Hala By Umme Hania Readelle50346 Hala (Episode 52) Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Hala (Episode 52) Last Episode
Hala By Umme Hania
تیزی سے دماغ چلاتے دریاب نے گھر کا لینڈ لائن نمبر ملایا۔۔۔ دوسری جانب بیل جا رہی تھی۔۔۔ گاڑی وہ پہلے ہی روڈ کے کنارے روک چکا تھا۔۔۔ کبھی لبوں پر زبان پھیرتا کبھی بالوں پر ہاتھ چلاتا وہ خاصا مضطرب تھا۔۔۔
ہیلو۔۔۔ گڈی نور کہاں ہے۔۔۔ دوسری جانب سے فون اٹھائے جاتے ہی وہ مضطرب سا گویا ہوا۔۔۔
بھیا وہ تو مارکیٹ تک گئ تھیں گھنٹہ پہلے لیکن ابھی واپس نہیں آئیں۔۔۔
کک۔۔۔ کس کے ساتھ گئ تھی۔۔۔ دریاب کو اپنی ہی آوا کہیں دور کھائی سے آتی محسوس ہوئی۔۔۔
بھیا گھر میں گاڑی نہیں تھی تو وہ تو اکیلی ہی ٹیکسی سے گئیں میں نے تو کہا تھا کہ۔۔۔
گڈی کی بات پر دریاب نے کرب سے آنکھیں میچیں۔۔۔ وہ نجانے اور بھی کیا کیا کہہ رہی تھی لیکن دریاب نے فون بند کر دیا۔۔۔
یکدم کچھ یاد آنے پر اسنے بعجلت پھر سے فون اٹھایا۔۔۔
*****
فہد جو پاغلوں کی طرح اسے پوری بلدنگ میں ڈھونڈ رہا تھا ایک طرف پتھر اور ٹائلوں کے ملبے کے پیچھے سے اسے نور کا آنچل دکھائی دیا۔۔۔ وہ لبوں پر زہریلی مسکراہٹ لئے اسکی جانب بڑھا ۔۔۔اوہ تو یہاں چھپی ہو تم نور جانو۔۔۔۔ اسنے نور کو اسکے بالوں سے کھینچتے اسے کھڑا کیا۔۔۔
اور وہ جو گھٹی گھٹی آواز میں کسی سے بات کرنے میں مصروف تھی اس اچانک افتاد پر کراہ کر رہ گئ۔ جیسے ہی فہد کی نظر اسکے ہاتھ میں تھامے موبائل پر پڑی اسنے نور کے ہاتھ سے موبائل جھپٹتے نیچے پھینکا۔۔۔ نور کا اوپر کا سانس اور پر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔۔۔
فہد خطرناک تیوروں سے اسکی جانب بڑھا لیکن اس سے پہلے کہ وہ نور کو اپنی شکنجے میں کستا نور نے پوری قوت سے اسے دھکا دیا اور اندھا دھند آگے کو بھاگ پڑی۔۔۔ اب آڑ یا پاڑ تھا لیکن وہ خود کو تر نوالہ ثابت نہیں ہونے دینا چاہتی تھی۔۔۔
جواد فرہاد پکڑو اسے۔۔۔ فہد نے اپنے ساتھ موجود دونوں لڑکوں کو چلا کر اسکی جانب متوجہ کرتے خود بھی اسکے پیچھے ڈور لگا دی۔۔۔
نور اپنی پوری قوت سے بھاگتی انہیں ڈاج دے رہی تھی لیکن آخر کب تک وہ ایک تھی اور مقابلہ تین مردوں سے تھا۔۔۔ ہانپتی ہوئی وہ دائیں جانب مری مگر سامنے ہی جواد آ کھڑا ہوا سرعت سے وہ بائیں جانب مڑی لیکن ادھر سے فرہاد اسے خونخوار نگاہوں سے تکتا اسکی جانب بڑھا ۔۔۔ وہ خشک پڑتے ہونٹوں پر زبان پھیرتی پیچھے کو پلٹی مگر سامنے ہی فہد کو دیکھ کر اسے اپنی ٹانگیں بے جان ہوتی محسوس ہوئیں۔۔۔ وہ تینوں اسے اپنے گھیرے میں لے چکے تھے۔۔۔ وہ خوفزدہ ہرنی کی مانند گھوم کر ان تینوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ آنسو پلکوں کی بار پھیلانگ پھیلانگ کر بہہ رہے تھے۔۔۔
بس نور جان اتنا ہی یا ابھی اور ہمت دکھانی باقی ہے۔۔۔ فہد جارہانہ تیوروں کے ساتھ اسکی جانب بڑھا اور اسنے ایک ہی جھٹکے میں اس پر سے چادر کھینچتے نیچے پھینکی۔۔۔
آہہہہہہ۔۔۔ نہیںننننن ۔۔۔نہیںننننن فہد تمہیں خدا کا واسطہ مجھے جانے دو۔۔۔ یکدم ہی آنچل خود پر سے سرک جانے سے گویا وہ تپتے ریگستان میں برہنہ ہو گئ ہو۔۔۔ جیسے کسی نے ایک ہی جھٹکے سے سسینے میں موجود دل نوچ نکالا ہوا۔۔ وہ متوحش سی خود کو اپنے بازوں سے چھپاتی سسک اٹھی۔۔۔
تمہیں چھوڑ دوں تمہیں۔۔۔ فہد نے اسے بالوں سے کھینچتے کئ ایک تھپڑ اسکے چہرے پر رسید کئے۔۔۔ ان تھپڑوں کی شدت سے وہ بلبلا اٹھی تھی۔۔۔ جواد اور فرہاد اس پر بھوکے کتوں کی مانند ٹوٹ پڑے تھے۔۔۔ ایک نے پیچھے سے اسکی جیکٹ کھینچی تھی جبکہ دوسرے نے آگے سے کھینچتے ہوئے اسکی زپ کھولی۔۔ تین بھیریوں کی گرفت میں وہ لمحوں میں ادھ موئی ہوگئ تھی۔۔۔ جیکٹ تن سے جدا ہوتے ہی اسے لگا اسکی روح بھی جسم سے الگ ہو گئ ہو۔۔۔ فہد نے طیش سے اسکی آستینیں پکڑ کر کھینچی۔۔ چڑ کہ آواز سے آستین پھٹتے چلی گئیں۔۔۔ نور کی دلدوز چینخوں سے وہ بلدنگ لرز اٹھی تھی۔۔۔ اسے اپنی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھاتا محسوس ہوا۔۔۔ اسے نہیں یاد پڑتا تھا کہ اسنے کبھی دانستہ کسی کے ساتھ برا کیا ہو یا کسی کا دل دکھایا ہو پھر اس کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا تھا۔۔۔ آج اگر وہ زندہ بچ بھی جاتی تو کیا کبھی کسی اور سے تو کیا خود سے بھی نگاہیں ملا پاتی۔۔۔ کیا وہ کبھی دریاب کا سامنا کر پاتی۔۔۔
نہیں کبھی نہیں ۔۔۔ دل سے ایک ہوک اٹھی تھی اور وہ ان بھیڑیوں کے بیچ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوتی نیچے گرتی چلی گئ۔۔۔ آنکھیں بند ہونے سے پہلے جو ممظر اسنے دیکھا کہ فہد اس پر جھک رہا تھا نم آنکھوں کیساتھ ساتھ اسے اپنا دل بھی بند ہوتا محسوس ہوا۔۔۔
*******
اسے اپنے سر اور آنکھوں پر بہت بوجھ محسوس ہو رہا تھا۔۔ کراہتے ہوئے اسنے آہستگی سے آنکھیں کھولی تو سب سے پہلا احساس جو اس میں جاگا کہ وہ ابھی زندہ ہے ساتھ ہی تواتر سے آنسو بہتے اسکی کنپتیوں میں جذب ہونے لگے تھے۔۔۔ اتنی ذلت کے بعد بھی کیا کچھ باقی تھا سہنے کو۔۔ اسنے ارد گرد دیکھ کر جاننا چاہا کہ وہ کہاں ہے۔۔۔ سفید چھت اور سفید ہی دیواریں سفید بیڈ اور سفید ہی بیڈ شیٹ وہ غالباً ہسپتال کا کمرا تھا۔۔۔ ہاتھ پر ڈرپ لگی تھی وہ حیران نگاہوں سے سب دیکھتے اٹھ کر بیٹھی ۔۔۔
اب کسی طبیعت ہے نور۔۔۔ کیسا محسوس کر رہی ہو۔۔۔ تبھی کمرے کے دروازے سے سنجیدہ سا دریاب اندر داخل ہوا۔۔۔ اسے دیکھ کر گویا نور کو سانپ سونگھ گیا ۔۔۔ چہرے کا رنگ خطرناک حد تک سفید پر گیا تھا۔۔۔ اسنے خوفزدہ نگاہوں سے اپنا جائزہ لیا۔۔۔ جسم پر زیب تن جیکٹ اور اس پر موجود شال دیکھ کر اسکی کچھ ڈھارس بندھی۔۔ جیکٹ اور شال نے اسکی سبھی تباہ کاریاں بڑی خوبصورتی سے اپنے اندر چھپا لی تھیں۔۔۔ وہ تھوک نگلتی خوفزدہ سی چہرا جھکا گئ۔۔
دریاب نے شدت سے اسکا ہر ہر انداز نوٹ کیا تھا۔۔۔ شاید وہ خود کو اس سے چھپا رہی تھی۔۔۔ چہرا جھکائے ہونٹ چباتی وہ جیسے بہت اذیت میں تھی۔۔۔۔ دریاب نے اسے چھیرنے سے گریز ہی کیا اگر وہ خود کو اس پر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی تو وہ بھی اس سے کچھ پوچھ کر اسے مزید تکلیف سے دوچار نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔
تم آرام کرو نور میں ڈاکٹر سے ڈسچارج کا پوچھ کر آتا ہوں۔۔ وہ اسے اس تکلیف سے نکالنے کو خاموشی سے کمرے سے نکل گیا۔۔۔ اسکے جاتے ہی نور کی آنکھوں سے آنسو لڑیوں کی مانند گرنے لگے وہ نڈھال سی وہیں لیٹ کر سسک اٹھی۔۔
تبھی کچھ وائبریٹ ہونے کی آواز پر وہ چونکی۔۔۔ آنسو ٹھٹھک کر رکے۔۔۔ یہ وائبریشن اسکی جیکٹ کی جیب میں ہو رہی تھی۔۔۔ بے ساختہ ہاتھ بڑھا کر اسنے جیب کی زپ کھولی اندر اسکا موبائل وائبریٹ کر رہا تھا۔۔۔ اسنے حیرانگی سے موبائل باہر نکالا جس پر ڈی کے سر کی کال آ رہی تھی۔۔۔
یہ موبائل اسکی جیب میں کیسے۔۔۔ یہ تو فہد نے پھینک دیا تھا۔۔۔ پر سب سے بڑھ کر وہ خود یہاں کیسے۔۔۔ اور دریاب کو اسکا کیسے پتہ چلا ۔۔۔ کئ ایک سوال گھٹیوں کی صورت الجھے پڑے تھے جسکا جواب جاننے کی تجسس میں اسنے بنا دیر کئے فون اٹھا کر کان کو لگایا۔۔۔
کیسی ہو ہالہ۔۔ وہی مخصوص اپنایت بھرا لہجہ۔۔۔ وہ خاموشی سے فون کان کو لگائے سسکتی رہی۔۔۔
دریاب جو کمرے سے باہر کھڑا فون کان کو لگائے ونڈو سے اسے دیکھ رہا تھا اسے یوں سسکتے دیکھ لب بھینچ گیا۔۔۔ آنکھیں شدت ضبط سے سرخ ہوئی پڑیں تھیں۔۔۔
رو کیوں رہی ہو ہالہ تمہیں تو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہم کسی بڑے نقصاں سے بچ گئے۔۔۔ اسنے دھکے چھپے الفاظ میں ہالہ کو حقیقت سے آگاہ کرنا چاہا ۔۔ شکر خدا کا کہ میں وہاں بروقت پہنچ گیا تھا اور تمہارے مجرم اس وقت جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔۔۔ نور کو نگاہوں کے حصار میں رکھے ٹھہر ٹھہر کر کہتے اسنے واضح نور کے چہرے پر پھیلی وحشت کو کم ہوتے دیکھا۔۔۔
میرے پاس الفاظ نہیں ہیں سر جن سے میں آپکا شکریہ ادا کر سکوں۔۔۔ سرسراتی آواز دریاب کو اندر تک جھنجھوڑ گئ۔۔۔
تمہارا شکریہ نہیں چاہیے ہالہ۔۔۔ بس جلدی سے ٹھیک ہو کر بیک ٹو ورک آو۔۔۔ اور ویسے بھی تم تو بہت بہادر ہو نا۔۔۔ نور نے کرب سے آنکھیں میچتے اپنے آنسو بہنے دیئے۔۔۔
میں بہت بری حالت میں تھی سر مجھے یہ جیکٹ اور شال۔۔اپنی سب سے بڑی الجھن کو اٹک اٹک کر پوچھتی وہ بات ادھوری چھوڑ کر ہی سسک اٹھی تھی۔۔۔ اسے اس وقت ڈی کے سر یہ بات پوچھنا موت کے مترادف لگ رہا تھا۔۔۔
لیکن دریاب اسکی ادھوری بات کا پورا مطلب سمجھ چکا تھا وہ بہت مشکل سے خود پر ضبط کئے کھڑا تھا ورنہ جس حالت میں اسنے نور کو دیکھا تھا اسکا دل چاہ رہا تھا ان تینوں پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دیتا۔۔۔ تمہیں جیکٹ پہنا کر شال میں نے اوڑھائی تھی ۔۔۔
دریاب کی بات سنتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ اسکی سسکیاں آہ و بکار براہ راست دریاب کے دل پر وار کر رہی تھیں۔۔۔ دل چاہا ہر مصلحت بالائے طاق رکھتا اسے اپنے حصار میں لے لے۔۔۔ لیکن شاید وہ دریاب کے سامنے اپنا آپ کھول نا پاتی جو وہ ڈی کے سر کے سامنے باآسانی کھول دیتی۔۔۔
مجھے اس حالت میں اور کس کس نے دیکھا سر۔۔۔ پھر سے کپکپاتی آواز ابھری۔۔۔ اور کسی نے نہیں دیکھا۔۔۔ وہ اسکی حالت کے پیش نظر یہ تک نا کہہ سکا کہ میرے علاوہ کسی نے نہیں۔۔۔
کیا۔۔ در۔۔۔دریاب نے مجھے اس حا۔۔ حالت میں۔۔۔ لفظ پھر سے ٹوٹ ٹوٹ کر ادا کرتے وہ بات بھیچ میں ہی ادھوری چھوڑ گئ تھی۔۔
نہیں۔۔۔ اسکی حالت کے پیش نظر وہ سختی سے انکار کر گیا اور اسکے بعد اسنے نور کے چہرے پر واضح اطمیئنان چھلکتے دیکھا۔۔۔ تو کیا واقع وہ دریاب سے خود کو چھپا رہی تھی۔۔
مجھے ہسپتال کون لایا۔۔مبہم سا سوال۔
میں لایا۔۔۔اور دریاب کو بھی میں نے ہی انفارم کیا۔۔۔ اب وہ اسے وہی کہانی سنانا چاہتا تھا جسے سننے کی وہ خواہشمند تھی۔۔
آ۔۔۔آپ نے در۔۔ دریاب کو سب بتا دیا۔۔۔ سراسیمگی پھر سے اسکے چہرے پر سمٹ آئی تھی۔۔۔
نہیں فلحال تو کچھ نہیں بتایا۔۔۔ وہ اسے اندر تک پڑھ لینا چاہتا تھا کہ اسکے اندر چل کیا رہا ہے۔۔۔
پھر آپ نے ان سے کیا کہا۔۔۔ پرسوچ انداز میں اگلا سوال آیا۔۔۔
کچھ خاص نہیں۔۔۔ اسے کال کی تھی کہ ایک لڑکی روڈ کراس کرتے میری گاڑی کے سامنے آ گی اور گاڑی سے ٹکرا کر بے ہوش ہوگئ۔۔۔ اسکے پاس سے یہ موبائل ملا ہے اور اسی موبائل کے پہلے نمبر پر میں کال کر رہا ہوں۔۔۔ وہ اس وقت سٹی ہسپتال میں ہے تو کائنڈلی آپ اسے وہاں سے رسیو کر لیں۔۔ لمحوں میں کہانی گڑھ کر وہ نور کے چہرے کے اتار چڑھاو دیکھتا اسے کہانی سنا رہا تھا۔۔۔
آپ کا بہت بہت شکریہ سر کہ آپ نے دریاب کے سامنے میرا پردہ رکھ لیا۔۔۔ خاموش آنسو ایک مرتبہ پھر سے اسکی آنکھوں سے بہہ نکلے تھے۔۔۔
سب کچھ پوچھ لیا ہالہ۔۔۔ اب میری باری مجھے بھی تم سے بہت کچھ جاننا ہے اور امید ہے کہ تم بھی مجھ سے تعاون کرو گی۔۔۔ یکدم ہی اسکی آواز میں بہت سنجیدگی در آئی تھی جسے نور نے بھی بہت شدت سے محسوس کیا۔۔۔
سر کیا ہم بعد میں بات کر سکتے ہیں ابھی مجھے بات کرنے میں دشواری ہو رہی ہے۔۔۔ سر بھاری بھاری سا محسوس ہو رہا ہے۔۔۔ نور کی ہاتھوں میں موجود لغزش وہ اتنی دور سے بھی محسوس کر سکتا تھا وہ جس فیز سے نکل کر آئی تھی اس میں اسے نارمل ہونے میں کچھ وقت درکار تھا۔۔۔اسی لئے وہ بنا پس پشت کے مان گیا۔۔۔ٹھیک ہے لیکن گھر جاتے ہی سب سے پہلے اپنے کپڑے تبدیل کر لینا۔۔۔ اسکے یاد کروانے پر ایک مرتبہ پھر سے نور کے آنسو بہہ نکلے تھے ۔۔۔ فون بند کرتے ہی دریاب کی نگاہوں میں وہ منظر لہرایا تھا جسے بارہا بھولنے کی کوشیش میں بھی وہ من و عن ذہن پر نقش ہو گیا تھا۔۔۔
****
لالی سے بات کرنے کے بعد اسنے یاد آنے ہر پھر سے موبائل اٹھایا۔۔ اسنے نور کو جو دوسرا موبائل دیا تھا اس میں ٹریکر چسپاں تھا۔۔۔ موبائل اٹھا کر اسنے نور کی لوکیشن چیک کرنی چاہی۔۔۔ اسکی لوکیشن شہر سے باہر کسی اجاڑ جگہ کی تھی۔۔۔ صد شکر کہ وہ خود بھی ابھی شہر سے باہر ہی تھا۔۔ یہ جگہ اسکےکہیں آس پاس ہی تھی۔۔۔ لوکیشن سیٹ کر کے وہ گاڑی ہواوں میں اڑاتا وہاں پہنچا تھا راستے میں اسنے اپنے ایک ایس پی دوست سے بات کر کے اسکی مدد مانگی تھی۔۔
وہ کوئی زیر تعمیر عمارت تھی ابھی وہ اس عمارت کا جائزہ ہی لے رہا جب اسے نور کی دلدوز چیخیں سنائی دی۔۔۔ دھڑکتے دل کیساتھ وہ اندھا دھند اندر کو بھاگا۔۔۔ دل کہیں کچھ بہت غلط ہونے کی گواہی دے رہا تھا۔۔۔ آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔۔۔
سامنے کا منظر اسکے جسم سے روح کھینچ لینے کے مترادف تھا۔۔۔ نور ہوش و حواس سے بیگانہ ہوتی نیچے جھول گئ تھی جبکہ وہ تین افراد اس پر جھکے ہوئے تھے۔۔۔ اسکے ماتھے کی رگیں تن گئ تھیں۔۔۔ وہ للکارتا ہوا چیل کی سی تیزی سے انکی جانب بڑھا۔۔۔ وہ تینوں چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔ خون آشام نگاہوں سے انہیں تکتا وہ ان تینوں پر پل پڑا تھا۔۔۔ اسکی زندگی اسکی محبت اسکی بیوی وہ جسے اسنے کبھی سخت نگاہ سے دیکھا تک نا تھااس وقت ان بھیڑیوں کی زدو کوب میں سدھ بدھ کھو بیٹھی تھی لاوا کیسے نا پھٹتا۔۔۔جنوں سر چڑھ کر اسے وحشی بنا گیا تھا۔۔۔ لمحوں میں وہ ان تینوں کو ڈھیر کر چکا تھا۔۔۔ پولیس کے سائرن کی آواز پر وہ انہیں چھوڑ کر بے سدھ پڑی نور کی جانب لپکا جسکی بے حال حالت دیکھ اسکے اندر بھانبھر جلنے لگے تھے۔۔۔ جگہ جگہ سے اسکے کپڑے ان دندوں نے نوچ پھینکے تھے۔۔۔ شال اور جیکٹ وہیں گرے پڑے اپنی حرماں نصیبی ہر ماتھ کناں تھے۔۔۔ چہرے پر بھی اسکے کئ چوٹیں آئی تھیں۔۔۔ وہ اونچا لمبا مرد نور کو شدت سے خود میں بھینچے رو دیا تھا۔۔۔۔ وقت کی قلت کا احاس کرتے اسنے بعجلت نور کو جیکٹ پہنائی اسکا موبائل اٹھا کر جیکٹ کی جیب میں رکھا اور اسکو اچھے سے شال میں لپیٹ کر اپنی بانہوں میں اٹھاتا دوسری جانب سے بلدنگ سے باہر نکل کر اسے گاڑی میں لٹا کر واپس پولیس کے پاس آیا۔۔۔
اپنے دوست کیساتھ مل کر وہ نور کا نام مکمل طور پر اس کیس سے نکلوا کر اسے ایک ڈکیٹی کیس بنا چکا تھا۔۔ اسکی حالت کے پیش نظر وہ نور کو لے کر سیدھا ہسپتال ہی پہنچا ۔۔۔
*****
نور ڈاکٹر نے ڈسچارج دے دیا ہے ۔۔۔ پر پہلے تم کچھ کھا لو پھر ہم گھر چلتے ہیں۔۔۔ نور اپنے ہی ادھیڑ پن میں نیم دراز تھی جب دریاب کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔ وہ چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی جو ہاتھ میں ایک شاپر تھامے اسی کے قریب آ کر بیٹھا۔۔۔ ابھی ابھی نرس آ کر اسکی ڈرپ اتار گئ تھی۔۔۔
اٹھو شاباش یہ جوس پیو اور ساتھ یہ سینڈوچ کھا لو کچھ انرجی ملے گی تمہیں۔۔۔ وہ محبت سے اسکے پاس بیٹھتا اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتا گویا ہوا۔۔
اس مہربان کا یہ روپ دیکھ کر نور کے آنسو ایک مرتبہ پھر سے بہہ نکلے تھے۔۔۔
ہےےےے نور کیا بچوں جیسے کام کر رہی ہو۔۔۔ چپ بالکل چپ۔۔۔ کیوں بنا گاڑی اور ڈرائیور کے گھر سے نکلی۔۔۔ تمہیں کچھ دیر ویٹ کر لینا چاہیے تھا نا۔۔۔ چلو خیر جو ہوا مٹی ڈالو اس پر۔۔۔ دریاب نے نرمی سے اسکے آنسو صاف کرتے اسے خود سے لگایا۔۔ نور کا دل چاہا اسکے سینے میں چھپی ڈھاریں مار مار کر رو دے۔۔۔
چلو شاباش کھاو یہ۔۔۔ دریاب نے اسے سینڈوچ پکڑا کر جوس کی بوتل سے جوس ڈسپوزیبل گلاس میں انڈیلا تو وہ خاموشی سے سینڈوچ کھانے لگی۔۔۔
*****
آپ اندر چلیں میں انیکسی سے فریش ہو کر آتی ہوں۔۔۔ دریاب نے کارپورچ میں گاڑی روکی تو نور گاڑی سے باہر نکل کر جھجھکتی ہوئی گویا ہوئی۔۔۔ وہ اسکی جھجھک باخوبی سمجھ رہا تھا اسی لئے سر ہاں میں ہلاتا اندر بڑھ گیا۔۔۔
نور نے انیکسی میں آ کر الماری سے اپنا ایک سادا سا سوٹ نکالا۔۔۔ شال اتار کر جیکٹ اتاری تو نیچے سے اپنا لباس دیکھ کر وہ ایک مرتبہ پھر سے سسک اٹھی۔۔۔
اللہ نے کس کس انداز میں اسکی عزت محفوظ رکھی تھی۔ وہ اپنے رب کا جتنا شکر ادا کرتی کم تھا۔۔۔ کافی دیر تک رو کر دل کا غبار ہلکا کر کے فریش ہو کر وہ واپس آئی تو لاوئنج میں ہی زہرا بیگم اسکا انتظار کر رہی تھی۔۔۔
نور بیٹا تم ٹھیک ہو۔۔۔ مجھے دریاب نے بتایا کہ تمہارا ایکسیدینٹ ہو گیا تھا۔۔۔ اسکے لاوئنج میں داخل ہوتے ہی زہرا بیگم دیوانہ وار اسکی جانب بڑھی۔۔۔
نور نے چونک کر دریاب کی جانب دیکھا جو وہیں سنگل صوفے پر براجمان ٹانگیں سامنے موجود کانچ کی میز پر رکھے گود میں لیپ ٹاپ رکھے پورے انہماک سے اپنا کام کر رہا تھا۔۔۔
تمہیں تو چوٹیں بھی آئی ہیں نور۔۔ ماتھے پر اور ہونٹ کے قریب زخم تھے ماتھے کے زخم پر بینڈیج کی ہوئی تھی جبکہ باقی زخموں کو صاف کر کے آئنٹمنٹ لگا دی گئ تھی۔۔۔
نہیں آنٹی ایسی کوئی بات نہیں۔۔ یہ تو چھوٹی سی چوٹ ہے۔۔ آپ نے کچھ کھایا۔۔۔ وہ انہیں لئے واپس صوفے تک آئی اور انہیں صوفے پر بیٹھا کر استفسار کرنے لگی۔۔۔
میں نے سوچا تھا آدھ پون گھنٹے تک واپس گھر آ جاوں گی پھر آپکا دلیہ بنا لوں گی۔۔۔ مجھے اتنی دیر ہو گئ۔۔ جب میں نے کچھ بنایا ہی نہیں تھا تو آپ نے کھایا کیا ہوگا۔۔۔ آپ مجھے دو منٹ دیں میں ابھی بنا کر لاتی ہوں۔۔۔ وہ خود ہی یاد آنے پر سر پر ہاتھ مارتی خود کو سرزنش کرتی پلٹ کر کچن کی جانب بڑھی۔۔۔
ارے لڑکی سانس تو لو کیا ہوگیا ہے۔۔۔ اپنی حالت دیکھ نہیں رہی اور بھاگ رہی ہو کچن میں۔۔ زہرا بیگم نے اسکی پھرتیاں دیکھتے اسے بعجلت بازو سے تھام کر روکا اور تحیر سے گویا ہوئیں۔۔۔آنٹی اتنا کوئی میجر ایکسیڈینٹ نہیں تھا اب میں بلکل ٹھیک ہوں آپ بس مجھے دو منٹ دیں۔۔۔ وہ مسکرا کر انکا چہرا تھامتی محبت سے گویا ہوئی۔۔۔ دریاب ان دونوں کی گفت و شنید میں بنا دخل اندازی کئے یکسوئی سے اپنا کام کر رہا تھا۔۔۔ زہرا بیگم بس اسے دیکھتی ہی تہ گئیں۔۔
سبھی کام مکمل کر کے زہرا بیگم کو کھانا کھلا کر وہ لاوئنج میں آ کر بیٹھی تو اپنے کمرے سے باہر موجود ریلنگ پر بازو ٹکائے جھک کر اسے ہی دیکھتے دریاب نے جیب سے موبائل نکال کر اسکا نمبر ڈائل کیا۔۔۔
نور جو ہر کام سے فارغ ہو کر گم صم سی آج کے ہی واقعہ کو سوچ رہی تھی موبائل کی رنگ ٹیوں پر چونکی۔۔۔
ڈی کے سر کی کال دیکھ کر اسنے ایک گہرا سانس خارج کرتے فون اٹھایا۔۔۔
اگر تم واقع نہیں چاہتی کہ میں آج کا واقعہ دریاب کے گوش گزاروں تو بنا لگی لپٹی رکھے مجھے یہ بتاو کہ وہ شخص کون تھا اور وہ تمہیں اس جگہ پر کیوں لے کر گیا۔۔۔ نور کے فون اٹھاتے ہی وہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔ اس سے زیادہ دیر وہ افورڈ نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ جب جب وہ اس واقعہ کے بارے میں سوچتا اسکا دماغ پھٹتا تھا۔۔۔
وہ میرے تایا کا بیٹا ہے۔۔۔ اور پھر نور اسے شروع سے لے کر آخر تک سب بتاتی چلی گئ۔۔۔ پہلے اسکی دست درازی۔۔ اسکا اور اسکی ماں کا وہ گھر چھوڑنا۔۔۔ اور آج اچانک اس شخص کا سرراہ ٹکرا جانا۔۔۔ دریاب لب بھینچے بنا ٹوکے اس سن رہا تھا۔۔۔
کیا دریاب یہ سب جانتا ہے۔۔۔ کسی خدشے کے تحت اسنے پوچھا۔۔۔ نہیں وہ نہیں جانتے اور کمال انکل کو بھی امی نے پوری بات نہیں بتائی تھی۔۔۔ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ہماری وجہ سے کوئی مشکل میں گھرے۔۔۔ نور نے اپنے چہرے پر بہتے آنسو ہاتھ کی پشت سے صاف کئے ماضی کی پرخار جھاڑیوں پر سفر کرنا کوئی آسان کام نا تھا اسکے لئے۔۔۔
ایک بات تو بتاو ہالہ۔۔۔ دریاب سے محبت اتنی اور اعتبار زرا سا بھی نہیں۔۔۔ دریاب سے خود کو چھپانے کا مقصد۔۔۔ اب وہ ہر چیز جاننے کے بعد اس بات کی طرف آیا جو اسے صبح سے چبھ رہی تھی۔۔۔ وہ دریاب پر اعتبار کرنے کی بجائے ڈی کے سر پر اعتبار کر رہی تھی اور یہ ہی چیز اسے بے چین کئے ہوئے تھی۔۔۔
مجھے ان پر خود سے بھی زیادہ اعتماد ہے سر لیکن اپنی قسمت پر نہیں۔۔۔ وہ سر صوفے کی پشت سے لگا کر آنکھیں موندھ گئیں۔۔۔ خاموش آنسو آنکھوں سے نکلتے کنپٹیوں میں جذب ہونے لگے تھے۔۔ جس حالت میں میں تھی میں نہیں چاہتی تھی کہ اس حالت میں دریاب مجھے دیکھیں۔۔۔ میں چاہنے کے باوجود دریاب کو کچھ بتا نہیں پائی۔۔۔ مجھے ڈھرکا ہے کہ کہیں وہ مجھے غلط نا سمجھیں۔۔ میں انکی نگاہوں میں اپنے لئے ناپسندیدگی دیکھنے سے ڈرتی ہوں۔۔۔ حالانکہ وہ بہت سوفت نیچر ہیں بہت اچھے ہیں ۔۔۔ انہوں نے ہر قدم پر میرا ساتھ دیا۔۔۔ تب بھی میرا ہاتھ تھامے رکھا جب حالات بالکل ہی ناموافق تھے لیکن پتہ نہیں کیوں میں اپنے اندر کے اس ڈر سے لڑ نہیں پا رہی۔۔ میرے پاس اللہ کی ذات کے بعد بس دریاب ہی تو ہیں میں انہیں کھونے سے ڈرتی ہوں۔۔ میں انہیں نہیں کھو سکتی۔۔۔ میں انکے بنا نہیں رہ سکتی۔۔۔ خاموش آنسو بہاتی وہ آہستہ آہستہ اپنے سبھی ڈر اسکے ساتھ شیئر کر رہی تھی اور دریاب جو صبح سے بے چین تھا اسکی باتیں سنتا پر سکون ہو گیا تھا۔۔۔ کیونکہ اب اسے ہی رفتہ رفتہ نور کے سبھی ڈر دور کرنے تھے۔
*****
شام کے وقت پرندے جوک در جوک واپس اپنے ٹھکانوں کی طرف محو پروازتھے زرش لان میں چیئر پر بیٹھی چہرا آسمان کی جانب اٹھائے کھوئے سے انداز میں پرندوں کو واپس اپنے آشیانوں کی طرف محو پرواز دیکھ رہی تھی۔۔۔
اسے یہاں رہتے ہوئے کافی دن ہو گئے تھے۔۔۔ اس دوران حدید نے ہر طرح کی کوشیش کی اس سے رابطہ استوار کرنے کی لیکن وہ دانستہ اسکا اپنی جانب آتا ہر راستہ بند کر دیتی۔۔۔ وہ فون کرتا تو اٹھاتی ہی نا۔۔۔ وہ وہاں آتا تو اسکا سامنا ہی نا کرتی۔۔۔ وہ صبح شام اسے میسجز کرتا وہ پڑھ کر اگنور کر دیتی۔۔ کل ہی تو دادی نے اسے پیار سے اس روز کی ساری بات سنی تھی اور وہ بھی من و عن انہیں سب بتاتی چلی گئ۔۔۔ اسکی بات ختم ہونے پر دادی نے ٹھنڈا سانس خارج کرتے اسے زندگی کے اتار چڑھاو کے بارے میں کافی کچھ سمجھایا تھا جس میں سب سے زیادہ اسے سوچ سمجھ کر بولنے اور موقع کی مناسبت کے حوالے سے بات کرنے کا بالخصوص بتایا تھا اور اب یہ انہیں کے سمجھانے کا اثر تھا کہ وہ باریک بینی سے اپنا مشاہدہ کر رہی تھی اب غیر جانبداری سے حالات کا موازنہ کیا تو اسے اپنی غلطی بھی دکھائی دینے لگی کہ اسے غلط وقت پر یوں تلخی میں نہیں آنا چاہیے تھا۔۔ اگر وہ معاملہ فہمی سے کام لیتی تو شاید حالات کچھ اور ہوتے۔۔۔ لیکن نہیں وہ شخص کچھ سن ہی کب رہا تھا۔۔۔ اتنے دونوں تک اس شخص سے اور اپنے گھر سے دور رہنے کا نتیجہ تھا کہ اب وہ شدید پینک ہونے لگی تھی۔۔۔ دل و دماغ میں جنگ چھڑ چکی تھی۔۔۔
شدید غصے کا غلبہ اترا تو اب وہ شخص شدت سے یاد آنے لگا تھا جو رگِ و جان میں بسنے لگا تھا۔۔۔
کافی دیر تک اسے ہی سوچنے کے بعد وہ شام کے سائے گہرے ہوتے محسوس کر کے اٹھ کر اندر گئ۔۔۔
حدید بھائی آپ بہت برے ہیں۔۔۔ نا مجھے آنے دے رہے ہیں نا ہی دادی کو بتانے دے رہے ہیں۔۔۔ وہ لاوئنج میں آئی تو ہادیہ کی گلوگیر آواز سنائی دی۔۔۔ لفظ حدید پر اسکے کان کھڑے ہوئے ۔۔۔ ہادیہ لاوئنج میں لینڈلائن کا ریسیور تھامے غالباً حدید سے بات کر رہی تھی۔۔۔ زرش کی جانب اسکی پشت تھی۔۔ غیر ارادی طور پر وہ وہیں کھڑی ہو کر ہادیہ کی بات سننے لگی۔۔۔
بھیا ظلم کر رہے ہیں آپ اپنے ساتھ۔ جائیں اگر آپکو مرنے کا اتنا ہی شوق ہے نا تو مجھ سے بات مت کریں۔۔ ہادیہ اپنی بات کہہ کر کھٹاک سے فون رکھ کر واپس پلٹی لیکن سامنے زرش کو کھڑا دیکھ کر ٹھٹھکی۔۔۔ ہادیہ کی نم آنکھیں زرش کا دل بری طرح ڈھرکا گئیں۔۔
کیا بات ہے ہادیہ سب ٹھیک تو ہے نا۔۔۔ ہادیہ نظریں چراتی وہاں سے جانے کے پل تول رہی تھی جب زرش نے اسکی بازو تھامتے استفسار کیا۔۔۔
بھابھی بھیا کا ایکسیڈینٹ ہو گیا ہے ۔۔۔ انکی طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔ لیکن نا کچھ کھا رہے ہیں نا پی رہے ہیں انہوں نے میڈیسنز بھی نہیں لی۔۔ بی اماں کا فون آیا تھا مجھے۔۔۔ بی اماں حویلی کی پرانی ملازمہ تھیں جو شہر میں انکے گھر پر ہوتی تھیں۔۔
اب انہوں نے مجھے قسم دی ہے کہ میں دادی کو کچھ نا بتاوں اور نا ہی وہ مجھے شہر آنے دے رہے ہیں۔۔۔ زرش کے پوچھنے کی دیر تھی کہ وہ اسکے گلے لگتی سسک اٹھی۔۔۔ دل تو زرش کا بھی کرلا اٹھا تھا اس ستم گر کی حالت کا سن کر۔۔۔
تم فکر مت کرو ہادیہ میں کچھ کرتی ہوں۔۔۔ وہ ہادیہ کے گال تھپتھپاتی دادی کے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔ جو فیصلہ اتنے دنوں سے وہ نہیں لے پا رہی تھی وہ فیصلہ لمحوں میں لے ہو گیا تھا۔۔۔
دادی کو شہر جانے کا بتا کر وہ اس وقت ڈرائیور کے ہمراہ شہر کے لئے نکلی تھی۔۔ دادی بھی اسکے فیصلے پر جی جان سے خوش تھیں۔۔۔
*******
نور ادھر آو بیٹا۔۔۔
زہرا بیگم بیڈ کراون سے ٹیک لگائے بیٹھیں انکی الماری سیٹ کرتی نور کا بغور جائزہ لے رہی تھیں جو جو بلو کلر کے کھدر کے سوٹ میں سلیقے سے آنچل سر پر جمائے پورے انہماک سے تہہ شدہ کپڑے انکی الماری میں ترتیب سے رکھ رہی تھی۔۔۔ وہ الماری کا پٹ بند کر کے سیدھی ہوئی تو زہرا بیگم نے اسے اپنے پاس بلایا۔
جی آنٹی وہ مسکراتی ہوئی انکے پاس آئی تو زہرا بیگم نے ہاتھ سے اسے اپنے پاس ہی بیٹھنے کو بولا۔۔۔
وہ جھجھکتی ہوئی انکے قریب بیٹھی۔۔۔
بالکل اپنی ماں جیسی ہو تم نور۔۔۔ زہرا بیگم نے ایک ٹرانس کی کیفیت میں کہتے اسکے چہرے کے نقوش چھوئے۔۔۔ یکدم ہی نور کے چہرے کا رنگ فق ہوا۔۔۔ ناجانے اب وہ اسکی ماں کے بارے میں کیا گوہر فشانی کرنے والی تھیں۔۔۔
وہ بھی تمہارے جیسی ہی تھی بہت خوبصورت اور بلا کی معصوم۔۔۔
زہرہ بیگم کے کہنے پر نور کی آنکھیں حیرت سے پھٹیں۔۔۔ کہاں تو وہ انکے اتنی خلاف تھی کہاں انکی تعریف۔۔۔
میری بہت اچھی دوست تھی آئتل۔۔۔ وہ کھوئی کھوئی سی گویا ہوئیں۔۔ لیکن پھر میں نے اس سے بلاوجہ بلاجواز ہی بیر باندھ لیا۔۔۔
میں شادی کے بعد اس گھر میں آئی تو ہر کسی کی زبان پر آئتل ہی تھا ۔۔ میں ایک ان دیکھی آگ میں جلنے لگی۔۔۔ اور پتہ نہیں اس آگ میں جلتی کہاں سے کہاں چلی گئ۔۔۔ اب بیٹھ کر اپنا محاسبہ کیا تو غلطی سراسر اپنی ہی ملی۔۔۔ وہ نم آنکھوں سمیت گلو گیر لہجے میں گویا ہوئیں۔۔۔ نور تو بس حیرت سے انہیں دیکھ رہی تھی۔۔۔
اسنے تمہاری تربیت بہت اونچے پیمانوں ہر کی ہے نور۔۔۔ تمہارے صبرو برداشت خدمت گزاری اور فرمابردای نے ہی مجھے اپنے رویہ پر نظر ثانی کرنے کے لئے مجبور کیا۔۔۔ آنسو انکے چہرے کو بگوتے ٹپ ٹپ نیچے گرنے لگے تھے۔۔۔ میں نے تمہارے ساتھ بہت برا کیا۔۔۔بچے مجھے معاف کردو زہرا بیگم نے روتے ہوئے اسکے سامنے ہاتھ جوڑے تو نور ٹرپ کر انہیں اپنے ہاتھوں میں تھام گئ۔۔
کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ آنٹی۔۔۔۔۔
بلاشبہ میرے دریاب کے لیے تم سے بہتر انتخاب کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔ کمال مجھ سے کئ گنا زیادہ عقل و فہم رکھتے تھے اسی لئے انہوں نے میری بھرپور مخالفت کے باوجود دریاب کے لئے یہ گوہر نایاب چنا۔۔ وہ نور کو اسکی تھوڑی سے تھامتی نم آنکھوں سے مسکرا دیں۔۔۔ نور نے آنکھیں بند کر کے ان الفاظ کی شدت کو محسوس کرنا چاہا۔۔۔ یہ الفاظ ہی اسکی کل زندگی کا حاصل تھے۔۔۔ اسکی تربیت کے حوالے سے اسکی ماں کو قابل تحسیں الفاظ میں یاد کرنا ہی اسکا کل اثاثہ تھا۔۔۔ اسے لگا جیسے زندگی کے سبھی زخموں پر پھاہے رکھے جا چکے ہوں۔۔
اب تو میری اینڈو سکوپی بھی کلیئر آ گئ ہے اب آخر کب تک میرے کمرے میں ڈیرہ جمائے رکھنے کا ارادہ ہے۔۔ چلو شاباش یہاں سے جانے کی تیاری پکڑو۔۔۔
ہاں۔۔۔۔ زہرا بیگم کے یکدم پینترا بدلنے ہر وہ حیرت سے پوری آنکھیں وا کئے انہیں دیکھنے لگی۔۔۔
بی بی جی یہ ہی شاپر منگوایا تھا آپ نے۔۔۔ تبھی دروازے پر دستک دے کر گڈی ہاتھ میں شاپنگ بیگ تھامے اندر داخل ہوئی۔۔۔
ہاں یہ ہی تھا لاو یہ مجھے دو اور آج رات کھانے کا انتظام اپنی ماں کے ساتھ مل کر کر لینا نور آج کچن میں نہیں آئے گی۔۔۔ زہرا بیگم نے مسکراتے ہوئے اس سے شاپر تھاما تو وہ بھی سرہلاتی باہر چلے گئ۔۔۔
یہ لو بیٹا یہ پہن کر اچھا سا تیار ہو جاو آج میں اپنی بیٹی کو خود اسکی اصلی جگہ پر چھوڑ کر آوں گی۔۔۔ خدا تمہارا دامن خوشیوں سے بھر دے۔۔۔ زہرا بیگم نے اسکی گود میں شاپر رکھتے اسکے ماتھے کا بوسہ لیا اور وہ تو گم صم سی بس قسمت کا یہ ہیر پھیر دیکھ رہی تھی۔۔۔
تو مطلب وہ پل اسکی زندگی میں آنے والے تھے جب وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس شخص کی ہو جاتی جسے اسنے بارہا سجدے میں گر کر دعاوں میں مانگا تھا۔۔۔ اسکے دل کی حالت غیر ہونے لگی تھی۔۔۔ اللہ تعالی دعائیں یوں بھی قبول کر لیتا ہے۔۔۔۔ دل میں ادھم مچا تھا۔۔۔ اندر کے شور سے گھبرا کر اسنے شاپر سے جوڑا باہر نکالا ۔۔۔
ڈیپ ریڈ کلر کا دیدہ زیب فراک اور ہم رنگ ہی نفیس سی جیولری اور چوریاں تھیں۔۔۔
سب چیزوں کو دیکھتے نور کا دل زور سے ڈھرکا ۔۔ اس شخص کے نام پر ہی دل کی حالت غیر ہونے لگی تھی کجا کہ اسکے لئے تیار ہونا۔۔۔
اتنے دنوں سے اسے دیکھا تک نا تھا اسنے۔۔۔ اس روز کے بعد سے نا تو ڈی کے سر نے اس سے کوئی رابطہ کیا تھا اور نا ہی دریاب سے اسکا سامنا ہوا تھا کام کے لوڈ کے باعث وہ رات میں لیٹ گھر آتا اور صبح جلد ہی گھر سے چلا جاتا۔۔۔ اب اتنے دنوں کے بعد اس ستم گر کے سامنے کے نام سے ہی اسکی ہتھیلیاں بھیگنے لگی تھیں۔۔
******
بی اماں میں نے کہا نا کہ میں نے کچھ نہیں کھانا پھر آپ کیوں بار بار آ رہی ہیں پلیز چلی جائیں اور مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں۔۔۔۔ دروازہ چڑڑڑر کی آواز سے کھلا تو بیڈ پر آنکھوں پر بازو رکھ کر لیٹے حدید کی بیزار سی آواز گھونجی۔۔۔
اسے دیکھ کر زرش کا دل گویا کسی نے مٹھی میں لے کر مسلہ تھا۔۔۔ بڑھی شیو پزمردہ آواز بازو اور سر پر کی گئ پٹیاں ۔۔۔ وہ نڈھال سا لیٹا تھا۔۔۔ زرش کی آنکھوں میں نمکین پانی جمع ہونے لگا۔۔۔ ہاتھ میں سوپ کا باول تھامے وہ قدم قدم اسکی جانب بڑھی۔۔۔ اسکے گھر داخل ہوتے ہی اماں بی نے شکر کا کلمہ ادا کرتے بتایا تھا کہ حدید نے صبح سے کچھ نہیں کھایا اور نا ہی وہ دوائی لے رہا تھا۔۔۔
اماں بی آپ۔۔ قدموں کی چاپ قریب سے قریب تر ہوتی محسوس کر کے اسنے جھنجھلاتے ہوئے آنکھوں سے بازو ہٹا کر اسکی جانب دیکھا لیکن سامنے اماں بی کی جگہ سوگوار سی زرش کو دیکھ کر وہ جہاں کا تہاں رہ گیا۔۔ حیرت سے کھلی آنکھوں نے جھپکنے سے انکار کر دیا۔
آنکھوں کی سرخی اور آنکھوں کے گرد سیاہ ہلقے زرش کا دل چیر گئے۔۔۔
یہ کیا حالت بنا لی یے آپ نے حدید۔۔۔ وہ سوپ کا باول سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اسکے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں تھامتی سسک اٹھی تھی۔۔۔ کبھی اسکے بالوں کو پیچھے کرتی کبھی سر کی چوٹ کو سہلاتی بلآخر وہ اسکے سینے میں چہرا چھپائے شدت سے رو دی۔۔۔
حدید تو ابھی تک شاک کی کیفیت میں مبتلا تھا۔۔۔ کہاں وہ اس سے اتنا ناراض تھی کہ بات تک کرنے کی روادار نا تھی ہر حربہ ہر ٹرک تو وہ آزما چکا تھا۔۔۔ آخر میں اتنا بددل ہوا تھا کہ ہر چیز سے دل ہی اچاٹ ہو گیا تھا۔۔۔
زری۔۔ میری جان یہ تو بہت آسان طریقہ تھا تمہاری توجہ حاصل کرنے کا۔۔۔ مجھے پتہ ہوتا کہ تم یوں واپس آو گی تو خدا کی قسم کب کا یہ ایکسیڈینٹ کروا چکا ہوتا۔۔۔ اسکے بالوں کو سہلاتا وہ نم آواز میں گویا ہوا تو زرش جھٹکے سے سیدھی ہوئی۔۔۔
جب بولیے گا فضول ہی بولیے گا کوئی اچھی بات تو بول ہی نہیں سکتے آپ ۔۔چٹخ ہی تو اٹھی تھی وہ حدید کی فضول گوئی پر۔۔ اود یہ کھانا آپ کس خوشی میں نہیں کھا رہے۔۔ فوراً اٹھیں اور کھانا کھائے۔۔۔ دھونس سے بولتے اسنے زبردستی حدید کو اٹھانا چاہا۔۔۔ وہ بھی اسکے اس انداز سے محظوظ ہوتا لب بھینچتا زرا سا سیدھا ہوا تو زرش نے بعجلت آگے کو جھکتے اسکے پیچھے سرہانوں کی ٹیک بنائی اور سوپ کا باول اٹھاتے خاموشی سے اسے سوپ پلانے لگی۔۔
وہ بھی بنا پس و پشت کے اسے نظروں کے حصار میں لئے سوپ پیے گیا۔۔۔۔
زری ایم سوری۔۔۔ وہ سوپ پلا چکی تو حدید نے اسکا ہاتھ تھامتے ہزار دفعہ پہلے کی کہی بات پھر سے دہرائی۔۔۔
اس بات کو رہنے دیں حدید۔۔۔ میں جب جب اس بات کو سوچتی ہوں ہر دفعہ میرے دل میں ایک نئ پھانس چبھتی ہے کہ میرے شوہر کو مجھ پر اعتبار نہیں۔۔۔۔ چہرا جھکا کر کہتی باوجود ضبط کے اسکی آواز بھرا گئ تھی۔۔
نہیں زرش ایسی کوئی بات نہیں ہے مجھے تم پر اعتماد ہے۔۔۔ اس روز میری اٹینشن وہ نہیں تھی۔۔۔ بس جو ہوا وہ غصے کی زیادتی میں ہوتا چلا گیا۔۔۔ اور اس واقعہ میں کچھ نا کچھ غلطی تمہاری بھی تھی۔۔۔ تمہارے اعتراف نے مجھے پاگل کر دیا تھا۔۔۔ جو بات میں سوچنا تک نہیں چاہتا تھا تم بری آسانی سے اسکا اعتراف کر رہی تھی۔۔۔ یہ چیز مجھے سب بھلا گئ ۔۔۔ میں ابھی تک پچھتا رہا ہوں اپنے اس عمل پر زری اب تو دل پر بھی بوجھ بڑھنے لگا ہے زری۔۔۔ اسکے دونوں ہاتھ تھامے وہ سر جھکائے کرب سے بول رہاتھا۔۔۔
زری کا دل پسیجا مگر وہ اتنی جلدی سب بھلانے کے حق میں نا تھی۔۔
چلیں اس روز کی بات جانے دیں اس سے پہلے بھی آپ مجھ پر بارہا بے اعتمادی ظاہر کر چکے ہیں۔۔۔ زری کی بات پر حدید نے تعجب سے سر اٹھاتے اسکی جانب دیکھا۔۔۔
کس کے متعلق بات کر رہی ہو تم۔۔۔ وہ الجھا۔۔۔
اعتبار نہیں تھا اسی لئے آپ نے میرے سوشل اکاونٹس بند کروائے میری پچھلی سم توری۔۔۔ جب حساب ہو رہا تھا تو سب بے باک ہوتا نا وہ کیوں کوئی کسک دل میں رکھتی۔۔۔ آواز بھرا گئ تھی۔۔۔ آنسو بہہ نکلے تھے۔۔ حدید نے تڑپ کر اسکے آنسو انگلیوں کی پوروں پر چنے۔۔۔
ایسا نہیں ہے زری جیسا تم سوچ رہی ہو۔۔۔ وہ میں نے اس لئے نہیں کہا تھا کہ مجھے تم پر اعتبار نہیں یا میں تم پر شک کر رہا تھا۔۔ بلکہ اس لئے کہا تھا کہ تم ضرورت سے زیادہ ہی معصوم ہو اور دنیا بہت ظالم ہے میری جان۔۔۔ اس لئے نہیں چاہتا تھا کہ کوئی تمہاری معصومیت کا فائدہ اٹھائے۔۔۔ میں نے تمیں پارسل آرڈر کرنے سے نہیں روکا تھا میں نے تو وہاں اپنا نمبر لکھوانے سے منع کیا تھا۔۔۔ تم میرا نمبر لکھوا کر کچھ بھی آرڈر کر سکتی ہو۔۔۔
اسی طرح میں نے تمہیں اپنے نام اور نمبر سے سوشل اکاونٹس بنانے سے منع کیا تھا۔۔۔
تم میرے نام اور نمبر سے لاگ ان کر سکتی ہو۔۔۔ یہ میری طرف سے اختیاطی تدابیریں ہیں میری بیوی کے لئے اسے دنیا کی سردو گرم سے بچانے کے لئے۔۔۔
ہاں میں نہیں چاہتا کہ کسی کی غلیظ نظریں تمہارے اوپر پڑیں۔۔۔ کوئی غلط نگاہ سے تمہیں دیکھے اسی لئے تمہیں عبایہ پہننے کا بولا تھا۔۔۔
وہ آہستہ آہستہ اسکے کانوں میں رس گھول رہا تِھا اور وہ ساکت سی اسے سن رہی تھی۔۔۔ کتنا گہرا تھا وہ شخص ۔۔۔ کتنی گہرائی میں جا کر سوچتا تھا جسکے بارے میں اسنے کِبھی سوچنے کی ضرورت ہی محسوس نا کی تھی۔۔۔
اپنی اسقدر پرواہ پر اسکا دل ہلکا پھلکا ہو گیا تھا۔۔۔
مرد ہر عورت کے بارے میں اتنا پوزیسو نہیں ہوتا زری۔۔۔ وہ صرف اس عورت کو دنیا کی نظر سے محفوظ کر کے خود تک محدود کرنا چاہتا ہے جو اس سے وابسطہ ہو پھر چاہیے وہ ماں ہو بہن ہو بیوی ہو یا بیٹی۔۔۔۔۔
تم میری بیوی ہو زری۔۔۔ میری آتی جاتی سانسوں کی وجہ۔۔۔ کب تم سے اتنی شدید محبت ہوئی کہ تم سانسوں میں بسنے لگی میں سمجھ ہی نا سکا۔۔۔
سمجھ تو تب آئی جب تمہارے جانے کے بعد ایک ایک پل خود پر بھاری لگا۔۔ تب جانا کے تم تو میرے لئے کس قدر ناگزیر ہو۔۔۔
آج تو وہ اسے کسی طور وہ پہلے والا حدید لگ ہی نہیں رہا تھا جو اظہار کے معاملے میں اتنا کنجوس تھا۔۔۔ جس کے ایک نظر التفات کے لئے وہ ترستی تھی۔۔۔ آج تو سامنے کوئی نیا حدید ہی تھا جو امرت کے رس اسکے کانوں میں گھولتا اسے مغرور بنا رہا تھا۔۔
کیا واقعی وہ اس کے لئے اتنی اہم تھی۔۔۔ دونوں کی آنکھوں میں ساون بھادوں کی جھری لگئ تھی۔۔۔
کیا تم مجھے معاف کر کے میرے ساتھ ایک نئ زندگی کی شروعات کرو گی زری جس میں میں ہو تم ہو اور ہمارا پیارا سا بے بی۔۔۔ آس سے پوچھتے حدید نے اپنی چوری ہتھیلی اسکے آگے پھیلائی۔۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی اسکا ہاتھ تھامنے کی بجائے اسکے سینے سے جا لگی۔۔۔ حدید نے بھی اسکے گرد مضبوط حصار قائم کیا۔۔۔
مطلب کہ اب ہماری صلح ہے۔۔۔ اسے کسی صورت چپ نا ہوتے دیکھ حدید نے شرارت سے کہا۔۔۔ یار ایک بیمار شخص کے اتنے قریب آ کر آخر کیا کرنے کا ارادہ ہے۔۔۔ اسے مسلسل آنسو بہاتے دیکھ وہ مسکراتے لب دانتوں تلے دابے گویا ہوا۔۔۔
اسکی بات سن کر زرش کو اپنی پوزیشن کا احساس ہوا تو جھٹکے سے اس سے الگ ہوئی۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔ وہ انجان بنا۔۔۔
زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں دودھ کا گلاس لا رہی ہوں جلدی سے دوائی کھائیں اپنی۔۔۔
اسکی پرشوق نگاہوں کی تاب نا لاتے وہ دھرکتے دل کیساتھ اسکا حصار تورٹی پیچھے ہٹی اور اپنی بوکھلاہٹ پر قابو پانے کی غرض سے اسے انگلی اٹھا کر وارن کرتی بعجلت کمرے سے بھاگی پیچھے دور تک حدید کے قہقے نے اسکا پیچھا کیا تھا۔۔۔
بھاگ لو جہاں تک بھاگ سکتی ہو زری۔۔۔ آخر واپس تو تمہیں میرے پاس ہی آنا ہے۔۔۔ زرش نے بھاگتے ہوئے اسکی بات سنی تھی اور اسے اپنی منتشر ہوتی ڈھرکنوں کو سمبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔ لیکن آج ایک عہد وہ خود سے کر چکی تھی کیونکہ فطرت نہیں بدلتی اور وہ سمجھ چکی تھی کہ حدید لاکھ کوشیش کر لے لیکن انتہائی صورتوں میں وہ اپنے غصے پر قابو نہیں پا سکتا تھا وہاں اسے بھی ٹمپر لوز کرنے کی بجائے معاملہ فہمی سے کام لینے کی ضرورت تھی۔۔۔
وہ سمجھ چکی تھی کہ پرفیکٹ کوئی انسان نہیں ہوتا اور اپنے پارٹنر کو اسکی خامیوں سمیت قبول کر کے اسکی خوبیوں کو مرکز نگاہ رکھ کر معاملہ فہمی سے برے وقت کو کاٹنا ہی اصل زندگی گزارنے کا ہنر ہے۔۔ کیونکہ زندگی پھولوں کی سیج نہیں ہو سکتی اس میں اچھے برے سبھی دن شامل ہوتے ہیں ایک دن اچھا تو ایک دن برا لیکن اسے اب برے دنوں میں بھی عقل و فہم اور معاملہ فہمی سے کام لیتے زندگی خوشگوار بناتے اپنے اس گھر کو جنت بنانا تھا۔۔۔
دودھ کا گلاس تھامے واپس کمرے کی طرف جاتے وہ ایک فیصلہ لے کر خاصی پرسکون تھی
******
دریاب کی گزشتہ روٹین کے پیش نظر زہرا بیگم نے اسے فون کر کے جلدی گھر آنے کو بولا تھا۔۔۔ اور اب نور کنفیوز سی زہرا بیگم کے کمرے میں صوفے پر بیٹھی مسلسل اپنے ہونٹ چبا رہی تھی۔۔ زہرا بیگم بیڈ کراوں سے ٹیک لگائے مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر نہال ہو رہی تھیں۔۔ جو اس وقت انہیں کے منتخب کئے لباس میں کوئی مومی گڑیا ہی لگ رہی تھی۔۔۔
بلڈ ریڈ کلر کی فراک میں ہم رنگ چوڑیاں پہنیے نفیس سا لاکٹ سیٹ پہن رکھا تھا۔۔۔ ہلکے سے میک آپ میں وہ پہت پیاری لگ رہی تھی اور یہ ہی وجہ تھی اسکی شدید بوکھلاہٹ کی کہ وہ زندگی مین پہلی مرتبہ یوں اتنا تیار ہو کر دریاب کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔
اسلام علیکم امی۔۔۔ آپ نے۔۔۔ ایک جھٹکے سے دروازہ وا کرتا دریاب ماں کو سلام کرتا اندر داخل ہوا لیکن نظر صوفے پر بیٹھی اس دشمن جاناں پر پڑتے ہی آواز گویا کنگ ہو گئ تھی۔۔۔ نور نے ایک بے خود نگاہ سے اسکی جانب دیکھا لیکن اسکی نگاہوں کے والہانہ پن سے سرعت سے نگاہ جھکا گئ لیکن اس سرسری نگاہ میں بھی وہ اسکا مکمل جائزہ لے چکی تھی۔۔۔
وہ بلیک پینٹ کوٹ میں ملبوس تھا جسکا کوٹ اتار کر بازو پر ڈالا ہوا تھا۔۔۔ ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کی گئ تھی شرٹ کے بازو کہنیوں تک فولڈ تھے۔۔۔ بکھرے بال۔۔۔ وہ شاید آفس سے سیدھا ماں کے کمرے میں ہی ایا تھا۔۔۔
ارے دریاب بیٹا آو آو۔۔ بڑا انتظار کروایا تم نے۔۔۔ زہرا بیگم مسکرا کر کہتی سیدھی ہو کر بیٹھیں۔۔
جی امی خیریت۔۔۔ کمرے کے ماحول سے اسے کسی غیر معمولی پن کا احساس ہو رہا تھا اسی لئے سمبھل کر گویا ہوا۔۔۔
ہاں نا خیریت ہی خیریت ہے۔۔۔ یہ سمبھالو اپنی سوغات کو۔۔۔ میں اب بالکل ٹھیک ہوں لحاظہ میرا کمرا خالی کرو۔۔۔ وہ مسکرا کر نور کی جانب اشارہ کر کے اسے چھیرتی ہوئی گویا ہوئیں لیکن دریاب کو وہ حقیقتاً حیران کر گئیں۔۔۔
مطلب۔۔۔ وہ الجھا۔۔۔۔ مطلب یہ کہ تم دونوں کی باقاعدہ رخصتی تو ہو چکی ہے۔۔۔ وہ سنجیدگی سے کہتی اٹھ کر نور تک آئیں اور اسکا ہاتھ تھام کر اسے کھڑا کیا۔۔
اب میں اپنی دلی آمادگی سے اپنی بیٹی کو تمہارے سنگ رخصت کر رہی ہوں۔۔ انہوں نے اپنے ہاتھ میں تھاما نور کا ہاتھ دریاب کے ہاتھ میں تھمایا۔۔۔
ایک خوبصورت مسکراہٹ نے دریاب کے چہرے کا احاطہ کیا جبکہ نور کو پلکوں کی چلمن اٹھانا محال لگا۔۔۔
سریسلی امی۔۔ سوچ لیں ۔۔۔ دریاب نے ماں کو چھیڑا۔۔۔ خوشی اسکے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔۔۔ اسکے ہاتھ میں نور کا ہاتھ نہیں تھا اسکی زندگی تھی۔۔۔ اسکی خوشی تھی۔۔۔ اسکی محبت تھی اسکے جینے کی وجہ۔۔۔جسے اسنے دیوانوں کی طرح چاہا تھا اور جسے اللہ نے کس افضل طریقے سے اسکی قسمت میں لکھ دیا تھا کہ وہ خود دھنگ رہ گیا تھا۔۔۔۔
بالکل سوچ لیا بیٹا۔۔۔ مگر تم اب خیال رکھنا اگر میری بیٹی کو تم سے زرا بھی شکایت ہوئی نا تو میں بنا لحاظ کئے تمہارے کان کھینچوں گی۔۔۔ زہرا بیگم کے وارن کرنے پر بےساختہ اسکا قہقہ گھونجا۔۔۔
اچھا تو اب میری ماں نے پارٹی بھی بدل لی۔۔۔ ہسی مذاق کے دوران وہ نور کا ہاتھ تھامے اپنے کمرے میں لایا۔۔
کمرے میں آ کر وہ الماری کی جانب بڑھا اور اپنا آرام دہ سوٹ نکال کر واش روم میں فریش ہونے گھسا۔۔ نور وہیں صوفے پر بیٹھتی کمرے کاجائزہ لینے لگی۔۔۔ شادی کے بعد کی پہلی پوری رات اسنے اسی صوفے پر بیٹھ کر دریاب کے انتظار میں گزاری تھی۔۔۔
واش روم کا دروازہ کھلنے کی آواز پر نور اس جانب متوجہ ہوئی جہاں دریاب وائٹ کرتا شکوار میں اپنے بالوں میں ہاتھ چلاتا باہر نکلا اور پھر سے الماری کی جانب بڑھا۔۔۔
ہماری یہ دوبارہ رخصتی اتنی ہنگامی صورت میں ہوئی ہے کہ میں تمہارے لئے کوئی گفٹ بھی نہیں خرید سکا لیکن تمہاری رونمائی کا تحفہ ادھار رہا۔۔۔ پر آج کی رات کے حوالے سے میرے پاس تمہارے لئے کچھ اور ہے۔۔ وہ الماری سے دو فائلیں نکال کر نور کے پاس آ کر بیٹھا۔۔۔ وہ اتنے نارمل انداز میں اس سے بات کر رہا تھا کہ نور کی جھجھک اپنے آپ ختم ہونے لگی۔۔۔
یہ تمہارے لئے۔۔۔ اسنے نور کی جانب وہ دونوں فائلیں بڑھائی۔۔
یہ کیا ہے۔۔۔ فائل تھامتی وہ الجھی۔۔۔ ۔خود ہی دیکھ لو۔۔۔ پراسرار انداز تھا۔۔۔
نور نے الجھتے ہوئے فائلیں کھولی لیکن فائل پڑھتے ہی اسکے چہرے کا رنگ اڑَا۔۔۔۔ اسنے بےیقین نگاہوں سے دریاب کو دیکھا۔۔۔۔۔
یہ ۔۔۔ یہ کیا ہے۔۔۔ وہ تھوک نگلتے مستفسر ہوئی۔۔۔ تمہاری پڑاپڑٹی کے پیپرز ہیں۔۔۔ اب تمہاری سبھی پڑاپڑتی آزاد ہے تمہارے تایا اور اسکے بیٹے کو سزا ہو گئ ہے۔۔۔ اب تم ہر طرح کے خوف سے آزاد ہو۔۔ وہ صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے خاصی آرام دہ حالت میں بیٹھا بول رہا تھا لیکن وہ اپنے الفاظ سے لمحہ با لمحہ اسے بے آرام کر رہا تھا۔۔
اسکی پڑاپڑتی ۔۔۔ اسکے تایا ۔۔۔ وہ سب کیسے جانتا تھا۔۔۔ نور کے ہاتھ میں تھامی فائل کپکپائی۔۔۔
آ۔۔۔آپ یہ سب کیسے جانتے ہیں۔۔۔ خشک پڑتے لبوں کو زبان سے تر کرتے وہ گھٹی گھٹی آواز میں گویا ہوئی۔۔۔
مجھے ڈی کے نے بتایا۔۔ وہ مکمل طور پر اسے نگاہوں کے فوکس میں رکھے اسکا ایک ایک انداز نوٹ کر رہا تھا۔۔۔ ڈی کے کے نام پر نور کا رنگ اڑا۔۔۔ آپ ڈی کے سر کو جانتے ہیں۔۔۔ سامنے والے کا اطمیئنان اسے کھل رہا تھا۔۔۔۔
ڈی کے سر کو۔۔۔ ہممم۔۔ وہ سر ہلاتا زرا نور کے زرا قریب جھکا۔۔۔ نور ڈئیر اگر تم نے زرا ڈی کے سر کی پروفائل کو غور سے پڑھا ہوتا تو شاید تمہیں پتہ چل جاتا کہ ڈی کے دراصل دریاب کمال ہی ہے۔۔۔ اسکے چہرے کے پاس چہرا کئے اسنے ہاتھ بڑھا کر اسکے چہرے پر جھولتی لٹ کو پیچھے کرتے مبہم سا کہا۔۔۔
اور نور اگر اسے چار چو چالیس والٹ کا کرنٹ لگ جاتا تو اسکا جھٹکا اتنا بڑا نا ہوتا جتنا اس انکشاف سے لگا تھا۔۔۔ سرعت سے اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کرتی وہ کھڑی ہوئی۔۔ ہاتھ میں تھامی فائل زمین بوس ہوئی تھی۔۔۔ فضامیں موجود ہر چیز ساکت رہ گئ تھی۔۔۔ حیرت سے بھرپور آنکھیں پھٹنے کے قریب تھی۔۔۔ دماغ میں دھماکےسے ہونے لگے تھے۔۔۔ سب گڈ مڈ ہو رہا تھا۔۔ اسنے کپکپاتے ہاتھوں سے میز پر پڑا اپنا موبائل تھاما اور ڈی کے سر کی پروفائل کھولی۔۔ وہ سکون سے بیٹھا اسکی ایک ایک کاروائی ملاخظہ کر رہا تھا۔۔۔
ڈی کے سر کی اگلی ہی لائن میں اسکا مکمل نام دریاب کمال اسکا ڈیزگنیشن اور کمپنی کا نام درج تھا۔۔
ہالہ ول یو میری می۔۔۔۔
نور کیا ہوا کوئی پریشانی ہے کیا۔۔۔
ہالہ تمہارے شوہر کو تم میں رتی برابر دلچسپی نہیں وہ اپنی کولیگ میں انٹرسٹڈ ہے۔۔۔
سر میں دریاب کے بنا نہیں رہ سکتی میری زندگی انہیں سے شروع ہو کر انہیں پر ختم ہوتی ہے۔۔۔
کپکپاتے ہاتھوں سے موبائل پر گرفت مضبوط ہوئی تھی۔۔۔ آنکھوں سے پے در پے موتی ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہے تھے۔۔ اپنے بے وقوف بنائے جانے پر غصہ حد سے سوا تھا۔۔۔
نور تم۔۔۔۔ اسکی حالت کے پیش نظر وہ بعجلت اٹھ کر اسکی جانب بڑھا۔۔۔
How dare you…
. اس سے پہلے کے وہ ایک بھی قدم اسکی جانب بڑھاتا۔۔۔ نور نے غصے سے میز پر پڑا پانی کا جگ اٹھا کر جھٹکے سے سارا پانی دریاب پر پھینکا تھا۔۔۔
Ohhh myyyyy God… What is this nonsense Hala…
اتنی سردی میں یخ ٹھنڈے پانی سے اسکا استقبال۔۔۔ وہ دونوں بازو فضا میں بلند کئے شاک سا حیرت سے کھلے منہ کے ساتھ اپنی بیوی کا یہ شعلہ جوالہ روپ دیکھ رہا تھا جو اب ہاتھ میں جگ تھامے بھرپور غصے سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
اتنی سردی میں شوہر کا استقبال کرنے کا یہ کونسا طریقہ ہے ہالہ۔۔۔ حیرت سے استفسار کیا گیا۔۔۔
دھوکے باز شوہر کا استقبال ایسے ہی کیا جاتا ہے۔۔۔ مسٹر دریاب کمال الف ڈی کے۔۔۔ آپکو شرم نا آئی میرے ساتھ ایسا گھٹیا مذاق کرتے ہوئے۔۔۔ وہ جگ والا میز پر پٹختی غرائی۔۔۔
دریاب نے بمشکل اپنی ہسی ضبط کی۔۔۔ یقیناً اگلی بات پر وہ اسکا سر پھاڑ دینے والی تھی۔۔۔۔۔
میں نے تو کچھ نہیں چھپایا تھا ہالہ میری پروفائل تو تمہارے سامنے تھی تم نے خود غور نہیں کیا تو پھر میں کیوں خود سے بتاتا اور ویسے بھی دریاب کے سامنے تو منہ یوں بند رکھتی تھی جیسے ایک ایک لفظ تول کر بولو گی کم از کم ڈی کے کے سامنے اتنا کھل کر اظہار محبت تو کرتی تھی پھر۔۔۔
دریاببببب۔۔۔۔ دریاب کے شرارتاً کہنے پر اسکا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا۔۔۔ پھر دانت پیستی غصے سے اسکی جانب بڑھی۔۔
آپکو شرم نہیں آتی فضول بولتے ہوئے۔۔۔ وہ سب میں بکواس کر رہی تھی ایسا کچھ نہیں ہے۔۔ آپکو خوامخواہ کسی خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔ دریاب کی پرشوق نگاہوں کو دیکھتی وہ وہیں رکتی دھرکتے دل کیساتھ رخ موڑ گئ۔۔۔ آنکھیں زور سے میچتے اسنے اپنا سر مسلہ ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا وہ۔۔۔ وہ ناجانے ڈی کے سر کے سامنے کیا کیا بکواس کرتی رہی تھی۔۔۔ اب اسے دریاب سے نگاہیں ملانا دنیا کا سب سے مشکل ترین کام لگا۔۔۔
تبھی غصے سے جھنجھلاتے دروازے کی جانب بڑھتے اسنے ہینڈل پر ہاتھ رکھا تبھی دریاب چونک کر ہوش میں آتا بعجلت اسکی جانب بڑھا۔۔۔
کدھر محترمہ بات تو سنو۔۔۔ اسنے ایک جھٹکے میں اسکا ہاتھ ہینڈل سے اٹھاتے اسکا رخ اپنی جانب کیا۔۔۔
میں جا رہی ہوں۔۔۔ مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ آپ بہت بہت برے ہیں۔۔۔ سر جھکائے آنسو بہاتی وہ سوں سوں کرتی گویا ہوئی۔۔۔ شرمندگی حد سے سوا تھی۔۔۔ نظریں اٹھ کر نا دے رہی تھیں۔۔۔
ارے ایسے کیسے یار پہلے پوری بات تو سن لو۔۔۔ دریاب اسے لئے صوفے تک آیا۔۔۔
آپ نے مجھے چیٹ کیا ۔۔ اتنا تنگ کیا۔۔۔ ڈی کے بن کر تنگ کرتے اور دریاب بن کر پریشانی پوچھتے۔۔۔ وہ سر جھکائے مسلسل رو رہی تھی جسم جھٹکے کھانے لگا تھا۔۔۔ دل چاہا کہ زمین پھٹے اور اس میں سما جائے۔۔۔ مطلب دریاب نے اسے اس حالت میں دیکھا تھا جس میں وہ کبھی دریاب کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ سر پر گویا ہتھورے پ
برس رہے تھے۔۔۔ سر پھوڑے کی مانند دکھنے لگا تھا۔۔۔
یار بیوی ہو میری تمہیں تنگ کرنے کا پرمٹ رکھتا ہوں۔۔۔ اسکے شرارتاً کہنے پر نور نے سرخ جلتی شکایتی نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
اچھا سوری سوری۔۔۔ ان نین کٹوروں کے شکوے دیکھتا وہ لمحوں میں ہاتھ اٹھاتا سیز فائر کر گیا۔۔۔
میری شروع سے لے آخر تک ساری بات سن لو ایک دفعہ پھر تم جو کہو گئ جیسے کہو گی ہم ویسے کر لیں گے۔۔۔ دریاب خود زمیں پر بیٹھ کر اسکی گود میں اپنا سر رکھ گیا۔۔۔ دریاب کی اس حرکت پر نور کپکپا کر رہ گئ۔۔۔
میرا تم سے نکاح اتفاقاً ہوا تھا بابا کے کہنے پر۔۔۔ پر ہالہ سے میں نے محبت کی تھی۔۔ بے حد و حساب۔۔۔ دل کی گہرائیوں سے بنا اسکی ایک بھی جھلک دیکھے۔۔۔ میں ہالہ کے کام کرنے کے طریقے سے بات کرنے کے مہذبانہ اندازو اطوار اور اسکے کردار سے متاثر ہوا تھا۔۔۔ میں نہیں جانتا تھا کہ نور اور ہالہ ایک ہیں۔۔۔ وہ نور کی گود میں سر رکھے اسکے ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامے بول رہا تھا لیکن نور کو لگا وہ پتھر کی ہو جائے گی۔۔۔ یہ وہ شخص کیا کہہ رہا تھا۔۔۔ آج شاید انکشاف کا دن تھا تبھی اسے جھٹکوں پر جھٹکے مل رہے تھے۔۔۔ میں نے ہالہ کو پانے کی دعائیں کی۔۔۔ اسے ہر ہر نماز کے بعد اپنے رب سے مانگا۔۔۔ لیکن اب یہاں میں ڈبل مائنڈڈ ہو رہا تھا۔۔ میرا ضمیر مجھے کچوکے لگا رہا تھا کہ میں نور کیساتھ زیادتی کا مرتکب ہو رہا ہوں۔۔ وہ ایک لڑکی جو میرے ساتھ منسوب ہو چکی ہے مجھے کسی صورت اسکی حق تلفی نہیں کرنی۔۔۔
اور پھر یقین کرو میری زندگی میں ایک مقام ایسا بھی آیا جب امی نے خود مجھ سے میری شادی ہالہ سے کروانے کا کہا۔۔۔ وہ رات محاسبے کی رات تھی لیکن اس رات دل پر پتھر رکھ کر ہی سہی لیکن میں نے ایک فیصلہ کر ہی لیا کہ اپنی خواہش کے لئے میں اب ایک پھولوں سی لڑکی کو مزید دکھ نہیں دوں گا۔۔۔ وہ لڑکی جسکا اس دنیا میں واحد محرم رشتہ صرف میں ہی ہوں میں اسے دنیا کی ہر خوشی دینے کی کوشیش کروں گا۔۔ میں تو نور پر صابرو شاکر ہو چکا تھا ہالہ تو مجھے میرے اللہ نے انعام کے طور پر دے دی۔۔۔ اسنے نور کا تھاما ہاتھ لبوں سے لگایا۔۔۔
نور ساکت سی بیٹھی اسے سن رہی تھی آنسو تھے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔۔
پھر اس روز میں گھر جلدی آ گیا جب کچن میں پانی پینے گیا تو تمہارا لیپ ٹاپ کھلا ملا جب وہاں پر ایک سرسری نظر پڑی تو گویا میری آنکھوں کے سامنے زمین و آسمان گھوم گئے۔۔۔ تو گویا میں نے جس کے حصول کے لئے اتنی دعائیں مانگی وہ تو اللہ نے ناجانے کب سے میری قسمت میں لکھ دی تھی۔۔۔ لیکن مجھے غصہ تھا مجھے لگا تم سب جانتی تھی صرف میں ہی اندھیرے میں تھا۔۔۔ اسی غرض سے میں نے تمہیں چیک کرنے کو تمہیں پرپوز کیا۔۔۔ لیکن تمہارا ری ایکشن دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ تم بھی مجھ سے اتنی ہی انجان تھی جتنا کہ میں تم سے۔۔۔ لیکن تمہارا اپنے شوہر سے اظہار محبت کرنا مجھے عجیب سکون مہیا کرتا تھا ۔۔ میرے سامنے تم نہیں کھلتی تھی لیکن ڈی کے سے تم سب شیئر کر جاتی اس لیے میں چاہ کر بھی کبھی تمہیں نہیں بتا پایا۔۔۔
تمہیں پتہ ہے ہالہ باکردار وفاشعار اور نیک بیویاں قسمت والوں کو ملتی ہیں اور میں خوش قسمت ہوں کہ اللہ نے میری قسمت میں ایسی بیوی لکھی۔۔۔
پلیز اب مزید رونا مت میں تمہیں بتا نہیں سکتا کہ تمہارے آنسو مجھے کتنی اذیت دیتے ہیں۔۔۔ دریاب اسکی گود سے سر اٹھا کر صوفے پر اسکے قریب بیٹھا اور محبت سے اسکا چہرا ہاتھوں میں تھام کر اسکے آنسو صاف کرتے پہلی مہر محبت اسکے ماتھے پر ثبت کی۔۔۔
در ۔۔ دریاب۔۔ اس روز بلدنگ میں۔۔۔ وہ سسکتے ہوئے اسکے سینے میں چہرا چھپا گئ۔۔۔ اسکی سوئی ابھی تک وہیں اٹکی تھی۔۔
شش۔۔۔ بس ہالہ۔۔۔ بھول جاو اس واقعہ کو۔۔۔ تمہارے مجرم اس وقت جیل میں ہیں اور میں مزید اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا۔ اور تمہیں یقین دلاتا ہوں میرے حوالے سے تم جس قسم کے بھی تحفظات میں مبتلا ہو رفتہ رفتہ ان سب کو دور کر دوں گا۔۔۔ وہ بہت نرم اور محبت سے اسے اس فیز سے باہر نکال رہا تھا۔ نور نے نم آنکھیں اٹھا کر اسکے خوبرو چہرے کو دیکھا۔۔ وہ اسے بتا نا سکی کہ اسنے اپنے رب سے شدت سے دعا کی تھی کہ اس شخص کے دل میں اسکی محبت ڈال دے سب سے زیادہ۔۔۔ اور اسکے رب نے کس انداز میں اسکی دعا قبول کی تھی۔۔۔
کیا ہوا کیا ایمان خراب کرنے کا ارادہ ہے۔۔۔ اسے یوں خود کو یک ٹک دیکھتا پا کر دریاب نے اسکے کان کے قریب جھکتے سرگوشی تھی۔۔ وہ سٹپٹا کر سیدھی ہوئی۔۔
آپکے کپڑے نکال رہی ہوں چینج کر لیں ورنہ ٹھنڈ لگ جائے گی۔۔۔
وہ اسکے سینے پر ہاتھ کا دباو ڈال کر اسے تھوڑا پیچھے کرتی اٹھ کر الماری کی جانب بھاگی۔۔۔ پیچھے دریاب کا قہقہ ابل پڑا تھا۔۔۔ اتنا تمہیں میرا احساس نا۔۔۔ یہ ہے بھی تمہاری مرہوں منت ہی۔۔۔۔ وہ بھی کہاں پیچھے رہنے والا تھا اچھے سے اسکی بوکھلاہٹ سمجھ چکا تھا۔۔۔
ہاں تو آپکی حرکتیں ہی ایسی ہیں میرا کیا قصور وہ بھی اسکی شرارت سمجھ کر کھلکھلائی۔۔۔ یقیناً زندگی اس شاندار شخص کے ساتھ اچھی گزرنے والی تھی۔۔ غم کے بادل چھٹ چکے تھے آگے ایک اچھی خوشیوں بھری زندگی انکی منتظر تھی۔۔۔ اور بلاشبہ یہ نور ہالہ اور دریاب کی شکر گزاری کا تحفہ تھا
******
ختم شدھ
