Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hala (Episode 25)

Hala By Umme Hania

کیا ہوا آئتل تم ابھی تک سوئی نہیں۔۔۔ آج عمران کی ماں اور بھیا بھابھی گاوں سے آئے تھے۔۔۔ رات کے کھانے کے بعد جب باتوں کا دور شروع ہوا تو آئتل اٹھ کر کمرے میں آ گئ کیونکہ موضوعِ گفتگو اسی کی ذات تھی اس لئے خود کو مزید موضوع گفتگو بنتے سننا اسکے لئے ناقابل برداشت ہو رہا تھا اسی لئے خود کو کمپوز کرتی بہانے سے وہاں سے اٹھ آئی۔۔۔ وہاں بیٹھے بیٹھے عمران کو خاصی دیر ہو گئ تھی اب وہ رات کے ایک بجے کمرے میں آیا تو نور کو وہیں کمرے میں دائیں سے بائیں چکر کاٹتے دیکھ حیرت سے مستفسر ہوا۔۔

آئتل کو کچھ دیر پہلے کا منظر پوری جزئیات سے یاد آیا۔۔۔ عمران بیٹا تم میرے گھر کے سب سے کماو پوت ہو شادی کو چھ سال ہوگئے تمہاری لیکن ابھی تک اولاد سے محروم ہو۔۔ بیٹا ایسے زندگی نہیں کٹتی تم معاشی طور پر مستحکم ہو پیسے کی کوئی کمی نہیں۔۔۔ لحاظہ تم دوسری شادی کرلو۔۔۔۔ تم باآسانی دو بیویاں رکھ سکتے ہو۔۔۔۔ کھانا کھانے کے بعد میز صاف کرتی آئتل کے ہاتھ ساس کی بات پر بے طرح ٹھٹھکے تھے۔۔۔ دل زور سے کانپا تھا آنکھوں جے آگے یکدم ہی اندھیرا چھا گیا تھا۔ وہ بعجلت برتن سمیٹ کر کچن میں رکھنے کے بہانے واپس کمرے میں آئی اور تب سے ہی غصے سے کھولتے دماغ کیساتھ ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہی تھی۔۔۔ عمران کو کمرے میں داخل ہوتا دیکھ وہ خونخوار نظروں سے اسے دیکھتی اسکی جانب بڑھی۔۔۔ کیا ہوا آئتل ۔۔۔ عمران کو کسی غیر معمولی پن کا احساس ہوا۔۔۔

تو مسٹر عمران صاحب دوسری شادی کریں گئے۔۔۔۔ وہ بھرپور طنز سے اسکے مدمقابل جاتی گویا ہوئی۔۔۔ آئتل وہ ۔۔ عمران نے لبوں پر زبان پھیرتے اپنے بالوں میں ہاتھ چلایا۔۔۔۔

میری ایک بات دھیاں سے سن لیں عمران۔۔۔ وہ انگلی اٹھاتی وارن کرنے کے انداز میں گویا ہوئی۔۔۔ یہ جرات بھی عمران ہی کی بخشی تھی۔۔۔ عمران ہمہ تن گوش ہوا۔۔۔

محبت نہیں عشق کرتی ہوں آپ سے۔۔۔ آپ کے سوا میری ذات کا محور کوئی اور نہیں۔۔۔ شادی کی پہلی رات ایک بات کہی تھی آپ نے جسے اچھے سے پلے سے باندھتے میں نے اپنی سبھی وفائیں آپ سے مشروط کر دیں۔۔۔ مجھے خود غرض کہیں یا کچھ بھی مگر میں اپنے رشتے میں شراکت ہرگز گوارا نہیں کروں گی۔۔۔ مجھے آپ مکمل چاہیے۔۔۔ سنا آپنے۔۔۔۔ مکمل چاہیے بٹے ہوئے نہیں۔۔۔ انگلی اٹھا کر غراتے ہوئے بولتی وہ عمران کے دل پر ٹھنڈی پھوار برسا رہی تھی ۔۔۔ وہ ہونٹوں پر شریر سی مسکراہٹ دبائے اسکے شعلہ جوالہ بنے روپ سے محظوظ ہو رہا تھا۔۔۔۔

ویسے بھی اولاد مرد کے مقدر کی ہوتی ہے اور رزق عورت کے مقدر کا۔۔۔ میری قسمت کا رزق اللہ آپکو دے رہا ہے۔۔۔۔ اب آپکی قسمت میں اگر ابھی اولاد نہیں ہےتو اس میں میرا کیا قصور۔۔ بات کرتے اسکے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔

آئتل۔۔۔ عمران ترپ کر آگے بڑھتے اسکے آنسو پونچنے چاہے مگر وہ بھرپور مزاحمت سے اسکے ہاتھ جھٹکتی پیچھے ہٹی۔۔۔۔

ایک بات میں واضح کر دوں عمران ۔۔۔ چپ چاپ ستی ساوتری بن کر میں آپکی دوسری شادی ہرگز نہیں ہونے دوں گی۔۔۔ اچھاااا۔۔۔ عمران نے مسکراہٹ ہونٹوں میں دابے سر جھکا کر اپنا ماتھا کجھایا۔۔۔۔

اگر آپ نے دوسری شادی کا سوچا بھی تو جان سے مار دوں گی آپکو۔۔۔ وہ آپے سے باہر ہوتی چینخی۔۔۔

اررررےےےے۔۔۔۔

پہلی گولی آپکے سینے پر چلاوں گی اور پھر۔۔۔۔ اور پھر دوسری گولی سے خود کو ہی ختم کر ڈالوں گی۔۔۔ بات کرتے اسکے رگیں پھولنے لگی تھیں تبھی بات ختم کرتی وہ بے بسی سے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔

ارے ارے ارے۔۔۔۔ عمران نے آگے بڑھ کر اسے تھامنا چاہا مگر وہ اسکے ہاتھوں سے پھسل پھسل گئ۔۔۔۔

اگر آپ نے دوسری شادی کی۔۔۔۔

بس۔۔۔ بس آئتل ۔۔۔ بس۔۔۔ اسنے زبردستی اسے اپنی گرفت میں لیتے خود سے لگایا۔۔۔ ریلیکس ہو جاو یار۔۔۔ تمہیں لگتا ہے میں امی کی بات مان کر دوسری شادی کروں گا۔۔۔ بامشکل اسے خود میں بھینچے اسکی کمر تھپتھپاتے عمران نے آئتل کو پرسکون کرنا چاہا۔۔ عمران میں آپ کو بانٹ نہیں سکتی۔۔۔ اگر ایسا ہوا تو مر۔۔۔ مر جاوں گی میں۔۔۔ وہ ہچکیوں سے روتی کوئی دیوانی ہی معلوم ہو رہی تھی۔۔۔

ایسا کبھی نہیں ہو گا آئتل۔۔۔ تمہیں دکھ دینے کے بارے میں میں سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔ عمران نے اسے صوفے پر بیٹھا کر اسکے آنسو صاف کئے اور میز پر پڑے جگ سے پانی گلاس میں انڈیل کر اسکے لبوں سے لگاتے خود دوزانوں اسکے سامنے بیٹھا۔۔۔

میں متفق ہوں کہ اولاد مرد کی قسمت کی ہوتی ہے۔۔۔ اور اگر میری قسمت میں اولاد ہوئی تو تم میں سے ہی ہو گی ورنہ دو تو کیا چار شادیاں بھی کرلوں نہیں ہوگی۔۔۔

اور خبردار جو اب مزید رو کر آنکھوں کا حشر کیا تو۔۔۔ ویسے بھی مجھے سینے پر گولی کھا کر مرنے کا کوئی شوق نہیں۔۔۔ ابھی مجھے اپنی آئتل کیساتھ زندگی کی بہت سی بہاریں دیکھنی ہیں۔۔۔ اسکے دونوں ہاتھ تھامے محبت سے کہتا وہ کافی حد تک اسکا ذہن دوسری جانب مبذول کروانے میں کامیاب ہو چکا تھا۔۔۔

چلو اٹھو شاباش رات بہت ہوگئ ہے ہر طرح کی سوچ کو ذہن سے جھٹک کر سو جاو۔۔۔ اسنے زبردستی آئتل کو صوفے سے اٹھا کر بیڈ پر لٹایا ۔۔۔

*****

ولیمے کا فنگشن بخیرو عافیت تکمیل پایا تھا ۔۔۔ فنگشن کے بعد رسم کے مطابق حدید کو زرش کیساتھ اسکے مائیکے جانا تھا۔۔۔ زرش تو بہت خوش تھی گھر جانے کے لئے لیکن حدید ہمیشہ کی طرح سنجیدہ تھا جسے دیکھ کر زرش اسکے تاثرات کا اندازہ لگانے میں ہمیشہ کی طرح ناکام رہی تھی۔۔۔

زرش ہمہ وقت باپ کیساتھ جڑی ہوئی تھی۔۔۔ گھر واپس آ کر بھی لاوئنج میں ہی ان سب کی محفل جمی تھی۔۔۔۔ ملازمہ چائے کیساتھ لوازمات کی ٹرالی وہیں لے آئی تو زرش نے آگے بڑھ کر ٹرالی تھامی اور سب کو چائے سرو کرنے لگی۔۔۔

سب وہاں خوش گپیوں میں مشغول تھے۔۔۔ داماد کی آو بھگت میں تو آج زہرا بیگم کا موڈ بھی خاصا خوشگوار تھا۔۔۔

نور کو وہاں اپنا آپ مس فٹ لگا تو خاموشی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔ ارے بھابھی آپ کہاں چل دیں۔۔۔ ادھر آئیے نا۔۔۔ ابھی تو آپ نے چائے بھی نہیں پی۔۔۔پنجوں کے بل بیٹھی حدید کو چائے سرو کرتی زرش کی نظر لاوئنج سے باہر جاتی نور پر پڑی تو بے ساختہ پکار اٹھی ۔۔۔ اسکی آواز دینے سے یکدم ہی نور مرکز نگاہ بنی تھی جس سے وہ خاصا جزبر ہو اٹھی تھی۔۔۔

نہیں وہ دراصل۔۔۔ باقی سب کچھ بعد میں پہلے آپ چائے پیئں اور میرے ساتھ باتیں کریں۔۔۔ حدید کو چائے سرو کر کے وہ نور کے پاس آتی باقاعدہ اسے کھینچ کر اپنے ساتھ لے کر گئ ۔۔ نور نے ایک نظر زہرا بیگم کو دیکھا لیکن شاید وہ بھی داماد کے سامنے کوئی بدمزگی نہیں چاہتی تھیں اسی لئے خاموشی سے اس بات کو نظر انداز کر گئ۔۔۔

زرش اسے ساتھ لئے فلور کشن پر بیٹھی اور ٹرالی سے چائے بنا کر پہلے چائے کا کپ اسے تھما کر پھر دوسرا کپ خود اٹھا کر پینے لگی۔۔۔

آپکو پتہ ہے بھابھی مجھے کتنی خواہش تھی بہن کی۔۔۔ پر فائنلی اللہ نے میری دعا سن لی اور مجھے بھابھی کی صورت اتنی پیاری بہن دے دی۔۔۔ زرش نے مسکراتے ہوئے پیار سے اسکی گال کھینچی۔۔۔ نور بھی دل سے مسکرا دی۔۔۔ کمال انکل کے بعد یہ اس گھر کی دوسری فرد تھی جس سے اسے مل کر اچھا لگا تھا۔۔۔

افف ۔۔۔ اب تو میری شادی ہو گئ نا بھابھی لیکن اگر آپ میری شادی سے پہلے میری بھابھی بن کر آئی ہوتی نا تو ہم نے بہت مزے مستیاں کرنی تھیں۔۔ چلیں خیر بگرا تو ابھی بھی کچھ نہیں ہے۔۔۔ زرش خاصی باتونی تھی اور نور بھی مسکراتے ہوئے اسے سن رہی تھی۔۔۔بہن کی خواہش تو اسے بھی تھی۔۔۔ بالخصوص اس گھر میں آگر تو ترس گئ تھی کسی سے بات کرنے کے لئے۔۔۔

ارے تم دونوں کیا کھسر پھسر کر رہے ہو۔۔۔ نور کو یوں مسکرا کر زرش سے باتیں کرتا دیکھ کمال صاحب کے دل میں یک گونہ سکون اترا تھا تبھی انہیں چھیرنے کی غرض سے مزاقاً گویا ہوئے۔۔۔

بابا میں نا بھابھی سے بول رہی تھی کہ یہ اتنی خوبصورت ہیں تو بھیا نے انکی تعریف میں پہلا جملہ کیا بولا ہوگا بھلا۔۔۔ اور بھیا نے انکے شایان شان انکو منہ دکھائی کا کیا گفٹ دیا ہو گا بھلہ۔۔زرش نے سوچنے کی بھرپور ایکٹنگ کرتے باپ کے سامنے اتراتے ہوئے ڈھٹائی سے بھرپور منہ پھٹ ہونے کا ثبوت پیش کیا تھا۔۔۔ بھری محفل میں یوں اتنی کھلی باتیں سن کر نور کے کانوں سے دھواں نکل آیا تھا چائے کا گھونٹ جیسے ہلق میں ہی اٹک گیا تھا جس سے بے طرح کھانسی کا پھندا لگا تھا۔۔۔ بوکھلا کر اسنے بے ساختہ دریاب کی جانب دیکھا جو پہلے ہی اسے دیکھ رہا تھا دونوں کی نگاہیں ملیں نور نے سٹپٹا کر فوراً نظروں کا زاویہ بدلا۔۔

مجھ۔۔۔ مجھے کچھ کام ہے میں آتی ہوں۔۔۔ منتشر ہوتی ڈھرکنوں کو سمبھالتی نور کھڑی ہوتی سرپٹ وہاں سے بھاگی۔۔۔

ارے بھابھی۔۔۔ با۔۔ بات تو سنتی۔۔۔ جائیں۔۔۔ پیچھے سے زرش اسے پکارتی ہی رہ گئ۔۔۔

چلو بچو بہت رات ہو گئ ہے میرے خیال سے اب آپکو آرام کرنا چاہیے۔۔۔۔ زرش بیٹا آپ حدید کو اپنے کمرے میں لیجائیں بچہ تھک گیا ہوگا۔۔۔۔۔۔ زہرا بیگم نے کھڑے ہوتے محفل برخاست کی تو دریاب اور کمال صاحب بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔۔

حدید اور زرش کے وہاں سے جانے کے بعد زہرا بیگم بھی اپنے کمرے میں جانے لگیں تو انکی حیرت کی انتہا نا رہی کہ کمال صاحب کا رخ کمرے کی بجائے سٹڈی کی جانب تھا مطلب کے انکی ناراضگی ابھی تک ختم نہیں ہوئی تھی۔۔۔ وہ اسے بھرپور نظر انداز کرتے لمبے لمبے ڈگ بڑھتے وہاں سے چلے گئے تھے جبکہ زہرا بیگم بے بسی سے انہیں جاتا دیکھتی رہی۔۔۔

امی آپ کمرے میں جائیں میں انہیں دیکھتا ہوں۔۔۔ ماں کو یوں بے بس دیکھ کر دریاب آگے بڑھا اور انہیں کندھے سے تھامتے حوصلہ دیا زہرا بیگم سر ہاں میں ہلا کر مرے مرے قدم اٹھاتی اپنے کمرے کی جانب بڑھیں۔۔۔

________

کمال صاحب سٹڈی میں آ کر ماتھا مسلتے صوفہ کم بیڈ پر آ کر بیٹھے۔۔۔ انکی ہوری زندگی انکی آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی مانند چل رہی تھی۔۔۔ طبیعت انکی صبح سے ہی ٹھیک نا تھی مزید ابھی ماضی کی یادیں مل کر حملہ آور ہوتیں انہیں مزید ادھموا کر رہی تھیں۔۔

بابا وہ۔۔۔۔ بابااااا۔۔۔۔ بابا آپ ٹھیک تو ہیں۔۔۔ بنا دستک دیئے دروازہ وا کرتے دریاب کچھ کہتا اندر داخل ہوا مگر باپ کی حالت دیکھ کر وہ ترپ کر انکی جانب بڑھتا دوزانوں انکے سامنے بیٹھا۔۔

میں ٹھیک ہوں بیٹا۔۔۔ کمال صاحب گہری سانس خارج کرتے مسکرا کر گویا ہوئے۔۔۔ آپکا رنگ اتنا زرد کیوں ہو رہا ہے بابا۔۔۔ وہ ابھی بھی بضد تھا۔۔۔ میں نے بولا نا دریاب میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔

بابا آپ اپنے کمرے میں کیوں نہیں گئے۔۔۔ کمال صاحب کے قطعیت سے کہنے پر دریاب نے موضوع بدلا۔۔۔ کمرے میں کیا ہے دریاب جہاں میں جاتا۔۔۔ وہ الٹا سوالیہ گویا ہوتے اسے چپ کروا گئے۔۔۔۔ بابا امی فکر مند ہیں آپکو لے کر پلیز آپ یہ ناراضگی ختم کر دیں نا۔۔۔۔ وہ اٹھ کر انکے ساتھ ہی بیٹھتا مان سے گویا ہوا۔۔۔ دریاب میرے سر میں پہلے ہی شدید درد ہے میں مزید زہرا کی باتیں نہیں سن سکتا اس لئے دو گھڑی سکون کے لئے یہاں آگیا تم پلیز مجھے کچھ دیر کے لئے اکیلا چھوڑ دو۔۔۔ وہ دریاب کی دلیلوں پر جھنجھلا کر گویا ہوئے۔۔۔

آپکو واقعی لگتا ہے بابا میں آپکو اپنے بیسٹ فرینڈ کو اس وقت اکیلا چھوڑ دوں گا وہ مسکرا کر انہیں دیکھتا چیلنجنگ گویا ہوا۔۔۔ کمال صاحب کھل کر مسکرا دیئے۔۔۔۔

تم میرے لئے اللہ کی طرف سے انعام ہو دریاب۔۔۔ میں خوش قسمت ہوں کہ اسنے مجھے اسقدر فرمابردار اولاد عطا کی۔۔۔۔

نا کریں یار۔۔۔ خوامخواہ ہی میں مغرور ہونے لگتا ہوں۔۔۔ وہ گردن اکڑ کر گویا ہوا تو کمال صاحب بے ساختہ قہقہ لگا گئے۔۔۔۔

بہت مان سے میں نے نور کا ہاتھ تمہارے تھمایا ہے دریاب۔۔۔ یہ مان کبھی ٹوٹنے مت دینا۔۔۔ اسے ہمیشہ خوش رکھنا۔۔۔ یکدم ہی انکے لہجے میں کرب چھلک آیا تھا۔۔۔ بابا آپکو کبھی شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔۔۔ میں پوری کوشیش کروں گا کہ میری وجہ سے اسے کوئی تکلیف نا ہو۔۔۔ مجھے تم سے یہ ہی امید تھی بیٹا دنیا و آخرت کی کامیابی تمہارا مقدر ٹھہرے۔۔۔ کمال صاحب نے فرط جذبات سے اسکا کندھا تھپتھپایا۔۔۔

رات بہت ہوگئ ہے۔۔۔ تم جا کر آرام کرو میں بھی اب کچھ دیر آرام کروں گا۔۔۔۔ جی بابا۔۔۔ مسکرا کر انہیں شب بخیر کہتا وہ سٹڈی سے باہر نکلا ۔۔۔ اب اسکا رخ ماں کے کمرے کی جانب تھا۔۔۔

******

دریاب کمرے میں داخل ہوا تو بیڈ پر بے چین بیٹھی زہرا بیگم نے آس بھری نگاہوں سے بیٹے کو دیکھا۔۔۔ جب اتنی محبت کرتی ہیں ان سے تو پھر انہیں ناراض ہی کیوں کرتی ہیں۔۔۔ دریاب انکے سامنے دھپ سے بیڈ پر نیم دراز ہوتا شرارتی مسکراہٹ لبوں پر سجائے انہیں دیکھتا گویا ہوا۔۔۔

میں نہیں کرتی انہیں ناراض انکی ہی ضدیں نرالی ہوتی ہیں۔۔۔۔

آہممم۔۔۔ اب بات یہ ہے امی وہ سنجیدگی سے گویا ہوتا سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔۔ کہ وہ آپ سے تھوڑا زیادہ ہی ناراض ہیں۔۔۔ مزید یہ کہ انکی طبیعت بھی ٹھیک نہیں اواور میری بات وہ مان نہیں رہے تو اب آپکو خود جا کر اپنے مجازی خدا کو منا کر لانا ہوگا۔۔۔ زہرا بیگم کے دریاب کو دیکھنے پر اسنے کندھے اچکاتے بات مکمل کی۔۔۔۔ یہ تو آپ بھی جانتی ہیں کہ بابا آپ سےکتنی محبت کرتے ہیں لیکن ابکی بار وہ کچھ شدید ناراض ہیں تو اب یہاں میں آپکی کوئی مدد نہیں کر سکتا آگے کا کام آپکا ہے۔۔۔ وہ بات ختم کرتا اٹھ کھڑا ہوا تو زہرا بیگم بھی سانس خارج کرتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔ اب انہیں ہی کمال صاحب کو واپس کمرے میں لانا تھا مگر کون جانے کے آگے قسمت میں کیا تھا رقم ۔۔۔

_______