Hala By Umme Hania Readelle50346 Hala (Episode 13)
No Download Link
Rate this Novel
Hala (Episode 13)
Hala By Umme Hania
جاو یہاں سے دریاب میں ابھی کسی سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔۔۔ زہرا بیگم اپنے بیڈ پر بیٹھیں کسی غیر مری نقطہ کو دیکھتے ناجانے کیا سوچ رہی تھیں جب دریاب کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ ہاتھ اٹھا کر سختی سے گویا ہوئیں۔۔۔ انکا قلق ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا کہ انکا شوہر اتنے سالوں کی رفاقت کے بعد بھی انہیں کھڑے کھڑے طلاق دینے کو تیار تھا۔۔۔
امی۔۔۔۔
دریاب ۔۔ جاو یہاں سے۔۔۔ دریاب نے ایک دفعہ پھر سے ان سے بات کرنے کی کوشیش کی لیکن انکے سختی سے ٹوکنے پر لب بھینچتا انکے کمرے سے باہر نکلا۔۔۔
اس واحیات لڑکی کو ابھی کے ابھی طلاق دو دریاب۔۔۔۔ اپنے کمرے کا دروازہ دھار سے کھولتا وہ اندر داخل ہوا۔۔۔ طلاق دو اسے دریاب۔۔۔ ابھی کے ابھی تین لفظ بول کر اسے اس گھر سے فارغ کرو۔۔۔
بے چینی سے شاور لے کر بھی اسکے اندر کی گھٹن کم نہیں ہو رہی تھی۔۔۔ اسے ماں کی بھی فکر تھی اور باپ کی بھی اضطرابی حالت میں وہ بالوں پر ہاتھ پھیرتا کمرے میں ادھر سے ادھر چکر لگانے لگا۔۔۔طلاق پھر ایک نہیں ہو گئ بلکہ دو دو طلاقیں ہوگئ۔۔۔
باپ کی آواز گھونجتے ہی وہ سر پکڑ کر صوفے پر بیٹھا۔۔۔ اسے اس وقت سکون کی تمنا تھی۔۔۔ کچھ پل وہ ہر فکر سے آزاد ہو کر پرسکون طریقے سے گزارنا چاہتا تھا۔۔۔
اسے شدت سے ہالہ کی یاد آئی تھی۔۔۔ وہ اس ستمگر سے بات کرنا چاہتا تھا اس سے ملنا چاہتا تھا اس سے بات کر کے وہ مطمئن ہو جاتا تھا ناجانے اسکے پاس کیسا سحر تھا جو اسے جکڑ لیتا تھا۔۔۔
آفس ٹائم تو تھا نہیں اور ہوٹلنگ تک کبھی انکی بات پہنچی نہیں تھی ۔۔ تھا تو یہ غلط لیکن دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ اسکا نمبر ملا بیٹھا تھا باوجودخود سے کئ عہدو پیمان باندھنے کے کہ وہ ہالہ کو نظر انداز کرے گا کام کے سوا کوئی بات نہیں کرے گا۔۔۔ لیکن وہ دل ہی کیا جو دغا نا دے۔۔۔ اسکا دل اب بھی اسے دغا دے گیا تھا۔۔۔
__________
بالوں کو ہالف کیچر میں مقید کئے۔۔۔ کھلا ٹراوزر اور شارٹ شرٹ زیب تن کئے وہ ابھی ابھی واش روم سے فریش ہو کر نکلی تھی۔۔۔ ہاف سلیوز سے اسکے دودھیا رنگ بازو مزہد نمایاں ہو رہے تھے۔۔۔ پاوں اسقدر نرم و ملائم تھے کہ جب وہ ان پر اپنا ہی وزن ڈال کر چلتی تو وہ دودھیا رنگت سرخی میں یوں تبدیل ہوتی جیسے ابھی وہاں سے خون چھلک پڑے گا۔۔۔
موبائل فون پر بیل کی آواز سنائی دینے پر وہ کمرے میں موجود دائیں طرف پڑے سٹڈی ٹیبل کی جانب آئی جہاں پڑا موبائل زور و شور سے بج رہا تھا۔۔۔ کرسی کھینچ کر وہیں بیٹھتے اسنے موبائل فون اٹھایا ۔۔۔ پاس ہی اسکا لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا جسکے دائیں جانب ایک پانی کا گلاس اور بائیں جانب ائیر پوڈ پڑے تھے۔۔۔
پورا کمرا اسکی طبیعت ہی کی طرح نفاست کا منہ بولتا ثبوت تھا۔۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔ کیسے ہیں سر۔۔۔ فون اٹھاتے ہی اسکی شیریں آواز نے کانوں میں رس گھولے تھے۔۔۔ دریاب نے آنکھیں موندتے سر صوفے کی پشت سے ٹکایا ناجانے کیا کیا حشر دل میں برپا ہوا تھا۔۔۔
ہالہ۔۔۔ بہت پریشانی میں ہوں یار۔۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا کیا کروں آنکھیں موندے ہی وہ دقت سے گویا ہوا۔۔۔
کیا ہوا سر۔۔۔ آپ ٹھیک تو ہیں۔۔۔ صبیح پیشانی پر شکنوں کا جال ابھر آیا تھا پل بل میں ہی وہ تڑپ کر اٹھتی کمرے کی بالکونی کی جانب گئ۔۔۔
ہالہ میرا نکاح ہو گیا ہے۔۔۔ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ اسے سب بتاتا چلا گیا تھا۔۔۔ ساری بات سن کر دوسری جانب جیسے کئ پلوں کے لئے سناٹا چھا گیا تھا۔۔۔
اپنے کمرے کی بالکونی میں بیٹھی وہ دور تک پھیلے سیاہ آسمان اور اس پر پھیلی سفید مقیش کو یک ٹک دیکھ رہی تھی۔۔۔
پھراب آپ کیا چاہتے ہیں۔۔۔ اسنے خالی خالی نگاہیں آسمان پر سے ہٹاتے اطراف میں مرکوز کئیں۔۔۔
اس وقت تو صرف سکون کا خواہاں ہوں۔۔۔
نکاح ہو چکا ہے اور میں بھگوڑا نہیں ہوں اس لئے ہر حال میں اس رشتے کو نبھانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔۔۔ پر امی کو میں دکھ دے کر کوئی کام نہیں کر سکتا۔۔۔ بابا رخصتی پر زور دے رہے ہیں اور میں خود کیا چاہتا ہوں پتہ نہیں۔۔۔ لیکن اس وقت تو صرف ذہنی سکون کا خواہاں ہوں۔۔۔ ایسا کیا کروں جو کچھ پل کے لئے ذہنی سکون فراہم ہو جائے۔۔۔وہ جیسےکسی ننھے بچے کی طرح اس سے مسلے کا حل پوچھ رہا تھا۔۔۔ ہالہ گہرا سانس خارج کر کے اٹھ کھڑی ہوئی اور ریلنگ پر جھک کر نیچے روڈ پر موجود رواں دواں زندگی کو دیکھنے لگی۔۔۔
کہتے ہیں جب دل پر بوجھ بڑھنے لگے تو کثرت سے استغفار پڑھنا چاہیے۔۔۔
وضوکر کے عشا پڑھیں توبہ و استغفار کریں اور ابھی کچھ دیر کے لئے ایک بچہ بن جائیں جیسے جیسے میں آپ سے کہوں کرتے جائیں۔۔۔
ایک گہرا سانس لیں ۔۔۔ دریاب نے فوراً حکم کی تعمیل کی۔۔۔ اب آپکا دماغ بالکل خالی ہونا چاہیے۔۔۔۔ بالکل خالی نا ماضی کا شبہ اور نا ہی مستقبل کی کوئی سوچ۔۔۔ بلکل بلینک کورے کاغذ کی مانند۔۔۔
ہمم اب۔۔۔ اب میرے پیچھے پیچھے کہیں۔۔۔ میں اپنی زندگی کے ان الجھے معاملات کو سلجھانے کے لئے بے بس ہوں اس لئے میں اپنا ہر چھوٹے سے چھوٹا فیصلہ بھی اپنے رب پر چھورتا ہوں۔۔۔ اس امید کیساتھ کہ میرا رب مجھ سے بہتر فیصلے کرنے والا ہے۔۔۔
دریاب نے بنا رکے اسکے الفاظ دہرائے۔۔۔
اب بنا کسی سوچ کو اپنے ذہن میں آنے دیئے ایک گہری اور پر سکون نیند لیں۔۔۔
تمہارا بہت بہت شکریہ ہالہ بیڈ ہر جا کر لیٹتے وہ دل سے ہالہ کا مشکور تھا۔۔۔
Mention not… Have a sweet dreams …
وہ آسودگی سے مسکرائی مگر فون بند کرتے ہی اسکے چہرے پر سایہ سا لہرایا تھا وہ سیاہ رات کا ہی حصہ معلوم ہو رہی تھی۔۔
*****
عمران کی ماں کا فون آیا تھا عمران اور آئتل کے رشتے کے لئے۔۔۔
رات بھر سے نگہت بیگم زیادہ طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے ہاسپٹل میں ایڈمت تھی یوسف بھی رات بھر سے ہسپتال میں انکے ساتھ ہی تھا اور ابھی ابھی کچھ دیر کے لئے ناشتہ کرنے آیا تھا ۔۔۔ دادا نے سکون سے اسکے ناشتہ مکمل کرنے کا انتظار کیا اور اسکے آخری نوالہ کھاتے ہی بول اٹھے۔۔۔
یوسف کیساتھ ساتھ انہیں ناشتہ کروا کر ابھی ابھی اپنے کمرے میں گئ آئتل بھی نانا کی آواز پر چونک اٹھی تھی۔۔۔ بھلا اس بات کا یوسف کے سامنے کیا تزکرہ۔۔۔ یہ تو وہ بات تھی جو اسے آخری وقت تک پتہ نہیں چلنا چاہیے تھی کیا دادا اسکا پچھلی بار کا ردعمل بھول گئے تِھے۔۔۔۔
آپ نے انکا فون اٹھایا ہی کیوں۔۔۔ یوسف کی آنکھوں سے چنگاڑیاں نکلنے لگی تِھیں۔۔۔
کیونکہ میں سنجیدگی سے آئتل اور عمران کے رشتے کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔۔۔ دادا نے سنجیدگی سے ان دونوں کے سروں پر بم پھوڑا تھا۔۔۔
دادا۔۔۔ آپ ہوش میں تو ہیں۔۔۔ آئتل توساکت و جامد بیڈ کے پاس ہی کھڑی رہ گئ تھی۔۔۔ لیکن یوسف کی آواز نے درودیوار ہلا دیئے تھے ۔۔ ہوش میں آنے کی ضرورت تمہیں ہے۔۔۔زرا سوچ کر دیکھو کیا آئتل کی کوئی خواہش نہیں ہے کیا اسکے زندگی کے حوالے سے کوئی خواب نہیں ۔۔۔ تم سے شادی کے بعد آخر اسے ملے گا کیا ایک کمرے سے دوسرے کمرے کا سفر۔۔۔
اور کچھ چاہیے بھی نہیں نانا۔۔۔ اپنے کمرے میں منہ پر ہاتھ رکھ کر کھڑی آئتل دل ہی دل میں گویا ہوئی۔۔
بیٹا بیٹیوں کے تو شادی کے حوالے سے بہت خواب ہوتے ہیں نا۔۔
کیا ایسا کچھ آئتل نے کہا۔۔۔ یوسف کی حیرت زدہ سی آواز آئتل کے کانوں میں گھونجی تو آئتل کا دل چاہا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔۔ وہ صدمے میں اپنے جان سے پیارے نانا کا جواب سننے کی منتظر تھی۔۔۔
بیٹا بیٹیاں کہاں منہ سے کچھ کہتی ہیں پر انکی آنکھیں سب کہہ دیتی ہیں۔۔
آئتل نے کرب سے آنکھیں میچیں کئ آنسوں ٹوٹ کر گال پر پھسلے تھے۔۔۔
بچے ضد چھوڑ دو یوسف۔۔۔ عمران آئتل کے لئے بہتریں انتخاب ہے۔۔۔ ماں تمہاری ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہے۔۔۔ اسکا مرض لا علاج ہوتا جا رہا ہے۔۔ کیا تم ماں کی تکلیف میں کمی کے لئے یہ قربانی نہیں دے سکتے۔۔۔ وار وہاں ہوا تھا جس نے یوسف کو لاجواب کر دیا تھا۔۔۔ کچھ دیر وہ دادا کو ساکت نگاہیں لئے دیکھتا رہا پھر بنا کوئی جواب دیئے شکستہ قدموں سے گھر سے ہی نکل گیا تھا۔۔۔
اسکے جاتے ہی دادا کرسی پر ڈھے سے گئے تھے۔۔۔ وہ منتظر تھے اس کہانی کے دوسرے کردار کے۔۔۔ یہ باتیں محض یوسف کو سنانا تو مقصود نا تھیں۔۔۔
وہ تو انتظار میں تھے آئٹل کی پرشکوہ باتوں و جھگڑے کے لیکن جب کافی دیر تک آئتل باہر نا آئی تو تھک ہار کر وہ ہی اسکے کمرے میں گئے۔۔۔۔
آئتل کو دیکھتے ہی انکے دل پر ہاتھ پڑا تھا بیڈ کی پائنتی کی جانب بیڈ سے ٹیک لگائے زمین پر ساکت و جامد بیٹھے وجود پر کسی مجسمے کا گمان ہوتا تھا۔۔۔ آنکھوں کے آنسو خشک ہو کر گالوں پر نشان چھوڑ گئے تھے پپٹری زدہ ہونٹ۔۔۔۔ ساکت نگاہیں سامنے دیوار پر کسی غیر مری نقطے پر جمائے وہ کوئی دیوانی ہی معلوم ہو رہی تھی۔۔۔
آئتل ناراض ہو اپنے نانا سے بچے۔۔۔ نانا اسکے قریب ہی بیٹھتے گلوگیر لہجے میں گویا ہوئے۔۔۔ اسکے انداز میں رتی برابر فرق نا آیا تھا۔۔۔
آئتل بچے تمہارا نانا بہت برا ہے نا۔۔ آئتل کا پھول سا چہرا اپنے بوڑھے ہاتھوں میں تھامتے وہ رو دیئے تھے۔۔۔ ایک آنسو آئتل کی آنکھ سے بھی ٹوٹ کر گرا۔۔۔
بچے میں شاید خود غرض ہو رہا ہوں ۔۔ بیٹا اس عورت کے ہم پر بہت احسان ہے۔۔۔ اس نے تمہیں ماں بن کر پالا ہے۔۔۔ کبھی ماں باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔۔۔۔ ورنہ آج کے دور میں ماں باپ کے گزر جانے کے بعد کون ماں باپ جیسا پیار دیتا ہے۔۔۔ ایسے ہی نگہت کے بچپن میں اسکے ماں باپ کا انتقال ہوا تو اسے میں نے بیٹیوں کی طرح پالا ہے۔۔۔ وہ میری بھانجی نہیں بلکہ بیٹی ہے۔۔۔ اسکی تعلیم و تربیت کے بعد اسکی شادی اپنے ہی بیٹے سے کروائی بالکل تمہاری طرح کی نیک بچی ہے وہ بھی۔۔۔ اب اسکا غم میرا دل چیرتا ہے۔۔۔ اسکی اذیت مجھے خود غرض بناتی ہے۔۔۔
میری تو دونوں ہی بیٹیاں ہیں وہ بھی اور تم بھی۔۔۔ بھلا ایک باپ اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ ناانصافی کر سکتا ہے۔۔۔
مجحے معاف کر دینا بچے تمہارا نانا خود عرض ہوگیا۔۔۔
آئتل کو سینے سے لگائے وہ زارو قطار رو دیئے تھے۔۔۔ آئتل کے بھی ضبط کے پیمانے چھوٹ گئے تھے۔۔۔
مجھے آپ سے کوئی شکوہ نہیں نانا۔۔۔ آپ دنیا کے سب سے اچھے نانا ہیں۔۔۔ ہچکیوں سے روتے وہ محض یہ ہی الفاظ بار بار دہرا رہی تھی۔۔۔
****
وقت جیسے پر لگا کر اڑ رہا تھا۔۔۔ نانا نے جھٹ پٹ سارے کام کئے تھے آج آئتل کی مہندی تھی۔۔۔ تب سے اب تک یوسف اور آئتل کا سامنا نہیں ہوا تھا۔۔۔ وہ گھر کم کم ہی آتا تھا۔۔۔ زیادہ تر وہ ماں کے پاس ہسپتال ہی ہوتا۔۔۔
آئتل اس روز سے ہی بخار میں پھنک رہی تھی۔۔۔ وہ اس حقیقت کو قبول ہی نہیں کر پا رہی تھی۔۔ کیسے لمحوں میں اسکی قسمت کا فیصلہ ہو گیا تھا وہ جتنا اس بارے میں سوچتی مزید بکھرتی جاتی۔۔۔
اسکی زندگی تو یوسف سے شروع ہو کر یوسف پر ہی ختم ہوتی تھی۔۔۔ اتنے دن اسے دیکھے بنا گزارے تھے تو حالت اتنی خراب ہو گئ تھی اگر زندگی اسکے بنا گزارتی تو کیا بنتا۔۔۔
دل پر نشتر چل رہے تھے جس کے ہر کونے میں اسکی یادیں بکھری تھیں۔۔۔ وہ کہاں کہاں سے اسے کھرچ کر مٹاتی۔۔۔ وہ یوسف کے بنا اندھی تھی بہری تھی۔۔۔ وہ کیسے سروائیو کرتی۔۔۔ اسے تو یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ میلے میں گم ہوئی بچی جو ہراساں نگاہوں سے چاروں جانب کسی اپنے کی تلاش میں ہو۔۔۔
وہ بخار میں پھنک رہی تھی کل صبح اسے اس گھر اور اس گھر کے مکینوں کو الوداع کر جانا تھا۔۔۔۔ لیکن وہ یونہی اس گھر سے نہیں جانا چاہتی تھی جانے سے پہلے ایک بار تو اس ستمگر کو جی بھر کر دیکھنا چاہتی تھی جس کے بنا زندگی اس نے کبھی خواب میں بھی تصور نہیں کی تھی۔۔۔
اس وقت وہ مہندی کے جوڑے میں ملبوس سوگوار سی ہی لگ رہی تھی۔۔۔ نہایت سوچ بچار کے بعد ہمت کر کے وہ یوسف کے کمرے تک گئ۔۔۔ دروازے پر دباو ڈالتے ہی دروازہ کھلتا چلا گیا تھا۔۔۔ یوسف سنگھار میز کے دراز پر جھکا کچھ تلاش کر رہا تھا دروازہ کھلنے کی آواز پر زرا کا زرا پیچھے پلٹا لیکن جیسے پھر ساکت رہ گیا تھا وہ اس وقت آئتل کی یہاں موجودگی کی توقع نہیں کر سکتا تھا۔ اسے یوں کسی اور کے نام پر سجے سنورے دیکھنا اسکے دل میں حشر برپا کر گیا تھا اسے پوری جزئیات سے اسکی بے بسی کی داستاں سنا گیا تھا۔۔۔
ساکت تو آئتل بھی اسکی اجری ویران آنکھیں اور بڑھی ہوئی شیو دیکھ کر رہ گئ تھی۔۔۔
کہا تھا نہ کہ آپ پر بھروسہ ہے مگر اپنی قسمت پر نہیں۔۔۔ دیکھیں میری قسمت نے مجھے دغا دے دیا۔۔۔ میرے قدموں تلے سے زمین کھینچ کر مجھے اوندھے منہ نیچے پٹخ دیا۔۔۔۔
وہ برسنے کو بےتاب نم آنکھوں سمیت یوسف کو دیکھتی قدم بہ قدم اسکی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔
کیسے رہوں گئ آپ کے بنا یوسف۔۔۔ آپ کے بنا تو جینا سیکھا ہی نہیں تھا۔۔۔ وہ مسمرائز سی اسکے مقابل کھڑی اسکے چہرے کا ایک ایک نقش چھو کر دیکھ رہی تھی۔۔۔ باوجود ضبط کے ایک آنسو آئتل کی آنکھ سے ٹوٹ کر گرا تھا اور اسکے بعد جیسے ساون بھادوں کی جھری لگ گئ تھی۔۔۔ اس وقت اسکے سامنے حال سے بے حال ہوتی لڑکی کون تھی جس میں یوسف کی جان بستی تھی ۔۔۔ جس کی آنکھ میں وہ کبھی آنسو تک نہیں دیکھ سکتا تھا جیسے پھولوں سے بڑھ کر رکھا تھا ۔۔ ستم تھا کہ وہ اسکے سامنے حال سے بے حال کھڑی تھی لیکن وہ کچھ کر نہیں سکتا تھا۔۔۔ لب بھینچے یوسف ضبط کے کڑے مراحل سے گزر رہا تھا۔۔۔ وہ لڑکی تھی رو کر اپنا غم ہلکا کر سکتی تھی وہ مرد تھا اسے ہر حال میں اپنا بھرم قائم رکھنا تھا مگر اسے محسوس ہو رہا تھا کہ آج وہ اپنا یہ بھرم قائم نہیں رکھ سکتا ۔۔۔ سامنے کھڑی لڑکی کی حالت اسکا دل چیر رہی تھی۔۔۔
یوسف۔۔۔۔ کب۔۔ کبھی یہ خیال اپ۔۔ اپنے دل میں مت آ۔۔۔ آنے دینا۔۔۔ کہ آئتل نے آپکو کسی دنیاوی شان و شوکت کے لئے چھوڑا۔۔۔ میں بے وفا نہیں ۔۔۔۔ لیکن اپنی ماں جیسی مامی کے لئے یہ زندگی تو کیا ایسی سو زندگیاں قربان۔۔۔
یہاں وہ بالکل خالی ہو گیا تھا ۔۔۔ کیا کہا تھا اسنے ماں جیسی مامی کے لئے۔۔۔ مجبور تو وہ بھی یہیں آ کر ہوا تھا ۔۔۔ یا اسی کا نام قسمت تھا کہ وہ اس معاملے میں با اختیار ہونے کے باوجود یوں بے بس ہوا تھا جیسے اسکے ہاتھ پاوں باندھ دیئے گئے ہوں۔۔۔
مگر میں کیا کروں آپ پر اتنا انحصار کرتی ہوں کہ آپکے بنا زندگی موت کے مترادف لگتی ہے۔۔۔ اسکی بازو سے سر ٹکاتی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی ۔۔۔ بس یہیں پر یوسف کی ہمت جواب دے گئ تھی۔۔۔ ایک آنسو ٹوٹ کر اسکی گال پر پھسلا تھا ۔۔۔ مجھے آنے والے کل سے خوف محسوس ہو رہا ہے یوسف۔۔۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ میں کیا کروں گئ۔۔۔ کیسے جیوں گی۔۔ یوسف کی بازو سے سر اٹھاتی وہ خوفزدہ بچے کی مانند یوسف کو دیکھتی اسی سے گویا ہوئی۔۔۔
شاید اسی کا نام زندگی ہے آئتل ۔۔۔ جو بتاتی ہے کہ سب سے بڑا پلینر وہ ہے جو اوپر بیٹھا ہے ہم سب اسکے بندے ہیں اور اس کے سامنے بے بس ہیں۔۔۔ دعا گو ہوں کہ ۔۔۔۔ دقت سے بولتا وہ رکھا۔۔۔ آنکھیں بند کرتے بمشکل سانس لیا۔۔۔ کہ اللہ عمران کو تمہارے حق میں بہتر ثابت کرے۔۔۔
دونوں آنکھیں میچ کر خود کو کمپوز کیا۔۔۔ آج تم روئی ہو آج کے بعد کبھی تمہاری آنکھ میں آنسو نا آئے۔۔۔ اسنے اپنے سرد پڑتے ہاتھوں سے آئتل کے ہاتھ اپنی بازو سے ہٹائے اور بنا اسکی جانب دیکھے کمرے سے تو کیا گھر سے ہی نکل گیا۔۔۔ آئتل اپنا بے جان ہوتا وجود گھسیٹتی اپنے کمرے میں گئ۔
*******
