Hala By Umme Hania Readelle50346 Hala (Episode 23)
No Download Link
Rate this Novel
Hala (Episode 23)
Hala By Umme Hania
بیٹا آپ ولیمے میں جانے کے لئے تیار نہیں ہوئیں۔۔۔ کمال صاحب خود بیٹی کے ولیمے میں شرکت کرنے کے لئے تیار تھے اور اب ایک انتہائی فیصلے پر پہنچ کر نور کو دیکھنے آئے تھے۔۔۔ چہرے کی رنگت کافی حد تک زردپڑ چکی تھی۔۔۔ لمحوں میں وہ خاصے بوڑھے لگنے لگے تھے ۔۔۔ بیوی کا ناروا رویہ انہیں اندر سے توڑ گیا تھا۔۔۔۔
نور دریاب کے کمرے میں صوفے پر بیٹھی کسی کتاب کی ورق گردانی کر رہی تھی آواز پر اسنے سر اٹھا کر کمال صاحب کو دیکھا اور اداسی سے مسکرا دی۔۔۔ اتنا سب ہو جانے کے بعد بھی آپکو لگتا ہے کہ مجھے فنگشن میں جانا چاہیے۔۔۔ اسنے کتاب بند کر کے سامنے میز پر رکھی اور انکے مدمقابل آئی۔۔۔
بیٹا آپ۔۔۔۔ میری چھوڑیں انکل آپ یہاں بیٹھیں۔۔ آپکو کیا ہوا ہے مجھے آپکی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔۔ وائٹ کاٹن کے سوٹ میں شانوں پر چادر ڈالے وہ سوبر لگنے کے ساتھ ساتھ اسے خاصے مضحمل لگے۔۔۔۔ انکی طبیعت دیکھتی وہ خاصی پریشان ہو اٹھی تھی۔۔۔۔
کچھ نہیں بیٹا۔۔۔ یہ وقت کا تقاضا ہے۔۔۔ اس عمر میں طبیعت کچھ اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے۔۔۔۔ وہ صوفے پر بیٹھتےاسکی پشت سے ٹیک لگاتے اداسی سے گویا ہوئے۔۔۔
نہیں انکل آپکی طبیعت زرا بھی اوپر نیچے نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ امی کے بعد میں آپکے حوالے سے زرا بھی دھچکا برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔ اپکے سوا میرا ہے ہی کون۔۔۔ یاد رکھیے گا کہ اگر اس بار ٹوٹی تو پھر جڑ نہیں پاوں گی۔۔۔ گلوگیر لہجے میں کہتی وہ کمال صاحب کو مسکرانے پر مجبور کر گئ تھی۔۔۔ وہ اسے یک ٹک دیکھے جا رہے تھے۔۔۔۔ ایسے کیوں کہہ رہی ہو بیٹا۔۔ خدا سلامت رکھے تمہارے سر کے سائیں کو۔۔۔ تم کیوں بھلا اکیلی ہونے لگی۔۔۔
دریاب بہت اچھا ہے نور ۔ وہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے گا۔۔۔
انکل سب ٹھیک ہے نا۔۔۔ آپ ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں۔۔۔ نور کو انکا لہجہ انکی باتیں انکے دیکھنے کا انداز سب عجیب لگ رہا تھا۔۔۔ کچھ غیر معمولی سا۔۔۔ جسے چاہ کر بھی وہ کوئی نام نہیں دے پا رہی تھی۔۔۔
تم بہت معصوم ہو نور۔۔۔ بالکل اپنی ماں جیسی۔۔۔ وہ بھی بالکل ایسی ہی تھی سادہ مخلص۔۔۔ وفا و محبت کی مٹی سے گندھی نرم دل۔۔۔ لیکن میں اسکے لئے کچھ نہیں کر پایا تھا۔۔۔ تب میں مجبور تھا لاچار اور بے بس۔۔۔ مگر تمہارے ساتھ میں کچھ غلط نہیں ہونے دوں گا۔۔۔ کیونکہ اب میں بے بس نہیں ہوں بلکہ میں بے بس کر دوں گا سب کو اس گھر میں تمہاری حیثیت منوانے کے لئے۔۔۔
انکل ل ل ل۔۔۔۔ نور کے لبوں سے سراراتا ہوا لفظ ادا ہوا تھا۔۔۔ سب ٹھیک ہے نا۔۔۔ ناجانے یہ کیسا احساس تھا جسے وہ محسوس کر رہی تھی لیکن وہ اسے کوئی نام دینے سے قاصر تھی۔۔۔
سب ٹھیک ہے بیٹا خوامخواہ میں آپکو بھی پریشان کر دیا آپ جلدی سے تیار ہو کر باہر آئیں۔۔۔ کمال صاحب فوراً سے سمبھل کر اٹھ کھڑے ہوئے اور پریشان و الجھی سی نور کا سر تھپتھپاتے باہر نکل گئے۔۔۔ جبکہ نور کش مکش میں مبتلا انہیں جاتا دیکھتی رہی۔۔۔
*****
دریاب بیٹا دیکھو اگر نور تیار ہوگئ ہے تو اسے بھی لے آو۔۔۔ وہ سب ولیمے میں شرکت کرنے کے لئے لاوئنج میں تیار کھڑے تھے۔۔۔ زہرا بیگم کھلتے آسمانی رنگ کے پیور کے نفیس سے سوٹ کو زیب تن کئے خاصی سوبر لگ رہی تھیں اس وقت انکی ٹانگ کا درد بھی جیسے کہیں جا سویا تھا۔۔۔ کمال صاحب لب بھینچے ہاتھ پشت پر باندھے انہیں مکمل نظر انداز کئے رخ موڑے کھڑے تھے۔۔۔ جبکہ کمال صاحب کی بات پر یکدم ہی انکے ماتھے پر بل پڑے تھے۔۔۔
وہ کیوں جانے لگی ہمارے ساتھ۔۔۔ میں ہرگز اسے اپنی بیٹی کا فنگشن خراب کرنے ساتھ نہیں لے جاوں گئ۔۔ لمحوں میں غصے کیساتھ ساتھ لہجے میں وہی ہٹ دھرمی واپس لوٹ آئی تھی۔۔۔
دریاب اس خطبی اور عقل سے فارغ عورت کو بتاو کے بیٹی کے فنگشن میں نئ نویلی بھابھی کے نا آنے کا جواز اگر اسکے پاس موجود ہے اور نور کی غیر موجودگی کے باعث لوگوں کی جانب سے اٹھنے والے سوالات کے لئے اگر یہ تیار ہے تو بصد شوق اپنی ضد پوری کرے کمال صاحب خون آشام نگاہوں سے ایک نظر زہرا بیگم کو دیکھتے دریاب کو مخاطب کرتے چبا چبا کر گویا ہوئے اور بات ختم ہوتے ہی لاوئنج سے نکل گئے۔۔۔ شوہر کے اس روپ کو دیکھتے زہرا بیگم سناٹے میں رہ گئ تھی۔۔۔ کمال کا یہ روپ انکے بھرپور غصے اور ناراضگی کی نشاندہی تھا۔۔۔ انہیں غصہ بہت کم آتا تھا مگر جب آتا تھا تو زہرا بیگم کو انہیں منانا محال ہو جاتا تھا۔۔۔
اب بھی کمال کا یہ روپ دیکھتے انکی جان ہوا ہونے لگی تھی۔۔۔ ضد میں یقیناً وہ شوہر کو بہت بری طرح ناراض کر چکی تھی۔۔۔۔ کمال کو ناراض کر کے وہ نہیں رہ سکتی تھی اور اس عورت کی بیٹی کو قبول کرنا بھی محال تھا وہ خود کو عجیب دوراہے پر کھڑا محسوس کر رہی تھیں۔۔۔
******
ارے واہ آج تو بڑی بڑی ہستیاں آئی ہیں یہاں۔۔۔ ایک سالہ بیٹے کو گود میں اٹھائے یوسف گھر میں داخل ہوا تو سامنے تخت پر ماں کے ساتھ سجی سنوری آئتل کو بیٹھے دیکھ پہلے تو اسے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نا آیا مگر جلد ہی خود کو یقین دلاتا وہ خوشگوار حیرت سے گویا ہوتا اسکی جانب بڑھا۔۔۔۔
ممانی کے ساتھ بات کرتی آئتل یوسف کی آواز پر اسکی جانب متوجہ ہوئی اور اپنے سامنے وجیہ سے یوسف کو کھڑا پا کر خوبخود ایک مسکراہٹ نے اسکے ہونٹوں کا احاطہ کیا۔۔۔
اسلام علیکم یوسف کیسے ہیں آپ۔۔۔ اسنے کھڑے ہوتے سلام کرتے ہی اسکی گود سے گول مٹول سے بچے کو تھامتے چٹا چٹ کئ بوسے اسکی گال پر لے ڈالے تھے۔۔۔
میں بالکل ٹھیک تم سناو آج یہاں کیسے بھول کر آگی۔۔۔ آئتل کی شخصیت میں خاصا بدلاو آیا تھا وہ پہلے سے کئ گناہ پراعتماد اور پیاری لگ رہی تھی اسکے اندر یہ بدلاو دیکھتے یوسف کے اندر ایک اطمیعنان اترا تھا۔۔
عمران یہاں کسی میٹنگ کے سلسلے میں آئے تھے تو میں بھی ساتھ آگئ کیونکہ ممانی سے ملنے کو دل چاہ رہا تھا۔۔۔ افف مامی یہ کتنا پیارا ہے نا۔۔۔ آئتل بچوں کی طرح اس پیارے سے بچے سے کھیل رہی تھی اسے گود میں لے کر واپس تخت پر بیٹھتی کبھی وہ اسکے ننھے ننھے ہاتھوں پر پیار کرتی تو کبھی اسے گدگدی کرتی جس سے وہ بچہ کلکاریاں مارتا ہس دیتا۔۔۔۔۔ یوسف مسکراتا ہوا اسے دیکھ رہا تھا وہ اسے ڈیرھ سال بعد دیکھ رہا تھا اس سے پہلے وہ دادا کے انتقال پر آئی تھی مگر غم سے نڈھال وہ جنازے کے فوراً بعد ہی واپس چلی گئ تھی۔۔۔ یوسف یہ بالکل آپکے جیسا ہے کیوٹ سا۔۔۔۔ اسکے پھولے پھولے گالوں پر بوسے لیتی وہ پرجوش سی گویا ہوئی۔۔۔
لڑکی تم ان ڈائریکٹلی میری تعریف کر رہی ہو۔۔۔ یوسف مسکراتے ہوئے کرسی کھینچ
کر اسکے پاس ہی بیٹھتاً شرارتاً گویا ہوا
افف۔۔۔ باتیں پکڑنے کی عادت ابھی گئ نہیں آپکی وہ قہقہ لگاتی ہس دی تھی۔۔۔ ویسےےےےے۔۔۔ کھنڈرات بتاتے ہیں کہ عمارت کبھی خوبصورت تھی۔۔۔ گھٹنے پر کہنی ٹکاتے مٹھی ٹھوری کے نیچے رکھ کر وہ فرصت سے اسے دیکھتی کہہ کر خود ہی اپنی بات سے محظوظ ہوتی ہونٹ کا کونا دانت تلے دبا کر آنکھیں میچتی مسکرا دی۔۔۔
امی دیکھ رہی ہیں بھیتیجی کو یہ میری ٹانگ کھینچ رہی ہے۔۔۔ وہ آئتل کی اسقدر حاضرجوابی پردل سے مسکرایا تھا یقیناً عمران کے ساتھ نے اسے یہ اعتماد بخشا تھا اسے یقین کرنے میں تامل تھا کہ یہ وہی پرانی آئتل تھی جو ہر کام کے لئے اس پر انحصار کرتی تھی ۔۔
ویسے گھر خاصا پیارا بنا لیا ہے آپ نے۔۔۔ آئتل نے گھر کو ستائشی نگاہوں سے دیکھا جس میں بہت کچھ بدل کر اسے جدید تعمیر کروایا گیا تھا۔۔۔ ہاں بس وقت کے تقاضے ہیں۔۔۔ وہ ایک گہری سانس خارج کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ تم امی سے باتیں کرو میں زرا چینج کر لوں۔۔۔
فکر مت کرو بیٹا اللہ جلد تمہاری بھی گود بھرے گا۔۔۔ آئتل کو ابھی تک بچے کیساتھ مگن دیکھ کر مامی نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے محبت سے کہا۔۔
مامی آپ دعا کریں نا اللہ سے۔۔۔ بس ایک یہ ہی تو کمی رہ گئ ہے زندگی میں جو بہت کھلتی ہے۔۔۔ اللہ کے گھر میں کس چیز کی کمی ہے بھلا وہ اپنے خزانوں سے میری بھی گود بھر دے۔۔۔ نور نے بھرائی نگاہیں اٹھا کر مامی کی جانب دیکھتے دلگرفتی سے کہا۔۔۔ اسکی شادی کو تین سال ہوگئے تھے لیکن اسکی گود ابھی تک خالی تھی۔۔۔
فکر مت کرو بیٹا۔۔ انشااللہ اللہ جلد کرم کرے گا۔۔۔۔
ممانی کے کہنے پر وہ پھیکا سا مسکرا دی۔۔۔ آپکی طبیعت اب کیسی ہے۔۔۔ آئتل مزید اس ٹاپک سے بچنے کے لئے بات بدل گئ۔۔۔
اب تو شکر ہے اللہ کا کافی بہتر ہوں ۔۔ انہیں اب کافی حد تک افاقہ تھا۔۔۔ شادی کے بعد دریاب نے گھر داماد بننے سے صاف انکار کر دیا تھا بلکہ اسنے جہیز میں گاڑی اور بنگلہ لینے سے بھی صاف انکار کر دیا تھا اسے صرف ایک موقع کی ضرورت تھی جو اسے کسی صورت مل ہی نہیں رہا تھا اب ملا تھا تو اسنے سسر کے آفس میں بطور ورکر تنخواہ پر کام کرتے اپنی ذہانت سے آگے کے مراحل طے کرتے اپنا گھر نئے سرے سے بنایا تھا اور اسی کمپنی میں پانچ فیصد شئیرنگ سے کام شروع کرتے اب بہت چھوٹے پیمانے سے اپنا خود کا بزنس شروع کیا تھا۔۔۔ ڈگری پہلے ہی اسکے پاس موجود تھی اور تجربہ وہ پچھلے تین سالوں میں اچھا خاصا حاصل کر چکا تھا اسی لئے اب اسکا بزنس تیزی سے پھیل رہا تھا
*******
کیا لینے آئی ہے یہ لڑکی یہاں۔۔۔ اسے یہاں آنے سے پہلے شرم نہیں آئی ۔۔۔ یوسف ابھی اپنے کمرے میں داخل ہوا ہی تھا جب غصے سے بھری بیٹھی زوئی اسکے مقابل آتی پھٹ پڑی تھی۔۔۔ کیا مطلب۔۔۔ رسٹ واچ اتارتے یوسف نے ٹھٹھک کر اسے دیکھا۔۔۔
مجھے تو حیرت ہوتی ہے اسکے بے غیرت شوہر پر جو اسے سابقہ منگیتر کے گھر چھوڑ گیا۔۔۔ بکواس بند کرو اپنی زوئی ورنہ کہیں میرا ہاتھ نا اٹھ جائے۔۔۔
یوسف کا تو دماغ ہی گھوم گیا تھا زوئی کی اس قسم کی عامیانہ گفتگو پر۔۔۔ ہاں اب تو تمہارا ہاتھ اٹھے گا ہی نا پرانی محبوبہ جو مل گئ ہے۔۔۔ وہ بھی کہاں دبنے والی تھی ترخ کر گویا ہوئی۔۔۔ آواز نیچی کر لو زوئی وہ باہر بیٹھی ہے اور یہ اسکی مامی کا گھر ہے اور اسکے نانا کا وہ جب چاہے یہاں آ سکتی ہے تم یا میں اسے ہرگز روک نہیں سکتے یوسف انگشت اٹھا کر لفظوں پر زور دیتا گویا ہوا۔۔۔ اپنے مطلب کی بات پر بہت دلیلیں ہیں یہاں اور تم کیوں روکنے لگے بھئ پرانی محبوبہ کو یہاں آنے سے۔۔۔
وہ فسادن چاہتی ہی یہ ہے میرے گھر میں ہھوٹ دلوانا اور تم میرے پھول سے بچے کو اس بانجھ کی گود میں چھوڑ آئے مجھے میرا بیٹا واپس لا کر دو۔۔۔ ورنہ اس بانجھ کا سایہ۔۔۔ چٹاخ۔۔ زوئی کی نشتر کی مانند دل کاٹتی باتوں کو بریک دریاب کے بے ساختہ پڑنے والے تھپر سے لگی تھی۔۔۔ وہ چہرے پر ہاتھ رکھے صدمے سے پھٹ پڑتی نگاہوں سے یوسف کو دیکھ رہی تھی جسنے شادی کے بعد پہلی مرتبہ اس پر ہاتھ اٹھایا تھا ورنہ وہ تو بہت کیئرنگ اور محبت کرنے والا شوہر تھا۔۔۔
یوسف مجھے میرا بیٹا لا کر دیں۔۔۔ بہتی آنکھوں سے وہ اسے دیکھتی چبا چبا کر گویا ہوئی۔۔۔
باہر تخت ہر بیٹھی انکی گفتگو حرف با حرف سنتی آئتل حیرت و انبساط سے گنگ اپنے سامنے موجود گول مٹول سے بچے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ اسکے ہاتھ خودبخود بچے سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔۔۔
ذہن میں ابھی تک محض ایک ہی لفظ کی گھونج تھی۔۔۔ بانجھ۔۔۔ وہ بانجھ تھی۔۔۔ نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ وہ بانجھ کیسے ہو سکتی تھی۔۔۔ یہ تو اولاد کے لئے اللہ کی طرف سے دیر تھی۔۔۔ کیا وہ واقعی بانجھ تھی اسکا دل کانپ اٹھا تھا۔۔۔ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔۔
ایک آنسو ٹوٹ کر اسکی گال پر پھسلا ۔۔ اسنے صدمے سے ایک نظر اپنے خالی ہاتھوں پر ڈالی اور دوسری نظر اس معصوم سی جان پر۔۔۔
اسکا جسم لرزنے لگا تھا۔۔۔ آئتل بیٹا۔۔۔ ممانی تاسف اور دکھ سے بہو اور بیٹے کا جھگڑا سن رہی تھی۔۔۔ آئتل کی حالت دیکھتے انہوں نے ساکت و جامد بت کی مانند بیٹھی آئتل کو ہلایا مگر وہ منہ پر ہاتھ رکھتی اٹھ کر کمرے میں بھاگ گئ۔۔
اسکا دل دھاریں مار کر رونے کو چاہ رہا تھا۔۔۔
زوئی کی ساری بکواس سننے کے باوجود بھی یوسف آئتل کے پاس بچہ لینے جانے کی ہمت خود میں مفقود پا رہا تھا اسے آج پہلی بار زوئی کی ذہنیت پر تاسف کیساتھ ساتھ دکھ ہوا تھا۔۔۔
وہ کمرے سے نکلتا ہی بنا ادھر ادھر دیکھے گھر کی دہلیز پار کر گیا تھا۔۔۔ وہ خود میں آئتل کا سامنا کرنے کی ہمت بھی مفقود پا رہا تھا۔۔ بچے کے رونے کی آواز پر زوئی نے بھاگ کر تخت پر ممانی کے پاس لیٹے بچے کو اٹھایا اسے اپنی اولاد سب سے پیاری تھی۔۔۔
عمران مجھے ابھی آ کر لے جائیں۔۔۔ بیگ سے موبائل نکال کر آئتل نے سرعت سے عمران کا نمبر ڈائل کر کے کان سے لگایا۔۔۔ اب یہ گھر اسکا نہیں تھا وہ اس گھر میں مس فٹ تھی۔
****
