Hala By Umme Hania Readelle50346 Hala (Episode 32)
No Download Link
Rate this Novel
Hala (Episode 32)
Hala By Umme Hania
ڈائنیگ ٹیبل پر دونوں کہنیاں ٹکائے دونوں ہاتھ ایک دوسرے پر دھرے ان پر چہرا ٹکائے زہرا بیگم مسکراتے ہوئے سیرھیاں اترتے اپنی گھبرو جوان بیٹے کو دیکھ رہی تھیں جو انکا مان تھا انکا فخر انکی فرمابردار ترین اولاد۔۔۔ وائٹ کرتا شلوار میں ملبوس دریاب کرتے کے بازو فولڈ کرتا نیچے اتر رہا تھا جب اسکی نظر مسکر کر اپنی جانب دیکھتی ماں پر پڑی۔۔۔ آفس سے آنے کے بعد وہ چینج کر کے آرام دہ کپڑے پہن چکا تھا۔۔۔ اتنے ٹینش زدہ ماحول میں اسے ماں کا خوشگوار موڈ حقیقتاً خوشگوار حیرت میں مبتلا کر گیا۔۔۔ اسنے ماں کی مسکراہٹ کا جواب مسکراہٹ سے دیتے کرسی کھینچی۔۔۔ خیریت امی آج آپ بہت خوش لگ رہی ہیں۔۔۔ خوشگوار حیرت سے استفسار کرتا وہ کرسی پر بیٹھا۔۔
خوشی کی بات ہے بیٹا اسی لئے تو خوش ہوں۔۔۔ اور بتا نہیں سکتی کہ کتنی خوش ہوں۔۔۔ زہرا بیگم نے چاولوں کی ڈش اٹھا کر دریاب کی جانب بڑھائی۔۔ اچھا مجھے بھی تو زرا پتہ چلے اس خوشی کی خبر کا۔۔۔ اسنے معتجب ہوتے ٹرے تھام کر چاول پلیٹ میں نکالے۔۔۔۔
ہالہ کون ہے یہ نہیں پوچھوں گی۔۔۔ اسے کب سے جانتے ہو۔۔۔ کب اس سے محبت ہوئی کچھ نہیں پوچھوں گی۔۔۔ زہرا بیگم کی بات پر چاول کھاتے اسکے ہاتھ بے طرح ٹھٹھکے۔۔۔ چہرے کی رنگت یکدم بدلی تھی۔۔۔ اسنے جھٹکے سے حیرت زدہ نگاہیں اٹھا کر ماں کو دیکھا۔۔ کیسے ممکن تھا کہ وہ اسکے راز کو پا جاتیں۔۔ یہ تو وہ راز تھا جسے وہ خود پر آشکار بھی بہت سوچ سمجھ کر کرتا تھا۔۔۔ لب بھینچتے اسنے بالوں میں ہاتھ پھیرا ۔۔۔یہ واضح اسکے اضطراب کی نشانی تھی بھوک یکدم ہی اڑ گئ تھی۔۔۔
کیا اااا۔۔۔ یہ ہی سوچ رہے ہو نا کہ مجھے کیسے پتہ چلا۔۔۔ وہ واپس اپنی سابقہ پوزیشن میں بیٹھتی دونوں ہتیلیوں پر چہرا جمائے شرارت سے مسکراتیں اسکے پل پل بدلتے تاثرات کو انجوائے کر رہی تھی۔۔۔
ذہن بٹانے کو کام والی کیساتھ تمہارے کمرے کی صفائی کروا رہی تھی جب صفائی کے دوران تمہاری واحد دوست تمہاری ڈائری سے ملاقات ہوئی۔۔۔ کتنا کچھ چھپا رکھا ہے اس دل میں ہاں۔۔۔۔ ہنوز انکے ہونٹوں پر مسکراہٹ قائم تھی جیسے انہیں ہفت اقلیم کی دولت مل گئ ہو۔۔۔
شٹٹٹٹٹٹ ماں۔۔۔ نہیں پڑھنی چاہیے تھی آپکو وہ۔۔۔ وہ بے بسی سے کہتا بے دلی سے کھانا کھانے لگا۔۔۔ زہرا بیگم کا قہقہ بے ساختہ تھا۔۔۔ نا پڑھتی تو بیٹے کے حال دل سے واقف کیسے ہوتی۔۔۔ کب کیسے کہاں کیا ہوا ان اب چکروں کو چھوڑتے ہیں۔۔۔ تم بس مجھے اسکے گھر کا ایڈریس دو میں کل ہی تمہارا رشتہ لے کر وہاں جاوں گی۔۔۔ بہت دھوم دھام سے تمہاری شادی کروں گی دریاب۔۔۔ دنیا دیکھے گی تمہاری شادی۔۔۔ آخر کو میرے اکلوتے بیٹے کی شادی ہے ۔۔ یوں گھر کا ماحول بھی زرا بدلے گا اور مجھے بھی دوسراہٹ کا احساس ہوگا۔ زہرا بیگم تو گویا بالا ہی بالا سب طے کر چکی تھیں۔۔۔۔ دریاب نے ایک خاموش نگاہ ماں کے چہکتے چہرے پر ڈالی چمکتی آنکھیں خوشی سے ٹمٹماتا چہرا۔۔۔
اگر آپکو مجھ میں سے یا اس میں سے کسی ایک کو چننا پڑے تو آپ کسے چنیں گئے۔۔۔ کہیں دور سے آتی یہ آواز اسے جھنجھوڑ گئ تھی۔۔۔ اسنے اپنے اندر جھانک کر دیکھا وہاں مکمل سناٹا تھا۔۔۔
“اے ابنِ آدم”
ایک میری چاہت ہے ،ایک تیری چاہت ہے
تو ہوگا وہی جو میری چاہت ہے،
پس اگر تو نے سپرد کردیا اپنے آپ کو اسکے جو میری چاہت ہے ،
تو میں وہ بھی تمہیں دونگا جو تیری چاہت ہے ،
دریاب کو اپنی سانیس رکتی محسوس ہوئیں۔۔۔ اسے اس روز کی ہالہ کی گفتگو پوری جزئیات سے یاد آئی۔۔۔۔ کیا نور کو قبول کرنا اسکے رب کو اتنا ہی پسند آیا تھا جو ہالہ کا حصول اسکے لئے آسان ہو رہا تھا۔۔۔ کیا اب ہالہ کا حصول ممکن تھا۔۔۔۔
وہ خود کیا چاہتا تھا۔۔۔ اسکے حواس بے طرح منتشر ہو چکے تھے۔۔۔۔ بیٹا کھانا تو کھا لو۔۔۔ اسے کھانا ویسے ہی چھوڑ کر بے چینی سے اٹھتا دیکھ زہرا بیگم حیرت سے گویا ہوئی۔۔۔
بھوک نہیں ہے امی ۔۔۔ طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔ کچھ دیر آرام کرنا چاہتا ہوں۔۔۔
وہ اپنا ماتھا مسلتا سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔۔۔ جبکہ زہرا بیگم اسے حیرت سے دیکھ رہی تھیں۔۔۔
*****
وہاں انیکسی کے اندھیرے میں ڈوبے لاوئنج میں اگر بے چین نور تھی تو اپنے پر آسائش کمرے میں دائیں سے بائیں چکر کاٹتا دریاب بھی پر سکون نا تھا۔۔۔ ایک کو اگر لاشعوری میں دوسرے کی محبت چاہیے تھی تو دوسرا شعوری طور پر بھی اپنے دل کی حالت سمجھنے میں ناکام تھا۔۔۔۔
غیر ارادی طور پر دریاب نور اور ہالہ کا موازنہ کر رہا تھا۔۔۔ دل اب بھی ہالہ کی جانب کھنچتا مگر چاہ کر بھی وہ اسکے حق میں ووٹ نا دے پاتا کیونکہ راستے میں ایک صاف شفاف چاندنیاں بکھیرتا سراپا آس کے دیئے جلائے پرامید نگاہوں سے اسے تکتا حائل ہو جاتا۔۔۔۔ ہالہ کی ہر ادا اگر دل پر وار کرتی تھی تو نور کی خودداری اور معصومیت راہ کی رکاوٹ بنتی تھی۔۔۔ وہ لڑکی خودار تھی اور اتنے سے دنوں میں وہ اسے اچھے سے جان گیا تھا۔۔۔۔ اگر وہ اس سے راستے الگ کرنا چاہتا تو اسے کوئی دشواری نہیں ہونی تھی کیونکہ وہ اتنی ہی خودار تھی کہ اسکے زبردستی کسی کی زندگی میں اس پر مسلط ہونا گوارا نا تھا۔۔۔
مگر کیا وہ خود اسے چھوڑ سکتا تھا اس پھولوں سی نازک لڑکی کو جو خود پر سختی اور بے حسی کے کئ خول چڑھائے پھرتی تھی۔۔۔ کیا وہ ان آنکھوں کی آس کی جوت مٹا سکتا تھا۔۔۔ کیا وہ اتنا ہی خود غرض تھا کہ اپنی خوشیوں کے لئے اپنے سے وابسطہ لڑکی کو بیچ راہ میں چھوڑ دیتا۔۔۔
کیا وہ ہالہ کو چھوڑ دے۔۔۔ کیا محبت کو پانے کی آس لئے منزل کے قریب پہنچ کر اس سے دستبرداری ممکن تھی۔۔۔ کیا اسکا دل اسے اجازت دیتا کہ ناموافق حالات کے موافق ہو جانے کے بعد بھی وہ دل کی نا مانے۔۔۔
خود سے لڑتا لڑتا وہ سر پکڑتا وہیں بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔۔ پہلے ہالا کو پانے کی امید نہیں تھی تو سب ٹھیک تھا۔۔۔ اب ایک آس بندھی تھی تو دل بغاوت پر اتر آیا تھا۔۔۔۔
وہ دونوں کہنیاں گھٹنوں پر رکھے آگے کو جھکے دونوں انگوٹھے مسلتا کمرے کی کھلی کھڑی سے آسمان پر موجود تنہا چاند کو چمکتے دیکھ رہا تھا۔۔۔
امی یہ آپ نے غلط کیا۔۔۔۔ کیوں مجھ سے یہ ذکر چھیڑا۔۔۔۔ نشے کو چھوڑنے کے لئے ضروری ہوتا ہے نشے سے دور رہنا ورنہ نشہ قریب رکھ کر خود پر ضبط کوئی بھی نہیں کر سکتا۔۔۔ وہ بھی ہالہ کو بھلانے کی کوشیش کر رہا تھا اس سے فاصلہ قائم کئے ہوئے تھا۔۔۔ مگر اب وہ کیا کرے۔۔۔ خود سے جنگ لڑتا وہ ہار رہا تھا۔۔۔ دل ہر طرح کی دلیل کو رد کر رہا تھا۔۔۔
لب بھینچتے اسکی نظر انیکسی کی جانب اٹھی جہاں ہنوز اندھیرا تھا۔۔۔۔ اسکی آنکھوں میں تشویش ابھری۔۔۔ ابھی تک نور نے کوئی لائٹ کیوں نہیں جلائی۔۔۔ آنکھیں چھوٹی کر کے انیکسی کی جانب دیکھتا اور کچھ سوچ کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ اب اسکا رخ انیکسی کی جانب تھا۔۔۔
*******
یہاں اتنی ٹھنڈ میں کیا کر رہی ہو۔۔ ابھی تو تمہیں اتنی نیند آئی تھی اور ابھی تم یہاں کھڑی ہو۔۔۔ کچھ دیر بعد حدید کمرے میں واپس آیا تو زرش کو بالکونی میں کھڑے دیکھ کر حیرت سے مستفسر ہوا۔۔۔
تب آ رہی تھی۔۔۔ اب نہیں آ رہی۔۔۔ ریلنگ پر کہنیاں ٹکائے رخ موڑے ہی رکھائی سے جواب دیا گیا۔۔ اپنے گھر آ گئ تھی مزید تنہائی کا حملہ اب اسے پھر سے حدید کا رویہ کھلنے لگا تھا۔۔ مطلب نئ نئ شادی۔۔۔ اوپر سے وہ ٹراما سے گزر رہی تھی ایسے میں اسے ایک اچھے ہمسفر کی طرح پل پل اسکا خیال رکھنا چاہے تھا اسکی دلجوئی کرنی چاہیے تھی لیکن یہاں ایک صرف کھانا کھلا کر گویا اسکی ذمہ داری ختم۔۔ اندھیرے کو گھورتی زرش برے برے منہ بناتی سوچ رہی تھی۔۔۔
یہ کونسی نیند ہے جو لمحوں میں آتی ہے اور لمحوں میں ختم۔۔۔۔ وہ بھی اسکے پاس ہی بالکونی میں آیا۔۔۔
میری نیند ہے۔۔۔۔ میرا گھر ہے۔۔۔ میری مرضی۔۔۔ جب دل چاہے گا سووں گی جب دل چاہے گا جاگوں گی ۔۔۔ آپکو کوئی مسلہ۔۔۔ ناک سے گیلی سانس اندر کھینچتی وہ جھٹکے حدید کی جانب پلٹی۔۔۔ دائیاں ہاتھ کمر پر ٹکائے اسے تیکھے چتونوں سے دیکھتی بائیں ہاتھ کی انگلی سے اپنی جانب اشارہ کرتی رک رک کر گویا ہوئی۔۔۔
نیوی بلو ٹروزر اور وائٹ ڈھیلی سی ٹی شرٹ زیب تن کئے حدید نے ٹراوزر کی جیبوں میں ہاتھ اڑستے ابرو اچکاتے اسے دیکھا۔۔۔ تمہاری نیند ہے۔۔۔ تمہارا گھر ہے۔۔۔ تمہاری مرضی ہے اور تم خود کس کی ذمہ داری ہو۔۔۔۔ اسنے ابرو اچکاتے اسی کے انداز میں پوچھا۔۔۔
اففف۔۔۔ زرش نے دانٹ پیسے آنکھیں میچ کر واپس ریلنگ کی جانب رخ کیا ۔۔۔
Such an unromantic person…
تم خود کس کی ذمہ داری ہو کی بجائے اگر آپ یہ کہہ دیتے کہ تم خود کس کی ہو تو یقیناً آپکی شان گھٹ جاتی نا۔۔۔ وہ سر جھٹکتی محض سوچ کر رہ گئ۔۔۔
یہاں ٹھنڈ میں کھڑی کھڑی اگر بیمار ہوگئ تو آدھی رات کو پرابلم تو مجھے ہی بنے گی نا ۔۔ حدید کی اگلی بات اسکا رہا سہا خون بھی جلا گئ اسنے خون خوار نگاہوں سے اسکے دلکش چہرے کی جانب دیکھا اور پاوں پٹختی واپس کمرے میں چلے گئ۔۔۔ میری اتنی قسمت ہی کہاں کہ آپ سے اپنے ناز اٹھوا سکوں۔۔۔
*****
ایک بار دو بار اور پھر بار بار بھی انیکسی کے دروازے ہر دستک دینے پر جب نور نے دروازہ نا کھولا تو اب دریاب کو شدت سے کسی انہونی کا احساس ہوا۔۔۔۔ وہ ڈھرکتے دل کے ساتھ بھاگتا ہوا باپ کے سٹڈی روم میں گیا وہاں عموماً ہر دروازے کی ڈوپلیکیٹ چابی ہوتی تھی۔۔۔ ٹک ٹک ٹک۔۔۔ سٹڈی میں داخل ہوتے ہی اسنے ایک ہی بار میں سبھی بٹن گرائے کمرہ یکدم ہی روشنیوں میں نہا گیا۔۔۔ بھاگ کر وہ باپ کے سٹڈی ٹیبل کی جانب بڑھا۔۔۔ سٹڈی ٹیبل کے بائیں جانب والے دراز کو کھینچ کر کھولا۔۔۔ سامنے ہی چابیوں کا گچھا پڑا تھا۔۔۔ گچھا اٹھا کر وہ باعجلت بھاگتا ہوا واپس انیکسی کی جانب گیا۔۔۔
انیکسی کا لاک کھولتے اسکے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔۔۔ دل کچھ دیر پہلے والی کشمکش سے خالی تھا۔۔۔ ابھی تو وہاں محض نور کی سلامتی کے لیے فکر تھی۔۔ دروازہ کھولتے ہی مکمل اندھیرے نے اسکا استقبال کیا۔۔۔
نور۔۔۔ نور کہاں ہو۔۔۔۔ اسنے دروازے کے پیچھے موجود سوئچ بورڈ سے لائٹ آن کی۔۔۔
سارا لاوئنج روش ہو گیا ہر چیز واضح تھی۔۔۔ سب کچھ ٹھیک تھا۔۔۔ لاوئنج کی کھڑی کھلی تھی جس سے ٹھنڈی ہوا کے تھپیرے یکے بعد دیگرے اندر آتے سارے لاوئنج کو ٹھنڈا کر چکے تھے۔۔۔ دریاب نے جلدی سے آگے بڑھتے اس کھڑکی کو بند کیا۔۔ واپس پلٹنے ہر پہلی نگاہ ہی صوفے پر گھٹری بنی بیٹھی نور پر پڑئ جو دونوں گھٹنے پیٹ سے لگائے ان پر سر رکھے گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے بیٹھی تھی۔۔۔ لمبے سیاہ بال پشت پر جابجا بکھرے تھے۔۔۔
نور۔۔ دریاب اسے آواز دیتا اسکی جانب بڑھا۔۔۔ لیکن دوسری جانب سے جواب ندارد۔۔۔ نور۔۔۔ اسنے نور کو کندھے سے پکڑ کر ہلایا مگر اسکے پاوں تلے سے زمیں تب کھسکی جب وہ صوفے پر ایک سائڈ پر ڈھلک گئ۔۔۔۔
نور آنکھیں کھولو نور۔۔۔ دریاب نے وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھتے نور کا چہرا تھپتھپایا۔۔۔ مگر چہرے کو ہاتھ لگاتے ہی اسنے ہاتھ پیچھے کھینچا گویا اسکا چہرا دہکتا تنور ہو۔۔۔ نور۔۔۔ اسنے حواس باختہ ہوتے بنا دیر کئے نور کے بے ہوش وجود کو اٹھایا اور کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔ کمرے میں اسے بیڈ پرلٹا کر اسنے سب سے پہلے اس پر لحاف دیا پھر کمرے کا دروازہ بند کیا اور کمرے کا ہیٹنگ سسٹم آن کیا۔۔۔
اس سے کچھ فاصلے پر کھڑے دریاب نے کچھ سوچتے ہوئے ڈاکٹر کا نمبر ملایا اور انہیں وہاں آنے کو کہا۔۔۔
کچھ دیر بعد ہی ڈاکٹر وہاں موجود تھا۔۔۔ بی پی خطرناک حد تک لو ہے اور بخار بھی ایک سو چار ہے۔۔۔۔ ڈاکٹر نے اسکا معائنہ کرکے اسے ایک دو انجیکشن لگائے اور دوائیوں کا نسخہ دریاب کی جانب بڑھایا۔۔۔۔ میں نے انجیکشن لگا دیئے ہیں انہیں کچھ دیر تک ہوش آ جائے گا انشااللہ صبح تک ٹھیک ہو جائیں گی یہ۔۔۔ دریاب غائب دماغی سے ڈاکٹر کی باتیں سن رہا تھا۔۔۔ ڈاکٹر کے جانے کے بعد وہ ڈرائیور کو دوائیاں لانے کا بول کر واپس اسکے پاس آیا۔۔۔ بیڈ کے قریب ہی کرسی کھینچ کر بیٹھا اور اسکے بکھرے بالوں کو ہاتھ سے سنوارنے لگا۔۔۔ ناجانے کیوں اس پھولوں سی نازک لڑکی کے دکھ دیکھ کر دل کرلا اٹھتا تھا۔۔۔ اب بھی اگر وہ حفظ ما تقدم وہاں اسے چیک کرنے نا آتا تو وہ ساری رات وہیں اسی پوزیشن میں بیٹھی رہتی۔۔۔ اسنے جھک کر نور کے ماتھے پر اپنا لمس چھوڑا۔۔۔۔ نور ہوش میں ہوتی تو دریاب کی اس حرکت سے اچھی خاصی معتجب ہوتی۔۔۔وہ اسکے پاس ہی کرسی پر بیٹھا کہنی سرہانے پر ٹکائے اپنے ہاتھ کی انگلیاں اسکے بالوں میں چلانے لگا۔۔۔ وہ قریب سے بہت غور سے اسے دیکھتا کچھ سوچ رہا تھا۔۔۔
نور نے کسمساتے ہوئے آنکھیں کھولیں ۔۔۔ آنکھ کھلتے ہی نظر خود پر جھکے دریاب سے ٹکرائی۔۔۔ نور نے گھبرا کر آنکھیں جھپک کر کھولیں۔۔۔ یہ کیسا اتفاق تھا جیسے سوچتے آنکھیں بند ہوئیں تھیں آنکھ کھلتے ہی اسی کا چہرا سامنے تھا۔۔۔ حیرت کی بات تھی نور کی آنکھیں کھول لینے کے بعد بھی دریاب پیچھے نہیں ہٹا تھا بلکہ بہت مطمعں انداز میں اسنے اپنی سرگرمی جاری رکھی ۔۔۔ عجیب استحقاقِ ملکیت تھا اسکے ہر ہر انداز میں۔۔۔ اب نور کو اسکی انگلیاں بھی بالوں میں سرائیت کرتی محسوس ہوئیں۔۔۔ نور کی سانسیں منتشر ہونے لگی تھی۔۔۔ دماغ نے کام کرنا شروع کیا تو آہستہ آہستہ سب یاد آنے لگا۔۔ وہ تو باہر لاوئنج میں تھی پھر یہاں کیسے اور دریاب۔۔۔ اسنے حیرت سے نظریں گھما کر کمرے کو دیکھا۔۔۔ دریاب کے دیکھنے کے انداز میں اب بھی کوئی فرق نہیں آیا تھا۔۔۔ نور کو اب اسکی نگاہوں سے الجھن ہونے لگی۔۔۔ وہ کیوں اسے یک ٹک دیکھ رہا تھا۔۔۔
لیکن نور کو اسکا اپنے بالوں میں انگلیاں چلانا سکوں مہیا کر رہا تھا۔۔۔۔
اب کیسا محسوس کر رہی ہو۔۔۔ دریاب کی آواز سرگوشی سے زیادہ نا تھی نور کو جواب دینا محال ہوا۔
_______
