Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hala (Episode 28)

Hala By Umme Hania

امی اب کیسا محسوس کر رہی ہیں آپ۔۔۔ زہرا بیگم کو ہوش میں آتا دیکھ دریاب صوفے سے اٹھتا سرعت سے انکی جانب بڑھا۔۔۔ انکے بے ہوش ہونے کے بعد دریاب نے ڈاکٹر کو بلایا تھا جو زہرا بیگم کا تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد انہیں شدید سٹریس کے زیر اثر ہونے کا بتا کر گیا تھا۔۔۔۔

نور کو کھانا کھلا کر سونے کی ہدایات دے کر وہ سیدھا ماں کے پاس ہی آیا اور تب سے انہی کے پاس بیٹھا وہ تمام معاملات پر غور و فکر کر رہا تھا۔۔۔ ڈاکٹر نے زہرا بیگم کو سٹریس فری رکھنے کا کہا تھا اور دریاب کو اس وقت انہیں سٹریس فری رکھنے کا کوئی طریقہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔۔

یوسف ایسا کیسے کر سکتے ہیں میرے ساتھ دریاب۔۔۔ وہ مجھے ہرانے کے لئے اتنا سب کر گئے۔۔۔ گرم سیال مائع انکی آنکھوں سے بہتا کنپتیوں کی جانب بہہ رہا تھا لہجے میں ٹوٹے مان کی کرچیاں تھی۔۔۔

ایسی کوئی بات نہیں ہے ماں۔۔۔۔ آپ ایسا کیوں سوچ رہی ہیں۔۔۔ بابا آپ سے بہت محبت کرتے تھے اور انکی وفا و محبت کا میں گواہ ہوں۔۔۔ اسنے عقیدت سے ماں کے آنسو صاف کئے ۔۔۔۔

میں اس لڑکی کیساتھ اس گھر میں نہیں رہ سکتی۔۔۔ مجھے اپنی شکست گوارا نہیں ہے دریاب۔۔۔ میں دن میں جتنی دفعہ اس لڑکی کی صورت دیکھوں گی مجھے غصہ آئے گا۔۔۔۔ ناجانے یہ کیسی نفرت تھی جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی زہرا بیگم کو طیش میں آتا دیکھ دریاب لب بھینچ گیا۔۔۔

ٹھیک ہے ماں میں اسے انیکسی میں شفٹ کروا دیتا ہوں دریاب نے ماں کا ہاتھ تھپتھپاتے بیچ کی راہ نکالی۔۔۔ ہاِں یہ ٹھیک ہے ویسے بھی گھر کا ایک چوتھائی حصہ وہ انیکسی ہی بنتی ہے۔۔ اچھا ہے میری نظروں سے دور رہے گئ۔۔۔ اور دریاب ٹھیک ہے کہ تم اسے طالاق نہیں دے سکتے مگر تم اس سے کوئی تعلق نہیں رکھو گئے۔۔۔ پڑی رہے وہاں انیکسی میں پوری زندگی۔۔۔ میں تمہاری شادی کروں گی۔۔۔ چاند سی بہو لاوں گئ تمہارے لئے۔۔۔ وہ خاموشی و سنجیدگی سے ماں کے خیالات سن رہا تھا۔۔۔ وہ انہیں یہ تک نا کہہ سکا کہ چاند سی بہو تو آپکی یہ بھی ہے۔۔۔۔ ماں ڈاکَٹر نے آپکو سٹریس فری رہنے اور آرام کرنے کا بولا ہے آپ دو منٹ رکیں میں آپ کے لئے کچھ کھانے کو لاتا ہوں پھر آپ نے میڈیسن بھی لینی ہے۔۔۔ وہ سنجیدگی سے کہتا کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔ اسکی ایک بات اچھی تھی جہاں اسے لگتا کہ جواب دینے سے نقص امن کا خظرہ لاحق ہو سکتا ہے وہ وہاں بات ہی بدل جاتا۔۔

*****

صبح فجر کی نماز پڑھ کر دریاب کمرے میں آیا تو نور کو جائے نماز پر سجدے میں سر بسجود پایا۔۔۔ وہ فجر کی نماز ادا کر رہی تھی دریاب وہیں صوفے پر براجماں ہوتا کمر صوفے کی پشت سے ٹکا کر کہنی صوفے کی ہتھی پر رکھتا ہاتھ کی گول مٹھی بنائے ہونٹوں سے لگاتا فرصت سے نور کا جائزہ لینے لگا جو اب سیدھی کھڑی سینے پر ہاتھ رکھے تسبیحات پڑھ رہی تھی۔۔۔ سفید ڈوپتہ چہرے کے گرد لپیٹے وہ بہت معصوم اور پاکیزہ لگ رہی تھی۔۔۔ دریاب انہماک سے اسے دیکھنے میں منہمک تھا حتکہ اسنے نماز مکمل کی اور دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔۔۔ بند آنکھوں اور ہلتے لبوں سمیت اسکی دعا لمبی ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔ دعا مانگ کر اسنے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور جائے نماز تہہ کر کے اسکی جگہ پر رکھا اور پلٹ کر اس تک آئی۔۔۔

اب کیسی طبیعت ہے تمہاری دریاب نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے اپنے پاس ہی بیٹھایا۔۔۔

ہمم۔۔۔ کافی بہتر ہے۔۔۔ نظریں جکھی اور مستحکم لہجہ وہ اسے رات سے یکسر مختلف لگی۔۔۔ رات والی ٹوٹی بکھری لڑکی کا کہیں کوئی شائبہ تک نا تھا۔۔۔

مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے نور پلیز تم مجھے غلط مت سمجھنا۔۔۔ دریاب شش و پنج میں مبتلا اس سے بات کرنے کے لئے مناسب الفاظ تلاش رہا تھا۔۔۔

جی کہیے میں سن رہی ہوں۔۔ وہ کمال بے نیازی سے اٹھ کر الماری تک گئ اور وہاں سے اپنی شال نکال کر خود پر اوڑھنے لگی آج کل سردی کی شدت کچھ بڑھنے لگی تھی اور اسے ویسے بھی ضرورت سے کچھ زیادہ ہی سردی لگتی تھی۔۔۔۔۔

دریاب نے گلا تر کرتے آنکھیں میچ کر خود کو بات کرنے کے لئے تیار کیا۔۔نور امی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔ بابا کی موت کا انہوں نے بہت گہرا صدمہ لیا ہے۔۔۔ ڈاکٹر نے انہیں سٹریس فری رکھنے کو بولا ہے اسنے تمہید باندھی شال اورھتی نور کی تمام حسیات اسی کی جانب متوجہ تھیں۔۔۔ اس لئے میں چاہ رہا تھا کہ تم کچھ دیر تک کے لئے انیکسی میں شفٹ ہو جاو۔۔۔ دریاب صوفے سے اٹھ کر قدم قدم چلتا نور کے مقابل آیا۔۔۔ اسکے شال سیٹ کرتے ہاتھ بے طرح ٹھٹھکے لیکن یہ صرف ایک لمحے کے لئے تھا سرعت سے وہ خود کو کمپوز کرتی سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔

ساتھ ہی رخ موڑتے اسنے الماری کے اوپر سے اپنا بیگ اتارا اور الماری کے پٹ وا کرتی اپنے کپڑے نکال کر پیکنگ کرنے لگی۔۔۔

ایک پل کو دریاب کے دل کو کسی نے مٹھی میں لے کر مسلا۔۔۔ کیا تھی وہ لڑکی۔۔۔ نا کوئی تردید نا تنقید۔۔۔ خوشی سے تعمیل۔۔۔۔ وہ کچھ توکہتی۔۔۔ کوئی شکوہ ہی سہی۔۔ اچھی بری کوئی رائے ہی دیتی۔۔۔ وہ خود بھی تو ایک ٹراما سے گزر رہی تھی پھر کیسے وہ اتنی مضبوط تھی یا شاید خود کو مضبوط ظاہر کر رہی تھی بحرحال جو بھی تھا دریاب کو اس پر رشک آیا ۔۔۔ وہ کیسے اتنی گہری تھی جو اپنا آپ کسی کو پڑھنے تک کی اجازت نا دیتی تھی۔۔۔

وہ بنا دریاب کی جانب دیکھے خاموشی اور توجہ سے اپنا کام کر رہی تھی جیسے وہ اس وقت کمرے میں اکیلی ہو۔۔۔ شاید یہ اسے نظرانداز کرنے کی لاشعوری کوشیش تھی یا وہ اپنے دل کا بھید اس سے چھپانا چاہتی تھی۔۔۔۔

آخری ہینگر بھی الماری سے نکال کر وہ پلٹی۔۔۔ بہت مشکل سے وہ خود کو کمپوز کئے ہوئے تھی۔۔۔ دل ڈھاریں مار مار کر رونے کو چاہ رہا تھا۔۔۔۔ مگر دریاب کے سامنے ایک مزید آنسو بھی نا نکالنے کی وہ قسم کھا چکی تھی۔۔۔ ابھی تو اسے رہ رہ کر اپنی کل رات والی بے خودی پر غصہ آ رہا تھا۔۔۔ کیوں وہ دریاب کے سامنے اتنی کمزور ہو گئ تھی۔۔۔۔ مگر نابلد تھی کہ سامنے والے شخص سے اپنا آپ چھپا پانہ بھی کوئی آسان کام نا تھا

ابھی وہ اپنا آخری سوٹ تہہ کر کے بیگ میں رکھ ہی رہی تھی جب دریاب نے اسے بازو سے کھینچ کر اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔ وہ بوکھلا ہی تو اٹھی تھی اس اچانک افتاد پر۔۔ ہاتھ میں تھامے کپڑے جھٹکے سے زمین بوس ہوئے تھے۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتی دریاب نے اسے گلے سے لگاتے اس کے گرد بازوں کا حصار قائم کیا تھا۔۔۔ اسکے سینے سے لگی نور اپنا سانس تک روک گئ تھی۔۔۔

جانتا ہوں کہ غلط کر رہا ہوں۔۔۔ ماں اور بیوی کے رشتے کے دوران توازن قائم نہیں کر پا رہا۔۔۔ لیکن مجھ پر یقین رکھنا نور بہت جلد تمہیں پوری عزت سے اس گھر میں واپس لاوں گا یہ میرا وعدہ ہے تم سے۔۔۔ کان میں سنائی دیتی مدھر سرگوشی نور کے حواس صلب کر رہی تھی۔۔۔ یہ کونسے فسانے سنا رہا تھا وہ ستم گر۔۔۔ اتنی اپنائیت اور آس کے دیئے تھما کر خود سے دور بھیج رہا تھا دل تو پہلے ہی زخمی ہوا پڑا تھا اس التفات سے تو وہ مزید باغی ہوتا پوری شدت سے پھڑپھڑانے لگا تھا۔۔ وہ ضبط کی کوشیش میں ہلکان ہوئی جا رہی تھی۔۔۔ دو باغی آنسو ضبط کے باوجود پلکوں کی بار پھیلانگتے بہہ نکلے تھے

کچھ دیر تک تو وہ یونہی اسے ساتھ لگائے اسے تحفظ کا احساس دلاتا رہا پھر آہستگی سے اسے خود سے الگ کرتا بنا اس کی جانب دیکھے لمبے لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔ شاید وہ بھی اس لڑکی کے حوصلے پر ضبط کے مراحل طے کر رہا تھا۔۔۔

نور ابھی تک انہی لمحات کے زیر اثر تھی۔۔۔ وہیں بیڈ پر بیٹھتی وہ دریاب کو ہی تصور میں لاتی خاموش آنسو بہانے لگی۔۔۔

مجھے آج خود سے اعتراف کرنے میں کوئی آر نہیں دریاب کہ آپ وہ دنیا کے پہلے مرد ہیں جس پر نور دل ہاری ہے۔ اور اس بری طرح سے ہاری ہے کہ آپ میری نس نس میں بسنے لگے ہیں۔۔۔ مگر اس کیساتھ ساتھ ہی میں کبھی نہیں چاہوں گی کے آپ میرے لئے اپنی ماں کے مدمقابل جائیں۔۔۔ بلاشبہ ماں کا کوئی نعمل البدل نہیں ہوتا۔۔۔ میں نے ماں کھوئی ہے اور اس دکھ سے اچھے سے آشنا ہوں کبھی نہیں چاہوں گی کہ آپ بھی اس غم سے گزریں۔۔۔ دعا گو ہوں کہ اللہ سب ٹھیک کر دے۔۔۔ اسنے کرب سے سوچتے رگڑ کر اپنے آنسو صاف کئے۔۔۔

******

انیکسی میں سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا وہ چھوڑ کر گئ تھی۔۔۔ آخر اسے گئ کو وقت ہی کتنا ہوا تھا محض تین دن بعد ہی تو وہ وہاں واپس آ چکی تھی۔۔۔ انیکسی میں آتے ہی سب سے پہلے اسنے شاور لیا اور فریش ہو کر اپنا سامان سیٹ کرنے لگی۔۔۔

زندگی میں کرنے کو بہت کچھ تھا وہ محض اس ایک بات کو سر پر سوار کرکے اپنا وقت ضائع نہیں کرسکتی تھی۔۔۔ اسےا ن کربناک یادوں سے نکلنے کے لئے خود کو مصروف کرنا تھا بے حد مصروف تا کہ ان یادوں کی اذیت سے خود کو باہر نکال سکتی۔۔۔۔۔

کپڑوں کی الماری سیٹ کر کے اسنے پورا گھنٹہ لگا کر انیکسی کی صفائی کی ساری انیکسی چم چما اٹھی تھی ویسے بھی صاف ستھرے ماحول میں اسے پازیٹیویٹی کا احساس ہوتا تھا۔۔۔

سب کچھ کر لینے کے بعد وہ لاوئنج میں بیٹھ کر اپنی کتابوں کو جھاڑ کر سیٹ کرنے لگی اسے جلد از جلد اپنی یونیورسٹی دوبارہ شروع کرنی تھی۔۔۔ دریاب جیسے شاندار مرد کو حواسوں پر سوار ہونے سے روکنا تھا۔۔۔ ہاں ٹھیک تھا کہ وہ اسکا محرم تھا اس سے محبت ایک جائز عمل تھا مگر آج کل کے حالات کے پیش نظر وہ ابھی خود نہیں جانتی تھی کہ اس رشتے کا کیا اختتام ہونا تھا لحاظہ وہ چاہ کر بھی اپنا آپ دریاب پر آشکار کرنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔کتابیں جھارتے جب سر چکرانے لگا اور پیٹ نے شدت سے بھوکے ہونے کا احتجاج کیا تو وہ سب کچھ وہیں چھوڑ کر کچن کی جانب بڑھی انڈا فرائی کرکے دو بریڈ سلائس اور چائے کا کپ بنا کر واپس لاوئنج میں آئی اور صوفے پر بیٹھ کر دلجمعی سے ناشتہ کرنے لگی۔۔ انیکسی کا دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ دروازے کی جانب متوجہ ہوئی مگر وہاں دریاب کو کھڑا دیکھ کر ایک پل کو ٹھٹکی۔۔۔ اب یہ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔ اتنی مشکل سے تو اسے حواسوں سے جھٹکتی اسکی یادوں سے پیچھا چھڑا رہی تھی اور وہ پھر سے اپنی تمام تر حشرسامانیوں سمیت اسکے سامنے موجود تھا وہ جزبر سی ہو کر رہ گئ ۔۔ وہ مضبوط قدم اٹھاتا اسکی جانب آیا اور اسکے سامنے موجود سنگل صوفے پر براجماں ہوا۔۔۔ کیا آپکو اپنے گھر کا سکون اچھا نہیں لگتا جو آپ اس وقت یہاں موجود ہیں۔۔۔ چائے کا مگ ہونٹوں سے لگاتے شریر سے انداز میں گویا ہوئی۔۔۔ دریاب کو اسکا یہ روپ بھی پسند آیا تبھی تو جی جان سے مسکرا دیا۔۔۔ اب ایسی بات بھی نہیں۔۔۔

خیر تمہیں کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تم بلا جھجھک مجھ سے رابطہ کر سکتی ہو۔۔۔

ہاں جیسے میں واقعی اپنی ضروریات کے لئے دورہ دورہ آپکے پاس ہی آوں گی نا۔۔۔ اتنی ہی منگتی سمجھ رکھا ہے نا مجھے وہ محض سوچ کر رہ گئ البتہ اسنے دریاب کو اپنے ان نادر خیالات سے مستفید کرنا ضروری نا سمجھا۔۔۔۔ اسی لئے خاموشی سے گھونٹ گھونٹ گرم چائے اندر انڈیلتی رہی۔۔۔

یہ کچھ رقم ہے اسے اپنے پاس رکھ لو ضرورت پر سکتی ہے۔۔۔ دریاب نے کھڑے ہوتے جیب سے کچھ رقم نکال کر اسکی جانب بڑھائی تو اسنے چائے پیتے چونک کر دریاب کی جانب دیکھا۔۔۔

آپ کا بہت بہت شکریہ مگر مجھے فلحال اسکی بالکل بھی ضرورت نہیں۔۔۔ ضرورت محسوس ہوئی تو آپ سے مانگ لوں گی۔۔۔۔ وہ بھی چائے کا کپ میز پر رکھتی اٹھ کھڑی ہوئی آواز میں خودبخود سنجیدگی در آئی تھی۔۔۔

تمہیں ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہوگئ مگر مجھے ضرورت ہے۔۔۔ یہ چیز مجھے احساس دلاتی رہے گی کہ میں ایک عدد بیوی کا شوہر ہوں اور مجھے اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہیں۔۔۔ دریاب نے استحقاق سے اسکا ہاتھ تھام کر اس پر رقم رکھی۔۔۔ آپ ہر مرتبہ میرے ساتھ زور آزمائی نہیں کر سکتے اور شوہر کی ذمہ داریاں محض رقم دینے تک محدود نہیں ہوتی۔۔ بل کھاتے وہ دریاب کی آنکھوں میں دیکھتی غرا کر گویا ہوئی۔۔۔ ناجانے کہاں کا غصہ کہاں نکل رہا تھا وہ اسکے ایک صحیح عمل کو غلط قرار دے رہی تھی ناجانے اندر پکتے لاوے نے باہر نکلنے کے لئے کون سا چور راستہ اپنا لیا تھا۔۔۔

ارے تمہیں تو غصہ بھی آتا ہے۔۔۔ آئی لائک اٹ۔۔۔ دریاب نے شرارت سے انگلی کی پور سے اسکی ناک کی نوک کو چھوا تو اسنے سرعت سے اسکا ہاتھ جھٹکا۔۔۔

رہی بات باقی ذمہ داریوں کی تو شروعات تو کہیں نا کہیں سے کرنی ہی تھی آج اسکی بنیاد رکھی ہے رفتہ رفتہ باقی ذمہ داریاں بھی نبھانے لگوں گا۔۔۔

منگتی نہیں ہوں میں جو آپ مجھے یہ پیسے دیں گے۔۔۔ جب حق سے اپنے گھر لیجائیں گے تو تب پیسے بھی لے لوں گی۔۔۔ اسنے رقم سامنے میز پر رکھتے ہاتھ باندھتے چہرا موڑا۔۔۔

وہ وقت بھی جلد ہی آئے گا انشااللہ اور مجھے امید ہے کہ تب تک تم میرے ساتھ تعاون کرو گئ وہ بنا صوفے سے رقم اٹھائے ایک نظر اس کے بگڑے بگڑے تاثرات پر ڈالتا خود انیکسی سے باہر نکل گیا جبکہ نور کو اپنے سامنے پڑے پیسوں کو دیکھ کر غصہ آ رہا تھا اور کیوں آ رہا تھا وہ یہ خود بھی جاننے سے قاصر تھی۔۔۔ ناجانے آگے قسمت کیا موڑ لینے والی تھی

******