Hala By Umme Hania Readelle50346 Hala (Episode 33)
No Download Link
Rate this Novel
Hala (Episode 33)
Hala By Umme Hania
یہ کیا حرکت تھی خود کو بیمار کرنے کی۔۔۔ دریاب مزید اسکی طرف جھکا۔۔ نور نے گھبرا کر اسے دیکھتے کہنیوں پر وزن ڈال کر اٹھنا چاہا۔۔۔ وہ کیسے اسکے بھید کو پا گیا تھا۔۔۔ نیم دراز ہوتے اسنے شدت سے دریاب کی بات کی نفی کی۔۔۔
کیا مطلب ہے آپکا۔۔۔ کہ میں نے خود کو جان بوجھ کر بیمار کیا ہے۔۔۔لہجے میں بے یقینی حیرانگی و تعجب سمیٹتے بات میں وزن قائم کرنا چاہا۔۔۔
سمجھدار ہو کافی۔۔۔ بالکل میری بات کا سو فیصد یہ ہی مطلب ہے۔۔۔ وہ سیدھا ہو کر کرسی پر بیٹھا البتہ نگاہیں ابھی بھی اسی پر ٹکی تھیں۔۔۔
لہجے کا اعتماد نور کو بھی مضحمے میں ڈال گیا۔۔۔ آپ مجھ پر الزام لگانے کی کوشیش کر رہے ہیں مسٹر دریاب۔۔۔ ابکی بار وہ بھی اعتماد سے اسکی آنکھوں میں دیکھتی سختی سے گویا ہوئی ۔۔ وہ بھلا کیوں اس سے دبتی۔۔۔
نہیں میں تم پر الزام لگانے کی کوشیش نہیں کر رہا بلکہ میں باقاعدہ آپ پر الزام لگا رہا ہوں مسز دریاب۔۔۔ افف۔۔۔۔ اسکا انداز اور طرز تخاطب نور کو سٹپٹانے پر مجبور کر گیا۔۔۔ ساری تیز طراری پل میں ہوا ہوئی۔۔۔
وہ ماتھے پر بل ڈالتی چہرا موڑ گئ۔۔۔ آپ یہ سب اتنے اعتماد سے کیسے کہہ سکتے ہیں۔۔۔ کچھ دیر بعد پھر سے اسکی طرف دیکھتی گویا ہوئی انداز اب بھی روٹھا روٹھا سا تھا۔۔۔
دریاب نے اپنا ماتھاکحجھایا۔۔۔ ہدیوں کو جماتی ٹھنڈ میں اپنے بالکل سامنے موجود کھڑی کو کھولنا۔۔۔ بنا شال جیکٹ یا گرم کپڑے کے ٹھنڈی ہواوں کے تھپیڑوں میں بیٹھنا۔۔۔ کوئی عقلمند انسان ہوشمندی میں تو کر نہیں سکتا۔۔ تھوڑا سا اسکی جانب جھکتے براہ راست اسکی آنکھوں میں جھانکا۔۔۔۔
نہیں میں نے ایسا جان بوجھ کر نہیں کیا۔۔۔ وہ تو میں دوپہر میں وہاں بیٹھی کام کر رہی تھی دھوپ کے لئے کھڑکی کھولی تھی کام کرتے کرتے شام اتر آئی پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔۔ دھوپ کی گرمائش ٹھنڈی ہوا کے تھپیڑوں میں بدل گی۔۔۔ ٹھنڈ کے باعث اٹھا ہی نہیں گیا اور میں وہیں سکڑ کر بیٹھ گئ۔۔۔ خود کو کلیر کروانے کے لئے دماغ نے لمحوں میں کہانی گھڑی تھی۔۔۔
ٹھیک ہے تم آرام کرو میں تمہارے لئے کچھ کھانے کو لاتا ہوں۔۔۔ ناجانے اسے یقین آیا تھا کہ نہیں لیکن وہ بات وہیں ختم کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
نہ۔۔نہیں۔۔۔ آپ رہنے دیں۔۔۔ میں لاتی ہوں۔۔۔ اسے کمرے سے باہر جاتا دیکھ اسنے بعجلت اٹھنے کی کوشیش کی لیکن بے طرح کراہ کر وہیں رک گئ۔۔۔ اتنی دیر تک ٹھنڈ میں رہنے کے باعث انگ انگ دکھنے لگا تھا۔۔۔ بخار سے نقاہت الگ تِھی۔۔۔ صبح ناشتے کے بعد سے اب تک کھایا کچھ نا تھا یہ سب اسی کے اثرات تھے۔۔
بیٹھی رہو نور۔۔۔ دو منٹ میں آ رہا ہوں وہ سختی سے اسے ٹوکتا اسے ایک گھوری سے نوازتا باہر نکل گیا۔۔۔ نور نے بے بسی سے سر بیڈ کرواں سے لگایا۔۔۔ بال دائیں بائیں بکھر گئے تھے۔۔۔ آنسو چھلکنے کو بے تاب تھے۔۔۔ مگر وہ دریاب کے سامنے انہیں بہانا نہیں چاہتی تھی۔۔۔ کیوں اتنا قریب آ رہے ہیں دریاب۔۔۔ کیوں اپنا عادی بنا رہے ہیں۔۔۔ آپ کا تو کچھ جائے گا نہیں اور میرا کچھ بچے گا نہیں۔۔۔ بہت مشکل سے اپنے ٹوٹے وجود کی کرچیاں سمیٹی ہیں میں نے اب تو محض بھرم ہی قائم ہے۔۔ اب کی بار بکھری تو جڑ نہیں پاوں کی۔۔۔ پلکوں کی بار پھیلانگنے کو بے تاب آنسووں کو چھلنکے سے روکنے کے لئے اسنے ضبط سے لب بھینچے۔۔۔
****
ہسپتال میں پہنچتے ہی آئتل کی طبیعت یکدم ہی بہت خراب ہو گئ تھی۔۔۔ طبیعت تو اسکی پہلے بھی خراب ہی رہتی تھی لیکن پے در پے ہونے والے ہنگامات کے باعث اسکی طبیعت بہت بگڑ چکی تھی۔۔۔۔ نور کے تو ہاتھ پاوں ہی پھول گئے۔۔۔ سرکاری ہسپتال تھا جہاں مریضوں کی لمبی لائن تھی۔۔۔ سبھی بیڈ فل تھی۔۔۔ اوپر سے ماں کی مزید خراب ہوتی طبیعت۔۔۔ وہ درد سے کرلا رہی تھی مگر کوئی اسے چیک کرنے کو تیار نا تھا۔۔۔ متوحش سی نور کا یہ پہلا تجربہ تھا۔۔۔ پیسے پاس تھے نہیں کہ ماں کو کسی پرائیویٹ ہسپتال ہی لے جاتی اور سرکاری ہسپتال میں ماں سسکتی ہوئی دم توڑ رہی تھی۔۔۔ وہ ہاتھوں سے پھسلتی ماں کو بینچ پر لئے بیٹھی تھی۔۔۔ آنسو پھسل پھسل کر آنکھوں سے گرتے بے مول ہو رہے تھے۔۔۔ وہ بے بسی کی انتہا تھی۔۔۔ کیا زندگی اتنی ہی غیر متوقع ہوتی ہے۔۔۔ اسنے ماں کو وہیں بینچ پر لیٹاتے ادھر ادھر جا کر ماں کا علاج شروع کروانے کے لئے بہت ہاتھ پاوں مارے لیکن کہیں سنوائی نا ہوئی۔۔۔
بلآخر دو گھنٹے کے جانگسل انتظار کے بعد ایک بیڈ فارغ ہوا تو نور نے ہمت کرتے ماں کو اس بیڈ پر لٹایا تب کہیں جا کر ماں کا علاج شروع ہوا۔۔۔ نور کو اپنی دنیا اندھیر ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ وہ ہر چیز بھلائے محض ماں کے سرہانے بیٹھی مختلف آیات کا ورد کر کے ماں پر پھونک رہی تھی۔۔۔ آنکھیں نم تھیں اور زبان پر محض ماں کی صحتیابی کی دعا تھی۔۔۔
علاج سے ماں کو کچھ آفاقہ ہوا تھا۔۔۔ شام تک انکی درد کی شدت میں کمی آئی تھی۔۔۔ شام میں وہ ہوش میں آئی تھیں انہیں ہوش میں آتا دیکھ نور الڑت ہوتی انکے پاس کھڑی ہوئی وہ کچھ کہنے کی کوشیش کر رہی تھیں نور کے سارے اعضا کان بن گئے۔۔۔
نور بچے۔۔۔ جی امی نحیف سی آواز پروہ تڑپ کر ان پر جھکتی ماتھے پر ہاتھ پھیرتی محبت سے گویا ہوئی۔۔۔
بچے کچھ کھایا تم نے۔۔۔ ماں نے پوچھا بھی تو کیا۔۔۔ اسکا دل پھٹ گیا۔۔۔ خود پر ضبط کھوتی وہ ماں کی سینے میں چہرا چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ امی جلدی سے ٹھیک ہو جائے۔۔۔ مجھے کچھ اچھا نہیں لگ رہا۔۔۔ کچھ دکھائی نہیں دے رہا ۔۔۔ کچھ سجھائی نہیں دے رہا۔۔۔ بہت بے بس بہت اکیلا محسوس کر رہی ہوں خود کو۔۔۔ خدارا مجھ پر رحم کریں ٹھیک ہو جائیں۔۔۔ دل تو پہلے ہی بھرا پڑا تھا مزید آنسوں کو نکلنے کا راستہ مل گیا تھا۔۔۔ نور بچے بس۔۔۔ اللہ ہے نہ۔۔ وہ اپنے کسی بندے پر اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔۔۔ اٹھو شاباش پہلے کچھ کھانے کو لاو۔۔۔ بھوکی ہو تم۔۔۔ پہلے کھانا کھاو ہم پھر بات کریں گے۔۔۔ اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے وہ آہستہ آہستہ نحیف آواز میں گویا ہوئیں اور نور کو وہاں سے بھیجتے ہی بنیں۔۔
نور مجھے اپنا موبائل دو مجھے ایک کال کرنی ہے۔۔۔ کچھ دیر بعد جب نور ماں کو کھانا کھلانے کے بعد خود بھی کھا چکی تو آئتل نے کچھ سوچتے نور سے کہا۔۔۔
نور نے تعجب سے ماں کو دیکھا آپ نے کسے فون کرنا ہے۔۔۔مجھے موبائل تو دو۔۔۔ وہ بضد تھیں۔۔۔۔ امی موبائل تو اسی بیگ میں تھا جو گھر رہ گیا۔۔۔ آواز میں ایک بار پھر سے بے بسی در آئی۔۔۔ آئتل نے کرب سے آنکھیں میچیں۔۔۔
کسی سے دو منٹ اسکا موبائل پکڑ لاو نور میرا فون کرنا بہت ضروری ہے۔۔۔ دو آنسو آئتل کی بند آنکھوں سے ٹوٹے وہ بیڈ پر نیم دراز تھی۔۔۔ جیسے صدیوں کی بیمار ہو۔۔۔ وقت اور حالات نے اس پر گہری چھاپ چھوڑی تھی۔۔۔ ماں کی بات سن کر نور جیسے تیسے دوسرے بیڈ والی سے دو منٹ کے لئے فون لے آئی۔۔۔
یہ لیں امی۔۔۔ نور نے موبائل ماں کی طرف بڑھایا تو وہ کپکپاتے ہاتھوں سے اس پر یوسف کا نمبر ملانے لگی۔۔۔ اتنے برے وقت میں وہ ہی اسے یاد آیا تھا ۔ گزرا وقت چھم سے آنکھوں کے سامنے سے گزرتا اسکی آنکھیں مزید نم کر گیا۔۔۔ حیرت تھی کہ اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی وہ اسکا نمبر نہیں بھولی تھی۔۔۔ آج سے پہلے اسنے کبھی برے سے برے حالات میں بھی یوسف سے رابطہ کرنے کا سوچا بھی نا تھا مگر اب اسے نور کے لئے یوسف سے بات کرنی تھی ۔۔۔ اسے اپنی حالت نظر آ رہی تھی وہ اکیلی جوان بیٹی کی حفاظت نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
دوسری طرف بیل جا رہی تھی اور ہر بیل کیساتھ آئتل کی دل کی ڈھرکن بڑھ رہی تھی۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔ دوسری طرف سے فون اٹھاتَے ہی سلامتی بھیجی گی۔۔۔ اتنے سالوں بعد یوسف کی آواز سن کر آئتل کا دل بھر آیا۔۔۔
یو۔۔یوسف۔۔۔ وہ نحیف سا گویا ہوئی۔۔۔ دوسری جانب یکدم ہی سناٹا چھا گیا۔۔۔
آئتل۔۔۔ لمحوں میں شناخت کے مراحل طے ہوئے تھے۔۔۔ یوسف مجھے آپکی مدد کی بہت ضرورت ہے۔۔۔ آپ پلیز آ جائیں۔۔ آئتل تم ٹھیک ہو۔۔۔ ہوا کیا ہے۔۔۔ تم کہاں ہو۔۔۔ اسکی آواز کا کرب محسوس کر کے گویا یوسف بھی پریشان ہو اٹھا تھا۔۔۔ وہی ہمدرد لہجہ سن کر آئتل کے ضبط کے سبھی بندھن ٹوٹ گئے۔۔۔ یوسف آپ جلدی آ جائیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔۔۔ اسنے روتے ہوئے یوسف کو ہسپتال کا ایڈریس دیا۔۔۔ نور حیرت و تعجب سے ماں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ آخر یہ انکا کونسا رشتہ دار تھا جس سے وہ پہلی مرتبہ متعارف ہوئی تھی۔
******
دریاب اسکے لئے دودھ اور بسکٹ لے کر کمرے میں داخل ہوا تو وہ بے طرح چونک کر حال میں لوٹی۔۔۔ یہ تم بیٹھے بیٹھے کن وادیوں کی سیر کو نکل جاتی ہو۔۔۔ بیڈ پر اسکے قریب ہی بیٹھتے اسنے درمیاں میں ٹرے رکھی ۔۔۔ وہ لمحوں میں اسکی غیر دماغی نوٹ کر چکا تھا۔۔۔ نور نے ناک سکوڑ کر گیلی سانس اندر کھینچی اور سیدھی ہو کر بیٹھی۔۔۔ آنکھوں کی سرخی مزید بڑھ چکی تھی۔۔۔ وہ جب جب ماضی کا سفر کرتی حالت مزید خراب ہو جاتی تھی۔۔۔
ہے۔۔۔ ہوا کیا ہے تمہیں۔۔۔ ابھی تو ٹھیک تھی۔۔۔ یہ آنکھیں اتنی سرخ کیوں ہو رہی ہیں۔۔۔ دریاب نے تعجب سے اسکی جانب دیکھتے ٹرے سائڈ ٹیبل پر رکھی اور ایک ٹانگ فولڈ کر کے بیٹھتے اسکے مومی چہرے کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر اپنے سامنے کیا۔۔۔ نور جو دریاب کے سامنے ایک بھی آنسو نا بہانے کا عہد کر چکی تھی سب بھولتی خود پر سے ضبط کھوتی خاموش آنسو بہانے لگی۔۔۔
دریاب نے اسے غور سے دیکھا۔۔۔ وہ روتے ہوئے مزید پیاری لگتی تھی۔۔۔ سرخ ہوتی آنکھوں کیساتھ ناک کی نوک اور دونوں گال بھی سرخ ہو چکے تھے۔۔۔ اسنے نظریں جھکاتے پنکھریوں سے لبوں پر زبان پھیری۔۔۔
کچھ نہیں بس ماں یاد آگئ تھی۔۔۔ پیچھے ہوتے اسنے رگڑ کر آنسو صاف کئے اور سائڈ ٹیبل سے ٹرے اٹھا کر بسکٹ دودھ میں دبو کر کھانے شروع کئے۔۔۔
انہیں آخری وقت تک یہ ہی فکر تھی کہ میں نے کھانا کھایا یا نہیں۔۔ وہ بدقت ہسی ۔۔۔ کرب زدہ ہسی۔ جب بھی ہوش میں آتیں تو یہ ہی پوچھتیں نور بچے تم نے کھانا کھایا۔۔۔ آنسو شدت سے بہہ نکلے تھے۔۔۔
دریاب لب بھینچے اسے دیکھتا رہا۔۔۔ جب سے وہ گئ ہیں کسی نے نہیں پوچھا کہ نور تم نے کھانا کھایا۔۔ آج آپ یہ لائے نا تو ماں اور شدت سے یاد آ گئ۔۔۔ آنسو ایک مرتبہ پھر سے رگڑ کر صاف کرتی وہ نم آنکھوں سے مسکراتی دودھ کے گلاس کی طرف اشارہ کرتی گویا ہوئی۔۔۔ اسکا روتے میں مسکرانا اور اور مسکراتے میں پھر سے آنسوں کا نکل آنا اسکی بھرپور اذیت کا گواہ تھا۔۔۔
تبھی دروازے پر دستک کی آواز آنے پر دریاب ایک نظر اسے دیکھتا باہر گیا۔۔۔ باہر ڈرائیور تھا جو کہ نور کی دوائیاں لے آیا تھا۔۔۔ جب تک دریاب دوائیاں لے کر واپس کمرے میں آیا وہ کافی حد تک خود کو سمبھال چکی تھی۔۔۔ بسکٹ کھا کر ٹرے واپس سائڈ ٹیبل پر رکھ دی تھی جبکہ آدھا دودھ کا گلاس ہاتھ میں ہی تھام رکھا تھا۔۔۔
تمہاری دوائی دریاب نے اسکے پاس بیٹھتے ہی شاپر کھول کر دوائی نکالنی شروع کی تو نور نے مسکراتے ہوئے ہاتھ اسکی جانب بڑھایا۔۔۔۔
دریاب نے گولیاں اسکی ہتھیلی پر رکھیں۔۔۔ نور نے دوائی کھا کر گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور خود لحاف اوڑھتے وہیں نیم دراز ہو گئ۔۔۔
اس کے لئے شکریہ۔۔۔ اب میں کافی بہتر ہوں۔۔۔ آپ چاہیں تو واپس چلے جائیں۔۔ خوامخواہ میری وجہ سے آپ بھی بے آرام ہوئے۔۔ نور کے مسکرا کر گویا ہونے پر وہ سنجیدگی سے اسے یک ٹک دیکھے گیا۔۔۔
تم سو جاو۔۔۔ تمہارے سونے کے بعد چلا جاوں گا۔۔۔ وہ وہیں اسکے پاس بیٹھ کر اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا۔۔۔۔ مسکراتے ہوئے نور کی آنکھیں خودبخود بند ہونے لگیں۔۔۔ دوائیوں میں نیند کی گولی تھی۔۔۔ جلد ہی وہ نیند کی وادیوں میں اتر گئ۔۔۔ اسکے سوتے ہی دریاب نے اس پر لحاف درست کیا۔۔۔ اور بیڈ کے دوسرے جانب نیم دراز ہو گیا۔۔۔ یوں بیماری میں اسے تنہا چھوڑ کر جانے کا اسکا کوئی ارادہ نا تھا۔۔۔ جو بھی تھا وہ اسکی ذمہ داری تھی اور اسکے دکھ وہ اپنے دل پر محسوس کرتا تھا بہت جلد وہ ماں کو راضی کر کے اسے واپس گھر لیجانے کا ارادہ رکھتا تھا بس اس پر عملدرآمد ہونا باقی تھا۔۔۔ جو کہ جوئے شیر لانے کے مترادف تھا وہ اچھے سے جانتا تھا۔۔ لیکن ایک بات طے تھی کہ وہ اس معصوم چہرے کو مزید تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔
*****
بالوں کی ٹیل پونی بنائے بلیک چوری دار پاچامے کیساتھ ریڈ اور بلیک امبرائڈری لانگ قمیض پہنے ڈوپٹہ گلے میں ڈالے ہاتھوں میں چند کتابیں تھامے زرش تیزی سے سیڑھیاں اترتے نیچے آئی۔۔۔ حدید آپ مجھے آفس جاتے یونیورسٹی چھوڑ دیں گے کیا۔۔۔ اسنے ڈائینینگ ٹیبل پر بیٹھتے بعجلت بریڈ پر مکھن لگاتے جوس پیتے حدید سے پوچھا جو خاموشی سے جوس پیتے اسکا جائزہ لے رہا تھا۔۔۔ جوس کا گلاس میز پر رکھ کر وہ اٹھا اور بنا جواب دیئے اندر ایک کمرے میں چلا گیا۔۔۔ زرش نے ماتھے پر بل ڈالے حیرت سے اسے دیکھا اور منہ بنا کر پھر سے ناشتہ کرنے لگی۔۔۔
یہ پہن لو پھر چھوڑ دوں گا۔۔۔ حدید نے ایک شاپنگ بیگ اسکے قریب رکھا تو زرش نے تعجب سے چہرا اٹھاتے اسے دیکھا۔۔۔ یہ کہا ہے منہ میں نوالہ ہونے کے باعث عجیب ہی آواز نکلی تھی۔۔۔ ساتھ ہی وہ اسے کھول کر دیکھنے لگی۔۔۔۔
عبایہ ہے یہ۔۔۔ جب تک حدید بولا وہ سیاہ رنگ کا عبایہ نکال چکی تھی۔۔۔
لیکن میں نے یہ کبھی نہیں پہنا۔۔۔ عجیب الجھا الجھا سا انداز تھا اسکا۔۔۔ نہیں پہنا تو اب پہن لو گی۔۔۔ حدید کا انداز مطمین تھا وہ خود سرمئ پینٹ کوٹ میں ملبوس نکھرا نکھرا سا آفس جانے کے لئے تیار کھڑا تھا۔ میں یہ نہیں پہنوں گی مجھے اس سے الجھن ہوتی یے۔۔۔ زرش نے کھڑے ہوتے بیزاری سے اس شاپنگ بیگ کو صوفے پر پھینکا۔۔۔۔
میری ایک بات کان کھول کر سن لو زرش۔۔۔ تم یونیورسٹی جاو گی تو عبایہ پہن کر ورنہ تمہاری مرضی۔۔۔ پڑائیویٹ امتحان دے لو۔۔۔ حدید نے اسے بازو سے دبوچتے اپنے قریب کیا اور اسکی آنکھوں میں دیکھتا چبا چبا کر گویا ہوا۔۔۔
لمحوں میں موٹے موٹے آنسو زرش کی آنکھوں میں جمع ہوئے جنہیں دیکھ کر حدید نے اسکی بازو چھوڑتے اپنا کوٹ جھٹکا۔۔۔
میں یہ ہرگز نہیں پہنوں گی بلکہ۔۔۔ بلکہ میں دریاب بھائی سے آپکی شکایت لگاوں گی۔۔۔ آپ برے ہیں بہت برے۔۔۔ ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتی وہ اب سوں سوں کرتی اسے دھمکیاں دے رہی تھی۔۔۔۔ ستم تھا جتنے آنسو صاف کرتی اتنے ہی مزید نکل آتے۔۔۔ کسی نے پہلی بار کوئی پابندی لگائی وہ بھی اس انداز میں۔۔۔
چند لمحے حدید اسے دیکھتا رہا پھر اسنے جیب سے موبائل نکال کر نمبر ڈائل کر کے کان سے لگایا۔۔۔۔ زرش اسے خونخوار نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
ہیلو دریاب۔۔۔ ہاں یہ زرش تم سے بات کرنا چاہ رہی تھی۔۔۔ مختصراً فون پر بات کر کے اسنے فون زرش کی جانب بڑھایا اور آنکھ سے بات کرنے کا اشارہ کیا۔۔۔ انداز چیلنجنگ تھا۔۔۔ زرش نے مٹھیاں بھنچتے غصے سے اسے کھا جانے والی نگاہوں سے دیکھا۔۔۔ غصے سے اسکا تنفس پھولنے لگا تھا۔۔۔ بس نا چل رہا تھا کہ اس شخص کا سر پھار دیتی۔۔۔ اپنے سامنے کھڑا وہ اسے اس وقت زہر سے بھی برا لگ رہا تھا۔۔۔ دانت پیسی وہ ایک زور دار دھکے سے اسے سامنے سے پیچھے کرتی دھپ دھپ سیرھیاں چڑھتی اوپر چلے گی۔۔۔ جبکہ پیچھے حدید کندھے اچکا کر رہ گیا۔۔۔ شام میں تیار رہنا ہمیں گاوں جانا ہے۔۔۔ فون کاٹ کر جیب میں رکھتا اسنے وہیں سے ہانک لگائی۔۔۔
آپکے ساتھ جاتی ہے میری جوتی۔۔۔ باآواز بلند جواب دیتی اسنے زور سے کمرے کا دروازہ بند کیا۔۔۔
******
