Hala By Umme Hania Readelle50346 Hala (Episode 10)
No Download Link
Rate this Novel
Hala (Episode 10)
Hala By Umme Hania
بابر موسم خاصا گرم تھا۔۔۔ جدید طرز کے بنے دڑائینگ روم میں لگے دبیز پردوں کی تہہ کے باوجود گویا باہر کی تپش اندر کے ماحول کو گرما رہی تھی۔۔۔
دریاب کے ماتھے پہ بچھا جابجا شکنوں کے جال اور ابھرتی ہوئی نسیں اسکے اندرونی خلفشار کو ظاہر کر رہیں تھیں۔۔۔ مٹھیاں اور جبرے زور سے بھینچیں وہ ضبط کے گہرے مراحل سے گزر رہا تھا۔۔۔
خون آشام نگاہیں کارپٹ کے ڈیزائن پر جمائے وہ اپنی قوت سماعت اور اپنی سبھی حسیات اس عورت کی قینچی کی مانند چلتی زبان کی جانب مبذول کئے ہوئے تھا۔۔۔
جو بات غلط ہے وہ غلط ہے۔۔۔ زہرہ بیگم نے سحرش کو یہ امید دلائی تھی کہ وہ دریاب کی شادی اس سے زرش اور حیدر کی شادی کے ساتھ ہی کروائیں گی۔۔۔ اب آپ لوگ مکر کیسے سکتے ہیں۔۔۔
ہم لوگ لڑکی والے ہو کر آپ سے اپنی بیٹی کی شادی کی بات کرنے آئے ہیں تو محض اسی اعتماد کی بدولت جو زہرہ بیگم نے سحرش کو دلایا تھا اب آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ شادی محض زرش اور حیدر کی ہوگئ۔۔۔ زرش کی ساس ہانپتی ہوئی پچھلے آدھے گھنٹے سے محض یہ ہی راگ آلاپ رہی تھی۔۔۔ انکے ساتھ ہی بیٹھے انکے شوہر نامدار خاموش تماشائی بنے باری باری سبھی کے تاثرات ملاخظہ کر رہے تھے۔۔۔ پچھلے آدھے گھنٹے سے ہی زہرہ اور کمال انہیں اپنا نقطہ نظر سمجھانے کی بھرپور کوشیش کر چکے تھے کہ دریاب ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا مگر وہ تھیں کہ کوئی بھی بات سمجھنے کی کوشیش ہی نہیں کر رہی تھیں۔۔۔
کل شام میں زہرہ کو انکا سحرش اور دریاب کی شادی کے حوالے سے فون آیا تھا جس میں زہرہ نے انہیں بھرپور امید دلاتے کل صبح سب کچھ فائنل بتانے کا کہا تھا۔۔ وہ شروع دن سے ہی سحرش کو اپنی بہو بنانا چاہتی تھیں اور یہ بات انہوں نے باتوں ہی باتوں میں بارہا سب سے کہہ بھی رکھی تھی جسکا کبھی دریاب نے یہ سوچ کر اثر نہیں لیا تھا کہ ابھی تھوڑی نا وہ شادی کر رہا ہے تو وقت سے پہلے لایعنی بحث کا فائدہ جب وقت آئے گا دیکھا جائے گا۔۔۔ وہ وقت زرش کی شادی سے محض چند دن پہلے جب اسکی شادی کے سبھی کارڈ بٹ چکے ہونگے تب آئے گا یہ تو اسنے سوچا بھی نا تھا۔۔۔
زہرہ بیگم بیٹے کی فرمابرداری سے خوب خوب آگاہ تھیں کہ وہ کبھی انکی کوئی بات نہیں ٹال سکتا اس لئے بالا ہی بالا سب طے کئے بیٹھیں تھیں۔۔۔اور جب کل رات ڈنر کے وقت انہوں نے سب کی موجودگی میں کھانا کھاتے یہ بات دریاب سے کی تو یکدم ہی حالات پلٹا کھا گئے تھے۔۔۔۔۔ بیوی کی بات سن کر سب سے پہلے طیش میں آنے والے کمال صاحب ہی تھے۔۔۔۔
تمہیں دریاب کی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔ ابھی محض زرش کی شادی پر زور دو۔۔۔ دریاب کے لئے لڑکی میں پسند کر چکا ہوں۔۔۔
آپ کی اس بات کا کیا مطلب سمجھوں میں۔۔۔ میرا بیٹا اور میری ہی رائے کے بنا آپ میرے بیٹے کے لئے لڑکی پسند کر چکے ہیں آپ ہوش میں تو ہیں کمال صاحب۔۔۔ کمال صاحب کے طیش میں آنے پر وہ بھی چمچ زور سے پلیٹ میں پٹختی چٹخ کر گویا ہوئیں۔۔۔
میرے بیٹے کی بیوی کے لئے میرا معیار بہت اونچا ہے کمال صاحب ۔۔۔ کوئی بھی ایری غیری اس گھر کی بہو نہیں بن سکتی۔۔۔
ہاں تمہارا اونچا معیار میں سحرش کی صورت بہت اچھے سے دیکھ چکا ہوں۔۔۔ بھرپور طنز کی آمیزش لئے لہجہ زہرہ بیگم کو آگ ہی لگا گیا تھا۔۔۔
کیا مطلب ہے آپ کا۔۔۔
امی۔۔۔ امی میں ابھی شادی ہی نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ پلیز مجھے ابھی کچھ وقت دیں۔۔۔ حالات کو مزید خراب رخ اختیار کرتا دیکھ وہ یکدم اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوتا گویا ہوا۔۔۔
زہرہ بیگم نے ہانپتے ہوئے لب بھنچ کر غصے سے اسے دیکھا جبکہ وہ مزید ماں کی ایکسرے کرتی نگاہوں کی تاب نا لاتے منظر سے ہی ہٹ گیا۔۔۔
دیکھیں کمال صاحب بات صرف اتنی سی ہے کہ دونوں شادیاں اکھٹی ہی ہونگی ورنہ ایک بھی نہیں ہوگئ۔۔۔ زرش کی ساس حتمی انداز میں بولی۔۔۔ دھمکی بہت قاری تھی اور دریاب کی انا پر تازیانہ بن کر برسی تھی۔۔۔
ڈرائنینگ روم کی باہری دیوار کے ساتھ کھڑی زرش نم آنکھوں سمیت قسمت کا یہ ہیر پھیر دیکھ رہی تھی۔۔۔
آپ دو بے بنیاد باتوں کو ایک ساتھ جوڑ رہی ہیں۔۔۔ دریاب بولا نہیں دھاڑا تھا۔۔۔
ہرگز نہیں۔۔۔ تمہاری ماں نے میری بیٹی کو تمہارے حوالے سے سبز باگ دکھائے ہیں اب تم لوگ مکر نہیں سکتے۔۔۔ تمہیں یہ شادی کرنی ہوگی۔۔۔ زرش کی ساس موقع پاتے ہی دریاب پر چڑھ دوڑی تھی۔۔۔
دریاب کا نکاح ہو چکا ہے۔ اسکی رخصتی ہم زرش کی شادی کے ساتھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔۔۔ ہم معذرت خواہ ہیں کہ ہم پہلے یہ بات آپکے علم میں نا لا سکے لحاظہ آپ اس شادی کا خیال دماغ سے نکال دیں۔۔۔ ایک پہار تھا جو کمال صاحب نے وہاں موجود ہر نفوس کے سر پر توڑا تھا۔۔۔
باقی سب تو دور سب سے پہلے تو زہرہ بیگم ہی حیرت و تعجب کی عملی تفسیر بنی کمال صاحب کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔
یہ بکواس ہے محض اس بات کو دبانے۔۔۔
آپکی تسلی کے لئے یہ رہا نکاح نامہ۔۔۔ ابتدائی جھٹکے سے سمبھلتے ہی زرش کی ساس بپھری ہوئی شیرنی کی مانند گویا ہوئی ہی تھی جب کمال صاحب نے انکی بات کاٹتے کوٹ کی جیب سے نکاح نامہ نکال کر انکی جانب بڑھایا۔۔۔
انکے پکڑنے سے پہلے ہی زہرہ بیگم نے جھپٹ کر وہ نکاح نامہ پکڑا تھا لیکن اسے پڑھتے ہی وہ انکے ہاتھ سے چھوٹتا زمین بوس ہوا انہوں نے آنکھوں کی ہتلیاں ہلاتے ساکت نگاہوں سے اپنے خوبرو بیٹے کی جانب دیکھا۔۔۔ جسنے گویا نظریں نا اٹھانے کی قسم کھا رکھی تھی۔۔۔ دونوں کہنیاں گھٹنوں پر رکھے ہاتھوں کی انگلیاں باہم پھنسائے وہ یک ٹک کارپٹ کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔۔
دھوکہ دیا ہے آپ لوگوں نے ہمیں۔۔۔ اگر میری بیٹی اس گھر میں بہو بن کر نہیں آ سکتی تو آپکی بیٹی بھی ہمارے گھر بہو بن کر نہیں آئے گی۔۔۔ ہم یہ رشتہ ابھی اور اسی وقت تورٹے ہیں۔۔۔ بیٹھا کر رکھیں اپنی بیٹی کو اپنے گھر۔۔۔۔ کف اڑارتی اب وہ گھٹیا پن پر اتر آئی تھی۔۔۔
زرش نے اپنی چیخوں کا گلہ گھونٹنے کی خاطر منہ پر زور سے ہاتھ رکھتے چکرا کر گرنے سے بچنے کے لئے دیوار کا سہارا لیا۔۔۔
وہاں سب اپنے صدمے میں گم زرش کی ساس کے تن فن کرتے وہاں سے جانے کو زیادہ محسوس ہی نا کر پائے تھے۔۔۔ جبکہ زرش اپنی سسکیاں دباتی بھاگ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھی
*****
دریاب میری جانب دیکھو۔۔۔ کھاو میرے سر کی قسم اور کہو کہ یہ سب بکواس ہے ۔۔۔ جھوٹ ہے۔۔۔ تم نے کوئی نکاح نہیں کیا۔۔۔ زہرا بیگم بے یقینی سے اسکی جانب دیکھتی اسکے سامنے کارپٹ پر گھٹنوں کے بل بیٹھتیں اسکا ہاتھ اپنے سر پر رکھ گئ تھیں۔۔۔
امی یہ آپ کیا کر رہی ہیں خدارا اٹھیں آپ یہاں سے۔۔۔ دریاب نے جھٹکے سے صوفے سے اٹھتے ماں کو کندھوں سے تھامتے اٹھا کر اپنے رو برو کیا۔۔
کھاو میرے سر کی قسم دریاب۔ وہ کسی صورت اپنی بات سے ہٹنے کو تیار نا تھیں۔۔
امی۔۔۔ نا کریں ایسے۔۔۔ دریاب نے بے بسی سے چہرا جھکائے ماں کا وہی ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامے لبوں سے لگایا۔۔۔
ہاں یا ناں ۔۔۔ مجھے محض یک لفظی جواب دو۔۔وہ پوری قوت سے چلائیں تھیں۔۔۔۔ یہ سچ ہے امی۔۔۔ مگر۔۔۔
چٹاخ۔۔۔ وہ نہایت کرب سے گویا ہوا تھا جب زوردار تماچے نے اسکی آواز کا گلہ گھونٹا تھا۔۔۔ وہ بنا مزاحمت کئے جھکے سر سمیت ہی دو قدم پیچھے کو ہوا
کون ہے وہ ۔۔ کہاں رہتی ہے۔۔۔۔ غراتے ہوئے انہوں نے دریاب کا گریبان دونوں ہاتھوں سے جھنجوڑا تھا۔۔۔
بینک روڈ والے ہمارے فلیٹ میں۔۔۔
آہ ہ ہ۔۔۔ یکدم ہی دریاب کے گریبان پر گرفت ڈھیلی ہوئی ۔۔ کراہ پر اسنے سر اوپر اٹھایا زہرا بیگم سر تھامے کراہ رہی تھیں۔۔۔
امی۔۔۔ امی کیا ہوا۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوتیں نیچے گرنے کے در پر تھیں جب حواس باختہ سے دریاب نے پھرتی سے آگے بڑھتے انہیں سمبھالا ۔۔۔
بابا۔۔۔بابا ڈاکٹر کو فون کریں۔۔۔ یہ صورتحال دیکھتے ہاتھ پاوں تو کمال صاحب کے بھی پھول گئے تھے وہ بھی سرعت سے فون کی جانب بھاگے۔۔۔
*******
بہت زیادہ سٹریس کی وجہ سے یہ بے ہوش ہوئیں ہیں انجیکشن لگا دیا ہے کچھ دیر تک یہ ہوش میں آ جائیں گی مزید یہ دوائیاں ہیں انہیں وقت پر دیتے رہیں۔۔۔ ڈاکٹر نے انکا مکمل چیک آپ کرنے کے بعد ضروری ہدایات دیتے دوائیوں کا نسخہ کمال صاحب کی جانب بڑھایا۔۔۔
فکر مت کرو دریاب بیٹا سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ دریاب ڈاکٹر کو باہر تک چھوڑ کر اندر آیا تو کمال صاحب نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے اسے دلاسہ دیا۔۔۔
چلو چل کر کچھ کھا لو تم نے ناشتہ بھی دھنگ سے نہیں کیا تھا اور اب دیکھو شام کے چار بج رہے ہیں۔۔۔
بابا میرا دل نہیں چاہ رہا۔۔۔ عجیب بے زار لہجہ تھا جیسے اسے ماں کی یہ حالت قطعاً نا منظور ہو۔۔۔
جانتا ہوں تمہیں بھوک نہیں لیکن مجھے بہت لگی یے میرا ساتھ دینے کو ہی ایک دو نوالے لے لو۔۔۔ کمال صاحب نے اسکے کندھے کے گرد بازو پھیلاتے اسے دام میں گھیر کر کھانا کھلانا چاہا۔۔۔
بابا آج امی میری وجہ سے بہت ہرٹ ہوئی ہیں آپ جانتے ہیں میں اپنی وجہ سے انہیں کوئی دکھ نہیں دے سکتا۔۔ ڈائینینگ ٹیبل پر بیٹھے چاولوں کی پلیٹ میں چمچ چلاتے وہ یاسیت بھرے لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
صاحب صاحب جی۔۔۔ صاحب جی۔۔۔ بیگم صاحبہ بڑے غصے میں ڈرائیو کیساتھ گھر سے نکلی ہیں۔۔۔ تبھی بوکھلایا ہوا واچ میں بھاگتے ہوئے اندر داخل ہوا ۔۔
کیااااا۔۔۔ لیکن کہاں گئ ہیں۔۔۔ دریاب پلیٹ پیچھے کھسکاتا سرعت سے کھڑا ہوا۔۔۔
یہ تو میں نہیں جانتا لیکن وہ بہت غصے میں تھیں۔۔۔ ناجانے اسے کس وقت ہوش آیا تھا اور اب وہ کہاں گی تھیں۔۔۔
رکو دریاب میں ڈرائیور سے فون کر کے پوچھتا ہوں۔۔۔ کمال صاحب نے اسے حوصلہ دیتے جیب سے موبائل نکال کر ڈرائیور کو فون ملایا۔۔۔۔
فون بج بج کے خاموش ہو چکا تھا۔۔۔ کمال صاحب نے دوسری دفعہ پھر سے فون ملایا۔۔۔
بیگم صاحبہ تمہارے ساتھ کہاں آئی ہے۔۔ فون اٹھائے جاتے ہی کمال صاحب بعجلت گویا ہوا۔۔۔
فون سے آتی آواز سنتے ہی کمال صاحب کا چہرا سرخ ہوا تھا۔۔۔ کیا بات ہے بابا۔۔۔ سب ٹھیک ہے نا۔۔۔ باپ کے چہرے کے تاثرات سے دریاب کو شدت سے کسی گڑبڑ کا احساس ہوا۔۔۔
تم چلو میرے ساتھ ۔۔۔ وہ بنا کچھ بولے کرسی پیچھے دھکیلتے بعجلت باہر کو بھاگے۔۔۔
بابا بات کیا ہے کچھ بتائیں تو سہی۔۔۔ کمال صاحب کی تقلید میں گاڑی میں پیسنجر سیٹ پر بیٹھتا وہ پریشانی سے گویا ہوا۔۔۔۔۔
وہ فلیٹ پر نور کے پاس گئ ہے اور جس قدر وہ ہائپر ہو جاتی ہے ناجانے اتنے غصے میں اسکے ساتھ کیا سلوک کرے۔۔۔ وہ بچی تو ابھی اپنے غظیم نقصان کے صدمے سے نہیں نکلی مزید یہ سب کیسے برداشت کرے گی۔۔۔
گاڑی میں کمال صاحب کی پریشان کن آواز گھونج رہی تھی جبکہ دریاب کے گرد گھمبیر سناٹا چھایا تھا۔
*******
