Hala By Umme Hania Readelle50346 Hala (Episode 22)
No Download Link
Rate this Novel
Hala (Episode 22)
Hala By Umme Hania
زرش گڑیا کیا۔۔۔ ہو کیا گیا ہے پرنسس۔۔۔ دریاب تو بوکھلا ہی اٹھا تھا۔۔۔ اسکا سر تھپتھپاتا محبت سے گویا ہوا۔۔۔ مجھ۔۔۔ مجھے گھر جانا ہے بھیا۔۔۔ مجھے لے کے جائیں۔۔۔۔
ارے بیٹا نئ نئ شادی ہوئی ہے نا نئ جگہ ہے نیا ماحول ابھی یہاں دل لگنے میں کچھ وقت لگے گا۔۔۔ ایسے میں بچی کا ردعمل قدرتی ہے۔۔۔ دادی نے اسے ہچکیوں سے روتے دیکھ اپنے ساتھ لگایا۔۔۔ اوپر سے اپنا اتنا قریبی رشتہ دیکھ دل بھر آیا ہوگا۔۔۔ بیٹا آج ولیمہ ہے۔۔۔ شام میں آپ اپنے گھر جاو گئ۔۔۔ بس میرا بچہ یوں روتے نہیں ہیں۔۔۔ دادی نے محبت سے اسکے آنسو پونچتے اسے صوفے پر بیٹھایا۔۔۔ چلو شاباش ناشتہ کرو آپ سب۔۔۔ زرش دریاب کے ساتھ ہی بیٹھی تھی جبکہ حدید سامنے صوفے پر براجمان دریاب سے بات کرتا گاہے بگاہے ایک نظر اپنی ڈرامے باز بیوی پر بھی ڈال رہا تھا جو اب یوں بیٹھی تھی جیسے کچھ دیر پہلے کچھ ہوا ہی نا ہو۔۔۔
حدید۔۔۔ تم نے میری بہن سے کچھ کہا تو نہیں جو اسنے یوں بنا بادل کے اتنی برسات برسائی ہے۔۔۔۔ ماحول کو حلقہ پھلکا کرنے کی غرض سے دریاب نے شرارتاً کہا۔۔۔
ارررےےےے میری توبا۔۔۔ حدید فوراً ہی سیز فائر کرتے دونوں ہاتھ اٹھا کر مسکراتا ہوا گویا ہوا۔۔۔ مجھے تمہارے ہاتھوں ضائع تھوڑی نا ہونا ہے جو تمہاری بہن کو کچھ کہوں۔۔۔ ارے تم خود محترمہ سے پوچھ لو۔۔ حدید نے ایک گہری نگاہ دریاب کے پہلو میں سر جھکائے بیٹھی زرش پر ڈالتے بات کو مذاق کا رخ دیا۔۔۔ اب بھیا آپکو کیا بتاو محترم کچھ کہتے ہی تو نہیں خاموشی کی مار مارنے پر تلے ہیں بے حس انسان۔۔ حدید کی اسقدر ڈرامے بازی پر زرش محض سوچ کر ہی رہ گئ۔۔۔
بھیا آپ اکیلے آئے ہیں کیا اور آپکے ہاتھ کو کیا ہوا۔۔۔ زرش نے اسکا جلا ہوا ہاتھ دیکھ حیرت سے اسکا ہاتھ تھاما۔۔۔ ارے کچھ نہیں زری بس ناشتے میں چائے پیتے چائے چھلک گئ تھی اور شادی والا گھر ہے تو وہاں بھی بہت کام تھے اس لئے ناشتہ میں اکیلا ہی لے آیا باقی سب تو شام میں ولیمے پر آ ہی جائیں گے وہ قصداً باقی سارا واقعہ گول کر گیا تھا اس خوشی کے موقع پر وہ اسے پچھلے گھر کی کوئی ٹینشن بتانا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
بھیا آپ بھی زرا خیال نہیں رکھتے اپنا دیکھیں زرا کتنا جل گیا ہے ہاتھ۔۔۔ زرش کی آنکھیں نم ہونے لگی تھیں۔۔۔ ارے کچھ نہیں اتنا نہیں جلا تم دھیاں سے ناشتہ کرو
******
ارے بھابھی جلدی چلیں نا حدید بھائی گاڑی میں انتظار کر رہے ہیں اور انہیں انتظار کرنا بالکل اچھا نہیں لگتا۔۔۔ پہلے ہی دادی نے بہت مشکل سے انہیں ہمیں پارلر لیجانے کے لئے راضی کیا ہے ورنہ وہ تو ڈرائیور بھیجنے کا کہہ رہے تھے۔۔۔ ہادیہ ہاتھ میں بیگ تھامے زرش کے ساتھ تیزی سے سیڑھیاں اتر رہی تھی۔۔۔ ہنہہ۔۔۔ میں بھی جیسے مری جا رہی ہوں نا اس کھڑوس کیساتھ پارلر جانے کے لئے۔۔۔ پتہ نہیں سمجھتے کیا ہیں اپنے آپ کو نواب صاحب ہیں جیسے کہیں کے۔۔۔ زرش منہ بناتی سیڑھیاں اتری۔۔۔ افف بھابھی جیولری والا شاپر کمرے میں ہی رہ گیا آپ جا کر گاڑی میں بیٹھیں میں ابھی لے کر آتی ہوں لاوئنج کے دروازے کے قریب پہنچتے ہی ہادیہ کو یاد آیا تو سر پر ہاتِھ مارتی سرعت سے واپس بھاگی جبکہ زرش مرے مرے قدم اٹھاتی کار پورچ کی جانب بڑھی۔۔۔ حدید کار سے ٹیک لگائے موبائل پر کچھ ٹائپ کر رہا تھا ۔۔ جیل سے سیٹ کئے بال تیکھی مغرور ناک اور ہلکی بڑھی شیو میں وائٹ ٹی شرٹ زیب تن کئے وہ زرش کا دل ڈھرکا گیا تھا اپنی ہی بدلتی حالت سے گھبرا کر زرش نے دل کو بری طرح ڈپتا۔۔۔ ہنہہ مغرور بے حس۔۔۔۔ وہ دل ہی دل اسے القابات سے نوازتی گاڑی کے قریب آئی مگر وہ اپنی آنکھوں کو بے خود ہو کر گستاخی کرنے سے روک نہیں پا رہی تھی جو ناچاہنے کے باوجود بھی اسی ستمگر کا طواف کر رہی تھیں۔۔۔
زرش گاڑی کی پیسنجر سیٹ کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھی تو حدید نے سرعت سے موبائل جیب میں ڈالتے ڈرائیونگ سیٹ سمبھالی۔۔۔۔
مسلہ کیا ہے تمہارے ساتھ آخر تم یہ سب کر کے ثابت کیا کرنا چاہتی ہوں کہ میں نے ظلم کے پہاڑ تور دیئے ہیں تم پر۔۔۔ گاڑی میں بیَٹھتا ہی وہ آتش فشاں بنا پھٹ پڑا تھا۔۔۔ زرش نے حیرت و انبساط سے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسکا یہ آتش فشاں روپ دیکھا ۔۔۔ سپید پشانی پر جابجا شکنوں کا جال بچھا تھا۔۔۔ کہیں تو وہ کل سے اس سے کوئی بات نہیں کر رہا تھا کہاں اسکا یہ روپ۔۔۔۔۔
کیا۔۔ کیا کیا ہے میں نے۔۔۔۔ حیرت میں ڈوبی آواز ابھری تھی۔۔۔
آخر اپنے بھائی کے سامنے مظلومیت کے یہ ڈرامے لگانے کا مقصد کیا تھا تمہارا ہاں۔۔۔۔
ڈرامے۔۔۔ آپ کو یہ ڈرامے لگ رہے ہیں زرش نے شاک سے اپنی جانب اشارہ کرتے اس ظالم شخص کی جانب دیکھا۔۔۔ نہیں تو اور کیا تھا ایسا کیا کہہ دیا میں نے کل رات تمہیں یا آج صبح جو تم یوں ردعمل دے رہی تھی۔۔۔
آپکو پتہ ہے کیا حدید آپ ایک بے حس بدلحاظ اور ظالم شخص ہیں جسے کسی لڑکی سے بات کرنے کے مینرز ہی نہیں ہیں میں بھائی سےآپکی شکایت کروں گی اور دادو سے بھی۔۔۔ کہاں برداشت ہوا تھا اسے اس ستمگر کا ایسا رویہ تبھی ہچکیوں سے روتی اس ہر چڑھ ڈوری تھی۔۔۔
بس ڈرامہ شروع۔۔۔ مجھے انتہائی زہر لگتی ہیں یوں روتی دھوتی لڑکیاں۔۔۔ فورا صاف کرو یہ مگرمچھ کے آنسو۔۔۔۔ وہ سخت جھنجھلا گیا تھا اپنی بے وقوفیوں کی وجہ سے پہلے ہی وہ صبح دریاب کے سامنے اسکی حالت کافی آکورڈ بنوا چکی تھی مزید اب اسے شادی والے گھر میں کوئی یوں روتے دیکھ لیتا تو سینکروں باتیں بننی تھیں۔۔۔
زہر لگتی ہوں تو لگوں مجھے بھی کوئی خواہش نہیں ہے خود کو شہد بنا کر آپکے سامنے پیش کرنے کی۔۔۔ نہیں کروں گی آنسو صاف جائیں آپکو جو کرنا ہے کر لیں۔۔۔ میں مزید رووں گی کیونکہ آپ نے مجھے رلایا ہے۔۔۔ غصے میں وہ ایسے ہی آپے سے باہر ہو جاتی تھی اسی لئے یوں حدید کے سامنے بنا سوچے سمجھے بول رہی تھی۔۔۔
حدید حیرت سے اسکا یہ شعلہ جولہ بنا روپ دیکھ رہا تھا اس وقت وہ کہیں سے بھی دوسرے دن کی دلہن نہیں لگ رہی تھی۔۔۔۔ شادی کے بعد سے اب تک یہ انکی پہلی اتنی لمبی گفتگو تھی۔
تم ایک نہایت احمق اور عقل سے پیدل لڑکی ہو۔۔ حدید نے اسے غصے سے دیکھتے دانت پیسے جو ہر کام اسکے کہے سے الٹ کر رہی تھی۔۔۔ اسکے بہتے آنسو یکدم ہی ٹھٹھرے تھے۔۔۔ اتنی ہی میں احمق اور عقل سے پیدل لڑکی ہوں تو کیوں کی مجھ سے شادی۔۔۔ ہاں کیا میں آپکے پاوں پڑی تھی کہ مجھ سے شادی کریں بتائیں ۔۔۔ مت کرتے نا شادی۔۔۔ کر لیتے کسی ذہیں فطین اور عقلمند لڑکی سے شادی۔۔۔ اسکے تو سر پر لگی اور تلووں پر بجھی ۔۔۔ پل میں رم جھم دوبارہ شروع ہوگئ تھی۔۔۔
اسکا جواب اگر میں نے تمہیں دیا تو یقیناً تم ہرٹ ہو گئ لحاظہ اس سوال کو چھوڑ دو۔۔۔ گاڑی کے دروازے پر اپنی کہنی ٹکاتے حدید نے اپنی کنپتی مسلی۔۔۔
ترس کھا کر کی ہے مجھ سے شادی آپ نے۔۔۔ بھیا کے فورس کرنے پر۔۔۔ ہمدری جتا رہے ہیں مجھ پر۔۔۔ آپ ۔۔۔ آپ بہت برے ہیں حدید بہت ۔۔۔ بہت برے۔۔۔ پوری دنیا سے برے۔۔۔ شاک کی کیفیت میں اسکی جانب دیکھتی وہ چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ رونے سے اسکا جسم ہچکولے کھا رہا تِھا۔۔۔ وہ کم عقل اور بے وقوف تھی حدید جانتا تھا مگر اب اسکا یوں رو رو کر ہلکان ہونا حدید کو بے چین کر رہا تِھا۔۔۔
ایسی کوئی بات نہیں ہے زری پلیز تم رونا بند کرو۔۔۔ ماتھے پر ہاتھ پھیرتے وہ دلگرفتی سے گویا ہوا مگر دوسری جانب کوئی اثر نا ہوا۔۔۔
میرا وہ مطلب نہیں تھا زرش ایم سوری یار پلیز چپ ہو جاو۔۔ میرا مقصد تمہیں رلانا نہیں تھا بس تمہارے صبح کے ردعمل سے مجھے دریاب کے سامنے بہت شرمندگی محسوس ہو رہی تھی جیسے میں کوئی ظالم ہوں اور میں نے تم پر بہت ظلم کئے ہوں اس لئے میں غصے میں آپے سے باہر ہو گیا لیکن پلیز تم میری بات کو سمجھو اور دوبارہ رونا نہیں۔۔۔ حدید نے آہستگی سے اسکے ہاتھ چہرے سے ہٹاتے اسکے آنسو صاف کئے تو زرش نے اپنی نم آنکھیں اٹھا کر اپنے بے حد قریب جھکے حدید کی جانب دیکھا اور سرعت سے نظریں ہٹاتے نظریں جھکا گئ۔۔۔ سچویشن سمجھ آتے ہی شعور نے حقیقت کی وادیوں میں پٹخا تو اسے اپنی کچھ دیر پہلے والی بے خودی پر جی بھر کر تاو آیا۔۔۔ آپو آپ ایک حجاب نے اسے اپنی لپیٹ میں لیا اور پلکیں بھاری ہو کر اٹھنے سے انکاری ہو گئیں۔۔
ایم سوری وہ مجھے گھر کی یاد آ رہی تھی اس لئے بھیا کو دیکھ کر میں ضبط کھو گئ میں آئندہ سے خیال رکھوں گی۔۔۔ اپنی صفائی میں بولتے آنکھیں ایک مرتبہ پھر سے بہہ نکلی تھیں۔۔۔۔
اچھا وہ تو ٹھیک ہے مگر اب پھر سے کیوں بن بادل برسات شروع کر دی ہے۔۔۔۔ وہ اسے دوبارہ سے فارم میں آتا دیکھ اچھا خاصا چڑ گیا تھا۔۔۔
میں نہیں رو رہی خود ہی آنسو بہہ رہے ہیں چپ کرنے کی کوشش میں وہ مزید شدت سے رو دی۔۔۔۔ مجھے امی کے پاس جانا ہے۔۔۔ بے دم ہوتے وہ گھٹی گھٹی آواز میں گویا ہوئی۔۔۔ لڑکی تمہیں کوئی میری پوزیشن کا احساس ہے۔۔۔ نا تم پیار سے مانتی ہو نا غصے سے آخر تم چپ کیسے کرو گئ۔۔۔ یا اللہ کہاں پھس گیا ہوں۔۔۔ جھنجھلاتے ہوئے بلآخر حدید نے سٹرینگ میں سر دے مارا تھا جبکہ زرش مزید شدت سے رو دی۔۔۔
اررےےے اررےےے بھیا بھابھی کو کیا ہوا۔۔۔ ہادیہ تیزی سے گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھی تو زرش کو ہچکیوں سے روتے دیکھ فکرمندانہ انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
انہی محترمہ سے پوچھ لو مجھے تو ایک ہی دن میں آدھا پاگل کر چکی ہے پتہ نہیں آگے کیا بنے گا۔۔۔
بھابھی ہوا کیا ہے۔۔۔ ہادیہ ہونق بنی کبھی حدید تو کبھی زرش کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
مجھے امی کے پاس جانا ہے۔۔۔
افففف۔۔۔ اللہ۔۔۔ مجھے صبر دیناااا۔۔۔ مجھے کچھ کام ہے ڈرائیور کو بھیج رہا ہوں اسکے ساتھ پارلر چلی جانا تم دونوں۔۔۔ پر بھیا ۔۔۔ اپنی بات کہہ کر وہ موبائل سے ڈرائیور کا نمبر ملا کر اسے سب سمجھا کر بنا ہادیہ کی بات سنے گاڑی سے نکل گیا جبکہ پیچھے ہادیہ سر تھام کر رہ گئ۔۔
