Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hala (Episode 48)

Hala By Umme Hania

میسج پڑھتے ہی نور کے چودہ طبق روشن ہوگئے۔۔۔ وہ کیسے جانتا تھا اسکی پرسنل لائف کے بارے میں اتنا۔۔۔ اسنے تو کبھی اپنی پرسنل لائف کو پروفیشنل لائف سے مکس نہیں کیا تھا۔۔۔ ہمیشہ سب سے اپنا آپ تک چھپا کر رکھا تھا پھر یہ کیسے۔۔۔ گلے میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی۔۔ اسے پہلے مرتبہ اس شخص سے خوف محسوس ہوا۔۔۔

آپکو میری پرسنل لائف میں دخل اندازی کرنے کی اجازت کس نے دی سر۔۔۔ میں آپکی بہت عزت کرتی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ آپ دوبارہ کچھ ایسا نہیں کہیں گے کہ میں غصے میں بھی آپ سے بدتمیزی کر جاوں۔۔۔ اپنے خوف پر قابو پاتے نور نے سختی سے کہتے حد بندی متعین کرنی چاہی۔۔۔

دریاب اسکا میسج پڑھتا مسلسل مسکرا رہا تھا۔۔۔

ہالہ یار میں نے ایسا کیا کہہ دیا جس سے تم غصہ ہو رہی ہو۔۔۔ میں تو محض سچ بتا رہا تھا۔۔۔ یہ تو تم بھی جانتی ہو نا کہ سچ ہے ۔۔۔ تمہارے شوہر کو تم میں رتی برابر دلچسپی نہیں۔۔۔ اس میں اب میرا کیا قصور ۔۔۔ میں تو تمہیں خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔ ساتھ بےچارگی بھرے کئ ایموجیز تھے۔۔۔

سر آپکو کیا ہو گیا ہے۔۔ آپ ایسے تو نا تھے۔۔۔ یقین مانے میں اپنے شوہر سے بہت محبت کرتی ہوں میری دنیا انہیں سے شروع ہو کر انہیں پر ختم ہو جاتی ہے۔۔۔ میں دریاب کے ساتھ بہت خوش ہوں۔۔۔ ہونٹ چباتے اسنے بے بسی سے میسج ٹائپ کیا ۔۔۔ وہ بات بڑھانا نہیں چاہتی تھی اخر اس شخص کے ساتھ اسنے دو سال کام کیا تھا ۔۔۔ بہت اچھی انڈرسٹینڈنگ رہی تھی ان میں۔۔ وہ جانتی تھی کہ اگر معاملہ فہمی سے کام لیتی تو بات یہی ختم ہو جاتی۔۔۔ اسکے ڈیسنٹ سے سر اسکی بات سمجھتے۔۔۔

اسکی آنکھوں میں چمکتے آنسو اور اسکی بے بسی دیکھتے دریاب تڑپ کر رہ گیا۔۔۔

ہولڈ آن ہالہ۔۔ میرا مقصد تمہیں ہرٹ کرنا بالکل نہیں تھا۔۔ پلیز ریلیکس ہو جاو۔۔۔ اگر تم اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہو تو میں تمہاری زندگی میں کبھی دخل اندازی نہیں کروں گا۔۔۔ ہم اچھے دوست تھے اور رہیں گے۔۔۔ مگر وہ شخص واقعی تمہارے قابل نہیں۔۔۔ نور کی حالت دیکھتے اسنے بعجلت میسج ٹائپ کیا۔۔۔

میسج پڑھ کر نور کے چہرے پر ایک مسکراہٹ ڈوری اسنے مسکراتے ہوئے گالوں پر بہتے آنسو صاف کئے۔۔۔ تھینکیو سر۔۔۔ آپ بہت اچھے ہیں ۔۔ میں جانتی تھی کہ آپ میری بات سمجھیں گے۔۔ لیکن پلیز میرے شوہر کے بارے میں کچھ مت کہیں میں انکے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کر سکتی۔۔وہ کتنے اچھے ہیں یہ صرف میں جانتی ہوں اور یہ مجھے کسی دوسرے پر ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔

وہ بتا نہیں سکتا تھا کہ ہالہ کی یہ باتیں کس طرح سے اسکے دل پر ٹھنڈی میٹھی پھوار کا کام کر رہی تھیں۔۔۔

کیا اتنی محبت کرتی ہو اس سے کہ باوجود اسکی بے وفائی کے تم اسکے خلاف بات نہیں سن سکتی۔۔۔ ناجانے دل کو اس سے کیسا اعتراف سن کر سکون ملنا تھا جو وہ اس سے پوچھ بیٹھا۔۔۔

وہ میری زندگی میں آنے والا پہلا مرد ہے سر اور آخری بھی۔۔۔ نا ان سے پہلے میری زندگی میں کوئی تھا اور نا انکے بعد کسی کی گنجائش ہے۔۔۔ اور وہ بے وفا نہیں ہیں سر۔۔۔ وہ بہت اچھے ہیں۔۔۔ بہت بہت اچھے۔۔۔ اتنے اچھے کہ ان جیسا کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔ میسج ٹائپ کرتے اسکے چہرے پر ایک الوہی چمک تھی۔۔۔ دریاب کئ لمحوں تک میسج پڑھ کر آنکھیں بند کرتا ان الفاظوں کو محسوس کرتا رہا ۔۔۔ وہ خود کو ہواوں میں اڑتا محسوس کر رہا تھا۔۔۔ چاہا جانا کس قدر خوبصورت احساس تھا۔۔۔

اگر اسنے اپنی کولیگ سے شادی کر کے تمہیں چھوڑ دیا تو۔۔۔ کچھ سوچتے اسنے پھر سے ٹائپ کیا۔۔۔

وہ یہ میسج پڑھ کر یکدم خاموش ہوگئ تھی۔۔۔ بالکل گم صم ۔۔۔ یہ وہ مقام تھا جہاں آکر وہ بے بس ہو جاتی تھی۔۔ اور اب تو وہ یہ اختیار بھی زہرا بیگم کو دے چکی تھی کہ وہ صحتیاب ہو کر اسکے لئے جو فیصلہ لیں گی اسے منظور ہو گا۔۔۔ ایک آنسو ٹوٹ کر اسکی گال پر پھسلا۔۔

بد دعا دے رہے ہیں مجھے۔۔۔

نور کے چہرے ہر اذیت دیکھتا وہ تڑپ اٹھا۔۔ مانا کہ تمہیں پانا چاہتا ہوں مگر اس کے لئے میں تمہیں کبھی تمہارے گھر اجڑنے کی بددعا نہیں دے سکتا۔۔ بے چین ہوتے اسنے بعجلت ٹائپ کیا۔۔

تو پھر دعا کریں سر کہ ایسا کچھ نا ہو کیونکہ اگر ایسا ہوا تو میں مر جاوں گی۔۔۔ دریاب کے بنا تو زندگی کا تصور بھی محال ہے۔۔۔

آنسو پھسل پھسل کر اسکے چہرے پر گر رہے تھے۔۔۔ دریاب نے لب بھینچتے یہ منظر دیکھا۔۔۔ دل چاہا کہ بھاگ کر جائے اور اس جان جہاں کو سینے میں چھپا لے۔۔۔

محبت اتنی اور اعتبار زرا سا بھی نہیں۔۔ سنجیدگی سے اگلا میسج ٹائپ کیا۔۔۔

ایسی بات نہیں ہے سر۔۔۔ مجھے ان پر خود سے زیادہ یقین ہے۔۔ مگر میں خود چاہتی ہوں کہ انہیں انکی حقیقی خوشیاں ملیں جس کے وہ حقدار ہیں۔۔۔ اگر انکی خوشی انکی کولیگ سے وابسطہ ہے تو انہیں اپنی کولیگ سے شادی ضرور کرنی چاہیے چاہے پھر یہ سب برداشت کرنا میرے لئے جتنا بھی محال ہو۔۔ انکی خوشی میں ہی میری خوشی یے۔۔۔

دریاب کئ پلوں تک ہل نہیں پایا تھا اس جواب پر۔۔۔ اندر سینے میں ڈھرکتا دل شور مچا اٹھا تھا۔۔۔ آنکھیں نم ہو اٹھیں تھیں۔۔۔ کیا کوئی کسی سے اتنی محبت بھی کر سکتا ہے۔۔۔

آپ دریاب کو کیسے جانتے ہیں سر۔۔۔ اگلے میسج کی بپ پر وہ ہوش کی دنیا میں واپس لوٹا۔۔۔ میسج پڑھ کر ایک مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر رینگی۔۔۔ جذبات مین بہہ کر وہ یہ تو بھول ہی گیا کہ وہ تو نورِہالہ کو تنگ کر رہا تھا۔۔۔ مسکراہٹ لبوں میں دابے اسنے اگلا میسج ٹائپ کیا۔۔۔

بالکل ایسے ہی جیسے میں یہ جانتا ہوں کہ آج پرپل کلر تم پر بہت سوٹ کر رہا ہے۔۔۔

میسج پڑھتے ہی نور کی آنکھیں پھٹ پڑیں۔۔۔ یا خدا۔۔۔ یہ انسان ہیں یا جن۔۔۔ بے ساختہ اسنے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا ساتھ ہی وہ آف لائن ہو گئ۔۔۔ اسے دیکھتا دریاب پیٹ ہر ہاتھ رکھے ہس ہس کر دہرا ہو گیا۔۔۔۔

ہواس باختہ سی نور موبائل کو زور سے ہاتھ میں بھینچے بھاگتی ہوئی کچن سے باہر نکلی۔۔۔

کیا ہوا نور سب ٹھیک ہے۔۔۔ کوئی پریشانی تو نہیں۔۔ نور لاوئنج سے بھاگ کر گزرتی اپنے کمرے کیطرف جا رہی تھی جب دریاب کی آواز نے اسکے قدم زنجیر کئے۔۔۔ وہ خود کو کمپوز کرتی واپس پلٹی۔۔۔ کک کوئی پریشانی نہیں۔۔۔ اسنے پھولے سانس کو سمبھالتے مسکرا کر کہتے اسکی تسلی کروانا چاہی مگر آواز لڑکھڑا کر رہ گئ۔۔۔

پھر اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہو۔۔۔ دریاب نے چمکتی نگاہوں سے حیران ہوتے استفسار کیا۔۔ پر۔۔پریشان۔۔۔ نہیں تو۔۔۔ آپکی طبیعت اب کیسی ہے۔۔۔ مسکرا کر اپنی ہواس باختگی پر قابو پاتی وہ بات بدل گئ۔۔۔

ہمم۔۔ کافی بہتر ہے۔۔ میں آنٹی کو دیکھنے جا رہی تھی۔۔۔ کہتی ہی وہ واپس پلٹی اور بھاگتی ہوئی جھٹ سے کمرے میں گم ہو گئ۔۔۔

دریاب مسکراتا ہوا صوفے پر بیٹھا۔۔ جس دن تمہیں پتہ چلا نا کہ تمہیں تنگ کرنے والا میں ہی تھا اسنے مجھے کچا چبا جانا ہے تم نے۔۔۔

******

آج سے دو سال پہلے نور نے گھر کی ابتر ہوتی معالی حالت سے تنگ آ کر جاب کرنے کا سوچا تھا کیونکہ تایا اور فہد اسے اور آئتل کو خرچے کے نام پر جو پیسے دیتے وہ ان دونوں کی ضروریات زندگی کے لئے ناکافی تھے۔۔ ان سے یا تو ماں کی دوائیوں کا خرچ پورا ہو سکتا تھا یا اسکے تعلیمی اخراجات کا۔۔۔ اسنے جاب کرنے کی خواہش ظاہر کی جو اسکے تایا نے بری طرح رد کر دی کے وہ کہیں جا کر جاب نہیں کر سکتی۔۔۔ تب انتہائی پریشانی میں اسنے آنلائن جاب کرنے کا سوچا اور گرافک ڈیزائنگ کا یوٹیوب سے مختصر کورس کرنے کے بعد فائیور پر اپنی گِگ تیار کی۔۔ لیکن اس اتنے بڑے سمندر میں ایک چھوٹی سی مچھلی کو بھلا کس نے پوچھنا تھا۔۔۔ پہلا ہفتہ اسکا بہت پراذیت تھا جب وہ ایک بھی کسٹمر گریب نہیں کر پائی تھی۔۔۔ اپنی ناکامی پر وہ ہر رات روتی اور رات کی سیاہی میں ہی آنسو صاف کر کے اگلے دن پھر سے نئے جذبے سے بیدار ہوتی۔۔۔ کسٹمرز کو گریب. کرنے کے لئے وہ اپنے پورٹ فالیو کو جتنا اٹریکٹ سے اٹریکٹ تر بنا سکتی تھی اسنے بنایا لیکن کوئی خاطر خواہ فائدہ نا ہوا۔۔۔ تب اسنے سب کچھ چھوڑ کر حقیقت شناس بنتے سچائی سے اپنا کیریئر شروع کرنے کی تھانی۔۔ کسٹمر تو پہلے ہی کوئی نہیں مل رہا تھا اب بھی نا ملتا تو دل میں کوئی ملال تو نا رہتا۔۔۔

تب اسنے اپنے پورٹ فالیو میں سب سچ سچ لکھا اورا سکی حیرت کی انتہا نا رہی کہ پہلے ہی دن ڈی کے نامی شخص نے اسے آرڈر دیا۔۔۔ آرڈر پا کر وہ اتنی ایکسائٹڈ تھی کی آڑڈر ملتے ہی دین دنیا بھلائے اسے مکمل کرنے لگی اور ٹھیک دو گھنٹے بعد اسنے اپنا پہلا پراجیکٹ سبمٹ کروا دیا تھا۔۔۔ اسکے بعد اسے ڈی کے سر کی جانب سے چھوٹے بڑے بہت سے پراجیکٹ ملے ۔۔۔ وہ پوری تندہی اور جی جان سے اپنا کام کرتی۔۔۔ اپنے کام سے مخلص ہونے کی اسکی نشانی یہ ہی تھی کہ حالات چاہیے جیسے بھی رہے ہوں اسنے ان حالاتوں کو اپنے کام پر اثرانداز نہیں ہونے دیا تھا۔۔۔ یہ اسکے خودکفیل ہونے کی پہلی سیڑھی تھی جس سے وہ بے ایمانی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ ڈی کے سر کے ساتھ ساتھ اسے اور بھی جگہوں سے پراجیکٹ ملنے لگے مگر ڈی کے سر کی کمپنی کیساتھ کنٹریکٹ سائن کرتے ہی اسنے باقی سبھی پراجیکٹس کو لینے سے انکار کر دیا اور مکمل یکسوئی سے اس کمپنی کے ساتھ منسلک ہو گئ۔۔۔ مگر اب لمحہ فکریہ یہ تھا کہ اسکے ڈیسنٹ سے ڈی کے سر جن سے وہ بلا جھجھک بات کرتی تھی جن سے بات کرتے اسے کبھی عدم تحفظ کا احساس نا ہوا اسنے ہمیشہ سے ہی ڈی کے سر کو فہد جیسے گھٹیا شخص سے بہت مختلف پایا تھا اب نجانے اچانک انہیں کیا ہو گیا تھا۔۔۔ وہ کیوں اسکی ذات میں اتنی دلچسپی لینے لگے تھے۔۔۔ اس روز کے بعد سے بظاہر انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی تھی لیکن صبح شام وہ اسے اسکی حرکات و سکنات کا بتاتے یہ ضرور باور کروا جاتا کہ وہ اس سے بے خبر نہیں بلکہ وہ پل پل اسکی نگاہوں کے حصار میں ہے۔۔۔

جیسے آج صبح وہ کھیر بنا رہی تھی جب اسکا میسج آیا کہ تم کھیر بناتے بہت کیوٹ لگ رہی ہو۔۔۔ ایسے میسجر اور کال نور کو بوکھلا جاتے تھے کہ وہ کیسے اسکی پل پل کی رپورٹ رکھتا تھا۔۔۔

اب بھی وہ لاونج میں صوفے ہر بیٹھی دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی کا ناخن چباتی مسلسل کچھ سوچ رہی تھی۔۔ جب اسکے موبائل کی سکرین بلنک ہوئی۔۔ اسنے سرعت سے موبائل اٹھا کر میسج کھولا۔۔۔

پہلے پریزنٹیشن مکمک کر لو ہالہ۔۔۔ مراقبے میں پھر جانا۔۔۔ ویسے اتنی غور و فکر پراجیکٹ پر کرو نا تو مین گرانٹی دی سکتا ہوں کے سب سے زیادہ دم دار آئڈیا تمہارا ہی ہو۔ ۔۔ میسج پڑھ کر نورٖ شش و پنج میں مبتلا جہاں کی تنہاں رہ گئ تھی۔۔۔ کیا تھا وہ شخص کوئی جن بھوت یا ہوائی چیز ۔۔ نور سر جھَٹک کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ جیسے اسے سر سے جھٹکنا چاہتی ہوجو دن با دن اسکے سر پر سوار ہی ہوتا جا رہا تھا

*****

اپنی پوری زندگی میں حدید نے کبھی اتنی اذیت اور بے بسی محسوس نہیں کی تھی جتنی اب کر رہا تھا۔۔۔ دماغ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوِں سے محروم ہو رہا تھا۔۔۔ وہ اپنے سبھی ذرائع استعمال کروا کر بھی زرش کا پتہ نا لگوا پایا تھا۔۔۔ کہاں گئ تھی وہ اسے زمین کھا گئ یا آسمان نگل گیا۔۔۔ وہ حد درجہ جھنجھلایا ہوا تھا۔۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کرے۔۔۔ صبح سے شام ہونے کو تھی اور اسے کھانے پینے تک کا ہوش بھولا ہوا تھا۔۔۔ تھک ہار کر اسنے دریاب کو فون کر کے گھر بلوایا وہ اسکی آواز کا غیر معمولی پن محسوس کر کے چونکا مگر حدید نے اسے جلد از جلد گھر پہنچنے کا کہا تو وہ بنا مزید کریدے اسکے گھر جانے کے لئے گھر سے نکلا لیکن جاتا جاتا بھی وہ نور سے شرارت کرنا نا بھولا۔۔۔ وہ ابھی ابھی زہرا بیگم کو کھانا کھلانے کے بعد انہیں میڈیسن دے کر فارغ ہوئی تھی جب اسکا موبائل بپ کیا۔۔

بیویوں کی اتنی لاپرواہی بھی اچھی نہیں ہوتی۔۔۔ ویسے اس وقت آپکے شوہر نامدار جا کہاں رہے ہیں کہیں اپنی کولیگ کے ساتھ ڈیٹ مارنے تو نہیں۔۔۔ پلیز پلیز پلیز۔۔ مجھے غلط مت سمجھنا لیکن میں نے تو خبردار کرنے کو بتایا تھا۔۔۔ میسج پڑھتے ہی نور کے چہرے پر ایک سایہ سا لہرایا اسنے سرعت سے اٹھ کر کھڑی سے باہر کی جانب دیکھا جہاں دریاب گاڑی میں بیٹھا گاڑی سٹارٹ کر رہا تھا۔۔۔ گاڑی میں بیٹھے سیٹ بیلٹ باندھتے دریاب نے بھی ایک نظر زہرا بیگم کی کھڑی میں کھڑے اسکے ہیولے پر ڈال کر اپنی امڈتی مسکراہٹ دابی۔۔۔ تبھی اسکے موبائل پر رنگ ہوئی۔۔۔ وہ نمبر دیکھ کر چونکا کیونکہ فون ہالہ نے ڈی کے سر کو نہیں بلکہ نور نے اپنے شوہر دریاب کمال کو کیا تھا۔۔۔ اسکے چہرے کی مسکراہٹ کچھ مزید گہری ہوئی۔۔

ہیلو۔۔ فون کان سے لگاتے اسکی دلچسپی مزید بڑھی۔۔۔ ہیلو دریاب آپ اس وقت کہاں جا رہے ہیں۔۔ کھانا تو کھا جاتے بالکل تیار ہے۔۔۔ اسکی بے چین آوا کانوں سے ٹکراتی تو جیسے اسے دل پر ٹھنڈی میٹھی پھوار پڑتی محسوس ہوئی۔۔

کچھ ضروری کام ہے نور واپسی پر کھا لوں گا۔۔۔ تم کھانا کھا لینا میرے انتظار میں بھوکی مت بیٹھی رہنا۔۔۔ وہ نرمی اور اپنایت سے گویا ہوا۔۔۔اسکے اتنے سے التفات سے نور کی آنکھیں نم ہو اٹھی تھیں۔۔۔ نہیں میں کھانا آپکے ساتھ کھاوں گی۔۔۔عجیب ضدی استحقاق بھرا انداز تھا جیسے وہ ابھی رونے کی تیاری پکڑے ہی بیٹھی ہو۔۔۔ ادھر وہ انکار کرے تو ادھر وہ اپنا شغل جاری کرے۔۔۔ آواز میں نمی کی آمیزش محسوس کر کے وہ ٹرپ اٹھا۔۔ میں جلد آنے کی کوشیش کروں گا نور پھر کھانا ساتھ کھائیں گے۔۔۔ وہی نرم لہجہ جو اسکی شخصیت کا خاصا تھا۔۔۔ نور نم آنکھوں سے مسکرا دی۔۔۔ دل میں سکون اتر آیا تھا۔۔۔ میں آپکا انتظار کروں گی۔۔۔ مسکرا کر کہتے اسنے فون بند کیا اور غصے سے میسج ٹائپ کرنے لگی۔۔۔

نہایت ہی بھونڈا طریقہ تھا نائنٹیز کے ولن کی طرح میاں بیوی میں پھوٹ ڈلوانے کا۔۔۔ مجھے اپنے شوہر پر پورا اعتماد ہے آئندہ ایسے طریقہ کار پر عملدرآمد ہونے سے گریز ہی کریں۔۔ کھٹا کھٹ میسج ٹائپ کرتے ساتھ کئ غصے والی ایموجیز لگاتے سینڈ کیا۔۔۔

ہوا کے دوش پر سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں وہ میسج دریاب کے موبائل سکرین پر چمکا۔۔۔ میسج پڑھ کر وہ کتنی ہی دیر ہستا رہا۔۔۔

******

کیا بات ہے حدید ۔۔۔ سب خیریت تو ہے نا۔۔۔ حدید کے گھر میں داخل ہوتے ہی اسے کسی غیر معمولی پن کا احساس ہوا۔۔۔ نیز حدید کی دگرگوں حالت دیکھ وہ مزید پریشان ہوا۔۔۔ ملگجے کپڑے بکھرے بال ٹوٹا بکھرا سا وہ اسے کہیں سے بھی اسکا دوست حدید نا لگا۔۔ حدید بھی اسے سامنے پا کر بے بسی کے شدید احساس تلے دبتے اسے سب بتاتا چلا گیا۔۔۔ حدید کے چپ ہونے تک غصے سے دریاب کے جبرے بھینچ چکے تھے۔۔ سرخ آنکھوں سمیت وہ شاید اپنا ضبط آزما رہا تھا جب خود پر سے ضبط کھوتے اسنے پوری قوت سے حدید کے منہ پر مکا جڑا۔۔۔ تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری شہزادی کے ساتھ اتنا برا سلوک کرنے کی حدید۔۔ بولو کیا سوچ کر تم نے اس پر ہاتھ اٹھایا۔۔۔ وہ بھوکے شیر کی مانند اس پر جھپٹا تھا۔۔۔ دریاب نے اسے گریباں سے جھکڑتے اپنے مدمقابل لاتے کئے ایک جھٹکے دیئے۔۔ وہ کسی ہارے ہوئے جواری کی مانند سر جھکائے بے بس سا کھڑا تھا

۔۔

حدید تمہیں میری پھولوں سی نازک بہن بدکردار لگی۔۔ حدید تم۔۔۔ دریاب کا شاک تھا کے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا کم از کم وہ حدید سے ایسی حماقت کی توقع نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ وہ وہیں سر پکڑتا صوفے ہر ڈھ گیا۔۔

نہیں ہے وہ بدکردار دریاب۔۔ وہ بہت معصوم ہے میں جانتا ہوں ۔۔ اور اسکی معصومیت کی گواہی میں خود دے سکتا ہوں۔۔۔ حدید اسکی بات کاٹتا چلا کر گویا ہوا ۔۔ اسکے چلانے پر دریاب نے اسے چونک کر دیکھا۔۔ جب سب جانتے تھے تو اس سب کا مقصد۔۔ پھر بات کو اتنا کیوں بڑھایا تم نے۔۔۔ دریاب صدمے کے زیر اثر گویا ہوا۔۔۔

وہ شخص میرے آفس میں آ کر بکواس کر رہا تھا اور مجھے اسکی بکواس پر رتی برابر یقین نہیں تھا۔۔۔ لیکن اسکا یوں زرش کے بارے میں بکواس کرنا میرا خون کھولا گیا تھا۔۔ آفس میں اسے کچھ کہہ کر میں تماشا نہیں بنانا چاہتا تھا۔۔۔ اس لئے ایک مرتبہ زرش کے منہ سے ساری بات سننا چاہتا تھا اور اس کے لئے میں نے وہی طریقہ اپنایا جو ہم اپنے کالج کے دنوں میں اپناتے تھے کہ کسی سے بالکل سچی بات معلوم کرنی ہو تو اسے اتنا غصہ دلا دو کے وہ بنا سوچے سمجھے سچ بولتا چلا جائے۔۔۔ لیکن یہاں میں غلط ثابت ہوا۔۔۔ تمہاری بہن الٹی کھوپری کی نکلی۔۔۔ بجائے غصے میں سچ بولنے کے وہ مجھے بے انتہا غصہ دلا گئ۔۔۔ اسنے ان سب باتوں کی تردید کرنے کی بجائے انکی تائید کی۔۔۔ تم اس وقت کو تصور کر سکتے ہو دریاب۔۔۔ اسکی تائید سے میرا اس وقت کیا حال تھا ۔۔ میں بے موت کے مرا تھا تب۔۔۔ آگے سب شدید غصے کے غلبے تلے ہوتا گیا۔۔۔ زرا ہوش ٹکانے آئے تو سمجھ آیا کہ یہ سب بھی اسنے اپنی معصومیت کے ہاتھوں ہی کیا ہے۔۔۔ میں خود سے نظریں نہیں ملا پا رہا دریاب۔۔۔ سمجھ نہیں آ رہا کیا کروں۔۔۔ بے بسی اذیت و کرب سے کہتے آخر میں اسکی آنکھیں باوجود ضبط کے چھلک پڑیں تھیں۔۔۔ دریاب سر تھامے بے چین سا بیٹھا اسے سن رہا تھا۔۔۔

دریاب اسے صبح سے ڈھونڈتا ایک پل سے سکون سے نہیں بیٹھا لیکن پتہ نہیں وہ کہاں کھو گئ ہے جو مل ہی نہیں رہی۔۔۔ ٹوٹا بکھرا لہجہ دریاب کو بھی تڑپا گیا تھا۔۔۔ دریاب اسے ایک مرتبہ ڈھونڈ دو میں اسے منا لوں گا۔۔۔ اپنی ہر خطا کا ازالہ کروں گا اس سے معافی مانگ لوں گا کیسے بھی کر کے اسے منا لوں گا بس ایک مرتبہ اسے ڈھونڈ دو۔۔۔ وہ دریاب کے ہاتھوں پر سر رکھتا سسک اٹھا۔۔ دریاب کا اپنا دل کرلا رہا تھا بات جان سے پیاری بہن کی تھی لیکن وہ سامنے بیٹھے شخص سے بھی کیا کہتا جو خود شرمندگی کی اٹھاہ گہرائیوں میں گھرا کھڑا تھا۔۔۔

اٹھو دریاب بدقت کھڑا ہوا۔۔۔ کہاں حدید نے تعجب سے اسے دیکھا۔۔۔ باقی سب تو بعد میں دیکھیں گے پہلے اس سب کی جڑ کا تو صفایا کریں۔۔۔ اسکے لہجے میں ازدھوں کی پھنکار تھی۔۔۔ اسکی بات سمجھتا حدید بھی آنکھوں میں شعلوں سی لپک لئے کھڑا ہوا اب انکا رخ باہر کی جانب تھا۔۔

*****