپکا فون بند جا رہا تھا۔۔۔ آپکو پتہ ہے میں کتنا ڈر گئ تھی۔۔ اگر بھابھی نا ہوتی تو میں تو بالکل ہمت ہار جاتی۔۔۔ وہ لرزتے ہاتھوں سے دریاب کی بازو تھامے کوریڈور سے گزرتی مسلسل اسے خود پر بیتی داستاں سنا رہی تھی۔ لہجہ ابھی بھی ایک انجانے خوف کے زیر اثر کپکپا رہا تھا۔۔۔ وہ زہرا بیگم کو گھر سے ہسپتال تک لانے اور انکی اینڈوسکوپی سے لے کر واپس کمرے میں شفٹ کروانے تک حرف با حرف سب دریاب کو بتاتی چلی گئ۔۔۔ آج اگر یہ سب ممکن ہو پایا ہے تو صرف بھابھی کی وجہ سے بھائی ورنہ میں اکیلی تو کچھ نا کر پاتی۔۔۔ ایک مرتبہ وہ پھر سے سسک اٹھی تھی۔۔۔

بس زری خاموش ہو جاو ۔۔ اللہ کا خاص احسان ہے ہم پر کہ اسنے اتنے برے حالات میں بھی ہمارے لئے رحمت کے در کھولے رکھے۔۔۔ جہاں اب تک سب ٹھیک ہوا ہے انشااللہ آگے بھی ٹھیک ہی ہوگا۔۔ تم ڈرائیور کے ساتھ گھر جاو اور گھر جاتے ہی ناشتہ کر کے کچھ دیر کے لئے سو جانا۔۔۔ ایسے تو تم خود بیمار پڑ جاو گی اور ہمیں امی کیساتھ ساتھ تمہیں بھی دیکھنا پڑے گا۔۔۔ اسنے زرش کو اپنے ساتھ لگاتے محبت سے اسکا سر تھپتھپاتے بات کو مزاح کا رخ دینا چاہا۔۔۔ وہ بھی ہلکے سے مسکرا دی۔۔۔ اسے گاڑی میں بیٹھا کر اب دریاب کا رخ کینٹین کی جانب تھا۔۔

*****

دروازہ کھول کر دریاب اندر داخل ہوا تو نور کو جوں کا توں بیٹھا پایا جیسے وہ اسے چھوڑ کر گیا تھا۔۔۔ وہ قدم قدم چلتا اسکے قریب آیا اور ہاتھ میں تھامی ٹرے نور کے پاس ہی کاوچ پر رکھتا خود بھی اسی کاوچ پر بیٹھا اسکے بیٹھنے پر نور چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی گویا کسی گہری سوچ سے ابھری ہو۔۔۔ زہرا بیگم ابھی تک دوائیوں کے زیر اثر سو رہی تھیں۔۔۔

ناشتہ شروع کرو نور دریاب نے ٹرے سے اپنا چائے کا کپ اٹھاتے نور سے کہا۔۔۔ نور نے ٹرے کا طائرانہ جائزہ لیا جس میں چائے کے کپ کیساتھ سینڈوچز اور کچھ بسکٹس تھے ۔ یقیناً ہسپتال کی کینٹین سے جو ملا وہ ناشتے کے لئے لے آیا تھا اور نور کے لئے یہ ہی کسی نعمت مترکبہ سے کم نا تھا۔۔ رات بھر جاگنے اور ادھر ادھر کی بھاگ دوڑ میں اسے بری طرح بھوک محسوس ہو رہی تھی بنا کسی پس و پشت کے اسنے چائے کا کپ اٹھاتے ناشتہ شروع کیا۔۔ تمہارا بہت شکریہ نور تم نے امی کے لئے اتنا کیا۔۔۔ ناشتہ دونوں نے خاموشی سے کیا تھا اور ناشتہ ختم ہوتے ہی دریاب نے دونوں کے درمیاں موجود ٹرے ہٹا کر اسے پاس پڑی کرسی پر رکھا۔۔۔ اسکی ضرورت نہیں ہے دریاب آپکی امی میری بھی کچھ لگتی ہیں۔۔۔ وہ زہرا بیگم کی جانب ہی دیکھتی آہستگی سے گویا ہوئی دریاب چند پل اسے یونہی دیکھتا رہا جب زہرا بیگم میں ہوتی ہلکی سی جنبش کو محسوس کر کے وہ بیساختہ انکی جانب لپکا۔۔۔

امی۔۔۔ امی اب کیسا محسوس کر رہی ہیں آپ۔۔ ماں کے پاس جھک کر اسنے ماں کے ماتھے سے بال ہٹاتے استفسار کر ۔۔ لہجے میں محبت ہی محبت تھی۔۔۔ نور خواہش کے باوجود بھی اٹھ کر زہرا بیگم کے پاس نا جا سکی وہ وہیں کاوچ پر بیٹھی ہاتھ باندھے نم آنکھوں سے انہیں دیکھ رہی تھیں۔۔۔ زہرا بیگم کی آواز بہت نحیف تھی۔۔۔ وہ مسلسل دریاب سے کچھ کہنے کی کوشیش کر رہی تھیں جو دریاب باوجود کوشیش کے بھی سمجھ نہیں پا رہا تھا۔۔۔ کچھ دیر کی مکمل یکسوئی کے بعد نور زہرا بیگم کی بات سمجھ چکی تھی اور بات سمجھ میں آتے ہی وہ بنا تاخیر کے انکی جانب بڑھی۔۔ دریاب تھوڑا سا ساتھ ہوں ۔۔۔ انکے قریب جاتے ہی وہ زہرا بیگم کے بیڈ کے قریب پڑی ٹرالی سے بوتل سے پانی گلاس میں انڈیل کر بوتل کا دھکن بند کرتی مصروف سے انداز میں گویا ہوئی ۔۔۔ دریاب اسے حیرت سے دیکھتا تھوڑا سا پیچھے ہوا۔۔۔ نور نے بیڈ کی سر کی سائیڈ پر لگے ہینڈل کو گھما کر بیڈ سر کی سائیڈ سے تھوڑا اونچا کیا اور چمچ کی مدد سے زہرا بیگم کو پانی پلانے لگی۔۔۔ پانی پلا کر اسنے نپکن سے انکا چہرا صاف کیا۔۔۔ اور دونوں چیزیں واپس اسی ٹرالی میں رکھیں۔۔۔ آنٹی بھوک محسوس ہو رہی ہے آپکو۔۔۔ سوپ پیئں گی۔۔ وہ واپس بیڈ اسکی پوزیشن میں کرتی جھک کر زہرا بیگم سے آہستہ آہستہ بات چیت کر رہی تھی جبکہ زہرا بیگم بھی آہستگی سے اسکی باتوں کا جواب دے رہی تھیں دریاب نے حیرت و تعجب سے ساس بہو کے یہ مزاکرات ملاخظہ کئے۔

*****”

دوسرے دن زہرا بیگم کو ہسپتال سے چھٹی دے دی گئ تھی انہیں ہر ہفتے ہسپتال چیک آپ کے لئے آنا تھا اور تین ماہ بعد دوبارہ انکی اینڈوسکوپی کر کے اندورنی کنڈیش کا پتہ چلنا تھا اس دوران انکی شوگر اور بی پی کنٹرول ہونا چاہیے تھا۔۔۔ چھٹی کے وقت ڈاکٹر نے انہیں بہت سی پریکوشنز بتائی تھیں جنہیں نور نے حرف با حرف حفظ کیا تھا۔۔۔ گھر پہنچتے ہی ان سے ملنے آنے والوں کا ایک تنتنہ بندھ گیا تھا۔۔ حدید اسی روز واپس آ گیا تھا اسکی دادی بھی آ کر زہرا بیگم کی عیادت کر گئ تھیں۔۔۔ زہرا بیگم نے زرش کی طبیعت کے پیش نظر اسے حدید کیساتھ زبردستی اسکے گھر بھیج دیا تھا کیونکہ وہ جب جب زہرا بیگم کو اس حالت میں دیکھتی اسکا اتنا گہرا اثرلیتی کہ خود بیمار پڑ جاتی۔۔۔ نور پل پل دن رات انکے ساتھ تھی۔۔۔ نا زہرا بیگم نے اسے جانے کا کہا نا وہ خود گئ۔۔۔ وہ خود سے زہرا بیگم کی ہر چیز کا خیال رکھتی اور زہرا بیگم بھی بوقت ضرورت اسے اپنا کام بتا دیتیں دونوں میں اس سے زیادہ کوئی بات نا ہوتی تھی۔۔۔ کمزوری کے باعث ابھی تک زہرا بیگم سے ٹھیک سے چلا تک نا جاتا نور ہی انہیں واش روم تک لے کر جاتی۔۔ انہیں شاور دینا کپڑے چینج کروانا جیسے اسنے بنا کہے ہی انکے سبھی کام اپنے واجب الزمہ لے لیے ہوں ۔۔۔ محتاجی بہت ظالم چیز ہوتی ہے اور یہ ہی محتاجی شاید زہرا بیگم کا بھی دم خم چھین کر لے جا چکی تھی۔۔۔

کیوں کر رہی ہو تم یہ سب نور۔۔۔ اس روز بھی نور زہرا بیگم کے بالوں میں پوری دلجمعی سے تھے تیل لگا رہی تھی جب وہ نحیف سی آواز میں گویا ہوئی۔۔ بدلے میں نور کی کھلکھلاہٹ انکی سماعت سے ٹکرائی ۔۔۔ آپ سے آپکے بیٹے کو چھیننے کے لئے تو بالکل نہیں کر رہی آنٹی۔۔۔ خدارا اس فکر کو ذہن سے جھٹک دیں ورنہ شوگر لیول اور بی پی پھر سے ہائی ہو جائے گا۔۔۔ پہلے ہی بہت مشکل سے کنٹرول ہوا ہے۔۔۔ ایک دفعہ آپ ٹھیک ہو جائیں ہمارے بارے میں آپ جو بھی فیصلہ لیں گی مجھے دل و جان سے قبول ہوگا اور رہی بات پراپڑتی کی تو اطمیناں رکھیں میں وہ بھی واپس دریاب کے نام کروادوں گی آپ اس چیز کی زرا برابر بھی ٹینشن نا لیں۔۔۔ نور نے تیل کی شیشی کا دھکن بند کر کے انکے سر کی مالش شروع کی۔۔ زہرا بیگم کو مالش سے سکون محسوس ہو رہا تھا۔۔ نور کے مفصل جواب سے انکی آنکھیں بھر آئیں مگر تسلی نا ہوئی۔۔۔ جب تمہاری کوئی غرض ہی نہیں ہے تو پھر اتنی تیمار داری کی وجہ۔۔۔ انہوں نے بامشکل آواز کی لڑکھڑاہٹ پر قابو پایا۔۔ آنٹی جب میری امی بیمار تھی نا تو میں باوجود خواہش اور کوشیش کے بھی انکی خدمت نہیں کر پائی۔۔۔ وقت نے مہلت ہی نا دی۔۔ موت تو برحق ہے ہر کسی کو آنی ہی آنی ہے مگر اپنے کسی عزیز کو اس حقیقت کی نظر ہوتے دیکھنا آپکو مکمل طور پر توڑ جاتا ہے۔۔۔ جب میں نے امی کو کھویا نا تو مجھے لگا میری دنیا ہی اندھیر ہوگئ ہے۔۔۔ اب زندگی میں کچھ بچا ہی نہیں۔۔۔ انکی سر پر تیزی سے ہاتھ چلاتی گویا وہ آواز کی لغزش پر قابو پا رہی تھی۔۔۔ اس وقت کمال انکل نے میرے سر ہر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔ وہ مجھے واپس زندگی کی طرف لے کر آئے۔۔۔ اور اس رات جب آپکی طبیعت خراب ہوئی تو میں نے زرش کی آنکھوں میں اپنا آپ دیکھا۔۔۔ بالکل وہی ڈری سہمی خوفزدہ سی لڑکی جسکا سب کچھ اسکی ماں ہو۔۔۔ میں امی کے لئے کچھ نہیں کر پائی تھی کیونکہ وقت نے مہلت نہیں دی تھی آپ کے لئے کر سکتی تھی کیونکہ ابھی وقت تھا۔۔۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ زری بھی اسی تکلیف سے گزرے جس سے میں گزری تھی۔۔۔ اسکی تو کل کائنات آپ ہیں نا۔۔ پھر کمال انکل نے جو کچھ میرے لئے کیا اسکا بدلہ تو میں کبھی چکا ہی نہیں سکتی ۔ اور سب سے بڑھ کر آپ دریاب کی امی ہیں اور اس حوالے سے میرے لئے نہایت قابل احترام ہیں تو آپکی خدمت گزاری کے پیچھے بہت سی وجوہات ہیں سوائے اس وجہ کے جو آپ سمجھ رہی ہیں۔۔ نور نے ان کے بالوں کا رف سا جورا بنا کر اس پر کیچر لگایا اور اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔ آپکے لئے سوپ پکنا رکھا تھا لے کر آتی ہوں۔۔۔ وہاں سے چیزیں اکھٹی کرتی وہ کمرے سے باہر نکل گئ جبکہ پیچھے ایک آنسو زہرا بیگم کی آنکھ سے ٹوٹ کر پھسلا۔۔۔

*****

سر آپ سے ملنے کوئی شخص آیا ہے۔۔۔ اپنا نام نہیں بتا رہا کہہ رہا ہے کہ کوئی پرسنل کام ہے۔۔۔ حدید اپنے آفس میں بیٹھا تندہی سے لیپ ٹاپ پر کوئی پریزنٹیشن تیار کر رہا تھا جب انٹر کام بجا اور انٹر کام اٹھانے پر ابھرنے والی آواز سن کر کر کچھ پلوں کے لئے وہ ٹھٹھکا۔۔۔ ایسا کون ہو سکتا تھا جو اس سے ملنا بھی چاہے اور نام بھی نا بتا رہا ہو۔۔۔ ٹھیک ہے بھیج دو۔۔۔ اسنے کچھ سوچتے ہوئے کہا اور دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔۔ کچھ دیر بعد اسکا دروازہ ناک ہوا اجازت ملنے پر ایک شخص اندر داخل ہوا جسے دیکھتے ہی حدید کے ماتھے پر جابجا شکنوں کا جال ابھرا ۔۔ وہ پہلی ہی نظر میں اس شخص کو پہچان چکا تھا۔۔۔ اسلام علیکم حدید صاحب میں۔۔۔ کر سی کھینچ کر اسکے سامنے بیٹھتا وہ شخص اس سے پہلے کہ اپنا تعارف کرواتا حدید نے ہاتھ اٹھا کر اسے مزید بولنے سے روکا۔۔۔ کیا کام ہے آپکو۔۔۔ سنجدہ اور دوٹوک انداز۔۔۔

تو اسکا مطلب ہے کہ آپ مجھے پہچان چکے ہیں حدید صاحب۔۔ یہ تو بہت اچھی بات ہے۔۔۔ اس شخص کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری۔۔۔ میری اور زرش کی شادی ہونے والی تھی لیکن عین وقت پر کچھ گھریلو ناچاقی کی وجہ سے منسوخ ہو گئ۔۔۔

یہاں آنے مقصد۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ شخص مزید کوئی داستان سناتا حدید نے زوردارانہ انداز میں میز پر ہاتھ مارتے چبا چبا کر کہا۔۔۔ دیکھیں مسٹر حدید بی ریلیکس میری بات زرا تحمل سے سنیں میں اور زرش ہم دونوں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں مگر۔۔۔۔ حدید کے بدلتے تاثرات کو نوٹ کئے بنا وہ شخص اپنی ہی کہے جا رہا تھا۔۔۔

**”””