Hala By Umme Hania Readelle50346 Hala (Episode 21)
No Download Link
Rate this Novel
Hala (Episode 21)
Hala By Umme Hania
رات تیزی سے سرک رہی تھی۔۔۔ گھڑی کی سوئیاں بنا رکے لگاتار گھومتی جا رہی تھیں۔۔ صوفے پر بیٹھے بیٹھے انتظار کی سولی پر لٹکتے نور بے دم ہونے لگی تھی۔۔۔ دل اپنی حرماں نصیبی و بے وقعتی پر اشکبار تھا مگر آنکھ نے بھی جیسے نم نا ہونے کی قسم کھائی تھی۔۔۔ اپنی بے وقعتی و بے قدری پر نکلتا ہر آنسو اسکے دل پر گرتا اسے داغ رہا تھا ہر داغ اسے جلتا اور سلگتا محسوس ہو رہا تھا اذیت حد سے سوا تھی۔۔
کافی دیر گزر جانے کے بعد وہ سنجیدہ تاثرات سمیت اٹھی اور کپڑے تبدیل کر کے بیڈ پر آ کر لیتی۔۔۔ وہ شدت سے ایک پرسکون نیند کی خواہاں تھی مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی وہ بستر پر چت لیٹی چھت کی سیلنگ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
بابا کی رانی ہوں
آنکھوں کا پانی ہوں
بہہ جانا ہے اک دن
دو پل کہانی ہوں
بابا امی دانٹ رہی ہیں۔۔۔ بابا۔۔۔ بابا۔۔۔ ارے ارے نور بیٹا کیا ہو گیا۔۔۔ بابا وہ امی۔۔ باپ کی ٹانگوں سے چمٹی اس ننھی پری نے پیچھے کی جانب اشارہ کیا۔ مجھے دو۔۔۔ اسکے باپ نے پیچھے دودھ کا گلاس تھامے کھڑی شکوہ کناں نگاہوں سے خود کو تکتی بیوی کی طرف مسکرا کر دیکھتے دونوں ہاتھ سیز فائر کرنے کے انداز میں اٹھا کر کہا۔۔ یہ مجھے دو۔۔۔ اگر آپ اسے پورا ختم کرو گی نا نور بیٹا تو ہم ابھی آئس کریم کھانے چلیں گے۔۔
آنسو لڑئیوں کی مانند نور کی آنکھوں سے بہنے لگے تھے
اماں کی بٹیا ہوں
آنگن کی مٹیا ہوں
ٹک ٹک نہارے جو پردیسی چٹھیا ہوں
ممتا کے آنچل میں جو گیت گائے ہیں
بابل نے جھٹ پٹ جو سپنے سجائے ہیں
وہ یاد آئیں گے
چپ چپ رلائیں گے۔
وہ رات نور پر بہت بھاری تھی۔۔۔ ناجانے یادوں کے گھوڑوں پر سوار وہ ماضی کی کتنی وادیاں پار کرتی جا رہی تھی جب اپنوں کی یادوں کے سنگ پرواز کرتی اس پر نیند کی دیوی مہربان ہوئی اور وہ ہر اذیت سے آزاد ہوتی چلی گئ۔۔۔
صبح اسکی آنکھ چیزوں کی کھٹ پٹ کی ہلکی آواز سے کھلی تھی۔۔۔ آنکھ کھلتے ہی کچھ پل لگے تھے اسے ماحول سے مانوس ہونے میں۔۔۔ رات کے مناظر یاد آتے ہی وہ بال سمیٹتی کسلمندی سے اٹھ بیٹھی مگر بائیں جانب دیکھتے ہی اسکے ہاتھ ٹھٹک کر رکے مگر یہ محض وقتی کیفیت تھی فوراً ہی وہ نظر اندا کرتی دوبارہ بار فولڈ کرتی انہیں جوڑے کی شکل میں لپیٹ کر بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
رات دریاب ماں کے پاس بیٹھا بیٹھا وہیں سو گیا تھا۔۔۔ صبح فجر کے وقت اسکی آنکھ کھلی تو وہ وہیں سے مسجد نماز پڑھنے چل دیا ۔۔۔ واپسی پر وہ اپنے کمرے میں آیا تو سامنے ہی نود اپنی تمام تر حشر مانیوں سمیت اسکے بیڈ پر پورے استحقاق سے محو استراحت تھی۔۔۔ اسے یہ ماننے میں کوئی آڑ نا تھی کہ بلاشبہ نور ایک نہایت خوبصورت لڑکی تھی۔۔۔ ایک طائرانہ نگاہ اس پر ڈالتا وہ دیوارگیر الماری سے اپنے کپڑے نکالتا واش میں فریش ہونے کے لئے گیا اور جب وہ واپس کمرے میں آیا تو تب بھی نور بے فکری سے سو رہی تھی۔۔۔
اب نور کو بیڈ سے اترتے دیکھ اسنے بال بنا کر برش واپس سنگھار میز پر رکھا اور مسکرا کر اسکا خیر مقدم کرتا اسکی جانب پلٹا ۔۔
اسلام علیکم۔۔۔۔ کیسی ہو۔۔ آئم سوری دراصل رات امی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو۔۔۔
اب کیسی طبیعت ہے انکی۔۔۔ نور اسکی بات کے پس منظر کو اچھے سے سمجھ چکی تھی اسی لئے اسکی بات کاٹتی سرعت سے گویا ہوئی کیونکہ وہ رات کے حوالے سے فلحال کوئی بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ دونوں سنگھار میز کے پاس آمنے سامنے کھڑے تھے۔۔۔ دریاب کی آئینے کی جانب پشت تھی وہ اس سے کمر ٹکائے کھڑا تھا ۔ بہتر ہے اب۔۔۔ میں فریش ہو لوں زرا پھر انہیں سلام کرنے جاتی ہوں۔۔۔ وہ اپنی بات کہہ کر بنا اسے بات کرنے کا موقع دیئے چھپاک سے واش روم میں گم ہو گئ جبکہ پیچھے دریاب بے بسی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔
*****
یہ کیا پھیکا بدمزہ سا سوپ بنایا ہے تم نے سکینہ۔۔ مجھ سے نہیں پیا جاتا یہ۔۔۔ دریاب کے پیچھے ٹی پنک کلر کی ہلکے کام والی فراک زیب تن کئے نور زہرا بیگم کے کمرے میں داخل ہوئی تو زہرا بیگم کی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔
کیا ہو گیا ہے امی کیوں سکینہ بیچاری کی شامت آئی ہوئی ہے دریاب نے اندر داخل ہوتے خوشگوار لہجے میں کہا تو زہرا بیگم نے مسکرا کر اسکی جانب دیکھا لیکن اسکے پیچھے ہی آتی نور کو دیکھتے انکی مسکراہٹ سمٹی تھی۔۔۔۔
اسلام علیکم آنٹی۔۔۔ کیسی ہیں آپ۔۔۔ وہ انکے پاس آ کر دوستانہ انداز میں گویا ہوئی ۔۔۔
کیا کرنے آئی ہو یہاں۔۔۔ میری بے بسی کا تماشہ دیکھنے آئی ہو رزیل لڑکی۔۔۔ لمحوں میں زہرا بیگم اپنا آپا کھو گئ تھی۔۔ تم م م ۔۔۔
امی ی ی۔۔۔۔
آ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔
بھرپور غصے سے انہوں نے ہاتھ میں تھاما سوپ کا باول چلا کر نور پر پھینکا تھا ایک چینخ نور کے حلق سے برآمد ہوئی تھی مگر اس سے پہلے کہ وہ گرم سوپ نور کو جھلساتا دریاب نے ماں کے ارادے کو بھانپتے سرعت سے نور کو پیچھے ہٹاتے ہاتھ سے ماں کو روکنا چاہا۔۔۔ مگر لمحوں کا کھیل تھا وہ گرم سوپ سیدھا دریاب کے ہاتھ پر گرتا اسکا ہاتھ جلا گیا تھا۔۔
نور ابھی تک حواس باختہ سی دونوں ہاتھ منہ پر رکھے پھٹی پھٹی نگاہوں سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔۔۔ اسکا دل ابھی تک اس اچانک افتاد پر زور زور سے ڈھرک رہا تھا۔۔۔۔ شدت سے دل چاہا کہ سرعت سے اس ستمگر کا ہاتھ تھام کر اسے دیکھے۔۔۔
کیا ہوا ہے یہاں۔۔۔ کمال صاحب انکا شور سن کر کمرے میں داخل ہوئے مگر سامنے کا منظر دیکھتے انکے قدم وہیں رک گئے تھے۔۔۔ وہ پتھرائی نگاہوں سے بیوی کا یہ جاہلانہ انداز دیکھ رہے تھے۔۔۔ نور کرب سے آنکھیں صاف کرتی سرعت سے انکے پاس سے گزری۔۔۔۔
انکی خاموش نگاہوں نے دور تک نور کا پیچھا کیا تھا۔۔۔ دریاب ہاتھ پر آئنٹمنٹ لگا کر سٹڈی میں آ کر میری بات سنو۔۔۔ کمال صاحب جو فیصلہ رات بھر میں نا کر پائے تھے وہ لمحوں میں ہو گیا تھا۔
*****
ساری رات زرش کی بے چینی سے گزری تھی کروٹیں بدلتے وہ ساری رات سو تک نا سکی تھی۔۔۔ صبح بھی فجر کی پہلی آذان کے ساتھ وہ اٹھ بیٹھی تھی۔۔۔ ساری رات سو نا سکنے کے باوجود نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔ اسے شدت سے اپنے گھر کی یاد آ رہی تھی۔۔۔
فجر کی نماز پڑھ کر وہ بے چینی سے صوفے پر بیٹھی ہونٹ کچلتی پاوں جھلاتی ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔۔۔
اتنی صبح اسے کمرے سے باہر جانا بھی مناسب نہیں لگ رہا تھا اور وہاں رکنا بھی محال لگ رہا تھا۔۔۔ اسے جی بھر کر حدید کی نیند پر رشک آیا جو اتنی پرسکون نیند کے مزے لوٹ رہا تھا۔۔۔ وہیں صوفے پر بیٹھے یک ٹک حدید کو دیکھتے وہ ناجانے کب نیند کی وادیوں میں اتر گئ تھی دوبارہ اسکی آنکھ کسی نامانوس سی آواز کی وجہ سے کھلی۔۔۔ اسنے مندی مندی آنکھیں کھولیں لیکن صوفے کہ ہتھی پر نک سک سے تیار حدید کو اپنے اسقدر نزدیک براجماں دیکھ وہ ہربڑا کر سیدھا ہو بیٹھی تھی۔۔۔
آ۔۔۔آپ۔۔۔۔ اس اچانک افتاد پر وہ یکدم گھبرا اٹھی دل الگ دھک دھک کرنے لگا تھا۔۔۔ وہ اسکے بے حد قریب یک ٹک اسے دیکھتا اسے کپکپانے پر مجبور کر رہا تھا۔۔
یا اللہ۔۔۔ یہ انہیں کیا ہو گیا ہے مجھے ایسے کیوں گھور رہے ہیں۔۔۔ اسنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ایک چور نگاہ حدید پر ڈالی۔۔۔
یہ تمہارے لئے تمہاری منہ دکھائی کا تحفہ۔۔۔ حدید نے اسکی جانب جھکتے اسکی گود میں ایک نفیس سی ڈبی رکھی جھکنے سے اسکا چہرا زرش کے چہرے کے بے حد قریب آ گیا تھا جبکہ زرش نے حدید کی جانب دیکھتے سانس روکتے اپنا چہرا کافی حد تک پیچھے ہٹا لیا تھا مگر حدید اسکی گود میں ڈبی رکھتا سنجیدگی سے اسکو دیکھتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔
اس فارمیلٹی کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔ اس ڈبی کو ہاتھ میں تھامے وہ نا نا کرتے بھی شکوہ کر ہی گئ تھی۔۔ ضرورت تھی ڈئیر وائفی۔۔۔ ابھی سب تم سے منہ دکھائی کے بارے میں پوچھیں گے تو تمہیں آسانی رہے گی۔۔۔ سنگھار میز سے رسٹ واچ اٹھا کر بازو پر لگاتا وہ ایک نظر اسے دیکھ کر کمرے سے نکل گیا جبکہ زرش اسکے جاتےنے اس ڈبی کو چلا کر پھینکا تھا۔۔۔
میں تو جیسے مری جا رہی ہوں نا اس منہ دکھائی کے لئے۔۔۔ کھروس۔۔۔ اسنے سر دونوں ہاتھوں میں گرایا تو کئ آنسو موتیوں کی صورت بہتے چلے گئے۔۔۔
*****
ماشااللہ۔۔۔ میری بہو تو پوری چاند کا ٹوٹا لگ رہی ہے۔۔۔ دادی نے کمرے میں داخل ہوتے زرش کو دیکھ کر اسکی بلائیں لے ڈالی تھیں۔۔۔۔ دیکھا دادو یہ میرے ہاتھوں کا جادو ہے
ہادیہ جو دادی کے ہی کہنے پر اسکو تیار کرنے آئی تھی اس کے پاس ہی کھڑی اٹھلا کر گویا ہوئی
اللہ نظر بد سے بچائے۔۔۔ بیٹا یہ پیسے ملازموں میں بانٹ دینا۔۔۔دادو نے کئ ایک نوٹ زرش کے سر سے وارتے ہادیہ کو تھمائے۔۔۔ بیٹا دریاب بیٹا ناشتہ لے کر آیا ہے آپ جلدی سے نیچے آ جاو۔۔
بھیا۔۔۔ بھیا آئے ہیں۔۔۔ زرش کو بھائی کا سن کر یوں محسوس ہوا جیسے ویرانے میں کوئی اپنا مل گیا ہو۔۔ وہ ہر مصلحت بالائے طاق رکھتی باہر کو بھاگی۔۔۔۔ ارے ارے آرام سے بیٹا دادو بھی مسکراتی ہوئی اسکے پیچھے ہی باہر آئی۔۔۔۔
بھیاااا۔۔۔ وہ دور سے حدید کے ساتھ بیٹھے باتیں کرتے دریاب کو پکارتی بھاگتی ہوئی اسکی جانب آئی دریاب اسے اپنی جانب بڑھتا ہوا دیکھ اٹھ کھڑا ہوا جب وہ سرعت سے اسکے گلے لگتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ دل تو رات سے ہی بے چین تھا کندھا میسر آتے ہی آنسو کو بہنے کا موقع مل گیا تھا جبکہ دریاب ہق دق سا زرش کا یہ رویہ دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ بھیا مجھے گھر جانا ہے امی کے پاس۔۔۔ مجھے ساتھ لیجائیں۔۔۔ ہچکیاں بھرتے وہ گویا ہوئی تو دریاب نے سنجیدہ نگاہوں سے حدید کی جانب دیکھا اس اچانک افتاد پر وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔ زرش سے اس قدر حماقت کی توقع نہیں تھی اسے۔
*****
