Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hala (Episode 35)

Hala By Umme Hania

زری اب وہ اور تم الگ تھوڑی نا ہو۔۔۔ ایک ہی ہو۔۔۔ میں تو تم دونوں کو ایک ساتھ خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔

ایسے دیکھیں گے آپ مجھے خوش۔۔۔ یوں بے جا پابندیاں لگا کر۔۔۔ بھیا کم سے کم آپ سے مجھے یہ امید نہیں تھی۔۔۔ بابا نہیں رہے اب میرے تو مطلب اب آپ سب مل کر میرے ساتھ یوں کریں گے۔۔۔۔ وہ حیرت زدہ سی چڑ کر گویا ہوئی اسکا صدما تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔ زری کیوں اتنا ایموشنل ہو رہی ہو۔۔۔۔ کہا کیا ہے آخر حدید نے تم سے ایک عبایہ پہننے کا اور تم نے اسے انا کا مسلہ بنا لیا ہے۔۔ گڑیا ایسے گھر نہیں بستے۔۔۔ تھوڑا بہت کمپرومائز ہر رشتے میں کرنا پڑتا ہے پھر ہی اس رشتے کی گاڑی توازن سے چل پاتی ہے۔۔۔۔ ورنہ ضد پر اتر کر دونوں طرف سے محض خسارا ہی اٹھانا پڑتا ہے۔۔۔ دریاب جانتا تھا وہ بہت نازک حساس اور جذباتی ہے۔۔۔ چھوٹی سے چھوٹی بات کو دل سے لگا لینے والی۔۔۔ تبھی تو عین موقع پر رشتہ ٹوٹ جانے کی وجہ سے وہ خود بھی ٹوٹ گئ تھی۔۔۔ مزید بابا کی وفات کے بعد سے تو وہ اور بھی حساس ہوگئ تھی تبھی دریاب نرمی سے اسکی برین واشنگ کرنے لگا۔۔۔

اسی لئے میں آپکے دوست سے شادی کرنے کے حق میں نا تھی بھیا۔۔۔ یہ کوئی نئ بات تو نہیں وہ شروع سے ہی اتنے سڑیل اور کھڑوس ہیں جنہیں دیکھ کر منہ میں کڑوے بادام کے گھل جانے کا احساس ہوتا ہے۔۔۔ زرش بدتمیزی نہیں۔۔۔ اپنے بچپنے سے باہر نکلو شادی شدہ ہو اب تم۔۔۔ اسکے ازلی لاابالی انداز میں تجزیہ کرنے پر دریاب سنجیدگی سے اسے ٹوکتا گویا ہوا۔۔۔۔

اچھی بھلی شادی ہو رہی تھی میری عین وقت رشتہ ٹوٹنے سے منگتوں کی طرح میری شادی حدید سے کروا دی آپ نے۔۔۔۔ اسی بات کا فائدہ اٹھا رہے ہیں وہ اب مجھے مینٹلی ٹارچر کر کے جیسے میں کوئی گری پڑی لڑکی ہوں۔۔۔ کاش آپ میری شادی حدید سے نہ۔۔۔

زرششششش۔۔۔۔ اب تم انتہا کر رہی ہو۔۔۔ زرش اپنے ہی دکھوں میں غرق سوں سوں کرتی چہرے پر بار بار پھسلتے آنسو ہاتھ کی پشت سے صاف کرتی اپنی شکایتوں کی پٹاری کھول کر بیٹھی تھی جب دریاب کے غرانے پر شاکڈ ہوتی خود بھی اچھل پڑی۔۔۔

خبردار اگر دوبارہ اتنی گھٹیا بات اپنی زبان سے نکالنے کی کوشیش بھی کی تم نے تو۔۔۔۔ کب ختم ہو گا تمہارا بچپنا۔۔۔ اندازہ ہے تمہیں اگر تمہارے یہ نادر خیالات حدید سن لے تو کیسا محسوس کرے۔۔۔ تم اس سے شادی کر کے ناخوش ہو۔۔۔ کیا تمہیں نہیں لگ رہا کہ تم ایک بہترین شخص کو پا کر ناشکری کی مرتکب ہو رہی ہو۔۔۔ اندازہ ہو رہا ہے مجھے کہ حدید تمہارے ساتھ کیسے گزارا کر رہا ہوگا۔۔۔ اسکے ہر دم بجھے رہنے اور سنجیدہ ہونے کی کچھ کچھ وجہ مجھے سمجھ آ رہی ہے۔۔۔

ہنہہ وہ کب بجھے اور سنجیدہ نہیں ہوتے کبھی خوش بھی دیکھا ہے انہیں گویا ہر وقت کوئلے چباتے ہوں۔۔۔ دریاب کو غصے سے اس ہر پل پڑتا دیکھ وہ منہ کے زاویے بناتی محض سوچ کر ہی رہ گئ کہنے کی ہمت نہیں کہاں تھی اب۔ ۔ مزید اپنی شامت تھوڑی نا بلوانی تھی۔۔۔۔ زری ہوش کے ناخن لو گڑیا۔۔۔ تم مجھے میری جان سے بڑھ کر عزیز ہو۔۔۔ لیکن وہیں پر حدید بھی مجھے کچھ کم عزیز نہیں۔۔۔ وہ ایک بہت اچھی لونگ اور کیئرنگ لڑکی دیزور کرتا تھا جو ہر دم اسکا خیال رکھتی اسے اسکی ذات کے خول سے باہر نکالتی۔۔۔

کہنا کیا چاہتے ہیں آپ میں اچھی نہیں ہوں۔۔۔وہ مجھے ڈیزور نہیں کرتے۔۔۔ سختی کے بعد اب دریاب کی آواز میں جیسے التجا اتر آئی تھی جب اسکی یہ بات سنتی وہ ٹھٹک کر ماتھے پر شکنیں لاتی گویا ہوئی۔۔

زری گڑیا تم بہت اچھی ہو اتنی کہ دنیا میں میری بہن سے زیادہ اچھا اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔۔ لیکن اب ایک اچھی بہوی بننے کا وقت ہے۔۔۔ حدید نے بچپن میں اپنے ماں باپ کو کھویا تھا تب سے ہی وہ اپنی ذات کے خول میں بند سا ہوگیا ہے۔۔۔ ہر چیز اپنے آپ تک محدود رکھنے والا۔۔۔ کام سے کام رکھنے والا۔۔۔۔سوائے میرے اسکا کوئی اور دوست نہیں ہے۔۔۔ جانتا ہوں کہ وہ تھوڑی ریزرو نیچر کا مالک ہے لیکن تمہاری تھوڑی سی توجہ اور محبت اسے واپس پہلے جیسا بنا دے گئ۔۔۔ بہت معذرت گڑیا لیکن اس معاملے میں میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔۔۔ تم بیوی ہو اسکی اور تمہیں اسکی بات ماننی پڑے گی۔۔۔ کامیاب ازواجی زندگی گزارنے کے دو ہی اصول ہیں یا تو اپنے پارٹنر کو اپنے رنگ میں رنگ لو یا پھر خود اسکے رنگ میں رنگ جاو۔۔۔۔

آپکی اتنی لمبی تقریر کو اگر مختصر کروں تو مطلب مجھے وہ عبایہ پہننا ہی پہننا ہے۔۔۔ دریاب کو مسلسل حدید کی حمایت میں بولتا سن وہ چڑ کر گویا ہوئی۔۔۔۔ اتنا سمجھانے کے بعد بھی زرش کو وہیں عبایہ پر ہی اٹکا دیکھ دریاب کا دل چاہا سامنے دیوار پر اپنا سر دے مارے۔۔۔۔

آپ نے بالکل ٹھیک کہا بھیا آپ اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتے یہ میرا اور حدید کا معاملہ ہے میں خود دیکھ لوں گی۔۔۔ اپنی بات کہتے ہی زرش نے بنا دریاب کی بات سنے کھٹاک سے فون بند کر دیا۔۔۔ اب وہ بیڈ پر التی پالتی مارے بیٹھی موبائل دونوں ہاتھوں میں تھام کر ٹھوڑی سے لگائے سنجیدگی سی دریاب کی کہی باتیں سوچ رہی تھی۔۔۔۔

******

دریاب نے ٹوں ٹوں کرتے موبائل کو جزبر ہوتے جیب میں ڈالا اور کوٹ درست کرتا وہ کمرے سے باہر نکلنے والا تھا جب زہرا بیگم کمرے میں داخل ہوئیں۔۔۔ ہاتھ میں ناشتے کی ٹرے تھام رکھی تھی جسے انہوں نے آتے ہی صوفے کے سامنے موجود میز پر رکھا۔۔۔ دریاب بیٹا آج آپ ناشتے کے لئے ڈائینینگ ٹیبل پر نہیں آئے۔۔۔ مجھے پتہ تھا آج پھر کسی وجہ سے لیٹ ہو تم اور اسی لئے بنا ناشتے کئے آفس جانے کا ارادہ رکھتے ہو اسی لئے تمہارے لئے ناشتہ یہیں لے آئی کیونکہ تمہیں پتہ ہے کہ میں تمہیں بنا ناشتے کے گھر سے نکلنے نہیں دوں گی۔۔۔ کمرے میں آتے ہی وہ بنا دریاب کی سنے مسکرا کر کہتیں خود بھی صوفے پر بیٹھیں اور اسے بھی بیٹھنے کو کہا۔۔۔ دریاب نے مسکرا کر ماں کو دیکھا جو واقعی اسے بھوکے پیٹ گھر سے نکلنے نہ دیتیں۔۔۔

افف امی واقعی آج لیٹ ہو گیا تھا آپ کا تکا ٹھیک تھا۔۔ وہ ایک گہری سانس خارج کر کے انکے پاس ہی صوفے پر براجمان ہوا اور ٹرے اپنے پاس کھسکا کر ناشتہ کرنے لگا۔۔۔ آپ نے ناشتہ کیا ماں۔۔۔ پہلا نوالہ تورٹے ہی اسنے سب سے پہلے ان سے استفسار کیا۔۔۔ ہاں بیٹا میں کر چکی ہوں۔۔ انکے کہنے پر دریاب نے مطمئں ہو کر نوالہ منہ میں ڈالا۔۔ بیٹا تم نے مجھے کل رات ہالہ کے بارے میں کچھ بتایا نہیں مجھے اسکے گھر کا ایڈریس چاہیے۔۔۔ ماں کی بات سن کر زرا کی زرا اسکے ہاتھ ٹھٹھکے مگر وہ جلد ہی خود پر قابو پا گیا۔۔۔

کیا ہو گیا ہے آپکو امی۔۔۔ کیوں میری دوسری شادی کروانا چاہتی ہیں آپ۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا ہلکے پھلکے انداز میں گوہا ہوا۔۔۔

اس لئے بیٹا کیونکہ تم اس سے محبت کرتے ہو۔۔۔ تمہاری خوشی اس سے منسوب ہے۔۔۔ زہرا بیگم نے محبت سے اسکے بال سنوارے۔۔۔

امی بلاشبہ میں اس سے محبت کرتا ہوں لیکن اسکے باوجود میں ابھی دوسری شادی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔۔۔ دریاب ماں کا وہی ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامتے التجائیہ گویا ہوا۔۔۔

مطلب۔۔۔ زہرا بیگم کے ماتھے پر شکنیں ابھریں۔۔۔ مطلب یہ کہ باپ کھو چکا ہوں اور ماں کو کسی صورت دکھ نہیں دینا چاہتا۔۔۔ نادانستگی میں بھی کوئی کام ایسا نہیں کرنا چاہتا جس سے آپ ہرٹ ہوں۔۔۔ اس لئے عاجزانہ التجا ہے آپ سے ماں خدارا مجھے سمجھنے کی کوشیش کریں۔۔۔ آپکا شمار ان ماوں میں ہوتا ہے ماں جو بچے کا چہرا دیکھ کر اسکے اندر کا حال جان جاتی ہیں۔۔۔ امی میں ایک بیوی کے حقوق ادا نہیں کر پا رہا۔۔۔ دوسری شادی کر کے میں یوں کھلے عام دونوں بیویوں میں کھلا تضاد کر کے گناہ کبیرہ کا مرتکب نہیں ہو سکتا ماں۔۔۔

مانا کہ اسلام میں مرد کو دو کیا چار شادیوں کی اجازت ہے مگر توازن کیساتھ ۔۔ میں اپنی دو بیویوں میں توازن قائم نہیں کر سکتا لحاظہ میں اس گرداب میں نہیں پھنسنا چاہتا۔۔ آپ سے التجا ہے ماں کہ دوبارہ ہالہ کا ذکر میرے سامنے مت کریئے گا۔۔۔ وہ عقیدت سے ماں کا ہاتھ چوم کر اسے دونوں آنکھوں سے لگاتا انہیں خداحافظ کہہ کراٹھ کے کمرے سے نکل گیا جبکہ پیچھے زہرا بیگم ساکت و جامد بیٹھی رہ گئیں۔۔۔

******

دوبارہ نور کی آنکھ تقریباً صبح دس بجے کھلی تھی ۔۔ آنکھیں کھولنے کے بعد وہ بیڈ پر چت لیٹی کتنی ہی دیر تک بلاارادہ ہی دریاب کو سوچے گئ۔۔۔ وہ جتنا اسے نا سوچنے کا ارادہ کرتی وہ اتنا ہی بنا ارادہ اسکی سوچوں میں چلا آتا۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ فریش ہو کر لاوئنج میں آئی تو خود کو کافی بہتر محسوس کر رہی تھی۔۔۔ صوفے پر بیٹھتے ہی اسکی نظر سب سے پہلے اسی کھڑکی پر پڑی جو اب اچھے سے مقفل تھی۔۔۔ ایک مسکراہٹ نور کے لبوں کو چھو گئ۔۔۔ کل سے اب تک وہ اپنا اچھا خاصا وقت ضائع کر چکی تھی اب وہ سنجیدگی سے لیپ ٹاپ کھول کر ہر طرف سے بے نیاز ہو کر اپنا کام کر اپنا کام کرنے لگی۔۔۔ مسلسل کھٹاکھٹ لیپ ٹاپ کی کیز دبا دبا کر کام کرتے اسے دو گھںٹے ہو چکے تھے جب انیکسی کے دروازے پر دستک کی آواز پر اسنے بے ساختہ سر اٹھا کر سامنے لگے وال کلاک پر وقت دیکھا ۔۔۔ جو دن کے بارہ بجا رہا تھا۔۔۔ ایک گہری سانس خارج کر کے وہ دروازہ کھولنے کے لئے اٹھی۔۔۔

دروازہ کھولتے ہی اسنے سامنے گڈی کو کھڑا پایا ۔۔۔ہاتھ میں کھانے کی ٹرے تھامے مکمل دانتوں کی نمائش کرتی ہوئی وہ سانولی رنگت کی پندرہ سولہ سالہ لڑکی تھی۔۔۔ نور نے بھی اسے دیکھتے مسکرا کر اسے اندر آنے کا راستہ دیا۔۔۔ یہ وہی لڑکی تھی جو نور کی شادی کے بعد اسے اسکے کمرے تک چھوڑنے گئ تھی۔۔۔

کیسی ہیں آپ نور باجی۔۔ صبح دریاب بھیا مجھے آپکو دوپہر میں کھانے دینے جانے کا کہہ کر گئے تھے۔۔۔ اور یہ بھی کہ آپکو کھانا کھلانے کے بعد تب تک آپکے پاس رکوں جب تک آپ اپنی دوائی نہیں کھا لیتیں۔۔ گڈی مسلسل بولتی اندر آ رہی تھی۔۔ شاید وہ تھی ہی خاصی باتونی۔۔۔ بیٹھیں نور باجی پہلے آپ کھانا کھائیں۔۔۔ پتہ ہے دریاب بھیا کا فون آیا تھا پوچھنے کے لئے کہ میں آپکو کھانا دے آئی کہ نہیں میں نے ان سے کہا تھا کہ ابھی تو لنچ میں کافی وقت ہے تو کہنے لگے وہ بیمار ہے اس لئے پہلے اسے کھانا دے کر اسے دوائی کھلوا کر واپس آو۔۔۔ گڈی میز پر ٹرے رکھتی پاس کھڑی نور سے گویا ہوئی تو نور دریاب کی اسقدر فکر مندی پر مسکرا کر صوفے پر بیٹھی۔۔۔ وہ شخص دل کو پیارا تو پہلے بھی تھا مگر اب تو جیسے اسکی زندگی کا لازمی جز بننے لگا تھا۔۔ وہ اپنے ہر ہر عمل سے اسکے دل کی مزید اونچی سند پر براجمان ہوتا جا رہا تھا۔۔۔

نور باجی آپ اتنی پیاری تو ہیں ۔۔ اتنا پیارا بولتی ہیں پر پتہ نہیں زہرا بیگم کیوں آپکو پسند نہیں کرتیں۔۔۔ نور کے سامنے بیٹھی پٹر پٹر بولتی وہ لڑکی یکدم ہی شوخی سے گویا ہوتی افسردہ ہوئی تو نور نے ٹھٹک کر اسے دیکھا۔۔۔ کیا مطلب۔۔۔ نور الجھی۔۔ مطلب یہ ہی نور باجی کہ وہ کل رات کھانے کی میز پر دریاب بھیا سے انکی دوسری شادی کروانے کا بول رہی تھیں۔۔۔ کسی لڑکی سے جو انکے دفتر میں کام کرتی ہے اور دریاب بھیا بھی انہیں پسند کرتے ہیں۔۔۔ وہ رازدرانہ انداز میں نور کے مزید قریب ہو کر گویا ہوئی۔۔۔ نور بے یقین نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی ہاتھ میں تھاما نوالہ وہیں ساکت رہ گیا۔۔وہ پلک تک جھپکنا بھول گئ۔۔۔ گویا فضا میں موجود ہر چیز ساکت ہو گئ ہو۔۔۔ دل ایک بار زور سے ڈھرکا تھا۔۔۔ جیسے سینے میں موجود پنجرے میں پھڑپھڑایا ہو۔۔۔ مجھے تو سن کر بہت افسوس ہوا باجی جی سچی میں۔۔۔ گڈی بس میں نے کھانا کھا لیا ہے تم جاو۔۔۔ گڈی مزید بھی ناجانے کیا کیا کہہ رہی تھی مگر اسکی بھوک یکدم ہی اڑ گئ تھی۔۔۔ وہ بے دلی سے کھانے کی ٹرے پیچھے کھسکاتی گویا ہوئی۔۔۔

پر نور باجی ابھی تو آپ نے آدھا کھانا بھی نہیں کھایا۔۔۔ یکدم ہی گڈی کی زبان کو بریک لگا تھا وہ حیرت زدہ سی گویا ہوئی۔۔۔

کہا نا گڈی بس مزید بھوک نہیں ہی۔۔۔ نور نے اپنا ماتھا مسلہ۔۔۔ سر یکدم ہی بے طرح درد کرنے لگا تھا۔۔۔ اچھا نور باجی پھر آپ دوائی تو کھا لیں ۔۔۔ حیرت زدہ سی گڈی برتن سمیٹتی گویا ہوئی۔۔ میں خود ہی کھا لوں گی گڈی تم جاو۔۔۔ نور ناجانے کس دل سے خود پر ضبط کئے بیٹھی تھی وہ بس اس وقت تنہائی کی خواہاں تھی۔۔۔

پر نور باجی وہ دریاب بھیا۔۔۔ گڈی ی ی ی ی۔۔۔ بولا نا بعد میں کھا لوں گی۔۔۔ تم جاو۔۔۔ گڈی منمناتے ہوئے بول رہی تھی جب نور غصے سے اسکی جاب دیکھتی سنجیدگی سے گویا ہوئی۔۔

جی اچھا نور باجی۔۔۔ گڈی کھانے کی ٹرے اٹھا کر دروازے کی جانب بڑھی۔۔۔

رکو۔۔۔ نور کی آواز پر گڈی نے پلٹ کر اسکی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔۔۔۔

پھر دریاب نے آنَٹی سے کیا کہا۔۔۔ مزید خود پر ضبط نا کرتے وہ پوچھ بیٹھی۔۔۔ وہ خاموشی سے اٹھ کر چلے گئے نور باجی کیونکہ انکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔۔ لیکن زہرا بی بی جی کہہ رہی تھیں کہ مجھے صبح اس لڑکی کا ایڈریس دینا میں نے اسکے گھر رشتہ لے کر جانا ہے۔۔

ٹھیک ہے تم جاو۔۔۔ گڈی کے جاتے ہی وہ اپنا درد سے پھٹتا سر دونوں ہاتھوں میں زور سے بھینچتی کراہ کر رہ گئ۔۔۔۔ نگاہوں میں دریاب کے رات بھر کے سبھی التفات کسی فلم کی مانند چلتے اسکے غصے کا گراف مزید بڑھا رہے تھے۔۔۔ تبھی اسکے موبائل پر دریاب کی کال آنے لگی۔۔۔ اسنے موبائل پر دریاب کالنگ کا نام دیکھ کر موبائل پوری قوت سے سامنے دیوار پر مارا۔۔۔ دیوار پر لگ کر موبائل زمین بوس ہوتا کئ ٹکروں میں بٹا۔۔۔

تم نے اپنی فریسٹریشن بھی مجھ ہی پر نکالی ہے اپنی خوشیاں بھی مجھ ہی سے شیئر کرنی ہیں۔۔۔ ہوا کے دوش پر آواز سماعت سے ٹکرانے ہروہ اپنے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھتی شدت سے رو دی۔۔۔ جھوٹا۔۔۔ جھوٹا۔۔۔۔ جھوٹا۔۔۔۔

*******