Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hala (Episode 46)

Hala By Umme Hania

گاڑی کو کار پورچ میں کھڑا کر کے وہ گھر کی اندرونی جانب بڑھا۔۔۔ آج وہ وقت سے کچھ پہلے ہی گھر واپس آ گیا تھا۔۔۔ پیاس محسوس کر کے دریاب اپنے کمرے میں جانے کی بجائے کچن کی جانب بڑھا۔۔۔ کچن میں داخل ہوتے ہی وہ ڈسپینسر کی طرف بڑھا اور ڈسپینسر سے پانی گلاس میں ڈال کر وہیں موجود چھوٹی سی گول میز کے گرد کرسی کھینچ کر بیٹھتا گھونٹ گھونٹ پانی پینے لگا۔۔۔ چولہے پر کچھ پک رہا تھا شاید زہرا بیگم کا پرہیزی کھانا۔۔۔ اسکے پاس ہی میز پر لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا ساتھ ہی کچھ پیپر اور پن بھی پڑے تھے غالباً نور زہرا بیگم کا پرہیزی کھانا بناتے ہوئے وہیں پر بیٹھی کچھ کام کر رہی تھی مگر اب وہ وہاں نہیں تھی۔۔۔ دریاب نے پانی پی کر گلاس وہیں میز پر رکھا اور اٹھ کھڑا ہوا جاتے جاتے اسکی ایک سرسری نگاہ لیپ ٹاپ کی روشن سکرین پر پڑی اور ٹھٹھک کر وہیں رک گی۔۔۔ اسنے بے ساختہ لیپ ٹاپ کا رخ اپنی جانب کیا اور شاک کی کیفیت میں لیپ ٹاپ کی کیز دبا کر مختلف فولڈرز کھولنے لگا۔۔۔ دماغ جو اسے سمجھا رہا تھا وہ بہت غیر متوقع تھا۔۔۔ لیپ ٹاپ پیچھے کر کے اسنے پاس بکھرے کاغذات کو پکڑ کر الٹ پلٹ کر دیکھا۔۔۔ حواس باختگی کے عالم میں اسنے سب وہیں چھوڑا اور بعجلت کچن سے نکلا اب اسکا رخ باپ کے سٹڈی روم کی جانب تھا ۔۔۔۔۔ سٹڈی روم میں آتے ہی اسنے ہاتھ مار کر سوئچ بورڈ کے سبھی بٹن نیچے گرائے لمحوں میں کمرا جگمگا اٹھا۔۔۔ وہ بھاگ کر سٹڈی ٹیبل کے پاس آیا۔۔۔ اسکے ہر ہر انداز میں عجلت و بے چینی تھی یک بعد دیگرے وہ ایک کے بعد ایک دراز چیک کر رہا تھا۔۔ آخری دراز سے اسے اسکی مطلوبہ چیز موصول ہوئی اینولپ کھول کر اس نے اندر سے اپنا نکاح نامہ نکالا۔۔۔ بے چینی سے اسکی نگاہیں نکاح کے کوائف پڑھ رہی تھیں جب دلہن کے نام کے خانے پر نگاہ جاتے ہی وہ ساکت و جامد رہ گیا۔۔۔ گویا زمین و آسمان نگاہوں کے سامنے گردش کر گئے ہوں۔۔۔ وہاں لکھا نورِ ہالہ کا نام اسکی نگاہیں پتھرا رہا تھا۔۔۔ وہ الجھتا ہوا وہیں کرسی پر بیٹھتا شروع سے آخر تک کے سبھی واقعات سوچنے لگا۔۔۔ اسکے نکاح کو چھ ماہ ہوئے تھے لیکن ہالہ کو اس کیساتھ کام کرتے دو سال گزر گئے تھے۔۔دماغ میں جھکڑ سے چل رہے تھے سب کچھ گڈ مڈ سا ہو کر رہ گیا تھا۔۔۔ یہ سب ہو کیا رہا تھا۔۔۔ کیا نور یہ سب پہلے سے جانتی تھی۔۔۔ کیا وہ اسے ڈبل کراس کر رہی تھی۔۔۔ یکدم ہی دریاب کی نگاہوں میں سرخی اتری ہاتھ میں تھامے نکاح نکامے پر گرفت مضبوط ہوئی۔۔ اگر حقیقت میں ایسا ہوا تو اسکے جذبات سے کھیلنے کی پاداش میں وہ کڑی سزا کی مستحق تھی۔۔۔ اسنے ابھی دریاب کا محض محبت بھرا روپ دیکھا تھا پھر وہ اسکا دوسرا روپ دیکھتی۔۔۔ اسکی آنکھوں سے گویا چنگاڑیاں نکلنے لگی تھی

_______

کچھ دیر تک وہیں پر بیٹھ کر خود کو کمپوز کرنے کے بعد وہ سٹڈی روم سے نکلا اور فریش ہو کر کرتا شلوار زیب تن کرتا واپس ہال میں آیا۔۔۔ ہال سے کچن کا سارا اندرونی حصہ دکھائی دیتا تھا جہاں سے اسے نور کچن میں کام کرتی با آسانی دکھائی دے رہی تھی۔۔۔ آج دیکھنے کا انداز وہ نا تھا آج نا ان آنکھوں میں ہالہ کے لیے محبت تھی نا ہی نور کے لئے احساس۔۔۔ آج تو وہاں برہمی تھی غصہ تھا خود کے اتنے شاندار انداز میں بے وقوف بنائے جانے پر۔۔۔ اسے سرد نگاہوں سے دیکھتا وہ واپس کچن میں گیا۔۔۔۔کاونٹر ٹاپ سے بکھیرا سمیٹی نور کچن میں اسکی موجودگی محسوس کر کے پلٹی ۔۔۔ اور اسے اپنے اتنے قریب کھڑے دیکھ کر نگاہیں جھکاتی واپس مڑی۔۔۔ آپکو کچھ چاہیے۔۔۔

ہمم۔۔۔ دریاب جانچتی نگاہوں سے اسکے چہرے کا ایک ایک انداز بھانپ رہا تھا۔۔۔ سر بہت درد کر رہا ہے ایک کپ کافی بنا دو پلیز۔۔۔ وہ سنجیدگی سے کہتا وہیں اس چھوٹی سی میز کے گرد کرسی کھینچ کر بیٹھا۔۔۔ ٹانگ ہر ٹانگ جما رکھی تھی اور کہنی میز پر ٹکائے انگوٹھے کی مدد سے انگلیوں سے کھیلتے اسکی گہری نگاہیں نور پر ہی مرکوز تھیں جسکی اسکی جانب پشت تھی۔۔۔ وہ باقی سبھی کام وہیں چھوڑے اسکے لئے کافی بنانے میں مشغول تھی۔۔۔ اسکے پاس ہی ایک سائڈ پر اسکا موبائل پڑا تھا۔۔ دریاب نے کچھ سوچتے اپنی جیب سے اپنا موبائل نکالا اور سب سے پہلے ہالہ اور نور کے نمبر کو ٹیلی کیا دونوں الگ الگ نمبر تھے۔۔۔ دریاب کے ہونٹوں پر ایک تلخ مسکراہٹ نے احاطہ کیا۔۔۔ اسنے ہالہ کے نمبر پر میسج کیا۔۔۔ اسکی توجہ نور کی ہی جانب تھی۔۔۔ اسکے موبائل کی سکرین بلنک کی البتہ آواز بند تھی۔۔ اوہ تو محترمہ نے نوٹیفیکیشن بیل بھی بند کر رکھی ہے۔۔۔ چلو دیکھتے ہیں کب تک جاری رکھ پاتی ہو تم اس ڈرامے کو۔۔۔

اسنے تلخی سے سوچا۔۔۔ یکے بعد دیگرے اسنے کئ میسجر اور میلز اسے کی مگر وہ مکمل طور پر موبائل سے انجاب بنی کافی بناتی رہی۔۔۔

کافی۔۔۔ نور نے اسکے قریب آکر ٹرے میں تھاما کافی کا مگ اسکی جانب بڑھایا۔۔۔ دریاب چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔ تھینک یو اسے گہری نگاہوں سے دیکھتے اسنے کافی کا مگ تھاما اور کچن سے باہر نکل گیا۔۔۔ لاوئنج میں آتے ہی صوفے پر بیٹھتا وہ اسے ہی سوچتے کافی پینے لگا جب اسکے موبائل کی نوٹیفکیشن بیل بجی۔۔ اسنے کافی پیتے موبائل آن کر کے میل باکس کھولا اندر ہالہ کی میل دیکھ کر یکدم ہی اسکا خون کھول اٹھا اسنے گردن گھما کر کچن کی جانب دیکھا جہاں نور وہیں دریاب کی چھوڑی کرسی پربیٹھی مسلسل موبائل پر کچھ ٹائپ کر رہی تھی۔۔۔ کچھ دیر بعد پھر سے اسکی نوٹیفکیشن بیل بجی۔۔ دریاب نے بعجلت میسج کھولا۔۔۔

سوری سر میل کرنے میں کچھ دیر ہو گئ دراصل میں کچھ مصروف تھی۔۔۔ میسج پڑھ کر دریاب کا دل چاہا کہ کافی کا مگ جا کر اس مکار لڑکی پر الٹ دے

۔۔ کیا اتنا ہی آسان تھا اسے بے وقوف بنانا۔۔۔ دماغ پر غصہ نئے انداز سے حاوی ہونے لگا تھا۔۔۔

****

ساری رات حدید نے سٹڈی روم میں ہی گزاری تھی۔۔۔ وہ اپنے کیے پر نادم تھا بے تحاشا نادم ۔۔ کچھ بھی تھا اسے زرش پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔۔ وہ جاہل مرد نہیں تھا جو عورتوں پر ہاتھ اٹھا کر خود کو مرد ثابت کرتے ہیں۔۔۔لیکن وہ غصے میں خود پر کنٹرول کھو بیٹھا تھا۔۔۔ وہ جتنی بار اپنے ہاتھ کو دیکھتا اسکا ملال بڑھنے لگتا تھا۔۔ فجر کی اذانوں کے وقت وہ اپنے کمرے میں گیا۔۔۔ کمرے میں سب کچھ ویسا ہی تھا جیسے وہ رات کو چھوڑ کر گیا تھا۔۔۔ لیمپ کی کرچیاں وہیں کی وہیں بکھری پڑی تھیں۔۔۔۔ کمرا رات خود پر گزری داستان کی کہانی خود سنا رہا تھا۔۔ اسنے ادھر ادھر دیکھ کر زرش کو تلاشنا چاہا مگر وہ کہیں نہیں تھی۔۔۔ اسکے دل کو کچھ ہوا ۔۔ کسی انہونی کا احساس شدت سے اس میں جاگا۔۔۔ اگلے ہی لمحے وہ کمرے سے باہر تھا۔۔۔ چند منٹوں میں اسنے سارا گھر چھان مارا تھا مگر وہ کہیں نہیں تھی ۔۔۔لاوئنج میں کھڑا وہ خاصی تشویش سے ایک ہاتھ کمر پر رکھے ہونٹ چباتا تیزی سے کچھ سوچ رہا تھا۔۔

زرش کہیں گی ہے کیا۔ کچھ سوچتے ہوئے وہ باہر واچ مین کے پاس آیا۔۔۔

جی صاحب جی بی بی جی تو رات میں ہی گھر سے چلی گئ تھی۔۔۔ اچھا چلیں ٹھیک ہے۔۔۔ خود کو واچ مین کے سامنے نارمل ظاہر کرتا وہ واپس لاوئنج میں آیا۔۔۔ دماغ غصے سے پھٹ رہا تھا۔۔۔ یہ تم نے اچھا نہیں کیا زرش۔۔۔ بالکل اچھا نہیں کیا۔۔۔ غصے سے کھولتے دماغ کیساتھ اسنے اپنا موبائل نکال کر زرش کا نمبر ملایا ۔۔۔ موبائل کی بیل بجنے پر وہ حیرت سے مڑا۔۔۔ موبائل وہیں لاوئنج کے صوفے پر پڑا بج رہا تھا۔۔ موبائل وہیں پڑا دیکھ اسکے ماتھے پر شکنیں نمودار ہوئیں۔۔۔ یکدم اسکے دماغ میں کچھ کلک ہوا۔۔۔ وہ بھاگتا ہوا سیڑھیاں چڑھ کر کمرے میں داخل ہوا۔۔ جاتے ہی اسنے دیوار گیر الماری کے پٹ وا کیے۔۔۔ اس میں زرش کا سب کچھ ویسے کا ویسے ہی سیٹ پڑا تھا۔۔۔ مطلب وہ اس گھر سے بنا کچھ لئے ہی چلی گئ تھی۔۔۔ سر ہاتھ میں تھامتا وہ وہیں بیڈ پر ڈھے گیا۔۔۔ یہ سب ایسے نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔ کافی دیر تک وہ اسی حالت میں بیٹھا رہا ۔ پھر فجر کے وقت کے گزرنے کے احساس ہوا تو وہ اٹھ کر واش روم کی جانب بڑھا۔۔

وضو کرنے کے بعد نماز ادا کر کے وہ بیڈ پر آیا تو رات بھر کی بے آرامی کے باعث لمحوں میں غافل ہو گیا۔۔۔

ناجانے کتنی دیر تک وہ سوتا رہا تھا۔۔۔ دوبارہ اسکی آنکھ فون کی رنگ ٹیون سے کھلی۔۔۔ مندی مندی آنکھوں سے اسنے فون اٹھا کر اسکی سکرین پر بلنک کرتا نمبر دیکھا۔۔۔ لمحوں میں اسکی نیند بھک سے اڑ گی۔۔۔ تو مطلب جواب طلبی کا وقت آ گیا تھا۔۔۔ یقیناً زرش گھر جا کر دریاب کو ساری آپ بیتی سنا چکی تھی۔۔۔ وہ بستر پر نیم دراز ہوتا سر ہاتھوں میں تھام گیا۔۔۔ دریاب سے وہ سب کس طرح کہتا اسکی بہن کی بے وفائی اور اپنی کارستانی۔۔۔ موبائل بج بج کر بند ہو گیا تھا۔۔۔ حدید نے سکھ کا سانس لیا۔۔۔ تبھی موبائل دوبارہ سے بجنے لگا ۔۔۔ حدید نے خود کو ہر طرح کی سچویشن کے لئے تیار کرتے فون اٹھا کر کان سے لگایا۔۔۔

ہیلو۔۔۔ ماتھا مسلتے وہ آہستگی سے گویا ہوا۔۔۔

ہیلو حدید کیسے ہو یار کتنے دن ہو گئے ملاقات نہیں ہوئی ہماری۔۔۔ بدلے میں وہ دریاب کی ہشاش بشاش سی آواز سن کر ٹھٹھکا۔۔۔ ایک کام کرو تم ۔۔۔ زرش اور تم رات کا کھانا ہماری طرف ہی کھاو۔۔۔ ویسے بھی کافی دن ہوگئے زری سے بھی ملے ہوئے یوں ملاقات بھی ہو جائے گی۔۔۔ حدید کی اس بات پر صحیح معنوں میں اسکے قدموں تلے سے زمین نکلی تھی۔۔۔ زر۔۔ زری تمہاری طرف نہیں۔۔۔ بات کرتے اسکی زبان لڑکھڑائی تھی۔۔۔ ٹیک چھوڑ کر وہ سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔۔

نہیں۔۔ کیوں کیا اسے آنا تھا ہماری طرف۔۔۔ بدلے میں دریاب کا سوالیہ انداز اسے حواس باختہ کر رہا تھا۔۔۔

آآآ۔۔۔ دریاب مجھے کچھ کام ہے میں تم سے بعد میں بات کرتا ہوں۔۔۔ بعجلت فون بند کرتا اب وہ تیزی سے دماغ چلا رہا تھا۔۔۔ وہ رات کی یہاں سے چلے گی تھی اور گئ بھی بے سرو سامان تھی ۔۔۔ اگر وہ اپنے گھر نہیں گی تھی تو پھر کہاں گی تھی وہ۔۔ لیکن اگلی سوچ نہایت خطرناک تھی۔۔۔ اگر وہ اپنے گھر نہیں گی تھی تو کیا وہ اپنے سابقہ منگیتر کے پاس۔۔۔ اس سوچ کے آتے ہی حدید کا سانس رکنے لگا۔۔۔ اس سے آگے وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا۔۔۔ وہ زرش سے کسی بھی چیز کی توقع کر سکتا تھا مگر اس چیز کی نہیں۔۔۔ وہ اسکے نکاح میں ہوتے ہوئے ایسا نہیں کرسکتی تھی۔۔۔ وہ سختی سے اپنے دل میں آتے اس خیال کو جھٹک رہا تھا۔۔۔ اب بس اس بات کو کنفرم کرنا باقی تھا اور وہ شدت سے دعا گو تھا کہ وہ جیسا سوچ رہا تھا ویسا کچھ نا ہو۔۔ کیونکہ اگر ایسا ہو جاتا تو ناجانے وہ کیا کر بیٹھتا۔۔

******