Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hala (Episode 42)

Hala By Umme Hania

زری میری جان دیکھو مجھے بتاو تو صحیح ہوا کیا ہے کیا حدید بھائی سے کوئی جھگڑا ہوا ہے۔۔۔ زرش کے یوں رونے سے نور اچھا خاصا گھبرا اٹھی تھی تبھی اسکا سر تھپتھپاتی پریشانی سے گویا ہوئی۔۔۔

زرش کو بھی اس وقت ایک جذباتی سہارا درکار تھا۔۔۔ دریاب سے کچھ شیئر کر نہیں سکتی تھی اور ماں اسکی صدا کی جذباتی تھی بیٹی کی زبانی حدید کی لگائی پابندیاں سن کر وہ نجانے کیا کر جاتیں۔۔۔ لیکن اب معاملہ دوسرا تھا زری کو اس شخص کی عزت بھی سب سے پیاری تھی۔۔۔ وہ ماں اور بھائی کے سامنے اسکا امیج بھی خراب نہیں کرنا چاہتی تھی اور خود کسی اچھے ہمددر اور غمگسار کے سامنے دل بھی ہلکا کرنا چاہتی تھی اور اسے اس وقت وہ ہمدرد وہ غمگسار نور سے بڑھ کر کوئی نا لگا۔۔ یہ ہی وجہ تھی کہ وہ روتے ہوئے آہستہ آہستہ اسے سب بتاتی چلی گئ۔۔۔ بھابھی کیا شادی نام ہی پابندیوں کا ہے۔۔۔ شوہر کی مرضی سے یہ کرو وہ نا کرو۔۔۔ لڑکی کی اپنی مرضی کہاں ہے ان سب میں۔۔۔ اسنے دلگرفتی سے اپنے آنچل سے اپنی آنکھیں رگڑ کر صاف کیں۔۔۔ نور نے تاسف سے اسے دیکھا۔۔۔ زری جب دو الگ فطرت اور الگ سوچ کے حامل افراد رشتہ ازواجیت میں بندھتے ہیں نا تو پھر کچھ وقت لگتا ہے انہیں ایک دوسرے کی عادات و اطوار اور خیالات و سوچ سے مطابقت پیدا کرنے میں۔۔۔ سوچ اور خیالات تو بعض اوقات سگے بہن بھائیوں کے بھی آپس میں نہیں ملتے یہ رشتہ تو پھر دو اجنبیوں کو ایک مضبوط تعلق میں باندھ دیتا ہے۔۔۔ تو یہاں ضرورت صرف وقت کی ہوتی ہے۔۔۔ جیسے جیسے وقت گزرتا ہے رشتہ ازواجیت میں بندھے دونوں فریق رفتہ رفتہ ایک دوسرے کی عادات و اطوار سے واقفیت حاصل کرتے جاتے ہیں ۔۔ یہاں تم سب سے پہلے اپنی ترجیحات کا تعین کر لو کہ تمہارے لئے کیا چیز ضروری ہے کیا زیادہ اہم ہے۔۔۔ فرض کرو اگر حدید تمہاری زندگی سے نکل جائے اور تم پر کوئی پابندی نا رہے تم اپنے سوشل اکاونٹس۔۔۔ اللہ نا کرے بھابھی کہ کبھی ایسا ہو۔میں لعنت بھیجتی ہوں ایسے سوشل اکاونٹس پر ۔۔ اس سےپہلے کے نور اپنی بات مکمل کرتی زرش نے دہل کر اسکی بات کاٹی۔۔ میں تو۔۔ میں تو اب حدید کے بنا رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔۔۔ لہجہ بھرا گیا تھا آنکھیں ایک مرتبہ پھر سے نم ہو اٹھیں تھیں۔۔۔ اسکی یہ بیساختہ بات سن کر نور مسکرا دی۔۔ پھر مسلہ کیا ہے زری صرف وقت کا۔۔ اپنے رشتے کو کچھ وقت دو۔۔ اس رشتے میں اعتبار قائم ہونے دو۔۔ جب اعتبار قائم ہو گیا تو سب ٹھیک ہو جائے گا اور یہ اعتبار قائم ہو گا کیسے۔۔۔ اللہ نے شوہر کو مجازی خدا کہا ہے کیونکہ اللہ نے شوہر کو بیوی کا محافظ بنایا ہے اسے ہر سرد و گرم سے بچا کر موسم کی ہر سختی کو خود پر جھیلنے والا ایسے میں جب وہ دن بھر زمانہ گردش کی خاک چھان کر گھر لوٹے تو اسکا حق بنتا ہے کہ جسکے لئے وہ یہ سب کر رہا ہے وہ اسکی بات مانے اسکی تابع ہو اسکے کہے کی اسکی بیوی کی نظر میں کوئی اہمیت ہو۔۔۔ تم انکے کہے کو اہمیت دینے لگو انکی بات کو حکم کا درجہ دو انکے کہے کو حرف آخر مانو انہیں اپنی ذات کا اعتبار بخشو بدلے میں وہ تمہیں اپنے دل کے سب سے اونچے سنگھاسن پر بیٹھانے کیساتھ ساتھ اپنی ذات کی اور اپنے گھر کی بلا شرکت غیر ملکہ بنائے گئے۔۔۔تم انکے کہے کو اہمیت دو گی تو انکی نظروں میں تمہاری اہمیت مزید بڑھے گی۔۔۔ اور پھر جس سے محبت کی جائے نا پھر دل خودبخود ہی اسکی پسند مین ڈھلنے کو چاہتا ہے اسکے رنگ میں رنگنے کو چاہتا ہے۔۔ پھر محبوب کی پسند پسند اور ناپسند ناپسند لگتی ہے۔۔۔ نور کی باتوں پر زرش کے آنسو ٹھٹھرنے لگے تھے۔۔ یہ کونسا نقطہ نظر واضح کیا تھا نور نے۔۔۔ اس بات کو اتنی گہرائی میں جا کر تو اسنے سوچا ہی نا تھا۔۔۔ تھینک یو بھابھی۔۔ احساس تشکر کے احساس تلے دب کر وہ گویا ہوئی۔۔ کیا واقعی اسکی ضرورت ہے ۔۔ دیکھو باتوں میں لگ کر چائے ٹھنڈی ہو گئ۔۔۔ نور نے مسکرا کر کہتے یاد آنے پر اسکی توجہ چائے کی جانب مبذول کروائی وہ بھی مسکراتے ہوئے چائے کا کپ اٹھا کر پینے لگی۔۔۔ دل سے ایک بڑا بوجھ سرک گیا تھا۔۔

****

ارے امی اٹھ گئیں آپ میں کافی دیر سے آپ کے جاگنے کا انتظار کر رہی تھی اب تو گڈی اور اسکی ماں بھی اپنے کوارٹر میں چلے گئیں اور بھیا بھی ابھی تک نہیں آئے میں تو اچھا خاصا بور ہو گئ تھی۔۔۔۔ زرش وقفے وقفے سے کافی مرتبہ آ کر ماں کو دیکھ کے گئ تھی کہ وہ اٹھ گئیں کہ نہیں لیکن جب رات تک وہ نا جاگیں اور ملازم بھی جا چکے اور دریاب بھی گھر واپس نا آیا تو وہ ماں کے کمرے میں ہی آگی کیونکہ باہر موسم کے حالات بھی بہت خراب تھے شام سے ہوتی کن من نے تیز موسلادھار بارش کی صورت اختیار کر لی تھی بادلوں کی گرج اور بجلی کی چمک۔۔۔ بچپن سے ہی اسکی ایسے موسم میں جان جاتی تھی اسی لئے وہ ماں کے کمرے میں آ کر انہی کے لحاف میں گھس گئ۔۔ اب ماں کو کسمسا کر آنکھیں کھولتے دیکھ اسنے جھک کر ماں کے ماتھے کا بوسہ لیا اور محبت سے مخاطب ہوئی۔۔۔ پچھلی دفعہ وہ ماں سے شدید دلبرداشتہ ہو کر وہاں سے گئ تھی لیکن یہ بھی حقیقت تھی کہ وہ جیسی بھی تھیں اسکی ماں تھی اور ماں سے وہ زیادہ دیر تک ناراض بھی نہیں رہ سکتی تھی۔۔۔ کیسی ہو زری کب آئی میری جان۔۔ زہرا بیگم نے بھی اسکے چہرے پر پیار کرتے اٹھ کر بیٹھنا چاہا۔۔۔ ماں کیا بات ہے آپکی طبیعت زیادہ خراب ہے کیا ۔۔۔۔مجھے اپنی دوائیوں کا بتائیں میں ابھی لے کر آتی ہوں۔۔۔ زہرا بیگم نے اٹھ کر بیٹھنے کی کوشیش کی لیکن یکدم چکرا کر وہ لہرا کر واپس بیڈ پر ڈھ گی ۔۔۔ زرش انکی حالت دیکھ کر گھبرا اٹھی تھی انکا چہرا زرد پڑنے لگا تھا۔۔۔ امی۔۔۔ امی آپ ٹھیک ہیں نا۔۔۔ زرش دہل کر ماں کی جانب لپکی اسکا لہجہ کپکپا گیا تھا آواز اپنے آپ ہی بھرانے لگی تھی۔۔۔۔ مجھ۔۔۔ مجھے اٹھا کر بٹھاو۔۔۔ زہرا بیگم سے الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہوئے۔۔۔ انہیں یوں دیکھ کر زرش کی اپنی حالت غیر ہونے لگی تھی۔۔ تھوک نگلتے اسنے کپکپاتے ہاتھوں سے ماں کو سہارا دے کر بیڈ پر بیٹھایا۔۔۔ وہ بیڈ پر ٹانگیں لٹکائے بیٹھیں گہرے گہرے سانس لے رہی تھیں چہرا خطرناک حد تک زرد پڑ گیا تھا۔۔۔ دریاب نہیں آیا ابھی تک۔۔۔ اسے فون کرو۔۔۔ میر۔۔۔ میری طبعت ٹھیک نہیں۔۔ بار بار خشک پڑتے ہونٹوں پر زبان پھیرتے وہ نحیف سی آواز میں گویا ہوئیں۔۔۔ لمحوں میں آواز کا وہ دم خم ختم ہو گیا تھا۔۔۔ ماں کی حالت دیکھ کر زرش کے اپنے ہاتِھ پاوں پھولنے لگے تھے۔ اسنے بھاگ کر سائیڈ ٹیبل سے فون اٹھاتے اس پر دریاب کا نمبر ملایا۔۔۔ باہر مینہ چھاجو چھاج برس رہا تھا اس کی بوند بوند کا کمرے کی کھڑکی سے آ کر ٹکرانا موسم کی ہیبت ناکی میں مزید اضافہ کر رہا تھا۔۔۔ امی بھائی کا نمبر نہیں مل رہا شاید سگنل پرابلم ہے۔۔۔ زندگی میں پہلی مرتبہ بے بسی سے زرش کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔ وہ لاڈوں اور نازو نعم میں پلی نازک سی لڑکی تھی جسکا ابھی تک حالات کی تلخیوں سے واسطہ نا پڑا تھا۔۔۔ اب یوں رات کے وقت بیمار ماں کیساتھ اکیلے گھر میں اوپر سے موسم کے تیور اسکے اعصاب مفلوج کر رہے تھے۔۔۔ دل کسی انہونی کے احساس کے تحت سوکھے پتے کی مانند کانپ رہا تھا۔۔۔ ماں کی لمحہ با لمحہ غیر ہوتی حالت اسے اندر ہی اندر ختم کر رہی تھی۔۔۔ ماں میں کیا کروں۔۔ آپکی دوائی۔۔۔ امی آپ۔۔۔ وہ دیوانوں کی طرح یہاں سے وہاں جاتی اور پھر سے پلٹ کر ماں تک آ جاتی۔۔۔ زہرا بیگم گہرے گہرے سانس لینے لگی تھی۔۔۔ امی پپ۔۔ پانی۔۔ آپ پانی پیئیں۔۔۔ وہ حواس باختہ ہو کر پانی کے جگ کی جانب لپکی۔۔۔ آہ ہ۔۔ ایک غیر شناسا آواز پر جگ سے پانی گلاس میں انڈیلتے اسکے ہاتھ ٹھٹھک کر رکے۔۔ اسنے ڈھرکتے دل کے ساتھ پیچھے مڑ کر دیکھا اور کمرے میں پھیلے بے تحاشا خون کو دیکھ کر گویا اسکے سر پر ساتوں آسمان ایک ساتھ گر گئے تھے۔۔۔ دل ڈھرکنا بھول گیا تھا۔۔۔ فضا میں موجود ہرچیز ساکت ہو گئ تھی۔۔ دہل کر وہ کچھ قدم پیچھے ہٹی پھٹی پھٹی نگاہوں نے خون آلود فرش سے ماں کے چہرے تک کا سفر کیا۔۔۔ جو نیم بہوشی میں جاتیں سر بیڈ کرواں سے ٹکائے گری پڑیں تھی ہونٹوں اور قمیض پر بھی جابجا خون لگا تھا۔۔۔ انہیں غالباً خون کی الٹی آئی تھی۔۔ زرش کو اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہوئی۔۔۔

امی ی ی ی ی ی ی ی۔۔۔۔۔۔ امی ی ی ی ی ی ی ی ی ی ی ۔۔۔۔ اسکی چیخ و پکار سے وہاں کے درو دیوار لرز اٹھے تھے۔۔۔ کچھ سوچتے ہوئے وہ اپنے بے جان ہوتے وجود کو گھسیٹتی ماں کی جانب بڑھنے کی بجائے باہر کو بھاگی۔۔۔

****

ایک ایک جست میں کئ کئ سیڑھیاں پھیلانگتے گرتی پڑتی وہ لاوئنج عبور کر کے داخلی دروازہ وا کرتی باہر کو بھاگی۔۔۔ باہر نکتے ہی سرد ہواوں کے تھپیڑوں اور بارش کی بوچھاڑ نے اسے کپکپانے پر مجبور کیا اور تب اس پر انکشاف ہوا کہ وہ ننگے پاوں اور ننگے سر ہے۔۔۔ تابر توڑ برستی بارش نے اسے لمحوں میں گیلا کر دیا تھا بجلی کی سی رفتار سے بھاگتی وہ بجری اور سیمٹ کی بنی روش کو عبور کر کے لان سے ہوتی ہوئی انیکسی تک پہنچی۔۔۔ تڑ تڑ برستی بارش میں زاروقطار بہتے اسکے آنسو آپس میں گڈ مڈ ہو گئے تھے۔۔۔ انیکسی کے دروازے پر پہنچتے ہی ایک پل کو رک کر اسنے اپنا سانس بحال کیا چہرے پر ہاتھ پھیر کر کچھ حواس بحال کئے اور اگلے ہی لمحے انیکسی کا دروازہ ڈھر ڈھرا کر رکھ دیا۔۔۔

*******

زرش کے واپس چلے جانے کے بعد کافی دیر تک نور وہیں لاوئنج میں ہی بیٹھی رہی تھی اسنے زرش کیساتھ وہی چائے ہی پی تھی وہیں بیٹھے بیٹھے جب رات ہو گئ اور بھوک نے اپنا احساس جگایا تو وہ بے دلی سے اٹھ کر کچن میں آئی ۔۔۔ بھوک زوروں کی لگ رہی تھی اور کچھ پکانے کو زرا برابر دل نہیں چاہ رہا تھا۔۔۔ اکیلے اپنے لئے کھانا بنانے میں وہ ہمیشہ کام چوری کر جاتی تھی۔۔۔ تبھی موسم کو طوفان کا روپ ڈھارتے دیکھ اسنے جلدی سے لاوئنج میں نکلتے اسکے کھڑکی بند کی پھر واپس کچن میں آ کر فریج سے انڈا نکال کر انڈا فرائی کیا اور سلائس کے ساتھ کھانے لگی۔۔۔ بھوک مٹانے کو اسے فلحال یہ ہی سب سے بہتریں جھٹ پٹ تیار ہونے والی چیز لگی۔۔۔۔ کھانا کھانے کے بعد کچن سمیٹ کر وہ کمرے میں جا کر لحاف میں دبکی لیکن ذہن کے سبھی دھاگے دریاب کی جانب ہی لگے تھے جو ابھی تک گھر نہیں آیا تھا موسم کے بگڑے حالات دیکھ کر وہ مسلسل اسکے باخیروعافیت گھر پہنچنے کی دعائیں کر رہی۔۔۔ ابھی وہ اسی ادھیڑ پن میں لگی تھی جب اسے انیکسی کے دروازے کے ڈھرڈھرانے کی آواز سنائی دی۔۔۔ وہ دھل کر سیدھی ہوئی۔۔۔ دل ایک دم زور سے ڈھرکا تھا۔۔۔ اتنے خراب موسم میں ایسی دستک خیر کی بالکل نہیں ہو سکتی تھی۔۔۔ دریاب ابھی تک گھر نہیں پہنچا تھا کہیں۔۔۔ اس سے آگے وہ سوچ بھی نا سکی۔۔۔ ڈھرکتے دل کیساتھ جوتا پاوں میں اڑستی اندھا دھند باہر کو بھاگی۔۔۔

بھابھی۔۔ بھابھی امی۔۔۔ بھابھی میری امی ی ی ۔۔۔ دروازہ کھلتے ہی زرش نور کا سہارا پاتے اسے بازوں سے دبوچے خوفزدہ بچے کی مانند بے بسی کے شدید احساس کے زیر اثر سسک اٹھی۔۔۔ نور کے دماغ نے نینو سیکنڈ کے حساب سے زرش کے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کو ڈی کوڈ کیا تھا اور بات سمجھ میں آتے ہی وہ زرش سے بھی پہلی گھر کی جانب بھاگی۔۔۔۔

*****

ایک جھٹکے سے زہرا بیگم کے کمرے کا دروازہ وا کر کے نور اندر داخل ہوئی لیکن اندر کا منظر دیکھ کر اسکی نگاہوں کے سامنے گویا زمین و آسمان گردش کر گے تھے۔۔۔ زرش بھی اسکے پیچھے ہی اندر داخل ہوئی۔۔۔ بیڈ کراون کے سہارے نڈھال سی لگی زہرا بیگم نے زرا کی زرا آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا مطلب وہ ابھی ہوش میں تھیں۔۔ اگلے ہی لمحے نور سب کچھ بھلائے اس خون آلود فرش کو پھیلانگتی انکی جانب بڑھی۔۔۔ زرش واش روم سے ٹب میں پانی اور کپ لے کر آو۔۔۔ اسکا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا۔۔۔ اسنے جاتے ہی زہرا بیگم کو اپنے بازوں کے کلاوے میں بھرتے سیدھا کیا۔۔۔ انہوں نے پھر سے بند ہوتی آنکھیں کھول کر نور کو دیکھا۔۔۔ فکر مت کریں آنٹی۔۔۔ آپکو کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ آپ بالکل ٹھیک ہو جائیں گی۔۔۔ اسنے اپنے لہجے کی کپکپاہٹ پر قابو پانے کی بھرپور کوشیش کی۔۔۔ اسنے انکے پاس پڑے ڈوپٹے کو اٹھا کر انکا خون آلود چہرا صاف کیا۔۔۔ تب تک زرش نے تب اور کپ لا کر اسکے پاس رکھا۔۔ صابن بھی لاو۔۔۔ انہیں تکیے اور بیڈ کراوں کے سہارے بیٹھا کر وہ مصروف سے انداز میں گویا ہوئی۔۔۔ آنٹی کے کوئی کپڑے نکال کر لاو۔۔۔ اپنی آستیں کہنیوں تک چڑھا کر وہ زمین ہر پاوں کے بل بیٹھی۔۔۔ٹب سے پانی لے کر باری باری زہرا بیگم کے دونوں پاوں دھونے لگی۔۔۔ زرش نے بعجلت دیوار گیری الماری سے انکا ایک سوٹ نکال کر انکے پاس رکھا۔۔۔ دریاب کو فون کیا تم نے۔۔۔ پاوں دھونے کے بعد اب وہ انکے ہاتھ دھو رہی تھی۔۔۔ بھیا کا نمبر نہیں مل رہا۔۔۔آنٹی کو زرا سہارا دو۔۔۔ ہاتھ دھو کر اب نور نے انکا چہرا دھلوانے کی غرض سے زرش سے مدد مانگی وہ بھی تڑپ کی انکی جانب لپکی۔۔۔ گاڑی تو گھر میں موجود ہے۔ ڈرائیور ہے کیا۔۔۔ گاڑی وہ کار پورچ میں کھڑی دیکھ چکی تھی تبھی گویا ہوئی۔۔۔ درائیور نہیں ہے گھر میں چھٹی پر گیا ہے شاید۔۔۔ ادھر سے آنٹی کا بازو پکرو زرا۔۔۔ انکا چہرا دھلوا کر وہ اب انکے کپڑے بدلوا رہی تھی۔۔۔ تمہیں گاڑی چلانی آتی ہے۔۔۔ کپڑے بدل کر اسنے اختیاط سے زہرا بیگم کو بستر ہر لٹایا۔۔۔ آتی ہے تھوڑی بہت۔۔۔ پر بھیا چلانے نہیں دیتے کیونکہ اتنی اچھی ڈرائیونگ نہیں ہے میری۔۔۔ تم زرا جلدی سے ایک بیگ میں آنٹی کا ایک جوڑا اور دو چار ڈوپٹے رکھ لو اسکے ساتھ ہی آنٹی کی پچھلی پوری میڈیکل فائل بھی۔۔۔۔ زہرا بیگم کو لٹا کر اسنے کھڑے ہوتے اپنا آنچل درست کیا۔۔۔ پر بھابھی ہم یہاں سے جائیں گے کیسے۔۔۔ نجانے نور کے کیا ارادے تھے وہ ہسپتال تک کیسے پہنچتے زرش نے سہم کر پوچھا۔۔۔

دیکھو زرش ہمارے پاس وقت بہت کم ہے یوں سمجھ لو کہ آنٹی لمحہ با لمحہ ہم سے دور جا رہی ہیں انہیں بچانے کو ہمیں ہمت کرنی ہوگی اگر دریاب کا ہی انتظار کرتے رہے تو بہت دیر ہو جائے گئ اور پھر محض پچھتاوے رہ جائیں گے آج تمہیں اپنی ماں کے خاطر ہر حال میں ڈرائیونگ کرنی ہی ہے اس لئے جو کہہ رہی ہوں وہ جلدی کرو۔۔۔ نور نے اسے کندھوں سے تھامتے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ٹھہر ٹھہر کر کہتے گویا اسکی ہمت بندھا کر اسے ذہنی طور پر تیار کرنا چاہا۔۔۔ جج۔۔ جی بھابھی وہ بھی اپنے آنسو صاف کرتی جلدی سے الماری کی جانب لپکی ۔ نور نے زہرا بیگم کے جوتے نکال کر انہیں سیدھا کر کے جوتے پہنائے۔۔۔ تب تک نور انکا بیگ تیار کر چکی تھی۔۔۔ دونوں نے مل کر سہارے سے انہیں کھڑا کیا۔۔۔ وہ کچھ کچھ ہوش میں تھی اسی لئے سہارے سے چل پا رہی تھی ورنہ ان دونوں سے انہیں نچلے فلور پر لے کر جانا خاصا مشکل ہو جاتا۔۔ تم گاڑی نکال کر لاو زرش میں دو منٹ میں آئی۔۔۔ نیچے لاونج میں آکر نور نے زہرا بیگم کو صوفے پر بیٹھایا۔۔۔ اسکی بات سن کر ڑش سر ہاں میں ہلاتی باہر کو لپکی اسکے پیچھے ہی نور بھی باہر نکلی اسکا رخ انیکسی کی جانب تھا۔۔۔ زرش کا یہ پہلا تجربہ تھا اس لئے وہ بوکھلا کر رہ گئ تھی جبکہ نور اپنی ماں کیساتھ اس فیز سے گزر چکی تھی اور اس مرحلے کی سبھی نزاکتوں کو سمجھتی تھی تبھی وہ عقل کا دامن تھامے دماغ سے سوچ سمجھ کر کام لے رہی تھی۔۔۔ انیکسی میں پہنچتے ہی اسنے اپنے پاس موجود رقم کی ساری جمع پونجی اٹھائی اور واپس گھر کی جانب لپکی۔۔۔ وی جانتی تھی کہ یہ وہ واحد چیز تھی جسکے بنا انسان کی کوئی اوقات نہیں۔۔۔ زرش کے ساتھ مل کر اسنے زہرا بیگم کو گاڑی میں بیٹھایا اور گھوم کر خود بھی انکے ساتھ بیٹھی۔۔۔ زرش نے فرنٹ سیٹ سمبھالتے اللہ کا نام لے کر گاڑی سٹارٹ کی۔۔۔ نور نے بیگ سے ایک ڈوپٹہ نکال کر زہرا بیگم پر پھیلایا۔۔۔ ابتدائی چند منٹوں میں ہی وہ جان چکی تھی کہ زرش گاڑی چلانے میں خاصی اناڑی ہے کچھ روڈ پر پھسلن کے امکان زیادہ ہونے کیساتھ ساتھ تابر توڑ برسی بارش کے باعث گاڑی چلانے میں خاصی دشواری ہو رہی تھی

آہ ہ ہ بھابھی۔۔۔ ایک مرتبہ پھر سے زہرا بیگم کو خون کی الٹی آئی تھی ۔۔۔ انکی اس حالت کی وجہ سے بے ساختہ زرش کے منہ سے چیخ نکلی۔۔۔

کچھ نہیں ہوا زری کچھ نہیں۔۔ تم ۔۔۔تم توجہ سامنے مرکوز رکھو اور جلدی گاڑی چلانے کی کوشیش کرو۔۔۔ نور نے لرزے لہجے میں اس سے زیادہ خود کو تسلی دی اور خون آلود ڈوپٹہ اتار کر سائیڈ پر پھینکا ان پر اوڑھا ڈوپٹہ بھی اتار کر پھینکا۔۔ بیگ سے دوسرا آنچل نکال انکا چہرا صاف کیا اور پھر ایک اور آنچل نکال کر ان ہر اوڑایا۔۔۔ اسی غرض سے اسنے یہ سامان رکھوایا تھا۔۔۔ کپکپاتے ہاتھوں سے زہرا بیگم کو تھامے وہ مسلسل کوئی نا کوئی ورد کر رہی تھی جب زہرا بیگم آنکھیں بند کرتی ایک دم اسکے ہاتھ سے پھسل کر سائیڈ کو گرتیں دروازے سے ٹکرائی۔۔۔

امی ی ی ی ۔۔۔ آنٹی ی ی اب کی بار زرش کی چیخوں کے ساتھ نور کی چینخیں بھی شامل تھی ۔۔ انکی گاڑی ایک جھٹکے سے روکی تھی خود پر سے ضبط کھوتے نور کی سسکیاں بین میں بدلنے لگی تھیں۔۔

******