Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hala (Episode 17)

Hala By Umme Hania

وہ اس وقت چھوٹے سے لاوئنج میں کھڑی ایک ہاتھ کمر پر رکھےآنکھیں چندھی کرے ارد گرد کا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔۔ صاف ستھری چھوٹی سی دو کمروں لاوئنج اور اوپن کچن پر مشتمل انیکسی اس وقت چم چم کر رہی تھی۔۔۔ غالباً کمال انکل نے اسے یہاں لانے سے پہلے یہاں کی صفائی کروائی تھی۔۔۔ کتنی بحث کی تھی اسنے کمال انکل سے یہاں نا آنے کے لئے۔۔ پہلی مرتبہ اس نے کمال انکل سے کوئی ضد کی تھی اور وہ بھی تکرار نما ضد کیونکہ یہاں بات عزت نفس کی تھی ۔۔۔ آخر اسکے پاس اور تھا ہی کیا سوائے اسکی خداری اور عزت نفس کے۔۔۔۔ لیکن کمال انکل نے اسکی ایک نا چلنے دی تھی اور بقول نور کے وہ توتھے ہی ساحر ۔۔۔ سحر پھونکتے تھے اور دوسرے شخص کو قائل کر کے ہی چھوڑتے تھے۔۔۔۔ وہ بھی اس محسن کے آگے بے بس ہو گئ تھی جو اسکے سب سے برے وقت میں اسکے کام آیا تھا ابھی تک اسکا سائباں بنا ہوا تھا ورنہ وہ تو اپنوں کے بیچ محفوظ نا تھی۔۔۔ اپنوں کا جو روپ اسنے دیکھا تھا وہ اسکے رونکھٹے کھڑے کروا گیا تھا۔۔۔ آج بھی اسے وہ رات یاد آتی تو وہ کپکپا اٹھتی تھی ایسے میں جب اپنے ہی دشمن بن اٹھے ہوں وہاں کمال انکل کا وجود اسکے لئے ایک گھنا شجر تھا آخر انکی بات سے انحراف کرتی بھی تو کیسے۔۔۔۔ لیکن اب بھی زندگی کے اس مقام پر وہ خود کو بے بس پاتی تھی۔

********

ارے کوئی کام ہے کیا دریاب بیٹا۔۔۔۔ کمال صاحب سٹڈی روم میں بیٹھے کوئی فائل پڑھ رہے تھے جب دریاب انکے قریب آ کر بیٹھا تو وہ چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔

جی بابا وہ دراصل۔۔۔ وہ دونوں کہنیاں گھٹنوں پر رکھے ہاتھوں کی انگلیاں باہم پیوست کئے نیچے کارپٹ کو گھورتا جیسے بولنے کے لئے الفاظ تلاش کر رہا تھا۔۔۔

دریاب کیا ہمارے رشتے میں کبھی یہ جھجھک رہی ہے کیا جو آج تمہیں بات کرتے اتنی دیر لگ رہی ہے۔۔۔ کھل کر کہو بیٹا جو بھی کہناچاہتے ہو۔۔۔۔

کمال صاحب نے اسے شش و پنج میں مبتلا دیکھ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے اسکی ہمت بندھائی۔۔۔

بابا۔۔۔۔ میں امی کی رضا مندی کے بنا نکاح کر چکا ہوں اور ناداسنتگی میں ہی سہی میں انہیں بہت ہرٹ کر چکا ہوں۔۔۔ وہ اندر سے بہت ٹوٹ گئ ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ حالات قابو میں آ جائیں لیکن اپنی ماں کی شکست بھی مجھے قطعاً گوارا نہیں۔۔۔ کل سے وہ بہت چپ چپ ہیں۔۔۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ وہ ہر چیز سے لاتعلق ہو رہی ہیں۔۔۔ مجھے وہ اس حال میں قطعاً گوارا نہیں ہیں۔۔۔

بابا بہت معذرت کیساتھ لیکن پلیز مجھے سمجھنے کی کوشیش کریں۔۔۔ جب تک امی اس رشتے کے لئے اپنی آمادگی کا اظہار نہیں کر دیتیں میں تب تک رخصتی نہیں چاہتا۔۔۔ مجھے امید ہے بابا کہ آپ مجھے سمجھیں گئے۔۔۔ بالوں میں ہاتھ پھیرتے اسنے سنجیدہ نگاہیں اٹھا کر باپ کو دیکھتے عاجزی سے کہا اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

کمال صاحب سنجیدگی سے محض بیٹے کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔ مزید بنا کچھ کہے وہ وہاں سا باہر نکل گیا۔۔۔ جبکہ کمال صاحب ایک گہرا سانس بھر کر رہ گئے۔۔۔

انہیں آج بھی وہ دن پوری جزئیات سے یاد تھا جب گل نے رات کے پہر روتے ہوئے انہیں مدد کے لئے فون کیا تھا۔۔۔ پاوں کے نیچے سے زمین سرکنا کسے کہتے ہیں یہ کمال صاحب نے اس دن جانا تھا۔۔۔

گل کا ان سے فریاد کر کے انہیں مدد کے لئے پکارنا انکی ہستی کو آندھیوں کے زد میں دے گیا تھا۔۔۔ کیسے پہنچی تھی گل ان حالاتوں میں۔۔۔ وہ کیسے اتنے سالوں تک اس کی آسودہ ازواجی زندگی کو تصور کرتے اس سے بے خبر رہے تھے۔۔۔۔ معتل ہوتے حواسوں کیساتھ وہ گل کے بتائے پتے پر پہنچے تھے اور وہاں گل کی ابتر ہوتی حالت دیکھ کر وہ پورے قد سے ڈھے گئے تھے۔۔۔

انہوں نے جی توڑ کوشیش کی تھی گل کے علاج کے لئے۔۔۔ پیسہ پانی کی طرح بہا ڈالا تھا۔۔۔وہ ہر صورت اسے بچا لینا چاہتے تھے گل کی اذیت انہیں خون کے آنسو رلاتی تھی۔۔۔ لیکن باوجود کوشیش کے بھی وہ گل کے لئے کچھ نا کر پائے تھے اسکا مرض آخری سٹیج کو پہنچ چکا تھا اور اس مقام پر جب وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں جھول رہی تھی تب اسنے ایک ہی تو خواہش کی تھی ان سے وہ نور کا دریاب سے نکاح کروا کر جانے سے پہلے اسے کوئی مضبوط سائباں فراہم کرنا چاہتی تھیں۔۔۔ وہ کیسے اسکی خواہش رد کر سکتے تھے۔۔۔ اس مقام پر اور تو کچھ کر نہیں سکتے تھے ان کے لئے ۔۔۔ اس کی خواہش کا احترام کر کے ہی انہیں چند پل خوشیوں کے فراہم کر سکتے تھے۔۔۔ اور جس دن نور اور دریاب کا نکاح ہوا تھا کتنی مطمعیں تھیں وہ۔۔۔ انکی آنکھوں کی چمک دیکھ کمال صاحب خود کافی حد تک پرسکون ہو گئے تھے۔۔۔ اب دریاب انہیں کیا کہہ گیا تھا۔۔۔ انہیں ہر حال میں اس شادی کو کامیاب بنوانا تھا اور اس کے لئے اگلا قدم انہیں خود ہی اٹھانا تھا۔۔۔۔ آگے کا لائحہ عمل بناتے ہوئے وہ وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔۔۔

*******

ہلکی سی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا تھا سامنے ہی بیڈ پر زہرا بیگم مضحمل سی سر ہاتھوں میں تھامے کسی سوچ میں غلطاں تھے۔۔۔ کمال صاحب قدم قدم انکی جانب بڑھتے بالکل انکے مقابل بیڈ پر بیٹھے۔۔۔ زہرا بیگم نے چونک کر سر اٹھا کر انہیں دیکھا۔۔۔

کیا آج تک ہماری ازواجی زندگی میں کوئی ایسا لمحہ آیا زہرا جب تم نے مجھے بے وفائی کا مرتکب پایا ہو۔۔۔ کمال صاحب انکا ہاتھ تھامے انکی آنکھوں میں دیکھتے پوچھ رہے تھے۔۔۔ ناجانے انکی آنکھوں میں کیا تھا جو زہرا بیگم ایک پل کو ان پر سے نظریں نا ہٹا سکیں۔۔۔ کیا ہمارے اتنے سالہ رشتے میں کہیں تمہیں ایسا لگا کہ میں تمہیں وہ محبت یا توجہ نہیں دیے سکا جو تمہارا حق تھا۔۔۔۔ کمال صاحب کی آنکھوں میں دیکھتے زہرا بیگم نے کسی ٹرانس کی کیفیت میں سر نفی میں ہلایا تھا۔۔۔ پھر تمہیں کس چیز کی انسکیورٹی ہے زہرا کمال صاحب نے اسکا چہرا اپنے ہاتھوں میں تھاما تو دو آنسو زہرا بیگم کی آنکھوں سے ٹوٹ کر انکی گال پر پھسلے۔۔۔ وہ عورت۔۔

میں نے اپنی سبھی وفائیں تم سے مشروط رکھی ہیں زہرا اور وہ عورت تو اس دنیا میں بھی نہیں رہی پھر یہ کیسی ضد ہے۔۔۔ کمال صاحب نے اسکے آنسو صاف کرتے انکے ماتھے کا بوسہ لیا تو جیسے انکے سبھی احتجاج اپنی موت آپ مرنے لگے تھے ۔۔۔

دعوی کرتی ہو نا مجھ سے محبت کا۔۔۔

میں دعوی نہیں باقاعدہ آپ سے محبت کرتی ہوں کمال۔۔۔ زہرا کی زندگی کمال سے شروع ہو کر کمال پر ہی ختم ہوتی ہے۔۔۔ وہ پختہ لہجے میں آنسو صاف کرتی گویا ہوئیں۔۔۔ اگر واقعی ایسا ہے تو تم دریاب کو اس رخصتی کے لئے اجازت دو گئ کیونکہ جب تک تم رضامندی نہیں دو گئ وہ رخصتی نہیں کروائے گا۔۔۔ تمہیں قسم ہے میری زہرا۔۔۔ چاہے تو میری بات کا مان رکھ لو چاہے تو بے مول کر دو۔۔۔ کمال صاحب نے زہرا کا ہاتھ اپنے سر پر رکھتے حتمی لہجے میں کہا تو کئ پلوں کے لئے وہ ہل تک نا سکیں۔۔۔ یہ کیا کہہ دیا تھا انہوں نے۔۔۔ اس سے انکی محبت کا ثبوت مانگ ڈالا تھا۔۔۔ وہ کیسے انہیں بتاتی کہ وہ کمال صاحب کے لئے جان تو دے سکتی تھی مگر اس عورت کی بیٹی کو بہو بنانا ایک ناممکن فعل تھا۔۔۔۔ کمال صاحب کب کے وہاں سے جا چکے تھے مگر وہ ابھی تک اسی پوزیشن میں بیٹھیں تھیں۔۔۔ یہ کام مشکل تھا مگر ناممکن نہیں آخر آج انہیں کسی کا مان رکھنا تھا محض رخصتی کی تو بات تھی بعد کی بعد دیکھی جاتی ۔۔۔ آگے کے بارے میں لائحہ عمل تیار کرتیں وہ اٹھ کر دریاب کے کمرے کی جانب بڑھیں۔۔۔

*****

آئتل کا سوچ سوچ کر برا حال تھا۔۔۔ رو رو کر آنکھیں بری طرح دکھنے لگیں تھیں۔۔ سر چکرا رہا تھا لیکن بے چین دل کو ایک پل کا سکون نا تھا۔۔۔ صبح سے وہ بارہا عمران کا نمبر ملا چکی تھی مگر وہ تھا کہ فون نا اٹھانے کی قسم کھا چکا تھا۔۔ صبح سے شام ہونے کو آئی تھی مگر اسنے کچھ کھانا تو دور پانی کا گھونٹ تک ہلق سے نا اتارا تھا۔۔۔ اسکا دل سوکھے پتے کی مانند کانپ رہا تھا ناجانے اب عمران اسکے ساتھ کیسا سلوک کرتا۔۔۔ وہ عمران کو منا بھی پاتی کہ نا۔۔۔ وہ کیا کرے گئ۔۔۔ لاونج میں موجود بار بار کبھی گھڑی اور کبھی دروازے کی جانب دیکھتی مسلسل ناخن چباتی ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہی تھی۔۔۔ آنسو ایک تواتر سے بہہ رہے تھے ۔۔۔ کچھ سمجھ نا آ رہا تھا کہ کیا کرے۔۔۔ اسکی تو کوئی دوست بھی نا تھی جس سے مدد ہی لے لیتی۔۔۔ اسکی تو ساری زندگی یوسف کے گرد ہی گھومی تھی۔۔۔ کوئی بھی مسلہ ہوتا وہ بھاگ کر یوسف کے پاس ہی جاتی اور وہ بھی باقی سب پس پشت ڈال سب سے پہلے اسکی ہی سنتا یوسف کے بنا تو وہ اندھی بہری تھی مگر اب وہ یوسف کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی سارا مسلہ ہی اس وجہ سے پیدا ہوا تھا۔۔۔ آج اسے اپنی بے بسی پر شدت سے رونا آیا۔۔۔ کیوں تھی وہ یوسف پر اتنی منحصر کہ یہ نام اسکی نس نس میں بس گیا تھا کہ لاشعوری طور پر بھی وہی نام زبان سے ادا ہوتا۔۔۔۔

کیوں اپنی زندگی کی بھاگ ڈور اسنے خود نہیں سمبھالی۔۔ اگر میری کبھی کوئی بیٹی ہوئی تو اسے میں اپنے جیسا بالکل نہیں بننے دوں گی۔۔۔ بلکہ اسے بہت بہادر نڈر اور خودمختار بناوں گی۔ اپنی ہی سوچوں میں غلطاں وہ کہاں سے کہاں نکل گئ تھی ہوش تو تب آیا جب انٹرس کا دروازہ کھول کر عمران اندر آیا۔۔۔ آئتل چکر کاٹتی وہیں پر ساکت ہوئی مگر وہ بنا اسکی جانب توجہ دیئے تیزی سے وہاں سے گزرتا آگے بڑھ گیا۔۔۔ آئتل فوراً سے ہوش میں آتی اسکے پیچھے ہی بھاگی۔۔۔ عمران میری بات سنننن۔۔۔۔ اسکے الفاظ منہ میں ہی دم توڑ گئے جب وہ لیپ ٹاپ بیگ ٹیبل پر رکھتا واش روم کا دروازہ کھٹاک سے بند کر گیا۔۔۔۔

وہ وہیں سر تھام کر بیڈ پر بیٹھتی پھر سے رو دی۔۔۔ کچھ دیر بعد دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ سبھی شرم اور لاج بالائے طاق رکھے اٹھی اور بھاگ کر اسکے سینے سے لگتی اسکے گرد بازوں کا حصار قائم کرتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔

بس کر دیں نا عمران۔۔۔ بہت ہوگئ ناراضگی اب معاف کر دیں۔۔۔ ما۔۔۔مانتی ہوں کہ غلطی ہوگی مگر اس غلطی کی سزا دے لیں لیکن یوں ناراض نا ہوں میں آپکی ناراضگی نہیں برداشت کر سکتی۔۔۔ اگر آپ نے اپنی ناراضگی ختم نا کی تو میرا دل بند ہو جائے گا۔۔۔ اسکے سینے سے لگی ہچکیوں سے روتی اپنا مدعا بیاں کرتی وہ عمران کو خاصا شرمندہ کر گئ تھی۔۔۔ اچھا بس ۔۔۔ رونا بند کرو۔۔۔ نہیں ہوں میں ناراض تم سے۔۔۔ آنکھیں زور سے میچتے اسنے آئتل کے گرد حصار قائم کیا ۔۔۔

آ۔۔آپ سچ کہہ رہے ہیں نا۔۔ آئتل نے بے یقینی سے چہرا اٹھا کر اسے دیکھا تو اسکی سوجھی آنکھیں اور سرخ چہرا دیکھ ایک مرتبہ پھر سے عمران کا ملال بڑھنے لگا۔۔۔

یہ کیا حالت بنا لی ہے تم نے اپنی آئتل۔۔۔ وہ اسے اپنے حصار میں لئے بیڈ تک آیا اور اسے بیڈ پر بیٹھا کر میز سے پانی کا گلاس اٹھا کر اسکے لبوں سے لگایا۔۔۔

آپ میرا فون بھی نہیں اٹھا رہے تھے ہچکی لیتے ایک اور شکوہ کیا گیا۔۔۔ اچھا چلو معاف کر دو عمران نے اسکے سامنے دوزانو بیٹھتے دونوں کان پکڑے۔۔۔ نہیں ایسے مت کریں آپ بس مجھ سے ناراض مت ہوا کریں میں آئندہ پوری کوشیش کروں گی کہ آپکو شکایت کا موقع نا ملے۔۔۔ آپ بس مجھ پر اتنا اعتبار کرلیں کہ آپ مجھے کبھی بے وفائی کی مرتکب نہیں پائیں گے۔۔۔۔ عمران کا ہاتھ تھامتی وہ ایک جذب کے عالم میں بولی۔۔۔

عمران مسکرا کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ مجھے یقین ہے تم پر۔۔ پر پتہ نہیں صبح میں کیسے اتنا ہائپر ہو گیا تھا۔۔۔ شاید میں تمہارے بارے میں اتنا ہی پوزیسیو ہوں کہ سدھ بدھ کھو جاتا ہوں۔۔۔ جانتا ہوں اتنی شدت پسندی بھی ٹھیک نہیں۔۔۔ پر تم بھی آئندہ سے اختیاط کرنا یہ ایک چیز مجھے قطعاً منظور نہیں بھول جاو اس شخص کو باقی تمہاری اپنی تو کیا میری زندگی کی کل مختار بھی تم ہی ہو وہ آنکھیں مسلتا دقت سے گویا ہوا۔۔۔ اس سے ناراض ہو کر خود بھی کب پرسکون رہ پایا تھا وہ۔۔۔

اچھا پھر مجھے کچھ کھانے کو تو لا کر دیں سارا دن آپکی ناراضگی کا سوچ سوچ کرکچھ کھایا ہی نہیں گیا اب اگر مزید تھوڑی دیر کچھ نا کھایا تو بھوک سے بے ہوش ہو جاوں گی۔۔۔آئتل اس بات کو یہیں ختم کرنے کی غرض سے بعجلت گویا ہوئ اور اسکے یوں معصومیت سے کہنے پر عمران اپنا سر پیٹ کر رہ گیا۔۔ کیا کرتی ہو لڑکی۔ ناراضگی اپنی جگہ مگر صحت سے کوئی کمپرومائز نہیں۔۔۔ دو منٹ انتظار کرو ابھی کچھ انتظام کرتا ہوں۔۔۔ وہ اسے سخت سست سنانے کا ارادہ موخر کرتا بعجلت فون اٹھاتا تیزی سے کمرے سے باہر نکلا۔۔۔ جبکہ آئتل آسودگی سے مسکراتی آنکھیں موندھ کر سر بیڈ کراون سے لگا گئ۔۔۔ آخر زندگی اتنی بھی مشکل نا تھی۔۔۔ وہ محض سوچ کر رہ گئ۔۔

تبھی اسکے فون کی گھنٹی بجی اسنے مسکراتے ہوئے سائڈ ٹیبل سے فون اٹھایا مگر فون پر یوسف کالنگ کے الفاظ دیکھ کر اسکے ہاتھ کپکپا کر رہ گئے اسنے ہراساں نگاہوں سے ایک نظر دروازے کی جانب دیکھا۔۔۔۔

_____