Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hala (Episode 47)

Hala By Umme Hania

ساری رات دریاب کی شش و پنج میں مبتلا بے چینی سے گزری تھی۔۔۔ جو صورتحال بن نکلی تھی وہ اسے قبول کرنے سے قاصر تھا۔۔۔ اسنے ہالہ سے محبت کی تھی بے حد وحساب ۔۔۔ بنا اسکی ایک بھی جھلک دیکھے۔۔۔ وہ اسکی کام کو لے کر ڈیوشن اور لایالٹی سے اسکی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔۔ وہ ہر کام مکمل فوکس اور یکسوئی سے کرتی تھی۔۔۔ انکا ایک دوسرے سے پہلا تعارف دو سال پہلے فائیور پر ہوا تھا جب وہ اپنی کمپنی کے ڈیزائنز کے لئے کسی گرافک ڈیزائنر کو دھونڈ رہا تھا۔۔۔ تب فائیور پر مختلف گرافک ڈیزائنر کو سرچ کرتے ہالہ کا پورٹ فولیو اسکے سامنے آیا تھا۔۔ وہ اس فیلڈ میں نئ تھی اور دریاب کو اسکی جانب اٹریکٹ بھی اسکی پورٹ فولیو نے ہی کیا تھا جس کی پہلی لائن میں ہی اسنے لکھا تھا

This is Hala and I m new here you can check my samples and Give me a chance I will never disappoint you…

پورٹ فولیو میں باقی بائیو سے پہلے یہ لائنز پڑھ کر دریاب بے خودی میں کتنی ہی دیر ہستا رہا تھا۔۔۔ جہاں ایکسپرٹس کی بھرمار تھی اور جہاں نئے لوگ بھی خود کو ایکسپرٹ ظاہر کرنے کو پورٹ فولیو کو مزید اٹریکٹ سے اٹریکٹ تر بنا کر کسٹمرز گریب کر رہے تھے وہاں اس لڑکی کا تین لائنوں میں اپنا مکمل انٹروڈکشن دے کر پراجیکٹ مانگنا اسے کافی حیران کر گیا تھا۔۔۔ نا جانے کیا سوچ کر وہ اسکی پروفائل پر کلک کر گیا تھا۔۔۔۔ پھر کچھ دیر کی سوچ بچار کے بعد اسنے ایک چھوٹا سا پراجیکٹ اسے دیا جو اسکے نئے پراجیکٹ کے لئے کچھ کور ڈیزائن تھے ۔۔۔ لیکن اسکی حیرت کی انتہا نا رہی جب ڈیل ڈن ہونے کے ٹھیک دو گھںٹے بعد اسے میل موصول ہوئی۔۔۔ ان کورز کو دیکھ کر وہ کتنی ہی دیر تک انہیں دیکھتا ہی رہا۔۔۔ اتنی پرفیکشن۔۔۔ ہر رنگ کا انتخاب جیسے بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا ہو۔۔۔ وہ اسکے کام سے بری طرح متاثر ہوا تھا۔۔۔ اسکے بعد اسنے چھوٹے بڑے کئ پراجیکٹس اسے دیئے۔۔۔ وہ ہر پراجیکٹ کو وقت سے پہلے مکمل کر کے اسے میل کر دیتی اور اسکی پریزنٹیشن اتنی بہترین ہوتی کہ دریاب اسے سراہے بنا نا رہ پاتا۔۔۔ تقریباً چھے ماہ تک اسکا کام دیکھنے کے بعد دریاب نے اپنی کمپنی کی طرف سے اس کیساتھ کانٹریکٹ سائن کیا تھا تب وہ آفیشلی انکے سٹاف کا حصہ بنی۔۔۔ وہ اس کمپنی کے آفیشل ہر گروپ میں شامل ہو گئ اور تب ہی وہاں واٹس ایپ گروپ سے اسے اسکا نمبر ملا۔۔۔پورا سٹاف ہی اسکی کارکردگی سے خوش تھا جسے اگر کبھی شارٹ نوٹس پر بھی کام دیا جاتا تو وہ بنا کسی تگ و دود کے اس کام کو مکمل کر دیتی تھی۔۔۔ تبھی رفتہ رفتہ اسکے اور دریاب کے درمیان بات چیت کا دورانیہ طویل ہونے لگا پہلے پہل انکی بات محض کام کے متعلق ہی ہوتی تھی لیکن پھر رفتہ رفتہ دریاب اس سے اکثر ہی اپنی الجھنوں کو سلجھانے میں مدد لینے لگا۔۔۔ اسکی بات کرنے کا انداز اتنا پر تاثیر ہوتا کہ دریاب کو اس سے بات کر کے سکون ملتا۔۔۔ لیکن اب جب وہ بیٹھا گزشتہ سبھی حالات و واقعات پر نظر ثانی کر رہا تھا تو اب یہ بات کلک ہو رہی تھی کہ ہالہ نے کبھی اپنی پرسنل لائف اس سے شیئر نہیں کی تھی۔۔ برے سے برے حالات بھی اسے درپیش رہے تھے لیکن اسنے ان سب کو کبھی اپنے آفیشلی کاموں پر اثر انداز نہیں ہونے دیا تھا۔۔ وہ حیران تھا کہ کیسے وہ سب مینج کرتی تھی کیونکہ اب بھی زہرا بیگم کو سمبھالنے کے دوران وہ کئ پراجیکٹس مکمل کر کے اسے میل کر چکی تھی۔۔۔ اب وہ ان دونوں کی آواز کا موازنہ کر رہا تھا تو جانا کہ دونوں کی آواز میں بہت مشابہت تھی لیکن اس سے پہلے کبھی وہ اس بات پر غور ہی نا کر سکا کیونکہ وہم و گمان میں بھی نا تھا کہ جس لڑکی کو اسنے اتنی شدت سے چاہا تھا وہ بہت پہلے ہی اسکی قسمت میں لکھ دی گئ تھی۔۔۔حالانکہ وہ اس چیز کو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر چکا تھا اسنے ہالہ کی محبت کو دل کے نہاں خانوں میں چھپا کر نور کو دل سے قبول کیا تھا لیکن وہ اللہ ہے نا جو ناجانے کب سے اسکی دل کی مراد پوری کر چکا تھا۔۔۔ دل میں کہیں خوشی کی لہریں تھی تو ایک گوشہ بے چین بھی تھا کہ کیا نور یہ سب جانتی تھی۔۔۔ کتنی خواہش کی تھی اس نے ہالہ کو روبرو دیکھنے کی۔۔۔ اب بھی جب سے پتہ چلا تھا وہ ہی ہالہ ہے جو نجانے کب سے دسترس میں تھی تو دل سبھی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھے اس کے پاس جانا چاہتا تھا۔۔۔ اسے سامنے بیٹھا کر اسے پہروں تکنے کا خواہشمند تھا۔۔۔ وہ دل و دماغ کی جنگ میں دل کے ہاتھوں بری طرح ہار رہا تھا۔۔۔ وہ پہنچ سے پرے لگتی تھی تو وہ دل کو ڈپٹ کر سمجھا چکا تھا مگر جب سے پتہ لگا تھا کہ وہ دسترس میں ہے ناجانے کب سے۔۔۔ تب سے تو دل بغاوت پر اتر آیا تھا۔۔۔ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ اپنے کمرے سے نکلا۔

*******

زہرا بیگم اور نور لاوئنج میں موجود صوفوں پر بیٹھیں تھیں ۔۔۔ سامنے دیوار گیر ایل ای ڈی پر کو مورنینگ شو چل رہا تھا جسے دیکھیتیں وہ دونوں آپس میں محو گفتگو بھی تھیں۔۔۔ نور کے ہاتھ میں چھڑی تھام رکھی تھی اور سامنے موجود کانچ کی میز پر ٹوکری پڑی تھی جس پر جھک کر وہ سبزی کاٹ رہی تھی۔۔

جی نہیں بالکل نہیں۔۔۔ ابھی چاولوں کا تو خیال بھی ترک کر دیں آپ۔۔ آج آپ کے لئے میں سپیشل چکن سوپ بنا رہی ہوں۔۔ اور یقین مانے آنٹی آپکو وہ بہت پسند آئے گا نور زہرابیگم کی چاولوں کی فرمائش سن کر بنا تردد کے سختی سے منع کرتی اپنی کہہ رہی تھی۔۔ کبھی تو مجھے کچھ میری پسند کا بھی دے دیا کرو۔۔۔ اچھا میں تم پر منحصر ہوئی ہوں تم نے تو پھیکے بے ذائقہ کھانے کھلا کھلا کر ویسے ہی میرا منہ بدمزا کر دیا ہے ۔۔ زہرا بیگم چڑ کر روٹھتے ہوئے ہلکا سا رخ بدل گئیں۔۔۔

ارے آنٹی فکر کیوں کر رہی ہیں آپ ایک بار آپکی اینڈوسکوپی کلیئر آ جائے میں خود آپکو۔۔۔

توبہ کرو لڑکی۔۔ خدا کو مانو۔۔۔ میں ایسے ہی بھلی ۔۔ کون بار بار اس تکلیف دہ عمل سے گزرے۔۔۔ تم نے مجھے کچھ اچھا نہیں کھلانا مت کھلاو مگر دوبارہ اتنے تکلیف دہ عمل کا نام بھی اپنی زبان پے مت لانا۔۔۔ وہ آج کل چڑچڑی ہوئیں تھیں تو ایسے ہی چھوٹی چھوٹی باتوں پر چڑ کر ہائپر ہو جاتیں۔۔۔

اوکے اوکے آنٹی مین نے تو بات برائے بات کی تھی۔۔۔ کوئی بات نہیں جیسے آپ کہیں گی ویسے ہی ہوگا۔۔۔ اور ویسے بھی آج اتنے مزے کا سوپ بناوں گی نا کہ آپ کے سارے گلے دور ہو جائیں گے۔۔۔ اسنے لمحوں میں بات سمیٹی تھی۔۔۔وہ ایسے ہی لمحوں میں بات سمیٹ لیتی تھی کہ وقت آنے پر جو ہونا تھا وہ تو ہو کر رہنا تھا پھر وقت سے پہلے بھلا بحث کا مقصد۔۔۔ چلو دیکھتے ہیں۔۔۔ وہ ایک مرتبہ پھر سے اپنی توجہ ایل ای ڈی کی جانب مبذول کر گئیں۔۔۔

ارے دریاب بیٹا آج آپ آفس نہیں گئے۔۔۔ زہرا بیگم نے چونک کر سیڑھیاں اترتے بیٹے کو دیکھا۔۔۔ نور نے بھی جھٹکے سے سر اٹھاتے انکی تائید کی۔۔۔ وہ سرمئ ٹراوزر اور وائٹ ٹی شرٹ میں ملبوس تھا۔۔۔ معمول سے ہٹ کر موجود حلیے میں وہ پہلے سے بڑھ کر شاندار لگ رہا تھا۔اس لباس میں اسکا دراز قد مزید نمایاں ہو رہا تھا۔۔۔ شاید وہ جو پہن لیتا تھا اس پر سوٹ کرتا تھا۔۔۔ نور کو اپنی ڈھرکنوں کا شور سمبھالنا محال لگا۔۔۔

جی امی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اس لئے۔۔۔ وہ کسلمندی سے کہتا وہیں موجود سنگل صوفے پر ڈھیلے سے انداز میں بیٹھا۔۔۔ نور نے اسکے کہنے پر اس پر غور کیا۔۔۔ سرخی مائل چہرا اور سرخ ہوتی آنکھیں اسکی خرابی طبیعت کی گواہ تھیں۔۔۔ یکدم ہی جیسے دل کو کچھ ہوا۔۔۔ تبھی دریاب نے اپنی ساحرانہ نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔ دونوں کی نگاہیں ملیں اور نور نے سٹپٹا کر نگاہوں کا رخ بدلا اور بوکھلاہٹ میں چہرے پر آئے بال کانوں کے پیچھے آرسنے لگی۔۔۔ دریاب کے لبوں پر مسکراہٹ نے ہلکی سی چھب دکھلائی۔۔۔ اس جان جہاں کا ہر انداز ہی قاتل تھا اور کچھ آج نگاہوں کا زاویہ بھی بدلا تھا۔۔۔

امی گڈی سے کہیں مجھے ناشتہ بنا دے۔۔۔ دریاب نے خاص یہ بات اسے نگاہوں کے حصار میں لے کر کہی دائریکٹ اسے کہنے سے گریز ہی کیا۔۔۔ جانتا تھا کہے کسی کا نام لے کر بھی ناشتہ اسی نے بنانا تھا۔۔۔ میں بنا دیتی ہوں۔۔ نور نے ایک پل کو اسکی نگاہوں میں جھانکا مگر جلد ہی نگاہیں جھکا گئ۔۔۔ افف اسکے دیکھنے کا انداز آج اسے بارہا بوکھلانے پر مجبور کر رہا تھا۔۔۔ وہ سرعت سے وہاں سے سبھی چیزیں سمیٹ کر کچن میں آئی۔۔۔

دریاب بیٹا مجھے کمرے میں چھوڑ دو میں تھک گئ ہوں۔۔۔ جی امی آئیے۔۔۔

اپنے پیچھے اسے زہرا بیگم کی آواز سنائی دی ۔۔۔ کچھ دیر کی محنت کے بعد وہ دریاب کے لئے ہلکا پھلکا سا ناشتہ تیار کر کے ساتھ فرسٹ ایڈ باکس سے بخار کی دوائی نکال کر لے کر واپس لاوئنج میں آئی جہاں وہ زہرا بیگم کی جگہ پر بیٹھا کمر صوفے کی پشت سے ٹکائے دونوں ہاتھ موڑ کر سر کے پیچھے رکھے محویت سے اسے ہی تک رہا تھا۔۔۔

چلیں جلدی سے ناشتہ کر کے یہ میڈیسن بھی کھائیں۔۔ وہ پورے استحقاق سے اسے پاس ہی براجمان ہوتی حق سے گویا ہوئی۔۔۔ سیریسلی دریاب نے ٹیک چھوڑ کر سیدھے ہوتے دائیں بھنور اچکاتے اسکے اس انداز کو خوشگوار حیرت سے دیکھا۔۔۔ جی بالکل

اس عنایت کی وجہ۔۔ دریاب کی نگاہیں اس سے ایک پل کو بھی ہٹنے سے انکاری تھیں۔۔

یہ فرض ہے میرا۔۔۔ جلدی سے ناشتہ مکمل کر کے میڈیسن لیں میں دیکھ رہی ہوں آپکو۔۔۔ دریاب کی مسلسل خود پر مرکوز نگاہیں دیکھ کر وہ جھنجھلاتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ دریاب نے مسکراہٹ اپنے لبوں میں دابی اور خاموشی سے ناشتہ شروع کیا۔۔

_____

دریاب لاوئنج میں صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے پاوں قینچی کی صورت بنائے سامنے موجود کانچ کی میز پر رکھے آنکھیں موندھے بظاہر سو رہا تھا مگر اسکی مکمل توجہ اندر کچن میں موجود کام کرتی نور پر تھی۔۔۔ صبح سے دل کی مان رہا تھا اب وہ کچھ دماغ کی بھی سننا چاہتا تھا اسی غرض سے کچھ سوچتے ہوئے اسنے اپنا موبائل نکالا اور ہالہ کو میسج سینڈ کیا۔۔۔ جانچتی نگاہیں نور پر ہی مرکوز تھیں۔۔ نینو سیکنڈ کے لحاظ سے کچن میں کھڑی نور کے پاس پڑے موبائل کی سکریں روشن ہوئی۔۔۔ سوپ کو ہلکی آنچ پر پکنا رکھ کر چولہے کی آنچ ہلکی کر کے موبائل پکڑ کر وہ کرسی کھینچ کر کچن میں موجود چھوٹی گول میز کے پاس بیٹھی۔۔ اسکا رخ باہر کی جانب تھا جہاں سے دریاب اسے براہ راست بنا کسی تردد کے دیکھ رہا تھا۔۔۔

کیسی ہو۔۔۔ موبائل کی سکریں پر جگماتا میسج دیکھ کر اسکے ہونٹوں ہر ایک مسکراہٹ دوڑی۔۔۔

ہمیشہ کی طرح بہت اچھی۔۔۔ مسکراتے ہوئے میسج ٹائپ کیا۔۔ جواب حسب توقع ہمیشہ والا ہی تھا ۔۔۔ دریاب نے اسے سنجیدگی سے دیکھتے اگلا میسج ٹائپ کیا۔۔۔ کیا کر رہی ہو۔۔۔

کچھ خاص نہیں۔۔۔ وہی ازلی جواب دیتے اسنے میز پر پڑا اپنا لیپ ٹاپ اپنے پاس کھینچا اور محویت سے اس پر کوئی کام کرنے لگی۔۔۔

مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے ہالہ۔۔ دریاب نے سنجیدگی سے کچھ سوچتے اگلا میسج ٹائپ کیا۔۔۔

جی۔۔۔جی۔۔۔ کہیے سر میں سن رہی ہوں۔۔ موبائل کی سکرین بلنک کرنے پر نور نے مصروف سے انداز میں موبائل اٹھاتے میسج پڑھ کر اگلا میسج ٹائپ کیا اور پھر سے توجہ لیپ ٹاپ پر مرکوز کر دی۔۔

دریاب کے چہرے پر مسکراہٹ رقصاں تھی۔۔۔ اگلے میسج کے ری ایکشن پر نور کے چہرے کے تاثرات اسکے سامنے ساری کہانی کھول دینے والے تھے۔۔۔

ہالہ آئی لو یو۔۔۔ ول یو میری می ۔۔ پلیز۔۔۔

میسج ٹائپ کرتے اسنے سرد نگاہیں نور پر جماتے سینڈ کا بٹن پریس کیا۔۔۔ جیسے ایک لمحے کو بھی دھیان ادھر ادھر گیا تو وہ بہت کچھ مس کر دے گا۔۔۔

نور نے لیپ ٹاپ پر نگاہیں مرکوز کئے ہی میسج آن کیا۔۔۔ موبائل کی سکرین پر نگاہیں پڑتے ہی حیرت سے اسکی آنکھیں وا ہوئیں ۔۔۔اسکے چہرے کی رنگت زرد پڑنے لگی ہاتھ کپکپائے اور ساتھ ہی موبائل زمین بوس ہوا۔۔۔ سرعت سے اپنے مختل ہوتے ہواسوں کو یکجا کرتے اسنے جھک کر موبائل اٹھایا۔۔۔ اسنے کئ بار سکرین روشن کر کے میسج بار بار پڑھا کہ کہیں اسے میسج پڑھنے میں کوئی غلط فہمی تو نہیں ہوئی۔۔۔ پریشان کن حالت میں موبائل کو واپس میز پر رکھتے اسنے کہنی میز پر ٹکاتے سر ہاتھ میں تھاما۔۔۔ دل یکدم سے پلٹا کھاتے حالات پر دھک دھک کرنے لگا تھا۔۔ سمجھ ہی نا آ رہی تھی کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔۔۔ اسکے اتنے ڈیسنٹ سر کو بیٹھے بیٹھائے کیا ہو گیا تھا۔۔۔۔۔نور کے تاثرات دیکھتا دریاب آ

صوفے پر سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔۔ اسکے تاثرات اتنے نیچرل تھے کہ دریاب خود مخمضے میں پڑ گیا۔۔۔

ہالہ کائنڈلی رپلائے۔۔ میں تمہارے جواب کا شدت سے منتظر ہوں۔۔۔ اسنے سنجیدگی سے نور کو دیکھتے اگلا میسج ٹائپ کیا کیونکہ اسے نور کے رپلائے کرنے کے دور دور تک کوئی اثرات دیکھائی نہیں دے رہے تھے۔۔۔ نور نے سر تھامے ہی دوسرے ہاتھ سے موبائل کی سکرین روشن کی اور اگلا میسج دیکھ کر اسنے کرب سے آنکھیں میچیں۔۔ اسکی توجہ مکمل طور پر اسکے کام سے ہٹ چکی تھی۔۔۔

یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں سر۔۔۔ آپ شادی شدہ ہیں۔۔۔ خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتے اسنے میسج ٹائپ کیا۔۔۔ واہ واہ واہ۔۔ میسج پڑھتے ہی دریاب عش عش کر اٹھا۔۔۔ مطلب انکار کی کیا سولڈ وجہ بتائی تھی اسنے کہ وہ شادی شدہ ہے۔۔۔ اور اس محترمہ کا اپنا وجود کہاں تھا بھلا۔۔۔۔

جی۔۔جی ہالہ میں جانتا ہوں کہ میرا نکاح ہو چکا ہے اور یہ بات میں نے ہی تمہیں بتائی تھی لیکن یقین مانو اس کے باوجود میں تمہیں بہت خوش رکھوں گا۔۔۔ تمہیں کبھی شکایت کا کوئی موقع نہیں ملے گا۔۔۔ نور کے تاثرات سوچتے اس نے مسکراہت لبوں میں دابتے اگلا میسج سینڈ کیا۔۔۔

مسج پڑھ کر نور کے ماتھے ہر لاتعداد شکنوں کا جال ابھرا۔۔۔ آپ ایسا کہہ بھی سکتے ہیں اور کر بھی سکتے ہیں سر مگر میں نہیں کر سکتی کیونکہ میں خود شادی شدہ ہوں اور اپنی زندگی میں بہت مطمیئں بھی ہوں۔۔۔ غصے سے میسج ٹائپ کرتے اسنے میسج سینڈ کر کے موبائل میز پر پٹخا۔۔۔

اووو۔۔۔ میسج پڑھتے ہی دریاب نے ہونٹوں کو اووو شیپ میں بنایا۔۔۔ یہ کھیل اسکے لئے انٹرسٹنگ ہوتا جا رہا تھا۔۔۔ تو کیا واقعی اسکے طرح نور بھی اس بات سے لاعلم تھی۔۔۔

جانتا ہوں کہ تم شادی شدہ ہو۔۔۔ دریاب کمال شوہر ہے نا تمہارا۔۔۔ بے ساختہ امڈتی مسکراہٹ کو ضبط سے روکتے اسنے اگلا میسج سینڈ کیا۔۔۔

آپ کیسے جانتے ہیں میرے شوہر کو۔۔۔ میسج پڑھ کر نور کی آنکھیں ابل پڑیں تھیں۔۔ حیرت ہی حیرت تھی۔۔۔

ہالہ ڈیئر آخر تم نے جانا ہی کتنا ہے مجھے ۔۔ ہم اہل محبت ہیں۔۔۔ اور محبت کی ہے ہم نے۔۔۔ تمہارے بارے میں سب کچھ جانتا ہوں۔۔ اور تم زندگی میں مطمیئن ہونے کو تو چھوڑ ہی دو۔۔۔ تمہاری زندگی جتنی آسودہ ہے نا مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔۔۔ اور تمہارا وہ شوہر دریاب وہ خود اپنی کولیگ میں انٹرسٹڈ ہے۔۔۔ تم میں اسے رتی برابر دلچسپی نہیں۔۔ اسی لئے کہہ رہا ہوں میرے بارے میں سنجیدگی سے سوچ لو۔۔۔ نور کے تاثرات کا سوچتے اسنے دلچسپی سے میسج ٹائپ کیا۔۔۔

میسج پڑھتے ہی نور کے چودہ طبق روشن ہوگئے۔۔۔ وہ کیسے جانتا تھا اسکی پرسنل لائف کے بارے میں اتنا۔۔۔ اسنے تو کبھی اپنی پرسنل لائف کو پروفیشنل لائف سے مکس نہیں کیا تھا۔۔۔ ہمیشہ سب سے اپنا آپ تک چھپا کر رکھا تھا پھر یہ کیسے۔۔۔ گلے میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی۔۔ اسے پہلے مرتبہ اس شخص سے خوف محسوس ہوا۔۔۔

______