Hala By Umme Hania Readelle50346 Hala (Episode 50)
No Download Link
Rate this Novel
Hala (Episode 50)
Hala By Umme Hania
دادی ۔۔۔ وہ نم آنکھوں سمیت عقیدت سے انکی جانب بڑھا۔۔۔۔
چٹاخ۔۔۔ جب ایک زوردار تھپڑ نے اسے حق دق کیا۔۔۔ وہ حیرت سے پھٹ پڑتی نگاہوں سے دادی کو دیکھنے لگا جنہوں نے محض ایک تھپڑ پر ہی اکتفا نہیں کیا تھا۔۔۔ چٹاخ چٹاخ۔۔۔ مزید پڑنے والے تھپڑوں نے اسکے حواس ہی گم کر دیئے۔۔۔
تمہاری جرات کیسے ہوئی میری بہو پر ہاتھ اٹھانے کی یا اس پر اتنا گھٹیا الزام لگانے کی۔۔۔ دادی کی غم و غصے سے آواز پھٹ پڑی تھی۔۔۔ اور حدید کا تو وہ حال تھا کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔۔۔
بھلا دادی کو یہ سب کیسے پتہ چلا۔۔۔ جھکے سر سمیت اسنے تھوک نگلا اور خود کو کچھ کہنے کے قابل کیا۔۔۔ جب ایک حیات بخشتی مگر نحیف آواز کانوں میں سنائی دادی۔۔ دادی آپ نے انہیں تین تھپڑ مارے ہیں جبکہ انہوں نے مجھے چار تھپڑ مارے تھے۔۔۔ آواز پر اسنے ڈھرکتے دل کیساتھ جھٹکے سے سر اٹھا کر دائیں جانب موجود پلنگ پر دیکھا جہاں وہ دشمن جان تکیوں کے سہارے نیم دراز تھی۔۔۔ جیسے وہ پہلے حواس باختگی میں دیکھ ہی نا پایا تھا۔۔۔کل والے کپڑے تبدیل تھے شاید ہادیہ کا جوڑا پہنا تھا۔۔۔ سوجھی متورم سرخ آنکھیں اور پھول سے سوجھے گال جس پر انگلیوں کے واضح نشان ابھی تک ثبت تھے۔۔۔ حدید کا ملال بڑھنے لگا۔۔۔ وہ کانچ سی گڑیا کملائی پڑی تھی۔۔۔ ابھی بھی چہرا نیچے جھکائے بنا ایک بھی نگاہ غلط اس پر ڈالے مسلسل آنسو بہا رہی تھی۔۔۔
بے غیرت تجھے زرا خیال نا آیا اتنی رزیل حرکت کرتے۔۔۔ میری تربیت کی دھجیاں اڑاتے تیرا دل نا کانپا حدید۔۔۔ کیا میری تربیت نے تجھے یہ ہی سکھایا تھا عورت پر ہاتھ اٹھانا۔۔۔ دادی نے اسے گریبان سے جھکڑتے کئ ایک جھٹکے دیتے اسے جھنجھوڑ ڈالا تھا۔۔۔ وہ سر جھکائے بے بسی کی انتہاوں کو چھوتا محض نیچے ہی دیکھتا رہا۔۔۔ وہ تو یہ بھی نا بتا پایا کہ اسنے ہاتھ اٹھایا کیوں تھا اسکے لئے اتنا ہی بہت تھا کہ وہ دشمن جان ٹھیک تھی محفوظ جگہ پر تھی۔۔۔ دل سے ایک پرسکون سانس خارج ہوئی تھی۔۔۔
دادی انہوں نے مجھے بدکردار کہا۔۔۔ دادی انہوں نے کہا کہ میرے ، میرے سابقہ منگیتر سے تعلقات ہیں۔۔ وہ زخمی نگاہوں سے حدید کی جانب دیکھتی ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتی گویا ہوئی۔۔۔ حدید نے جھکے سر سمیت ہی کرب سے اپنی آنکھیں میچیں۔۔ کوئی ایک وضاحت بھی زبان سے نکلنے کو انکاری تھی کہ اسکا وہ مطلب نہیں تِھا جو وہ سمجھی تھی۔۔۔
دادی میں قسم کھاتی ہوں میرا کسی سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔ دادی میں بدکردار نہیں ہوں۔۔۔ اس شخص سے منگنی ضرور ہوئی تھی شادی بھی ہونے والی تھی لیکن میں اس شخص سے اتنا ہی انجان تھی جتنا کہ شادی سے پہلے حدید سے۔۔۔ شادی کے بعد تو کیا شادی سے پہلے بھی میرا اسکے ساتھ کوئی رابطہ نا تھا۔۔ اسے میرے لئے بابا نے منتخب کیا تھا۔۔ سسک سسک کر اپنی صفائی دیتی وہ آخر میں چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ حدید لب بھینچے ضبط سے اسکی ایک ایک صفائی سن رہا تھا۔۔ دل چاہا تھا کہ اسکے منہ ہر ہاتھ رکھ کر اسے بولنے سے منع کر دے کہ وہ سب جانتا ہے کہ وہ کس قدر شفاف کردار کی مالکن ہے مگر زبان نے جیسے ناکھلنے کی قسم کھا رکھی تھی یہ ہی سب تو وہ اس روز زرش کے منہ سے سننا چاہتا تھا لیکن وہ اسکی سختی کا غلط مطلب لیتے ہر بات الٹی ہی کہتی چلے گئ۔۔۔۔۔۔ پھوٹ پھوٹ کر روتے اسکا جسم ہچکولے کھانے لگا تھا۔۔
نکل یہاں سے بدبخت جا اس کمرے سے دفع ہو جا۔۔۔ دادی کا غصہ تھا کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔ انہوں نے حدید کے سینے پر دو ہتھر مارتے اسے باہر کی جانب دھکا دیا۔۔۔
جا ہادیہ پتر اپنی بھابھی کے لئے گرم دودھ کا گلاس اور اسکی دوائی لے کر آ۔۔۔ دادی نے اسے باہر کی جانب دھکا دیتے ہادیہ سے کہا۔۔۔ وہ بھی فلحال زرش کی طبیعت کے پیش نظر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔
****
باہر آکر لاوئنج کے صوفے پر بیٹھتے سب سے پہلے اسنے دریاب کو میسج کر کے زرش کے صحیح سلامت وہاں دادی کے پاس موجود ہونے کی اطلاع دی اور فون سوئچ آف کر کے وہیں سر ہاتھوں میں گراتا بیٹھ گیا۔۔۔ وہ اس وقت کسی سے بھی بات نہیں کرنا چاہتا تھا اسی لئے فون ہی آف کر دیا کہ جانتا تھا یہ خبر سنتے ہی دراب اسے فون کرے گا اور ابھی فلحال وہ کسی بھی سوال کا جواب دینے کی ہوزیشن میں نا تھا۔۔۔
ناجانے اسے وہاں بیٹھے کتنی دیر ہوگئ تھی جب دادی تھکے تھکے قدم اٹھاتی کمرے سے باہر نکلیں اور اسے صاف نظر انداز کرتیں اسکے سامنے موجود صوفے پر براجمان ہوتی میز ہر پڑے جگ سے پانی گلاس میں انڈیل کر پینے لگیں۔۔۔
دادی سمجھ نہیں آ رہا کیسے معافی مانگوں۔۔۔ بہت بڑی غلطی ہوگئ مجھ سے۔۔۔ دادی پانی پی چکی تو وہ آہستگی سے اَٹھ کر انکے قریب جاتا انکے قدموں میں بیٹھ کر سر انکی گود میں رکھ گیا۔۔۔ خاموش آنسو آنکھوں سے بہتے دادی کی گود بھگونے لگے تھے۔۔۔ ایک پل کو دادی کا دل بھی پسیجا۔۔۔ دادی معاف کر دیں غصے میں دماغ آپے سے باہر ہو گیا تھا۔۔۔
تمہیں احساس ہے کہ تم نے اس بچی کے ساتھ کتنا غلط کیا۔۔۔ خدانخواستہ اگر اسے کچھ ہو جاتا تو۔۔۔ دادی نے اسکی شرمندگی دیکھتے اپنی گود میں رکھے اسکے سر میں انگلیاں چلانا شروع کیں۔۔ جانتے ہو کل رات کے کس پہر وہ لٹی پٹی حالت میں بنا سازو سامان کے یہاں پہنچی ہے۔۔۔ اور اسکی قابل رحم حالت دیکھ کر میرا کلیجہ منہ کو آگیا حدید۔ کہ میرے پوتے کو کس چیز نے حیوان بننے پر اکسایا۔۔۔ دادی کی باتوں کے جواب میں گویا اسکی زبان گنگ ہو گئ تھی۔۔۔ وہ کرب سے آنکھیں میچے انکی گود میں ہی سر رکھے محض انہیں سن رہا تھا۔۔۔
رات سے وہ بخار میں پھنک رہی تھی اور ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں مجھے اپنی صفائی دیتی وہ مجھے خون کے آنسو رلا رہی تھی حدید۔۔ سوچو تمہاری اس حماقت کی بدولت ہمارا کتنا نقصان ہوجاتا اسکا نہیں تو کم از کم اس سے نتھی ننھی سی جان کا ہی خیال کیا ہوتا۔۔ ابکی بار دادی کا لہجہ غصیلہ نہیں تھا بلکہ بے بسی بھری نرمی سے وہ اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتی بول رہی تھیں۔ دادی کی بات پر حدید نے جھٹکے سے سر اٹھاتے بے یقین نگاہوں سی دادی کی جانب دیکھا۔۔
ہاں۔۔ باپ بننے والے ہو تم۔۔ اسکی حیرانگی نوٹ کرتیں دادی مسکرا کے نم آنکھوں سے اسے دیکھتیں گویا ہوئی۔۔۔
ایک بے ساختہ مسکراہٹ نے اسکے چہرے کا احاطہ کیا۔۔۔ دادی میں اس سے مل لوں پلیز۔۔۔ میں اسے منا لوں گا۔۔۔ وہ منت بھرے لہجے میں کہتا انہیں آس سے دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
حدید کل سے اسکی طبعت بہت خراب ہے صبح سے اسی کی دیکھ بھال میں لگے تھے اسی لئے شام میں زرا اسکی حالت سمبھلی تو تمہیں یہاں بلوایا ۔۔۔ اسنے اس واقعہ کا بہت گہرا اثر لیا ہے حدید ڈاکَٹر نے کہا ہے کہ اسے ٹینشن سے دور رکھیں۔۔۔ میرا نہیں خیال کہ ابھی تمہیں اسکے روبرو جانا چاہیے کیونکہ زخم ابھی ہرے ہیں ۔۔۔تمہیں دیکھتے ہی وہ آپے سے باہر ہو جائیگی ۔۔۔ دادی نے اسے رسانیت سے سمجھانا چاہا۔۔۔
دادی ایک بار صرف ایک بار مجھے کوشیش تو کرنے دیں۔۔۔ اسنے بے ساختہ دادی کا ہاتھ تھامنے التجا کی۔۔۔ اگر اسنے میری بات نا سنی تو چپ چپ یہاں سے چلا جاوں گا لیکن بس ایک بار ۔۔۔ ایک بار کوشیش تو کرنے دیں مجھے امید ہے کہ میں اسے منا لوں گا۔۔۔ آس و نراس میں گھرے اسکی کیفیت دیکھتی دادی نے نم آنکھوں سے سر ہاں میں ہلایا۔۔
*****
ابھی ابھی ہادیہ اسے ناشتہ کروا کر گئ تھی اور ناشتے کے بعد وہ اپنی دوائی لے کر بیڈ پر نیم دراز سر دائیں جانب کو موڑے لیٹی تھی آنسو تواتر سے پلکوں کی بار پھیلانگ کر بہتے اسکی گردن بگھو رہے تھے۔۔۔ اسکا ملال تِھا کہ کم ہونے کا نام ہی نا لیتا تھا۔۔ لفظ بدکردار چابک کی مانند دل پر پڑتا محسوس ہوتا۔۔۔ وہ یہ بات ماننے سے انکاری تھی کہ جس شخص سے اسنے محبت کی اسنے ہی اتنی بے دردی سے اسکی ذات کی دھجیاں اڑادیں۔۔۔ اسکے چہرے پر تھپڑ مارے۔۔۔ اور یہاں تک آتے ہی وہ غصے سے بے قابو ہوجاتی۔۔۔ سب کچھ ٹھیک تھا وہ برداشت کر جاتی بھول جاتی مگر تھپڑ اسنے کیسے مارے۔۔۔ کیا سوچ کر مارے۔۔۔ دل میں بھانبھر جل رہے تھے۔۔۔ اس شخص سے کونسی محبت کیسی محبت اس وقت تو صف اول میں عزت نفس تھی۔۔۔ بھاڑ میں گئ محبت بھاڑ میں گیا شوہر۔۔۔ اسنے تھپڑ کیسے مارے۔۔۔ اسکا دماغ پھٹنے لگا تھا۔۔۔ غصہ حد سے سوا تھا کہ اس شخص کو تحس نحس کر کے رکھ دیتی۔۔۔ دادی سے اسکے چہرے پر پڑنے والے تھپڑ بھی اسکی اذیت کم نہیں کر پائے تھے۔۔
اپنی ہی سوچوں کے اڈھیر پن میں وہ بری طرح غرق تھی جب اسے اپنے پاس کسی کے بیٹھنے کا احساس ہوا۔۔۔ چونک کر اسنے سر سیدھا کیا اور اپنے اتنے قریب حدید کو بیٹھے دیکھ اسکے ماتھے پر جابجا شکنوں کا جال ابھرا۔۔۔
آپ۔۔۔ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔ حیرت سے ایک جھٹکے میں اٹھ کر سیدھی ہوتی وہ غرائی۔۔۔
زری جان ایک مرتبہ میری بات سن لو پھر۔۔ اسنے محبت سے اسکے چہرے پر آئے بال پیچھے ہٹانے چاہے جب اسنے جھٹکے سے اسکے ہاتھ جھٹکے۔۔ ہاتھ مت لگائے مجھے حدید ورنہ ہاتھ کاٹ دوں گی۔ اسکا آج انداز ہی نرالہ تھا حدید نے آج سے پہلے اسے کبھی اتنے غصے میں نا دیکھا تھا۔۔۔ وہ لب بھینچے اسکی جانب دیکھتا بات کرنے کو الفاظ کی جوڑ توڑ کرنے لگا۔۔۔ ۔
ایم سوری زری وہ سب۔۔۔ کس بات کی سوری اب کیا آپ میرے کریکٹر کا سرٹیفکیٹ لےکر آئے ہیں ۔۔۔ کیسے اجازت دے دی آپکو آپکی انا نے کہ آپ خود سے چل کر ایک بدکردار لڑکی کے پاس آئے۔۔۔ وہ اسکی کوئی بات سن کر نہیں دے رہی تھی وہ بپھری شیرنی بنی ہوئی تھی اور جو حدید کو خوش فہمی تھی کہ وہ اسے منا پانے میں کامیاب ہو جائے گا اس بپھری شیرنی کو دیکھتے وہ خوش گمانی اپنی موت آپ مرنے لگی تھی۔۔۔
زری اس حالت میں تمہارا غصہ کرنا بالکل ٹھیک نہیں۔۔ تم نے تو مجھے ہمارے بے بی کے بارے میں بھی نہیں بتایا۔۔ تحمل سے کہتے اسنے شکوہ کیا۔۔۔
کونسا بچہ حدید۔۔۔ آپکو کیسے پتہ کہ یہ آپکا بچہ ہے۔۔۔ بدکرداروں کے بچوں کے باپ تھوڑی نا ہوا کرتے ہیں۔۔۔
زرششششششش۔۔ وہ اسکی ہر ہر بات کاٹتی اسے بھگو بھگو کر مار رہی تھی لیکن اسکی یہ بات حدید کے لئے برداشت سے باہر تھی تبھی غصے سے چلا کر کہتا ایک جھٹکے میں کھڑا ہو کر بالوں میں ہاتھ چلاتے وہ خود کو کمپوز کرنے لگا۔۔ کبھی ہاتھ کی مٹھی بنا کر ماتھے پر مارتا کبھی بالوں میں ہاتھ چلاتا وہ اپنے اندر اٹھتے طوفان کو ضبط کر رہا تھا
۔۔
کیوں کیا ہوا۔۔۔ ضروری نہی یہ بچہ آپکا ہی ہو یہ تو میرے سابقہ منگیتر۔۔۔
ایک اور واحیات لفظ زبان سے نکالا نا تو نجانے کیا کر بیٹھوں گا میں ۔۔ زرش ابھی بھی خاموش نہیں ہوئی تھی۔۔ وہ بھی تاک تاک کر وار کر رہی تھی آخر جس آگ میں وہ جل رہی تھی حدید کو بھی تو اسی آگ میں جلنا چاہیے تھا۔۔۔ شاید اسکے تیر نشانے پر لگے تھے تبھی تو وہ بلبلاتا ہوا اسکی جانب بڑھا اور اسے بازو سے دبوچے اسکی آنکھوں میں دیکھتا غرا کر گویا ہوا۔۔۔
کیا کریں گے آپ ماریں گے۔۔۔ ہاتھ اٹھائیں گے۔۔ مارے آپ مجھے ۔ اٹھائیں ہاتھ۔۔۔۔ ایک دفعہ ہاتھ اٹھا کر ہاتھ تو آپکا کھل ہی گیا ہے۔۔۔ اس کے علاوہ آپ کر بھی کیا سکتے ہیں۔۔ جھٹکے سے اسکا ہاتھ جھٹکتی وہ ایک ہی جست میں بیڈ سے اترتی اسکے مدمقابل آ کر غرائی۔۔۔ ماریں مجھے۔۔۔ ماریں۔۔۔ چیخ چیخ کر بولنے سے اسے بری طرح کھانسی کا پھنڈا لگا تھا ۔۔ چکراتے سر کے ساتھ وہ کھانس کھانس کر دہری ہو رہی تھی۔۔۔ تبھی دادی جھٹکے سے دروازہ وا کرتیں اندر داخل ہوئی۔۔ ہادیہ پتر بچی کے لئے پانی لا۔۔۔ دادی نے سرعت سے آگے بڑھ کر اسے اپنی آغوش میں لیا اور آنکھوں ہی آنکھوں سے حدید کو کمرے سے جانے کا کہا۔۔ دادی یہ میرا بچہ ہے۔۔۔ صرف میرا اور کسی کا اس پر کوئی حق نہیں۔۔۔ وہ دادی کے سینے میں چہرا چھپائے سسک سسک کر روتی گویا ہوئی۔۔۔ حدید لب بھینچے نم آنکھوں سے اسکا اسقدر شدید ردعمل دیکھ رہا تھا جو اسکی شکل تک دیکھنے کی روادار نا تھی۔۔۔ دادی کے اشاروں پر وہ بے بسی سے تھکے تھکے قدم اٹھاتا کمرے سے تو کیا بلکہ حویلی سے ہی نکل گیا۔۔۔ اسے زرش کو منانے کے لئے کچھ اور سوچنا تھا۔۔۔
******
گڈی میں مارکیٹ تک جا رہی ہوں آنٹی ابھی سو رہی ہیں وہ کچھ دیر اب آرام کریں گی۔۔۔ انشااللہ میں انکے اٹھنے سے پہلے واپس آ جاوں گی۔۔۔ وہ موبائل اپنی جیکٹ کی جیب میں رکھتی ہاتھ میں تھامے چھوٹے سے کلچ میں موجود پیسوں کو گنتی کچن میں برتن دھوتی گڈی سے مخاطب ہوئی۔۔
پر باجی گھر میں تو کوئی گاڑی نہیں۔۔ وہ استعجاب سے نور کی جانب دیکھتی گویا ہوئی.
کوئی بات نہیں گڈی مجھے عادت ہے ایسے ہی جانے کی میں مینج کر لوں گی۔۔۔ وہ اسے مسکرا کر کہتی اپنا کلچ اٹھا کر چادر اچھے سے اوڑھتی باہر نکلی۔۔ باہر روڈ سے ہی اسے ٹیکسی مل گئ اسے مطلوبہ جگہ کا بتا کر وہ پرسکون سی ٹیکسی میں بیٹھی۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد وہ اپنی مطلوبہ مارکیٹ میں موجود تھی۔۔۔ ٹیکسی والے کو اسکا کرایہ دے کر وہ ابھی ایک قدم ہی اگے بڑھی تھی جب پیچھے سے کسی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔
نور تم۔۔۔ آواز سن کر وہ نا سمجھی سے پیچھے کو پلٹی لیکن سامنے ہی فہد کو آنکھوں میں حیرت و انبساط لیے خود کو تکتا پا کر اسے اپنی روح فنا ہوتی محسوس ہوئی۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ حواس باختگی میں وہاں سے بھاگ پاتی اسکی نرم و گداز بازو فہد کی آہنی گرفت میں آئی۔۔ ہر بار نہیں نور ڈیئر ۔۔۔ ہر بار نہیں۔۔۔ کہاں کہاں نہیں خوار ہوا میں تمہارے پیچھے اب یہ بھول ہے تمہاری کہ تم کہیں جا پاو گئ۔۔۔ اسکی بازو کو سختی سے مڑورتے اسنے بنا نور کو سوچنے سمجھنے کا موقع دیئے گاڑی میں پھینکا۔۔۔ گاڑی کا دروازہ بند ہوتے ہی نور کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ اسے وہ تمام لمحات جزئیات سے یاد آئے جب فہد اس پر بری طرح حاوی ہوا تھا۔۔۔ اسے اپنے جسم پر چیونٹیاں سی رینگتی محسوس ہوئیں۔۔ وہ اس سے لڑ نہیں سکتی تھی مقابلہ نہیں کر سکتی تھی یہ تو طے تھا۔۔۔ آنسو پلکوں کی بار پھیلانگ پھیلانگ کر بہتے چلے جا رہے تھے۔۔ اسے اپنا سانس سینے میں ہی اٹکتا محسوس ہوا۔۔۔
*****
