Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hala (Episode 19)

Hala By Umme Hania

عم۔۔۔ عمران۔۔۔ آپ اتنی جلدی وا۔۔۔ آئتل کی بات اسکے منہ میں ہی رہ گئ جب عمران نے اسے بھرپور نظر انداز کرتے میز سے اپنا موبائل اٹھایا اور واپس پلٹا۔۔۔ چہرے کے تنے اور سنجیدہ عضلات اسکے ضبط کی گواہی دے رہے تھے۔۔۔ وہ غالباً نہیں یقیناً اپنا موبائل وہاں بھول گیا تھا اور وہ ہی لینے واپس آیا تھا۔۔۔۔

انکے گھر میں کوئی بڑا نہیں تھا جو انکے اختلافات ختم کروا کر انکے مسائل حل کرواتا اور انا اور خاموشی کی فصیلیں کھڑی کر کے محض دوریاں ہی بڑھائی جا سکتیں تھیں۔۔۔ خود سے وہ عمران کو بلانے کی اس سے بات کرنے کی ہمت اپنے اندر مفقود پاتی تھی۔۔۔ لیکن ہمت تو اسے کرنی تھی۔۔۔ نا کرتی تو سارا دن بے چین رہتی۔۔۔ بھلا اب کیا وہ عمران کو ناراض کر کے خود پرسکون رہ سکتی تھی۔۔ اسکا سکون چین خوشی دکھ سب کچھ وہ شخص خود سے منسوب کروا گیا تھا ۔۔۔

عمران آپ نے آج دوپہر میں جلدی گھر آنا ہے۔۔۔ میں آپکے لئے کھانا تیار کر رہی ہوں کھانا آپ نے میرے ساتھ ہی کھانا ہے۔۔۔۔ وہ عمران کے دروازہ پار کرنے سے پہلے ہی بعجلت اسکے پاس پہنچی اور اسکی بازو میں اپنی بازو حائل کرتی لاڈ سے گویا ہوتی اسکے کندھے پر سر ٹکا گئ۔۔۔

عمران کے سرد اور سنجیدہ تاثرات محسوس کرتی وہ دل دل ہی میں الہی خیر کا ورد کر رہی تھی۔۔۔ اسکی اس حرکت سے عمران رکا نہیں تھا البتہ اسکی رفتار پہلے کی نسبت کم ہو گئ تھی۔۔۔

وہ عمران کی بازو میں اپنی بازو حائل کئے اسکے ساتھ ہی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی پورچ میں نکل آئی۔۔۔

آپکو پتہ ہے ابھی یوسف کا فون آیا تھا اسکی شادی کی تاریخ پکی ہو گئ ہے۔۔۔۔ ہمیں مدعو کر رہا تھا۔۔۔ میں نے کہا کہ عمران کا شیڈیول بہت مصروف ترین ہے اگر انکے پاس وقت ہوا تو ضرور آئیں گے ورنہ ہماری نیک تمنائیں آپکے ساتھ ہیں۔۔۔ بلکہ میں یوسف سے بات کرتی کچھ ایموشنل بھی ہوگئ تھی کیونکہ امی بابا کی اکھٹے وفات کے بعد جب میں ٹراما میں چلی گئ تھی تو یوسف نے مجھے اس فیز سے نکلنے میں بہت مدد دی تھی۔۔۔ لیکن اب میں نے یوسف سے کہہ دیا کہ وہ مجھےدوبارہ فون نا کریں کیونکہ مجھے میرے شوہرکے سوا کچھ سوجتا ہی نہیں میری زندگی کے شب و روز کا محور صرف عمران کی ذات ہے۔۔۔ اسنے لرزتے دل کیساتھ عمران سے سچ بولنے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ وہ جھوٹ بولنے میں بہت اناری تھی جھوٹ اتنے بھدے انداز میں اور ہواس باختہ ہو کر بولتی کہ سامنے والا بآسانی اسکے جھوٹ کو پہچان لیتا۔۔۔

دوسری جانب ساری بات سن کر عمران کے دل سے ایک بوجھ اترا تھا کیونکہ آئتل کی کسی بات میں کوئی لڑکھڑاہت یا جھول نہیں تھا۔۔۔ چلتے چلتے وہ گیٹ کے پاس کھڑی گاڑی کے پاس آ چکے تھے۔۔۔۔

اب آپ ابھی کا ہی دیکھ لیں۔۔۔ اتنے دل سے لنچ تیار کرنے میں منہمک تھی مگر اس اچانک آنے والی کال کی وجہ سے اچھا خاصا وقت ضائع ہوگیا۔۔۔

آئتل نے عمران کے کوٹ کو درست کیا اور مسکرا کر اسکی نادیدہ گرد جھاری ۔ ایک ہلکی سی مسکراہٹ نے عمران کے چہرے کا احاطہ کیا اود اسنے دونوں ہاتھوں سے آئتل کا چہرا تھام کر عقیدت سے اسکے ماتھے کا بوسہ لیا۔۔۔۔ میں وقت پر کھانے کے لئے پہنچ جاوں گا۔۔۔ مسکرا کر کہتا وہ گاڑی میں بیَٹھتا گاڑی زن سے نکال لے گیا۔۔۔جبکہ آئتل مسکراتی ہوئی واپس اندر کی جانب بڑھی۔۔۔ بس اتنی سی ہی بات تھی سچ نے اسے بہت سے مسائل سے بچا لیا تھا۔

********

نور دلہن کے جورے میں ملبوس آئنے کے سامنے بیٹھی اپنے سجے دھجے روپ کو یک ٹک دیکھ رہی تھی۔۔۔ رات زرش کی مہندی کا فنگشن تھا لیکن یہاں نور نے کمال انکل کے بارہا کہنے پر بھی انکی ایک نا مانی تھی۔۔۔ کمال انکل نور کی مہندی بھی زرش کی مہندی کے ساتھ ہی کروانا چاہتے تھے لیکن نور نے اس کے لئے صاف منع کر دیا تھا کیونکہ زہرا بیگم کے مطابق ان چونچلوں کی کوئی ضرورت نا تھی۔۔۔ وہ رخصتی پر راضی ہوگئ تھیں اتنا کافی تھا ۔ ویسے بھی بقول انکے نکاح جب چوروں کی طرح پو چکا تھا تو محض ایک ولیمے کا فنگشن ارینج کر کے اسے دسکلوز کرنا کافی تھا یہ انکی نازو پلی بیٹی کی شادی تھی اور وہ اسکا کوئی فنگشن خراب نہیں کرنا چاہتی تھیں۔۔ اس لئے زرش کی بارات کے دن ہی نور اور اور دریاب کا فنگشن قرار پایا جس میں انکے نکاح ڈسکلوز کرنے کے بعد رخصتی ہو جاتی۔۔۔

کمال صاحب اسکے خلاف تھے وہ باقاعدہ تینوں فنگشنز چاہتے تھے مگر یہاں نور اپنی جگہ پر اڑ گئ۔۔۔ بقول اسکے وہ کسی بھی چیز کو اپنا حق سمجھ کر چھیننے والوں میں سے نہیں تھی بلکہ وہ ان میں سے لله

عکی ن تھی جو عزت نفس پر بات آنے ہر سب قربان کر دیتے تھے وہ اپنی ذات میں خود کے لئے اہم تھی اسے زبردستی کسی کی زندگی میں شامل ہوکر وہاں حق جتانے کا خبط نہیں تھا۔۔۔ محبت اپنی جگہ لیکن اسکی عزت نفس سب سے اونچی تھی یہ بات تو طے تھی کہ اگر انکے رشتے کی گاڑی آگے بڑھتی تو اس میں پہل دریاب کی جانب سے ہی ہونی تھی۔۔۔۔

رات زرش کی مہندی کا فنگشن بہت بڑے پیمانے پر ہوا تھا نازک سی گڑیا کی مانند سجی زرش محفل کی جان بنی ہوئی تھی ۔ نور نے انیکسی سے نکلنے کی ضرورت محسوس نہین کی تھی بلکہ وہ کمال انکل کے کہنے پر بھی نہایت خوبصورتی سے ٹال گئ تھی۔۔۔ البتہ لاوئنج کی کھڑی سے وہ باہر کا سارا منظر باخوبی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ بلیک تھری پیس دیزائنر سوٹ میں ملبوس دریاب ذمہ داری سے سبھی ارینجمٹس دیکھتا ورکرز سے باتیں کرتا مہمانوں سے ملتا اسے اپنے دل کے مزید قریب لگا۔۔۔۔

آج بھی وہ ابھی ابھی زرش کیساتھ پارلر سے تیار ہو کر واپس آئی تھی۔۔۔ اس پردلہناپے کا ٹوٹ کر روپ آیا تھا۔۔۔ باہر زرش کی بارات آنے کا شور اٹھا تھا۔۔۔ نورکو اپنے اندر اداسیاں اور تنہاایاں ڈیرے ڈالتیں محسوس ہوئیں۔۔۔ وہ اس موقع پر شدت سے اپنی ماں کو یاد کر رہی تھی۔۔۔ کمی ماں کی پہلے بھی محسوس ہوتی تھی مگر آج اسکی کمی حد سے سوا تھی۔۔۔

کچھ دیر بعد اسے وہاں سے لیجا کردریاب کے پہلو میں بیٹھایا گیا لیکن ناجانے کیوں وہ ہر قسم کے جذبات سے عاری ہوگئ تِھی دل ایک دم خالی خالی سا ہو گیا تھا۔۔۔

زرش کی کزنیں دودھ پلائی کی رسم کر رہی تھیں اسٹیج اکٹھا ہی بنایا گیا تھا۔۔۔ نور خاموشی سے اس ہلے گلے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ کچھ دیر بعد زرش کی رخصتی کا شور اٹھا تو آپو آپ ہی نور کا دل بھر آیا۔۔۔ اسے اسکے ماں باپ اپنا پیارا سا گھر شدت سے یاد آیا۔۔۔ کاش وہ بھی اپنے گھر سے ماں باپ کے پیار اور انکی دعاوں کے سائے تلے رخصت ہو کر آتی۔۔۔ اسکا دل چاہا کہ پھوٹ پھوٹ کر رو دے لیکن وہ یوں رو نہیں سکتی تھی اسے اپنے اوپر سختی اور بے حسی کا خول چڑھانا تھا۔۔۔ زرش کے ماں باپ تھے بھائی تھا سب رشتے دار تھے جن کے کندھے سے لگ کر وہ زارو قطار رو رہی تھی۔۔ شاید کہ رخصتی کا عمل ہوتا ہی جان گسل ہے لیکن اسکے پاس کوئی کندھا نہیں تھا جس پر سر رکھ کر اپنے دل کا غم ہلکا کرتی ۔۔۔ اسے خود کو مضبوط ظاہر کرنا تھا۔۔۔ کسی بھی صورت اسے آج اپنے آنسووں کو بہنے سے روکنا تھا۔۔۔ ضبط سے وہ ہلکان ہو رہی تھی آج اسنے بھی آنسوں سے ضد باندھی تھی کہ آج ایک قطرہ نہیں بہائے گی۔۔۔

اسکا کوئی بھائی نہیں تھا لیکن بھائی بہن کی محبت کے اس نظارے سے بھی وہ آج ہی آشنا ہوئی تھی۔۔۔ زہرا بیگم اور کمال انکل کے بعد زرش دریاب کے گلے لگی تو ضبط کے سبھی بندھن توڑتی ہر آنکھ اشکبار کروا گئ تھی۔۔۔ ف

دریاب بھی اسے خود میں بھینچے ضبط کی انتہاوں کو چھو رہا تھا۔۔۔ وہ زرش کو بازو کے ہلکے میں ہی لئے گاڑی تک آیا۔۔۔

حدید تمہیں اپنے دل کا ٹکرا دے رہے ہیں اسکا بہت خیال رکھنا دریاب نے حدید کو گلے سے لگاتے زرش کا ٹھنڈا پڑتا ہاتھ اسکے ہاتھ میں دیا تو وہ مزید شدت سے دریاب کے ساتھ لگتی مزید شدت رو دی۔۔۔

دریاب نے بہت مشکل سے اسے خود سے الگ کرتے گاڑی میں بیٹھایا اور ایک لمحے کی تاخیر کئے بنا کمال صاحب نے ڈرائیور کو گاڑی چلانے کا بولا۔۔۔

انگلی پکڑ کے تو نے، چلنا سکھایا تھا ناں

دہلیز اونچی ہے یہ، پار کرا دے

بابا میں تیری ملکہ، ٹکڑا ہوں تیرے دل کا

اک بار پھر سے دہلیز پار کرا دے

“**”*******

بیٹی کی رخصتی کے بعد گویا زہرا بیگم ہر کام سے بری الزمہ ہو گئ ہوں۔۔۔ بیٹی کی رخصتی تک وہ ناجانے کس ضبط سے نور کا چہرا برداشت کر رہی تھیں جو ناچاہتے ہوئے بھی انہیں گل کی یاد دلا کر انکے زخم تازے کر جاتا تھا۔۔۔ رخصتی کے فوراً بعد مہمان بھی واپس جانا شروع ہو گئے تھے اور زہرا بیگم مہمانوں سے بھی پہلے کمرا نشین ہو گئ تھیں۔۔۔ رفتہ رفتہ سب کچھ خالی ہو گیا تھا نور اکیلی سٹیج پر بیٹھی تھی اسے اپنا آپ بہت عجیب لگ رہا تھا پہلے دن کی دلہن کا یہ استقبال۔۔۔ اسکا دل چاہا کہ زہرا بیگم کو جھنجھوڑ کر رکھ دے کہ آپکی بیٹی بیٹی اور میں کیا کسی کی بیٹی نہیں۔۔۔ اسے اپنی سچویشن بہت آکورڈ لگ رہی تھی۔۔۔ نا اس وقت انیکسی میں جا سکتی تھی اور نا ہی اسے اس وقت خود سے اٹھ کر دریاب کے کمرے میں جانا مناسب لگ رہا تھا۔۔۔ غصے بے بسی اور اہانت سے اسکی شریانیں پھٹنے کے قریب تھی۔۔۔ جب کمال صاحب غصے سے لمبے لمبے ڈگ بڑھتے آئتل کی جانب آئے۔۔۔ دریاب ۔۔۔ دریاب ساتھ ہی ساتھ وہ غصے کی زیادتی کے باعث دریاب کو اونچے لہجے میں آوازیں دے رہے تھے۔۔۔ دریاب جو کہ کیٹرنگ والوں کا حساب کتاب چکتا کر رہا تھا باپ کی پکار پر دورا چلا آیا۔۔۔

نور کو اپنے کمرے میں چھوڑ کر آو۔۔۔ انکی آنکھوں میں موجود سرخی انکے ضبط کی گواہ تھی گویا وہ زہرا بیگم کیساتھ ایک اچھی خاصی بحث مباحثہ کے بعد وہاں آ رہے ہوں۔۔۔ دریاب نے چونک کر باپ کا ضبط سے لال بھبوکا چہرا دیکھا۔۔۔

صاحب جی صاحب جی۔۔۔ وہ بیگم صاحبہ واش میں گر گئ ہیں۔۔ اس سے پہلے کہ دریاب نور کی جانب بڑھتا ملازمہ بھاگتی ہوئی وہاں آئی۔

******