Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hala (Episode 31)

Hala By Umme Hania

فہد کی آواز سن کر ایک پل کو نور کے قدم ڈگمگائے آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھایا۔۔۔ مگر اسنے اپنی کل متاع حیات اپنی ماں کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما گویا کچھ بھی ہوجائے چاہے موت ہی وقوع پذیر کیوں نا ہو جائے وہ یہ ہاتھ کبھی نہیں چھوڑے گی۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔ جب مرنا طے ہی تھا تو بنا لڑے ہمت ہار کر کیوں مرتی۔۔۔ زندگی بچانے کو اسے ہاتھ پاوں تو مارنے ہی تھے۔۔۔ آنکھوں کو جھپک جھپک کر کھولتے وہ رکی نہیں تھی آئتل بیماری اور کمزور اعصاب کے باعث ہمت ہار کر بہتی آنکھوں سے اور پھولے سانسوں سمیٹ اسے دیکھتی رک گی آنکھوں میں واضح التجا تھی کہ بھاگ جاو۔۔۔ موت قریب سے قریب تر ہو رہی تھی فہد انکے سر پر پہنچنے والا تھا مگر وہ نور تھی جس کے لئے سب سے پہلے اسکی ماں اور پھر کچھ اور۔۔۔ ڈھرکتے دل کے ساتھ اسنے ایک کلاوے میں ماں کو بھرا۔۔ اٹھا تو سکتی نہیں تھی ماں کو گھسیٹتی ہوئی وہ پوری قوت سے اندھا دھند بھاگی۔۔۔

واچ مین۔۔۔ واچ مین گیٹ بند کرو۔۔۔ بجری اور سیمنٹ کی بنی روش پر اندھا دھند بھاگتے یہ الفاظ اسے مسلسل قریب سے قریب تر ہوتے محسوس ہوئے۔۔۔ اسنے اپنی مکمل توانائی محض بھاگنے میں صرف کی۔۔۔ یہ زندگی اور موت کا کھیل تھا ہارنے کی صورت عزت سے ہاتھ دھو بیٹھتی جو اسے مارتا نا بلکہ زندہ درگو کر دیتا اسنے پلٹ کر اپنا اور اس درندے میں باقی مانند فاصلہ بھی دیکھنے کی ضرورت محسوس نا کی۔۔۔ دل کانوں میں ڈھرک رہا تھا اور زبان پر مسلسل اپنے رب سے مدد کی فریاد تھی ۔۔۔ آنکھوں کی نمی بار بار سامنے کا منظر دھندلا رہی تھی جسے وہ پلکیں جھپک جھپک کر صاف کرنے کی کوشیش کرتی۔۔۔

اسکا اللہ اسکے ساتھ تھا جو گیٹ کھلا تھا اور چوکیدار ندارد۔۔۔۔ خدا کی طرف سے اس غیبی امداد پر اسکی توانائیاں کچھ بحال ہوئیں تھیں۔۔۔

گیٹ سے نکلتے ہی اسنے باعجلت گیٹ بند کیا فہد نے اسے ایک موٹی سی گالی سے نوازا۔۔۔۔ سالی ایک بار ہاتھ لگ جا تیرا تو وہ حشر کروں گا کہ تیرا حشر پوری دنیا دیکھے گی۔۔۔ نور نے مزید تیزی سے بھاگتے اس درندے کی ان للکاروں سے پیچھا چھڑوانا چاہا۔۔۔

گھٹیا انسان کہاں مرے تھے۔۔ گیٹ کھولو اور پیچھا کرو ان دونوں کا وہ دونوں بھاگنے نا پائیں۔۔۔

نور کو سرک پر بھاگتے اسکے الفاظ سنائی دیئے۔۔۔ غالباً وہاں چوکیدار آ گیا تھا۔۔۔

نور نے باعجلت پاس سے گزرتی ٹیکسی کو ہاتھ دے کر روکا۔۔۔ ماں کو اندر بیٹھا کر خود اس میں سوار ہوتے اسنے دور کھڑی اپنے باپ کے ہاتھوں بنی اس عالیشان گھر کی عمارت کو دیکھا جہاں فہد اسکی طرف ہی دیکھتا درائیور کو اشارے سے جلدی گاڑی نکالنے کو کہہ رہا تھا۔۔۔۔ رکشے میں سوار ہوتے ہی اسنے رکشے والے کو جلدی رکشہ چلانے کا بولا۔۔ بیٹا جانا کہاں ہے اس ضعیف انسان نے حیرت سے رکشہ سٹارٹ کرتے ان سے استفسار کیا جو پھولے سانوں سمیٹ خاصی گھبرائی لگ رہی تھیں۔۔

چاچا یہاں سے قریب جو بھی پرہجوم جگہ ہے وہاں اتار دیں۔۔۔ نور کا دماغ اب تیزی سے کام کر رہا تھا۔۔۔۔ ماں کے دیئے زیوارات جو کہ واحد بقا کا ذریعہ تھے وہ اسی بیگ میں وہیں اسی گھر میں رہ گئے تھے۔۔۔کاش ماں آپ وہ زیورات اتارتی ہی نا۔۔۔ اس نے ہونٹ چباتے کرب سے آنکھیں میچیں۔۔۔ اب اسکے پاس واحد جمع پونچھی وہ کچھ پیسے تھے جو اسکے ہاتھ میں تھے جو چند سو پر مشتمل تھے نور کی آنکھیں بھیگنے لگی۔۔۔ گھر سے نکلنے کا فیصلہ تو کر لیا مگر اب آگے کیا کرتیں۔۔۔ پاس تو کچھ بھی نا تھا۔۔۔ بیمار ماں کیساتھ کہاں جاتی اب کی بار دل الگ ہی فکر میں ڈھرکا تھا۔۔۔ بے بسی کے وقت میں اللہ دل کی گہرائیوں سے یاد آیا تِھا۔۔۔ اسے ماں کی کہی بات یاد آئی کہ جہاں انسان بے بس ہو جاتا ہے اسکے ہاتھ میں کچھ نہیں رہتا وہاں سب اللہ پر چھوڑ دینا چاہیے وہ بہتریں مسب با بالاسباب ہے جو بہتر لے کر بہترین سے نوازتا ہے۔۔۔

اے میرے مالک میری عقل مفلوج ہو گی ہے ذہن سوچنے سمجھنے کی طاقت سے محروم ہو گیا ہے۔۔۔ یا اللہ میری مدد فرما۔۔۔ مجھے کوئی راستہ سجھا۔۔۔ میرے اللہ بہت بے بس ہوں اس وقت مجھے اکیلا نا چھوڑنا۔۔۔۔ کپکپاتے لبوں اور اشکبار نگاہوں سے اسنے دل میں اپنے رب سے ناطہ جوڑا جب کسی انہونی کے احساس نے اسے جھنجھوڑا اسنے سوکھے پتے کی مانند لرزتے دل سے اپنے شک کو جھٹلانے کی خاطر پیچھے مڑ کر دیکھا اور پیچھے دیکھتے ہی دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔۔۔ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئں پورے جسم میں گویا کرنٹ دور گیا۔۔۔ چاچا۔۔۔ زرا جلدی کریں۔۔۔ چاچا یہ گاڑی ہمارا پیچھا کر رہی ہے پلیز اسے کسی طرح ڈاج دے دیں۔۔۔ خوف سے لرزتے لہجے میں ڈرائیور سے التجا کرتے اسنے نیم بیہوش ماں کو مزید شدت سے خود میں بھینچا۔۔۔

بٹیا بھلا ایک گاڑی اور ایک رکشے کا کیا مقابلہ۔۔۔۔ لیکن اچھا ہوا جو تم نے مجھے بتا دیا میں ان تنگ گلیوں سے لے چلتا ہوں ہوں گاڑی کو موڑ کاٹتے کچھ وقت درکار ہو گا اور ہمارے درمیان فاصلہ پیدا ہو جائے گا۔۔۔ رکشے والے کی بات سے نور کو کچھ حوصلہ ہوا اسنے واقع تنگ تنگ گلیوں سے رکشہ ڈالتے اسے مین مارکیٹ میں اتارا۔۔۔ نور نے اسے کرایہ دے کر ماں کو رکشے سے اتارا اور چند قدم چلنے کے بعد دوسرا رکشہ پکڑا۔۔۔ بھیا ہمیں سول ہسپتال اتار دیں۔۔۔ فلحال ماں کی حالت کی مدنظر اسے ہسپتال جانا ہی بہتر لگا۔۔۔۔

*****

گاڑی کے ہارن کی آواز پر نور یکدم ہوش کی دنیا میں واپس آئی۔۔۔ زرش کے جانے کی بعد وہ اسے ہی سوچتی لاوئنج میں اپنی سابقہ جگہ پر ہی آ بیٹھی تھی۔۔۔ وہ جو خود سے وعدہ کر چکی تھی کہ خود کو اتنا مصروف کر لے گی کہ ماضی کی کسی یاد کو دماغ میں آنے تک نا دے گی لیکن شاید آج تنہائی کا شدید دورا پڑا تھا جو دماغ لپک لپک کر ماضی کی انہی خاردار جھاڑیوں کا سفر کر رہا تھا۔۔۔ باہر مغرب کی اذانیں ہونے لگی تھیں۔۔۔ انیکسی میں بھی اچھا خاصا اندھیرا چھا گیا تھا۔۔۔ سردی کی شدت میں بھی کافی حد تک اضافہ ہو گیا تھا مگر وہ کسی بھی شال یا موٹے کپڑے کے بنا بے حس بنی تھی۔۔۔

یقیناً یہ دریاب کی ہی گاڑی کا ہارن تھا وہ آفس سے واپس آ گیا تھا۔۔۔ نا نا کرنے کے باوجود بھی وہ دل کی آواز پر لبیک کہتی ننگے پاوں اٹھ کر انیکسی کی کھڑکی تک گئ۔۔۔ ماربل کے یخ ٹھنڈے فرش پر پاوں رکھتے ہی ہڈیوں کو منجمند کرتی ٹھنڈ نے اندر سرائیت کرتے اسے کپکپانے پر مجبور کیا مگر وہ بے حس بنی یونہی آگے بڑھی اس وقت خود اذیتی بھی اسے سکون دے رہی تھی۔۔۔ کھڑکی کے پٹ سے سر ٹکا کر وہ باہر دیکھنے لگی جہاں اس وقت دریاب کار پورچ میں کار کھڑی کر کے باہر نکل رہا تھا۔۔۔ کوٹ اتار کر بازو پر لٹکا رکھا تھا ماتھے پر بکھرے بال اور چہرے کے تیکھے مغرور نقوش دیکھ کر نور کو اپنا دل مچل کر بے قابو ہوتا محسوس ہوا۔۔۔ جانے کیا تھا اس شخص میں ایسا جو ہر بار اسے سامنے دیکھ کر وہ اس پر اپنا آپ ہار جاتی تھی۔۔۔ اندر جانے سے پہلے اسنے ایک نظر انیکسی کو دیکھا وہ اسے خاصا تھکا ہوا لگا۔۔۔ نور جانتی تھی کہ وہ اسے نظر نہیں آئے گئ کیونکہ وہ اندھیرے میں کھڑی تھی۔۔

اللہ اس شخص کے دل میں میرے لئے محبت ڈال دے۔۔۔ اتنی کے اسے میرے سوا کوئی دکھے ہی نا۔۔۔ اس شخص کا ہر دکھ ہر سکھ مجھ سے وابسطہ ہوجائے۔۔ جتنی محبت میں اس سے کرتی ہوں اس سے کئ ۔۔۔ کئ ۔۔۔ کئ گناہ زیادہ اسے میری محبت میں ٹرپا دے اللہ۔۔۔ وہیں کھڑی کھڑی وہ کیا دعائیں کر رہی جب اپنی ہی بے خودی میں کی گئ دعاوں کی طرف توجہ گئ تو چونک اٹھی۔۔۔ اسے اپنے چہرے پر نمی کا احساس ہوا تو اسنے اپنی گالوں کو انگلیوں کی پوروں سے چھوا جو گیلی ہو چکی تھیں۔۔۔ ناجانے وہ کب سے دریاب کو دیکھتی خاموش آنسو بہا رہی تھی وہ اپنی ہی حالت سے پریشان ہو اٹھی تھی کب وہ یک طرفہ محبت کے اس سفر میں اتنی آگے تک بڑھ گی۔۔۔ وہ واپس اسی ٹھنڈے فرش پر چلتی اسی صوفے پر آ کر ڈھ سی گئ۔۔ خود سے یہ جنگ اسے ادھ موا کئے دے رہی تھی۔۔۔۔ اب تو سردی کی شدت سے جسم پر کپکپی طاری ہونے لگی تھی مگر وہاں پرواہ کسے تھے۔۔۔ وہ صوفے پر ٹانگیں اوپر کر کے گھٹنے سینے سے لگاتی ان پر اپنا سر ٹکا گئ۔۔۔

دریاب حیرت سے اندھیرے میں ڈوبی انیکسی کو دیکھ کر اندر بڑھ گیا ارادہ ماں سے مل کر پھر انیکسی کا چکر لگانے کا تھا جہاں اسکی چھٹی حس کچھ غلط ہونے کی نشاندہی کر رہی تھی ورنہ نور سر شام ہی لائٹیں چلا دیتی تھی اور اسکے کمرے کی لائٹ تو بالخصوص آدھی رات تک جلتی تھی۔۔ اسکا دل کچھ غلط ہونے کی نشاندہی کر رہا تھا مگر اسکا اندازہ کچھ غلط تھا۔۔۔ کیونکہ گھر کے اندر ابھی ایک اور آزمائش اسکی منتظر کھڑی تھی جس سے وہ ابھی تک لاعلم تھا ۔۔۔۔

******

زرش جب سے حدید کے ساتھ واپس گھر آئی تھی خاصی خاموش تھی۔۔۔ گھر داخل ہوتے ہی دادی نے اسے ساتھ لپٹا کر خوب پیار کیا تھا وہ بھی کافی دیر تک انکے سینے میں چہرا چھپاتی سکون تلاش کرتی رہی۔۔۔ حالات کس نہج پر لے آئے تھے اسے وہ گھر جو اسے پوری دنیا سے زیادہ پیارا تھا آج اسکا وہاں دل نا لگا تھا جو فورا سے یہاں چلی آئی۔۔۔ دادی اور ہادیہ اسکے گھر آ جانے کے باعث وہاں سے واپس گاوں چلی گئ تھیں۔۔ ویسے بھی وہ کافی دن وہاں رہ لی تھیں انہیں شہر کی ہوا زرا کم ہی راس آتی تھی۔۔۔۔

حدید بیٹا آفس سے کچھ دنوں کی چھٹیاں لے کر بہو کو لے کر گاوں آنا بچی کی طبیعت پر اچھا اثر پڑے گا اور دھیاں بھی بٹ جائے گا ۔۔ وقت رخصت دادو نے اسکی مرجھائی صورت دیکھ کر حدید کو نصیحت کی اور بچی کا بہت خیال رکھنا اسکی طرف سے مجھے تمہاری کوئی شکایت نہیں ملنی چاہیے۔۔۔۔ انہوں نے محبت سے زرش کو ساتھ لگایا اور اسکے ماتھے کا بوسہ دیا۔۔۔ انکے جانے کے بعد سے زرش اپنے کمرے میں صوفے پر خاصی بے چین سی بیٹھی تھی۔۔۔ کسی کروٹ سکون نہیں آ رہا تھا اور دادو اور ہادیہ کے جانے کے بعد سے تو اسے یہ گھر بھی کاٹ کھانے کو دور رہا تھا۔۔۔ حدید سے ابھی تک ایسا رشتہ بنا ہی کہاں تھا جس کی بنا پر وہ اس سے کچھ شیئر کرتی اپنے دل کا غم ہلکا کرتی ۔۔ وہ اول روز کی طرح ہی اس سے میلوں فاصلے پر تھا ناجانے وہ اسکے ساتھ ایسا کیوں کر رہا تھا اسے شدت سے اس وقت ایک جذباتی سہارے کی ضرورت محسوس ہوئی جسکے کندھے پر سر رکھ کر وہ دل کا غم ہلکا کر سکتی۔۔۔

حدید کئ بار کمرے کے چکر لگا کر جا چکا تھا وہ مسلسل اسے اسی پوزیشن میں بیٹھے کسی غیر مرئ نقطے کو دیکھتے کسی گہری سوچ میں غرق لگی۔۔۔ اب تو اسکے رویے سے حدید کو بھی تشویش ہونے لگی تھی۔۔۔ وہ لاکھ اس سے بیگانگی ظاہر کر لیتا پر درحقیقت وہ اسکے لمحے لمحے کی خبر رکھتا تھا۔۔۔ بیوی کی حیثیت سے تو اسنے ابھی تک اسے قبول کیا ہی نا تھا البتہ دوست کی بہن کی حیثیت سے بھی وہ اسے کچھ کم عزیز نا تھی۔۔۔

زری سب ٹھیک ہے نا۔۔۔ پہلی مرتبہ وہ اسکے پاس بیٹھ کر محبت سے گویا ہوا۔۔ اسنے اسکی گود میں دھرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تو زرش نے نم آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔

کوئی پرابلم ہے کیا۔۔۔ ہے تو مجھ سے شیئر کرو شاید میں کوئی حل نکال دوں۔۔۔ اتنا میٹھا اور ہمدرد لہجہ۔۔۔ زرش کو لگا وہ اس حدید سے شاید زندگی میں پہلی مرتبہ ملی ہو۔۔۔۔ اسے تو پہلے ہی سہارے کی ضرورت تھی وہ اسکا کوٹ کھینچتی اسکے سینے پر سر ٹکائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ حدید تو ساکت رہ گیا تھا گویا سانس تک روک گیا ہو اسکی اس حرکت پر۔۔۔۔ بابا کیوں چھوڑ کر گئے مجھے حدید۔۔۔ مجھے تو انکے بعد اب کچھ سجھائی ہی نہیں دیتا کہیں دل نہیں لگتا میں کیا کروں۔۔۔ اسکے سینے سے لگی وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔۔۔ حدید نے لب بھینچے اسکے گرد حصار قائم کیا ۔۔ کمال انکل کی وفات کا سب سے زیادہ صدمہ بھی اسی نے لیا تھا تبھی تو جنازے کے وقت بھی وہ ہوش میں نا تھی۔۔۔۔ وہ تھی ہی انکی لاڈلی اتنی مشکل تو ہونی ہی تھی۔۔۔

تم کچھ دن مزید رہ لیتی وہاں زری کیوں اتنی جلدی آگئ۔۔۔ حدید نے اسکے بال سہلائے۔۔۔

بابا کے بنا وہ گھر بھی مجھے کاٹنے کو دورٹا ہے۔۔۔ کہیں دل نہیں لگ رہا کہیں سکون نہیں مل رہا۔۔۔ بے کیف اور بے رونق زندگی لگ رہی ہے۔۔۔ اس سے الگ ہوتے اسنے سوں سوں کرتے سامنے موجود میز پر موجود ٹشو باکس سے کئ ایک ٹشو نکالتے اپنا ناک صاف کیا۔۔۔

اور اٹھ کر بیڈ کی جانب بڑھی۔۔۔ مجھے نیند آ رہی ہے آپ پلیز لائٹ بند کر دیں بیڈ پر چت لیٹتے اسنے لحاف سر تک اوڑھا۔۔۔ حدید آنکھیں چندھی کئے حیرت سے اسکے پل میں تولہ پل میں ماشہ بنتے روپ کو دیکھ رہا تھا۔۔

کھانا تو کھا لو پہلے پھر سو جانا۔۔۔ بھوک نہیں ہے مجھے۔۔۔ لحاف کر اندر سے ہی آواز آئی۔۔۔

بھوک ہے یا نہیں ہے کھانا تو کھانا ہی پڑے گا۔۔۔ میں کھانا لینے جا رہا ہوں چلو شاباش اٹھ جاو کھا کر بے شک سو جانا۔۔۔ حدید کی نرم آواز کانوں سے ٹکرائی تو لحاف ہی میں کئ ایک آنسو اسکی آنکھوں سے ٹوٹے۔۔۔ اب بھلا وہ اسے کیا بتاتی کہ کیوں وہاں نا رکی تھی وہ۔۔۔۔ میں کل سے ہی یونی دوبارہ سے جوائن کر لوں گی ورنہ شاید یہ ہی سب سوچتی پاگل ہو جاوں وہ اپنے آنسو صاف کرتی مصمم ارادہ کر چکی تھی۔۔۔

******