Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hala (Episode 43)

Hala By Umme Hania

زر۔۔۔ زری گاڑی چلاو۔ گاڑی چلاو زری ہمیں جلد از جلد ہسپتال پہنچنا ہے۔۔۔ نور نے کپکپاتے ہاتھوں سے زہرا بیگم کو دوبارہ سمبھالا اور اور وحشت زدہ لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔ زرش جو ڈرائیونگ سیٹ سے رخ زہرا بیگم کی جانب پلٹائے انکا بے جان ہوتا ہاتھ تھامے ہچکیوں سے رو رہی تھی نور کی بات پر ٹس سے مس نا ہوئی۔۔ اسکی اپنی حالت اس وقت قابل رحم تھی۔۔۔ دیکھو زرش ہم اس سسناں جگہ پر مزید رکنے کا رسک نہیں لے سکتے اور ہسپتال پہنچنے میں بھی تاخیر کا شکار نہیں ہو سکتے۔۔۔ ابھی آنٹی کی سانس چل رہی ہے یہ ابھی بے ہوش ہیں ہمیں جلد از جلد ہسپتال پہنچنا ہے چلو شاباش جلدی کرو۔۔۔ نور نے اپنی حالت پر قابو پاتے زرش کے آنسوں میں تر چہرے کو ہاتھوں میں تھامے اسے پیار سے پچکارتے اسکی ہمت بندھائی۔۔۔ اسکی حالت اس وقت قابل رحم تھی نور کو اس پر جی بھر کر ترس آیا۔۔۔ جج۔۔ جی وہ بچوں کی طرح آستینوں سے آنسو رگڑتی سیدھی ہو کر بیٹھی اور اگنیشن میں چابی گھما کر گاڑی سٹارٹ کرنے لگی۔۔۔ سفر ایک مرتبہ پھر سے شروع ہوا تھا۔۔۔ نور کے لبوں پر محض الہی خیر کا ورد تھا۔۔۔ اللہ اللہ کر کے ہسپتال کی عمارت نظر آئی تھی۔۔۔ یہ انکے گھر سے قریب ترین ایک پڑائیویٹ ہسپتال تھا۔۔ زرش تم یہیں رکو میں اسٹریچر کا انتظام کر کے آتی ہوں اور ساتھ کسی کو لے کر آتی ہوں آنٹی کو اندر لیجانے کے لئے۔۔۔ کار ہسپتال کی پارکنگ میں روکتے ہی نور چیل کی سی تیزی سے باہر نکلی اگلے دو منٹوں میں وہ ایک وارڈ بوائے اور سٹریچر کیساتھ واپس وہاں پر تھی۔۔ سسٹر پلیز ڈاکٹر کو بلوائیے ایمرجنسی کیس ہے۔۔ اس وارڈ بوائے کی مدد سے زہرا بیگم کو اندر لانے کے بعد نور بھاگ کر ریسیپشن پر کھڑی سسٹر کے پاس گئ۔۔۔ ہسپتال کے ساتھ ہی ڈاکٹر کی رہائش تھی جہاں سے بوقت ضرورت ڈاکٹر کو بلوا لیا جاتا تھا۔۔۔

****”

بیٹا یہ کچھ ٹیسٹ اور الٹراساوئنڈ وغیرہ لکھی ہیں یہ فوری کروائیں پھر وہ دیکھ کر ہی آگے انکا ٹریٹمنٹ شروع کیا جاسکتا ہے۔۔۔ فلحال یہ کچھ ابتدائی ٹریٹمنٹ لکھ کر دے رہا ہوں یہ فوراً شروع کروائیں اور پیشنٹ کی حالت جب تک سٹیبل نہیں ہو جاتی انہیں کچھ بھی کھانے پینے کو نہیں دینا۔۔ ڈاکٹر زہرا بیگم کا تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد گویا ہوا زرش اور نور دم سادھے انہیں سن رہی تھی۔۔۔۔

میں سسٹر کا پتہ کر کے آتی ہوں کہ آ کر امی کا ٹریٹمنٹ شروع کریں۔۔ ڈاکٹر کے جانے کے بعد جب کافی دیر تک نرس کمرے میں نا آئی تو زرش نور سے کہتی کمرے سے باہر نکلی۔۔۔

سسٹر آپ امی کا ٹریٹمنٹ شروع کریں نا وہ ابھی تک ہوش میں نہیں آئیں کیا ڈاکٹر نے آپ سے انکا ٹریٹمنٹ شروع کرنے کا کہا نہیں۔۔۔

زرش ریسیپشن پر کھڑی لڑکی کے پاس جاتی گویا ہوئی۔۔۔ بہن میری ڈاکٹر نے تو ٹریٹمنٹ شروع کرنے کا کہہ دیا مگر آپ فیس جمع کروائیں گی تو ٹریٹمنٹ شروع ہو گا نا۔۔۔ وہ لڑکی مصروف سے انداز میں سنجیدگی سے گویا ہوئی۔۔۔

فی۔۔فیس۔۔۔ لیکن پپ۔۔ پیسے تو ہمارے پاس ہے نہیں۔۔ کھوئے سے انداز میں کہتے اسکی زبان لڑکھڑا گئ۔۔۔ اس لڑکی نے زرش کو عجیب سے انداز میں دیکھا۔۔۔ آج اس پر دنیا کی بہت سی تلخیاں آشکار ہوئی تھی وہ اپنے آپ میں رہنے والی لڑکی تھی حالات نے آج اسے برہنہ پاوں چٹیلے میدان میں لا کھڑا کیا تھا اسکا بوکھلانا قدرتی تھا۔۔۔ وہ گم صم سی روہانسی صورت بنائے واپس کمرے میں آئی۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔ اسکی روہانسی صورت دیکھ نور ٹھٹھکی۔۔۔ زرش نے حرف با حرف سب اسکے گوش گزارا۔۔۔ اوہ خدایا مجھے وہاں خود جانا چاہیے تھا۔۔۔ نور بے ساختہ ماتھے پر ہاتھ مارتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ پر پپ۔۔۔پیسے۔۔۔۔

کچھ رقم ہے میرے پاس زری آنٹی کا ابتدائی ٹریٹمنٹ اور ٹیسٹ وغیرہ شروع کرواتے ہیں تب تک تم دریاب سے رابطہ کرنے کی کوشیش کرو ۔۔ ان سے رابطہ ہو گیا تو پھر تو کوئی مسلہ نا ہوگا۔۔۔ نور اسکا سر تھپتھپا کر باہر نکلی۔۔۔

____

زرش تو سارا وقت ماں کے پاس بیٹھی بوکھلائی سی بس سب کچھ ہوتا دیکھ رہی تھی جبکہ نور کی ہر جانب دوڑیں لگی ہوئیں تھیں۔۔۔ اسنے اپنے پاس موجود کل رقم کو گنا۔۔۔ اسکے پاس کل اکیس ہزار تھے۔۔۔ جس میں سے اسنے کچھ رقم جمع کروا کر زہرا بیگم کا علاج شروع کروایا جبکہ ساری دوائیاں اسنے ہسپتال کی فارمیسی سے ادھار ہی لی تھیں۔۔ ہسپتال پانچ فلور پر مشتمل تھا اور سبھی ٹیسٹ اور الٹراساوئنڈ الگ الگ فلور پر تھے ۔۔۔ وہ پھرکی کی طرح ایک فلور سے دوسرے فلور پر گھوم رہی تھی۔۔۔ وہ لیبارٹری سے ٹیسٹ کروانے کے لئے بلڈ سیمپل لینے والے کو اپنے ساتھ ہی وہاں لے آئی تھی لیکن اے سی جی اور الٹراساوئنڈ کے لئے انہیں زہرا بیگم کو بیسمنٹ میں لیجانا پڑا تھا۔۔

اللہ اللہ کر کے یہ معارکہ سر ہوا تو ٹھیک دو گھنٹے بعد وہ سبھی رپورٹس لئے ڈاکٹر کے کمرے میں موجود تھیں۔۔۔ ڈاکٹر اپنے سامنے پڑے شیشے کی گول میز پر فائل رکھے باریک بینی سے سبھی رپورٹس کا مشاہدہ کر رہا تھا جبکہ وہ دونوں ڈاکٹر کے سامنے موجود دو کرسیوں پر براجمان ہونٹ چباتی ڈاکٹر کے بولنے کی منتظر تھیں۔۔ پاس ہی ہسپتال کی انچارج کھڑی تھی۔۔۔ بیٹا انکی فوراً اینڈوسکوپی کرنی ہوگی۔۔۔ معدے پر بہت سے سوراخ ہیں مزید دیر ہم افورڈ نہیں کر سکتے۔۔۔ ڈاکٹر فائل سے سر اٹھاتا سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔

جی ڈاکٹر صاحب آپ اینڈوسکوپی کی تیاری کریں ۔۔ نور بعجلت گویا ہوئی۔۔ ٹھیک ہے پھر سٹاف آپ تیاری کریں۔۔

آپ اینڈوسکوپی کی فیس جمع کروا دیں تاکہ ہم تیاری شروع کر سکیں۔۔۔

ڈاکٹر کے کمرے سے نکلتے ہی وہ لڑکی ان دونوں سے گویا ہوئی.

کتنی فیس ہے اسکی۔۔۔ نور کا دل ڈھرکا اسنے اپنے ہاتھ میں تھامے آخری ہزار کے نوٹ کو دیکھا۔۔۔

ڈیرھ لاکھ۔۔۔ آپ جتنی جلدی ریسپشن پر فیس جمع کروا دیں گی اتنی جلدی ہی اینڈوسکوپی شروع ہو جائیگی۔۔۔ وہ لڑکی انہیں بریف کر کے باہر نکل گئ جبکہ وہ دونوں فیس سن کر جہاں کی تہاں رہ گئ تھیں۔۔۔ پیسے انکے لئے مسلہ نا تھا دریاب آجاتا تو ڈیڑھ لاکھ کی بات ہی کوئی نا تھی ۔۔ لیکن ساری بات ہی دریاب کے آنے کی تھی۔۔

****

سسٹر کیا میں یہاں سے ایک فون کر سکتی ہوں۔۔۔ زرش ریسیپشن پر کھڑی لڑکی کے پاس آئی۔۔ دریاب کو فون کرنے کی غرض سے اسنے موبائل ڈھونڈنا چاہا تو اس پر انکشاف ہوا کہ ہربڑی میں وہ دونوں اپنا موبائل ساتھ لانا تو بھول ہی گئیں تھیں۔۔ نیز بارش کا زور بھی کچھ ٹوٹا تھا ۔۔ شاید اب ہی دریاب سے رابطہ استوار ہو جاتا۔۔

وائے ناٹ۔۔۔ لڑکی کے مسکرا کر فون سیٹ اسکے قریب کرنے پر زرش نے ڈھرکتے دل سے دریاب کا نمبر ملایا لیکن فون اب بھی ناٹ رسپونڈنگ کی ریکارڈنگ ہی سنا رہا تھا۔۔۔ اسنے اپنے آنسو اندر ہی اندر اتارتے حدید کا نمبر ملانا شروع کیا۔۔۔ تھا تو وہ شہر سے باہر مگر شاید وہ کچھ کر ہی پاتا۔۔۔ اور کچھ تو اسے سوجھ ہی نہیں رہا تھا۔۔۔

ہیلو حدید۔۔ دوسری طرف سے فون اٹھائے جاتے ہی وہ سسک اٹھی۔۔ زری۔۔۔ یہ تم ہو۔۔۔ یہ کہاں سے فون کر رہی ہو۔۔۔ ہو کہاں تم اس وقت۔۔۔ ہوا کیا ہے۔۔۔ نیند میں ڈوبی آواز۔۔۔ زرش کی غیر معمولی آواز سن کر وہ لمحہ بھر میں نیند کی وادیوں سے واپس آتا اٹھ کر بیٹھتا پریشانی سے سوال پر سوال کرتا گیا۔۔۔ رفتہ رفتہ وہ سسکتی ہوئی تمام حالات حدید کے گوش گزارتی گئ۔۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی حدید کیا کروں۔۔۔ امی کی اینڈوسکوپی۔۔۔

فکر مت کرو زری میری ڈاکٹر یا سٹاف میں سے کسی سے بات کرواو تا کہ وہ مجھے ڈاکٹر کا اکاونٹ نمبر بتائیں میں رقم انکے اکاونٹ میں ٹرانسفر کرواتا ہوں۔۔۔ دریاب سے بھی رابطہ کرنے کی کوشیش کرتا ہوں اس سے جیسے ہی رابطہ استوار ہوتا ہے اسے کہتا ہوں تم لوگوں کے پاس پہنچنے اور میں بھی یہاں سے نکل رہا ہوں انشااللہ تین چار گھنٹوں تک پہنچ جاوں گا۔۔۔ حدید نے رفتہ رفتہ گویا اسکی سبھی پریشانیاں دور کر دی تھیں۔۔۔ زرش نے سکھ کا سانس لیا۔۔۔ حل ہر مسلے کا ہوتا ہے لیکن شاید میں ہی بوکھلا کر رہ گئ ہوں۔۔۔ اسنے اپنے آنسو صاف کرتے سوچا۔۔۔ اور پھر جیسے سب لمحوں میں ہوا۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے زہرا بیگم کو اینڈو سکوپی کے لئے لیجایا گیا۔۔۔ نور لمحہ بہ لمحہ انکے ساتھ تھی۔۔۔ انکے سٹریچر کیساتھ چلتی انکا ہاتھ تھامے مسلسل انکی ہمت بندھا رہی تھی۔۔۔ اس وقت وہ ہوش میں تھیں۔۔ اند لیجا کر انہیں بیڈ پر بالکل سیدھا لیٹایا گیا اور ہاتھوں اور پاوں کو پلاسٹک کے مضبوط لاک کی مدد سے باندھ دیا گیا۔۔۔ نور نے تعجب سے انکی یہ کاروائی دیکھی اس وقت کمرے میں تین ڈاکٹر اور دو جونیر ڈاکٹرز موجود تھے۔۔۔ نور بس چپ چاپ زہرا بیگم کے پاس کھڑی مختلف آیات کا ورد کر کے ان پر پھونکتی ڈاکٹرز کی ایک ایک حرکت کا معائنہ کر رہی تھی۔۔۔۔

سامنے لگی بڑی سی سکرین ۔۔ مانیٹر ۔ مشینوں کی بپ کی آوازیں۔۔۔ جیسے ہی ایک ڈاکٹر نے انکے قریب آتے انکے منہ کے ذریعے چھوٹا سا کیمرا اندر ڈالا زہرا بیگم ٹرپ کر رہ گئیں اس سے پہلے کے وہ ٹرپتی ہوئیں اپنے بازو یا ٹانگیں ہلاتیں وہاں موجود باقی عملے نے انکے کندھوں اور ٹانگوں ہر وزن ڈال کر انہیں ہلنے سے روکا۔۔۔ درد کی شدت سے زہرا بیگم کی آنکھیں ابل پڑیں تھیں۔۔۔ بے بسی سے آنسووں لکیروں کی مانند کنپٹیوں میں جذب ہو رہے تھے۔۔۔ نور خود لرز کر رہ گئ تھی۔۔ کیمرہ معدے تک پہنچتے ہی مانیٹر پر فوکس کئے کھڑا ڈاکٹر سکرین پر سب دیکھتا کمپیوٹرائز سٹیچز لگانے لگا تھا۔۔۔ نور نے لب بھینچتے زہرا بیگم کے قریب ہوکر اپنے آنچل سے انکے آنسو صاف کئے۔۔۔ بس کچھ دیر اور آنٹی انشااللہ آپ مکمل صحتیاب ہو جائیں گئیں۔۔۔

******

اینڈوسکوپی کے بعد زہرا بیگم کو کمرے میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔۔۔ وہ خاصی تکلیف میں مبتلا تھیں۔۔ ڈاکٹر نے انہیں تھوڑا تھوڑا کر کے پانی پلانے کی اجازت دی تھی۔۔ نور نے انہیں ابھی چمچ کی مدد سے پانی پلایا تھا۔۔ اب وہ دوائیوں کے زیر اثر سو رہی تھیں۔۔۔ بھابھی آپ کیسے ہیں اتنی مضبوط۔۔۔ نور زہرا بیگم پر لحاف اچھے سے اوڑھا کر کمرے میں موجود کاوچ پر آ کر بیٹھی تو زرش نمناک لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔ میں بیٹی ہوں۔۔ جو کام میرے کرنے کے تھے وہ آپ کر رہی ہیں میں کیوں نہیں کر سکی وہ سب۔۔ امی کے ساتھ اینڈوسکوپی کے وقت مجھے ہونا چاہیے تھا مگر میں اندر نہیں جا سکی بھابھی میں امی کو اس حالت میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔ نور کے ہاتھ تھامے ناجانے وہ بتا رہی تھی یا صفائی دے رہی تھی۔۔۔ نور نے بے ساختہ اسے خود میں بھینچا ۔۔۔ ایسی بات نہیں ہے زری۔۔۔ کیا اس سے کوئی فرق پڑتا ہے۔۔۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ حالات نے مجھے سخت جان بنا دیا ہے بس۔۔۔ اور کسی بھی غلط خیال کو ذہن میں جگہ مت دو ۔۔۔ اسے خود سے لگائے نور نے اسکے سر کا بوسہ لیا۔۔۔

وہ دونوں ہی رات سے ایک پل کو نا سوئی تھی مزید یہاں سے وہاں آتے جاتے وہ بے طرح تھک چکی تھیں۔۔۔ لیکن پھر بھی زرش کی حالت زیادہ قابل رحم تھی۔۔۔ زرش تم کچھ دیر کے لئے سو جاو بہتر محسوس کرو گی۔۔۔ نور نے اسے وہیں کاوچ پر لٹانا چاہا۔۔۔ نہیں بھابھی وہ۔۔۔

تبھی دروازہ کھلنے کی آواز پر دونوں دروازے کی جانب متوجہ ہوئیں۔۔۔ ایک جھٹکے سے دروازہ کھول کر حواس باختہ سا دریاب اندر داخل ہوا۔۔۔ دریاب کو دیکھتے ہی زرش ضبط کے سبھی بندھ تورتی بھاگ کر اسکی جانب بڑھی اور اس سے لپٹتی زاروقطار رو دی۔۔۔

بھائی امی۔۔۔ بھائی ہماری امی۔۔۔

دریاب لب بھینچے سرخ آنکھیں جھپکتے ضبط کے مراحل طے کرتا اسکا سر تھپتھپا رہا تھا ایک سنجیدہ نگاہ اسنے کاوچ پر سر جھکائے بیٹھی نور پر ڈالی۔۔

*****