Hala By Umme Hania Readelle50346 Hala (Episode 11)
No Download Link
Rate this Novel
Hala (Episode 11)
Hala By Umme Hania
اس گھر کو اور اس گھر کے مکینوں کو اپنی خوشبو کے حصار میں باندھ کر اپنی یادیں وہاں بکھیر کر چلبلی سی زوئی واپس چلے گئ تھی۔۔۔ گھر میں رونق جیسے اسی کے دم سے آئی تھی وہ واپس گئ تھی تو گویا گھر کی رونق بھی ساتھ ہی لے گئ تھی۔۔۔
یوسف کی کنٹریکٹ جاب کے دو ماہ پورے ہوگئے تھے گھر کے حالات پھر سے وہیں آگئے تھے جہاں پر پہلے تھے۔۔۔۔
ممانی جو مکمل دوائی اور اچھی خوراک کے باعث پچھلے دو ماہ سے خوش و خرم اور صحتیاب ہوگئ تھی انکی طبیعت دوائی کی کمی کے باعث پھر سے بگڑنے لگی تھی۔۔۔۔۔
آج بھی انکی طبیعت صبح سے بہت خراب تھی تبھی آئتل سب کچھ چھوڑے محض انہی کی تیمارداری میں لگی ہوئی تھی۔۔۔
انکی طبیعت زیادہ بگڑتی دیکھ یوسف انہیں ہاسپٹل لے گیا تھا اور تب سے ہی آئتل جلے پیر کی بلی کی مانند صحن میں ادھر سے ادھر چکر کاٹتی انکی واپسی کی منتظر تھی۔۔۔
اب کیسی طبیعت ہے ممانی۔۔۔ باہر کا دروازہ کھلتے ہی آئتل بھاگ کر اس جانب بڑھی جہاں یوسف ماں کو سہارا دیئے اندر لا رہا تھا۔۔۔ آئتل نے سرعت سے انکے قریب پہنچتے دوسری جانب سے ممانی کو سہارا دیا۔۔۔۔
بہتر ہے۔۔۔ وہ سر ہلاتی آہستہ سے گویا ہوئیں نقاہت انکے چہرے سے ہوادیدہ تھی۔۔ درد کی شدت نے انہیں ادھ موا کر رکھا تھا۔۔۔
ڈاکٹر نے کیا کہا ہے ممانی کی طبیعت کے بارے میں۔۔۔ ممانی کو دوائی کھلانے کے بعد انہیں آرام کرنے کے لئے لٹا کر ان پر لحاف اوڑھ کر وہ تب تک انکا سر دباتی رہی تھی جب تک وہ سو نہیں گئ۔۔۔ انکے سونے کے بعد اب وہ یوسف کے کمرے میں اس سے ممانی کی طبیعت کے بارے میں جاننے آئی تھی۔۔۔
یوسف جو کہ بیڈ کے کنارے پر سوج انداز میں سر دونوں ہاتھوں میں تھامے الجھا سا بیٹھا تھا آواز پر چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔۔
ڈاکٹر نے کچھ ٹیسٹ کروانے کو کہا ہے پھر ہی بیماری کی تشخیص ہو سکے گئ۔۔۔ ٹیسٹ خاصے مہنگے ہیں اس لئے آج کروا نہیں سکا ورنہ میرا ارادہ گھر آنے سے پہلے امی کے بلڈ سیمپلز دے کر آنے کا تھا۔۔۔ اب ایک دو دوستوں سے بات کی ہے کچھ رقم ادھار لینے کے لئے جیسے ہی رقم کا کچھ بنتا ہے سب سے پہلے ٹیسٹ ہی کروائیں گئے۔۔۔ وہ اس وقت خاصا پریشان تھا کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا۔۔۔آئتل اسے دو بول تسلی تک کے نا بول سکی کیونکہ اس کے پاس کہنے کو کچھ تھا ہی نہیں اب صرف اللہ ہی تھا جو انہیں بے بسی بھرے ان حالاتوں سے نکال سکتا
*******
نور بالوں کی ٹیل ہونی بنائے سرخ اور سیاہ امتزاج کا سادا سوٹ زیب تن کئے دھلے دھلائے چہرے کیساتھ لاوئنج میں بیٹھی بڑے انہماک سے اپنی اسائمنٹ بنا رہی تھی۔۔۔ اسے ابھی اسائمٹ بناتے تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی جب بیرونی دروازے کے زور زور سے بار بار کھٹکنے پر وہ یکدم گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔
کون ہو سکتا تھا باہر۔۔۔ کمال انکل اور دریاب کے پاس تو فلیٹ کی چابیاں تھیں رہ گئ شبو تو وہ تو کچن میں کھانا بنا رہی تھی پھر اس وقت طوفان کی مانند بایر کون ہو سکتا تھا۔۔۔ الجھتی ہوئی وہ آہستہ آہستہ دروازے کی جانب بڑھی تب تک اس افتاد کو دیکھتی شبو بھی کچن سے باہر نکل آئی تھی۔۔۔
نور کے دروازے کو کھولتے ہی زہرہ بیگم نے ایک ڈھار سے دروازہ مکمل وا کیا اور نور پر نظر پڑتے ہی وہ کچھ پلوں کے لئے ساکت رہ گئ تھی۔۔۔
گل۔۔۔ اسکے ہونٹوں سے سرسراتا بے آواز لفظ ادا ہوا ۔۔۔
یہ لڑکی ہو بہو گل کی کاپی تھی شاید نہیں یقیناً یہ گل کی ہی بیٹی تھی۔۔۔ سرخ اور سیاہ امتزاج کے لباس میں اسکی شہابی رنگت مزید چمک رہی تھی وہ بالکل اپنی ماں کا پرتو تھی وہ بھی ایسے ہی جوانی میں قہر ڈھاتی تھی۔۔۔
وہ تو یہاں اتنی ہنگامی صورت میں لڑکی سے ملنے آئی تھی کہ ایسا کیا ہے اس لڑکی میں جو انکے اتنے فرمابردار بیٹے نے ماں سے پوچھے بنا اس سے نکاح کر لیا۔۔۔ وہ اس لڑکی سے ملنا چاہتی تھیں کہ اگر وہ انکے معیار پر پورا اترتی تو وہ بیٹے کی خوشی کے لئے اسے قبول کر لیتیں کیونکہ وہ اپنی اولاد سے اتنی ہی محبت کرتی تھی لیکن سامنے گل کی بیٹی کو دیکھ یکدم ہی انکا دماغ غصے کی شدت سے پھٹنے گا تھا۔۔۔
تم گل کی بیٹی ہو۔۔۔۔ ہر بات کھلی کتاب کی مانند ظاہر ہونے کے باوجود پھربھی انہوں نے حفظ ماتقدم کے طور پر پوچھا۔۔ نور جو کافی دیر سے اس اجنبی عورت کا وہاں اسے دیکھ کر شاکڈ ہونا نوٹ کر رہی تھی۔۔۔ محض سر ہاں میں ہلا کر رہ گئ۔۔۔
چٹاخ۔۔۔۔ اسکے اقرار کرتے ہی زہرا بیگم نے خود پر اختیار کھوتے پوری قوت سے اسکے چہرے پر تماچہ جڑا تھا۔۔۔ نور چہرے پر ہاتھ رکھے پھٹی پھٹی نگاہوں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔۔۔ شبو نے اس اچانک افتاد پر صدمے سے منہ پر ہاتھ رکھے۔۔۔
بے حیا بے غیرت ماں کی بے حیا بے غیرت بیٹی۔۔۔ الفاظ تھے کہ پھگلا سیسہ جو نور کی سماعتوں کو پھگلاتا اس کے دل پر انی کے مانند لگا تھا۔۔۔۔
کون ہیں آپ ۔۔۔ میں آپکو نہیں جانتی اور آپکو کوئی حق نہیں پہنچتا میری ماں کے بارے میں فضول گوئی کرنے کا۔۔۔ چہرے سے ہاتھ ہٹاتی نور پوری قوت سے چلائی تھی۔۔۔ کہاں منظور تھی اسے جان سے پیاری ماں کی یوں بے توقیری و بے قدری۔۔۔۔
چٹاخ چٹاخ چٹاخ۔۔۔۔ پھول سے نازک چہرے پر زہرہ بیگم نے پے در پے کئ تماچے رسید کئے تھے۔۔۔ نور چکرا کر رہ گئ۔۔۔
تمہاری جرات کیسے ہوئی میرے بیٹے کو ورغلا کر اس سے نکاح کرنے کی۔۔۔ پہلے تمہاری ماں نے پوری زندگی میرا سکون برباد رکھا پوری زندگی میرے شوہر پر ڈورے ڈالتی رہی وہ عورت اور اب اسنے تمہیں ٹرین کر کے بھیجا ہے مجھ سے میرا بیٹا چھیننے۔۔۔ لیکن یہ خواب ہے تم لوگوں گا ۔۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ میں تم لوگوں کو تمہارے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دوں گی۔۔۔ نکلو یہاں سے بے غیرت لڑکی۔۔۔۔ زہرا بیگم نے اسے بالوں سے تھامتے کئ ایک جھٹکے دیئے تھے۔۔۔ درد کی شدت سے نور کے آنسو چھلک پڑے تھے۔۔ نکلو اس گھر سے گھٹیا لڑکی میں تمہیں کسی صورت بہو کے روپ میں قبول نہیں کروں گئ۔۔ زہرا بیگم اسے بالوں سے کھینچتے دروازے کے جانب لیجا رہی تھی جبکہ نور ان سے اپنا آپ چھڑوانے کی بھرپور کوشیش میں تھی۔
*******
کیا مطلب ہوا بھلا اس فون کال کا۔۔۔ جب پورے خاندان والوں کو پتہ ہے آئتل اور یوسف کا رشتہ بچپن سے ہی طے ہے۔۔۔ شام کی چائے کے لئے سبھی برآمدے میں اکھٹے تھے جبکہ آئتل چائے پینے کی بجائے کچن میں برتن دھو رہی تھی شاید یہ اسکی اس وقت منظر عام سے ہٹنے کی لاشعوری کوشیش تھی۔۔۔ اسکا چہرا کھلی کتاب کی مانند تھا اسے اپنے چہرے کے تاثرات نہیں چھپانے آتے تھے۔۔۔ اس لئے وہ نہیں چاہتی تھی کہ سب اسکے چہرے کے تاثرات سے اسکے اندر کا حال جانیں۔۔۔
نگہت بیگم چائے پیتے پرسوچ انداز میں بول رہیں تھیں جبکہ یوسف خاموشی سے گم صم سا سر جھکائے چائے پی رہا تھا۔۔۔
ابھی کچھ دیر پہلے ہی نانا کو انکی بیٹی زوئی کی ماں کا فون آیا تھا جس میں انہوں نے زوئی اور یوسف کے رشتے کی بات کی تھی اور تب سے نانا بھی گم صم ہی تھے کیونکہ وہ بیٹی کو تو اسی وقت منع کر چکے تِھے مگر بیٹی ابھی بھی انہیں مکمل سوچ بچار کے بعد جواب دینے کا کہہ رہی تھی۔۔۔۔
نانا کو کچھ دیر پہلے کی بیٹی کی گفتگو یاد آئی جو اس نے نانا کے رشتے سے منع کرنے پر کی تھی۔۔۔
کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ ابا۔۔۔ بچپن کے رشتوں کو اب کون مانتا ہے۔۔۔ آئتل بھی میری بہن کی بیٹی ہے میں اس کے لئے بھلا برا چاہوں گی مجھے بہت عزیر ہے وہ لیکن دوسری طرف میری اکلوتی بیٹی ہے جسکے باپ نے آج تک اسکی کوئی بات نہیں ٹالی۔۔۔ مجھے تو خود کچھ سمجھ نہیں آ رہا ۔۔۔ یوسف سے شادی کرنا زوئی کی خواہش ہے اور مجھے اس میں کوئی قباحت بھی نہیں نظر آرہی۔۔۔ یوسف کہاں نوکریوں کے لئے دھکے کھاتا پھرے گا نوکریوں کے حالات تو آپ جانتے ہی ہیں نوکری ملنی ہوتی تو اب تک مل چکی ہوتی۔۔۔ شادی کے بعد ہمارا سارا بزنس زوئی اور یوسف کا ہی تو ہے۔۔۔ میری بیٹی کی بھی خواہش پوری ہو جائے گی اور آپکے دن بھی پھر جائیں گے رہ گئ آئٹل تو وہ بھی میری بیٹی ہے اسے رشتوں کی کوئی کمی تو نہیں ایک چھوڑ ہزار رشتے ملیں گے اسے میں خود اسکی شادی کا سارا خرچ اٹھاوں گی اپنی بیٹی سے بڑھ کر اسکی شادی کروں گئ۔۔۔
نانا فون ہمیشہ سپیکر کھول کر سنتے تھے اس لئے وہاں موجود ہر فرد انکی اس گفتگو سے مستفید ہوا تھا۔۔۔ کچن میں کھڑی چائے کی ٹرے اٹھاتی آئتل کے ہاتھ بری طرح لرزے تھے سینے میں موجود ننھا سا دل کپکپا اٹھا تھا اس لئے وہ چائے سرو کر کے واپس کچن میں آ گئ تھی سائیں سائیں کرتے دماغ کیساتھ اسنے سارا کچن سمیٹا اور خاموشی سے پچھلے صحن کیطرف آ گئ ۔۔۔ جانے سے پہلے وہ یوسف کا جواب نہیں سن پائی تھی حو اسنے بہت مدلل سے انداز میں نانا کو دیا تھا۔۔۔
نانا پہلی بات تو آپکو خود سے اس معاملے میں پھوپھو سے بات کرنے کی ضرورت نہیں دوسری بات کے اگر انکا فون آئے تو آپ ان تک بلا جھجھک ہماری طرف سے نہ بھیجوا دیں۔۔۔ ایسی بات نہیں کہ زوئی میں کوئی کمی ہے۔۔۔ وہ اچھی لڑکی ہے بلکہ بہت اچھی لڑکی ہے لیکن دل کے سودے ترازو میں تول کر نہیں کئے جاتے۔۔۔ شائستگی سے دادا کو کہہ کر وہ کپ سامنے موجود میز پر رکھتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔ دل کو اس ستم گر کا ڈھرکا لگا تھا جس نے چڑیا سا دل پایا تھا جو تب سے اسے کہیں دکھائی نہیں دی تِھی جو یقیناً کسی کونے کھدرے میں چھپے اپنی آنکھوں پر ستم کر رہی تھی۔۔۔
*******
اسکا دل غم سے پھٹ رہا تھا اسی لئے وہ پچھلے صحن کی سیڑھیوں پر بیٹھی بے آواز سسک رہی تھی۔۔۔ کیا یتیم ہونا اتنا بڑا جرم تھا کہ یوں اسکے دل کا سودا کیا جا رہا تھا اسکی محبت کو ترازو کے پلروں میں تولا جا رہا تھا۔۔۔ وہ تو ایک عام سی لڑکی تھی ایک ڈرپوک اور بے بس سی لڑکی جو حالات کے پاسہ پلٹنے کےڈر سے ہی ڈر جاتی تھی۔۔۔ جسنے بچپن سے حالات کی ہیر پھیر ہی دیکھی تھی۔۔۔ اب یوسف ہی تو تھا اسکے پاس کیا وہ اسے بھی کھونے کا حوصلہ رکھتی تھی۔۔۔
نہیں نہیں نہیں۔۔۔۔ دل کرلا اٹھا تھا۔۔۔
دیکھا مجھے پتہ تھا یہاں یہی شغل ہو رہا ہوگا۔۔۔ یوسف وہیں اسکے پاس ہی دھپ سے بیٹھتا ہلکے پھلکے انداز میں گویا ہوا۔۔۔
یوسف پلیز میرا دل اس وقت رونے کو چاہ رہا ہے اور میں کھل کر رونا چاہتی ہوں مجھے اکیلا چھوڑ دیں گھٹنوں پر سر رکھے وہ بنا اسکی طرف دیکھے سوں سوں کرتی گویا ہوئی۔۔۔۔
اررےےےے ۔۔۔ تو میں نے تمہیں کب منع کیا۔۔۔ تم دل کھول کر دل ہلکا کرو بلکہ اگر تمہیں دل ہلکا کرنے کے لئے کسی ہمدر کے کندھے کی ضرورت ہے تو وہ بھی دستیاب ہے مگر۔۔۔ ہلکے پھلکے انداز میں کہتا وہ یکدم سنجیدہ ہو اٹھا تھا۔۔۔۔
اس خیال کو بھی ذہن میں بھٹکنے مت دینا کہ یوسف تمہیں کسی بھی ایرے غیرے کے لئے چھوڑ دے گا۔۔ تم میری آتی جاتی سانسوں کی وجہ ہو آئٹل اور کوئی اپنی سانسوں کے بنا نہیں جی سکتا۔۔۔۔ اس لئے میری وجہ سے ان خوبصورت آنکھوں پر ظلم مت کرو۔۔۔
آئتل نے گھٹنوں سے سر اٹھاتے نم آنکھوں سے سنجیدگی سے گویا ہوتے یوسف کو حیرت سے دیکھا۔۔۔
آپ سچ کہہ رہے ہیں یوسف۔۔۔ شنگرفی ہونٹ کپکپا اٹھے تھے جھیل سی گہری آنکھوں سے مسلسل جھرنا بہہ رہا تھا۔۔۔ میرا دل بہت گھبرا رہا ہے یوسف جیسے کوئی آندھی چلنے والی ہو۔۔۔ ایسی آندھی جو میرا سب کچھ اڑا کر لے جائے گئ وہ یوسف کے ہاتھ اپنے کپکپاتے ہاتھوں میں تھامے لزرتے لہجے میں بول رہی تھی جھیل سی گہری آنکھوں میں کچھ کھو دینے کا خوف ہلکورے لے رہا تھا۔۔۔
یوسف نے اسے بنا ٹوکے اسے دل کی بات کہنے کا موقع دیا کیونکہ وہ جاننا چاہتا تھا کہ اسکے دماغ میں اس وقت چل کیا رہا ہے جو اسے بے چین کئے ہوئے ہے۔۔۔
یوسف میں نے دنیا کو آپکی آنکھوں سے دینا میں اپنے چھوٹے سے چھوٹے کام کے لئے آپ پر انحصار کرتی ہوں۔۔۔ اپنے ہر کام کے لئے آپکی جانب دیکھتی ہوں۔۔۔ آپکے ساتھ ہستی ہوں آپکے ساتھ کھلتی ہوں۔۔۔ زندگی کی خوشیاں میں نے آپکے ساتھ کشیدی ہیں۔۔۔ میری زندگی کا محور آپ ہیں آپ سے جدا ہوگئ تو جی نہیں پاوں گی یوسف مجھے ڈر لگتا ہے اپنی قسمت سے ڈر لگتا ہے میں آپکو کھونے سے ڈرتی ہوں۔۔۔۔ سسکیاں اب ہچکیوں میں بدل گئ تھیں ناجانے کیسا ڈھرکا لگا تھا اسکے دل کو کہ وہ لمحوں میں کملا گئ تھی رنگت ہلدی کی مانند زرد ہو گئ تھی۔۔۔۔
بس آئتل۔۔ کیا ہو گیا ہے یار۔۔۔ خاموش بالکل خاموش اور خبردار جو مزید ایک آنسو بھی بہایا یا کوئی الٹی سیدھی سوچ دماغ میں لائی تو۔۔۔۔ اسے یوں ادموا ہوتے دیکھ یوسف نے اسے بے اختیار جھنجھورا تھا اسکے زرا سمبھلنے پر اسنے آئتل کا پھول سا کملایا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے اسکے آنسو صاف کئے۔۔۔
مجھ پر بھروسہ ہے نا تمہیں۔۔۔ آپ پر ہے مگر اپنی قسمت پر نہیں۔۔
اگر مجھ پر ہے تو بھروسہ رکھو جب تک میں زندہ ہوں تمہارے ساتھ کچھ غلط نہیں ہونے دونگا کوئی ناانصافی نہیں ہونے دوں گا ہاں البتہ اگر زندہ نا رہوں ۔۔۔
اللہ نا کرے یوسف ۔۔۔ اللہ میری بھی عمر آپکو لگادے۔۔۔۔ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ۔۔۔ یوسف ابھی کہہ ہی رہا تھا جب آئتل نے دہل کر اسکے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھتے اسے ٹوکا۔۔۔
بس پھر مجھ پر یقین کرو اور مستقبل کی ہر سوچ ذہن سے جھٹک دو چلو اٹھو کھڑی ہو۔۔۔ یوسف نے اسے بازو سے کھینچ کر اٹھایا۔۔۔ اپنے کمرے میں چلو میں تمہارے لئے چائے لاتا ہوں چائے کے ساتھ ٹیبلٹ لو اور کچھ دیر کے لئے پرسکون ہو کر سو جاو ۔۔۔ رات کے کھانے کی فکر مت کرنا اسکا بھی کچھ نا کچھ کر لیں گے۔۔۔ امی سے پوچھ پوچھ کر میں رات کا کھانا تیار کر لوں گا ۔۔ تم بس آرام کرو۔۔۔ وہ اسے اسکے کمرے میں چھوڑ کر کچن سے چائے لینے گیا تو آئتل نے نم آنکھوں سے اسکی پشت تکتے صدق دل سے اسکی لمبی عمر کے لئے دعا کی۔
******
