Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hala (Episode 12)

Hala By Umme Hania

کمال صاحب اور دریاب بعجلت فلیٹ کی جانب بڑھ رہے تھے جب انہیں باہر سے ہی زہرا بیگم کے چیخنے کی آوازیں سنائی دیں تو وہ دونوں ٹھٹھک کر ایک دوسرے کا چہرا دیکھتے چیل سی تیزی سے اندر بھاگے۔۔۔۔

ایک ڈھار سے دروازہ کھول کر وہ دونوں آگے پیچھے اندر داخل ہوئے۔۔۔ نور کے بال زہرا کی سخت گرفت میں دیکھ کمال صاحب نے سرخ انگارہ ہوتی نگاہوں سے زہرا کو دیکھتے بنا تاخیر کئے ایک ہی جست میں اسکی جانب بڑھتے جھٹکے سے زہرا کے ہاتھ جھٹکتے نور کو اسکی گرفت سے آزاد کروایا۔۔۔۔

زہرا بیگم کی گرفت سے چھوٹتے ہی نور چہرا ہاتھوں میں چھپاتی سسک سسک کر رو دی۔۔۔ نہایت تاسف سے یہ سب دیکھتی شبو نے سرعت سے آگے بڑھتے نور کو سہارا دیتے صوفے پر بیٹھایا۔۔۔

یہ کیا بے ہودگی ہے زہرا ۔۔۔ تمہاری جرات کیسے ہوئی نور سے اتنا بے رحمانہ سلوک کرنے کی۔۔۔ ضبط کے باوجود کمال صاحب نور کی ایسی حالت پر چیخ اٹھے تھے۔۔

میری جرات کو چھوڑیئے کمال صاحب اپنی بات کریں ۔۔۔ آپکی جرات کیسے ہوئی کہ آپ نے مجھے بتائے بنا اس فسادن کی بیٹی کو میری بہو بنانے کی کوشیش کی۔۔۔ کمال صاحب اگر غصے میں تھے تو زہرا بھی پنجے گاڑتی میدان میں اتری۔۔۔

اس عورت نے پوری زندگی۔۔۔۔

بخش دو اس عورت کو مر چکی یے وہ۔۔ اب تو جان چھوڑ دو اسکی۔۔۔ کمال صاحب نے تیز لہجے میں اسکی بات کاٹتے اسکے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے تھے۔۔۔۔ اور مرتے مرتے بھی ایک عذابِ مسلسل میرے سر پر نازل کر گئ وہ عورت۔۔۔گل کی موت کے ابتدائی جھٹکے سے سمبھلتے ہی وہ پھر سے تیز لہجے میں گویا ہوئیں۔۔۔ دریاب بے بسی سے اپنی دو عزیز از جان ہستیوں کو ایک دوسرے کے روبرو دیکھ رہا تھا۔۔۔

پوری زندگی اس عورت نے میرے گھر کا سکون برباد کئے رکھا یہ خام خیالی ہے اسکی کہ میں اس جادوگرنی کی بیٹی کو اپنی بہو بناوں گی۔۔۔

تمہارے گھر کا سکون اسنے نہیں بلکہ تمہاری گھٹیا سوچ نے برباد کئے رکھا اور وہی کام تم اب بھی کر رہی ہو۔۔ کمال صاحب بے بسی سے لب بھینچتے گویا ہوئے۔۔۔ دیکھا ابھی یہ لڑکی میرے گھر میں آئی نہیں اور آتے ہی فساد برپا کر دیا ۔۔۔ میں کبھی بھی اس لڑکی کو اپنے گھر کی دہلیز پار نہیں کرنے دوں گی۔۔۔

دریاب ابھی کے ابھی اس واحیات لڑکی کو طلاق دو۔۔۔ طلاق دو اسے ابھی۔۔۔ یکدم ہی وہ اپنے آپے سے باہر ہوتیں دریاب کی جانب بڑھیں اور اسے بازو سے جھنجھوڑتی ہوئیں بپھر کر گویا ہوئیں۔۔۔

امی ی ی ی۔۔۔ وہ ساکت سا گم صم محض ماں کا چہرا دیکھ رہا تھا۔۔۔ یہ بھلا کیا کہہ رہی تھیں وہ۔۔۔ مانا کہ وہ کسی اور کو پسند کرتا ہے۔۔۔ مانا کہ نور کے ساتھ اسکی کوئی جذباتی وابستگی نہیں۔۔۔ مگر اسکے باوجود وہ اسکے نکاح میں تھی اسکی عزت تھی اور نکاح کوئی مزاق نا تھا ۔۔ وہ دل کی دنیا کو کچلتے ہر حال میں اس رشتے کو نبھانے کا ارادہ رکھتا تھا مگر اب ماں کا یہ مطالبہ اسے جھنجھوڑ گیا تھا۔۔۔

تمہیں میری بات سنائی نہیں دے رہی دریاب۔۔۔ ابھی کے ابھی اسے فارغ کرو اور یہاں سے چلتا کرو دریاب اس لڑکی کو فوراً طلاق دو۔۔۔ زہرا بیگم کے لہجے میں ایسی تپش اور آنکھوں میں ایسی چنگاریاں تھیں کہ جیسے ابھی نور کو زندہ بھسم کر دیں گئیں۔۔۔

دریاب کی تو وہ حالت تھی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔۔۔

I want divorce…

کب سے ہچکیاں لے کر روتی نور کے آنسو یکدم ٹھٹھرے تھے وہ بنا خوف و خطر ہرانجام کو پس پشت ڈالتے شیرنی کی مانند میدان میں کودی تھی اور نم آنکھوں سے دریاب کے روبرو جاتے گویا ہوئی۔

کیونکہ وہ اب مزید اپنی مری ماں کی بےتوقیری اور اپنی ذات کی نفی برداشت نہیں کر سکتی تھی۔۔۔

دیں طلاق مجھے ابھی اور اسی وقت۔۔۔ دریاب نے حیرت سے اس دھان پان سی لڑکی کی دلیری دیکھی تھی۔۔۔

ٹھیک ہے دے دریاب اسے طلاق مگر پھر یہاں طلاق ایک نہیں بلکہ دو دو طلاقیں ہونگئیں۔۔۔ میں بھی تمہیں ابھی اور اسی وقت طلاق دے کر فارغ کروں گا۔۔۔ کمال صاحب کی برداشت اب جواب دے گئ تھی۔۔۔ اس سے زیادہ وہ زہرا کی باتیں برداشت نہیں کر سکتے تھے اس لئے نور کا کپکپاتا بدن دیکھتے وہ آپے سے باہر ہوتے چلا اٹھے تھے۔۔ یکدم ہی زہرا کی زبان کو بریک لگی تھی۔

نور کو اندر لے کر جاو۔۔۔ زہرا بیگم تو حیرت سے گنگ عزیز از جان شوہر کا یہ روپ دیکھ رہی تھیں جو اپنی بات مکمل کر کے اب انہیں مکمل نظر انداز کئے شبو سے مخاطب تھے۔۔۔

دریاب اپنی ماں کو یہاں سے لے جاو اس سے پہلے کہ میں غصے میں کچھ بہت غلط کر بیٹھوں۔ زہرا کی جانب سے چہرا پھیرتے کمال صاحب دریاب کی جانب دیکھتے سختی سے گویا ہوئے۔۔ ۔دریاب مزید حالات کا رخ خراب ہوتے دیکھ ماں کا ہاتھ پکڑ کر انہیں ساتھ لیجانے لگا جبکہ وہ اسکے ساتھ کھنچتی جاتی مر مر کر صدمے سے گنگ شوہر کو دیکھ رہی تھیں جو انہیں بھرپور نظر انداز کئے دوسری جانب رخ کئے کھڑے تھے۔

******

یکدم ہی جیسے اس ہستے بستے گھر پر قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔۔۔۔ ہر شخص کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا ۔۔ عجیب ویرانی لئے خاموشی ہر نفوس کے درمیان آ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔ نگہت بیگم کی دن با دن بگرتی طبیعت کے پیش نظر یوسف نے جیسے تیسے پیسوں کا بندوبست کر کے ماں کے ٹیسٹ کروائے تھے لیکن ان ٹیسٹوں کی ریپورٹس نے ان سب کی زندگیوں میں ایک بونچال لا کھڑا کیا تھا۔۔۔

نگہت بیگم کو کینسر تھا جو ابھی توابتدائی سٹیج پر تھا مگر وہ بہت تیزی سے پھیل رہا تھا۔۔۔ اس کا بروقت علاج نہایت ضروری تھا۔۔ یوسف کی تو سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ہی مفلوج ہو گئ تھیں۔۔۔ بھلا ماں سے بھی بڑھ کر کوئی تھا اور پھر کڑیل جوان بیٹے کے ہوتے ہوئے بھی ماں علاج کی وجہ سے اذیت کاٹتی یہ اس کے لئے ڈوب مرنے کا مقام تھا۔۔۔ ماں کی حالت اسکا دل چیر رہی تھی۔۔۔ نوکری اسکے پاس تھی نہیں اور کوئی جمع پونجھی بھی نا تھی جو بروقت ضرورت کام آ سکتی۔۔۔

سب سے پہلے اسنے ہر چیز بالائے طاق رکھتے اپنے لئے اپنے معیار سے نیچے آ کر نوکری ڈھونڈی لیکن جب وہاں بھی تاخیرکا سامنا کرنے کی نوبت آئی تو اسنے ہر کام بالائے طاق رکھتے ضرورت ایجاد کی ماں والے مقولے کو بروئے کار لاتے مزدوری شروع کر دی۔۔۔ ایک ایم بی اے ڈگری ہولڈر شخص صبح سے شام مزدوری کرتا کئ کئ بار تو ڈبل شفٹ بھی لگاتا ۔۔۔ صبح سے شام پسینے سے شرابور لگاتار سخت ترین کام کے پیش نظر اسکے ہاتھوں پر جابجا چھالے بن گئے تھے۔۔۔ لیکن اسے روز کی روز ملنے والی اجرت سے اسکی ماں کی باقاعدہ دوائیوں کا انتظام ہونے لگا تھا۔۔۔ مسلسل چند دن اس کام کی نظر کرنے کے بعد اسے جلد ہی احساس ہو گیا کہ دن رات اپنی اسطاعت سے بڑھ کر کولہو کے بیل کی مانند کام کرنے کے باوجود بھی وہ اس محدود اجرت سے اپنی ماں کا علاج نہیں کروا سکتا تھا۔۔ زندگی کے تلخ ترین حقائق اسکے سامنے منہ کھولے آن کھڑے ہوئے تھے۔۔۔

کیسی باتیں کر رہے ہو یوسف ۔۔۔ ہم یہ کیسے کر سکتے ہیں۔۔۔ ہمارے پاس اس کے سوا اور ہے ہی کیا۔۔۔ ہر طرف سوچ کے گھوڑے ڈورا لینے کے بعد جب کوئی حل نا سوجھا تو بلآخر اسنے دادا سے مشورہ کر کے یہ گھر فروخت کر کے ماں کا علاج کروانے کا سوچا۔۔۔

تو اور کیا کروں دادا کچھ سمجھ نہیں آ رہا ۔۔۔ عقل سمجھ مفلوج ہو رہی ہے۔۔۔ جس جانب جاتا ہوں ہر جانب سے خود کو ایک بند اندھیری گلی میں کھڑا پاتا ہوں جیسے مجھ پر ہر راستہ بند ہو گیا ہو۔۔۔ امی کی دن بدن بگڑتی حالت آپکے سامنے ہے پھر کروں تو کیا کروں۔۔۔ بے بسی سے کہتے اسکی آواز بھر آئی تھی وہ آج خود کو دنیا کا بے بس ترین انسان سمجھ رہا تھا

بیٹا گھر بیچ کر علاج کروانا کوئی عقلمندی تو نہیں ۔۔۔ آج تو چھت ہے چاہے پیٹ خالی ہو لیکن عزت سے سر چھپا کر چھت تلے تو بیٹھے ہیں اس چھٹ کو بھی گنوا کر جوان لڑکی کے ساتھ ہم کہاں کرائے پر دھکے کھاتے پھریں گئے اور پھر اس محدود آمدن میں جب گھر کا خرچہ کھینچ تان کر چل رہا ہے ایسے میں ہم مکان کے کرائے کہاں سے دیں گئے۔۔۔ دادا کے مدلل انداز میں دیئے گئے دلائل پر یوسف سر تھام کر بیٹھ گیا تھا کیونکہ غلط دادا بھی نہیں تھے مگر غلط تو وہ بھی نا تھا تو پھر بیچ کی کوئی راہ۔

*****

انکل میری ماں بری عورت نہیں تھی ۔۔۔ میں مان ہی نہیں سکتی۔۔۔ میں آپکی مسز کی ایک ایک بات کی نفی کرتی ہوں۔۔۔ زہرا کے فلیٹ سے جانے کے بعد کمال صاحب نور کے کمرے میں آئے تو وہ جو بیڈ کی پائنتی پر بیٹھی دونوں ہاتھوں سے بیڈ شیٹ دبوچے کسی غیر مری نقطے کو گھورتی خاموش آنسو بہا رہی تھی سرعت سے اٹھتی کمال صاحب کے روبر آئی اور بے بسی بھری شدت سے احتجاج کر اٹھی۔۔۔

میں تمہاری ہر بات سے متفق ہوں بیٹا تمہاری ماں ایک عظیم عورت تھی۔۔۔باکردار اور وفا شعار۔۔۔ اس جیسی عورتیں قسمت والوں کو ملتی ہیں اور تمہارا باپ خوش قسمت ترین انسان تھا جس کی قسمت میں اللہ نے اسکا ساتھ لکھا۔۔۔۔ کمال صاحب کے سنجیدگی سے کہنے پر گویا نور کے جلتے سلگتے دل پر ٹھنڈی پھوار برسی تھی۔۔۔ چہرے کے تنے اعضلات کچھ ڈھیلے پڑے تھے۔۔۔

انکل مجھے یہاں نہیں رہنا ۔۔۔ میں کسی ہاسٹل میں شفٹ ہونا چاہتی ہوں۔۔۔ میں جیسے بھی کر کے اپنا خرچہ خود اٹھا لوں گئ مگر مجھے کسی صورت یہاں نہیں رہنا۔۔ وہ واقعی ایک خوددار ماں کی خودار بیٹی تھی جو اپنی انا و وقار کیساتھ کوئی سمجھوتا نہیں کر سکتی تھی۔۔۔

آپ وہیں مجھے طلاق کے کاغذات۔۔۔۔

بس بیٹا اس سے آگے مزید کچھ مت کہنا۔۔۔ اچھی بیٹیوں کے منہ پر ایسی باتیں اچھی نہیں لگتیں۔۔۔ کمال صاحب نے نرمی سے اسکی بات کاٹتے اسے سمجھایا تھا۔۔۔ آنسو ایک مرتبہ پھر سے بھل بھل بہنے لگے تھے ۔۔ ایسا وہ خود کب چاہتی تھی وہ تو اس ستم گر پر پہلی ہی نظر میں دل ہار گئ تھی جسے اسکے اللہ نے بن مانگے ہی اسکی قسمت میں لکھ دیا تھا مگر آج عزت اور محبت میں سے کسی ایک کو چننے کی باری آئی تھی تو اسنے بنا سوچے سمجھے عزت کو ترجیح دی تھی۔۔۔

تو کیا کروں انکل ۔۔۔ میں اپنی ماں کے بارے میں کچھ فضول گوئی برداشت نہیں کر سکتی یہ میرے لئے ناممکن کام ہے میرے اختیار سے باہر ہے۔۔۔ وہ چہرے پر بہتے آنسو رگڑ رگڑ کر صاف کرتی واپس بیڈ پر بیٹھی۔۔۔

بیٹا آج میری چند باتیں اچھے سے ذہن نشین کر لو۔۔۔ کمال صاحب اسکے قریب ہی کرسی کھینچ کر بیٹھے۔۔۔ میں صرف دریاب کا ہی نہیں بلکہ تمہارا بھی باپ ہوں۔۔ اور اسی حیثیت سے تمہیں بتا رہا ہوں کہ تمہاری ماں نہیں ہے جو تمہیں اب انگلی پکڑ کر ہر اونچ نیچ کے بارے میں سمجھائے گی۔۔۔ ماں کے ذکر پر آنکھیں مزید شدت سے بہی تھیں۔۔ تم اس عظیم عورت کی بیٹی ہو جو رشتوں پر جان دیتی تھی۔۔۔ اپنے رشتوں کو جوڑے رکھنے کے لئے ہر حد تک جا سکتی تھی ۔۔ کیا تم جاتے جاتے اسکا جوڑے جانے والا یہ رشتہ توڑ کر اسکی تربیت پر سوالیہ نشان لگانا چاہوں گئ۔۔۔ اگرچہ کمال صاحب کی آواز میں نرمی تھی لیکن انکی باتیں ایک پل کو نور کا دل ہلا گئ اسنے چونک کر انکی جانب دیکھا آنسو جیسے یکدم ٹھٹھر گئے تھے۔۔۔ جانتی ہو تم وہ کتنی مطمیعن ہوگئ تھی تمہارے نکاح کے بعد۔۔۔ تمہارے لئے دریاب اسکا انتخاب تھا۔۔۔ کیا اب تمہارے اس احمقانہ فیصلے کی تکلیف اسے وہاں نہیں ہوگئ۔۔۔

تو انکل میں کیا کروں جو کچھ آج ہوا۔۔۔ بے بسی سے کہتی وہ سر تھام گئ تھی۔۔۔۔ جو کچھ آج ہوا اس کے لئے میں تمہیں محض یہ ہی کہوں گا کہ اللہ پر بھروسہ رکھو اور صبر کا دامن تھامے رکھو انشااللہ بہت جلد سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ زہرا کا غصہ آہستہ آہستہ ٹھنڈا ہو جائے گا۔۔۔ باقی رہ گیا دریاب تو اسکی گارنٹی تمہیں میں دیتا ہوں۔۔۔ وہ میرا بیٹا ہے ۔۔۔ میرا فخر۔۔۔ میرا مان۔۔۔ وہ تمہیں بہت خوش رکھے گا اسکی سنگت میں تم ایک پرسکون اور آسودہ زندگی گزارو گئ۔۔۔ اور بیٹا ساری بات ہی ہمسفر کی ہوتی ہے اگر ہمسفر اچھا ہو نا تو زندگی کا یہ سفر اچھے سے کٹ ہی جاتا ہے انسان ہر امتحان پار کر ہی جاتا ہے۔۔۔ لیکن اگر ہمسفر اچھا نا ہو تو پوری دنیا بھی آپکے لئے اچھی بن جائے لیکن زندگی کا سفر بہت مشکل ہو جاتا ہے۔۔۔ تم اس حوالے سے اطمیئنان رکھو کہ تمہاری ماں کا تمہارے لئے انتخاب انشااللہ تمہارے حق میں بہت بہتر ہوگا۔۔۔ یہ سب وقتی مسائل ہیں جو آہستہ آہستہ حل ہو ہی جائیں گئے مگر مجھ سے وعدہ کرو کے تم دوبارہ طلاق جیسے لفظ کو زبان پر نہیں لاو گئ۔۔۔ کمال صاحب نے اسے محبت سے سمجھاتے اسکا سر تھپتھپایا۔۔۔ تو وہ آہستہ سے سر ہاں میں ہلا گئ۔۔ رہ گئ یہاں نا رہنے والی بات تو فکر مت کرو تمہاری یہ خواہش تو بہت جلد پوری ہو جائے گئ بہت جلد تمہیں دریاب یہاں سے رخصت کروا لے جائے گا۔۔۔ اب کے انکی آواز میں زرا شوخی کا عنصر تھا۔۔

مگر انکل مجھے آنے والے حالات سے ڈر لگ رہا ہے۔۔ خوف اسکے چہرے سے ہوادیدہ تھا ۔۔ اسکی بات پر کمال صاحب یکدم ساکت ہوئے تھے۔۔۔ یہ کیا کہہ دیا تھا اسنے جیسے وہ کھڑے کھڑے وقت کی کئ مسافتیں طے کرتے کہیں بہت پیچھے چلے گئے تھے۔۔۔ دل میں کہیں درد کی ایک ٹھیس سی اٹھی تھی۔۔۔ وہ بنا جواب دیئے سرعت سے وہاں سے پلٹے اور پھر اسکے کمرے تو کیا فلیٹ سے بھی باہر نکلتے چلے گئے تھے۔۔۔ ناجانے کیا آج انہیں نہایت غلط وقت پر یاد آیا تھا۔۔۔

*******