Hala By Umme Hania Readelle50346 Hala (Episode 41)
No Download Link
Rate this Novel
Hala (Episode 41)
Hala By Umme Hania
رات روتے روتے ناجانے کس وقت نور کی آنکھ لگ گئ تھی وہ وہیں کارپٹ پر بیٹھی بیَٹھی صوفے کی سیٹ سے سر ٹکائے سو گئ تھی صبح حسب معمول فجر کے وقت اسکی آنکھ کھلی۔۔۔ آنکھ کھلتے ہی وہ کچھ دیر غیر دماغی سے ویسے ہی پڑی رہی۔۔۔ رفتہ رفتہ شعور نے آگہی کی منزلیں طے کرنا شروع کیں تو رات کے گزرے سبھی منظاہر نگاہوں کے سامنے سے کسی فلم کی مانند چلنے لگے۔۔ اس نے کرب سے آنکھیں میچتے سیدھا ہونا چاہا اور تب اس پر انکشاف ہوا کہ رات بھر سے ایک ہی پوزیش میں بیٹھے رہنے سے گردن اور کمر میں شدید کھنچاو کی شکایت پیدا ہو چکی تھی۔۔۔ رات ہیٹنگ سسٹم آن نا کرنے کی وجہ سے کمرا بھی اس وقت بہت ٹھنڈا ہو رہا تھا یہ ہی وجہ تھی کی جسم ٹھنڈ کی وجہ سے بے طرح اکڑ چکا تھا۔۔۔۔ وہ بمشکل گھٹنوں پر وزن ڈالتی اٹھ کھڑی ہوئی اور وضو کرنے کی غرض سے واش روم کی جانب بڑھی نماز پڑھ کر وہ تب سے لاوئنج میں موجود کھڑکی کے پاس بیٹھی باہر لان کی جانب دیکھتی لاشعوری طور پر دریاب کی منتظر تھی۔۔۔ رات جو بھی ہوا وہ بہت غلط ہوا تھا۔۔۔جو بھی تھا اسے دریاب کیساتھ اس طرح پیش نہیں آنا چاہیے تھا۔۔ باوجود بھرپور مخالفت کے وہ قدم قدم پر اسکے ساتھ کھڑا رہا تھا۔۔۔ ایک پل کو بھی وہ اسکی ذات سے غافل نا ہوا تھا۔۔ زرا دیر کو بھی اسنے نور کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کی تھی۔۔۔ان سب چیزوں کے باوجود وہ ناجانے کیوں آپے سے باہر ہو گئ تھی کہ رات اسکے ساتھ اسقدر بدتمیزی کا مظاہر کر گی۔۔۔ اب اپنے ہر ہر عمل پر وہ پشیمان تھی۔۔ ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا دریاب دوسری شادی کے لئے ضروری تو نہیں کے وہ اسے چھوڑے۔۔۔ پر وہ اپنے دل کا کیا کرتی۔۔ کیسے کرتی یہ شراکت قبول۔۔۔ اسے بے ساختہ اس لڑکی پر رشک آیا جو دریاب کے دل کے سب سے بڑے سنگہاسن پر پورے طمطراق سے براجماں تھی۔۔ کچھ تو خاص بات ہوگی نا اس لڑکی میں جو دریاب جیسے شخص کا اس پر دل آگیا۔۔۔ نور کی سوچوں کا محور خودبخود ہی وہ لڑکی بن گئ۔۔۔ دریاب اس سے محبت نہیں کرتا تھا وہ اس رشتے کی اقدار نبھا رہا تھا اس رشتے کے تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشیش کر رہا تھا۔۔ جب وہ محض ذمہ داری سمجھ کر اسکے لئے اتنا کچھ کر رہا تھا کہ اسکی خرابی طبیعت کے باعث پوری رات اسکے لئے بے چین رہا تو پھر اپنی محبت کے لئے کیا کچھ نا کر بیٹھتا۔۔۔ اسے اس لڑکی سے ایک ان دیکھی رقابت محسوس ہوئی۔۔ اللہ تعالی تیرے گھر میں کس چیز کی کمی ہے۔۔۔ تیرے تو خزانے بھرے پڑے ہیں یا رب۔۔۔ دریاب کے دل میں میری محبت انکی کولیگ کی محبت سے بھی کئ گنا زیادہ ڈال دے ۔ یہ وہ دعا تھی جو وہ آج کل اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے اپنے رب سے مانگتی تھی۔۔۔
دریاب آفس آتے اور جاتے ہوئے اسکے پاس لازمی چکر لگاتا تھا آج بھی وہ شعوری طور پر اسکی منتظر تھی۔۔۔ دل کو ایک ڈھرکا الگ لگا تھا کہ اگر وہ نہ آیا تو۔۔۔ لب کاٹتے آسنے کرب سے آنکھیں میچیں۔۔۔ یقیناً وہ اسکے رات والے رویے کے باعث اس سے ناراض تھا۔۔۔ گاڑی سٹارٹ ہونے کی آواز پر وہ بھاگ کر کھڑی میں گئ اسکے دیکھتے ہی دیکھتے دریاب کی گاڑی گیٹ کی حدود پار کر گئ تھی۔۔ آنسو موتیوں کی لڑیوں کی مانند اسکی آنکھوں سے پھسل پھسل کر گرنے لگے تھے۔۔۔ وہ نامحسوس انداز میں اس شخص کی عادی ہو رہی تھی۔۔۔ آج ایک دن وہ جاتے وقت اس سے مل کر نا گیا تھا اور اسے کوئی چیز اچھی نا لگ رہی تھی
******
حدید لنچ کرنے کے بعد اپنے کمرے میں چلا گیا تھا جبکہ زرش اس کے ہیچھے ارادتاً کمرے میں نا گئ تھی۔۔ایک عجیب سی جھجھک اور حجاب نے اسے اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔۔۔ اب حدید کو کمرے میں گئے ہوئے بھی کم از کم آدھا گھنٹہ ہونے کو تھا مگر وہ دوبارہ کمرے سے باہر نا آیا تو زرش بھی دل کڑا کرتی کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی ایک آسودہ مسکراہٹ نے اسکے چہرے کا احاطہ کیا۔۔۔ شاید وہ صبح سے ابھی تک زمینوں پر خاصا تھک چکا تھا جو ابھی دنیا و مافیہا سے بے خبر بیڈ پر دراز آنکھیں مونڈھے سو رہا تھا۔۔ ورنہ زرش نے اسے کبھی دن میں سوتا نا دیکھا تھا۔۔۔۔ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ بیڈ کی دوسری جانب آ کر لیٹی۔۔۔ وہ یک ٹک مسکراتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔ اسے یوں سوتے میں دیکھنا وہ خاصا انجوائے کر رہی تھی کیونکہ اسکے جاگتے ہوئے وہ کبھی ایسی حرکت نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ اسے ہی دیکھتے ناجانے کس وقت اسکی آنکھ لگی۔۔۔
دوبارہ اسکی آنکھ کمرے میں ہوتی کھٹ پٹ سے کھلی۔۔۔ کسمساتے ہوئے اسنے بیڈ کی دوسری جانب دیکھا جہاں کچھ دیر پہلے حدید سو رہا تھا مگر اب وہ جگہ خالی تھی۔۔۔ زرش چونک کر سیدھی ہوئی مگر سیدھے ہوتے ہی اسکی پہلی نظر اپنے پاس ہی بیڈ ہر بیٹھے حدید سے ٹکرائی۔۔۔ وہ غالباً ابھی ابھی فریش ہو کر آیا تھا۔۔۔ کاٹن کے سفید کلف لگے کرتا شلوار میں ملبوس بالوں کو سلیقے سے جمائے وہ ایک ٹانگ موڑے جبکہ دوسری ٹانگ بیڈ سے نیچے لٹکائے بیڈ پر اسکے پاس ہی بیٹھا تھا۔۔۔ ہاتھ میں موبائل تھام رکھا تھا جسے پوری محویت سے وہ کھول رہا تھا۔۔ زرش کی نظر اسکے کھڑے مغرور نقوش سے الجھ الجھ گئ۔۔۔گاوں میں آکر وہ اسے اپنے شہر والے حلیے کے برعکس اسی لباس میں ہی نظر آیا تھا اور اس لباس میں وہ پہلے سے بڑھ کر ڈیشنگ لگتا تھا اس میں اسکی دراز قامت کچھ مزید نمایاں لگتی تھی۔۔۔۔ زرا غور کرنے پر اسے معلوم ہوا کہ حدید کے ہاتھ میں اسکا موبائل تھا۔۔۔ اٹھ گئ ہو تو پیکنگ کر لو ہم کچھ دیر تک یہاں سے نکلیں گے۔۔۔ زرش اسے ہی دیکھتی اپنے بکھرے بالوں کو سمیٹ کر انکا جوڑا بناتی اٹھ کر بیٹھی جب حدید اسکی جانب متوجہ ہوتا چہرے پر نرم مسکراہٹ سجائے گویا ہوا۔۔ مگر زرش الجھتی ہوئی اسکے ہاتھ میں تھامے اپنے موبائل کو ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔
یہ آپ کیا کر رہے ہیں حدید۔۔۔ بلآخر اسنے اپنی حیرت کو زبان دے ہی دی۔۔۔
حدید نے اسکی سم جیکٹ نکال کر پچھلی سم اس میں سے نکالی اور نئ سم اس میں ڈال کر اسے واپس موبائل میں فکس کیا اور موبائل آن کر زرش کی جانب بڑھایا۔۔ نئ سم اس میں ڈال دی ہے اور سوائے خاص خاص لوگوں کے یہ نمبر کسی اور کو مت دینا ۔ حدید نے موبائل اسکی گود میں رکھا اور ہاتھ میں تھامی سم کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور اٹھ کر اسے کمرے میں ہی موجود ڈسٹبن میں پھینکا۔۔۔ زرش گم صم سی بس حدید کو ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔ اور سنو۔۔۔ سم ڈسٹ بن میں پھینک کر وہ پلٹا۔۔۔ زرش نے اپنی حیران نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔ سوائے واٹس ایپ کے تم اپنا کوئی دوسرا سوشل اکاونٹ نہیں بناو گی نا فیسبک اکاونٹ نا ہی انسٹاگرام۔۔۔ ابھی پہلی حیرت کم نہیں ہوئی تھی کے حدید کے اگلے الفاظ نے گویا قوت گویائی ہی صلب کر لی ۔۔۔ اس لگنے والی نئ پابندی نے گویا سیدھا دل پر وار کیا تھا۔۔۔ کیوں ۔۔۔ کیوں نہیں بنا سکتی۔۔۔ دل کی حالت کے پیش نظر وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتی ضبط کرتی بلآخر احتجاج بلند کر اٹھی۔۔ کیونکہ میں کہہ رہا ہوں پرنسیس۔۔ قدم قدم چلتا وہ اسکے بالکل سامنے آکر بیٹھا قاتل مسکراہٹ چہرے پر سجائے اسنے زرش کے چہرے پر آئے بال ہاتھ سے سنوارے اور جھک کر اسکے ماتھے کا بوسہ لیتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ جلدی سے ریڈی ہو جاو پھر نکلتے ہیں۔۔ زرش کا گال تھپتھپا کر وہ کمرے سے باہر دنکل گیا۔۔۔ ایک آنسو زرش کی آنکھ سے ٹوٹ کر پھسلا۔۔۔ شہد آگیں لہجے میں وہ اس پر ایک نئ پابندی لگا گیا تھا۔۔۔کیا شادی نام ہی پابندیوں کا تھا۔۔۔ یہ کرو وہ نا کرو۔۔ ایسے کرو ایسے نا کرو۔۔۔ اپنی مرضی کیا ختم ہو کر رہ گئ تھی۔۔۔ صبح سے دل میں موجود خوشگمانی کے سبھی پھول گویا مرجھا گئے تھے۔۔۔ دل پر بوجھ بڑھ گیا تھا۔۔۔ دل چاہا جا کر اس ستم گر کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر پوچھے کے یہ سب پابندیاں میرے لئے ہی کیوں۔۔۔ وہ خود کیوں نہیں لگاتے خود پر پابندیاں۔۔۔ ایک کے بعد ایک آنسو تواتر سے بہتا بے مول ہو رہا تھا۔۔ اسکا دل ہر چیز سے اچاٹ ہو چکا تھا۔۔۔ آنسو صاف کرتی وہ بے دلی سے اٹھ کر واش روم کی جانب بڑھی۔۔۔۔
******
ایک کے بعد اگلا دن بھی گزر گیا مگر دریاب اس روز کا روٹھ کر گیا واپس انیکسی نا آیا تھا۔۔۔ نور نے خود کو یونیورسٹی اور دوسرے کاموں میں غرق کرنے کی بے انتہا کوشیش کی مگر اس ستم گر کی یادیں ہر دوسرے لمحے بن بلائے مہمان کی مانند دوڑی چلی آتیں۔۔۔ وہ ہر آہٹ پر چونک اٹھتی ہر لمحہ اسی آس میں رہتی کہ اب شاید وہ انیکسی میں آجائے۔۔۔ خاص کر صبح و شام کے اوقات جب اسکے آفس جانے یا آنے کا وقت ہوتا تو وہ خاص کر لاوئنج کی ونڈو کے پاس آ کر بیٹھ جاتی۔۔۔ اس سے کم از کم وہ صبح شام اسکا دیدار تو کر لیتی تھی۔۔۔ اب بھی کچھ دیر پہلے دریاب آفس گیا تھا اسکی گاڑی گیٹ سے نکلتے ہی وہ ونڈو کے پاس سے ہٹ گئ تھی آج کل اسکے یونیورسٹی جانے میں کوئی باقاعدگی نہیں رہی تھی نیز پے در پے صدمات سے پڑھائی پر وہ فوکس بھی نہیں رہا تھا۔۔۔ ایگزائمز سر پر تھے اور اب وہ سنجیدگی سے اس معاملے میں سنجیدہ ہونے کا سوچ رہی تھی۔۔۔ اسی غرض سے اب وہ صوفے ہر آلتی پالتی مارے بیٹھی نوٹس بنا رہی تھی جب دروازے پر دستک کی آواز سے چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ ایک پل کو دریاب کے آنے کا گمان گزرا مگر دوسرے ہی پل وہ اپنے خیال کی نفی کر گی کہ وہ تو آفس کے لئے نکل چکا تھا۔۔۔ ایک ٹھنڈی سانس خارج کر کے وہ بالپوائنٹ کو جرنل میں رکھ کر صوفے سے اٹھی اور دروازے کی جانب بڑھی۔۔۔ سلام باجی جی۔۔۔ دروازہ وا کرتے ہی سامنے گڈی کا چہرا نمودار ہوا۔۔۔
واعلیکم اسلام۔۔۔ نور نے مسکرا کر اسے اندر آنے کا راستہ دیا۔۔۔ وہ باجی جی یہ دریاب بھیا نے بھیجا ہے آپ کے لئے آپ یہ لے لیں۔۔۔ گڈی نے جلدی سے ایک چھوٹا سا شاپر نور کی جانب بڑھایا۔۔۔ گڈی کی بات پر نور کا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔ آنکھیں نم ہو اٹھیں تھی۔۔ ہلق میں نمکین پانیوں کا گولہ اٹک گیا تھا۔۔۔ تو پورے ڈیرھ دن بعد اسے نور کی یاد آ گی تھی۔۔۔ یہ کیا ہے۔۔۔ اسنے آواز کی لغزش کی پر قابو پاتے استفسار کیا۔۔ پتہ نہیں باجی جی آپ خود ہی دیکھ لیں۔۔ نور کے شاپر پکڑتے ہی گڈی وہاں سے چلی گی وہ دروازہ بند کر کے واپس صوفے پر آکر بیٹھی ۔۔ یکدم ہی اسکا موڈ اچھا ہو گیا تھا۔۔۔ وہ شخص بھلے ہی ناراض تھا مگر اسکی جانب سے غافل نا تھا ۔۔ اسنے شاپر کے اندر سے ڈبہ باہر نکالا اور ڈبے کو دیکھ اسکی حیرت کی انتہا نا رہی کیونکہ وہ ایک موبائل فون تھا۔۔۔ اس روز وہ غصے میں اپنا موبائل فون توڑ بیٹھی تھی تب سے اب تک اسے بارہا موبائل کی ضرورت محسوس ہوئی مگر وہ مسلسل ٹال رہی تھی۔۔۔ دل میں اس شخص کی قدر کچھ مزید بڑھی کیونکہ وہ کسی بھی قسم کے حالات میں اس سے بے خبر نہیں رہتا تھا۔۔۔
اسنے ڈبہ کھول کر اندر سے موبائل نکالا جب اسکے موبائل کی بپ بجی۔۔۔ امید ہے کہ تم اس موبائل کو اپنے غصے کی نظر نہیں کرو گی اور اپنے میرے درمیاں تلخی کے باعث اسے قبول کرنے سے منع نہیں کرو گی۔۔۔ دو دن بعد اسکی مختصر سی یہ تحریر پڑھ کر دل میں کہیں ہلچل سی مچی تھی۔۔۔ وہ شخص اس سے ناراض تھا مگر خود سے آگے بڑھ کر اسے منا لینے کا حوصلہ وہ خود میں مفقود پاتی تھی۔۔۔
_______
موسم خاصا ابر آلود تھا کچھ دیر پہلے سے ہلکی ہلکی کن من کن من ہو رہی تھی اسی لئے وہ کچھ دیر کے لئے انیکسی سے باہر نکلی گو کہ یہ تھی تو موسم سرما کی بارش مگر ٹھنڈی ٹھنڈی چلتی ہوا اسے بھلی لگ رہی تھی۔۔۔ انیکسی سے باہر لان میں ایک چکر مکمل کرتے ہی اسکے دانت بجنے لگے اسی لئے فوراً سے اندر بھاگی۔۔۔ ابھی وہ کچن میں جا کر اپنے لئے کافی پھینٹ رہی تھی جب اسے اپنی آنکھوں پر کسی کا لمس محسوس ہوا جیسے کسی نے اسکی آنکھوں پر ہاتھ رکھے ہوں۔۔۔ ایک پل کو دل دھک سے رہ گیا کیونکہ وہ انیکسی کا دروازہ بند کرنا بھول گی تھی مگر اس لمس میں ایک نرمی تھی۔۔۔اسنے ہاتھ سے اپنی آنکھوں پر موجود ہاتھوں کو ٹٹولا۔۔۔ نرم و نازک سے ہاتھ محسوس کرتے اسکے ہونٹوں ہر ایک مسکراہٹ دور گئ۔۔۔
زری۔۔۔ ارے بھابھی کیسے پہچان گئیں آپ۔۔۔ نور کی سرگوشی پر چہکتے ہوئے اسنے ہاتھ نور کی آنکھوں سے ہٹائے۔۔۔ نور نے بھی مسکراتے ہوئے پلٹ کر اسے گلے سے لگایا۔۔۔ کیسی ہو۔۔۔ اور کب آئی۔۔۔
بس ابھی کچھ دیر پہلے آئی بھابھی بھیا آفس گئے ہوئے ہیں اور امی سو رہی ہیں۔۔ وہ اچک کر اسکے سامنے موجود شلف پر بیٹھی اور پاس ہی پڑی ٹوکری سے سیب اٹھا کر کھانے لگی۔۔۔ گڈی بتا رہی تھی کہ امی کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں اور وہ دوائی کھا کر سوئی ہیں اس لیے پھر میں نے انہیں اٹھایا نہیں ۔۔۔ سوچا تب تک آپ سے مل آوں۔۔۔ بہت اچھا کیا تم نے جو آگی۔۔۔ بتاو کافی پیو گی۔۔۔ نور نے کافی دوبارہ سے پھینٹتے استفسار کیا۔۔۔ اوں ہنہہ۔۔۔ کافی نہیں چائے۔۔۔ اسنے شلف پر بیٹھے ہی پاوں جھلاتے دائیں بائیں چہرا ہلایا۔۔ اوکے چائے بناتی ہوں۔۔۔ نور نے کافی کا مگ دور کھسکاتے چولہے پر چائے کا پانی چڑھایا۔۔۔ اور سناو کیسی چل رہی لائف۔۔۔ نور مصروف سے انداز میں پانی میں پتی چینی ڈال کر اسکی جانب پلٹی۔۔۔
افف بھابھی رہنے دیں اس سوال کو یار کوئی اور بات کریں۔۔ اور پلیز اگر چائے کیساتھ کچھ کھانے کو ہے تو وہ بھی لیتی آئیے گا خالی چائے مجھ سے پی نہیں جاتی۔۔ زری ایک گہرا سانس خارج کرتی شلف سے اتری اور کچن سے باہر نکلتی گویا ہوئی۔۔۔ نور کی اس بات پر اسکا دل بھر آیا تھا۔۔۔ نور اسکے اندازو اطوار سے بری طرح کھٹکی۔۔۔ سب ٹھیک تو ہے نا زری۔۔۔ وہ معتجب سی مستفسر ہوئی۔۔۔ لیکن تب تک زری کچن سے نکل چکی تھی پانی کو ابال آتے دیکھ اسنے سرعت سے اس میں دودھ انڈیلا اور کیبنٹ کھول کر بعجلت کوکیز نٹس اور نمکو پلیٹ میں ڈالے تب تک چائے کو ابال آ چکا تھا اسنے چائے چھان کر ٹرے تیار کی اور سرعت سے باہر لاوئنج میں آئی جہاں زری صوفے پر چوکری لگا کر بیٹھی ریموٹ تھامے ایل ای ڈی چلا کر خود کو مصروف ظاہر کرنے کی بھرپور کوشیشوں میں مشغول تھی۔۔۔ زری ادھر دیکھو میری طرف سب ٹھیک ہے نا۔۔ نور نے میز پر ٹرے رکھی اور خود اسکے قریب بیٹھ کر اسکا رخ اپنی جانب کیا اتنے سے التفات پر ہی وہ اسکی گلے لگتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔
_____
