Hala By Umme Hania Readelle50346 Hala (Episode 20)
No Download Link
Rate this Novel
Hala (Episode 20)
Hala By Umme Hania
کیسے گرگئیں امی۔۔۔۔ دریاب ملازمہ کی بات سنتا ہی حواس باختہ سا اندر کی جانب بڑھا۔۔۔
گڈی بیٹا آپ پہلے نور بٹیا کو انکے کمرے میں چھوڑ کر آئیں۔۔۔ کمال صاحب نے ضبط سے آنکھیں بند کر کے کھولیں اور دریاب کے پیچھے پیچھے اندر جاتی ملازمہ کو آواز دے کر نور کو اندر لیجانے کا کہا۔۔۔
جائیں بیٹا آپ گڈی کیساتھ اپنے کمرے میں جائیں۔۔۔ کمال صاحب نے اسکے سر ہاتھ رکھا تو نور نے اپنی نم آنکھیں اٹھا کر انہیں دیکھا۔۔۔
سب ٹھیک ہو جائے گا بیٹا۔۔۔ چیزوں کو واپس اپنی جگہ پر آتے شاید کچھ وقت لگے مگر انشااللہ اللہ بہتر کرنے والا ہے ۔۔۔۔ آپ کمرے میں جا کر آرام کرو۔۔۔ کمال صاحب بھی شاید اسکی آنکھوں میں رقم شکووں کو پڑھ چکے تھے اسی لئے وضاحت دینے کو گویا ہوئے۔۔۔
آئیے آئیے بی بی جی۔۔۔ آگے آگے جاتے ملازمہ نے اسکی رہنمائی کرتے دریاب کے کمرے کا دروازہ کھولا۔۔ نور نے جھجھکتے ہوئے کمرے میں قدم رکھا۔۔۔
آپکو کچھ چاہیے تو نہیں بی بی جی۔۔۔ اسکے کمرے میں آتے ہی گڈی نے اسفسار کیا اور اسکے نفی میں سر ہلانے پر وہاں سے نکل گئ جبکہ نور خاموش نگاہوں سے چاروں جانب سے کمرے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ کمرا نفاست سے سجا تھا جو رہنے والے کے ذوق کا منہ بولتا ثبوت تھا۔۔۔ کمرے میں گنے چنے فریش پھولوں کے بکے کے سوا کوئی سجاوٹ نا تھی۔۔۔
تب سے رکے آنسو تنہائی پاتے ہی بہہ نکلے تھے۔۔۔۔ دل ناجانے کن کن محرومیوں پر اشک کناں تھا۔۔۔ دنیا کے سامنے وہ بہت مضبوط تھی۔۔۔ اسے اپنی کمزوریاں کسی پر بھی عیاں کرنا گوارا نا تھا لیکن اندر سے تھی تو وہ ایک حساس سی لڑکی ہی نا جس نے خود پر سختی کے خول چڑھا لئے تھے۔۔۔ لیکن تنہائی ملتے ہی وہ سبھی خول چٹخنے لگے تھے۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا اسے دریاب کا انتظار کرنا چاہیے تھا یا کپڑے تبدیل کر لینے چاہیے تھے۔۔۔ اسی ادھیر پن میں وہ بہتی آنکھوں سمیَت صوفے پر بیٹھ گئ۔۔
******
امی کیا ہوا۔۔۔ آپ گر کیسے گئ۔۔۔ دریاب بعجلت بھاگتا ہوا کمرے میں داخل ہوا اور سکینہ گڈی کی ماں کے سہارے بیڈ پر بیٹھتی ماں کے پاس جاتا گویا ہوا۔۔
آہ میری ٹانگ دریاب۔۔۔ پتہ ہی نہیں چلا کہ کیسے پاوں سلپ ہو گیا اور ۔۔۔ آہ۔۔۔ میری ٹانگ ہی نہیں ہل رہی۔۔۔ اللہ۔۔۔ زہرہ بیگم کے چہرے ہر موجود تکلیف دہ تاثرات دریاب کو دکھ میں مبتلا کر رہے تھے۔۔۔ امی میں ابھی ڈاکٹر کو بلاتا ہوں۔۔۔ دریاب نے جیب سے موبائل نکالتے نمبر ملانا چاہا جب بے ساختہ زہرا بیگم اسے روک گئیں۔۔۔
ارے نہیں بیٹا ابھی گرم دودھ میں ہلدی ملا کر پیئوں گی اور ساتھ میں پین کلر کھاوں گی تو آرام آ جائے گا۔۔ سکینہ تم مجھے دودھ کا گلاس لا دو۔۔۔۔ زہرا بیگم نے دریاب کو کہنے کیساتھ ہی سکینہ سے کہا تو وہ جی اچھا جی کہتی کمرے سے باہر نکل گئ جبکہ کمال صاحب کمرے کے دروازے میں کھڑے ہاتھ پشت پر باندھے خاموشی سے انہیں دیکھ رہے تھے۔۔۔
دریاب بیٹا میرا سر بہت درد کر رہا ہے پلیز دبا دو۔۔۔ زہرا بیگم کا کہنا تھا کہ دریاب فوراً انکے پاس ہی بیٹھتا عقیدت سے انکا سر دبانے لگا۔۔۔
میرے خیال سے دریاب بیٹا کافی دیر ہو چکی ہے اب آپکو اپنے کمرے میں جانا چاہیے۔۔۔۔ کافی دیر تک جب دریاب وہیں بیٹھا زہرا بیگم کا سر دباتا رہا تو بلآخر کمال صاحب کو اسے موقع کی مناسبت کا احساس دلانا پڑا۔۔۔۔
کیا کہہ رہے ہیں آپ کمال پہلے ہی زرش کی رخصتی کےباعث دل اتنا اداس ہے مزید یہ تکلیف اوپر سے آپ دریاب کو بھیج رہے ہیں۔۔۔
میرا دل تو پہلے ہی بہت گھبرا رہا ہے۔۔۔۔ دریاب آج میرے پاس ہی رہے گا۔۔۔
کیسی باتیں کر رہی ہو زہرا۔۔۔ تمہارے پاس میں ہوں تم دریاب کو۔۔۔۔
بابا امی ٹھیک کہہ رہی ہیں۔۔۔انکی طبیعت ٹھیک نہیں میں آج رات امی کے پاس ہی ہوں۔۔۔ دریاب نے ماں باپ کی بڑھتی بحث کو روکنے کی خاطر بروقت مداخلت کی۔۔۔
دریاب کی بات پرجہاں زہرا بیگم کے چہرے پر مسکراہٹ در آئی وہیں کمال صاحب چند پل لب بھینچے خاموشی سے دریاب کو دیکھتے رہے۔۔۔۔ اور پھر اسی خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گئے۔۔۔ کمال صاحب کے چہرے کی رنگت خطرناک حد تک سپید پڑ گئ تھی۔۔۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتے سٹڈی روم میں داخل ہوئے اور دھم سے کرسی پر ڈھے گئے۔۔۔
ایک موتی باوجود ضبط کے انکی آنکھ سے ٹوٹا تھا۔۔۔ مجھے معاف کر دینا گل۔۔۔ شاید میں اپنا وعدہ پورا کرنے میں ناکام ہو رہا ہوں۔۔۔ لیکن نہیں نور مجھے میری بیٹیوں سے بڑھ کر عزیز ہے اس کے ساتھ نا انصافی نہیں ہونے دوں گا۔۔۔ کبھی رلنےنہیں دوں گا اسے۔۔۔ تمہارے ساتھ کیا وعدہ آخری پل تک ایفا کروں گا۔۔۔۔ آگے کے حالات وہ بخوبی سمجھ سکتے تھے اور آگے کے حالات کے پیش نظر کمال صاحب نے لمحوں میں ایک فیصلہ کیا تِھا اوراپنے فیصلے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے انہوں نے بعجلت جیب سے موبائل نکالا۔۔۔۔
******
ندھال اور مضحمل سی زرش کا وہاں پر جوش استقبال ہوا تھا۔۔۔ حدید کی دادو اسکے واری صدقے جاتی نا تھک رہی تھی۔۔۔ وہ دونوں پر سے کئ نوٹ وارتیں ملازموں میں تقسیم کر چکی تھیں۔۔۔
جان سے پیارے پوتے کی شادی پر انکے قدم ہی زمین پر نا تک رہے تھے۔۔۔ وہ تو کب سے اسکی شادی کروانے کے چکروں میں تھی پر وہ تھا کہ ہاتھ ہی نا آتا تھا۔۔۔ اب بھی قسمت نے انہیں موقع دیا تھا تو وہ دل کےسبھی ارمان نکال دینا چاہتی تھیں۔۔۔ ناجانے کون کونسی رسمیں وہ نکال کر بیٹھ گئ تھیں۔۔۔ حدیدکچھ دیر تک ان کا ساتھ دیتا رہا پھر کوئی فون کال آنے پر ایکسکیوز کرتا وہاں سے اٹھ گیا تھا۔۔۔
ہادیہ بیٹا آپ دلہن کو اسکے کمرے میں چھوڑ آو۔۔۔ بچی بچاری اب تھک چکی ہوگئ۔۔۔ چند ایک مزید رسموں کے بعد دادو نے حدید کی رشتے کی ایک کزن جو کہ انکے ساتھ ہی گاوں سے آئی تھی سے کہا۔۔۔
زرش کی ڈھرکن اسکے کانوں میں ڈھرکنے لگی تھی ۔۔۔۔ ہادیہ اسے سہارے سے اسکے کمرے تک لائی اور اسے اختیاط سے پھولوں سے سجی سیج پر بیٹھایا۔۔۔ کمرا بہت آرٹسٹک انداز میں سجایا گیا تھا مگر وہ اپنی ابتر ہوتی حالت کے پیش نظر کمرے کی سجاوٹ پر توجہ ہی نا دے پائی۔۔۔ وہ تو ہادیہ کے جاتے ہی لہنگا مٹھیوں میں بھینچے لب کچلتی گھبرائی نظروں سے کمرے کے درواَزے کی جانب دیکھ رہی تھی جہاں سے کسی بھی وقت حدید اندر آنے والا تھا۔۔۔
کیا مصیبت ہے یار۔۔۔ ایموشنل بلیک میل کر کے حدید بھائی سے شادی کروا دی سب نے میری۔۔۔ اب خود سب سکون سے گھر میں بیٹھے ہیں اور مجھے سڑیل سے حدید بھائی کے۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ نہیں بھائی نہیں۔۔۔۔ بھائی نہیں زرش۔۔۔ خود سے بڑبڑاتی وہ سر پر ہاتھ مارتی اپنی ہی توصیح کرنے لگی ابھی تو نکاح ہوئے بھی چند گھنٹے ہوئے ہیں۔۔ کیا مصیبت ہے اب حدید بھائی کو بھائی بھی نہیں کہہ سکتی۔۔۔ کیسے حدید کہوں گی۔۔۔ اللہ۔۔۔ کیا کروں۔۔۔۔ اپنی ہی جوڑ توڑ میں وہ ہلکان ہوتی روہانسی ہو گئ تھی۔۔۔ دل الگ بے چین تھا۔۔۔
بھائی کو فون کروں کہ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔ نہیں یار۔۔ بھائی کی تو اپنی آج شادی ہوئی ہے انہیں کیا ڈسٹرب کرنا۔۔۔ پھر اب کیا کروں۔۔۔ وہ انگلی دانتوں تلے دابے بھرائ نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔۔۔ ایک آنسو ٹوٹ کر گال پر پھسلا۔۔۔
نہیں میں نہیں رووں گی۔۔۔ کسی کو میری فکر نہیں ہے پھر میں کیوں رو رو کر خود کو ہلکان کروں پہلے ہی اتنا روئی ہوں اب تو آنکھیں بھی درد کرنے لگی ہیں۔۔۔ اتنی بھی ڈرنے کی اب کوئی بات نہیں۔۔ مانا کہ حدید کھروس اور سڑیل ہیں پر جن تو نہیں نا جو کھا جائیں گے۔۔۔ میں ڈرتی تھوڑی ہوں ان سے۔۔۔ ہاں نہیں تو۔۔۔ اسنے رگڑ کر اپنی آنکھوں کو صاف کیا آنکھیں تھپتھپا کر انہیں زرا ریلیکس کرنے لگی جب دروازے کے باہر بھاری قدموں کی چاپ ابھری۔۔۔ یکدم ہی گویا اسکا دل اچھل کر ہلق میں آ گیا تھا۔۔۔ ساری تیزی طراری گل ہو گئ۔۔۔ تھوک نگلتی وہ فوراً سے پیشتر سیدھی ہو کر بیٹھی اور کچھ دیر پہلے اٹھایا جانے والا گھونگت سرعت سے نیچے گرایا۔۔ کلک کی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا اور پھر بند ہوا۔۔۔ زرش اپنا سانس تک روک گئ۔۔۔ لاشعوری طور پر وہ حدید کے بیڈ کی جانب آنے کی منتظر تھی مگر جب کچھ پلوں تک قدموں کی آواز نا آئی تو زرش نے دل کڑا کر کے گھونگٹ کی آر سے اسے دیکھنا چاہا۔۔۔
وہ صوفے کے پاس کھڑا شیروانی کے بٹن کھول رہا تھا پھر اسنے شیروانی اتار کر صوفے پر رکھی اور بالوں میں ہاتھ چلاتا بیڈ کی طرف آنے کی بجائے وارڈروب کی جانب بڑھا۔۔۔ گھونگٹ کی آر سے زرش حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ وارڈروب سے کپڑے نکال کر وہ ڈریسنگ روم کی جانب بڑھا۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ کمرے میں واپس آیا تو سیدھا روم ریفریجریٹر کی جانب بڑھا گویا وہ کمرے میں اسکی موجودگی کو یکسر فراموش کر چکا ہو۔۔۔۔
فریج سے انرجی ڈرنک کا ٹین پیک اٹھائے وہ صوفے پر نیم دراز ہوئے میز پر دونوں ٹانگیں جمائے پرسکون انداز میں گھونٹ گھونٹ انرجی درنک حلق سے اتارنے لگا۔۔۔
زرش کو اب گھبراہٹ ہونے لگی تھی۔۔۔ حدید کا رویہ ناقابل فہم ہوتا جا رہا ہے۔۔۔ اسے اب بیڈ کے وسط میں آپنا آپ فضول محسوس ہو رہا تھا۔
آنسو ایک بار پھر سے بہہ نکلنے کو تیار کھڑے تھے۔۔ اسکا دل چاہا کہ نوچ نوچ کر سب کچھ تہس نہس کر دے۔۔۔
صوفے کی پشت سے سر ٹکائے وہ مسلسل گھونگٹ اوڑھے بیٹھی تھر تھر کانپتی زرش کو نظروں کے حصار میں لئے بیٹھا تھا۔۔۔ تم چینج کر لو۔۔۔ ٹین پیک میز پر رکھتا وہ سیدھے ہو کر بیٹھتا سنجیدگی سے گویا ہوا تو زرش نے جھٹکے سے گھونگٹ ہٹا کر حیرت سے اسے دیکھا حدید بھی یک ٹک اسکے ہوشربا چہرے کو دیکھ رہا تھا مگر زیادہ دیر تک حدید کی سنجیدہ نگاہوں میں دیکھنا زرش کے بس کی بات نا تھی اسی لئے جھجھک کر نگاہیں جھکا گئ۔۔۔
جب اسنے صاف الفاظ میں اسے کپڑے چینج کرنے کو بول ہی دیا تھا تو پھر پیچھے بھلا رہ کیا گیا تھا۔۔
اسکے دل میں ہزاروں سوال اٹھ رہے تھے۔۔۔ کیا یہ شادی حدید نے مجبوراً کی تھی۔۔۔ کیا حدید اس شادی سے خوش نہیں تھا۔۔۔ کیا حدید کسی اور کو پسند کرتا ہے۔۔۔ طرح طرح کے دل میں سر ابھارتے سوالوں کو نظر انداز کرتے زرش بیڈ سے اتری ایسا کرنے سے ہاتھوں میں موجود چوریاں جلترنگ کی مانند بج اٹھی تھی۔۔۔ وہ اپنے ڈولتے وجود کو سمبھالتی بامشکل واش روم میں جا کر بند ہوگئ جہاں اسکے کپڑے پہلے سے ہی لٹک رہے تھے جس کے بارے میں ہادیہ اسے پہلے ہی بتا چکی تھی۔۔۔
واش روم کے دروازے سے پشت ٹکاتی وہ بے ساختہ رو دی تھی۔۔۔ بے حس اجڈ پڑھا لکھا جاہل گوار۔۔۔۔ ال مینرڈ ۔۔ زرا سینس نہیں کہ لڑکیوں سے کیسا رویہ رکھتے ہیں اور وہ بھی بالخصوص پہلے دن کی دلہن کیساتھ۔۔۔ میں کیوں رووں ۔۔۔ میں بھی جیسے مری جا رہی ہوں اس سڑیل بندے پر۔۔۔ بھاڑ میں جائے۔۔۔ اللہ نے زرا شکل کیا اچھی دے دی زیادہ شوخا ہو گیا ہے۔۔۔ ہنہہ۔۔۔ آنسو رگڑ رگڑ کر صاف کرتی آئینے کے سامنے گئ۔۔۔
ہنڈسم ہے تو کیا میں ہی بد صورت ہوں۔۔۔ چراغ لے کر بھی نکلتے نا تو مجھ جیسی پیاری بیوی نہیں ملنی تھی انہیں۔۔ بھلا ان جیسے سڑیل کو بھی کوئی بیٹی دیتا ہے۔۔ آئینے میں اپنے بجلیاں گراتے سراپے کو دیکھتے آنسو ایک مرتبہ پھر سے بہہ نکلے تھے۔۔۔
آندھے نا ہوں کہیں کے تو۔۔ بندہ کوئی تعریف کے ہی دو بول بول دیتا ہے۔۔۔ پر نہیں شان گھٹ جانی تھی نا اگر تعریف کر دیتے تو۔۔۔
شیرنی بنی وہ کپڑے چینج کر کے زیورات کی گرفت سے خود کو آزاد کرواتی واپس کمرے میں آئی مگر کمرے میں آتے ہی دوبارہ بیگی بلی بن گئ کمرے کی لائٹ آف تھی محض زیرو پاور کے بلب کی روشنی کمرے میں نیم اندھیرا کئے ہوئے تھی حدید بیڈ پر ایک بازو آنکھوں پر ٹکائے لیٹا تھا اسے دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ سو چکا ہے یا جاگ رہا ہے۔
لب کچلتی اسے چور نگاہوں سے دیکھتی زرش ڈھرکتے دل کیساتھ آہستہ چال چلتی بیڈ تک آئی اور بنا آواز پیدا کئے بیڈ کے کنارے پر یوں ٹک گئ کہ زرا سا ہلتی تو زمین بوس ہو جاتی۔۔۔ اسنے آنکھیں زور سے میچ کر سونے کی کوشیش کرنی چاہیے۔۔
*****
