Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hala (Episode 37)

Hala By Umme Hania

زرش مکمل تیار ہو کر ناخن چباتی بے چینی سے کمرے میں دائیں سے بائیں چکر کاٹ رہی تھی۔۔۔ اسے کمرے میں یونہی بے مقصد چکر کاٹتے پندرہ بیس منٹ ہونے کو تِھے مگر حدید ابھی تک واپس نہیں آیا تھا۔۔۔۔ تیار ہو تم مجھے صرف دس منٹ دو میں اپنی پیکنگ کر کے فریش ہو لوں۔۔۔ دائیں جانب چکر مکمل کر کے زرش واپس پلٹی ہی تھی جب کمرے کا دروازہ کھول کر حدید اندر داخل ہوا۔۔۔ زرش اسے دیکھتے ہی سہم کر دو قدم پیچھے ہٹی۔۔۔ یہ ایک بے اختیاری فعل تھا جو حدید کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہ سکا۔۔۔ اسکے چہرے پر پہلے سی کرختگی اور وحشت نہیں تھی البتہ آنکھیں ابھی بھی سرخ تھی۔۔۔

آ۔۔۔ آپکی۔۔۔ پیکنگ۔۔۔ میں نے کر۔۔۔ کر دی ہے۔۔۔ اور آپکے۔۔۔ کپڑے بھی واش روم۔۔۔ میں لٹکا۔۔۔۔ دیئے ہیں۔۔۔ آپ فریش۔۔۔ ہو جائیں۔۔۔ حدید نے اسکا سہما ہوا روپ دیکھ کر مزید بات چیت کئے بنا پیکنگ کی غرض سے جا کر وارڈروب کھولی جب زرش کی ہچکچائی اور منمنائی سی آواز سنائی دی۔۔۔ اپنی بات کہہ کر وہ ہونٹ چباتی انگلیاں مڑوتی کن اکھیوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ ناجانے دونوں کے درمیان اتنی گریز کی دبیز دیوار کیسے تن گئ تھی لمحوں میں۔۔۔

فرینکنیس تو پہلے بھی نا تھی مگر اتنا گریز بھی نا تھا۔۔۔

حدید اسے دیکھ کر سر ہاں میں ہلاتا واش روم میں چلا گیا۔۔۔۔ وہ اپنے اندر اٹھتی طوفان کی شوریدہ سر لہروں کو دبانے کی غرض سے اس وقت وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔ وہ غصے میں بھی زرش کو ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ اسی لئے کافی دیر تک بے مقصد سرکوں پر گاڑی گھما کر وہ خود کو کافی حد تک کمپوز کر کے گھر واپس لوٹا تھا مگر زرش کا سہما ہوا روپ دیکھ کر وہ سمجھ چکاتھا کہ وہ آج کے واقعے کا خاصا اثر لے چکی ہے۔۔وہ تھی بھی ایسی ہی نازک سی اور کسی بھی چیز کو سر پر سوار کر لینے والی۔

کچھ دیر بعد وہ فریش ہو کر باہر نکلا تو انکا سفر شروع ہوا۔۔۔۔ گاڑی میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھی زرش دروازے کی جانب رخ کئے بیٹھی تھی۔۔۔ چہرے پر نقاب کر رکھا تھا جسکی عادت نہ ہونے کی بدولت اسے سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی اور وہ بار بار نقاب ناک سے نیچے کرتی سانس لیتی اور کچھ دیر بعد پھر سے نقاب کر لیتی۔۔۔ حدید خاموشی سے ونڈ سکرین سے باہر دیکھتا ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔۔ گاڑی میں دو نفوس کی ماجودگی کے باوجود مکمل خاموشی تھی۔۔۔ ان دونوں میں سے کسی نے بھی اس خاموشی کو ختم کرنے کی ضرورت محسوس نا کی تھی۔۔۔۔ کچھ دیر کی ڈرائیونگ کے بعد حدید نے ایک جگہ پر گاڑی روکی تو زرش نے چونک کر باہر دیکھا۔۔۔ وہ کوئی فوڈ سپاٹ تھا جہاں گاڑی روک کر حدید بنا کوئی بات کئے گاڑی سے باہر نکلا۔۔ زرش ہونٹ چباتی اسکی واپسی کی منتظر تھی آنکھیں بہنے کو بے تاب تھیں۔۔۔ دل ناجانے کیوں بھرا رہا تھا۔۔۔ گاڑی کا دروازہ کھول کر حدید اندر بیٹھا تو زرش پھر سے سمبھل کر بیٹھی۔۔۔۔ یہ لو زرش کچھ کھا لو اور مجھے بھی دو۔۔۔ حدید نے ایک شاپر زرش کی طرف بڑھایا۔۔۔ انداز نارمل تھا۔۔۔ اسکا نارمل انداذ دیکھ کر زرش کو کچھ حوصلہ ہوا وہ آنکھیں جھپکتی آنسوں کو باہر نکلنے سے روکنے کی کوشیش میں ہلکان ہو رہی تھی۔۔۔ اسنے شاپر کھولا اندر زنگر برگر کیساتھ سینڈوچز اور فرنچ فرائز تھے ساتھ کچھ ٹن پیک کوک کے تھے۔۔۔ اسنے ایک برگر اور ٹین بیگ نکال کر حدید کی جانب بڑھایا اور باقی شاپر ویسے ہی وہیں ڈیش بورڈ پر رکھ دیا۔۔۔

کیا ہوا تم کھا نہیں رہی۔۔۔ ٹن پیک کھول کر برگر منہ کی جانب لیجاتا وہ زرش کو دیکھ کر حیرت سے مستفسر ہوا۔۔۔

نہیں مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔ اسنے آنکھیں جھپک کر خود کو کمپوز کرتے نفی میں سر ہلایا۔۔۔

حدید نے ایک گہرا سانس خارج کرتے اسے بازو کے حلقے میں لیتے اپنے ساتھ لگایا اور آنکھیں میچتے اس کے سر پر لب رکھے۔۔۔ زرش تو اس غیر متوقع صورتحال سے سانس تک روکے ساکت و جامد رہ گئ تھی۔۔۔ حدید جیسے سخت گیر اور الجھے انسان سے وہ اس وقت اس التفات کی توقع نہیں رکھ سکتی تھی اور آج کے واقعہ کے بعد سے تو وہ حدید کے حوالے سے ہر طرح کی خوشگمانی کو جڑ سے اکھاڑ کے پھینک چکی تھی۔۔۔

بھوک کیوں نہیں ہے زری تم نے تو ڈنر بھی نہیں کیا تھا۔۔۔ اتنی محبت اتنی چاشت تھی اسکے لہجے میں کے باوجود ضبط کے زرش کے آنسو خودبخود بہہ نکلے تھے اسکے کوٹ کو ہاتھ کی مٹھی میں جھکڑے اسی کے کندھے میں سر کھسائے وہ سسک اٹھی تھی۔۔۔ حدید نے لب بھینچتے برگر وہیں ڈیش بورڈ پر رکھا اور کچھ دیر تک اسے دل کا بوجھ ہلکا کرنے دیا۔۔۔۔ کچھ دیر بعد جب اسے اپنی پوزیشن کا احساس ہوا تو جھجھک کر پیچھے ہٹی۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ رخ بدلتی حدید نے اسکا رخ اپنی جانب کرتے اسکے آنسو اپنی پوروں پر چنے۔۔۔ زرش خاموشی سے نظریں جھکا گئ۔۔۔۔ چلو شاباش منہ کھولو۔۔۔ کھاو گی تو بھوک بھی لگ جائے گی۔۔۔ حدید نے ڈیش بورڈ سے برگر کا ڈبہ اٹھایا اور برگر اسکے منہ کے پاس کیا۔۔۔ زرش نے حیرت سے اسے دیکھا اور اسے آنکھ سے برگر کھانے کا اشارہ کرتے دیکھ جھجھک کر تھوڑا سا منہ کھول کر برگر کھایا۔۔۔ میں خود کھا لیتی ہوں آپ اپنا کھائیں۔۔ اسے دوبارہ سے برگر اپنی جانب بڑھاتا دیکھ اسنے ہلکا سا مسکراتے شاپر سے دوسرا برگر نکالا۔۔۔۔ حدید نے مسکراتے ہوئے اپنا برگر کھانا شروع کیا۔۔۔۔

میں آج آپکے رویے سے بہت خوفزدہ ہوگئ تھی حدید۔۔۔ وہ کافی حد تک ابتدائی جھٹکے سے سمبھل چکی تھی۔۔۔ کچھ حدید کے دوستانہ رویے سے جھجک کم ہوئی تھی یہ ہی وجہ تھی کہ وہ برگر کھاتی شکوہ کناں ہوئی ۔۔۔ زرش کی بات سن کر وہ پھیکا سا مسکرایا۔۔ اس کوریر والے کوبار بار تمہارا نام لیتے سن کر اور پھر تمہارا نمبر ڈائل کرتے دیکھ میرا دماغ گھوم گیا تھا۔۔۔ میں آپے سے باہر ہو گیا تھا زرش۔۔۔ اسکے پاس تمہارا نمبر تمہاری حماقت سے گیا تھا بس ٹمپر لوز ہو گیا تھا میرا۔۔۔۔۔ برگر کھا کر حدید نے دوبارہ گاڑی سٹارٹ کرتے اپنا ماتھا مسلہ۔۔۔۔ شکر ہے آپکا غصہ ختم ہو گیا حدید ورنہ میں نے تو بھوک سے ہی مر جانا تھا۔۔۔ آپکا غصہ دیکھتے نا میں نے تو آپکو بتانا ہی نہیں تھا کہ میں بھوکی ہوں۔۔۔ اور قسم سے مجھے اتنی بھوک لگی تھی کہ میرے پیٹ میں ڈورتے چوہے بھی اب تو اپنی آخری سانسیں لے رہے تھے۔۔۔ اپنا اتنا خوفناک روپ دکھایا تھا آپ نے کہ میری تو سٹی ہی گم ہو گی۔۔۔ بھوک پیاس کیا خاک یاد رہتی۔۔۔ اسی ڈر سے تو میں نے یہ عبایہ بھی پہن لیا کہ کہیں آپ مجھے کچا چبا کر ہی ہضم نا کر جائیں۔۔۔ ورنہ میں اتنی اچھی عبایہ پہننے والی ہنہہ۔۔۔ بھرپور برگر سے انصاف کرتی ساتھ ساتھ کوک کے گھونٹ بھرتی وہ نان سٹاپ اپنے ازلی انداز میں بول رہی تھی۔۔۔ حدید نے اسے مسکرا کر دیکھا مگر اسکی مسلسل چلتی زبان کی گوہر افشانیوں سے پہلے اسکی ہسی حیرانگی میں بدلی اور پھر گھوری میں۔۔۔

لڑکی تم کچھ دیر پہلے والی پوزیشن میں ہی اچھی تھی کم سے کم معصوم تو لگ رہی تھی حدید نے تاسف سے سر نفی میں ہلاتے تجزیہ کیا اور آپ کچھ دیر پہلی والی پوزیشن میں کیا لگ رہے تھے۔۔۔ اللہ معاف کرے پورے جلاد دیو جو کسی کو ناحق پھانسی دینے والا ہو استغفراللہ زرش نے جھرجھری لیتے چہرے کے ایسے زاویے بنائے کہ حدید محض اسے دیکھ کر ہی رہ گیا ۔۔۔

*****

نورکی طبیعت اب کیسی ہے۔۔۔ دریاب ابھی ابھی آفس سے واپس آیا تھا اور کار پورچ میں گاڑی کھڑی کرتا گاڑی سے نکلا اسکا رخ انیکسی کی جانب ہی تھا وہ انیکسی کی جانب ہی دیکھتا موبائل پر کچھ ٹائپ کر رہا تھا جب اسے وہاں کھڑا دیکھ کر گڈی بھاگتی ہوئی اسکے پاس آئی اسکے دریاب کے پاس آتے ہی دریاب نے اس سے نور کے بارے میں استفسار کیا۔۔۔ وہ صبح سے بار بار نور کا نمبر ملا رہا تھا لیکن ہر بار نمبر ناٹ ریسپانڈنگ شو ہو رہا تھا۔۔۔ اسی وجہ سے وہ آفس سے بھی جلدی اٹھ آیا تھا۔۔۔ وہ دریاب بھیا نور باجی تو گھر پر نہیں ہیں کہیں باہر گئ ہیں۔۔۔ کیا۔۔۔ گڈی کے بتانے پر جابجا اسکے ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔۔۔ کس کے ساتھ گئ ہے وہ۔۔۔ ابکے لہجے میں فکر مندی و پریشانی تھی۔۔۔

اکیلی گئ ہیں وہ میں نے پوچھا کہ کہاں جا رہی ہیں تو کچھ بولی نہیں میں نے تو یہ بھی کہا کہ اندر گاڑی کھڑی ہے وہ اس میں چلی جائیں لیکن انہوں نے میری سنی ہی نہیں اور ٹیکسی لے کر چلی گئیں۔۔۔

پاگل ہو گی ہے یہ لڑکی طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں اور ناجانے کہاں کہاں خوار ہوتی پھر رہی ہے۔۔۔ دریاب نے غصے سے بڑبڑاتے گاڑی پر مکہ رسید کیا۔۔۔

______

نور کو شاپنگ کرتے کرتے کافی دیر ہوگئ تھی۔۔ ایک دکان سے دوسری دکان کے چکر کاٹتے وہ کافی تھک چکی تھی۔۔۔ سٹیشنری کا سامان موسم کی مناسبت سے کچھ گرم چیزیں۔۔۔ گروسری کا سامان ۔۔۔ شاپنگ سے وہ خاصی تھک گئ تھی اور اب تو اندھیرا اترنے کیساتھ ساتھ سردی کی شدت بھی بڑھنے لگی تھی۔۔ ہر طرف سے اتری دھند حد بصارت دھندلا رہی تھی۔۔۔ سردی سے ٹھٹھرتی وہ بمشکل گھر پہنچی۔۔۔ گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی اسکے قدموں کی رفتار میں کئ گنا تیزی آگئ تھی۔۔۔ ارادہ جلد از جلد انیکسی پہنچ کر ایک کپ کافی کا لے کر لحاف میں گھسنے کا تھا۔۔۔ لیکن انیکسی کا دروازہ کھولتے ہی اسے کچھ عجیب سا محسوس ہوا۔۔۔ اندر لاوئنج کی لائٹ جل رہی تھی۔۔۔ لیکن وہ تو سبھی بتیاں بجھا کر گئ تھی۔۔۔ شش و پنج میں مبتلا وہ اندر داخل ہوئی۔۔۔ انیکسی کا دروازہ بند کر کے ابھی دو ہی قدم آگے بڑھی تھی کہ ٹھٹھک کر رکی۔۔۔ کہاں سے آ رہی ہو اس وقت۔۔۔ یکدم دریاب کی غیر متوقع آواز نے اسکے قدم زنجیر کئے جو اسے اندر آتا دیکھ صوفے سے اٹھ کر اسکے روبرو آتا مستفسر ہوا۔۔۔ نجانے وہ کب سے وہاں اسکا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔

ابتدائی جھٹکے سے سمبھل کر نور نے گہری سانس خارج کی۔۔۔ شاپنگ کرنے گئ تھی۔۔۔ اسے بھرپور نظر انداز کرتی وہ آہستگی سے کہہ کر کچن کی جانب بڑھی۔۔۔ شاپنگ کے لئے تم مجھے بھی کہہ سکتی تھی نور۔۔۔ یوں اس موسم میں اکیلے باہر نکلنے کی کیا تک بنتی تھی بھلا۔۔۔ وہ کچن شلف پر سبھی سامان پھیلائے اب کوکنگ رینج کی جانب بڑھی جب دریاب بھی اسکے پیچھے ہی کچن میں آیا۔۔۔ آپ کافی پیئیں گے۔۔۔ وہ اسکا سوال نظر انداز کرتی چولہے پر پین میں پانی گرم ہونے کے لئے رکھ کر مگ اٹھا کر اس میں کافی ڈالتی وہ کھولتا پانی اس میں ڈال کر کافی پھینٹنے لگی۔۔۔ دریاب کو نور کا اسکی بات کو نظر انداز کرنا بہت کھلا۔۔۔۔ وہ آنکھیں چندھی کئے اسے غور سے دیکھنے لگا جیسے اسکے اس رویے کا ماخذ تلاشنے کی کوشیش میں ہو۔۔۔ ہوا کیا ہے تمہیں ۔۔۔اب کے آواز میں کھوج تھی ایک تجسس سا۔۔۔ میں اپنے لئے کافی بنا رہی ہوں آپ کے لئے بناوں۔۔۔ ایک ہاتھ میں مگ تھامے دوسرے سے تیزی سے کافی پھینٹتی وہ پھر سے اسکی بات سنی ان سنی کرتی گویا ہوئی۔۔۔ بس یہیں پر دریاب کی برداشت کی حد ختم ہوئی اور اسنے ایک ہی جست میں اس تک پہنچتے اسکا بازو جھٹکے سے کھینچ کر اسکا رخ اپنی جانب کیا۔۔۔ اس غیر متوقع حملے پر اس سے پہلے کہ نور کے ہاتھ میں تھاما مگ زمین بوس ہوتا دریاب نے اسکے زمین بوس ہونے سے پہلے ہی اسے تھام کر کچن کاونٹر پر رکھا اوردونوں ہاتھوں سے اسکے دونوں بازو تھامتے اسے اپنے روبرو کیا۔۔۔

آخر مسلہ کیا ہے۔۔۔ کیوں خود کی دشمن بنی ہوئی ہو۔۔۔ جانتی ہو نہ کہ طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں پھر اس لاپرواہی کا مقصد۔۔۔ کیوں گئ اکیلی اتنی ٹھنڈ میں باہر۔۔۔

میری چھوڑیں آپکے ان فضول کے التفات کا مقصد کیا ہے مسٹر دریاب کمال صاحب۔۔۔ اسنے بپھری ہوئی شیرنی کی مانند ایک جھٹکے سے دریاب کی گرفت سے اپنے بازو آزاد کروائے۔۔۔ دریاب نے لب بھینچتے اسکے اس ردعمل کا ماخذ تلاشنا چاہا۔۔۔ اسکی کھوجتی نگاہیں اسکا ایک ایک تاثر چہرے کا ایک ایک اتار چڑھاو نوٹ کر رہی تھیں جو بتلا رہے تھے کہ وہ لڑکی خاصی تکلیف میں ہے خاصی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔۔۔

ایک طرف سے آپ اپنی کولیگ سے دوسری شادی کے چکروں میں ہیں اور دوسری طرف آپ مجھ پر واری صدقے جا رہے ہیں نور آپے سے باہر ہوتی چلا اٹھی تھی۔۔۔

اوہ ہ،ہ تو یہ بات تھی اسکی اسکے قدر غیر متوقع ردعمل ظاہر کرنے کی۔۔۔ دریاب نے ابرو اٹھاتے اسے دیکھ کر سوچا بلآخر بلی تھیلے سے باہر نکل ہی آئی تھی۔۔۔تو یعنی اڑتی اڑتی سی اس خبر سے نور کے کان بھی مستفید ہو ہی گئے تھے۔۔۔ یقیناً یہ آدھی ادھوری انفارمیشن گڈی کی اس تک پہنچائی ہوئی تھی وہ کھانے کی میز پر ہوئی زہرا بیگم اور اسکی بات چیت تو نور کو بتلا چکی تھی مگر بند کمرے میں ہوئی انکی بات چیت جس میں دریاب صاف صاف دوسری شادی سے انکار کر چکا تھا وہ معلومات نور تک پہنچانے میں وہ ناکام رہی تھی۔۔۔

کتنے روپ ہیں آپکے مسٹر دریاب۔۔۔ کونسا روپ آپکا اصل ہے وہ جو ساری ساری رات میری بیماری پر بے چین و بے قرار رہتا ہے یا وہ جو دن کے اجالے میں دوسری شادی کا متمنی ہے۔۔۔۔ کتنے نقاب چڑھا رکھے ہیں آخر آپ نے اپنے چہرے پر۔۔۔ آج وہ تن کر اسکے مدمقابل کھڑی تھی جیسے آج اس سے سبھی سوالوں کے جواب لے کر ہی ہٹے گی۔۔۔ دریاب کو اسکا یہ شعلہ جوالہ روپ بھی جی جان سے پسند آیا سنہرے بالوں کی لٹیں پھسل کر چہرے کے اطراف میں آئی تھی جو اسے مزید جازب نظر بنا رہی تھیں تیکھی ناک کی نوک کچھ غصے اور کچھ ٹھنڈ کے باعث مزید سرخ ہو گئ تھی۔۔مگر غصے میں اسے اپنا ہوش تک کہاں تھا۔۔۔ دریاب کو وہ اس روپ میں اتنی پیاری لگی کہ اسکا دل ہی نا چاہا کہ وہ اسے دل کی بھراس نکالنے سے ٹوکتا روکتا یا اسکی توصیح کرتا۔۔۔ وہ مسکراہٹ لبوں میں دابے کچن کاونٹر سے ٹیک لگائے پاوں کی قینچی کی صورت بنائے سیدھے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے سر کحجھاتا چہرا جھکائے اسے سن رہا تھا۔۔۔ ابکی بار پارہ ہائی کروانے کی باری نور کی تھی جو وہ شخص اسکی حالت دیکھتا لطف اندوز ہو رہا تھا وہ ایک مرتبہ پھر سے بھوکی شیرنی بنی اس ہر جھپٹی۔۔۔ آپ۔۔۔۔

________