Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hala (Episode 39)

Hala By Umme Hania

زرش کو اپنی شرارت مہنگی پڑتی محسوس ہوئی۔۔۔ حدید وہ تو۔۔۔۔۔ تو۔۔۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس وقت اسے کیا کہے پہلے تو دادی کی شہہ پر شیر بنی ہوئی تھی اب اکیلے میں تو اسے نانی یاد آ گئ تھی۔۔۔ دیکھیں آاا۔۔۔ اگر آپ نے مجھ پر غصہ کرنے کی ی۔۔۔۔یا مجھے کچھ بھی کہنے کی کوشیش کی نا۔۔۔ تت۔۔ تو دادی کو بلا لاوں گی۔۔۔ یکدم ہی دادی کی تسلی یاد آنے پر وہ انگشت اٹھاتی چند قدم دور ہٹ کر خود کو مضبوط ظاہر کرتی لہجے کی کپکپاہٹ پر قابو پاتی گویا ہوئی۔۔۔۔

اچھاااااا۔۔۔ حدید پر سوچ انداز میں کھڑا تھوڑی کحجھاتا اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ زرش نے نظر چراتے اسے دیکھا۔۔۔ کہیں کچھ مسنگ تھا۔۔ اسکے دیکھنے کا انداز کچھ عجیب تھا۔۔۔ وہ کیا سوچ رہا تھا۔۔۔ وہ کیا کرنے والا تھا دال میں کچھ کالا ضرور تھا۔۔۔ اسکے انداز و تاثرات کچھ نہیں بہت الگ تھے۔۔۔۔اسے یوں دیکھ زرش کو گھبراہٹ ہونے لگی۔۔۔

آں ں ن۔۔۔ دیکھیں حدید آپ نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی مجھے ڈرانے کی ہراس کرنے کی۔۔۔ کتنا غصہ کیا تھا آپ نے مجھ پر اگر میرا ہارٹ فیل ہو جاتا تو۔۔۔ میں نے دادی سے سچ ہی بولا تھا کچھ جھوٹ تو نہیں کہا اور ویسے بھی سچ بولنا اچھی بات ہوتی ہے۔۔۔ حدید کی بدلتی نگاہوں و انداز کو نظر انداز کرتی وہ دل کڑا کر کے گویا ہوئی اور پھر سے سنگھار میز کے سامنے کھڑی ہوکر اپنے پہلے سے سلجھے بالوں کو مزید سلجھانے لگی اپنی بوکھلاہٹ پر قابو پانے کی ایک لاشعوری اور معصوم سی کوشیش۔۔۔ آخر ڈرتی تھوڑی نا تھی اس سے۔۔۔ پر نجانے کیوں دل میں ایک پکڑ دھکڑ سی شروع ہو چکئ ہے۔۔۔ ہاتھوں میں ہلکی ہلکی کپکپاہٹ الگ شروع ہو گئ تھی۔۔۔ اللہ جی کیا مصیبت ہے۔۔۔۔ اب یہ اتنے ٹھنڈے کیوں ہیں غصہ کیوں نہیں آ رہا انہیں۔۔۔ مسلسل اپنے بال سلجھاتے وہ کن اکھیوں سے شیشے سے نظر آتے حدید کے عکس کو دیکھ رہی تھی جو اسے ہی دیکھتا قدم قدم اسکی طرف آتا اسکےبالکل پیچھے آ کھڑا ہوا۔۔۔اسے اپنے اسقدر قریب کھڑا دیکھ زرش کا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔۔۔ ہممم۔۔۔ سچ بولنا تو واقعی اچھی بات ہوتی ہے۔۔۔۔ حدید نے نرمی سے اسکا ہاتھ تھامتے اسکا رخ اپنی جانب کیا۔۔۔ زرش تھوک نگلتی اسکی جانب پلٹی۔۔۔آ آپکی طبیعت تو ٹھیک ہے نا حدید۔۔۔ زرش نے ڈھرکتے دل سے حدید کے ماتھے پر ہاتھ رکھتے استفسار کیا۔۔۔ حدید کا یہ اتنا ٹھنڈا روپ وہ ہضم نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔ زرش کی حیرت سے حدید کے چہرے پر ایک دلکش مسکراہٹ ابھری۔۔۔ زرش حیرت زدہ نگاہوں سے اسے یکٹک دیکھے گئ۔۔۔ کتنا پیارا لگتا تھا وہ یوں مسکراتے ہوئے۔۔۔ حدید نے اپنی جیب سے چھوٹی سی ڈبی نکال کر کھولی اور اس میں سے نفیس سا بریسلیٹ نکال کر اسکی کلائی کی ذینت بنایا۔۔۔ کلائی پر ابھرتے لمس سے زرش چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ ابکے آنکھوں میں حیرت کے ساتھ پریشانی بھی ابھری تھی۔۔۔ ارد گرد کہیں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی تھیں۔۔۔ اسنے نامحسوس انداز میں پیچھے کھسکنا چاہا جب حدید نے اسے بازو سے تھامتے اسکی یہ کوشیش ناکام بناتے اسے واپس اپنے قریب کھینچا۔۔۔ صبح جب اپنی دادی سے ملو تو انہیں بتانا کہ انکا پوتا رات اپنے ہر عمل کا مداوا کر چکا ہے۔۔۔ اسنے زرش کے قریب جھکتے اسکے کان میں سرگوشی کی جس سے وہ سر تا پیر کپکپا اٹھی اسکی رہی سہی ہمت بھی جواب دے گئی۔۔۔ ذہن اسے اس وقت جو سمجھانا چاہتا تھا وہ اسے سمجھنے سے انکاری تھی۔۔۔ اس نے بہت کوشیش کی پہلو تہی کی مگر حدید کی پیش رفت کے آگے اسکی سبھی مزاحمیتیں کمزور ثابت ہوئیں۔۔۔ اور پھر وہ خود بھی حالات کی نزاکت کو سمجھتی خود کو حالات کے ڈھارے پر چھوڑ چکی تھی۔۔۔

****”””

دریاب جس وقت کافی بنا کر کچن سے نکلا تب شام کی نیلاہٹیں رات کے سرمئ پن میں بدل چکی تھیں۔۔۔ باہر سے عشاء کی اذانوں کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں ۔ نور اسے باہر لاوئنج میں کہیں نظر نہیں آئی البتہ اسکے کمرے کی لائٹ جل رہی تھی۔۔۔دریاب کافی کی ٹرے تھامے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔۔۔ نور کی اسکی جانب پشت تھی وہ سٹڈی ٹیبل پر بیٹھی جرنل سے دیکھ کر لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپ کر رہی تھی۔۔۔ آہٹ پر بھی بنا پلٹے اپنے کام میں مصروف رہی۔۔۔۔ دریاب نے اسکے قریب جاتے ٹرے سٹڈی ٹیبل پر رکھی اور خود پاس ہی موجود سنگل صوفے پر براجمان ہوا۔۔۔ نور نے ایک نگاہ ٹرے کی جانب دیکھا جہاں کافی کے دو مگ کیساتھ سینڈوچز موجود تھے وہ کافی کی بھرپور طلب کو نظرانداز کرتی پھر سے اپنے کام میں مصروف ہو گئ۔۔۔ دریاب نے بنا کچھ کہے اسکے قریب پڑا جرنل اٹھایا اور اسکے صفحات آگے پیچھے کرتا دیکھنے لگا وہ اسکی یونیورسٹی کی اسائمنٹ تھی مختلف ہیڈنگز اور خوبصورتی سے لکھے الفاظ ۔۔۔۔گویا صفحات پر موتی پروئے ہوں۔۔۔ دریاب کی آنکھوں میں ستائش ابھری۔۔۔ وہ اب بھی اسے مکمل نظر انداز کئے اپنے کام میں منہمک تھی۔۔۔۔ دریاب نے جرنل بند کر کے آہستگی سے لیپ ٹاپ کی سکرین کو بند کیا۔۔۔ کام میں خلل پڑتے ہی نور نے حیرت سے سر اٹھاتے دریاب کی جانب دیکھا وہ سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ آپ۔۔۔۔ ہم آرام سے سبھی باتیں ڈسکس کر سکتے ہیں نور پہلے سکون سے کافی پیو۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ جزبر ہو کر اس پر چڑھ دورتی دریاب کی پرسکون آواز نے اسے مزید بولنے سے روکا۔۔۔۔ دریاب نے کافی کا مگ اٹھا کر اسکے قریب رکھا اور خود اپنا مگ اٹھا کر کافی پینے لگا۔۔۔ خیر بھوک تو اسے بھی بہت لگی تھی کھانا تو اسنے دوپہر میں بھی دھنگ سے نہیں کھایا تھا اس لئے بھرپور سینڈوچ سے انصاف کرتی کافی پینے لگی۔۔۔

آپ مجھے چھوڑ دیں دریاب۔۔ کافی ختم کر کے مگ واپس ٹرے میں رکھتی وہ میز کی سطح پر نظریں ٹکائے نجانے کس ضبط سے گویا ہوئی۔۔۔۔

اچھاااا۔۔۔اور پھر۔۔۔ دریاب کی پرسکون آواز ابھری جیسے جاننا چاہتا ہو کہ مزید اسکے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔۔۔ پھر آپ۔۔۔۔ آپ اپنی کولیگ سے شادی کر لیں۔۔۔ اسکی نگاہیں ابھی بھی جھکی تھیں جیسے نہیں چاہتی ہو کہ دریاب اسکی آنکھوں کے ذریعے اسکے اندر کے حالات سے واقف ہو۔۔۔۔ گلے میں نمکیں پانیوں کا گولہ پھنسا تھا جسے بدقت اندر اتارتی وہ گویا ہوئی۔۔۔ لیکن اس کے لئے تمہیں چھورنے کی کیا ضرورت ہے وہ تو میں تمہاری موجودگی میں بھی کر سکتا ہوں۔۔۔ دریاب کا لہجہ ابھی بھی پرسکون تھا۔۔۔ نور نے جھٹکے سے سر اٹھاتے شکوہ کناں نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔ وہ ٹانگ پر ٹانگ جمائے صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے کہنی صوفے کی ہتھی پر جمائے انگلی گال تلے جمائے سنجیدگی سے نور کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ چہرے پر آنکھوں میں یا لہجے میں کہیں بھی مذاق کا شائبہ تک نا تھا۔۔۔

جب آپکو کرنی ہی دوسری شادی ہے تو مجھے کیوں لٹکائے رکھنا چاہتے ہیں۔۔۔ ثابت کیا کرنے چاہتے ہیں. آپ کہ آپ بہت اچھے ہیں۔۔۔ نہیں ہیں آپ اچھے۔۔۔ سنا آپ نے۔۔۔ نہیں رہنا میں نے آپکے ساتھ ۔۔۔ طلاق دیں مجھے ابھی۔۔۔ دریاب کا پرسکون انداز اسکے اندر آگ لگا گیا تھا لمحوں میں وہ آپے سے باہر ہوتی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑیی ہوتی اس پر چیخی تھی۔۔ تم اچھے سے جانتی ہو کہ میں تمہیں کبھی طلاق نہیں دوں گا نور۔۔۔ دریاب بھی ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا اسکے مقابل جاتا سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔ جانتی ہوں۔۔ اب کمال انکل کی پڑاپڑتی کے لئے آپ مجھے پوری زندگی لٹکائیں گے۔۔۔ میں تھوکتی نہیں ایسی دولت پر۔۔۔ نور تم غلط سمجھ رہی ہو۔۔۔ اسے غصے سے ہانپتے دیکھ دریاب نے اسکے قریب جا کر اسے بازو سے تھامتے اسکی غلط فہمی دور کرنی چاہی۔۔۔

ہاتھ مت لگائیں آپ مجھے۔۔۔ نہیں رہنا مجھے آپ کے ساتھ تماشا بنا دیا ہے آپ نے میرا۔۔ طلاق کے بعد میں آپکی پڑاپڑتی واپس آپکے نام کر دوں گی۔۔۔ ایک جھٹکے سے دریاب کا ہاتھ جھٹکتی وہ کسی اچھوت کی مانند اس سے دور ہٹتی غرا کر گویا ہوئی۔۔۔ گرم سیال مائع ٹپ ٹپ آنکھوں سے بہنے لگا تھا۔۔۔ ہونٹ کپکپانے لگے تھے

دریاب نے بے یقینی سے اپنے خالی ہاتھ کو دیکھا۔۔۔۔ تم ابھی اپنے حواسوں میں نہیں ہو نور۔۔۔ میرے پرخلوص جذبات کو تم بہت غلط سمجھی ہو جب تم ہوش میں ہوگئ ہم تب بات کریں گے۔۔ لب بھینچے اپنا غصہ ضبط کرتا وہ چبا چبا کر گویا ہوا اور بنا اسکی جانب دیکھے دروازے کی جانب بڑھا جب نور ایک ہی جست میں پھر سے اسکے سامنے آئی۔۔۔ کیا آپکو میں پاگل دکھائی دے رہی ہوں آپ کو سمجھ نہیں آتا کہ مجھے۔۔۔ تم میری بات کو غور سے سنو نور۔۔۔ اس سے پہلے کہ نور مزید کچھ کہتی دریاب نے اسے بازو سے دبوچتے اپنے قریب کیا لہجے کے ساتھ ساتھ اسکی گرفت میں بھی بھرپور سختی تھی۔۔۔۔ آنکھیں ضبط سے سرخ پڑنے لگی تھیں۔۔ اسکی سرخ آنکھیں دیکھتی نور یکدم ہی خاموش ہو اٹھی۔۔ تم میری بیوی ہو۔۔۔ میری ذمہ داری۔۔۔ میری زندگی کا حصہ ۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر میرے باپ کی خواہش ۔۔۔ تمہیں کبھی خود سے جدا نہیں کروں گا۔۔۔ آج یہ بات سمجھا رہا ہوں بار بار نہیں سمجھاوں گا۔۔۔ جتنی جلدی ہو سکے یہ بات اپنے چھوٹے سے دماغ میں بیٹھا لو۔۔۔دوسرے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے اسکے ماتھے پر دستک دی۔۔۔ اپنے حواس اور اپنا دماغ درست کرو پھر بات کریں گے۔۔۔ اسکی آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑے چبا چبا کر لفظ ادا کرتے اسنے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا اور لمبے لمبے ڈگ بھڑتا انیکسی سے نکل گیا۔۔۔ نور وہیں زمین پر بیٹھتی سسک اٹھی۔۔۔ آج اسنے پہلی مرتبہ اس شخص کا اتنا سخت روپ دیکھا تھا اور اسے اس سختی پر مجبور بھی نور نے خود ہی کیا تھا۔۔۔ ایک دم ہی دل کو کھینچ لگی تھی۔۔۔ بے چینی کچھ مزید بڑھی تھی۔۔۔ وہ یہ شراکت کبھی برداشت نہیں کر سکتی تھی۔۔ کیسے دیکھتی وہ اسکے پہلو میں اپنی جگہ کسی اور کو۔۔۔ جہاں دریاب کی باتیں اسے سکون فراہم کر رہی تھی وہیں اسکی دوسری شادی کی خبر دل پر حشر بھرپا کر رہی تھی۔۔۔

******

صبح زرش کی آنکھ کھلی تو رات کے سبھی مناظر یاد آتے ہی اسکی نگاہیں خودبخود جھک گئ۔۔۔ ہونٹوں پر ایک شرمگیں مسکراہت نے چھب دکھلائی تھی اسنے مسکراتے ہوئے بیڈ کے دائیں جانب دیکھا وہ جگہ اس وقت خالی تھی۔۔۔ ناجانے حدید کس وقت اٹھا تھا اسے پتہ ہی نا چل سکا۔۔۔۔ صد شکر تھا کہ وہ اس وقت کمرے میں نہیں تھا ورنہ وہ اس وقت خود میں اسکا سامنا کرنے کی ہمت مفقود پاتی تھی۔۔۔ فریش ہو کر وہ جدید تراش خراش کا لائٹ پنک سوٹ زیب تن کئے سنگھار میز کے سامنے بیٹھی پورے دل سے تیار ہو رہی تھی۔۔۔ آج دل خودبخود تیار ہونے کو چاہ رہا تھا۔۔۔ وہ اپنی لکس کا بہت خیال رکھتی تھی مگر اتنے دل سے تیار وہ کبھی بھی نہیں ہوئی تھی۔۔۔ ہلکا پھلکا سا نیچرل میک آپ کئے ہونٹوں پر لائٹ پنک لپ سٹک لگائے لائٹ پنک ہی بلش آن لگائے بالوں کو سمیٹ کر دائیں کندھے سے آگے لا کر ویسے ہی کھلا چھوڑ کر اسنے ایک نظر آئینے میں نظر آتے اپنے عکس پر ڈالی۔۔۔ لب آپوں آپ ہی مسکرا اٹھے تھے وہ دیکھنے میں بالکل پنک ڈول ہی لگ رہی تھی۔۔۔ اپنی تیاری سے مطمئن ہوتی وہ کمرے سے باہر نکلی۔۔۔

اسلام علیکم دادی۔۔۔ لاوئنج میں پہلا ٹاکرا ہی اسکا دادی سے ہوا تھا جو صوفے پر براجمان کسی عورت کو بتا بتا کر صفائی کروا رہی تھی۔۔۔ اسنے خوشدلی سے دادی کی طرف بڑھتے انکے گلے میں بازو حائل کئے۔۔۔ واعلیکم اسلام بیٹا ۔۔۔ ماشااللہ ماشااللہ صدا سہاگن رہو ۔۔۔ ہمیشہ خوش رہو۔۔۔ دادی نے بھی اسے خود سے لپٹائے ایک ساتھ اسکی کئ بلائیں لے ڈالی۔۔۔ بی اماں آپکی بہو تو بڑی سوہنی ہے جی۔۔۔ وہ عورت فرش پر جھاڑو لگانا چھوڑ اشتیاق سے زرش کی جانب دیکھتی محبت سے گویا ہوئی۔۔۔ انکی بات ہر زرش اچھا خاصا شرما گئ۔۔۔ اور نہیں تو کیا چاند کا ٹوٹا ہے میری بہو۔۔۔ اللہ نظر بد سے بچائے۔۔۔ دادی نے اب کی بار اسکی ٹھوڑی سے تھامتے اسکی بلائیں لیں۔۔۔ ماشااللہ بھابھی بہت پیاری لگ رہی ہیں۔۔ تبھی ہادیہ کچن سے نکلتی زرش کو دیکھتی خوشدلی سے گویا ہوئی۔۔۔ دادی ناشتہ لگاوں حدید بھیا بھی بس آنے والے ہی ہونگے۔۔۔اب اسکا رخ دادی کی جانب تھا ۔۔ ہاں بیٹا آپ ناشتہ لگواو۔۔۔ چلو زری بیٹا ہم بھی ڈائینگ ٹیبل پر چلتے ہیں حدید بھی اپنی جاگنگ سے واپس آتا ہی ہوگا۔۔ بھوک تو لگی ہوگئ نا۔۔۔ رات بھی تم دونوں نے کچھ نہیں کھایا تھا۔۔۔ دادی ہادیہ سے کہتے ہی زرش سے مخاطب ہوئی اور گھٹنوں پر ہاتھ رکھ وزن ڈالتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ زرش نے بھی انکی تائید کی۔۔۔ ابھی وہ ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھے ہی تھے جب ٹریک سوٹ میں ملبوس حدید مسکراتا ہوا اندر داخل ہوا۔۔ آجاو حدید پتر اب سب سے پہلے ناشتہ کرلو۔۔۔ دادی نے اسے اندر آتا دیکھ اونچی آواز میں پکارا۔۔ دادی کی آواز سن کر وہ مسکراتا ہوا ڈائینگ روم میں داخل ہوا۔۔۔ اندر آتے ہی اسکی پہلی نظر زرش سے ٹکرائی اور گویا پھر پلٹنا بھول گئ۔۔۔ زرش جو اسے ہی اندر آتا دیکھ رہی تھی وہ خود پر اسکی نظریں ٹھٹکتا محسوس کر کے سرعت سے نگاہیں جھکا گئ۔۔۔ اسکے گال حیا کی لالی سے گلنار ہو اٹھے تھے۔۔۔یہ منظر دیکھ حدید کے چہرے پر ایک دلکش مسکراہٹ ابھری۔۔۔۔