Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hala (Episode 49)

Hala By Umme Hania

میں بہت شرمندہ ہوں دریاب پلیز مجھے معاف کردو مجھ سے زرش کو ڈیل کرنے میں غلطی ہوگئ۔۔ مجھے سمجھنا چاہیے تھا کہ ہر انسان کو ایک ہی طرح سے ڈیل نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ دریاب خاموشی سے کار ڈرائیو کر رہا تھا جب اسکے ساتھ پیسنجر سیٹ پر بیٹھا حدید شدید بے چینی و بے بسی سے اپنا ماتھا مسلتا گویا ہوا۔۔

مجھ سے معافی مانگنے کی بجائے اس سے مانگنا جس کے ساتھ تم زیادتی کے مرتکب ہوئے ہو۔۔۔ اسے منا لینے میں کامیاب ہو پائے تو سب ٹھیک ہے حدید ورنہ اس بار میں اپنی گڑیا کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہونے دوں گا۔۔۔ میں ہر حال میں اسکے ساتھ ہوں اور اسی کے فیصلے کو مقدم جانوں گا۔۔۔ لب بھینچے سامنے ونڈ سکرین پر نگاہیں جمائے دریاب سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔ گاڑی ہواؤں سے باتیں کر رہی تھی۔۔۔ راستے میں دریاب نے کئ ایک لوگوں سے رابطہ کیا۔۔۔ وہ پولیس کو اس سب میں انوالو نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ بات زیادہ پھیلتی آخر معاملہ جان سے پیاری بہن کا تھا۔۔۔ اسی لئے اسنے پڑائیویٹ انویسٹیگیٹر ہائر کئے تھے اور اب وہ دونوں مسلسل ان سے رابطے میں تھے۔۔۔ تقریباً آدھے گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد دریاب نے اپنے فارم ہاوس کے سامنے گاڑی روکی۔۔۔ گاڑی روکتے ہی دونوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔۔ دونوں کی نگاہوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔۔

کون ہو تم لوگ اور مجھے یہاں کیوں لائے ہو۔۔۔ اندر داخل ہوتے ہی چند الفاظ انکی سماعت سے ٹکرائے۔۔۔ لاوئنج میں ایک شخص ندھال سا خوفزدہ صورت لئے کرسی پر بیٹھا تھا۔۔ ان دونوں کو اندر آتا دیکھ اسکا رنگ فق ہوا جو اب اسکے بالکل سامنے کرسیاں کھینچ کر بیٹھے تھے۔۔۔ وہاں پر پہلے سے موجود شخص ان دونوں کو وہاں پر بیٹھتے دیکھ باہر نکل گئے تھے۔۔۔

زرش کہاں ہے۔۔ حدید نے خود پر ضبط کرتے سنجیدگی سے استفسار کیا۔۔۔

زر۔۔۔ زرش۔۔۔ زرش ۔۔۔ مجھے۔۔اس سے پہلے کہ وہ لڑکھڑاتے لہجے میں گویا ہوتا کچھ کہتا جب حدید نے طیش میں کھڑے ہوتے ایک گھونسا پوری قوت سے اسکی ناک پر جڑا توازن برقرار نا رکھ پاتے وہ شخص کرسی سمیٹ پیچھے کو الٹا۔۔۔ دوبارہ میری بیوی کا نام اپنی گندی زبان سے ادا مت کرنا خونخوار نگاہوں سے اسے تکتا انگلی اٹھا کر وارن کرتا وہ پھنکارا ۔۔۔ دریاب نے اسے لمحوں میں آپے سے باہر ہوتا دیکھ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے حوصلہ رکھنے کو بولا اور خود اس شخص کو اسکے کالر سے کھینچ کر اپنے مقابل کھڑا کیا۔ ۔جو بولا جائے اب محض اسکا جواب دینا۔۔۔ تم نے حدید کے آفس میں آ کر جو بکواس کی۔۔۔

جھوٹ تھا وہ ۔۔۔ سب جھوٹ تھا۔۔۔ دریاب کے لہجے میں ازدھوں سی پھنکار تھی۔۔۔ وہ اپنی بات مکمل بھی نا کر پایا تھا جب وہ شخص گھگھیاتے ہوئے گویا ہوا۔۔۔

یہ شخص اس شخص سے بالکل مختلف تھا جو اتنے ڈھرلے سے آ کر حدید کے آفس میں زرش کے حوالے سے بکواس کر کے گیا تھا۔۔۔ وجہ شاید حدید کے بھیجے گئے وہ بندے تھے جو اسے یہاں تک لائے تھے۔۔۔ وہ شاید ان لوگوں کو اتنا خطرناک تصور نہیں کر رہا تھا۔۔۔ اب یوں خود کو اتنے خطرناک لوگوں کے بیچ گرا دیکھ جسم سے روح پرواز ہوتی محسوس ہو رہی تھی اسے جو وہ یوں گھگھیا رہا تھا۔۔۔

زر۔۔۔ اسکا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔۔ وہ زرش کا نام لیتے لیتے ٹھٹھک کر رکا۔۔۔ میرا اس سے کبھی کوئی رابطہ نہیں ہوا۔۔۔ بس میں اسے آج تک بھول ہی نہیں پایا۔۔۔ ہمارا رشتہ میری ماں کی ضد کی نظر ہوا تھا۔۔ اس لئے میں اسے دوبارہ پانا۔۔۔

آہ۔۔۔آہ۔۔۔ اسکا اتنا کہنا ہی اسکے لئے عذاب بنا تھا جب حدید نے ایک جھٹکے سے اسکا گریبان دریاب کے ہاتھ سے جھپٹا تھا۔۔۔ وہ وحشی درندہ بنا اس پر ٹوٹا تھا۔۔۔ اسکی چیخ وپکار سے گھر کے درو دیوار تک لرز اٹھے تھے۔۔۔ تمہاری جرات کیسے ہوئی اتنی گھٹیا اور رزیل حرکت کرنے کی۔۔۔ حدید اپنی سدھ بدھ کھوتا کوئی دیوانہ ہی لگ رہا تھا۔۔

بس کرو حدید چھوڑ دو اسے۔۔۔ چند ہی لمحوں میں حدید اسے ادھ موا کر چکا تھا۔۔۔ دریاب نے آگے بڑھ کر اس بپھرے ہوئے طوفان کو تھاما اور باہر کھڑے آدمیوں کو اندر بلایا۔۔۔

اسے وہیں چھوڑ آو جہاں سے اسے لائے تھے۔۔۔ ان آدمیوں سے کہتے وہ واپس حدید کی جانب پلٹا جو سر تھامے بے بسی سے صوفے پر بیٹھا تھا۔۔۔

اللہ کرے حدید کہ انویسٹیگیٹرز کو صبح تک زرش کا پتہ چل جائے ورنہ جتنی وہ جذباتی ہے اللہ نا کرے کہ وہ جذباتیت میں اپنے ساتھ ہی کچھ غلط کر بیٹھے۔۔۔ دریاب کی پرسوچ سنجیدہ آواز حدید کے جسم سے اس کی روح تک کھینچ لے گئ تھی۔۔۔ اسنے خالی خالی نگاہوں سے دریاب کی جانب دیکھا۔۔۔ تبھی موبائل فون کی آواز پر حدید اپنے موبائل کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔ فون حویلی سے تھا ۔۔۔ رات کے اس پہر فون۔۔۔ اسکا دل ڈھرکا۔۔ پریشانی سے اسنے فون اٹھا کر کان سے لگایا۔۔

حدید بھیا دادی کی طبیعت بہت خراب ہے پلیز آپ جلدی سے حویلی آ جائیں۔۔۔ ایئر پیس سے ابھرتی ہادیہ کی گھبرائی آواز حدید کے اوسان خطا کر گئ۔۔۔ ہادیہ تم فکر مت کرو میں بس پہنچتا ہوں۔۔۔ بوکھلاہت میں فون بند کرتے اسنے دریاب کی جانب دیکھا۔ دادی ٹھیک نہیں مجھے حویلی جانا ہے۔۔۔ اسکا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا۔۔۔ ایک پریشانی ختم نہیں ہوتی تھی کہ دوسری شروع۔۔۔ حواس مختل ہو رہے تھے۔۔۔ فکر مت کرو حدید تم جاو۔۔۔ یہاں میں مینج کر لوں گا۔۔۔ تم اپنے ساتھ ڈرائیور لے جاو۔۔۔ دریاب نے اسکی ابتر ہوتی ذہنی حالت دیکھ پریشانی سے کہا۔۔۔

نہیں اسکی ضرورت نہیں میں مینج کر لوں گا۔۔۔ تم بس مجھ سے رابطے میں رہنا اور جیسے ہی زری کا کچھ پتہ چلے مجھے انفارم کر دینا وہ بعجلت کہتا دریاب کا کندھا تھپتھپا کر باہر کو بھاگا۔۔۔

*****

وہ لب بھینچے نگاہیں سامنے مرکوز کئے ڈرائیونگ کر رہا تھا جب اسکے میسج کی ٹیون بجی۔۔ اسنے چونک کر موبائل اٹھا کر واٹس ایپ کھولی۔۔۔ آپ واقعی جانتے ہیں کہ دریاب اس وقت کہاں ہے۔۔۔ میسج پڑھتے ہی اسنے بے ساختہ اپنی آنکھیں بند کئے سر پر ہاتھ مارا۔۔۔ اسے اپنی سنگین غلطی کا احساس ہوا۔۔۔ اسنے موبائل کی سکرین روشن کرتے اس پر وقت دیکھا جو رات کا ڈیرھ بج رہا تھا۔۔۔ وہ اسے کھانے پر انتظار کرنے کا بول کر آیا تھا پر نہیں جانتا تھا کہ اسے یہاں اتنی دیر لگ جائے گی اور ان بکھیروں میں پر کر وہ اسے فراموش کر گیا تھا۔۔۔ وہ اس وقت سے اسکا انتظار کر رہی تھی اور اب بلآخر تھک ہار کر اسنے دریاب سے پوچھنے کی بجائے ڈی کے سر سے استفسار کیا۔۔۔

اپنی کولیگ کے ساتھ ڈیٹ پر ہی ہوگا۔۔۔ اپنی یاداشت پر افسوس کرتے اسنے گاڑی کی سپیڈ بڑھاتے میسج ٹائپ کیا۔۔۔ اب اسے خود پر افسوس ہو رہا تھا کہ اگر مصروف ہی تھا تو کم از کم اسے انفارم تو کر دیتا تاکہ وہ کھانا ہی کھا لیتی لیکن ہریشانی میں بھی اسنے الٹا جواب ہی دیا تھا۔۔۔ دوسری طرف سے میسج سین ہو گیا تھا مگر اسنے دوبارہ کوئی رپلائے نا کیا۔۔۔ اب وہ اسے میسج کرنے کی بجائے اسکے روبرو جا کر ہی بات کرنا چاہتا تھا۔۔۔ گاڑی کار پورج میں آ کر روکتے وہ بعجلت کار سے باہر نکالا۔۔۔

گگ*****

نور دریاب کے جانے کے بعد کافی دیر تک اسکا انتظار کرتی رہی لیکن جب گھڑی گیارہ کا ہندسہ عبور کر گئ تو وہ ایک نظر سوئی ہوئی زہرا بیگم کو دیکھ کر ان پر لحاف درست کرتی کمرے سے باہر نکل آئی۔۔۔ لاوئنج میں ادھر سے ادھر چکر کاٹتی وہ بے چینی سے دریاب کی واپسی کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔ بھوک شدید لگی تھی مگر اسے بھی آج ضد تھی کھانا کھائے گی تو دریاب کے ساتھ ہی ورنہ نہیں کھائے گی۔۔۔ پہلے وہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر اتنی حساس نا تھی پہلے بھی اکثر دریاب رات کو دیر سے ہی گھر آتا مگر اسنے کبھی اتنا محسوس نا کیا تھا۔۔۔ مگر اب ساری بات ہی ڈی کے سر کی تھی جو اپنے ہر ہر عمل سے ہر ہر بات سے اسے دریاب کے بارے میں مزید حساس بنا رہے تھے۔۔۔ ڈی کے سر کی باتوں سے وہ نامحسوس انداز میں دریاب کے لئے مزید پوزیسو ہو رہی تھی۔۔ اندر کہیں جلن اور رقابت کے جذبات پیدا ہو رہے تھے۔۔۔ پہلے جو خود پر بے حسی کا خول چڑھا کر ہر چیز سے بے نیاز ہو جاتی اب وہ خول چٹخنے لگا تھا۔۔ ڈی کے سر جتنا اسے دریاب کے خلاف بھڑکانے کی کوشیش کرتے اتنا ہی وہ دریاب کے مزید قریب ہوتی اسکی توجہ کی متمنی ہونے لگی تھی۔۔۔ آج بھی سارا قصور ہی ڈی کے سر کا تھا نا عین وقت پر اسے میسج کرتے نا وہ دریاب کے بارے میں اتنی حساس ہوتی۔۔۔ اب دل میں طرح طرح کے خیالات آ رہے تھے۔۔۔ ہونٹ چباتی وہ مسلسل پیدل مارچ کر رہی تھی۔۔۔ بس ابھی کے ابھی دریاب کو دیکھنا چاہتی تھی۔۔ لاکھ چاہنے کے باوجود بھی وہ دریاب کو فون نا کر سکی۔۔۔ جب گھڑی نے ایک کا ہندسہ بھی عبور کیا تو وہ پیدل مارچ کرتی تھک ہار کر صوفہ پر آ کر بیٹھی۔۔۔ کچھ بھوک اور کچھ چل چل کر ہلکان ہوتی تھک کر وہ صوفے کی پشت سے سر ٹکا گئ۔۔ آنکھیں خودبخود ہی بند ہونے لگی تھی۔۔۔ جب کچھ سوچتے اسنے ڈی کے سر کو میسج کیا۔۔۔ تھی تو غیر اخلاقی حرکت کسی کو اتنی رات میں میسج کرنا مگر کیا کرتی کسی توڑ سکون بھی تو مل نہیں رہا تھا۔۔۔ لمحوں میں اس کا رپلائے آیا۔۔۔ مطلب وہ بھی ابھی جاگ ہی رہا تھا۔۔۔ ایک لائن کا میسج پڑھتے اسکے دل کو کچھ ہوا۔۔ اس نے کئ بار خالی خالی نگاہوں سے اس میسج کو دیکھا۔۔۔ ناجانے کیوں دل ماننے سے انکاری تھا۔۔۔ کیسا یہ اعتماد کا رشتہ جڑا تھا کہ وہ اتنی رات میں دریاب کی ایک نامحرم لڑکی کیساتھ موجودگی سے انکاری تھی۔۔۔ وہ جو رشتوں کے تقدس کا اتنا خیال رکھتا تھا۔۔۔ اپنے سے زیادہ اپنوں سے وابسطہ لوگوں کی فکر میں ہلکان رہتا تھا وہ حالات کے موافق ہونے تک محرم رشتے کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی کبھی لڑکھڑایا نہیں تھا کبھی اسکی جانب مائل نہیں ہوا تھا۔۔۔ وہ اتنے شفاف کرداد کا مالک تھا کہ دل نے کسی صورت ڈی کے سر کی بات کو اہمیت نا دی تھی۔۔۔

یہ ہی سب سوچتی وہ وہیں بیٹھی بیٹھی نیند کی وادیوں میں کھو گئ۔۔۔

*****

دریاب بعجلت داخلی دروازہ وا کر کے اندر داخل ہوا تِو اس جان جہاں کو وہیں صوفے ہر ہی نیم دراز دیکھ کر ٹھٹک کر رکا۔۔ اسے یوں غیر آرام دہ حالت میں دیکھ کر پشمانی کچھ مزید بڑھی۔۔۔ اسے ہی نگاہوں کے حصار میں رکھے وہ کچن کی جانب بڑھا۔۔ جہاں پڑے صاف شفاف برتن اسکا منہ چڑا رہے تھے۔ مطلب اسکا شک بالکل درست تھا واقعی اسنے کھانا نہیں کھایا تھا۔۔۔ اسنے خاموشی سے اوون میں کھانا گرم کیا اور ٹرے میں سبھی چیزیں سلیقے سے رکھ کر باہر آیا۔۔۔ ٹرے نور کے سامنے موجود میز پر رکھی اور خود اسکے پاس ہی صوفے پر براجمان ہوا۔۔۔

نور اٹھو چلو کھانا کھاو شاباش۔۔۔ دریاب نے اسکے چہرے پر بکھرے بالوں کو دائیاں ہاتھ بڑھا کر محبت سے کان کے پیچھے اڑسا۔۔۔ ایک نامحسوس لمس پا کر نور نے آہستگی سے آنکھیں وا کی۔۔۔ وہ کئ لمحے اپنے پاس دریاب کو غیر دماغی سے دیکھتی رہی۔۔۔

کھانا کھاو نور دریاب نے نرمی سے کہتے چاول پلیٹ میں ڈالے تو نور نے چونک کر میز کی جانب دیکھا۔۔۔ وہ جیسے ابھی ہوش میں آئی تھی۔۔۔ دریاب نے چاولوں کا چمچ بھر کر نور کے منہ کے پاس کیا۔۔۔ وہ حیرت و استعجاب سے دریاب کو دیکھتی سیدھی ہو کر بیٹھی اور آہستگی سے منہ کھولا۔۔

ایم سوری نور دراصل حدید کے ساتھ کام میں الجھ کر وقت کا پتہ ہی نہیں چلا اور آتے آتے اتنی دیر ہو گئ۔۔۔ وہ اسے وضاحت دیتا ساتھ ساتھ اسے کھانا بھی کھلا رہا تھا۔۔۔ جیسے اپنے گزشتہ عمل کا مداوا کر رہا ہو۔۔۔ نور اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ ناجانے کیوں دل چاہا کہ دل اسکی ہر بات ہر آنکھیں بند کر کے ایمان لے آئے۔۔۔ میں خود کھاتی ہوں آپ بھی کھانا کھائیں۔۔۔ نورنے دوسرا چمچ اٹھاتے اسے کہا کیونکہ وہ دیکھ رہی تھی کہ دریاب صرف اسے ہی کھلا رہا تھا جبکہ خود نہیں کھا رہا تھا۔۔۔ دریاب مسکراتے ہوئے خود کھانا کھانے لگا۔۔۔

چائے پیں گے کھانے کھانے کے بعد نور نے برتن اکھٹے کرتے استفسار کیا۔۔۔ ہمم دریاب نے اسے دیکھتے ہی سر ہاں میں ہلایا اور دونوں ہاتھ فولڈ کرکے سر کے پیچھے رکھتا صوفے کی پشت سے کمر ٹکا گیا۔۔۔

نور کو کچن میں گئے تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی جب اسکا موبائل بپ ہوا۔۔۔

اسنے موبائل اٹھاتے واٹس ایپ کھولا۔۔۔ مجھے آپکی کسی بات کا یقین نہیں۔۔۔ میرے دریاب ایسے نہیں۔۔۔ مسیج پڑھ کر وہ دل سے مسکرا دیا۔۔۔ باگڑ بلی ڈی کے سر کے سامنے شوہر کی اتنی تعریفیں اور شوہر کے سامنے اعتراف کرنے میں جان جاتی ہے۔۔۔ وہ سر جھٹکتا مسکرا دیا۔

*******

حدید گاڑی ہواؤں میں اڑاتا حویلی پہنچا تھا۔۔ سیمٹ اور بجری کی بنی ڈرائیوے پر گاڑی کے ٹائر چڑچڑائے تو وہ جھٹکے سے گاڑی کا دروازہ وا کرتا باہر نکل کر اندر کو بھاگا۔۔۔ اسے حویلی پہنچتے پہنچتے فجر کی اذانیں شروع ہو گئیں تھیں۔۔

داخلی دروازہ عبور کر کے وہ وسیع لاوئنج عبور کرتا دادی کے کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔ ایک جھٹکے سے دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا۔۔۔ سامنے ہی دادی اپنے مکمل جاہ و جلال سمیت کھڑی تھیں۔۔۔ انہیں یوں اپنے سامنے صحیح سلامت کھڑا دیکھ اسکےمحتل حواس کچھ ٹھیک ہوئے۔۔۔ دادی ۔۔۔ وہ نم آنکھوں سمیت عقیدت سے انکی جانب بڑھا۔۔۔۔

چٹاخ۔۔۔ جب ایک زوردار تھپڑ نے اسے حق دق کیا۔۔۔ وہ حیرت سے پھٹ پڑتی نگاہوں سے دادی کو دیکھنے لگا جنہوں نے محض ایک تھپڑ پر ہی اکتفا نہیں کیا تھا۔۔۔ چٹاخ چٹاخ۔۔۔ مزید پڑنے والے تھپڑوں نے اسکے حواس ہی گم کر دیئے۔۔۔

******