Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hala (Episode 16)

Hala By Umme Hania

نجانے حدید نے دادی کو اتنے شارٹ نوٹس پر کیسے تیار کیا تھا مگر وہ شام میں پورے اہتمام کیساتھ ملازموں کیساتھ فروٹ اور مٹھائیوں کے ٹوکروں سمیٹ لدی پھندی وہاں پہنچی تھیں۔۔۔

مضحمل سی زرش کو خود سے لپٹائے وہ اسکے واری صدقے جاتی نا تھک رہی تھیں۔۔

زہرا بیگم نے بھی بیٹی کے سسرال کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی کمی نا چھوڑی تھی اور حدید تو ویسے بھی انہیں بہت پسند تھا۔۔۔۔

پرسوں زرش اور حدید کی مہندی تھی اور انکی شادی کیساتھ ہی کمال صاحب نے دریاب کی رخصتی کا بھی اعلان کر دیا تھا ۔۔ حدید کی دادی کے سامنے اس انکشاف پر زہرہ بیگم بل کھا کر رہ گئ تھیں لیکن بامشکل قابو ہوتے حالات کے پیش نظر وہ اب مزید کوئی بھی بدمزگی پھیلانے سے گریز کر رہی تھیں آخر کو لاڈلی بیٹی کا معاملہ تھا لحاظہ خون کے گھونٹ پی کر رہ گئیں۔۔۔

کمال صاحب نور کے لاکھ اعتراض اور مخالفت کے باوجود اسے اپنی انیکسی میں شفٹ کروا چکے تھے۔۔۔ بقول انکے شادی میں دو دن رہ گئے تھے اس لئے اسکی رخصتی انیکسی سے ہی ہو گئ۔۔۔ زہرا بیگم نے نور کے انیکسی آنے پر ایک ہنگامہ بھرپہ کیا تھا وہ الگ بات کہ کمال صاحب نے انکے کسی واویلے پر کان نہیں دھرے تھے۔

******

سورج کی کرنیں کھڑکی کی کھلے پٹوں سے چھن چھن کر اندر آتی صبح ہونے کی نوید سنا رہی تھی۔۔۔ گھنے سلکی بال سرہانے پر بکھرے تھے جبکہ گھنیری پلکیں کندھاری گالوں پر سایہ فگن تھی پنکھریوں سے نازک لب آپس میں باہم پیوست تھے وہ چہرے پر زمانے بھر کی مٰعصومیت سموئے ہر چیز سے بے نیاز محو استراحت تھی کہ معاً سورج کی کرنیں اسکی پرسکون نیند میں خلل کا باعث بنین۔۔۔زرا سا کسمساتے اس نے اپنا مرمریں ہاتھ آنکھوں پر رکھا اور رخ موڑ گئ۔۔۔ ہلکی سی آنکھیں وا کرتے اسنے ماحول سے شناسائی چاہی لیکن ماحول سے مانوس ہوتے ہی وہ ایک جھٹکے سےاٹھ بیٹھی۔۔۔اٹھنے سے ریشمی بال کندھوں کے ارد گرد جابجا بکھرے تھے ۔ اٹھتے ہی پہلی نگاہ دائیں جانب دیوار پر ایستادہ گھڑی کی جانب اٹھی جو صبح کے ساڑھے آٹھ بجانے کا سندیسہ دے رہی تھی۔۔۔

ارے ارے۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔ لیٹی رہو۔۔۔ آرام کرو تم۔۔۔ اسے یوں ہربڑاہٹ میں اٹھتا دیکھ سنگھار میز کے سامنے تیار ہوتا عمران فوراً سے اسکی جانب پلٹا۔۔۔۔

آپ آفس جانے کے لئے تیار بھی ہونے لگ گئے اور آپ نے مجھے اٹھایا بھی نہیں عمران۔۔۔ میں ابھی آپکے لئے ناشتہ بناتی ہوں۔۔۔

تیزی سے گزرتے وقت کو دیکھتی آئتل ہربراہٹ میں کہتی روہانسی ہو اٹھی تھی۔۔۔ انکی شادی کو پندرہ دن ہو چکے تھے۔۔۔ اور ان پندرہ دنوں میں آئتل نے بھرپور کوشیش کی تھی سب کچھ بھلا کر اس گھر اور اس گھر کے مکینوں کے ساتھ ایڈجسٹ ہونے میں۔۔۔ لیکن اجنبی لوگوں اور اجنبی جگہ پر ایڈجسٹ کر پانا باوجود کوشیش کے بھی اس کے لئے اتنا آسان نا تھا۔۔۔

وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر گھبرا جاتی تھی۔۔۔ بہت جلدی ہواس باختہ ہو کر کسی کونے میں چھپ کر گھںٹوں آنسو بہاتی تھی۔۔۔اسے یوسف کے ساتھ کی عادت اسقدر ہو چکئ تھی کہ اسے بھولنے کی بارہا کوشیش کے باوجود بھی وہ دن کے کسی نا کسی حصے میں اسے یاد آ ہی جاتا۔۔۔

بلاشبہ عمران اسکے لئے بہت اچھا شوہر ثابت ہوا تھا اور اسی کے دم کی وجہ سے اسے جینے کا حوصلہ ملتا تھا۔۔۔ عمران سے اسکی جھجھک مکمل تو ختم نا ہوئی تھی مگر وہ کافی حد تک اس سے بات چیت کرنے لگی تھی اور اس کوشیش میں بھی زیادہ ہاتھ عمران کا ہی تھا جو ہروقت اس سے کوئی نا کوئی بات کرنے کی جستجو میں رہتا تھا۔۔۔

عمران کی ماں اسکی بڑے بھائی اور اسکی بیوی کیساتھ گاوں میں رہتی تھی جبکہ عمران اپنے کاروبار کے سلسلے میں شہر میں ہوتا تھا۔۔۔

عمران کی ماں نے آئتل کو ہاتھوں ہاتھ لیا تھا لیکن وقت گزرنے کیساتھ وہ کسی سخت گیر استاد کی مانند اسے ہر چیز سے آگاہ کرتی تھیں۔۔۔ جیسے شادی کے تیسرے ہی روز آئتل کے ناشتے کی میز پر جاتے ہی وہ اس پر چڑھ دوڑی تھیں۔۔۔

یہ کیا بہو سونے گلے اور سونے ہاتھوں سمیت ہی کھانے پر آ گئ۔۔۔ نا کوئی ہار نا سنگھار تم کہاں سے نئ نویلی دلہن لگ رہی ہو۔۔۔ وہ تیکھے چتونوں سمیت اس سے باز پرس پر اتری تو آئتل لمحوں میں حواس باختہ ہو اٹھی تھی۔۔۔

کوئی بات نہیں اماں آئتل ناشتے کے بعد تیار ہو جائے گئ وہ تو اب بھی تیار ہو جاتی مگر میں نے ہی جلدی مچائی تھی۔۔۔ عمران نے استحقاق سے اسکے کندھے کے گرد بازو پھیلاتے اسے تحفظ کا احساس دلایا اور پہلے اسے کرسی پر بیٹھانے کے بعد خود دوسری کرسی پر بیٹھا۔۔۔

ارے دیور جی آپ تو ابھی سے زن مرید ثابت ہوئے بیوی کے خلاف کوئی بات سن ہی نہیں سکتے حالانکہ اماں کی بات کوئی اتنی بھی معیوب نہیں نئ نویلی دلہن کو بن سنور کر ہی رہنا چاہیے۔۔ فرحیں نے معاملہ ٹھنڈا پڑتا محسوس کر کے پھر سے چنگاری لگانی چاہی۔۔۔ آئتل کا دل بھرا رہا تھا۔۔۔ کہاں دیکھا تھا آج سے پہلے اسنے ایسا ماحول وہ بھی تب جب زد پر اسکی اپنی ذات ہو۔۔۔

بھابھی کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ ناشتے کے بعد تیار ہو جائے گی وہ ۔ یہ کوئی اتنا بڑا اشو تو نہیں۔۔۔ عمران نے مسکراتے ہوئے سامنے سے سینڈویچ کی پلیٹ اٹھا کر پہلے آئتل کی پلیٹ میں سینڈویچ رکھا اور پھر اپنی۔۔۔

صحیح لائن پر جا رہے ہو بیٹا۔۔۔ اتنا زن مرید آج تک خاندان میں کوئی بھی نا نکلا جتنے ریکارڈ تم توڑ رہے ہو۔۔۔ عدنان نے بھائی کی اس حرکت کو ناگوار نگاہوں سے دیکھتے ٹوکا۔۔ آئتل زرد پرتی رنگت سے ان سب کو دیکھ رہی تھی۔۔

تو اب دیکھ لیں بھیا اس میں کونسی بڑی بات ہے۔۔۔ ہمسفر اتنی پیاری اور من چاہی ہو تو خودبخود زن مرید بننے کو دل چاہتا ہے۔۔۔ کیوں بھابھی۔۔۔ بھائی کی بات پر قہقہ لگاتے اسنے بات کو مزاح کا رخ دیتے بھابھی کو اندر گھسیٹا۔۔۔

اس میں تو کوئی شک نہیں میری بہو ہے تو چاند کا ٹوٹا۔۔۔ بچے کھانا تو شروع کرو۔۔۔ اور تم سب بھی اب اپنی چونچیں بند کر کے کھانا کھاو بچی کو کنفوز کر کے رکھ دیا۔۔۔ بلآخر اسکی ساس کو ہی اس پر ترس آیا تھا اسی لئے اسکی حواس باختہ شکل دیکھتیں محبت سے گویا ہوئیں۔۔۔ اور پھر اسنے واقعی اپنی ساس کو شکایت کا کوئی موقع نہیں دیا تھا۔ وہ تو تھی ہی شروع سے فرمابراد جو کسی بڑے نے کہہ دیا اسے حرف آخر ماننے والی۔۔۔

اس کی ساس اس سے خوش تھی لیکن دو دن پہلے جب عمران نے دوبارہ آفس جانا شروع کیا اس روز انہیں پھر سے آئتل پر اعتراض ہوا تھا۔۔۔۔

عمران کی عادت تھی جب تک وہ خود کمرے سے نکل نہیں جاتا آئتل کو بھی کمرے سے نکلنے نہیں دیتا تھا۔۔ اسکے جانے کے بعد آئتل سارا دن ساس کے پاس رہتی گھر کے چھوٹے بڑے کام ملازموں کی مدد سے کرتی لیکن عمران کے آ جانے کے بعد سے عمران کو وہ ہر پل اپنے آس پاس ہی دکھائی دینی چاہیے ہوتی تھی۔۔۔ اس روز بھی وہ عمران کیساتھ ہی کمرے سے باہر آئی تھی جب ڈائنینگ ٹیبل پر آتے ہی اسکی ساس نے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔۔۔

بس بہو بہت ہوگئے یہ طور طریقے اب مزید ایسے کام نہیں چل سکتا۔۔۔ میاں تمہارا صبح سویرے کام پر جاتا ہے سارا دن جان مار کر کما کر لاتا ہے تو اچھی بیویوں کا فرض بنتا ہے کہ صبح سویرے اٹھ کر شوہر کے لئے ناشتہ تیار کرے اسے اچھے سے الوادع کرے ۔ باقی سارے گھر کے کام کاج ملازموں کے ذمہ ہو سکتے ہیں مگر اپنے شوہر کے سبھی کام آج سے تم خود کرو گئ۔۔۔ اسکے کھانے پینے کپڑے جوتے کا خیال تم خود ہی رکھو گئ اور آئندہ مجھے یہ سب تمہیں بتانا نا پڑے۔۔۔

ساس کے ان کڑے تیوروں کو دیکھتی وہ یکدم بوکھلا اٹھی تھی اسی لئے سر جھکائے محض ہاں میں سر ہلاتی رہی۔۔۔ امی کیا ہو گیا۔۔۔۔ بس تجھے ہم ساس بہو کے درمیاں بولنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ بڑی ہوں اس گھر کی جہاں کچھ غلط ہوتا دیکھوں گی وہاں روک ٹوک کرنا فرض ہے میرا ۔۔۔ دشمن نہیں ہوں تمہاری یا بہو کی۔۔۔ جوانی کی دہلیز پار کرنے کے بعد مرد کام پر اور لڑکی کچن میں ہی اچھی لگتی ہے۔۔۔ سارا گھر ملازموں کے سر پر چل سکتا ہے مگر گھر کا کچن گھر والی کے دم سے ہی چلتا ہے۔۔۔ اس سے پہلے کہ عمران کچھ کہتا انہوں نے سختی سے اسکی بات کاٹتے اسے آڑے ہاتھوں لیا تھا۔۔۔

جی بالکل اماں جی آپ درست کہہ رہی ہیں۔۔ میں آئندہ سے اس چیز کا خاص خیال رکھوں گئ آپکو شکایت کا کوئی موقع نہیں ملے گا۔۔ لیکن اس کے باوجود آپ جہاں پر مجھے غلط پائیں روک ٹوک کا پورا حق رکھتی ہیں۔۔۔ آئتل میز کی سطح کو انگلی سے کھرچتی آہستگی سے منمنائی تھی۔۔۔ مجھے تم سے یہ ہی امید تھی بہو۔۔۔سدا سہاگن رہو۔۔۔ اسکی ساس ایک مرتبہ پھر سے اسکی فرمابرداری سے خوش ہو اٹھی تھیں اسکے بعد اسنے کل وقت پر اٹھ کر عمران کے لئے ناشتہ تیار کیا تھا جبکہ آج پھر سے سوتی رہ گئ تھی اسکا حواس باختہ ہونا فطری تھا۔۔۔

ارے ارے ارے ریلیکس یار۔۔۔ تم سو رہی تھی اور میں نے تمہیں جان بوجھ کر نہیں جگایا کیونکہ میں تمہاری نیند خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ مزید یہ کہ اماں تو کل شام ہی گاوں جاچکی تو تمہیں کسی بھی چیز کو سر پر سوار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ ریسٹ کرو اور اپنی سہولت سے اٹھ کر کچھ بھی کرنا بلکہ ہر کام کے لئے ملازم موجود ہیں تمہیں خود ہلکان ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔ عمران اسے بعجلت جوتا اڑستے دیکھ اسے بازوں سے تھامتے محبت پاش نگاہوں سے دیکھتا گویا ہوا۔۔۔

بلاشبہ وہ اسکے لئے ایک بہتریں انتخاب ثابت ہو رہا تھا جس نے آئتل کو ہاتھ کا چھالا بنا ڈالا تِھا۔۔۔۔ آئتل کو ماضی سے چھٹکارا حاصل کروانے میں عمران کی پر تعاون طبیعت کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔۔۔

بے شک اماں جا چکی ہیں عمران لیکن پھر بھی مجھے اپنی ذمہ داریوں سے کوئی انحراف نہیں ۔۔۔ آپکے کام اپنے ہاتھوں سے کر کے مجھے خوشی ملتی ہے۔۔۔ میری زندگی کا محور تو آپ ہی ہیں آپ کے گرد میری ذات نہیں گھومے گی تو اور میں کیا کروں گی۔۔

اگر آپ کو بنا ناشتے کے گھر سے جانے دیا تو میرا بھی پورا دن اچھا نہیں گزرے گا آپ تیار ہو کر باہر آئیں میں صرف دو منٹوں میں ناشتہ تیار کر لوں گی۔۔۔ کھلی آبشار کو ہاتھوں سے سمیٹتے اسنے جوڑا بنایا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

ایسے مت کیا کرو یار۔۔۔ مزید اپنا دیوانہ بناتی ہو۔۔ ایسے ہی چلتا رہا تو میں کر بیٹھا باقی کام کاج مخمور لہجے میں کہتا وہ مزید اسکے قریب ہوتا ایک شوخ سی جسارت کر بیٹھا تھا۔۔۔

جلدی نیچے آئیں۔۔۔ اسے ہاتھ سے پیچھے دھکیلتی وہ مسکراہت لبوں میں دابے بعجلت کمرے سے باہر نکلی۔۔۔

جلدی جلدی اسکے لئے پڑاتھا بیلتے آئتل نے ساتھ ہی چائے چڑھا کر آملیٹ پھینٹنا شروع کی۔۔۔ ہونٹوں ہر ایک شرمگین مسکراہٹ سجائے وہ تیز تیز ہاتھ چلا رہی تھی۔۔۔ پڑاتھا بنا کر سائیڈ پر رکھا جب عمران اسے کمرے سے باہر نکلتا دکھائی دیا۔۔۔ اسکے ہاتھوں میں مزید تیزی آ گئ تھی پین میں آئل ڈال کر اس میں آملیٹ کا آمیزہ انڈیلا جب وہ مسکراتا ہوا بالکل اسکے پاس آ کھڑا ہوا۔۔۔

میں کچھ مدد کرواں۔۔۔

جی آپ وہ ریک سے پلیٹ پکڑا دیں یوسف۔۔ چائے چھانتی وہ یکدم ہی بے خودی میں بول اٹھی تھی لیکن جب اپنے بے خودی میں بولے الفاظ کا احساس ہوا تو دل دھک سے رہ گیا ۔۔ چائے چھانتے ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گئے تھے۔۔۔ دوسری جانب بھی مکمل سکوت چھا گیا تھا جو اسکا دل دہلا رہا تھا۔۔۔ تھوک نگلتے اسنے پھٹی پھٹی ساکت نگاہوں کو حرکت دیتے عمران کی جانب دیکھا جو ضبط سے لب بھینچے سرخ ہوتی نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا کچھ دیر پہلے والا ہونٹوں پر کھلتا تبسم اس وقت سرد مہری اور غصے کی دبیز تہہ تلے کہیں کھو گیا تھا۔۔۔۔

عم۔۔۔ عمران وہ۔۔۔ اپنے اندر حوصلہ پیدا کرتی وہ کچھ کہنے ہی والی تھی جب عمران ہاتھ میں تھامی پلیٹ پوری قوت سے سنک میں پھینکتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا کچن تو کیا گھر سے ہی نکل کیا۔۔۔ آئتل کا چڑیا سا دل مزید سہم گیا تھا۔۔۔ آملیٹ چولہے پر پڑی پڑی کوئلہ بن چکی تھی۔۔۔ دیوار کا سہارا لیتے وہ سسک اٹھی تھی۔۔۔ میرے مالک کیا میرا ماضی کبھی میرا پیچھا چھوڑے گا۔۔۔ اسکا دل ہر چیز سے اچاٹ ہو چکا تھا سب کچھ وہیں چھوڑتی وہ بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں گئ اور بیڈ پر اونڈھے منہ گرتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ ناجانے اس اجنبی سے کیسا رشتہ جڑ گیا تھا جو اسکی ناراضگی سیدھا دل پر وار کرتی تھی۔۔۔

____