Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hala (Episode 29)

Hala By Umme Hania

زرش کافی دیر سے اٹھی تھی مگر اٹھنے کے بعد بھی وہ کافی دیر تک بیڈ پر چت لیٹی سیلنگ فین کو گھورتی رہی کندھوں تک لحاف اوڑھ رکھا تھا۔۔۔۔گویا دماغ مفلوج ہو کر رہ گیا تھا خاموش آنسو تیزی سے بہتے دائیں بائیں جانب کنپتیوں میں جذب ہو رہے تھے۔۔۔ اس کے لئے یہ تصور ہی جانگسل تھا کہ اسکی عزیز از جان ہستی اب اس دنیا میں نہیں رہی۔۔۔

باہر سے عورتوں کی آوازیں مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی مانند اسے سنائی دے رہی تھیں عورتیں گویا قرآن خوانی کے لئے آئی ہوئی تھیں۔۔۔

کافی دیر بعد وہ ہمت پکڑتی اٹھ کر بیٹھی اور چپل اڑستی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی کمرے سے باہر نکلی۔۔۔ باہر مرمریں راہداری کے بعد لاوئنج کا منِظر واضح تھا جہاں نیچے زہرا بیگم کے ساتھ اکا دکا ہی عورتیں بیٹھیں تھیں۔۔۔ سامنے چھوٹے سے میز پر چند مختلف سپارے پڑے تھے۔۔۔ اسکے لاوئنج تک آتے وہ چند ایک عورتیں بھی زہرا بیگم سے الوداع لیتی باہر نکل گئ۔۔۔ مضحمل سی زہرا بیگم کی نظر ندھال سی اپنی جانب آتی زرش پر پڑی تو وہ اٹھ کر زرش کی جانب بڑھیں۔۔۔ زرش انکے گلے لگتی ایک مرتبہ پھر سے سسک اٹھی تھی۔۔۔

بس میری بچی۔۔ ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔۔۔ اللہ کی کرنی جھیلنی ہی ہڑتی ہے۔۔۔ گڈی زرش کے لئے ناشتہ لاو۔۔۔

زہرا بیگم نے اسے ساتھ لگائے دلاسہ دیا اور اپنے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھاتے گڈی کو آواز لگائی۔۔

کچھ ہی دیر بعد گڈی بھاپ اڑاتا ناشتہ اسکے سامنے میز پر رکھ چکی تھی۔۔

چلو شاباش سب سے پہلے ناشتہ کرو۔۔۔ زہرا بیگم نے اسکے سر پر محبت سے ہاتھ پھیرا تو وہ بھی بھوک سے ندھال چھوٹے چھوٹے نوالے لینے لگی۔۔

امی بھابھی کہاں ہیں۔۔۔ اٹھی نہیں وہ ابھی۔۔۔ زرش نے کھانا کھانے کے بعد متلاشی نگاہوں سے ادھر ادھر نور کو تلاشا اور ناکام ہو کر پھر ماں سے ہی پوچھ ڈالا۔۔

ارے نکال دیا ہے میں نے اس منحوس کو۔۔۔ انیکسی میں ہے اس وقت۔۔۔ میرا تو بس نہیں چل رہا کہ کلموہی کو جان سے ہی مار ڈالوں۔۔۔ تنفر و حقارت سے پر لہجہ زرش کو کئ لمحوں تک ساکت کر گیا۔۔۔ امی ی ی ی ۔۔۔ آواز میں بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔۔۔ یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ۔۔۔

ارے اور نہیں تو کیا۔۔۔ منحوس اس گھر میں آتی ہی اس گھر کی خوشیوں کو کھا گئ۔۔۔ میرے شوہر تک کو نہیں بخشہ نحوس ماری نے۔۔۔ خدا کے مار پڑے اس کلموہی پر۔۔۔۔ ماں کے القابات پر زرش کو گھبراہٹ ہونے لگی تھی دل زور سے ڈھرکا تھا۔۔۔ کیا یہ اسکی ماں تھی۔۔۔ اسنے اپنی ماں کا ایسا روپ زندگی میں پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔۔۔

امی آپ اس زمانے میں رہ کر کن دقیانوسی باتوں کا ذکر کر رہی ہیں۔۔۔ آپ کب سے اتنی دقیانوس ہو گئیں۔۔۔ اسکا دل بھر آیا تھا فوراً سے ہانپتی ہوئی صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔

اچھا تو اب تم اس دو کوڑی کی لڑکی کے لئے ماں سے بحث پر اترو گئ۔۔۔ اسے مسلسل نور کی سائڈ لیتے دیکھ زہرا بیگم کا پارا چڑھنے لگا تِھا۔۔ ماتھے پر جابجا بل پڑے تھے۔۔۔ بات طرف داری کی نہیں ہے ماں۔۔۔ مانا کہ آپ میری ماں ہیں اور ماں سے زیادہ اولاد کے لئے کوئی مخلص نہیں ہو سکتا۔۔۔ لیکن بیٹی ہونے کے ناطے میرا فرض ہے کہ اگر آپ کچھ غلط کر رہی ہوں تو آپکی تردید کروں نا کہ اندھی تقلید کروں۔۔ آپ کو سمجھاوں کہ یہ غلط ہے۔۔۔ ایک آنسو ٹوٹ کر اسکی گال پر پھسلا تھا۔۔۔ ابھی تم اتنی بڑی نہیں ہوئی زرش کہ اپنی ماں کو سمجھا سکو۔۔۔ انکا نخوت ہنوز برقرار تھا۔۔

غلط کر رہی ہیں آپ ماں بہت غلط۔۔۔ وہہاں میں ہلاتی آنسو رگڑ کر صاف کرتی وہ جھٹکے سے پلٹی تھی۔۔۔

اب کہاں جا رہی ہو تم۔۔۔ اسے وہاں سے جاتا دیکھ زہرا بیگم سرعت سے اسکی جانب لپکی ۔۔۔

گھر جا رہی ہوں اپنے ۔۔ حدید کا فون آیا ہے وہ تھوڑی دیر تک لینے آنے والے ہیں مجھے۔۔۔ تب تک اپنا سامان سمیٹ لوں۔۔۔ وہ زرا کی زرا رک کر گویا ہوئی البتہ پلٹنے سے گریز کیا بات کہتے ہی وہ پھر سے اپنے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔

لینے آ رہا ہے۔۔۔ مگر اتنی جلدی ابھی آج تو کمال کا سوئم ہے۔۔۔ زہرا بیگم الجھی یکدم ہی انہیں گھر مکمل طور پر خالی ہونے کا احساس ہوا۔۔۔۔

امی اب یہ گھر میرا نہیں نور کا یے اور بہتر ہے کے اصلی حقدار ہی اپنے اصلی مقام پر رہے۔۔۔ کمرے کے دروازے کے پاس رک کر اسنے سرخ نگاہیں اٹھا کر ماں کو دیکھا اور سرعت سے اندر آتی کمرے کا درواہ بند کر گئ۔۔۔

کچھ دیر تک دروازے سے ٹیک لگا کر کھڑی رہنے کے بعد وہ بیڈ پر آ کر ڈھے سی گئ۔۔۔۔ منتشر حواس یکجا کر کے اسنے حدید کو اسے گھر لیجانے کا میسج کیا ۔۔۔ اسنے ماں سے جھوٹ بولا تھا کہ حدید اسے لینے آنے والا ہے درحقیقت وہ اپنی ماں کو سمجھا نہیں سکتی تھی انہیں اپنی بات پر قائل نہیں کر سکتی تھی اس لئے وہ اس گھٹن زدہ ماحول سے چلے جانا چاہتی تھی کیونکہ اگر مزید یہاں رکتی تو ماں کے فرمان سن کر شاید پاگل ہو جاتی۔ دوسرے کا درد محسوس کرنے کے لئے بھی ضمیر کا زندہ ہونا ضروری ہوتا ہے جو ابھی اسکا زندہ تھا تبھی وہ نور کا دکھ دل پر محسوس کر رہی تھی۔۔

******

دریاب اپنے آفس میں بیٹھا کوئی فائل پڑھ رہا تھا اسکا آفس بھی اس کی طرف لاجواب تھا اسکے بالکل پیچھے گلاس وال تھی جس سے اس وقت کرٹن ہٹایا ہوا تھا جس کے باعث باہر کا منظر بلکل واضح تھا لیکن کمرا ساوئنڈ پروف ہونے کے باعث باہر سے آتا ٹریفک کا بے ہنگم شور اندر آنے سے قاصر تھا دریاب نے وہ فائل پڑھ کر اس پر سائن کئے اور اگلی فائل اٹھائی۔۔۔ اسکے پاس ویسی فائلز کا ایک انبار لگا تھا ۔۔۔ پے در پے مصروفیات پہلے شادی کے ہنگامے اور پھر کمال صاحب کی وفات کے بعد اس پر کام کا بوجھ بہت بڑھ گیا تھا مزید کام بہت پینڈک چلا گیا تھا اس لئے وہ صبح سے ہی لگاتار بنا بریک لئے کام کر رہا تھا۔۔۔۔ اس فائل کو پڑھتے اسکی آنکھوں میں مخصوص چمک ابھری تھی۔۔۔ چہرے پر ایک مسکراہٹ دور گئ تھی۔۔۔ اسنے انٹرکام اٹھا کر سکریڑی سے رابطہ استوار کیا۔۔۔

مس ہالہ نے دوبارہ جوائنینگ دے دی ہے۔۔۔ انداز سوالیہ تھا۔۔۔ جی سر آج سے ہی انہوں نے دوبارہ جوائنینگ دی ہے۔۔۔ جواب موصول ہوتے ہی وہ پورے دل سے مسکرا دیا۔۔۔ ہالہ کچھ دن کی لیو پر تھی۔۔۔ مگر اب اسکے دوبارہ جوائنینگ کا سن کر وہ پرسکون ہو گیا تھا۔۔۔ انٹرکام واپس رکھ کر اسنے دوبارہ سے فائل کا جائزہ لیا تھا۔۔ کام ہمیشہ کی طرح لاجواب تھا وہ لڑکی اپنے کام سے اتنی ہی مخلص تھی کہ دوسرے کو مرغوب کر کے رکھ دیتی۔۔۔۔

اگر کبھی آپکو مجھ میں سے یا اس میں سے کسی ایک کو چننا پڑے تو آپ کسے چنیں گے۔۔۔ ہوا کے دوش پر لہراتی ایک سُریلی آواز اسکے کان سے ٹکرائی تو اسکے مسکراتے لب سکر گئے۔۔۔ اسنے بے چینی سے اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔۔۔ یہ وہ بات تھی جسکا جواب وہ تنہائی میں خود کو بھی نہیں دینا چاہتا تھا۔۔۔

منگتی نہیں ہوں میں جو آپ مجھے یہ پیسے دیں گے۔۔۔ جب حق سے اپنے گھر لیجائیں گے تو تب پیسے بھی لے لوں گی۔۔۔۔

اسے نور کا صبح والا شعلہ جوالہ روپ یاد آیا تو مسکرا کر سر جھٹک گیا۔۔۔

پاگل۔۔۔۔

_______

نور مجھے ناشتہ بنا دو۔۔۔ وہ وائٹ چکن کا پلازو اور لائٹ پنک شارٹ شرٹ زیب تن کئے سر پر لائٹ پنک ہی حجاب کئے ہاتھ میں فائل تھامے سیڑھیاں اتر رہی تھی جب لاوئنج میں بیٹھی فرحین نے ناخنوں پر نیل پالش لگاتے اسکے شفاف بے داغ چہرے کو ایک سرسری نگاہ سے دیکھتے کہا۔۔۔

فرحین کی بات سن کر نور کے ماتھے پر جا بجا بل پڑے۔۔۔ سوری چاچی۔۔۔ میری یونیورسٹی میں بہت اہم کلاس ہے اس لئے مجھے وہاں وقت پر پہنچنا ہے ۔۔ وہ اسے ٹکا سا جواب دے کر ابھی دو قدم ہی آگے بڑھی تھی جب یکدم سے فہد اسکے سامنے آیا۔۔۔ اتنا اکڑ کس بات پر رہی ہو۔۔۔ کیا کرو گی اتنا پڑھ کر آخر اتنا پڑھ کر بھی بننا تو میری ہی بیوی ہے نا تم نے تو پھر۔۔۔ وہ تیڑھی نگاہوں سے اسکا سر تا پیر جائزہ لیتا لوفرانہ انداز میں گویا ہوا۔۔۔ نور کا خون کھول اٹھا اسکے طرز تخاطب سے۔۔۔ پچھلے آٹھ نو سالوں سے وہ ان سب کے یہ رویے برداشت کر رہی تھی مگر چھ ماہ پہلے جب فہد اور امداد نے انکی پڑاپڑتی بیچنی چاہی تب ان پر انکشاف ہوا کہ وہ سب نور کے نام تھا اور وہ تب تک اپنی پڑاپڑتی بیچ نہیں سکتی تھی جب تک اکیس سال کی نا ہو جاتی یا جب تک اسکی شادی نا ہو جاتی۔۔۔ اور تب سے ہی فہد کی اس پر نظریں بدل گئ تھی۔۔۔ وہ اٹھتے بیٹھے اس سے کوئی نا کوئی واحیات بات بولتا رہتا تھا۔۔۔۔ آئتل بیٹی کو خاموشی سے صبر سے رہنے کا ہی سبق پڑھاتی تھی۔۔۔ آئتل کی اپنی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی تھی اس لئے وہ اندر ہی اندر کئ رشتہ کروانے والیوں کے توسط سے نور کے لئے رشتے دیکھ رہی تھی تاکہ کوئی قابل اعتماد شخص دیکھ کر نور کی ذمہ داری سے سبکدوش ہو سکے۔۔۔ اسکی یہ ساری سرگرمیاں باقی سب گھر والوں سے مخفی تھیں۔۔۔

میں اس وقت تمہارے منہ نہیں لگنا چاہتی فہد۔۔۔ میرا راستہ چھوڑو مجھے دیرررررر۔۔۔۔ آہ ہ ہ ۔۔۔۔ انگشت اٹھاتی وہ غصے کی زیادتی سے پھٹ پڑی تھی جب فہد نے اسکی انگلی میں اپنی انگلی ڈال کر اسے مڑور ڈالا۔۔۔۔ تکلیف کی شدت سے وہ کراہ اٹھی تھی۔۔۔ اس جمعے کو ہمارا نکاح ہے اور تب تک تم گھر سے قدم باہر نہیں نکالو گئ۔۔۔ آئی سمجھ فہد نے مزید دو قدم اسکی جانب بڑھاتے انگلی سے اسکے ماتھے کو ٹھوکا۔۔۔

فرحین دلچسپی سے یہ ساری کاروائی دیکھتی بیٹے کی بلائیں لے رہی تھی۔۔۔ بھول ہے تمہاری کہ میں تم سے شادی کروں گی گھٹیا انسان۔۔۔ میں تم جیسے گھٹیا شخص پر تھوکوں بھی نا اور تم۔۔۔ غیض و غضب سے وہ ڈھار اٹھی تھی مگر درندوں کے درمیان اکیلی عورت کی آواز بھلا کہاں تک احتجاج کر سکتی ہے۔۔۔ اب تمہیں بتاتا ہوں کہ گھٹیا انسان کیسا ہوتا ہے۔۔۔ اب ہمارا نکاح جمعے کو نہیں بلکہ آج شام کو ہی ہوگا۔۔۔ وہ نور کو بالوں سے جھکڑتے کھینچتے ہوئے مغلظات بکتا کمرے کی طرف لے کر جا رہا تھا۔۔۔ آوازوں کا شور سن کر آئتل اپنے کمرے سے ننگے پاوں بھاگ کر باہر نکلی ۔۔۔۔۔ حالات نے وقت سے پہلے ہی اس پر گہری چھاپ چھوڑی تھی کل رات سے ہی اسکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اسی لئے دواوں کے زیر اثر ابھی تک سو رہی تھی اسکی آنکھ شور کی آوازوں اور نور کی چیخ و پکار پر کھلی تھی۔۔۔ لیکن لاوئنج میں آتے ہی وہ نور کی حالت دیکھ کر دل تھام کر رہ گئ جسکا حجاب کھسک کر زمین کو سجدہ ریز ہو رہا تھا بکھرے بال اور آنسوں سے تر چہرے کے ساتھ وہ فہد کی گرفت میں بن جل مچھلی کی مانند ٹرپ رہی تھی۔۔۔

نور۔۔۔ فہد۔۔ چھوڑوں اسے۔۔۔۔ میں کہتی ہوں چھوڑو اسے۔۔۔۔ اسکی طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں تھی اب جسم کیساتھ ساتھ آواز بھی لرز رہی تھی۔۔۔ وہ سرعت سے فہد کی جانب بڑھی جب فرحین نے ایک ہی جست میں اسے دبوچا۔۔۔

تو کہاں سیدھی سادی کہانی میں ولن کا کردار نبھانے اندر گھس رہی ہے۔۔۔ فرحین نے اسے بے طرح جھکڑا تھا۔۔۔ آئتل کو کھانسی کا بری طرح دورا پڑا۔۔۔

ماں کی طبیعت بگڑتی دیکھ نور کو اپنے جسم سے روح نکلتی محسوس ہوئی۔۔۔ قیامت سا منظر تھا وہ۔۔۔اپنی بھلائے وہ ماں کے لئے ترپ اٹھی۔۔۔

چھوڑو مجھے رزیل انساں میری امی۔۔۔ اسکی دل چیرتی فریادوں کو سننے والا وہاں کوئی نا تھا۔۔۔۔ فہد نے اسے جھٹکے سے اندر کمرے میں دھکا دیا۔۔۔ وہ اوندھے منہ زمین بوس ہوئی۔۔۔ دھکا پر زور تھا گھٹنوں اور کہنیوں پر جا بجا خراشیں آئی تھیں۔۔۔ وہ ہر درد سے بے نیاز جھٹکے سے اٹھی اور لپک کر دروازے کی جانب بڑھی مگر دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی فہد باہر سے دروازہ لاک کر چکا تھا۔۔۔ شام کو ہمارا نکاح ہے اور شام تک اسے کوئی باہر نہیں نکالے گا۔۔۔

باہر سے اسے آئٹل کے کراہنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔۔۔ اسکی طبیعت بگڑ رہی تھی نور نے ماں کو ہتیھلی کا چھالہ بنا کر رکھا تھا ۔۔۔ اسکی زرا زرا سی تکلیف پر وہ رات رات بھر نہیں سوتی تھی۔۔۔ اسکی راحت کے لئے سو سو جتن کرتی تھی۔۔۔ مگر اب ماں کی حالت اسے خون کے آنسو رلا رہی تھی کیونکہ آئتل کی سبھی دوائیوں کے اوقات کار اور مقدار کے بارے میں وہ ہی جانتی تھی۔۔۔۔

باہر آئتل درد سے کراہ رہی تھی اور اندر وہ ماں کی حالت پر ترپ رہی تھی۔۔۔

دروازے پر دستک کی آواز پر نور ہربڑا کر ماضی کے گرداب سے نکلی۔۔۔

وہ ماضی جو بہت اذیت ناک تھا۔۔۔ اسنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر خود کو کمپوز کیا۔۔۔ وہ ابھی تک انیکسی کے لاوئنج میں اسی صوفے پر بیٹھی تھی سامنے کتابیں ویسی ہی کھلی پڑیں تھیں۔۔۔ دروازے پر تیز ہوتی دستک کی آواز پر وہ بے دلی سے چپل اڑستی دروازے کی جانب بڑھی۔۔۔ ناجانے اب باہر کون تھا۔۔

______