Hala By Umme Hania Readelle50346 Hala (Episode 45)
No Download Link
Rate this Novel
Hala (Episode 45)
Hala By Umme Hania
یہاں کس مقصد کے لئے آئے ہو۔۔۔ حدید ایک مرتبہ پھر سے ضبط کے مراحل طے کرتے سنجیدگی مگر کرختگی سے اسکی بات کاٹتا گویا ہوا ۔۔۔ یہاں آنے کا میرا مقصد نہایت سادا ہے۔۔۔ زرش نے آپ سے شادی مجبوری میں کی تھی اب میں سب فکس کرنے کی کوشیش کر رہا ہوں لحاظہ آپ زرش کو طلاق دے دیں تاکہ۔۔۔
آووووٹٹٹٹ۔۔۔۔ حدید کے ضبط پر وہ اطمیعنان سے گویا ہوا جب حدید اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ہاتھ سے سامنے پڑا لیپ ٹاپ جھٹکے سے زمین بوس کرتا کرسی سے اٹھ کھڑا ہوتا ڈھار اٹھا۔۔ بس یہیں اسکی برداشت کی حد تھی۔۔۔وہ شخص کسی اور کے بارے میں نے اسکی عزت اسکی بیوی کے بارے میں بات کر رہا تھا۔۔۔ آنکھوں سے گویا شعلے لپکنے لگے تھے۔۔۔ دیکھیں مسٹر حدید۔۔۔۔ آئی سید آوٹٹٹٹ۔۔۔ سرخ انگارہ نگاہیں اس پر ٹکائے حدید نے انگلی سے دروازے کی جانب اشارہ کرتے اسے باہر کا راستہ دکھایا۔۔
وہ ابھی تک مجھ سے محبت کرتی ہے ابھی بھی میرے ساتھ رابطے میں ہے اسکی زندگی میں تم کہیں نہیں ہو۔۔۔ ایسی لڑکی کو زندگی میں رکھ کر کرو گے بھی کیا جسکے دل میں کوئی اور ہو۔۔۔۔
گارڈ کو اندر بھیجو۔۔۔ اسکی ساری بکواس کو نظر انداز کرتے اسنے انٹرکام اٹھا کر سیکریٹری سے کہا۔۔۔ وہ فلحال اپنی ذہنی ابتری اس پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔اسکے منہ توڑنے کی شدید خواہش کو اندر ہی دبائے وہ مٹھیاں بھینچے ضبط سے کھڑا تھا جبڑے اتنی سختی سے آپس میں پیوست تھے کے گردن کی رگیں ابھر آئیں تھیں۔۔۔ فلحال وہ کسی بھی صورت آفس میں ہنگامہ بھرپا کر کے لوگوں کو اصل معاملے کی ہوا بھی نہیں لگنے دینا چاہتا تھا۔۔۔ اس شخص سے اسنے بعد میں نمٹنے کا سوچ رکھا تھا۔۔۔ چاہو تو تسلی کر سکتے ہو۔۔۔ اسکی رات مجھ سے بات کئے بنا نہیں ہوتی ۔۔۔ اسکا دن مجھ سے شروع ہوتا ہے تم کہیں نہیں ہو اسکی زندگی میں۔۔۔ گارڈ کے اندر آنے کا جان کر وہ گارڈ کے اندر آنے سے پہلے ہی بکتا جھکتا وہاں سے جا چکا تھا۔۔۔ جبکہ حدید کو خود پر ضبط کرنا محال لگ رہا تھا۔۔۔ اسکے دماغ کی شریانیں پھٹ رہیں تھیں۔۔۔ کوئی اسکے سامنے آ کر اپنے اور اسکی بیوی کے عشق و معشوقی کے کارنامے سنا کرچلا گیا تھا۔۔۔ یہ اسکی غیرت پر تازیانہ تھا۔۔۔ اسی دن سے ڈرتا تھا وہ۔۔۔ سختی سے اپنے بالوں کو مٹھیوں میں جھکڑتا وہ وہیں اپنی کرسی پر ڈھے گیا۔۔۔
*****
امی آپ۔۔۔۔
شششش۔۔۔ دریاب جھٹکے سے ماں کے کمرے کا دروازہ وا کر کے کچھ کہتا ہوا اندر داخل ہوا جب زہرا بیگم نے بعجلت ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش ہونے کا کہتے آنکھ سے صوفے کی جانب اشارہ کیا۔۔۔ دریاب نے الجھ کر صوفے کی جانب دیکھا اور پھر بے خودی میں دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔ ریڈ کلر کی فراک میں صوفے پر نیم دراز وہ سو رہی تھی۔۔۔ سر صوفے کی ہتھی پر ٹکا تھا اور بھوری کھلی آبشار صوفے کی ہتھی سے نیچے تک جا رہی تھ۔۔۔ ایک ہاتھ پیٹ پر جبکہ دوسرا ہاتھ صوفے سے نیچے لٹک رہا تھا۔۔۔ خاصی بے آرام حالت میں بھی سوتے ہوئے وہ پرسکون لگ رہی تھی۔۔۔ ابھی ابھی اس کی آنکھ لگی ہے اس لئے شور مت کرنا ورنہ اٹھ جائے گی۔۔۔ وہ بچاری تو پہلے ہی میرے احساس کے تحت نا دن میں سوتی ہے نا رات میں۔۔۔ رات میں بھی دس بار بے آرام ہو کر میرے کام کرتی ہے اب بھی شاور لے کر آئی تھی اور بیٹھے بیٹھے سو گئ۔۔۔ لیٹتی تو خاصی بے آرام حالت میں ہے مگر سوئی رہنے دو اچھا ہے ایک دو گھنٹے کی نیند لے لے۔۔ ٹھیک سے لیٹنے کو بولا تو اٹھ جائے گی۔۔۔ زہرا بیگم خود کندھوں تک لحاف اوڑھے بیڈ پر نیم دراز تھیں نور کو دیکھتیں وہ سنجیدگی سے گویا ہوئیں۔۔۔
ماں کہیں یہ کوئی خواب تو نہیں۔۔۔ آپکی اپنی بہو کے ساتھ اتنی اچھی کیمسٹری۔۔۔۔ بات کچھ ہضم نہیں ہو رہی۔۔۔ طبیعت وغیرہ تو ٹھیک ہے نا آپکی۔۔۔ دریاب ماں کے قریب ہی بیڈ پر بیٹھتا مسکراہت ہونٹوں میں دابے شرارت سے گویا ہوا۔۔۔ بہت اچھی اور نیک بچی ہے نور مجھ سے ہی پہچاننے میں غلطی ہوگئ۔۔۔ اتنا برا کیا اسکے ساتھ اسکے باوجود وہ ہر چیز بھلائے دن رات میری خدمت میں جتی ہے۔۔۔ وہ کھوئے کھوئے انداز سے سوئی ہوئی نور کو دیکھتیں گویا ہوئیں۔۔
دیر نہیں ماں کچھ زیادہ ہی دیر ہوگئ آپکو۔۔۔ پہلے اسے پہچان جاتیں تو ابھی تک چار پانچ پوتے پوتیاں آپکی خدمت پر معمور ہوتےپر چچ۔۔۔ چلیں رہیں دیں کوئی بات نہیں۔۔۔ انہیں آبدیدہ ہوتا دیکھا دریاب نے انکا موڈ خوشگوار کرنے کی خاطر بات کو ہلکے پھلکے انداز میں بدلتے تاسف سے سر جھٹکتے کہا جس پر زہرا بیگم حیرت سے منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
بدتمیز اتنی سی دیر میں تم میرے چار پانچ پوتے پوتیاں ڈانلوڈ کرتے ابتدائی حیرت سے نکلتے زہرا بیگم نے اسکے سر پر چیت رسید کی۔۔۔ دریاب کھل کر مسکرا دیا اسے مسکراتا دیکھ زہرا بیگم بھی مسکرا دیں۔۔ شرم تو نہیں آتی ماں سے ایسی باتیں کرتے ہوئے۔۔۔
ہاں جی اب تو آپکا شور سن کر آپکی بہو بالکل نہیں اٹھے گی ہے نا۔۔۔ اپنی کلاس لگتی دیکھ دریاب نے زہرا بیگم کی توجہ ایک مرتبہ پھر سے نور کی جانب مبذول کروائی اور وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ ارے ہاں جاتے جاتے زرا الماری کھول کر اندر سے کوئی لحاف نکال کر بچی پر دے دو اور ہاں لائٹ بند کر جانا۔۔۔ زہرا بیگم اسے باہر جاتا دیکھ گویا ہوئیں اور دریاب بھی گہری سانس خارج کرتا واپس پلٹا۔۔۔۔ ماں میں آئی یہ تبدیلی اسکے لئے خاصی خوشگوار تھی۔۔
*****
شدید غصے میں کھولتا پھٹتے سر کیساتھ وہ انتہائی ریش ڈرائیونگ کرتا گاڑی کو ہواوں میں اڑاتا گھر پہنچا تھا۔۔۔ اسکا بس نا چل رہا تھا کہ ہر چیز تحس نحس کر کے رکھ دیتا۔۔ آنکھیں لہو ٹپکا رہی تھیں تو بھینچے جبرے اور ابھری نسیں اسکے شیدید غصے میں ضبط کے مراحل طے کرنے کی نشاندہی کر رہی تھیں۔۔۔ وہ گھر میں داخل ہوتے ہی بنا کسی اور جانب دیکھے سیدھا اپنے کمرے کی جانب بڑھا۔۔ کچن میں کھڑی کھانا بناتی زرش نے خوشگوار حیرت سے آج اسے جلدی گھر آتے دیکھا اور مسکرا کر چولہا بند کرتی کچن سے باہر آئی ۔۔ آج اسکی تیاری معمول سے کچھ ہٹ کر تھی۔۔۔ آج وہ حدید کو سرپرائز دینا چاہتی تھی اسی غرض سے ڈنر بھی سپیشل تیار کیا تھا۔۔۔
ایک نظر لاوئنج میں لگے دیوار گیر آئنے میں اپنا عکس دیکھتی وہ ہاتھوں سے بال سنوار کر کپڑوں کی نادیدہ شکنیں درست کرتی خود پر ایک طائرانہ نگاہ ڈال کر سیرھیوں کی جانب بڑھی۔۔
ارے واہ حدید آج تو گھر جلدی آ کر اپنے مجھے سرپرائز ہی کر دیا۔۔ دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوتی وہ خوشگواریت سے گویا ہوئی۔۔۔ کیا ہوا حدید آپکی طبیعت تو تھیک ہے نا۔۔۔ یکدم ہی اسکے مسکراتے لب سکڑے وہ پریشانی سے گویا ہوتی حدید کی جانب بڑھی جو جوتوں سمیت بیڈ پر آنکھوں پر بازو موڑ کر رکھے نیم دراز تھا۔۔۔ کیوں کیا میرے ساتھ ایسا تم نے زرش۔۔۔ زرش نے اسکی آنکھوں سے بازو ہٹانے کی خاطر اسکی بازو پر ہاتھ رکھا ہی تھا جب وہ دوسرے ہاتھ سے اسکا بازو آہنی گرفت میں جکڑتا آنکھوں سے بازو ہٹا گیا۔۔ کیا ہوا حدید میں نے کیا کیا۔۔۔ حدید کی گرفت خاصی غیر معمولی تھی زرش نے ایک گھبرائی نگاہ ابھی تک حدید کی گرفت میں قید اپنی بازو پر ڈالی اور الجھتے ہوئے حدید کو دیکھا ۔۔ کیا اب یہ بھی تمہیں میں ہی بتاوں وہ اسکا بازو بے طرح مڑورتے اٹھ کر بیٹھا۔۔ آہ ہ ہ حدید میرا بازو چھوڑیں مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔۔۔ حدید کے اس ظالمانہ انداز پر وہ ٹرپ ہی تو اٹھی تھی۔۔ غزال سی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو چمک اٹھے تھے۔۔۔
اور اس تکلیف کا کیا جو تم نے مجھے دی ہے زرش۔۔۔ غصے سے چیختے اسنے زرش کا وہی بازو گھوماتے اسے بیڈ پر اپنے پاس پٹخا۔۔ وہ کہنی کے بل اسکے قریب ہی بیڈ پر گری اور بعجلت کہنی پر وزن ڈالے تھوڑا سا سیدھی ہوئی۔۔۔۔ اسے اس وقت حدید سے جی بھر کر خوف محسوس ہوا۔۔ وہ اسے اس وقت اپنے حواسوں میں نہیں لگ رہا تھا۔۔ ایک دفعہ حدید کا ایسا روپ وہ پہلے بھی دیکھ چکی تھی جب اسنے اپنا نمبر کوریر پر لکھوایا تھا۔۔۔۔ اب اسنے ایسا کیا کیا تھا جو حدید کے اسقدر غصے کا باعث بنا۔۔۔ خوف سے کپکپاتے اسنے سرعت سے اپنا محاسبہ کیا لیکن کوئی سرا ہاتھ نہیں لگا۔۔۔کچھ دیر پہلے والی خوشگواریت کی جگہ ہراس اور خوف نے لے لی تھی۔۔۔
کیا چاہا تھا میں نے زرش۔۔۔ کیا چاہا تھا محض اتنا ہی کہ میری بیوی ایک باکردار مجھ سے مخلص اور محض مجھ تک ہی مختص ہونے والی ایک باحیا لڑکی ہو۔۔اسکی آواز میں جیسے ٹوٹے کانچ کی کرچیاں سمٹ آئیں ہوں۔۔۔ اس میں میری کونسی خواہش ناجائز تھی۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی میرے شروع دن سے گریز کی کیونکہ عین شادی سے پہلے تمہاری شادی توٹی تھی اور میں نہیں جانتا تھا کہ تم اپنے سابقہ منگیتر کے ساتھ جذباتی طور پر کس حد تک وابسطہ ہوچکی تھی یہ تو وہم و گمان میں بھی نا تھا کہ وہ وابستگی ابھی تک قائم ہوگی۔۔۔ میں دریاب کے سامنے مجبور ہو گیا تھا لیکن شادی کے بعد بھی میں اپنے اس وہم کو جھٹلا نہیں پا رہا تھا۔۔ وہ اپنے بال نوچتے اذیت سے بول رہا تھا۔۔۔ زرش کے آنسو ٹھٹھرنے لگے تو آخر یہ وجہ تھی حدید کے شروع دن سے گریز کی ۔۔۔ وہ ناسمجھی سے ہونق بنی بازو کی تکلیف بھلائے اسے سننے لگی۔۔۔ لیکن اسکے باوجود میں اپنا دل تمہاری جانب ہمکنے سے روک نا پایا۔۔۔ تمہیں عزت دی ماں دیا۔۔۔ بیوی کا حق دیا ۔۔ محبتتتتتت کرنے لگااااا تھاااا تم سے۔۔۔ یکدم لہو رنگ آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔ مگر بدلے میں تم نے کیا دیا مجھے ۔۔۔ بے وفائی۔۔۔ چیختے ہوئے اسنے سائیڈ ٹیبل پر پڑے لیمپ کو ہاتھ مار کر نیچے پھینکا چھناک کی آواز سے وہ لیمپ کرچیوں میں بٹتا جابجا ادھر ادھر پھیلا۔۔۔ آہ۔۔۔ خوف کے زیر اثر زرش بھی پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھتی بیڈ سے اتر کر کپکپاتے ہوئے چند قدم پیچھے ہٹی۔۔ میں نے آپ سے کوئی بے وفائی نہیں کی۔۔منہ پر ہاتھ رکھے ہچکیوں سے روتے وہ گویا ہوئی۔۔۔اسے اپنی ہی آواز کسی گہرے کنویں سے آتی محسوس ہوئی۔۔۔ سارا جسم گویا خزان رسید پتے کی مانند کپکپانے لگا تھا۔۔۔
تم میں اب بھی جرات ہے مجھ سے جھوٹ بولنے کی ۔۔ وہ ڈھارتا ہوا بیڈ سے اتر کر اسکے مد مقابل آیا۔۔ خوف کے زیر اثر زرش چیختے ہوئے مزید چند قدم پیچھے ہٹی۔۔۔
تمہارا سابقہ منگیتر میرے آفس آیا تھا اپنے اور تمہاری محبت کے قصے سنا کر مجھ سے تمہارے لئے طلاق کا مطالبہ کرنے اور تم کہہ رہی ہو تم نے مجھے دھوکہ نہیں دیا بدکردار لڑکی۔۔۔۔ اسکی آواز میں ازدہوں سی پھنکار تھی۔۔لفظ بدکردار چابک کی مانند لگا تھا اسے کہ وہ بلبلا کر رہ گی۔۔ اسکی اتنی جرات تمہاری شہہ پر ہوئی ہے ورنہ کوئی میرے سامنے آ کر اتنے حق سے میری ہی بیوی کے بارے میں واحیات بات کر جائے۔۔۔ تم بیوی کے نام پر دھبہ ہو بے حیا بے غیرت بدکردار بدذات لڑکی۔۔۔ تم بیوی بنائے جانے کے قابل نا تھی۔۔۔ آپ حد کر رہے ہیں اب مسٹر حدید اور یہ میرے لئے ناقابل برداشت ہے اب آپ بنا کسی ثبوت کے مجھے بدکرادر کہہ رہے ہیں۔۔۔۔۔ کپکپاتے ہاتھوں سے بہتے آنسو صاف کرتی وہ آواز کی لغزش پر قابو پاتی چلا اٹھی تھی۔۔ بکواس بند کرو اپنی تمہارے ابھی تک اس شخص کے ساتھ تعلقات ہیں اور تم۔۔۔
ہاں ہیں تعلقات اس سے پھر اب۔۔۔
ہوں میں بد کردار۔۔۔ زرش کی بات کاٹتا وہ ڈھار اٹھا تھا جب زرش تیزی سے اسکی بات کاٹتی مزید نفی کی بجائے اعتراف کرتی گویا اسے گنگ کر گی۔۔۔
ہوں میں بد کردار۔۔۔ کیوں دیتی وہ اپنی بارہا صفائی جب وہ سننے کو تیار ہی نا تھا۔۔ وہ محض کچھ پلوں کو خاموش ہوا تھا اسکے اعتراف نے جیسے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا سرعت سے درمیانی فاصلہ عبور کرتے وہ اس تک پہنچا۔۔۔
چٹاخ۔۔ پورے زور سے پڑنے والے تھپر نے زرش کے چودہ طبق روشن کر دے تھے۔۔۔ وہ چہرے پر ہاتھ رکھے پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے بے یقینی سے دیکھنے لگی لیکن حدید نے وہیں بس نہیں کی تھی۔۔۔ غصے سے وہ پاگل ہونے کے در پر تھا یک بعد دیگرے کئ تھپڑ اسکی دونوں گالوں پر جڑتا وہ لمحوں میں اسے کملا کر رکھ گیا تھا چوتھے تھپڑ کی شدت کو برداشت نا کر پاتے وہ اونڈھے منہ زمین بوس ہوئی لیکن شاید حدید کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا وہ بھی اسکے پیچھے ہی نیچے کو جھکا۔۔۔
میں تو بدکردار ہوں لیکن آپ خود کیا ہیں عورت پر ہاتھ اٹھا کر اپنی مردانگی ظاہر کرنے والے گھٹیا مرد۔۔۔ شدت گریہ سے سرخ ہوتی نگاہیں اٹھا کر اسنے ایک ہی فقرے میں گویا حدید کے ہر عمل کو نکیل ڈالی تھی پھر سے زرش کو مارنے کے لئے اٹھایا جانے والا حدید کا ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گیا تھا۔۔۔ لمحوں میں جیسے وہ ہوش کی دنیا میں آیا تھا اسنے پھٹی پھٹی نگاہوں سے ہوا میں معلق اپنے ہاتھ کو دیکھا اور پھر زمین پر گری پڑی اپنی بیوی کو۔۔۔ ہاتھ نیچے کرتا وہ جیسے صدمے کی کیفیت میں پیچھے ہٹا۔۔ آپ خود کیا ہیں مسٹر حدید۔۔ ایک ظالم اور بے حس مرد۔۔ نفرت ہے مجھے آپ سے۔۔۔ سنا آپ نے نفرت کرتی ہوں میں آپ سے بے حس اجڈ ظالم انسان۔۔۔ آپ سے شادی میری زندگی کی سب سے بڑی بھول تھی۔۔ مجھے ذلت و رسوائی سے مر جانا چاہیے تھا مگر آپ جیسے ظالم اور بے حس سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی۔۔۔ کمرے میں محض زرش کی سسکیاں اور چیخنے کی آوازیں گھونج رہی تھیں جبکہ حدید قدم قدم پیچھے کو چلتا کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔
آپ کو معاف نہیں کروں گی حدید۔۔۔ کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔ مجھ پر ہاتھ اٹھایا ہے آپ نے۔۔۔ زرش کمال پر۔۔۔ اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا آپکو۔۔۔ میں اپنے باپ کی لاڈلی تھی کس نے حق دیا آپکو مجھ پر ہاتھ اٹھانے کا۔۔۔ نہیں چھوڑوں گی آپکو۔۔ ایک عزم سے اپنے آنسو صاف کرتی وہ لڑکھڑاتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ جتنے وہ آنسو صاف کرتی اتنے ہی مزید بہہ نکلتے۔۔۔ دل ابھی تک اس ستم گر کے اس رویے پر سوکھے پتے کی مانند کانپ رہا تھا۔۔۔ پھول سے گال سوج چکے تھے۔۔۔ دل میں ایک آگ لگی تھی سب کچھ جلا کر بھسم کر دینے کی آگ ۔۔۔ محبت اپنی جگہ لیکن فلحال تو وہ اس آگ میں اس ستم گر کو جلا کر بھسم کر دینا چاہتی تھی۔۔ محبت کی اتنی توہیں۔۔ اتنی ناقدری بھلا کہاں برداشت تھی اسے۔۔۔
*****
شٹ شٹ شٹ۔۔۔ یہ کیا کر دیا میں نے۔۔۔ میں اس پر ہاتھ کیسے اٹھا سکتا ہوں۔۔۔ سٹڈی روم میں آتا وہ بار بار ہاتھ کی مٹھی بنا کر ماتھے پر مارتا خود کو کوس رہا تھا۔۔۔ کچھ بھی تھا اس نے جو ِبھی کیا تھا مجھے تحمل سے کام لینا چاہیے تھا اس پر ہاتھ قطعی نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔۔۔ اسے گہرے پچھتاوے نے آ گھیرا تھا۔۔۔ آپ خود کیا ہیں عورت پر ہاتھ اٹھا کر مردانگی ظاہر کرنے والے گھٹیا مرد۔۔۔ آواز کے سماعت میں گھونجتے ہی اسنے بے بسی سے زوردارانہ انداز میں دیوار پر ہاتھ دے مارا۔۔۔ ملال تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔ اپنے ہی ملال میں گم وہ نوٹ ہی نا کر سکا کہ اپنے اندر لگی آگ میں اسے جلا کر بھسم کرنے کی خاطر وہ معصوم سی لڑکی خطرناک عزائم لئے بنا اپنے کسی سامان کے اسی بکھری حالت میں اسکے گھر اور اسکی زندگی سے جا چکی تھی۔۔۔ آج کی خوشی شاید اسے راس نا آئی تھی۔۔۔ حدید کو سرپرائز دینے کی اسکی ساری تیاری ڈھری کی ڈھری رہ گئ تھی۔۔۔ پورے دن کی محنت کے بعد حدید کے لئے تیار کیا جانے والا کھانا بھی کچن میں پڑا اپنی بے توقیری پر ٹھنڈا ہو گیا تھا۔ فضا میں موجود ہر شے گویا اس لڑکی کے دکھ میں اسکی سانجھی تھیں۔۔۔
______
