Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hala (Episode 26)

Hala By Umme Hania

عمران کے قدم آج زمین پر نا ٹک رہے تھے۔۔۔ خوشی سے چہکتے ہوئے وہ پورے ہسپتال میں مٹھائیاں بانٹ رہا تھا ۔۔۔ آج خدا نے انکی سن لی تھی ۔۔۔ شادی کے سات سال بعد اللہ نے انکے گھر رحمت عطا کی تھی۔۔۔ اس ننھی سی پری نے انکی زندگی میں آ کر انکی دنیا مکمل کر دی تھی۔۔۔

اپنی بیٹی کو گود میں لیتے بے ساختہ عمران کی آنکھیں احساس تشکر کے تحت نم ہو اٹھیں تھی۔۔

امی آئتل کیسی ہے۔۔۔ ماں کو واپس وہ ننھی پری تھماتے اسنے اپنی متاع حیات کا پوچھا۔۔۔ شکر ہے اللہ کا وہ بھی ٹھیک ہے کمرے میں شفٹ کر دیا ہے اسے۔۔۔

کچھ دیر بعد وہ اس ننھی ہری کے ہمراہ اسکے پاس کمرے میں موجود تھا جسے بیڈ کو سر کی سائڈ سے اوپر اٹھا کر بیٹھایا گیا تھا ۔۔۔

کیسی ہے ہماری شہزادی۔۔۔ عمران نے مسکراتے ہوئے بچی آئتل کی گود میں لٹائی تو آئتل بھی بے ساختہ رو دی۔۔۔

عمران اللہ نے ہماری سن لی۔۔۔ ننھی سی پری کو خود میں بھینچے وہ جتنا اپنے رب کا شکر ادا کرتی کم تھا جس نے انکی فیملی مکمل کر دی تھی۔۔۔

اس نے ہماری زندگی میں آ کر ہماری زندگی میں موجود اندھیرے کو ختم کر دیا آئتل۔۔۔ اس لئے اسکا نام ہم نور رکھیں گے۔۔۔ عمران کے اسکا نام رکھنے پر آئتل کھلکھلا کر ہس دی۔۔۔ ننھی سی پری نور گویا ماں کے ساتھ ساتھ باپ کی بھی آنکھوں کا تارا تھی۔۔۔ جسے دیکھ دیکھ وہ دونوں جیتے تھے۔۔۔ وقت پر لگائے اڑ رہا تھا۔۔۔ آئتل پیار محبت کو حدود کو ڈوڑوں میں باندھ کر ماں کی طرح اسکی تربیت کر رہی تھی لیکن وہ ہمیشہ روک ٹوک اور پابندیوں پر باپ کی آڑ لیتی آنکھ بچا لیتی تھی۔۔ آِئتل کو عمران کے بے جا لاڈ پیار اور محبت سے چڑ تھی جسکا وہ برملا اظہار بھی کرتی تھی وہ الگ بات کہ اسکا کبھی عمران نے اثر نہیں لیا تھا۔۔۔

زندگی بہت مکمل انداز میں گزر رہی تھی جب یکدم ہی حالات نے پلٹا کھایا اور سب کچھ تہس نہس کر کے رکھ دیا ۔۔۔

******

کمال آپ۔۔۔۔ زہرا بیگم سٹڈی کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئیں مگر کمال صاحب کو صوفہ کم بیڈ پر نیم دراز دیکھ کچھ کہتی کہتی رک گئیں۔۔۔

یہ سچ ہے کہ میں آئتل سے محبت کرتا تھا زوئی۔۔۔ بہت محبت کرتا تھا۔۔۔ اتنی کہ میری زندگی کا محور وہی تھی…

زہرا بیگم نے نم آنکھوں سے ٹھٹھک کر یوسف کمال کو دیکھا۔۔۔ جو ایک عمر انکے ساتھ بیتا دینے کے بعد آج ان پر یہ انکشاف کر رہے تھے۔۔۔۔

مگر وہ سب آئتل کی شادی کیساتھ ہی ختم ہو گیا تھا۔۔۔ وہ لڑکی وفا کا پیکر تھی مخلص ۔۔۔ شادی کے بعد اسنے اپنے شوہر سے وفا نبھائی۔۔۔ اور میں۔۔۔ میں نے بھی ماضی کو بھلا کر تمہیں اپنی زندگی میں شامل کیا تھا۔۔۔ شادی کے بعد اپنی تمام وفائیں تمہارے نام کر دیں۔۔۔ پر افسوس کہ تمہارے شک نے ہماری زندگیوں کے بہترین سال کھا لیے۔۔۔۔ اس روز کے بعد سے میرا دوبارہ کبھی آئتل سے کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا۔۔۔ مگر۔۔۔ بولتے بولتے انکی آواز جیسے رندھنے لگی تھی۔۔۔ وہ ہنور آنکھیں بند کئے چٹ لیتے تھے۔۔۔

وہ سب محض شک نہیں تھا کمال۔۔۔۔ آپکا نیند میں بھی آئتل کو پکارنا۔۔۔ مجھے دن میں بارہا زوئی کی بجائے آئتل کہنا۔۔۔ سب محض شک نہیں تھا۔۔۔ میرا شک نہیں بلکہ اس عورت کا وجود ہمارے کئ خوشگوار سالوں کو کھا گیا۔۔۔ وہ ہم میں نا ہو کر بھی موجود تھی ۔۔ وہ اس گھر کے کونے کونے میں موجود تھی۔۔۔ آنسو بے ساختہ زہرا بیگم کی آنکھوں سے بہہ نکلے تھے۔۔۔ چٹخ ہی تو گئ تھیں وہ اس الزام پر۔۔۔

اسکی موجودگی کو کبھی تم نے ختم ہونے ہی نہیں دیا ہمارے درمیان سے زہرا۔۔۔ تم نے کبھی اس گھر کے کونے کونے میں اپنے آپ کو بسنے ہی نہیں دیا۔۔۔ کمال صاحب جھٹکے سے اٹھ بیٹھے تھے۔۔۔ دن کی بیشتر حصے میں میری نہیں تمہاری باتوں میں اسکا ذکر ہوتا تھا۔۔۔ میں اگر شروع کے دنوں میں تمہیں آئتل بلا جاتا تھا تو اس لئے نہیں کہ تم سے مخلص نا تھا یا اب بھی میرا آئتل سے کوئی رابطہ تھا۔۔۔ بلکہ اس لئے کیونکہ اتنے سال ہم اکھٹے رہے تھے۔۔۔ اسکا نام عادت بن کر میری زبان پر موجود تھا جسے میں بے ساختگی میں زبان سے ادا کر بیٹھتا تھا۔۔۔ میں اپنی اس بے ساختہ عادت پر قابو پا رہا تھا اور پایا بھی لیکن تم نے میرے اس سفر کو مزید مشکل بنایا کیونکہ تم مجھے اسے بھولنے نہیں دیتی تھی کیونکہ تمہاری ہر بات میں وہ ہوتی تھی۔۔۔۔

یوسف میں سب بھولنا چاہتی ہوں پلیز مجھے معاف کر دیں اور سبھی پرانی باتوں کو بھول جائیں۔۔۔ وہ جیسے تھک گئ تھیں خود سے لڑتے لڑتے۔۔۔ دوزانوں انکے پاس بیٹھتیں انکے دونوں ہاتھ تھام گئیں۔۔۔ میں تو کب کا بھول چکا تھا زوئی مگر تم بھولنے ہی نہیں دیتی۔۔۔ یوسف نے نم آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا دونوں ٹرانس کی کیفیت میں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔۔

آپ سے بہت محبت کرتی ہوں یوسف۔۔ دیوانگی کی حد تک۔۔۔۔

جانتا ہوں اور اسی بات کا ثبوت تم اپنی صبح والی حرکت سے دے چکی ہو ۔۔۔ بھرپور ظنز سے کہتے وہ چہرا موڑ گئے تھے انکا حوالہ صبح نور پر سوپ پھینکنے کی طرف تھا۔۔۔

آنسو ٹپ ٹپ زہرا کی آنکھوں سے گرنے لگے تھے۔۔۔ یہ ایک کام مجھے مت کہیں یوسف۔۔۔ باقی جو مرضی کہہ دیں نا کروں تو کافر ٹھہروں۔۔۔ میں نے بہت کوشیش کی مگر میں آئتل کی بیٹی کو اپنی بہو بنانے کا حوصلہ خود میں نہیں رکھتی۔۔۔ زوئی نے بے بسی سے کہتے دونوں ہاتھ یوسف کے چہرے پر رکھتے انکا چہرا اپنی جانب کیا ۔۔۔ یوسف صاحب نے کرب سے آنکھیں میچیں۔۔۔ دل کے مقام سے درد کی ٹھیسیں اٹھنے لگی تھی۔۔۔

یوسف۔۔۔ یوسف کیا ہوا۔۔ آ۔۔۔آپ ٹھیک ہیں۔۔۔ انکا ہلدی کی مانند زرد پڑتا چہرا زہرا کے ہاتھ پاوں پھلا رہا تھا۔۔۔۔

بلاشبہ تم مجھ سے بہت محبت کرتی ہو زوئی۔۔۔ مگ۔۔۔ مگر افسوس کہ تم مجھ پر اع۔۔۔ اعتبار نہ کر پائی۔۔۔۔ کرب سے کہتے یوسف کمال کا ہاتھ زوئی کے ہاتھ سے چھوٹا تھا۔۔۔۔ گردن ایک طرف کو ڈھلک گئ تھی۔۔۔

زوئی پھٹی پھٹی نگاہوں سے یوسف کی جانب دیکھ رہی تھی جہاں آئتل گل کی کہانی کے ساتھ آج یوسف کمال کی کہانی کا بھی اختتام ہو گیا تھا۔۔۔

در۔۔۔دریاببببب۔۔۔۔ دریابببببب۔۔۔ سکتا ٹوٹے ہی گھر کے در و دیوار زہرا بیگم کی چیخوں قہار سے لرز اٹھے تھے جنہیں سنتے ہی لمحوں میں اس گھر کے سبھی مکین حواس باختہ سے وہاں پہنچے تھے۔۔۔

در۔۔۔دریاب دیکھو تمہارے بابا آنکھیں نہیں کھول رہے۔۔۔ انہیں بولوں اٹھیں نا ۔۔۔ بولو دریاب یہ تمہاری کوئی بات نہیں ٹالتے۔۔۔۔ دریاب کو دیکھتے ہی زہرا بیگم اسکی جانب لپکی انکی حالت کسی دیوانی کی سی تھی جو آج اپنی قیمتی متاع کو کھو چکی ہو۔۔۔

دریاب نے بےیقینی سے پہلے ماں کو دیکھا اور پھر باپ کو جو ابھی کچھ دیر پہلے اس سے باتیں کر رہے تھے۔۔ اسنے آگے بڑھ کر باپ کی نبض ٹٹولی جو کہ الگ ہی داستان سنا رہی تھی۔۔۔ دریاب کے ہاتھ سے باپ کا ہاتھ چھوٹا تھا۔۔۔ کیا زندگی اتنی ہی بے اعتباری چیز کا نام تھا۔۔۔ وہ ایک کڑیل جوان مرد تھا وہ یہ فراموش کر چکا تھا ۔۔۔ سامنے موجود شخص اسکا باپ ہی نہیں بہترین دوست غمگسار اور سچا ہمدم بھی تھا وہ اپنے کس کس نقصان پر روتا۔۔۔۔

وہ باپ کے پاس ہی گھٹنوں کے بل ڈھے گیا تھا۔۔۔۔

نا کریں یار۔۔۔ اٹھ جائیں بابا۔۔۔ ایسا مذاق نہیں کرتے۔۔۔ باوجود ضبط کے ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹوٹا تھا اور پھر ضبط کے سبھی بندھن توڑتا وہ انکے سینے میں منہ چھپاتا سسک اٹھا تھا۔۔۔

بااااابااااا۔۔۔ حواس باختہ سے حدید نے سرعت سے آگے بڑھتے دریاب کو سمبھالا تھا۔۔۔ اس صورتحال سے حدید کے ہاتھ پاوں پھول چکے تھے ۔۔۔ ایک طرف زرش پر باپ کی موت سے غشی طاری ہو رہی تھی تو دوسری جانب دریاب۔۔۔

سمبھال یار خود کو اگر تو ہی ایسا کرے گا تو آنٹی کو کون سمبھالے گا۔۔۔۔

****

ہر طرف چیخ وقہار تھی۔۔۔ ابتدائی جھٹکے سے سمبھلنے کے بعد دریاب کافی حد تک سمبھل چکا تھا سرخ پرتی آنکھوں سے خود پر ضبط کے پہاڑ کھڑے کرتا وہ باپ کے آخری سفر کی تیاری کر رہا تھا۔۔۔ زرش کی بگڑتی طبیعت کے باعث ڈاکٹر نے سکون آور انجیکش لگائے تھے جسکے باعث اس وقت وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر کمرے میں لیٹی تھی۔۔۔ وہ باپ بھائی کی لاڈلی تھی اتنا بڑا دھچکا پہلی بار میں سہہ نہیں پائی تھی۔۔۔

کئ پلوں تک ماں کو خود سے لگائے دریاب انہیں کھل کر دل کا غبار نکالنے کا موقع دے کر کئ لمحوں تک انہیں تحفظ کا احساس دلاتا رہا۔۔۔

جب ہر کوئی اپنے غم میں نڈھال تھا ایسے میں صرف نور ہی تھی جو گم صم ساکت و جامد ایک کونے میں کھڑی قسمت کی یہ ستم ظریفی دیکھ رہی تھی۔۔۔ اسکا دل پھٹ رہا تھا ۔۔۔ دل چاہا وہ بین کر کر کے اپنے دل کا غبار نکالے کیونکہ وہ آج صحیح معنوں میں یتیم ہو گئ تھی۔۔۔۔ اسکی ماں مری تھی تو کمال انکل تھے جنہوں نے اسے سمبھالا تھا اس درد بھرے فیز سے نکلنے میں مدد کی تھی ۔۔۔ اس زمانے کی گرم و سرد میں اسکی ڈھال بنے تھے۔۔۔ وہ اسکے لئے ایک ایسا سایہ دار شجر تھے جسکی چھاوں میں وہ خود کو محفوظ تصور کرتی تھی۔۔۔ آج اس پر سے وہ چھاوں اٹھ گئ تھی۔۔۔ وہ تپتے ریگستان میں برہنہ پاوں پٹخ دی گئ تھی۔۔۔ دل کا درد حد سے سوا ہونے لگا تھا۔۔ وہ لب باہم آپس میں پیوست کئے وہیں دیوار کے سہارے نیچے بیٹھ کر گھٹنے سینے سے لگائے ان پر سر رکھ کر خاموش آنسو بہانے لگی۔۔۔

*****

رات سے صبح اور پھر صبح سے دوپہر ہو گئ۔۔۔۔ حدید نے دریاب کیساتھ مل کر سبھی انتظامات مکمل کئے۔۔۔۔ جنازہ اٹھنے کے بعد رفتہ رفتہ سبھی مہمان واپس جانا شروع ہوگئے تھے۔۔۔ حدید بھی دادی کو گھر چھوڑنے گیا تھا البتہ زرش وہیں تھیں جبکہ وہ بھی دادی کو گھر چھوڑ کر واپس وہیں آنے والا تھا۔۔۔ ایسے میں ایک وہی تھی جو ابھی تک اسی دیوار کیساتھ ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی تھی۔۔۔ اب تو اسے دیکھ کر کسی مجسمے کو گمان ہوتا تھا۔۔۔۔ اپنے اپنے غم میں نڈھال کسی کا بھی خیال اسکی جانب نہیں گیا تھا۔۔۔ جسنے رات سے ابھی تک پانی کا ایک گھونٹ تک حلق سے نہیں اتارا تھا۔۔۔

سبھی مہمانوں کے جانے کے بعد دریاب نے ندھال سی ماں کو زبردستی کمرے میں لیجانے کے لئے اٹھایا۔۔۔ دریاب کے ساتھ لگی اپنے کمرے میں جاتی زہرا بیگم کی نظر جیسے ہی دیوار کے ساتھ گھٹری بن کر بیٹھی نور پر پڑی تو گویا انکے جسم میں پھریری سی ڈور گئ۔۔۔۔ غصے کی زیادتی سے وہ ہانپنے لگی تھیں۔۔۔۔

یہ۔۔۔ یہ لڑکی یہاں کیا کر رہی ہے۔۔۔ یہ ہے۔۔۔ یہ ہے کمال کی موت کی وجہ۔۔۔۔ وہ ہاتھ سے دریاب کو پیچھے کرتی لڑکھڑاتی ہوئی نور کے سر پر پہنچی۔۔۔۔ نور نے متوحش رو رو کر سوجھی نگاہیں اٹھا کر اپنے سامنے کھڑی زہرا بیگم کو دیکھا۔۔۔ سیدھا ہونے پر اسے محسوس ہوا کہ رات بھر ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے رہنے سے اسکی کمر اکڑ گئ ہے۔۔۔

یہ ہے تمہارے باپ کی موت کی وجہ۔۔۔ اسکی وجہ سے سب ہوا ہے۔۔۔ زہرا بیگم دریاب کو اسکی جانب متوجہ کرتیں چیخی ۔۔۔ نور اس ساری صورتحال میں خود کو سمبھالتی ہاتھ پر وزن ڈالتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

کیوں آئی یہ ہم سب کی زندگیوں میں۔۔۔ کاش یہ ہماری زندگیوں میں کبھی نا آئی ہوتی۔۔۔ یہ میرے اور کمال کے درمیان اختلاف کی واحد وجہ تھی۔۔۔

نہیں چھوڑوں گی ۔۔۔ نہیں چھوڑوں گی میں اسے۔۔۔ زہرا بیگم نے بے دردی سے اپنے آنسو صاف کرتے اسے بالوں سے تھام کر کئ ایک جھٹکے دیئے جس سے بے ساختہ نور کے منہ سے کئ چیخیں بلند ہوئیں۔۔۔

امی۔۔۔ امی۔۔۔ آپ یہ کیا کر رہیں ہی۔۔۔ امی چھوڑیں اسے۔۔۔ دریاب نے سرعت سے مداخلت کرتے بامشکل ماں کے ہاتھوں سے نور کے بال آزاد کرواتے اسے اپنے پیچھے چھپایا۔۔۔

امی کیا ہو گیا ہے آپکو ۔۔ دریاب نے بے بسی سے ماں کا چہرا اپنے ہاتھوں میں تھاما۔۔

نکالو اسے اس گھر سے۔۔۔ طالاق دو اسے ۔۔۔ ابھی اور اسی وقت۔۔۔ میں مزید اس لڑکی کا وجود اپنے گھر میں برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔ دو طلاق اسے ۔۔۔۔ زہرا بیگم جھٹکے سے دریاب کے ہاتھ جھٹکتی جنونی انداز میں چلائیں۔۔۔

نور کو آسمان اپنے سر پر گرتا محسوس ہوا۔۔۔ وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے زہرا بیگم کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ ایک بار پہلے بھی انہوں نے ایسا ہی مطالبہ کیا تھا تب بھی کمال انکل ہی اسکی ڈھال بنے تھے۔۔ مگر آج۔۔۔۔

آج تو وہ اس روز کی طرح یہ بھی نہیں بول سکتی تھی کہ دیں مجھے طالاق۔۔۔۔ وہ تو ابھی تک صدمے کی پہلی چوٹ کی زد میں تھی۔۔۔ خواہ کتنا بھی خود کو مضبوط ظاہر کرتی۔۔۔ مگر سمبھلنے کے لئے بھی تو کچھ وقت درکار تھا نا۔۔۔۔

امی آپ۔۔۔ دریاب نے آگے بڑھتے بپھری ہوئی ماں کو سمبھالنا چاہا۔۔۔۔

بس دریاب اسے طلاق دو۔۔۔۔ طلاق دو اسے ورنہ میرا مرا ہوا منہ دیکھو گئے۔۔۔۔ دریاب کا دل دھک سے رہ گیا تھا جب زہرا بیگم نے کچن سے چھڑی اٹھا کر اپنی کلائی پر رکھی۔ نور کو اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔ دو اسے طلاق ورنہ۔۔۔ زہرا بیگم چلائی۔۔۔۔ دریاب نے تھوک نگلتے ایک نظر نور کو دیکھا جو دونوں ہاتھ منہ پر رکھے بے آواز روتی متوحش نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی اسکا سارا جسم جھٹکوں کی زد پر تھا۔۔۔ اسے دیکھتے ہی دریاب نے بے بسی سے نظریں چرائیں۔۔۔

میں۔۔۔۔

______