Hala By Umme Hania Readelle50346 Hala (Episode 38)
No Download Link
Rate this Novel
Hala (Episode 38)
Hala By Umme Hania
آپ سمجھتے کیا ہیں آخر خود کو۔۔۔ چاہتے کیا ہیں آپ۔۔۔۔ آخر ہے کیا آپکے دل میں مجھے بتا ہی دیں نا آج آپ۔۔۔۔ غصے کی شدت سے اسکی آنکھیں نم ہو اٹھی تھیں۔۔۔ کپکپاتے لب بھینچے غصے سے سرخ پرتی آنکھوں سمیت وہ دریاب کے مد مقابل آتی ہانپنے لگی تھی۔۔۔ مجھے چھوڑو تم اپنی کہو۔۔۔۔ تم کیا چاہتی ہو۔۔۔ دریاب نے نظریں اٹھاتے اسے دیکھ کر گویا بال اسکے کوٹ میں پھینکی۔۔۔ یکدم ہی جیسے نور کے پاس سبھی الفاظ ختم ہو گئے تھے۔۔۔ اسنے بے بسی سے دریاب کو دیکھا۔۔۔۔ وہ اپنی چاہت کبھی بھی دریاب پر آشکار نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ وہ کبھی دریاب سے یہ نہیں کہہ سکتی تھی کہ وہ اسے ٹوٹ کر چاہتی ہے۔۔۔ کہ وہ اسکے بنا نہیں رہ سکتی اور اسے یہ شراکت قطعاً قبول نہیں۔۔۔ وہ کبھی اسے یہ نہیں کہہ سکتی تھی کہ وہ اسے قبول کر لے۔۔۔ وہ اپنی کولیگ کو بھول جائے اور محض اسی سے محبت کرے۔۔۔۔ نور کو اپنا دل پھٹتا محسوس ہوا۔۔۔ کاش وہ کبھی اتنی ہمت کر پاتی کہ دریاب پر اپنا آپ آشکار کر سکتی۔۔۔ مگر وہ مشرقی لڑکی تھی۔۔۔ شرم و حیا جسکا گہنا تھا۔۔۔اسے اپنا پندار اپنا وقار سب سے عزیز تھا۔۔ بھلے ہی وہ شوہر تھا مگر وہ اسکی دلی کیفیت سے بھی واقف تھی۔۔۔ وہ مان گئ تھی کہ وہ بہت بڑا ساحر تھا لمحوں میں سحر پھونک کر ہر چیز اپنے قابو میں کر لیتا تھا۔۔۔ہنہہ مجھ سے میری چاہت تو یوں پوچھ رہے ہیں جیسے زمین آسمان ملا دینے ہوں آپ نے میری چاہت پوری کرنے میں۔۔۔ دل سے ایک ٹھیس سی اٹھی تھی۔۔۔ روٹھے پن سے کہتی وہ چہرا پلٹ کر دوبارہ کچن کاونٹر کے پاس جاتی کافی پھینٹنے لگی۔۔۔۔
آنکھیں جھپک جھپک کر اسنے اپنے آنسو پھسلنے سے روکنے چاہے۔۔۔ آخر بھرم بھی تو قائم رکھنا تھا نا۔۔۔یکدم ہی وہاں کا ماحول بدل گیا تھا۔۔۔ بھرپور غصے کی جگہ گویا بے بسی نے لے لی ہو۔۔۔ بتاو تو سہی شاید میں زمیں آسمان ملا ہی دوں تمہاری چاہت پوری کرنے میں۔۔۔ دریاب کا لہجہ بھی گویا مسکراتا ہوا تھا مسمرائز کرتا ہوا۔۔۔ وہ قدم قدم اسکی جانب بڑھتا بالکل کے پیچھے جا کر کھڑا ہوا تو خود کو بمشکل کمپوز کرتی نور لمحے میں اسکی جانب پلٹی۔۔ مجھ سے دور رہ کر بات کریں دریاب کوئی ضرورت نہیں میرے اتنا قریب آ کر اپنا عادی بنانے کی۔۔۔ انگشت اٹھا کر غصے اسے وارن کرتے گویا اسنے حد بندی متعین کرنی چاہی۔۔۔ اچھا تو تم میری عادی ہو رہی ہو۔۔۔ اسنے نور کی اسی انگلی میں اپنی شہادت کی انگلی ڈال کر گھمائی۔۔۔ شاید۔۔۔ لیکن مزید نہیں ہونا چاہتی۔۔۔ اسنے یکدم گھبرا کر اپنا ہاتھ کھینچا اور پھر سے رخ پلٹتی کاونٹر ٹاپ سے مگ اٹھا کر کافی پھینٹنے لگی۔۔۔ اسکا ہر انداز ہی دلکش تھا ہر ادا ہی نرالی تھی نور نے آنکھیں میچ کر گویا خود کو اسکے سحر سے آزاد کروانا چاہا
پانی ٹھنڈا ہو گیا ہے۔۔۔۔ ہاں۔۔۔ دریاب نے اسکے کان کے قریب سرگوشی کی تو وہ بوکھلا کر اچھل پڑی۔۔۔۔۔ کافی کا پانی ٹھنڈا ہو گیا ہے یہ پھئنٹی نہیں جائے گی۔۔۔ اسنے ہاتھ بڑھا کر نور کے ہاتھ سے کافی کا مگ تھاما ۔۔۔ دریاب کے ہاتھ نے نور کے ہاتھ کو چھوا تو گویا اس میں ایک سنسی دور گئ۔۔۔ آج کا دن ہی خراب ہے۔۔۔ وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی بعجلت مگ چھوڑ کر پیچھے ہٹی۔۔۔ اپنی بدلتی حالت بنتی بگڑتی کیفیت سے وہ خود ہی گھبرا اٹھی تھی۔۔۔ کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔ عجیب چڑَچڑے اور بے چین سے تاثرات کو وہ کوئی نام دینے سے قاصر تھی۔۔۔۔ دریاب نے اس سے مگ پکڑ کر سنک میں رکھا اور دوبارہ کافی بنانے کے لئے پین میں پانی ڈال کر چولہے پر رکھنے لگا۔۔۔ نور اسے کافی بناتا دیکھ کچن سے باہر نکل آئی۔۔۔ اسے مسلسل اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنا اسکے بس کی بات نا تھی۔۔۔ غصہ دماغ پر سوار ہوتا تو اسی کے زیر اثر دریاب پر چڑھ دوڑتی غصے کا زور ٹوٹتا تو اسے اپنی حماقت پر جی بھر کر غصہ آتا ۔۔ وہ پہلے ایسی نا تھی مگر ناجانے کیوں اب اتنی حماقتیں کرنے لگی تھی۔۔۔
******
انہیں حویلی پہنچتے پہنچتے خاصی رات ہو گئ تھی۔۔۔ لیکن جب تک وہ حویلی پہنچے زرش کا موڈ خاصا خوشگوار ہو چکا تھا ۔۔۔ وہ ایسی ہی تھی چھوٹی چھوٹی سی باتوں کو دل سے لگا لینے والی اور تھوڑے سے التفات پر ہی پھگل جانے والی۔۔۔۔ واو کتنی شاندار حویلی ہے حدید۔۔۔ یہ آپکی ہے۔۔۔ کی گز پر مشتمل اس محل نما حویلی کو دیکھتی زرش متحیر اور پرجوش سی گویا ہوئی جو اندھیرے میں بھی کسی دلہن کی طرح جگمگا رہی تھی۔۔۔حدید اسکی بات سن کر محض مسکرا دیا۔۔۔ گو کہ رات کافی ہو چکی تھی لیکن پھر بھی حویلی میں انکا پر زور استقبال ہوا تھا۔۔۔ دادی اور ہادیہ انکی گاڑی رکتے ہی کار پورچ تک انکے پاس آئیں۔۔۔
میں صدقے میں واری میرے بچے آئے ہیں۔۔۔ حدید کے ڈرائیونگ سیٹ کا درواز کھول کر باہر نکلتے ہی دادی نے اسکے واری صدقے جاتے اسکے سر پر پیار دیے کر اسکے ماتھے کا بوسہ لیا۔۔۔
دادی ہم اندر ہی آ رہے تھے آپ اتنی ٹھنڈ میں باہر کیوں آئیں۔۔۔ حدید نے ان سے مل کر انکے کندھے پر ہاتھ پھیلاتے پیار بھری خفگی سے کہا۔۔۔ ارے بچوں کے آنے کی خوشی میں ٹھنڈ کہاں محسوس ہوتی یے اور ویسے بھی میں تو تم دونوں کو یہاں دیکھ ویسے ہی بھلی چنگی ہو گئ ہوں۔۔۔ دادی نے حدید کا بازو پیچھے ہٹاتے آگے بڑھ کر زرش کو محبت سے گلے لگایا۔۔۔ کیسی ہیں بھابھی آپ حدید کو سلام کرنے کے بعد ہادیہ زرش سے ملی۔۔۔ زرش کو یہاں آ کر اچھا محسوس ہو رہا تھا اپنا اپنا سا۔۔۔ اندرونی دروازے سے آگے چھوٹی سی راہداری کے بعد لاوئنج شروع ہوتا تھا۔۔۔ زرش ہر چیز کو پراشتیاق نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
ارے بیٹھو نا بیٹا آپ کھڑی کیوں ہیں۔۔ ہادیہ بیٹا آپ جلدی سے ان کے لئے کھانا لگواو۔۔۔ لاوئنج میں آکر دادی نے زرش کو ابھی تک کھڑا دیکھ اسے بیٹھنے کا بولتے ہادیہ سے کہا۔۔۔ انکے ہر انداز میں عجلت تھی گویا انکے قدم ہی زمین پر نا ٹک رہے ہوں۔۔۔ ارے نہیں دادی کھانا نہیں کھائیں گے ابھی بھوک نہیں ہم راستے میں کھاتے آئیں ہیں۔۔۔ آپ بس گرما گرم سی چائے پلوا دیں کھانا صبح کھائیں گے۔۔۔ اس سے پہلے کہ ہادیہ کچن کی جانب بڑھتی حدید نے بعجلت دادی سے التجائیہ کہتے اسے روکا کیونکہ جانتا تھا دادی کا بس نا چلنا تھا کہ وہ اسے خالص دیسی گھی میں پکے پکواں کھلا کر ہی چھوڑتیں ۔۔۔ چلو ٹھیک ہے پتر ۔۔ جاو بیٹا چائے بنوا لاو۔۔۔ دادی ہادیہ کو بھیج کر خود حدید کے پاس صوفے پر بیٹھیں تو حدید فوراً سے نیم دراز ہوتا انکی گود میں سر رکھ گیا۔۔۔ زرش سامنے سنگل صوفے پر براجمان تھی۔۔۔ حدید دادی کا ہاتھ تھامے ہونٹوں سے لگا رہا تھا جبکہ دادی بھی مسکرا کر اسکے بالوں میں ہاتھ پھیر رہی تھیں۔۔۔ یہ منظر دیکھ کر زرش کی آنکھیں چمک اٹھیں۔۔۔ یہ اچھا موقع تھا اس سے بدلہ لینے کا۔۔۔ اسنے جو آج اچھا ڈرایا تھا اسے۔۔۔
اٹھیں یہاں سے۔۔۔ فوراً اٹھیں۔۔۔ وہ جھٹکے سے اٹھتی حدید کے سامنے گئ اور انگلی کے ساتھ ساتھ آنکھ سے بھی اسے اٹھنے کا اشارہ کرنے لگی۔۔۔
کیااااا۔۔۔ حدید کی حیرت دیدنی تھی۔۔۔ حیران تو حدید کے ساتھ ساتھ دادی بھی بہت ہوئی تھیں۔۔۔ یہ میری جگہ ہے۔۔۔ اور یہ میری دادی ہیں۔۔۔ آپکو کوئی ضرورت نہیں ان سے اتنا فری ہونے کی۔۔۔ لگی سمجھ۔۔۔۔
دادی مجھے آپکو انکی بہت سی شکایتیں لگانی ہیں ابھی۔۔۔ دادی یہ مجھے بہت ڈانٹتے ہیں۔۔۔ دادی غصہ بھی کرتے ہیں۔۔۔ وہ لمحوں میں آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو لاتی وہیں دادی کے پاس دوزانوں بیٹھتی انکے گھٹنوں کو تھامتی سسک اٹھی تھی۔۔۔ حدید تو حق دق سا رہ گیا تھا اسکی اس نوٹنکی پر۔۔۔ شاک کی کیفیت میں وہ پوری آنکھیں کھولے جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھا۔۔۔
حدیددددد۔۔۔۔ دادی کی آواز میں بے یقینی تھی۔۔۔ حدید نے بعجلت سر نفی میں ہلاتے زرش کی باتوں کی نفی کرنی چاہی۔۔۔ کیونکہ زبان تو گنگ ہو چکی تھی۔۔۔۔
دادی اگر آپکو کسی کو کوئی بات سمجھانی ہو تو آپ آرام سے۔۔۔ پیار سے محبت سے بھی تو سمجھا سکتے ہیں نا۔۔ دادی یہ مجھے غصے سے ڈرا دھمکا کر آنکھیں نکال کر سمجھاتے ہیں۔۔۔ زرش نے سوں سوں کرتے آخر میں دادی کی گود میں سر چھپا کر زارو قطار رونا شروع کر دیا تو حدید کے تو طوطے اڑ گئے۔۔۔
حدید کیا کہہ رہی ہے یہ بچی۔۔ تم۔۔۔ دا۔۔۔ دادی۔۔۔ وہ۔۔۔۔ حدید کو تو کچھ سمجھ ہی نا آ رہی تھی کہ اس وقت کیا کہے۔۔۔ اسنے تھوک نگلتے زرش کی جانب دیکھا ۔۔ زرش نے دادی کی گود سے چہرا اٹھا کر حدید کی جانب مسکرا کر دیکھتے اسے آنکھ ماری ۔۔۔ یہ دیکھ حدید کی آنکھیں مزید پھیل گئیں۔۔ مطلب وہ جان بوجھ کر۔۔۔ دادی بکواس کر رہی ہے یہ جھوٹ بول رہی ہے۔۔۔ زرش سیدھی ہو فوراً۔۔۔۔ لمحوں میں اسکا پارا ہائی ہوا تھا تبھی غرا کر کہتے اسنے زرش کو سیدھا کرنے کی غرض سے زرش کا بازو تھاما۔۔۔ دا۔۔۔ دادی ۔۔۔ یہ۔۔۔ یہ دیکھیں آپکے سامنے کیسا سلوک کر رہے ہیں میرے ساتھ۔۔۔ سوچ کر دیکھیں وہاں گھر میں یہ میرا کیا حال کرتے ہونگے۔۔۔ زرش نے خوفزدہ لہجے میں کہتے دادی کو مضبوطی سے تھامتے مزید شدت سے رونا شروع کر دیا۔۔۔
حدید تو اپنے ہی عمل سے اچھا پھنسا تھا۔۔۔ وہ بے بسی سے دانت پیستا اپنا سر تھام کر رہ گیا۔۔۔
حدید مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی بچے تم۔۔۔ تمہیں ۔۔۔ حیرت و بے یقینی سے دادی کے منہ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے۔۔۔ حدید کا بس نا چل رہا تھا کہ بنا لحاظ کئے زرش کے دو لگا ہی دیتا۔۔۔
دادی مجھے نہند آ رہی ہے میں سو جاوں۔۔۔ دادی کے ہاتھوں حدید کی کلاس لگتے دیکھ اسنے وہاں سے کھسکنے میں ہی عافیت مانی۔۔۔ حدید نے اسکی ڈامے بازی پر اسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔
ہاں بیَٹا آپ جاو سو جاو۔۔۔ اسکے کان میں کھینچ لیٹی ہوں ایسے کیسے یہ میری پھولوں سی بچی کیساتھ ایسا سلوک کرے گا۔۔۔۔ دادی نے اسے محبت سے اپنے ساتھ لگاتے اسکے ماتھے کا بوسہ لیا۔۔۔
دادی میں آپکے کمرے میں آپکے ساتھ سو جاوں۔۔۔ مجھے ان سے ڈر لگتا ہے۔۔۔ آج آپکو شکایت لگائی نا میں نے انکی یہ مجھے رات میں پھر سے ڈانٹے گیں۔۔۔ افف۔۔ اسکی اداکاری۔۔۔ وہ آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو بھرتی دادی کے سامنے بھرپور معصومیت چہرے پر سجائے گویا ہوئی۔۔۔ حدید نے بے بسی سے ہاتھ کی مٹھی بنا کر اپنے ماتھے پر ماری۔۔۔
بیٹا یہ اب آپکو کچھ نہیں کہے گا۔۔ آپکو مجھ پر یقین ہے نا۔۔۔ اسکا دماغ درست کر لیتی ہوں میں۔۔ آپ بے فکر ہو کر کمرے میں جا کر سو۔۔ پر دادی۔۔۔ دادی کے تسلی دینے پر بھی وہ شش و پنج میں مبتلا گویا ہوئی۔۔۔ بیٹا اگر یہ آپکو کچھ بھی کہے تو آپ نے اسی وقت میرے پاس آنا ہے۔۔۔ دادی نے اسکا سر تھپتھپاتے مزید اسکی تسلی کروائی تو وہ خاموشی سے سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔
ہادیہ بیٹا یہ اپنی بھابھی کو اسکا کمرا دکھا دو۔۔۔ دادی نے وہیں سے ہادیہ کو ہانک لگائی جسے سنتے ہی وہ بعجلت کچن سے چائے کی ٹرے اٹھائے باہر آئی۔۔۔
بھابھی آپکی چائے۔۔۔ میں کمرے میں ہی جا کر پی لوں گی۔۔ ہادیہ کے کہنے پر زرش نے ٹرے سے اپنا کپ اٹھایا اور ہادیہ کیساتھ کمرے کی طرف چل دی۔۔۔ حدید اسے خونخوار نگاہوں سے محض گھور کر ہی رہ گیا کیونکہ ابھی اسکی جان خلاصی نہیں ہوئی تھی۔۔۔
______
ہائے کتنا سکون مل رہا ہے مجھے حدید کی درگت بنتے دیکھ کر۔۔۔ زرش کمرے میں آ کر گول گول چکر کاٹتی بہت خوش تھی۔۔۔بہت اچھا ہوا انکے ساتھ۔۔۔ کیسے مجھ پر روب جھاڑ کر ڈرایا تھا انہوں نے ہنہہ۔۔۔ اب لگے گا پتہ۔۔۔ہائے میری چائے ٹھنڈی ہوگئ۔۔۔ بڑبڑاتے ہوئے اسکی نظر سائڈ ٹیبل پر پڑے چائے کے کپ پر پڑی تو لپک کر چائے کا کپ اٹھاتے بیڈ پر بیٹھ کر چائے پینے لگی۔۔۔
چائے پی کر اسنے اپنے بیگ سے سلیپنگ ڈریس نکال کر پہنا۔۔ انکے بیگ یہاں غالبا ملازم رکھ کر گیا تھا۔۔۔ سلیپنگ ڈریس پہن کر وہ جلدی جلدی اپنے بال بنا رہی. تھی ارادہ جلد از جلد حدید کے آنے سے پہلے پہلے سو جانے کا۔۔۔ ابھی وہ بال بنا ہی رہی تھی جب اسے کمرے کے باہر قدموں کی چاپ سنائی دی۔۔۔ یکدم ٹھٹھک کر رکتے اسنے بعجلت برش سنگھار میز پر رکھا اور بیڈ کی جانب پلٹی۔۔ لیکن برا ہو جو اسکے بیڈ تک پہنچنے سے پہلے ہی حدید کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔۔۔ حدید کے اندر آتے ہی وہ اپنا سانس تک روک گئ۔۔۔ آگے بڑھنے کا فائدہ کیا تِھا بھلا وہ اسے دیکھ چکا تھا اور جب دیکھ ہی چکا تھا تو وہ بھی دل کڑا کرتی واپس پلٹی۔۔۔ خیر اسے اب اتنا بھی ڈرنے کی ضرورت نا تھی۔۔۔ آفٹر آل دادی اسکے ساتھ تھی۔۔۔
اچھا تو میں بہت ظلم کرتا ہوں تم پر۔۔ چلو ان مظالم کی داستان تم دادی سے پہلے مجھے ہی سنا لو۔۔۔ حدید کی سنجیدہ آوازہ پر اسکا خون خشک ہوا۔۔۔ اسنے تھوک نگلتے خود کو مضبوط ظاہر کرنا چاہا جب وہ بالکل اسکے قریب آتا اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا۔۔۔ زرش کو اپنی شرارت مہنگی پڑتی محسوس ہوئی۔۔۔ حدید وہ تو۔۔۔۔۔ تو۔۔۔
_____
