Hala By Umme Hania Readelle50346 Hala (Episode 40)
No Download Link
Rate this Novel
Hala (Episode 40)
Hala By Umme Hania
حدید مسکراتا ہوا زرش کے ساتھ والی کرسی پر جا کر بیٹھا۔۔۔۔ دادی ویسے اب میری مزید تو کوئی شکایت نہیں آئی نا۔۔۔ اسنے شریر انداز میں کن اکھیوں سے زرش کا جھکا چہرا دیکھ کر جوس کا جگ اٹھاتے جوس گلاس میں انڈیلا۔۔۔۔ حدید کی بات سے زرش کا چہرا کچھ مزید سرخ پڑا وہ مزید اپنا چہرا جھکا گئ۔۔۔ ارے نہیں پتر تم میری بہو کا خیال رکھو گئے اسے تنگ نہیں کرو گے تو بھلا پھر کیوں تمہاری شکایت آئے گی۔۔۔ زرش بیٹا تم تو کچھ لے ہی نہیں رہی ۔۔ یہ پراٹھا لو۔۔۔ دادی نے ابھی تک زرش کو یونہی سر جھکائے بیٹھے دیکھ پڑاٹھے کی ٹرے اسکی جانب بڑھائی۔۔۔ انہیں وہ یوں حدید کے پہلو میں شرمائی لجائی سی بیٹھی بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔ وہ حدید کے لئے بہت خوش تھیں۔۔ اسے یوں اپنی زندگی میں خوش و خرم دیکھ کر وہ مطمئں تھیں۔۔۔
ایمان متزلزل کروانے کا ارادہ ہے کیا لڑکی۔۔۔ زرش نے بمشکل چھوٹے چھوٹے نوالے لیتے ناشتہ شروع کیا تھا جب حدید نے جوس پیتے نا محسوس طریقے سے اسکی طرف جھکتے سرگوشی کی زرش کا یہ ہوشربا روپ بار بار اسکی نگاہیں بھٹکا رہا تھا۔۔۔ زرش نے بوکھلاتے ہوئے سرعت سے سر اٹھا کر دادی کی جانب دیکھا کہ کہیں کوئی بات دادی نے تو نہیں سنی۔۔۔ صد شکر تھا کہ دادی ناشتہ کرنے میں مشغول تھی۔۔۔ زرش نے شکایتی نگاہوں سے حدید کی جانب دیکھا۔۔۔ حدید جو مسکراتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہا تھا زرش کے دیکھتے ہی اسنے دلکش انداز میں اسے آنکھ ماری۔۔۔ وہ سٹپٹا کر سیدھی ہوئی۔۔۔ آج تو اسکا ہر انداز ہی نرالہ تھا چونکا دینے والا۔۔۔ بچے ناشتہ نہیں کر رہی آپ۔۔۔ آپ نے تو رات بھی کھانا نہیں کھایا تھا۔۔۔ دادی نے تعجب سے اسے پریشانی سے ہاتھ مسلتے دیکھا۔۔۔ آ۔۔ دادی میں ناشتہ کر چکی ہوں اور بھوک نہیں۔۔۔ حدید کی ان پرشوق نگاہوں کا سامنا کرنے کی تاب وہ نہیں رکھتی تھی۔۔۔ یکدم ہی اسکا ہر انداز بدلا تھا اسی لئے وہ بوکھلا کر رہ گئ تھی۔۔ ایسے کیسے ابھی تو کچھ کھایا ہی نہیں آپ نے پراٹھا تو ابھی آدھا بھی نہیں ہوا۔۔۔ دادی نے اسکے سامنے پڑی ناشتے کی ٹرے کو دیکھا جس میں پراٹھے کے ابھی محض چند ایک نوالے ہی لئے تھے۔۔۔ زرش نے ہونٹ چباتے سر جھکائے ناشتے کی ٹرے پھر سے اپنے سامنے کھینچی۔۔۔ دادی میں فریش ہو کر آتا ہوں پھر ناشتہ کروں گا۔۔۔ حدید نے جوس کا خالی گلاس واپس میز پر رکھا اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ وہ زرش کی جھجھک بھانپ چکا تھا اس لئے نہیں چاہتا تھا کہ وہ اسکی وجہ سے بھوکی رہے۔۔۔ اسکے جاتے ہی زرش نے سکوں کا سانس خارج کیا اور تیزی سے ناشتہ کرنے لگی۔۔۔۔
*****
امی طبیعت تو ٹھیک ہے نا آپ کی ۔۔ آج آپ ناشتے کے لئے بھی باہر نہیں آئیں۔۔۔ دریاب نے ماں کمرے میں داخل ہوتے دروازے کے پیچھے موجود سوئچ بورڈ کو ٹٹول کر بٹن کمرے کی لائٹ جلائی۔ نیم تاریک کمرا لائٹ جلنے سے جگمگا اٹھا تھا۔۔ بیڈ پر زہرا بیگم لحاف اوڑھے نیم دراز تھیں ۔۔۔ دریاب کو اپنی طرف آتا دیکھ وہ مسکرا اٹھیں۔۔۔ کیا ہوا ہے مجھے آپ کچھ ٹھیک نہیں لگ رہیں۔۔۔ دریاب نے انکے بیڈ کے پاس ہی کرسی کھینچی اور کرسی پر بیٹھتے انکے ماتھے پر ہاتھ رکھتے پریشانی سے گویا ہوا وہ انہیں کافی بجھی بجھی لگیں۔۔۔ ہمم۔۔۔ طبیعت کچھ ناساز لگ رہی ہے۔۔۔ جب سے تمہارے بابا تنہا چھوڑ کر گئے ہیں کچھ اچھا نہیں لگتا۔۔۔ تنہائی کاٹ کھانے کو ڈورتی ہے۔۔۔ ان کے جانے کے بعد احساس ہو رہا ہے کہ وہ کیا تھے میرے لئے۔۔۔ میری زندگی میں انکی کیا اہمیت تھی۔۔۔ زہرا بیگم لحاف کے پرنٹ پر انگلی پھیرتیں گلوگیر لہجے میں گویا ہوئیں۔۔ آنکھیں نم ہو اٹھیں تھیں۔۔۔ دریاب ماں کی دلگرفتی پر تڑپ اٹھا تھا۔۔۔ امی اللہ کے کاموں پر بندے کا زور بھلا کہاں چلتا ہے۔۔۔ میں نے بھی اپنے بابا نہیں بلکہ بلکہ بہتریں دوست ہمسار اور گمگسار کو کھویا ہے۔۔۔ وہ بہتریں فیصلے کرنے والا ہے اور اسکی کرنی جھیلنی ہی پڑتی ہے۔۔ دریاب نے ماں کا ہاتھ تھامتے انہیں دلاسہ دینے کیساتھ ساتھ بامشکل خود کو کمپوز کیا۔۔۔ یہ وہ فیز تھا جس سے وہ خود بامشکل نکلا تھا ورنہ باپ کی کمی بھلا اسے کب کب نا محسوس ہوئی تھی۔۔۔
اسی لئے تو کہہ رہی ہوں شادی کر لو۔۔۔ گھر میں دوسراہٹ کا احساس ہوگا۔۔۔ زری کی شادی کے بعد سے تو بالکل اکیلی ہو کر رہ گئ ہوں۔۔۔ زہرا بیگم کو اپنا مدعا بیان کرنے کا یہ بہترین وقت لگا۔۔۔ دریاب نے ماں کے مطالبے پر سنجیدگی سے انہیں دیکھا۔۔۔ ماں شادی تو ہو چکی ہے میری۔۔۔ سر جھکائے وہ آہستگی سے گویا ہوا۔۔۔۔ میں اس شادی کو شادی نہیں مانتی۔۔۔ آنکھیں چندھی کرتیں وہ لمحوں میں غصے میں آئیں۔۔ غصہ کچھ دیر پہلے کی کیفیت پر مکمل حاوی ہو چکا تھا۔۔۔
ماں میرے یا آپ کے ماننے سے کیا ہوتا ہے۔۔۔ حقیقت تو یہ ہی ہے نا کہ وہ میرے نکاح میں ہے۔۔۔ دریاب تمممم۔۔۔۔ ماں پلیززززز میری بات تو سنیں۔۔۔ دریاب ماں کے ہاتھ تھامتے التجائیہ گویا ہوا جب وہ غصے و بےیقینی سے اسکی بات کاٹ گئیں لیکن اس سے پہلے کے وہ اپنی بات مکمل کرتیں دریاب کرسی سے اٹھ کر انکے پاس بیڈ پر بیٹھتا انکا چہرا دونوں ہاتھوں میں تھامتا بے بسی سے کہہ اٹھا۔۔۔۔ ماں مجھے سمجھنے کی کوشیش تو کریں یار۔۔۔ تم اسکے لئے اب مجھ سے بحث کرو گے۔۔۔ دریاب کے التجائیہ لہجے سے وہ کچھ نرم پڑیں تھیں اسی لئے اب کی بار غصے کی بجائے سنجیدگی سے اسے دیکھتیں گویا ہوئیں۔۔ مانا کہ وہ بیوی ہے میری لیکن میرے لئے آپ سے بڑھ کر نہیں ہے ماں جو میں آپ سے اس کے لئے بحث کروں۔۔۔ میں تو یہ کہہ رہا تھا کہ اگر بیچ کی کوئی راہ نکل آتی۔۔۔ کوئی سبیل کوئی سیٹل منٹ ۔۔۔ مجھے کچھ آسانی ہو جاتی نا سب مینج کرنے میں۔۔ آگر نور اسے ساحر کہتی تھی تو کچھ اتنا بے جا بھی نا تھا وہ واقعی ساحر تھا جو سحر پھونک کر حالات کو موافق بنانا جانتا تھا۔۔۔ اسکا لہجہ سب سے بڑا سحر تھا اسکا جسکی نرمی کے باعث وہ سب کو قائل کر جاتا تھا۔۔۔
اب بھی ماں کا ہاتھ تھامے انہیں مان دے کر وہ انہیں اپنے حق میں ہموار کر رہا تھا۔۔۔ ایسا کیا ہے اس لڑکی میں دریاب جو تم اس کے لئے سٹینڈ لے رہے ہو۔۔۔ دریاب کی باتیں سن کر وہ بھڑکی نہیں تھیں اور یہ آج کے دن کی اسکی سب سے بڑی اچیومنٹ تھی۔۔۔
اس میں خاص یہ ہی ہے ماں کہ وہ میرے نکاح میں ہے میری ذمہ داری ہے۔۔۔ اور میرے ماں باپ نے میری تربیت ایسے پیمانوں پر کی ہے کہ میں کسی کی حق تلفی نہیں کر سکتا۔۔۔ یہ چیز مجھے بے سکون رکھتی ہے میں جلد سے جلد ہر چیز فکس کرنا چاہتا ہوں۔۔ اسکے لہجے کی نرمی کیساتھ اس میں موجود پختہ عزم دیکھ کر وہ خاموش رہ گئ تھیں۔۔۔ اور اگر میں تمہیں اس چیز کی اجازت نا دوں تو۔۔۔ دریاب کو خاموشی سے تکتے انکا لہجہ جانچتا ہوا تھا۔۔۔ تو میں پھر سے کوشیش کروں گا آپکو قائل کرنے کی اور تب تک کرتا رہوں گا جب تک آپکو قائل کر نہیں لیتا۔۔۔ کیونکہ مجھے بیوی یا ماں میں سے کسی ایک کو نہیں چننا مجھے دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔۔۔ مضبوط لہجے میں کہتے اسنے ماں کو حصار میں لیتے انکے سر کا بوسہ لیا۔۔ زہرا بیگم اسکی بات پر جہاں کی تہاں رہ گئیں تھیں۔۔ دو منٹ رکیں اپنا اور آپکا ناشتہ یہیں لے کر آتا ہوں پھر اکھٹے ناشتہ کریں گے۔۔۔ ان سے الگ ہوتا مسکرا کر کہتا وہ اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔ زہرا بیگم نم آنکھوں سمیٹ اسے باہر جاتا دیکھتیں رہیں۔۔ یہ انکا کل اثاثہ تھا انکی کل جمع پونجھی۔۔۔ جس قدر ماں اور عزت وہ ماں کو دیتا تھا وہ خود کو دنیا کی خوش قسمت تریں مان سمجھنے لگتیں تھیں۔۔۔
________
زرش کو وہ حویلی نما محل بہت پسند آیا تھا ابھی ابھی وہ ہادیہ کیساتھ ساری حویلی دیکھ کر آئی تھی۔۔۔ ناشتے کے بعد سے اسنے شعوری کوشیش کی تھی کہ اسکا سامنا حدید سے نا ہو۔۔۔ ابھی ابھی وہ ساری حویلی دیکھ کر دادی کے پاس آئی جو دالان میں بچھی چارپائی پر براجمان تھیں۔۔۔ جبکہ انکے ارد گرد گاوں کی بہت سی عورتیں بیٹھیں۔۔ تھیں۔۔۔ وہ باری باری دادی کو اپنے مسائل بتاتیں اور دادی ممکنا حد تک انکی مدد کرنے کی کوشیش کرتیں۔۔۔ زرش کے لئے یہ سب بہت نیا تھا۔۔۔ وہ ان سب چیزوں کو خوب خوب انجوائے کر رہی تھی۔۔۔ ارے زری بیٹا آو یہاں میرے پاس۔۔۔ حویلی دیکھ لی آپ نے۔۔۔ دادی نے اسے دور کھڑے دیکھ محبت سے اپنے پاس بلایا۔۔۔ دادی کے بلاوے پر سب عورتوں کا رخ اسکی جانب ہوا۔۔۔ یکدم اتنی توجہ پا کر وہ کچھ جھجھکتی ہوئی دادی کی جانب بڑھی۔۔ جی دادی۔۔۔ وہ آہستگی سے کہتی دادی کے پاس ہی بیٹھی۔۔۔ پھر کیسی لگی حویلی۔۔۔ دادی نے اسے اپنے حصار میں لیا۔۔۔ انہیں اپنی یہ بہو بہت عزیز ہو چکی تھی۔۔۔ آپ کی طرح لاجواب۔۔۔ زرش کے جواب پر دادی کیساتھ ساتھ وہاں پڑنے والا قہقہ مشترقہ تھا۔۔۔
اماں بی آپکی بہو تو بڑی سوہنی ہے۔۔۔ ماشااللہ۔۔۔ عورتیں اسے توصیفی نگاہوں سے دیکھتیں اسے توصیفی کلمات سے نواز رہی تھیں جب دادی نے بے ساختہ ماشااللہ کہا۔۔۔ تقریباً ایک ڈیرھ گھنٹہ انکی یہ نشست برقرار رہی پھر رفتہ رفتہ وہ سب خوتیں اٹھ کر وہاں سے چلیں گئیں۔۔۔
بیٹا بھوک تو نہیں لگی آپکو۔۔۔ لگی ہے تو ہم کھانا کھا لیتے ہیں حدید کو تو شاید آتے آتے دیر ہو جائے۔۔۔ دادی نے اسکی بھوک کے احساس کے تحت پوچھا۔۔۔ وہ اب وہاں سے اٹھ کر زرش کو ساتھ لئے حویلی کی پچھلی سائیڈ پر آ گئیں تھیں۔۔ وہاں آتے ہی بھرپور دھوپ کے باعث زرش کو طمانیت کا احساس ہوا۔۔۔ انہیں وہاں آتے دیکھ رجو نے بھاگ کر دو کرسیاں وہاں لا کر رکھیں دادو نے خود وہاں بیٹھتے اسے بھی اپنے ساتھ بیٹھنے کو اشارہ کیا۔۔۔ وہاں ارد گرد عورتیں مختلف کاموں میں مصروف تھیں۔۔۔ دائیں جانب زمین پر سرخ مرچیں سوکھنے کے لئے ڈالیں گئیں تھی جنہین دو عورتیں سل بٹے پر پیس رہی تھیں ۔۔۔ جبکہ دوسری جانب دو عورتیں گاجر اور مولیوں کا اچار ڈال رہی تھیں۔۔ مختلف مصالحاجات مکس کر کے دوسری عورت نے اس میں تیل انڈیلا۔۔۔ یہ کتنی مختلف دنیا تھی۔۔۔ زرش کے وہم و گمان سے بھی پڑے کی۔۔ وہ جو یہ سوچتی تھی کہ دادی وہاں اکیلے کیسے رہتی ہونگی اب اسے انکی مصروفیت کی وجہ سمجھ آئی تھی۔۔۔
حدید کہیں گئے ہیں کیا۔۔۔ دادی کی بات پر وہ چونک کر مستفسر ہوئی کیونکہ وہ نہیں جانتی تھی کہ حدید حویلی میں ہے یا نہیں۔۔ ہاں بیٹا وہ زمینوں پر گیا ہے انکا حساب کتاب دیکھنے اور جب وہ کام کی غرض سے وہاں جاتا ہے تو پھر کام نبٹا کر ہی آتا ہے۔۔۔ کام کے دوران تو اسے کھانے پینے تک کا ہوش نہیں رہتا۔۔۔۔ بار بار فون کر کے گھر بلوانا پڑتا ہے۔۔ کام کے دوران وہ یونہی اپنی ذات تک سے لاپرواہ ہو جاتا ہے۔۔۔ پر اب تم آ گئ ہو نا تو امید ہے کہ اسے سمبھال لو گی۔۔۔ پوتے کا ذکر کرتے انکے لہجے میں محبت ہی محبت تھی۔۔۔
زرش کو ان سے حدید کے بارے میں بات سن کر اچھا لگ رہا تھا۔۔وہ مکمل یکسوئی سے انکی باتیں سن رہی تھی۔۔۔ اکلوتی اولاد تھا اپنے ماں باپ کی۔۔۔ دونوں کی آنکھوں کا تارا تھا۔۔۔ بہت خوش وخرم زندگی گزار رہا تھا لیکن پھر ا یک دن حادثے میں دلاور اور وجیہہ دونوں جان بحق ہو گئے۔۔۔ بیٹے اور بہو کا ذکر کرتے دادی کا لہجہ بھرا گیا تھا۔۔۔ زری خود افسردہ ہو اٹھی تھی اسنے دادی کے کندھے پر ہاتھ رکھتے انہیں دلاسا دیا۔۔۔ بہت گہرا صدما لیا اسنے ماں باپ کی موت کا۔۔۔ اپنی ذات تک محصور ہو کر رہ گیا میرا بچہ۔۔۔ نا کسی سے بات کرتا نا ہستا بولتا۔۔۔ اسکے چاچا تایا پہلے ہی اپنی زندگیوں میں مگن تھے رفتہ رفتہ آزاد پنچیوں کی مانند اس حویلی سے دوسرے ملکوں میں پرواز کرتے گئے۔۔۔ پیچھے ہم دونوں ایک دوسرے کی کل کائنات تھے۔۔۔ چھوٹی سی عمر میں ہی میرا بچہ بہت ذمہ دار ہو گیا تھا۔۔۔ جس عمر میں دوسرے لڑکوں کو موج مستی سے فرصت نہیں ملتی اس عمر میں اسنے زمینوں کا کام سمبھالنا شروع کر دیا۔۔۔ پھر تعلیم کے لئے اسے شہر بھیجا تو ہاسٹل کی بجائے اسے اپنا فلیٹ ہی سیٹ کروا دیا تاکہ میرے بچے کو کسی چیز کی کمی نا ہو۔۔۔ وہ تو بھلا ہو دریاب بچے کا۔۔۔ وہاں انکی اتنی گہری دوستی ہوئی کہ میں اسکی طرف سے زرا بے فکر ہو گئ۔۔۔ دریاب حدید کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتا ہے وہ دوست نہیں بھائیوں کی طرح ہر مقام پر اسکے ساتھ کھڑا رہا ۔۔۔ دریاب سے دوستی کے بعد حدید بہت حد تک اپنی ذات کے خول سے باہر نکلا۔۔۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسنے شہر میں اپنا بزنس شروع کیا تو مجھے ساتھ لیجانے پر بہت بضد ہوا پر پتر میرا وہاں شہر میں دل نہین لگتا۔۔۔ میرا دل یہیں لگتا ہے قدرت کے قریب ان سادہ لوگوں کے درمیاں اسی لئے میں نے اسے سہولت سے منع کردیا۔۔۔ اب وہ ہر ہفتہ دس دن بعد یہاں کا چکر لگا لیتا ہے زمینوں کا حساب کتاب دیکھ لیتا ہے۔۔۔ میری تو کب کی خواہش تھی کہ وہ شادی کر لے اپنا گھر بسا لے۔۔۔ اسکی زندگی میں کوئی آ کر اسکی ادھوری زندگی کو مکمل کر دے لیکن میرا اتنا فرمابردار پوتا اس معاملے میں ہاتھ ہی نہیں آتا تھا۔۔۔ لیکن اس روز جب اسنے فون پر مجھ سے شادی کرنے کی خواہش ظاہر کہ وہ بھی اتنے مختصر سے عرصہ میں تو میری تو دلی مراد بھر آئی۔۔۔ میرے تو پاوں زمین پر نا ٹک رہے تھے۔۔ اسی لئے بنا حیل و حجت کے فورا سے شہر پہنچی۔۔۔ اور جب مجھے وہاں جا کر پتہ لگا کہ تم دریاب کی بہن ہو تو مانو میری تو ساری فکر ہی ختم ہو گئ۔۔۔ بس بیٹا اس الجھے سے انسان کو سمبھال لینا۔۔ اس خود سے لاپرواہ بندے کو خود سے محبت کرنا سیکھا دو۔۔۔ دھوپ کی تمازت کےساتھ ساتھ حدید کی باتیں سنا بھی اسے طمانیت فراہم کر رہی تھیں۔۔ اسکا دل چاہا وہ یونہی دادی سے حدید کے بارے میں مزید جانتی رہے۔۔۔ وہ انہیں باتوں کے ذریعے سے اس الجھے بکھرے انسان کو اندر تک پڑھ لینا چاہتی تھی جو اب اسے اپنی سانسوں سے زیادہ عزیز ہو چکا تھا۔۔۔ کیا ایسی بات ہے آپ میں حدید کہ اب آپکے بنا زندگی کا تصور محال لگتا ہے وہ حدید ہی کو سوچتی چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ سجائے سر کرسی کی پشت سے ٹکا گی۔
******
