Hala By Umme Hania Readelle50346 Hala (Episode 7)
No Download Link
Rate this Novel
Hala (Episode 7)
Hala By Umme Hania
باہر جھل تھل کا موسم تھا بارش کے قطرے شفاف موتیوں کی صورت ٹوٹ ٹوٹ کر ایک تواتر سے ونڈ اسکرین پر گر رہے تھے جسے گاڑی کے وائپر تیزی سے ہٹاتے تا حد نگاہ بصارت قائم کرتے لیکن لمحوں میں پھر سے ونڈ اسکرین ننھے موتیوں سے بھر جاتی جسے اسی سپیڈ سے گاڑی کے وائپرز پھر سے صاف کرتے۔۔۔ ایسا ہی جھل تھل سا موسم گاڑی ڈرائیو کرتے کمال صاحب کے اندر بھی جاری تھا۔۔۔ گل کی موت انہیں اندر سے توڑ گئ تھی۔۔۔ انکے لئے گل کا اس دنیا میں نا رہنا ایک بہت بڑا دھچکا تھا۔۔۔ وہ انکی حقیقی غمگسار تھیں۔۔۔ حقیقی دوست۔۔۔ نور ہوبہو اپنی ماں کی کاپی تھی۔۔۔ وہی نین نقش وہی معصومیت۔۔۔ انکا بس چلتا تو وہ گل کی بیٹی کی آنکھ میں ایک آنسو تک نا آنے دیتے۔۔۔ اسے ہاتھ کا چھالہ بنا کر رکھتے۔۔۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے نور کا نکاح دریاب سے کروایا تھا کیونکہ وہ انکی فرمابردار اولاد تھا اس لئے انہیں دریاب پر پورا بھروسہ تھا کہ وہ کبھی نور کے ساتھ کچھ غلط نہیں ہونے دیگا۔۔۔ انہیں سوچوں میں ڈوبے انہوں نے فلیٹ کے سامنے بریک لگائی تھی۔۔
******
ارے بیٹا آپ اٹھ گئیں۔۔۔ اب کیسی طبیعت ہے آپکی۔۔۔۔ نور ابھی تک ویسے ہی لیٹتی منہ ہر ہاتھ رکھے سسک سسک کر رو رہی تھی جب کمال صاحب کے کمرے میں داخل ہو کر اسے مخاطب کرنے پر وہ کرنٹ کھا کر انکی جانب متوجہ ہوئی۔۔ رگڑ رگڑ کر متوحش سرخ آنکھوں کو صاف کرتے اسنے ہتھیلیوں پر وزن ڈالتے اٹھ کر بیٹھنے کی کوشیش کی۔۔۔ کمال صاحب نے اسے دیکھتے خاموشی سے آگے بڑھ کر اسکے پیچھے تکیوں کا سہارا دیا۔۔۔۔
آپ یہ ناشتہ یہاں رکھیں اور پہلے نور کو ساتھ لیجا کر انکا منہ ہاتھ دھلوا دیں۔۔۔۔ کمال صاحب نے ملازمہ کے ہاتھ سے ٹرے پکڑتے کہا تو نور کو نا چاہتے ہوئے بھی اٹھنا پڑا کیونکہ کچھ لوگ ہوتے ہیں زندگی میں ایسے بھی جنہیں باوجود خواہش کے بھی آپ منع نہیں کر سکتے۔۔۔ نور کی زندگی میں بھی کمال صاحب کی وہی حیثیت تھی۔۔۔جو کچھ وہ پچھلے دنوں نور اور اسکی ماں کے لئے کر چکے تھے اسکے بعد تو نور کو اپنا آپ تک انکا مقروض لگتا تھا۔۔۔
فریش ہو کر وہ نقاہت زدہ سی واپس آ کر بیڈ پر بیٹھی تو کمال صاحب نے ناشتے کی ٹرے اسکی جانب بڑھائی۔۔۔ سب سے پہلے آپ ناشتہ کریں نور۔۔
محبت بھرے لہجے میں انکا اتنا کہنا تھا کہ نور ناشتے کی جانب دیکھے بنا چہرا ہاتھوں میں چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔
نور بیٹا یہ کیا کر رہی ہیں آپ۔۔۔ آپ تو بہت بہادر بیٹی ہیں۔۔۔ نور کی حالت دیکھتے خود کمال صاحب کی آنکھیں نم ہو اٹھیں تِھیں۔۔۔۔ بیٹا ایسا مت کریں آپکے آنسو مجھے تکلیف دے رہے ہیں۔۔۔
انکل میں نے اللہ سے دعا کی تھی۔۔۔ بہت زیادہ۔۔۔ دن رات صرف ایک ہی دعا کہ اللہ میری ماں کی قسمت کے کشکول میں چند سکے زندگی کے مزید ڈال دے۔۔۔۔ کہتے ہیں دعا اگر سچے دل سے مانگی گئ ہو تو کبھی رد نہیں ہوتی۔۔۔ دعائیں قسمتیں بدل دیتی ہیں۔۔۔۔ میں نے دل سے دعائیں مانگی تھی انکل۔۔۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں اتنی شدت سے کچھ نہیں مانگا جتنی شدت سے اپنی ماں کی صحت اور زندگی مانگی تھی۔۔۔ میری نیت میں کوئی کھوٹ نا تھا میں دل کی گہرائیوں سے دعا گو تھی۔۔۔ انکل پھر میری دعا کیوں قبول نا ہوئی۔۔۔ وہ تو اللہ ہے نا۔۔۔ ہر چیز پر قادر۔۔۔ دونوں جہانوں کا بادشاہ۔۔۔ بے بس تو ہم انسان ہو جاتے ہیں وہ تو سب کر سکتا ہے۔۔۔ پھر اس نے میری دعا قبول کیوں نہیں کی۔۔۔ آج اسے کندھا میسر آیا تھا تو وہ ماں کی موت کا کھل کر دکھ منا رہی تھی۔۔۔ کسی اپنے سے دل کی ایک ایک بات شیئر کر رہی تھی۔۔۔ ہچکیوں سے روتی اس لڑکی کا جسم باقاعدہ جھٹکے کھا رہا تھا۔۔۔ سرخ آنکھیں شدت گریہ سے مزید سرخ ہوتی جا رہی تھیں۔۔۔ مجھے صبر نہیں آتا انکل میں کیا کروں۔۔
بیٹا وہ جو اللہ ہے نا اس سے شکوہ کرنے کا اختیار ہمارے پاس نہیں ہے۔۔۔ ہم اس سے شکوہ نہیں کر سکتے۔۔۔ اللہ انسان سے بہتر لے کر بہتریں سے نوازتا ہے۔۔۔ اس دنیا میں ہمارا تو کچھ بھی نہیں سب اس اللہ کی امانت ہے ہمارے ماں باپ حتی کہ ہمارا اپنا آپ بھی۔۔ جس کی امانت تھی اسنے اپنی امانت واپس لے لی بیٹا اس میں ہمارا شکوہ نہیں بنتا ہمیں اپنے اس چلے جانے والے پیارے کے لئے مغفرت کی دعا کرنی چاہیے۔۔۔ واحد وہ چیز جو ہم کر سکتے ہیں۔۔۔ جب ہمارا اللہ پر ایمان پختہ ہو نا کہ وہ ہمارے لئے جو فیصلہ کرے گا وہ یقینا ہمارے حق میں بہتر ہوگا۔۔۔ تو اسکے بعد یوں شکوہ کرنا ایمان کی پختگی میں ڈرار ڈال دیتا ہے۔۔۔ سمندر میں کھڑے ہوکر جب سب ڈوریاں اس ذات پر چھوڑ دی جائیں فیصلے کا اختیار اس پاک ذات کو دے دیا جائے تو کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ پار لگوا دے یا سمندر میں دبو دے۔۔۔ یہ ہمارا ہمارے رب پر کامل یقین نہیں ہوتا کہ ہم فیصلے کا اختیار بھی اسے دیتے ہیں اور منتظر بھی ہوتے ہیں کہ فیصلہ ہمارے حق میں ہو۔۔۔ایمان تو ایسا ہونا چاہیے نا کہ اگر سمندر میں ڈوب بھی گئے تو یقین اتنا پختہ ہو کہ میرے رب کا یہ فیصلہ بھی یقیناً ہمارے حق میں بہتر ہوگا۔۔۔۔ کمال صاحب کی پر تاثیر آواز جیسے اسکے زخمی زخمی دل پر پھاہے رکھ رہی تھی۔۔۔ شاید اسے اس وقت کسی جذباتی سہارے کی ہی ضرورت تھی جو اسے اس وقت ہاتھ پکڑ کر اس اذیت سے باہر نکال سکتا۔۔۔
جو ہوچکا ہے اسے ہم بدلنے پر قادر نہیں بیٹا۔۔۔ یہ ہی زندگی ہے جو ایسے ہی چلتی ہے اس زندگی میں سدا ساتھ نبھانے کو کوئی ساتھ نہیں رہتا یہاں سارے سہارے عارضی ہوتے ہیں۔۔۔ بڑے سے بڑے حادثے سے دوچار ہو کر بھی ہم رک نہیں سکتے بقا کی خاطر ہمیں چلنا ہی ہوتا ہے۔۔۔ زندگی میں آگے بڑھنا ہی ہوتا ہے۔۔۔ آپ بھی یوں ہمت نہیں ہار سکتی۔۔۔ اپنے ڈاکومنٹس وغیرہ مجھے دیں میں آپکی مائیگریش یہیں لاہور میں کرواتا ہوں اور اسی ہفتے سے آپ یونیورسٹی جوائن کریں گی۔۔۔ جتنا خود کو مصروف رکھیں گی اتنی جلدی اس فیز سے باہر نکلیں گی۔۔ جتنا اپنے اس عظیم نقصان کے بارے میں سوچیں گی خود کو اذیت دیں گی۔۔۔ آپ بہت اچھی بیٹی ہیں جس نے کبھی اپنی ماں کو اسکی زندگی میں تنگ نہیں کیا۔۔۔یقیناً اب آپ یوں خود کو اذیت دے کر وہاں اپنی ماں کو تکلیف نہیں دینا چاہیں گئ۔۔۔ انہیں اس وقت صرف آپکی دعاوں کی ضرورت ہے۔۔۔ چلیں شاباش جلدی سے ناشتہ کریں اور پھر جلدی سے شبو ملازمہ کیساتھ جا کر اپنی کتابیں اور جرنل وغیرہ خرید کر لائیں اور آج سے ہی اپنی پڑھائی شروع کریں۔۔۔ نور تو انکی اسقدر جلد بازی پر محض انہیں دیکھ کر ہی رہ گئ۔۔۔ انکل اتنی جلدی۔۔۔ محض لب پھڑپھڑائے تھے۔۔۔ کوئی جلدی نہیں ہے یہ بیٹا۔۔۔ بڑے بزرگ کہتے ہیں کل کرے سو آج اور آج کرے سو اب۔۔۔ آپ کو جو بھی کام کرنا ہو اسکا بہتریں وقت ابھی ہے ۔ یہاں کوئی سوچ دماغ پر آئی اور اسی وقت اس پر کام کر لیا گیا تو کام ہو گیا ورنہ وہ کل کبھی نہیں آتی۔۔۔ یہ لیں یہ کچھ پیسے رکھیں اپنی ضرورت کی شاپنگ بھی آپ آج ساتھ ہی کر لیں۔۔۔ مجھے ابھی کچھ کام ہے۔۔۔ دس منٹ تک ڈرائیور آپکو پک کرنے آ جائیگا اور جب تک میں آپکو دریاب کے حوالے سے اپنے گھر نہیں لیجاتا تب تک شبو یہیں چوبیس گھنٹے آپکے ساتھ ہی رہے گئ۔۔۔ وہ محبت سے اسکا سر تھپتھپاتے ہاتھ میں پکڑے نوٹ زبردستی نور کے ہاتھ میں تھماتے وہاں سے نکل آئے تھے۔۔۔
وہ کافی حد تک نور کا دھیاں بٹانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔۔۔ نور ابھی تک ہاتھ میں نوٹ تھامے غیر یقینی سے انکی جانب دیکھ رہی تھی کیا کوئی اتنا بھی ہمدرد اور غمگسار ہو سکتا ہے۔۔۔ ابھی اسکے اطمیئنان کو اتنا کافی تھا کہ وہ محفوظ پناہ گاہ میں تھی۔۔۔ فہد کی پہنچ میں ہوتی تو شاید ابھی تک عزت بھی گنوا بیٹھی ہوتی۔۔۔ فہد کی سوچ آتے ہی اسکے اعصاب جھنجھنا اٹھے تھے۔۔۔ سرعت سے کھڑی ہوتی وہ سنگھار میز کے سامنے آتی اپنے بال بنانے لگی۔۔۔ ٹھیک کہتے تھے کمال انکل کہ اگر اسے اپنے بھیانک ماضی سے پیچھا چھڑوانا تھا تو اسے خود کو زیادہ سے زیادہ مصروف رکھنا ہو گا۔۔۔۔
*****
تیار ہو گئے دریاب بیٹا۔۔۔ سنگھار میز کے سامنے خوشبووں میں رچا بسا سا کھڑا دریاب اس وقت بال بنانے کے بعد خود پر پرفیوم کا چھڑکاو کر رہا تھا جب کمال صاحب اسکے کمرے میں داخل ہوئے۔۔۔
بابا آپ یہاں۔۔۔۔ کوئی کام تھا تو مجھے بلوا لیتے۔۔۔ کام تو مجھے واقعی ہے بیٹا اس لئے سوچا خود ہی تمہارے پاس چلا آوں۔۔۔ کمال صاحب سامنے موجود صوفے پر براجمان ہوئے تو دریاب بھی پرفیوم کی شیشی سنگار میز پر رکھتا انکے پاس ہی صوفے پر آ بیٹھا۔۔۔ اسے کمال صاحب کا انداز کچھ سنجیدہ لگا تو جیسے اسکے دل میں ایک پکڑ دھکڑ سی شروع ہو گئ تھی جیسے چھٹی حس کوئی سگنل دے رہی ہو کہ بات اسی سے متعلق ہے۔۔۔
جی بابا کہیے۔۔۔
بیٹا میں چاہتا ہوں کہ زرش کی شادی کیساتھ ساتھ تمہاری اور نور کی بھی رخصتی ہو جائے۔۔۔ دریاب نے نہایت تعجب سے باپ کی جانب دیکھا۔۔۔ جتنی آسانی سے کمال صاحب نے یہ بات کہی تھی دریاب کو خود پر کمرے کی چھٹ گرتی محسوس ہوئی۔۔۔ یکدم دل میں ایک درد جاگا تھا جسے وہ لب بھینچتا کمال مہارت سے چھپا گیا کہ ابھی اس درد سے زیادہ اہم مسائل کھڑے تھے سامنے۔۔۔
ِبابا میرے خیال میں پہلے زرش کی شادی ہو جانی چاہیے کیونکہ امی اسکی شادی کو لے کر بہت پرجوش ہیں ۔۔ اور آپ جانتے ہیں کہ امی نے میری شادی کے حوالے سے کتنے خواب سجا رکھے ہیں میرے نکاح کی خبر انکے اعصاب پر بہت برا اثر ڈالے گی ایک الگ ہی ہنگامہ بھرپا ہو جائے گا۔۔۔ خوامخواہ ہی زرش کی شادی بھی متاثر ہوگی۔۔۔ اس لئے میرے خیال سے۔۔ وہ ہر جانب سے ہر پہلو پر غور کر کے بول رہا تھا جب کمال صاحب نے اسکی بات کاٹی۔۔۔
آج زرش کی شادی کی تاریخ پکی ہو جائے پھر اس بارے میں بھی کچھ سوچ لیتے ہیں ۔۔۔ نور آج کل جس ذہنی کیفیت سے گزر رہی ہے ایسے میں اسے ایک جذباتی سہارے کی ضرورت ہے اور وہ جذباتی سہارا اسے شوہر کے روپ میں محض تم ہی فراہم کر سکتے ہو۔۔۔ باپ کی بات پر اسنے کرب سے آنکھیں میچیں۔۔ جذباتی سہارے کی تو اسے بھی ضرورت تھی وہ خود کیا کرتا۔۔۔ دل میں کسی اور کو رکھ کر وہ اس لڑکی کے ساتھ کیسے اپنی نئ زندگی کیسے شروع کرتا۔۔۔ وہ خود کو ایک عجیب دوراہے پر کھڑا پا رہا تھا سب سے بڑھ کر اسکی ماں کو اسکے نکاح کا علم ہوتا تو انکا ری ایکشن کیا ہوتا۔۔۔ کمال صاحب کب کے جا چکے تھے مگر وہ ابھی تک اپنی سوچوں میں غلطاں تھا۔۔ موبائل کی رنگ ٹیوں پر وہ اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔ فون اسکے دوست حدید کا تھا۔۔ نیچے سے مہمانوں کے آنے کا شور آ رہا تھا یقیناً زرش کے سسرال والے آ چکے تھے۔۔۔ حدید کو بعد میں بات کرنے کا میسج سینڈ کر کے وہ کمرے سے باہر نکلا۔۔
****
